Recommended
DOCX
قرآنی نظر یہ ِ حیات ۔ہم نے قرآن کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ باب 18
PDF
Urdu - Wisdom of Solomon.pdf
PDF
علمِ بیان اور علمِ بدیع.pptx (1) Urdu.pdf
DOCX
محبت کے چالیس اصول ترجمہ محمود غزنوی
PPTX
Aqidah Risalat Presentation.pptx
PPTX
PDF
مجموعہ فرامین امام خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ
PPTX
Conquest of makkah Life of prophet Mohammed from Hijrath to Fateh makkah
DOCX
ہم نے قرآن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔حصہ پنجم
DOCX
صَلَاةٌ –ہم نے قرآن کےساتھ کیا سلوک کیا؟حصہ سوم
PDF
PDF
ABLUTION “وضو” (WUDU) PART 1
DOCX
ہم نے قرآن کے ساتھ کیا سلوک کیا حصہ ششم۔اسلام
DOCX
ACCONTABILITY AND CYCLE OF BIRTH PART 1
PDF
حج اور عمرہ کیسے کیے جائیں اور قرآن کی روشنی میں حج اور عمرہ کے مقاصد کیا ہیں ؟
DOCX
زبان کی ایجاد، کتاب اور اْمّی رسول ﷺ –ہم نے قرآن کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ حصہ ...
DOCX
ACCOUNTABILITY AND CYCLE OF BIRTH PART 3 FINAL
PDF
QURANIC HORحور & NAHAR نھر IN THE HEBREW BIBLE
PDF
DOCX
ACCOUNTABILITY AND THE CYCLE OF BIRTH PART 2 FINAL
DOCX
ACCOUNTABILITY AND CYCLE OF BIRTH PART 4 FINAL
PDF
PDF
THOSE WHO KEEP TRADITIONAL HUNGER FASTING ARE OUT OF ISLAM
PDF
KAABA IS NOT بیت اللہ NOR WAS IT BUILT BY PROPHET IBRAHIM (PBUM). CORRECT MEA...
PDF
The Rules of Tajweed Online comprehensive Course
PDF
NAMAZ IS THE PAGAN PACKAGE OF COMMITTING SHIRK 5 TIMES A DAY
DOCX
قر آن کے آئینے میں 'موت کا منظر ' اور جنت دوزخ.عالم ِ برزخ میں انسانی قبر ک...
PPTX
The Science of Tagweed - Lesson 1
PDF
ڈاکٹر مقصود الہی شیخ کے چار خط
PDF
Kahawatain sarwar alam raaz sarwar u.pdf
More Related Content
DOCX
قرآنی نظر یہ ِ حیات ۔ہم نے قرآن کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ باب 18
PDF
Urdu - Wisdom of Solomon.pdf
PDF
علمِ بیان اور علمِ بدیع.pptx (1) Urdu.pdf
DOCX
محبت کے چالیس اصول ترجمہ محمود غزنوی
PPTX
Aqidah Risalat Presentation.pptx
PPTX
PDF
مجموعہ فرامین امام خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ
PPTX
Conquest of makkah Life of prophet Mohammed from Hijrath to Fateh makkah
What's hot
DOCX
ہم نے قرآن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔حصہ پنجم
DOCX
صَلَاةٌ –ہم نے قرآن کےساتھ کیا سلوک کیا؟حصہ سوم
PDF
PDF
ABLUTION “وضو” (WUDU) PART 1
DOCX
ہم نے قرآن کے ساتھ کیا سلوک کیا حصہ ششم۔اسلام
DOCX
ACCONTABILITY AND CYCLE OF BIRTH PART 1
PDF
حج اور عمرہ کیسے کیے جائیں اور قرآن کی روشنی میں حج اور عمرہ کے مقاصد کیا ہیں ؟
DOCX
زبان کی ایجاد، کتاب اور اْمّی رسول ﷺ –ہم نے قرآن کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ حصہ ...
DOCX
ACCOUNTABILITY AND CYCLE OF BIRTH PART 3 FINAL
PDF
QURANIC HORحور & NAHAR نھر IN THE HEBREW BIBLE
PDF
DOCX
ACCOUNTABILITY AND THE CYCLE OF BIRTH PART 2 FINAL
DOCX
ACCOUNTABILITY AND CYCLE OF BIRTH PART 4 FINAL
PDF
PDF
THOSE WHO KEEP TRADITIONAL HUNGER FASTING ARE OUT OF ISLAM
PDF
KAABA IS NOT بیت اللہ NOR WAS IT BUILT BY PROPHET IBRAHIM (PBUM). CORRECT MEA...
PDF
The Rules of Tajweed Online comprehensive Course
PDF
NAMAZ IS THE PAGAN PACKAGE OF COMMITTING SHIRK 5 TIMES A DAY
DOCX
قر آن کے آئینے میں 'موت کا منظر ' اور جنت دوزخ.عالم ِ برزخ میں انسانی قبر ک...
PPTX
The Science of Tagweed - Lesson 1
Similar to احتساب اور انسان کی پیدائش نو حصہ اوّل
PDF
ڈاکٹر مقصود الہی شیخ کے چار خط
PDF
Kahawatain sarwar alam raaz sarwar u.pdf
PPTX
jjjjjjjjjjjjjjjjjjjjjIslam for Kids.pptx
PPTX
Islam for Kidshtggggggggggggggggggg.pptx
PPT
PPTX
Significance of Education of Urdu Language in Alleviating Contemporary Econom...
DOC
PDF
Urdu - Ecclesiasticus the Wisdom of Jesus the Son of Sirach.pdf
PDF
PDF
Urdu - Testament of Asher.pdf
PDF
Urdu - Testament of Benjamin.pdf
PDF
DOCX
حج،عمرہ ،قربانی، سرمنڈانا اور دیگررسومات
PDF
Urdu - The Epistles of Paul the Apostle to Seneca, with Seneca's to Paul.pdf
PDF
مقصود حسنی کے ادبی جائزے اور اہل قلم کی آراء
PDF
مقصود حسنی کی شعری و نثری تخلقات اور اردو انجن کے اہل نقد و نظر
PDF
Urdu - The Epistle of Apostle Paul to Titus.pdf
PPTX
بناؤ اور بگاڑ از سید مودودیؒ کتابچہ.pptx
DOCX
Hazrat Umer Bin Abdul Aziz
DOCX
More from Dr Kashif Khan
PDF
PDF
SALAAH “صلاۃ” IS NOT CONTACT PRAYER (NAMAZ)
PDF
CORRECT UNDERSTANDING OF SAWOM صوم
PDF
شَاءُ, يَشَاءُ & تشَاءُ WRONGLY INTERPRETED IN THE TRANSLATION OF THE QURAN
PDF
QURANIC WORDS نَھَر (NHAR) & اَنھَار (ANHAAR)
PDF
قرآن قربانی کو جانوروں کا بہیمانہ قتل قرار دے کر قربانی پر پابندی عائد کرتا ہے
DOCX
RITUALS AND CONTACT PRAYER (nAMAZ) IN ISLAM
PDF
حضرت محمد ﷺ ان پڑھ نہیں بلکہ ایک اعلیٰ تعلیم یا فتہ شخصیت تھے ۔ ہم نے قرآن ک...
DOCX
حضرت محمد ﷺ ان پڑھ نہیں بلکہ ایک اعلیٰ تعلیم یا فتہ شخصیت تھے ۔ ہم نے قرآن ک...
احتساب اور انسان کی پیدائش نو حصہ اوّل 1. اور احتسابکی انساننو ِپیدائش
حصہل ّاو
مقالہ تحقیقی ۔ایک ایمان پر آخرت
دیا کرمنتقل تک ہم سے داری ایمان نہایت وہ سیکھا سے بڑوں پنے ا جو نے دادا باپابھی ۔
اپنے کر پکڑ انگلی جان ابا کہ تھا سنبھاال نہیں بھی ہوش طرح پوریمسجد ساتھلےجانےلگے
نے کر یاب فیض ہمیں سے اس تھا سیکھا سے کرام اساتذہ اپنے کچھ جو بھی نے صاحب ۔مولوی
رکھی نہیں ا رو کسر کوئی میںمیں تحفے بلکہمشكاةشریفکو پڑھنے بھی کتابیں ایسیدے
دیںایسے احباب چند ۔پھربھیپر تعلیمات کی ان اور الت خیا کے حب صا مولوی جنہیں ملے
وہ کہ تھے اختالفات یہمستند جبکہ ہیں کرتے بات سے حوالے کے مسلک فقہی اپنے ف صر
۔ بھی بیان کا مسائل اور ہے الگ سے ان بھی طریقہ کا نماز میں احادیثنامور کے وقت
اور ہوئی نصیب صحبت کی محدثینح صحاستہسے میںبخاریتحفہ کاکی اسیک قسمکر ھا
دیکہ گیا اسچی سے سب کی خفی وحی یہہے کتابپر طور متفقہ جوکے آن قربعدال ّو
ہے۔ آتی پر درجےساتھ ساتھ کے پابندگی میں نماز اور بچنے سے شرکآمین اور یدین رفع
بھی کی باالجہردست زبر۔ گئی کیتلقیناور گیا ہو مکمل ایمان ابزندگیاسکے ورّصت
ساتھرہی دواں رواںکہان ہممیں متیوںْا قسمت خوشسےجو ہیںنب ًاخالصتکریمیﷺ
سنت کیمبارکہہیں رہے کر عمل پر۔میں ایمان لوگ سرے دولگے ینے د دکھائی گھٹیاکیونکہ
تھے کرتے تقلید کی کسی نہ کسی وہ کہ تھا یہ صرف فرق تھے۔ نہیں سے میں ہم وہجہم بکہ
۔ تھے نہیں دّمقل کے کسیکر چڑھ بڑھ۔ لگے کرنے کامنیکہ عمر اور حجبھی سعادت کی
ہوگیا پختہ مزید ایمان سے جس گئی ہو حاصل۔پھرباآلخرمالقات سے لوگوں ایسےتی ہوہے
آنی قر خالص اور صرف جوہیں دار دعوے کے چلنے پر تعلیمات۔ستہ صحاح وہی یہاں کے ان
احادیث والیباہر سے دائرے کے تعلیم آنی قرجاتی مانی روایات کیہیں۔کی جنمی دینں
حیثیتیقین سے پھر بار ایک اور رہا جاتا ایمان پچھال ۔ نہیں بالکل ذیادہ سے عات اخترا متضاد
کے کھا مکے دھکے اتنے کہ لگا ہونےکار خر آمست ِصراط ہمہو گامزن پر راہ کی قیمگئے۔ہللا
کہ کیا ادا شکر بار الکھ الکھ کادکھا راستہسیدھا ہمیں نے تو۔ یا
کی واحد ِفرد کسی یہکہانینہیںمیں تالش کی حق ِہرا جو ہے بیتی آپ کی شخص اس ہر بلکہ
پہنچا تک یہاں پڑتے گرتےجہاں ۔آ سےگجھانکتا میںجنت سیدھا وہ ےکیونکہ ہےیہگمان
غالبہے لگتا ہونےہیں پر راستے سیدھے لکل با ہم کہ،مستقیم ِصراطبھیہمیںمگیا ل
اورہمبھی فتہ یا ہدایتگئے۔ ہوشعور و عقلمیںکو پ آ اپنےا سے گوں لو قی با
فضل۔ لگے سمجھنےکی ھر دْا ھر ِداچار دوھ پڑ بیں کتاعل کا آن قر کےقدر اس مبڑھ
لگے دینے ئی دکھا حقیر لوگ دوسرے کہ گیا۔وہ کہ کیوںالفاظ کے آن قرکاا تجزیہور
کی یات آ آنی قرتشریحاسنے کر میں انداز نہ را دانشودماغ رے ہما جو تھے نہیں قابل کے
تھی۔ آخر ِ حرف میںآن قریات آ یآن قر ساتھ کے دعوے کے فکر و ر غو پرلگے لنے کھو
مگرکی آن قر اسےسے رو حقیقیبجائے کی ھنے پڑخیال ہم اور بانیوں کےتحریک
کے مولویوںشنی رو کی یات نظرھا پڑ ہی میں۔میں الت خیا انکہ یہ انتہا کی پختگی
کوئیعلمی کوئی منطقدلیلہمیںتی کر نہیں مس سے ٹسکیونکہمیںحقیقتعلم نہ
عقل نہی اور ھا بڑالبتہاتنا صرف فرقپڑاکہنے ہمص کر چھوڑ کو روایات قدیم سالہ ہزارد
2. تھے چلے سے جہاں اور لیا اپنا کو روایات جدید سالہکے پھر گھومگئے۔پہنچ وہیںقر اورآن
آیا نہ میں سمجھ!
ِ قارینکرامسے دوستوں عزیز اپنے اورپر تبصرے الگ بے اسکے ہونے خواہ معذرت
ساتھ ساتھوجوہات کی جمود اور انحطاط کے تعلیمات آنی قر مگر ۔ ہوں بھی طلبگار کا معافی
صرف کر رکھ طاق الئے با کو نظریات انسانی اور الت خیا ذاتی تاکہ تھا ضروری بھی تجزیہ کا
تعلیمات آنی قر خالص اورجائے۔ کیا گر اجا کوآن قر کہ ہے ضروری کرنا دور بھی فہمی غلط یہی
پر مقام ہر بلکہ دیتا دکھائی نہیں ہی میں مضمون کے آخرت نظر ِزیر رے ہما صرف جمود کا تعلیم
حال ِ صورت یہی بیش و کمئی پاتی جادیتا ئی دکھا ہی مجھول کا مجھول آن قر میںجس ہے
ہے۔
آخرت(Hereafter)ہے۔ 'مستقبل کا انسان ' میں الفاظ دہ سابنانے تابناک اور نے سنوار کو جس
ہے۔ ہیٰال ِ مشیتعین عمل کایات ہدا کی چلنے پر مستقیم ِ صراط اور حکم کا النے ایمان پر اس
ہیں۔ ضمانت کی مستقبل بہتر رے ہما اصل درخصو اسی کی یٰتعال ہللا بھی میں تّجبل کیوالدین
ہے جاتا پایا عکس کاصیت-اور ہیں ہوتے خواہاں کےمستقبل بہتر کے بچوں اپنے بھی وہاسی
کہہیں رہتے لگے میں کوششح طر کسیسکھا پڑھنا لکھنا جائے۔ بن مستقبل کا بچوں کے ان
۔ ہیں کرتے بھی انتظام کا معلم اچھے سے اچھے لئے کے ان اور ہیں دیتے کر ال بیں کتا ، ہیں تے
انہیںہے گاہے بگاکہ ہے جاتا کرایا باور بھی یہِ راہمثبتکے ان ہی عملمستقبل بہتر
اور ہے من ضا کییہیکی اناصلہے۔ مقصود ِ منزلٖبعینہبھی نے یٰتعال ہللاتعلیم کی انسان
انبیاء اور فرمائیں نازل کتابیں لئے کےکر بنا معلم کا انسان کو السالم علیہانسان مگر بھیجا
گیا۔ بھٹک سے راستے وہًانتیجت اور کی اندازی دخل میں اس ، اڑایا مزاق کا اس نے
مضمون ہمارانو ِپیدائش(Rebirth or Reincarnation)ایک کی سلسلے اسیاہمہے کڑی
جومگر ہے جود مو تو میں آن قرمسل ِ امتمہکیا نہیں قبول کبھی اسے نے۔فارس وجہ کی جس
شدہ آمد در سےکے تہذیب بابلیزرتشی قدیمنظریات(Zoroastrianism)و د یہو اور
دیا۔ رکھ کے بگاڑ حلیہ کا اسالم نے جنہوں ہیں عات اخترا سازشی وہ کی ٰنصاریہے جاتا کہا
چونک کہرک نہیں یقین پر الممات بعد حیات کتاب ِ اہل ہھتےسے طرف کی ہللا اور
کر نازلانجیل یعنی کتابوں دیگر دہ،توریتبور ز اورمیں وغیرہبھینو ِپیدائش
(Reincarnation)کانہیں موجود اشارہ کوئیدو بھی ن مسلما ہم لئے اسپیدائش بارہ
مانتے نہیں کوذاٰلہہیں۔ تے کر سے نظر اسی بھی تفسیر اور جمہ تر کا آن قرخوب بہت!
ک آن قر۔ ہے بہانہ اچھا کا سمجھنے نہ واپنے کو فکر و غور اور عقل کبھی نے ہم نکہ کیو
کہ کیا یہ بہت سے بہت دی۔نہیں ہی دعوت کیپھٹکنے قریبمیں دشوں گر غالم روایتی
ئے ہو بھٹکتے، لکھیں بیں کتا چار دوپہن پی ٹو کی عالمہ اور ی مار مکھی پہ مکھی
کرلگے۔ نکنے ہا کو بھیڑوں بہری اور ھی اند
ہے تا کرتشخیص کی اس کے جا تک گہرائی کی ض مر کسی ڈاکٹرایک طرح جسایک اور
ہے آتا لے کے نکال سے جڑوں کی اس کو نقص کسی کرتے تے کرتحقیق انجینئربٖعینہ
جب ہوئے تے کر تحقیق کے کر اطالق کا اصولوں سائنسیکی کتاب ِ اہلک کو دوںبنیاھنگا
التو گیاانھوںنےبھی'نو ِپیدائش'(Reincarnation)کےنو قا اسیگواہی کی قدرت ِ ن
دی دےآن قر جوبار بارہے۔ تا کر واضح
3. احکا سے بہت میں ادوار مختلف لئے کے رہنمائی کی انسان ہی سے فرینش آ ئے ابتدا
انسا نام اور تعداد مکمل کی جن ہیں رہے تے ہو نازل صحیفے اور ماتدہ جو مو کی ن
سے دسترس علمیباہرنزول کے صحیفوں ان مگر ہیںجو ہیں دستیاب ضرور ت ثبو کے
سے ن آ قر ہیں۔ فی کا لئے کے کھولنے راہیں نئی کی تحقیق میں تالش کی صحیفوں گمشدہ
والے نے ہو نازل پہلےہیں جود مو تک ب ا پاس رے ہما جو بیں کتا اور صحیفے کچھ
ع مجمو دو کے ان کے کر اکٹھا کو سب انقدیم نامہ عہد مجموعہ ۔پہال ہیں گئے ئے بنا ے
(Old Testament)حضرت کر لے سے السالم علیہ ٰسی مو حضرت جو ہے تا کہال
حضرت تسلسل کا جس ہے محیط پر صے عر کے یوں صد رہ با تک السالم علیہ ٰعیسی
نا عہد عے مجمو سرے دو کے حی و بعد کے مد آ کی السالم علیہ ٰعیسیجدید مہ(New
Testament)محمد حضرت بنی خری آ بعد کے اس ہے۔ چلتا تکﷺواال نے ہو زل نا پر
نامہ عہد خری آ( Last Testament)آن قر یعنیتا آہو زل نا پہلے سے س ا جو ہے
کی انسان نوع بنی تمام ًالتفصی ساتھ ساتھ کے نے کر تصدیق کی بوں کتا والی نے
رہمان سا کا نجات اور فالح ،نمائیبھیہے۔ تا پہنچا بہم
کے پیپرس قدیم تصویر تیسری اور لکھائی کی زبان مری سو قدیم تصویر دوسری ، لکھائی ئی ہو کھدی پر پتھر تصویر پہلی بائیں سے دائیں
پر غذ کامیں نیورسٹی یو ورڈ ہا جو تحریرہے ہوئی لکھی سے ہاتھہے۔ محفوظ
جاتے کےلکھے کر کھدائی پر پتھروں اور کھال کی بھیڑ میں ابتداء صحیفے سمانی آ قدیم
لیتے کر محفوظ بھی میں داشت د یا نی انسا کے کر حفظ انہیں لوگ عالوہ کے اس تھے۔
قبل سال ہزار چار سے والدت کی السالم علیہ ٰعیسی ت حضر تھے۔)(fourth
millennium BCEمص قدیم جببنائے سے دے گو کے پیپرس دے پو کے نی پا میں ر
اوراق کے پیپرس گئے(papyrus sheets)صحیفے یہ تو ہوئی ایجاد کیبعد کے ان اور
نے جا کی محفوظ کر لکھ پر اوراق کے پیپرس عدہ قا با بیں کتا سمانی آ والی نے آ
بن اوراق لئے کے لکھائی تک وقت کے آن قر ِ لگیں۔نزولکر ترقی اتنی صنعت کی نے ا
صرف سےنا ئع ذرا رتی تجا کے عرب غذ کا کردہ تیار کا چین کہ تھی چکیعر بحیرہب
روں نو جا کو یات آ آنی قر کہ ہے تا ہو ثابت سے ۔جس تھا تا جا تک روم اور نان یو بلکہ
4. م کر لکھ پر ٹکڑوں کے ہڈیوں اور چھال کی درختوں ، پتھر ، کھال کیکی نے کر حفوظ
اگر اور ۔ تھی نہ ضرورت۲۴۰۰ندان خا نچویں پا ئیں ہو لکھی میں مسیح قبل (Fifth
Dynasty)کائی الکا تیتی نفر شاہ باد کے(Nrfertiti Kakai)توں کھا کے(accounts)
میں ئبات عجا کے قدیمہ ِ ر ثا آ بیں کتا مجلد کیبھی آجوجہ ئی کو تو ہیں محفوظنہکہ یں
ہو۔ نہ جود مو میں شکل بی کتا مکمل ہی سے دور ابتدائی اپنے بھی آن قر
1500کے ترکی کتاب مکمل یہ کی ئبل با ئی ہو لکھی سے تھ ہا پہلے سے آن قر ِ نزول نہ زما قبل سال
ہے۔ محفوظ میں گھر ئب عجا کے انقرہ الحکومت دار
نے دیوں یہو میں مسیح قبل صدی سری دونے ہو زل نا تک السالم علیہ ٰسی مو حضرت
بوں کتا اور صحیفوں سب کے قدیم مہ نا عہد والےمقدس کو عے مجمو اس کے کر اکٹھا کو
ئبل با(Holly Bible)المقدس کتاب یعنیِ ن عنوا کے قدیم مہ نا عہد نکہ ۔چو دیا نام کا
ع ہائےنوں دو ان میں بعد لئے اس رہے جاری ٖبعینہ بھی میں جدید مہ نا عہد تکمیل و ہد
عیسائی اور دی یہو کو ۔جس گیا رکھا ہی بائبل بھی نام دہ جو مو کا ان کر مال کو موں نا عہد
دی یہو سے وجہ کی اختالف میں یات نظر مگر ہیں مانتے الفاظ مقدس کے خدا ہی نوں دو
ئبل باالگ۔ عیسائی اور ہیں تے کر الگ تفسیر اور جمہ تر کا حصے اپنے کےک دنیای
نظر ِ پیش کے تبدیلی اور قی تر میں تمدن و تہذیبعبرانی بیں کتا کی قدیم مہ نا عہد
(Hebrew)اورارامی(Aramaic)کتا کی جدید نامہ عہد اور ئیں ہو نازل میں نوں زبا
بیںاور نی عبرانانی یو(Greek)میں زبانلکھیگئیں۔
وجہ کی نے ہو میں نے گھرا ہی شا بیت تر اور ورش پر کی السالم علیہ ٰسی مو حضرت
نی عبرا انہیں سے(Hebrew)مہا میں ھنے پڑ لکھنے اور لنے بو نیں زبا مصری اور
۔ تھی صل حا رتارامی(Aramaic)کی ان جو سیکھی سے والدہ اپنی نے انھوں زبان
کو السالم علیہ ٰسی مو عالوہ کے اس تھیں۔ رہتی ہی ساتھ کے ان کر بن دائیقدیمسو
مری(Sumerian)میں زبانآج یا ضی یا ر میں لکھنے جو تھا صل حا ملکہ صی خصو بھی
ہے زبان جلتی ملتی سے کوڈ ٹر کمپیو کےمیں اس ۔۲،۱۰۰۰اور۵۰عف مضا کے
(multiple)کی مکمل رت عبا سے سوں ہند ئے بجا کی حروف کر لکھ میںتیب تر ص خا کو
ہیں۔ سکتی جا دیکھی میں متن اصل کے قدیم مہ نا عہد لیں مثا کی نوں زبا سبھی ان ہے۔ تی جا
اس تھیں رائج نیں زبا باال جہ مندر میں نے زما کے ان اور پہلے سے السالم علیہ ٰسی مو چونکہ
تنخ جسے ئبل با کی یہودیوں یعنی قدیم نامہ عہد سے اعتبار کے متن لئےتا جا کہا بھی
میں ابتداء جو ہے میں نوں زبا ارامی اور ہےعبرانی۲۴بوں کتاتھی مشتمل پر حصوں تین اور
5. جسکتابیں نچ پا پہلی میںابتداء،خروج،احباراعداداور یا ،گنتیاستثناتورات(Torah)کی
، ایوب میں انبیاء ہیں۔پھریشوع،سیموئیل،یسعیاہ،یرمیاہ،حزقیال،ہوسیع،حبقوق،زكریا،
مالخي،نیال دا ،نحمیاہ،عزیر،قضاتزبور میں ت الکتابا ر اسفا بعد کے اس اور(Psalms)یعنی
مثال اال ،ضرب حمد، سلیمان ِ ِ نغمہ یا غزل ،روتھ،(Ruth)یعنیرحمةاورواعظ
کےبعد نزول کے جدید مہ نا عہد ہیں۔ شاملبیں کتا کی زبان نی عبرا میں قدیم مہ نا عہدجویل،
عاموس،عبدیاہ،یونس،البعثة،حجي،صفنیاہاورناحومگئیں۔ لی کر مل شا بھی
جدید مہ نا عہد(New Testament)نی عبرا کچھ دہ مسو اصل کاتر ذیادہ مگرنی نا یو
(Greek)میں حصوں تین کے جس ہے میں زبان۲۷میں حصے ہیں۔پہلے مل شا بیں کتاچار
وہیتاناجیلعالمت ،متی یعنی(Mark)ساتھ کے حنا یو اور قا ،لوکے ء انبیاقوا یا اعمال
نین(Acts)حصے ہے۔دوسرے گیا کیا شامل کومیں۲۱خطوط(Epistles)اورکتاب
الوحی(Revelation)۔ ہے شاملتویں سا اور چھٹیصدیکی جدید نامہ عہد کے ئیوں عیسا تک
میں فہرست کی بوں کتاانجیل کی با نا بر سینٹ(Gospelof Barnabas)شامل بھیبعد جو تھی
میںجدید مہ نا عہد کر سمجھ زش سا کی نوں مسلمافہرست کی بوں کتا کیسےگئی۔ دی نکالیہ
کے السالم علیہ ٰعیسی حضرتر نہا ہوگرد شاسینٹمیں جس تھی انجیل وہ کی با نا بر
محمد حضرت الزماں خر آ ِ بنی بعد کے السالم علیہ ٰعیسی حضرتﷺنام کے‘احمد‘ﷺساتھ کے
حوالہ یہتھے ت جاک السالم علیہ ٰعیسی وہ کہگے۔ ہوں نبی بعد ےسے انجیل جات لہ حوا یہ
کریم ِ نبی سے جم ترا کے یات آ ان میںجیل انا روں چا ہ جو مو بلکہ گئے کئےنہیں رج خا
ﷺکر نکال 'احمد ' نام کاچو مگر ہیں گئے ئیے د لکھ نی معا کے نام کے ان جگہ کی اس
نکہت پہال سے سب میں عربیجمہ رانجیل کی با نا بر سینٹسےتھا گیا کیالئے اسانجیل
لکھا ہی 'احمد ' میں یات آ رہ کو مز کی جم ترا عربی کےہواہےجولئے کے لعہ مطا
ہے جود مو بھی اب۔
اپنے کر ہٹ سے ق سبا و سیاق کے متن اصل تراجم کے بوں کتا ان نے ٰری نصا دو یہو
ذکو صد مقا یاتی نظر اور الت خیا اتیکر رکھ نظر ِ پیشپر جگہوں سی بہت جو ہیں کئے
یہو اور عیسائی سے وجہ کی رکھتے۔جس نہیں بقت مطا سے متن کے یات آ کی وحی اصل
دبھی میں پس آ ساتھ ساتھ کے نے ہو دور سے نوں مسلما پر ر طو تی یا نظر یبہت
او قوں فر سےہم تا ہیں۔ ئے ہو بٹے میں ئد عقا ردہ جو مووسیع ، فتہ یا تعلیم کے دور
بوں کتا کی ان کہ ہیں لگے نے کر تسلیم یہ عیسائی اور دی یہو دار نب جا غیر اور النظر
کے گوں لو ہے۔بعض عندیہ کا رجحان کے تبدیلی مثبت ًایقین جو ہیں غلط جم ترا کے
ک ان میں خیالغو اور لعہ مطا علمی کا بوں تااشد نا کر تجزیہ ساتھ کے ض خو روضرو
کیا درست سے متن کے وحی انہیں کے کر دہی نشان کی غلطیوں میں جم ترا کہ تا ہے ری
کلیسا مگر سکے جا(Church)اوركنس(Synagogueتا ہیں۔ موش خا میں بارے اس )ابھی
و کہ ہے گواہ ریخایک بھی کبھی قترہا نہیں جیسانے کلیسا جب تھا بھی وہ وقت ایک ۔
ئبل با گئے کئے سے نی نا یو اور نی عبرا میں عیسوی صدی تھی چو کے جیروم سینٹ
پا سخت پر نے کر جمہ تر میں زبان اور کسی وہ عال کے جمے تر میں زبان طینی ال کے
ع صدی لہویں سو اور تھی رکھی کر عائد بندیاںرہ کو مز لئے کے دمی آ عام تک یسوی
۔ تھا منع ھنا پڑ بغیر لئے زت اجا پیشگی سے کلیسا بھی جمہ تر طینی الاگروہوقتنہیں
رہائل حا میں نے کر جمہ تر سے ظ لحا کے متن اصلی اور گا رہے نہیں بھی وقت یہ تو
بوں کتا ان لوگ پر ر طو دی انفرا ۔ گی ئیں جا ہو ختم بھی ٹیں و رکا کی کنس و کلیسا
6. ہ اتنا صرف فرق لیکن ہیں تے کر بھی اب جمہ تر سے متن اصل کےکو جمے تر اس کہ ے
تسلیم کلیساتا کر نہیں۔
رات تو(Torah)یعنیعتیق ِ عہدصحیفے نچ پا کے(Pentateuch)جواور بارہویں
کے السالم علیہ یٰموس حضرت میں مسیح قبل صدی ہویں تیرتھے جود مو میں حیات دور
میں انکے موتبعدزندگی والی ملنےجسجگہاس گی ہو پرکو'' شیولSheol))کہا
ہے۔ گیاگے۔ ہوں مقیم سے لحاظ کے اعمال اپنے بد ونیک میں جسپر جگہوں سی بہت'شیول
'Sheol))کاترجمہر بطو'تال پا ')االرض تحت عالم(بھیکیاگیاجو ہےرات توکے
نہیں درست سے لحاظ کے متن حقیقیبلکہ'' شیولSheol))کی قدیم مہ نا عہدیات آ کچھ
زمین میںدنیا یعنیمیں رے استعا کے جہنم پر زمین میں کچھ اورہے۔ ہوا استعمال
:یئے ما فر حظہ مال جات حوالہ ذیل جہ مندر
"Sheol from beneath is excited over you to meet you when you come; It arouses
for you the spirits of the dead, all the leaders of the earth; It raises all the kings
of the nations from their thrones – (Isaiah 14:9)
پاتال)زمین (سے اسی ہو؛ آتے تم جب کو ملنے سے تم ہے رہتی تاب بے سے اندر
؛ ؤں رہنما تمام کے زمین سے اسی ؛ ہیں تی جا کی پیدا گیاں زند کی دے مر لئے تمہارے
ہے۔ جاتا یا اٹھا کے کر زندہ سے جگہوں کی ان کو ہوں شا باد کے موں قو سب(یسعیاہ۔۱۴:۹)
He keeps back his soul from the pit, And his life from passing over into Sheol.
(Job 33:18)
نے جا میں پستی کو روح کی اس ہے تا بچا وہکو زندگی کی اس اور ، سے( ل تا پاجہنم
)سے۔ نے جا میں(ایوب۔۳۳:۱۸)
Whatever your hand finds to do, do it with all your might; for there is no
activity or planning or knowledge or wisdom in Sheol where you are going ؟
(Ecclesiastes 9:10)
ہے ملتا کو نے کر کو تھوں ہا تمہارے بھی کچھ جوکوئی ، ہو لیتے کرتئیں اپنے تم وہ
عقل یا علم یا بندی بہ منصو ٹھوسپاتال استعمال کا) دنیا (جا چلے کہاں تم ،کرتے نہیں میں
؟ ہو رہے(واعظ۹:۱۰)
Activityمیں اردو‘عمل بہ رو‘تعریف کی اس میں انگریزی جبکہ ہے تا جا کہا کو نے ہو
ہے۔ جاتی کی میں الفاظ کے ذیل
1-The condition in which things are happening or being done.
2-A thing that a person or group does or has done.
The wicked will return to Sheol, Even all the nations who forget God. (Psalms
9:17)
پاتال لوگ کار غلط)(جہنمجنہوں بھی میں قو تمام دیگر اور گے ئیں جا ئیے د بھیج واپس میں
یا۔ ھالْب کو خدا نے(زبور۹:۱۷)
7. Let death come deceitfully upon them; Let them go down alive to Sheol, For
evil is in their dwelling, in their midst. (Psalms 55:15)
موتپر ان( کر دے دھوکہبغیردیا بھیج میں )تال(دوزخ پا کے کر زندہ انہیں ؛ ہے تی آ )بتائے
شیطان ،ہے جاتاہیں۔ رہتے میں میان در کے جس ، ہے نا ٹھکا یہی لئے کے لوگوں صفت(
زبور۵۵:۱۵)
Midstٹھکانا کا ان ' ترجمہ رواں کا اس سے لحاظ اس ہے۔ آتا میں معانی کے قلب اور دل ،وسط
ہے۔ تا ہو معلوم درست بھی سے اعتبار آنی قر 'ہے لگتی میں دلوں کے ان جو ہے آگ کی دوزخ
"But if the LORD brings about an entirely new thing and the ground opens its
mouth and swallows them up with all that is theirs, and they descend alive into
Sheol, then you will understand that these men have spurned the
LORD".(Numbers 16:30)
"اگر لیکنخداوندوہ اور کھلے منہ کا زمین اور آئے لے چیز نئی لکل با کوئی خالف کے ان
پھر ، جائیں اتارے میں پاتال کے کر زندہ وہ اور لے نگل اسباب و مال کے ان بمع کو ان
ٹھکرایا۔ کو رب اپنے نے جنہوں ہیں لوگ وہ یہ کہ گا آئے سمجھ تمہیں(گنتی۱۶:۳۰)
Bring aboutمطلب کاسمت کسیکےبرکیا ایسے پر طور عام استعمال کا ہےجس ہوتا خالف
ہے جاتا“کے اس بھی میں جملوں کےئے"۔انگریزی آ لے ؤ نا اپنی وہ تو دیکھا آتا فان طو
مائیں فر حظہ مال مثال کی استعمالcauseto move into the opposite direction;
"They brought about the boat when they saw a storm approaching"
To bring backhis soul from the pit, That he may be enlightened with the light of
life. (Job 33:30)
کو روح کی اسپستیسےواپسلئے کے النے.وہکے زندگیسے نورروشنتا جا کیا
ہے(ایوب۳۳:۳۰)
"Behold, God does all these oftentimes with men. (Job 33:29)
"،دیکھوخدا(" تاہے کر یہی اکثر ساتھ کے لوگوں سبایوب۳۳:۲۹)
But God will redeem my soul from the power of Sheol, ForHe will receive me.
Selah (Psalms 49:15)
جہنم ( پاتال خدا لیکنگا دے چھڑا جان میری سے )کے کر قبول )(خدا وہ ،۔سالہ مجھے(زبور
۴۹:۱۵)
حوالہ باال جہ مندر کے زبور ئیے ما فر غور کرام ِ رین قا۴۹:۱۵' سالہ ' لفظ ایک میں(Selah
)کے زبان نی عبرا جو ہے یا آمیں متن اصلایسےָהל,لکھاہے۔ ہواجان یہ تحقیق ِران دو
نتے جا نہیں مطلب کا اس علماء بڑے بڑے کے ئیوں عیسا اور دیوں یہو کہ ہوئی حیرت بڑی کر
ظّفتل کے اس وت تال ِ ران دو اور(سالہSelahپر کرنے ادا سے زبان ہی کو )ہیں۔ تے کر کتفا ا
8. عالوہ کے صحیفوں سمانی آ قدیم ' 'سالہ۷۴بائبل نی عبرا بار(Hebrew Bible)۷1
زبور عبرانی بار(Hebrew Psalms)کئی اورحبقوق بار(Habakkuk)ہے آیا میںکی ِو '
'پیڈیا(Wikipedia)میں الفاظ کے(Selah is difficult conceptto translate)کا سالہ
ہے۔ مشکل نا کر ترجمہمیں رائے کی کتاب ِ اہل ِعلماءاوقاف ِر بطو 'سالہ '(punctuation)
ہو رت ضرو کی ؤ ٹھہرا ران دو کےھنے پڑ کو ری قا جہاں ہے تا ہو استعمال میں یات آ ان
ہے۔ تیس ' لوگ کچھجو ہیں سمجھتے 'سلہ ' لفظ جلتا ملتا سے اس سے لحاظ صوتی کو 'الہ
'چٹان کی پتھر ' میں زبان عبرانی(rock)تاہے ہو استعمال لئے کےاورمیں ئی لکھا عبرانی
بھی ہجے کے اس۔ ہیں تے ہو مختلف سے ہ سالخیال کے روں دانشو کچھ کے کتاب ِ اہل
میں'' سالہسمت کی سیقی مویاوہ کیسنگیتیات ہداInstructions)(Musical
ہیں( ر زبو جوPsalms)کوہ چا نی جا کھی ر خاطر ِظ ملحو وقت ھتے پڑزبو کیونکہ ۔ ئیں
رکوہے۔ تا جا ھا پڑ ساتھ کے سیقی مو
۔ ہللا ہللا!بھا گ لو کے رنگرنگکتا ِ اہل ِ ء علما ۔ لیاں بو کی نت بھا نتہما بھی حال کاب
ِ ء علما رےدیا بول وہ یا سما میں من جو ہے۔ ہی جیسا کرامنہ ۔چا سوسمجھا نہتحقیق بنا
کئےعات خترا اکے لکھ لکھئیے د لگا ر انبا کے بوں کتا۔مضمون نظر زیرنو ِ پیدائشکی
صحیفوں سمانی آ دیگر اور انجیل ، زبور ، تورات کہ گئی کھل بھی تھیْگ یہ ران دو کے تحقیق
لفظ ' اثرار رْپ ' ہوا لکھا میں'سالہ'ہی و اصل در’صالہ’ہےتر توا میں ن آ قر حکم کا جس
ہے۔ یا آ ساتھ کے
کرام ِ رین قاگر ۔ا ئیے ما فر حظہ مالیت آ کی زبور۴۹:۱۵کو 'سالہ ' لفظ ی خر کےآ
ہے۔ جاتا ہو واضح لکل با مطلب کا یت آ اس تو جائے دیا بدل سے 'صالہ ' لفظ آنی قر
But God will redeem my soul from the power of Sheol, For He will receive me. Selah
(Psalms 49:15)
لیجہنم ( پاتال خدا کنسے )۔سالہ مجھے کے کر قبول )(خدا وہ ، گا دے چھڑا جان میری(زبور
۴۹:۱۵)۔دہ جو موجمہ تر
:ئیے ما فر حظہ مال جمہ تر رواں
خدا لیکنگا۔ دے چھڑا جان میری سے جہنم کے کرقبول صالہ میری
گا۔ دے چھڑا جان میری سے جہنم کے کر قبول چٹان کی پتھر میری خدا لیکن
لیکنگا۔ دے چھڑا جان میری سے جہنم کے کر قبول وقف میرا میں کالم ِ وت تال خدا
گا۔ دے چھڑا جان میری سے جہنم کے کر قبول سیقی مو میری خدا لیکن
جم ترا ال با جہ مندر کرام ِ رین قاخو پ آ تو فیصلہ کا اس ہے صحیح جمہ تر نسا کو سے میں
ت کام را ہما گے۔ کریں دصرف ونا کر پیش منے سا کے پ آ نتیجہ کا تحقیق اپنیتھا۔
قدیم مہ نا عہد(Old Testament)میںبعد کے تحقیق انتہائیالتدوير إعادة(Recycling)کا
۔ ہوا معلوم نظام قدرتیواپس کر ٹ لو نسل درنسل کے گوں لو ہی میں شروع کے یات آ انآ
مخصوص اسی کے وحی ذکر کا نےطلوع کا رج ہے۔سو جاتا یا پا میں آن قر جو ہے میں انداز
تھا نکال وہ سے جہاں نا جا آ وہیں پھر کے ٹ لو واپس پیروں الٹے اور نا ہو غروب ،نا ہو۔ک ا ہوا
وہ سے ں جہا نا جا پہنچ وہیں کے پھر گھومکا لوں نا ندی ۔ تھی ئی ہو شروعگواپس کے پھر ھوم
9. کی تکرار کی نے ہو رہ با دو وہ چکا ہو پہلے جو تھے۔ ئے ہو شروع وہ سے جہاں نا جا پہنچ وہیں
ئش پیدا بارہ دو کی انسان ثلت مما(Reincarnation)؟ ہے کیا اور تو نہیں سےطور خاص
کہا یہ میں جس میں جس ہے مل حا کا اہمیت بہت جملہ خری آ پرجو نیجے کے رج سو کہ گیا
نہیں نیا بھی کچھ میں اس ہے بھی کچھ!؟ ہے کیا نیچے کے رج سوو تو نیچے کے رج سو
ہیں رہتے ہم میں جس ہے دنیا ہیئیکل سا ری کچھ سب اور نہیں نیا بھی کچھ میں دنیا اس اگر ۔
(Recycle)تو ہے رہا آ بار بار وہی کے ہوبھی تاریخ کی ء ارتقا کے انسان سے ظ لحا اس
گے ئیں جا کھل باب نئے کئی کے ۔تحقیق گی ہو رقم سے سرے نئےزوں را سے بہت کے رت قد ۔
عوامل وہ کے تخلیق کی انسان اور سمان آ ، زمین گا۔ ٹھےْا دہ پر سےکی انسان تک ابھی جو
نظرگے۔ جائیں آ سامنے ہیں باہر سےمیں علوم سائنسیگی ہو ترقی بھیایسی سی بہت اور
گیں ئیں جا کھل گتھیاںلئے کے ننے جا جنہیںہے۔ رہاپیٹ تھا ما اپنا بھی اب انسان
تفصیل کی وحی قیمت بیش اس کرام ِ رین قاواعظیات آ ذیل جہ مندر کی۹-۱:۴خد ِ ضر حا میں
ہے۔ مت
"Generations come and generations go, but the earth remains forever. The sun
rises and the sun sets, and hurries back to where it rises. The wind blows to the
south and turns to the north; round and round it goes, ever returning on its
course. All streams flow into the sea, yet the sea is never full. To the place the
streams come from, there they return again...What has been will be again, what
has been done will be done again; there is nothing new under the sun."
(Ecclesiastes 1:4-9)
تی آ نسلیں کی گوں لوویسی کی ویسی دنیا مگر ہیں تی جا چلی نسلیں اور ہیںہیرہتہے ی۔
،ہے تا جا ہو غروب رج سو اور ہے تا ہو طلوع رج سوسے جہاں اورتیزی ہے نکلتاسے
ہے۔ تا جا آ واپس وہیںہے جاتی مڑنب جا کی شمال چلتے چلتے میں سمت کی ب جنو ہوا۔گول
چلتی یہ گول اورپر رستے اپنے ہمیشہ اور ہےٹتی لو واپسہے۔لوں نا ندی سبؤ بہا کا
ہے تا ہو میں سمندرتا۔ بھر نہیں کبھی سمندر لیکنبا دو ہیں نکلتے لے نا ی ند یہ سے جگہ جس
وہیں رہپرئے جا کیا سے پھر گیا کیا کچھ گا،جو ہو سے پھر ہوا کچھ ہیں۔جو تے جا چلے واپس
گا۔ہے۔ نہیں نیا کچھ )میں تلے(دنیا رج سو(واعظ۹-۱:۴)
اکبر ٌہللاران دو کےتحقیق کی وحی گئی کی زل نا میں ئف صحا سمانی آ قدیم ۔اور ہیٰال ِ شان
عظیم کے اسی د کو رت قد ِ نہ خا کار الشانکرکھبار کئیِہط احا جو ہوا تاری جد و ایسا
ہے۔ باہر قطعی سے بیانتی ہو ں عیا جوں جوں ریگری کا کی ہللارہیسے نکھوں آنینداْڑ
گئی تیاورشبوروزعت سا ایک ایک کیگزری۔ میںحیرت ِہط ورقراری بے کی روح
اور گئی ھتی بڑکہ یا آ میں جی ر با ر باکے ہیٰال ِ کالم کے ڑ چھو کام سبحقیقیکا متنتر
ؤں جا چال تا کر تک ن آ قر کے کر شروع سے صحیفوں ابتدائی جمہاور فہمیوں غلط تمام نْا اور
نے کر سیدھا وّلْا اپنا نے انسان تک اآلخر حی و کر لے سے ل ّاالو وحی جو دوں مٹا کو دات تضا
سر کے ہللا لئے کےرکھےتھوپ۔ ہیںرات تو ، انجیلر زبوکے صحیفوں سمانی آ دیگر اور
اور تراجم گھڑت منتک حد بڑی متن اصل کا وحی وجود با کے مار بھر کی عات اخترا معنی ال
شک کی وقت پر اس اور ہے جود مو میں لت حا اصل اپنیجتنا ہوا نہیں اثر اتنا کا ریخت وست
سمجھتے ہمہیں۔ٹی کسو کی ن آ قر تو ہے رہا بھی آ ق فر کہیں اگردور کو فرق اسکر
د جو مو پاس رے ہما لئے کے نےاس کے ہللا کالم نے ہم کہ افسوس مگر ہے۔انمولکو زخیرے
کر سمجھ بیں کتا کیپرستوں بت اور فروں کا ، کوں مشر ، ئیوں عیسا ، دیوں یہودی ڑ چھو۔ ا
10. اگربھی حکم کا خی منسو کی بوں کتا انمیں ن آ قریا آ نہیںنہیں تبدیل بھی نین قوا کے ہللا اور
رد انہیں پھر تو تے ہوکیوںگیا؟ دیا کرکن کہ ہے محفوظ پاس کے آپ جوابگوں لوک کےہنے
گیا؟ کیا ایسا پر
لئے کے والوں نے کر انکار کا وحی اسن ایما پر بوں کتا دہ کر زل نا کی ہللا کہ ہے فکریہ ِہلمح
ہوگا؟ کیا کاادا سے زبان ہی نام خالی کاصحیفوں سمانی آ دیگر اور انجیل ، بور ز ،رات تو
ایمان پر ان تو کرلینانے التا۔ آ نہیں میں مرے ز کےبعد کے نے جا ہو بند زہ وا در کا نبؤت
س را کا نے آ وحیٰلہ گیا۔ ہو بند لئے کے ہمیشہ بھی تہدہ کر زل نا کی ہللا ساتھ ساتھ کے آن قر ذا
ہمیں جو ہے وندی خدا ِ نعمت وہ پاس رے ہما لفظ ایک ایک گیا کیا وحی بھی میں بوں کتا دیگر
۔ سکتی ہو نہیں میسر کبھی رہ با دواکیال آن قر شبہ بالبیا تفصیل کی بیان اپنے ہینِکے مقرر
سمجھ طرح اچھی کو بات گئی کہی والے نے کر فکر و غور کہ تا ہے تا ْھراد میں انداز تے اچھو
معاملے کسی اگر بھی پھر ۔لیکن لیںلینا جات لہ حوا میںہوں گزیر ناتولکھ کی انسانوںہو ی
یتوں روا ئیںئے بجا کی بھٹکنے میں تفسیروں اورس آن قرکردہ زل نا کی ہللا پہلے ےکتا
کرنا دہ استفا سے بوںہے۔ ایمان پر بوں کتا کی ہللا ہی
مائیے فر غور کرام ِ رین قاحوا بین ما کے بوں کتا والی نے ہو زل نا پہلے سے اس اور آن قر
جات لہ(Cross References)ہیں۔ رہے مل طرح کس
َنوُعِبَّتَي َينِذَّلِيلِأْنِأاْلَو ِاةَرأَّوالت ِِف أمُهَندِعاًوبُتأكَمُهَنوُدََِييِذَّال َّيِّ
ِمُأاْل َّ َِِّبالن َولُسَّالر(االعراف۷:۱۵۷)
کرتےپیروی کی رسول اس جو لوگ وہہیںْا نبی جوّممیںانجیل اور تورات ہاں اپنے جسے ہے ی
ہیں پاتے ہوا لکھا(ة ر سو آن قراالعراف۷:۱۵۷)
باب کے یسعیاہ۲۹کیآیت۱۲میںگئی کی تصدیق کی لے حوا اس کے آن قر:کتاب ایک اسے
یّم ْا جو گی جائے دیکہا ،گا ہواسے ، گا ئے جاگا کہے وہ پڑھ۔سے تجھ میںہوں کرتا التجاء
میں کہسکتا۔ نہیں پڑھ اسے
"And the bookis delivered to him that is not learned, saying, Read this, I pray
thee: and he saith, I am not learned." (Isaiah chapter 29 verse 12)
کتاب دوسری کی توراتتثنيه۱۸:۱۸،تثنيه۳۳:۲اسرائیل بنی میںنبی دو کےبھائیوںکی
الد اومیںمستقبل سے میںمنصب کےنبوت کا ایکہے ذکر کا نے ہو ئز فا پرجوخداکیو
نون قا نیا ریعے ذ کے حیکر چل گے آ گا۔پھر الئےآ کی ء ابتدایت۲۱:۲۱میںئیل اسرا بنی
سے میںکا عیلیوں اسماکر دے لہ حواسے میں ل آ کی انمحمدﷺف پر نبوت ِ منصب کےا
گئی۔ دی کر تصدیق کی نے ہو ئز
طرح اسیحنا یو۱۴:۱۶میںہوں تا کر دعا سے خدا میں کہ کہا نے السالم علیہ ٰعیسی حضرت
واال دینے راحت اور ایک تمہیں وہ کہ(نبیتر (رواں گا رہے ساتھ رے تمہا ہمیشہ جو گا دے )
)جمہ
"And I will pray the Father, and he shall give you another Comforter, that he may abide with you
forever"(John 14:16)
11. آیت کی حنا یو پھر۱۴:۲۶خدا گیا۔لیکن یا دہرا سے انداز سرے دو کوبات اسی میں
میرےنامسے السالم علیہ مسیح (یعنی میںجو ) حمت ر یا دہندہ نجات ، مسیحارحمةللعالمین
گا بھیجےگا بتائے کچھ سب تمہیں وہتمہیں اورمیں جو گا دالئے یاد چیزیں وہبت تمہیںاچکا
۔ ہوں
"But the Comforterwhom the Father will send in my name, he shall speak to
you all things, and bring all things to your remembrance, whatsoever I have said
unto you."(John 14:26)
یوحنا إنجیلالفصل16اآلیة7:ہے درج سے طرف کی السالم علیہ ٰعیسی حضرت میں"میں ہم تا
، ہوں تا بتا ئی سچا تمہیںتو تا جا نہیں میں ؤں۔اگر جا چال میں کہ ہے ئدہ فا را تمہا میں اسی
وہرحمةللعالمین۔ "گابھیجوں تک تم انہیں میں ،گےئیں آ نہیں تک تم
"Nevertheless I tell you the truth; it is expedient for you that I go away: for if I
go not away, the Comforter will not come unto you; but if I depart, I will send
him unto you".(John 16:7)
یوحنا۱۵:۲۶کےمزیدنقل کی جم ترا مختلف دومت خد کی پ آ بھیمیںض حاہ رےجن
میں: ہے گیا کہاجبوہمددوہ ،گا ؤں بھجوا طرف ری تمہا سے خدا میں کو جس ،گا آئے گار
روح سچیتو گی ئے آ سے طرف کی خداگیا کہا میں جمے تر گی۔دوسرے کرےتصدیق میری
کہ ہےگے۔ دیں ہی گوا میری تو گےئیں آ سے طرف کی خدا جب وہ
"When the Advocate comes, whom I will send to you from the Father--the Spirit
of truth who goes out from the Father--he will testify about me.(John 15:26)New
International Version Translation
“But when the Helper comes, whom I will send to you from the Father, the
Spirit of truth, who proceeds from the Father, he will bear witness about me.
.(John 15:26) English Standard Version
انجیل کی حنا یویات آ ال با جہ مندر کی۱۴:۱۶،۱۴:۲۶،۱۵:۲۶اور۱۶:۷میں متناصل کے
لفظ نی نا یو'پیراقلیطس 'ΠαρακλήτουParacletos)(ہے ہوا استعمالمیںحقیقت جو
کے جس ہے 'احمد ' اسماگربھی نی معااسم ِ ر بطومحمد تو تے جا لئےﷺبنتا ہیکا نام ۔
تھا مقصود ہی جمہ ترتو'واال نے جا کیا تعریف '(The Praised One)بنتامگرکی لفظ اس
جگہمیں جمے تر انگریزیComforter ‘'یا واال دینے یّتسل یعنیواال دینے حت رالگا
جو ہے یا۔ نہیں درست بھی طور کسیہم تارحمةللعالمین(mercy for all creatures)،مہر
رفیق بان(Kind Friend)،ایڈووکیٹ(Advocate)سے ظ لحا کے جمے ترتک حد کسی
قریب کے نی معا کے'پیراقلیطس ' لفظ نی نا یو کے متن اصلہیں۔با نا بر سینٹانجیل کی
(Gospelof Barnabas)نہیں۔ صل حا ی منظور کی کلیسا کوتقا کے داری نب جا غیر ذاٰلہ
جیمز سینٹ ہوئے رکھتے طر خا ِ ظ ملحو کو ضوں(Saint James)اورانگریزی سٹینڈرڈبا
کےئبلنسخوں(Standard English Version Translation)کےالوقت رائجشدہ تسلیم اور
کو جم ترا انگریزیمیں مضمون اسہے۔ گیا کیانقل بہو ہو
12. سلیمان ِہنغم کے زبور۵:۱۶محمد حضرت میںﷺنام کاِزبان نی عبرا گرامیحروف جلی کے
" میںا گئی کی تعریف کی ان کر "لکھ محمدورباب اسیمیں یات آ مختلف کیبھی یہبگیا یا تا
ان اور گے ہوں سے قے عال کے عرب وہ کہدار کر کاکیسا رک مبا حلیہ اورگا۔ ہو
۵:۱۶متن نی عبرا اصل کا' لفظ نی عبرا میں جس ہے ذیل جہ مندرמחמדים'یا آ اسم بطور ِما محمد
ہے۔'ِما'انبیاء تاہےاور ہو استعمال لئے کے نے کر طب مخا سے عزت کو نام کسی میں نی عبرا
ہے۔ لگتا بھی ساتھ کے موں نا کے علیالسالم
,ֹוּכִחים ִק ַת ְמ ַמִם ָׁל ְָׁרּושי ֹותנְב ,יִע ֵר ֶהזְו י ִֹודד ֶהז ;ים ִד ַמֲח ַמ ,ֹוּלֻכְו , (5:16 Song of Solomon)
سلیمان ِ نغمہ۵:۱۶کیکویت آ ال با جہ مندرنی عبراتلفظمیں:گے ہیں پڑ ایسےوّکھی
ْوّلْک وی اکمّتممیمحمدِماِہ ِززی وا دہ ّودبی ہرائینا۔
: جمہ ترْامحمدجناب وہ ، ہے میٹھا منہ کا نﷺمیرے یہ اور ہیں محبوب میرےہیں۔یہرفیق
او ۔ ہیں!بیٹی کی شلم یروسلیمان ِ (نغمہ۵:۱۶)
English: His mouth is most sweet; yea, he is ALTOGETHER LOVELY. This is
my beloved, and this is my friend, O daughters of Jerusalem. (5:16 Song of
Solomon)
محمد لفظ میں متن عبرانیﷺمیں جمے تر انگریزی کےیت آ اس مگر ہے جود مو توں کا جوں
سینٹمحمد نے جیمزﷺنام کےکے کر جمہ تر بھی کا(ALTOGETHER LOVELY)'
را پیا پر طور عی مجموعزیز دل ہر یعنی 'دیا لکھجوکی بان ز بھی کسیکے نحو و صرف
سے حوالےاور نہیں درستکےیت آ اساصلمتنبھی سےرکھتا نہیں بقت مطانکہ کیو
نی۔ معا کے اس کہ نا ہے تا جا لکھا نام ٖبعینہ میں ترجمے نام کا کسی
عالوہ کے اسیت آ کی عنوان اسی۵:۱۰یہ میںبھیرنگت کی ب محبو میرے کہ ہے گیا یا بتا
ہیوں سپا ہزار دس وہ اور ہے گالبی اور سفیدتح فا کےدار سرگے۔ ہوں
Song of Solomon 5:10 says: "My beloved is white and ruddy, pre-eminent
above ten thousand."
کہنہیں قف وا کون سے حقیقت ریخی تا اس۶۳۰میں محمدﷺکےہیوں سپا ہزار دس
ساتھفاتحال سا سپہہوئے داخل میں مکہ سے حیثیت کی ر؟
کرام ِ رین قا!بوں کتا پہلی سے آن قر کہہیں مفروضے دہ کر قائم کے ء علما رے ہما سب یہ
اور گئیں دی کرتبدیلیاں سی بہت میں ان ۔ گیا دیا کر رج خا مواد سا بہت سےبو کتا ان کہ یہمیں ں
ہے۔ چکا ہو پید نا متن اصل کا وحیبور ز ، تورات میں مضمون اس تو ہے ایسا میں واقعی اگر
یات آ گئیں لی سے صحیفوں نی سما آ دیگر اور انجیل ،کتا ان تک ابھی نے ٰری نصا دو یہو
؟ کیںنہیں کیوں ج ر خا سے متناصل کے بوںوجود بامو کے نْا یات آ رہ کو مز یہ کہ کے اس
ہیں۔ خالف کے ایمان دہ جوہم وہ عال کےاسکے لفظ کے صالہمیں بارےر سطو ال با جہ مندر
میںمذا دیگر کے کتاب ِ اہل پہلے سے اسالم حکم کا جس ہے صالہ ہی و یہ کہہیں چکے کر ذکر
تھا گیا دیا بھی کو ہبلفظ ۔اوریہتک ابھیمتن اصل کے بوں کتا انمیںس-ل-ا-ہکے
وںّجِہکا جوں میںہے موجود توںِ چہ ۔اگراس انہیں کہ ہیں تے کر قبول د خو ٰری نصا دو یہو
13. ' لفظ'سالہکا نی معا کےمگر نہیں ادراک کچھپھر نے کسیبھیبوں کتا ان کو لفظ اس
متن اصل کےبلکہ ۔ کیا نہیں رج خا سےہے د جو مو میں متن 'اصل ہ سال ' جہاں جہاںتمام
کئے ترجمہ بغیر لفظ یہ میں جم ترا۔ ہے تا جا دیا لگا میں جمے تر کے یات آ انبات رہیی آات
جمے تر کےتفسیر اورکی بدلنے کے مفہوم میں۔آن قر بھی ہم تو وہجمے تر کےت اورفسیر
میںہیں تے کرتا پڑ نہیں فرق کوئی میں متن اصل کے بوں کتا ان سے جسیات آ اّکْد اّکِا ۔
اگر میںئے جا یا پا اختالف سے آن قران توکیاالگ کو حی و کے کر غور سے سرے نئے پر
ہے۔ سکتا جاکیونکہیک سے بیان انسانی ں بیا ِ ز اندا کا حی وہے تا ہو مختلفسراورمیںاس
ئیاں سچا تی ئنا کا پنہاں(Universal Truth)ہی گوا د خولکھا کا ن انسا کسی یہ کہہیں دیتی
سکتا ہو نہیں کالم ہوا۔اس میں رت صو کی رہنے قی با اختالف بھی پھربھی ڑا چھو کوبیان
بیں کتا ری پو کی ری پو ہے۔مگر سکتا جاہی۔ سکتیں جا کی نہیں ردر شما را ہما ورنہ
منکرگا ہو میں وحی ِ ِ ین!
یہودیتپرپارسیمذہبکےاثرورسوخسےپہلےیہودیِپیدائشنو(Rebirth or
Reincarnation)پرمل کا اور ایمان مکملیقینرکھتےتھے۔جسکاثبوتعہدنامہقدیم
میں'ابتداء'(Genesis(کیآیات۳۷:۳۵،۴۴:۲۹،۴۴:۳۱،۳۸:۴۲'گنتی( 'Numbers)
کیآیات۱۶:۳۰اور۱۶:۳۳اور'استثنا( 'Deuteronomy)کیآیت۳۳:۲۲میںدیکھا
جاسکتاہے۔
۵۸۷ہاتھوں کے آوروں حملہ انداز در کے بابل میں مسیح قبلہوگئے طن و جال یہودیاور
چھ جبنے 'سائرس ' میں مسیح قبل ٹیمیں خطے اسفارس ِ سلطنتیوں یہود تو کی قائم
لیا سانس کا سکھ بھی نے۔طرح اسب کے فارسسائرس ادشاہنےقدیمکے دیوں یہونجات
دہندہجس اداکیا دار کر کاوجہ کیسےہا ومی مقا کے ںدی یہو اور زرتشیسرے دوایک
گئے۔ آ قریب بہت کےجبتشی زر اور لگے بڑہنے روابط باہمی میں مذاہب نوں دوعلماءیہو
پر مذہب دیتو لگے ہونے انداز اثرنے سائرسکے جیتنے دل کا دیوں یہو تو طرف ایک
طرف دوسری مگر دی دے ذادی آ ہبی مذ انہیں لئےکے مذہب کاری سر کے فارسپر طور
دیا۔ کر اعالن کا مذہب زرتشیمیں ہب مذ دی یہو سے جسساتھ ساتھ کےتبدیلیوں ثقافتی سی بہت
زندگی کی آخرت ذریعے 'کے نو ِ پیدائش ' گئی کی وحیبھی'بعد کے مت قیاکے دوں رْم
اٹھنے کر ہو زندہ سے قبروںگئی۔ بدل میں ورّصت زرتشی کے 'دیوں یہو گر ااور سائرس پرزر
چ کا دیت یہو آج تو ہوتے نہ اثرات کے مذہب تشیہرہلکل باہوتا۔ مختلفجدید نامہ عہد
(New Testament)تک نے آ کےفرقوں تین یہودیفریسی یعنی(Pharisees)،کی صدو)
(Sadduceesاورنٰعیسیی(Essenes)تھے چکے بٹ میں۔فارسی کے آخرت اور مت قیا
یہودی اور کرنے مسترد وراتّصتمیں شلم یرو خالف کے اندازی در زرتشی میں مذہب
ہوئے بھی مظاہرےکر کھل نے نروں گور فارسی کی جنکی مزاحمت۔نے نروں گور فارسی
زر میں یروشلم ہوئے دکھاتے شیاری ہوفارسی اور دی ہا بڑ بادی آ تشیدیوں یہو نے مبلغین
پوری بھی کسر سہی رہی سے جس کردی شروع تبلیغ دار زور کی مذہب زرتشی میں بھیس کے
گیا۔ کر سرایت طرح پوری مذہب زرتشی میں دیت یہو اور ہوگئی
بات یہ بھی سے حوالے کے اسالمصی خاہے طلب توجہکہجویہو مبلغین فارسی
استع کو الد او آل کی انہیں تھے موجود میں عرب ِ خطہ سے پہلے میںبھیس کے دیوںکر مال
ا ڑ بگا حلیہ کا اسالم کےوہتک وقت اس کیونکہ گیاپیئے بہرو سی مجواہل اور زبان مقامیِ
کے کتابعقمسلما لئے کے جن تھے چکے ہو قف وا بی بخو سے ائدکتبدیل ت یا نظر کے نوںر
ناتھا۔ نہ مشکل کوئی
14. بھی میں ئیوں عیسا بعد کے دیوں یہوتشی زر یہ نظر کا نے ہو زندہ کے دوں رْم دن کے مت قیا
کا بندی قہ فر کی لّاو ِدور کے ئیت عیسا اثر ِ زیر کے تسلطہیجس ہے دور وہی یہ ہے۔ یتیجہ
خدا وہ تو یا کہ گیا کیا قائم ضہ مفرو یہ میں بارے کے السالم علیہ ٰعیسی حضرت میں
ہیں؟ گئے بن خدا جو ہیں انسان ایسے ئی کو یا ہیں ہوئے پیدا میں شکل نی انسا جو ہیںوقت اس
یعنی۷۰اس کے میوں رو میں عیسوی ہو فرار طرف کی مصر بعد کے حملے پر ئیل را
کی شلم یرو ئے کلیسا والی نےقیات باپال اورPaul))در کے روم ئے کلیسا دہ کر قائم کے
عیسا نے دھڑے رومن میںنتیجے کے جس تھی رہی چل سے شور زور خوب نی تا کھینچا میان
کے تعلیمات دہ کر وحی سی بہت کیئیتنو ِ ئش پیدا ساتھ تھ سا(Reincarnation)نظام رتی قد کے
جو تھے خدا السالم علیہ ٰعیسی حضرت کہ لگے نے کر یقین یہ اور دیا کر د مستر بھی کو
تھے ئے آ میں دنیا میں شکل انسانی(Jesus was God become man)عیسا ئد عقا یہ سے دن س ْا۔
مستق کا ایمان کے ئیوںحضرت کہ تھا نتا جا ھڑا د واال شلم یرو کا ئیوں عیسا گئے۔ بن حصہ ل
ٰاعلی کے ت نبو سے ہیٰال ِ حکم جو تھے انسان ایک فقط السالم علیہ ٰعیسیہ ئز فا پر مقامو
ئےنو ِ ئش پیدا عیسائی لے وا شلم یرو ۔(Reincarnation)یقین کا ۔ان تھے رکھتےیقین بھی میں
نے آ میں دنیا کا ان گےکیونکہئیں النہیں تشریف واپس میں دنیااب السالم علیہ ٰعیسی حضرت کہ تھا
چکے پا گی زند ابدی کر نکل سے ئرے دا کے ت مما و حیات وہ اور ہے چکا ہو را پو مقصد کا
روم ئے کلیسا اور لی جیت جنگ سی سیا نے ئیوں عیسا می رو سے قسمتی بد ہیں۔مگرنے'ہر
کتاب حساب فوری بعد کے نے مر باراورمیں گی زند اگلیسزااورجزاعمل ری فو پر
' آمد دربعد کے نے مر بار بار یعنیکتا ب حسابگی زند شتہ گز پھر اوروںاعمال کے
کی نون قا ئے ہو کئے حی و کے نے ہو زندہ بار بار بق مطا کےایک میں خرت آ تعریف
دوں رْم بعد کے مت قیا والی نے ہو پا بر بار ہیلئے کے ہمیشہ کےتشی زر کے نے ہو زندہ
گئی۔بدل میں ورّصتپال کسر سہی رہی(Paul)ا نے ریوں حوا کے اس اورچا میں تشریح کی س
کے لگا اور ند چا رطرح اسکی ری پوْا کر لے ہ گنا کے سب تو ئے آ بار پہلی 'ع یسو ' کہ
بخشوا ہمیں سے ں نو سما آ ساتھ کے ں فرشتو دن کے مت قیا رہ با دو وہ اب اور گئے چلے پر و
سے نیند گہری بعد کے ت مو گے۔ہمیں یں اتر لئے کے نےکر جگا(Resurrection)گی زند ابدی
ت نجا ری ہما لئے کے ہمیشہ اور گے دیں(Salvation)صحیح کو عقیدے غلط اس گے۔ دیں کرا
ثاتراشے بھی لے حوا لئے کے نے کر بتاور گئےجمہ تر کن گمراہ کا آیات ان کی انجیل
گیا کیا بھیاور احتساب فوری بعد کے نے مر میں جنغا آ کے گی زند نئی ساتھ کے سزا و جزاء
لیکن تھی۔ گئی کی وحی میں رے با کے زبھی اب اگرر غو کو متن اصلی کےانجیلسےھا پڑ
نو ِ ئش پیدا سے نکھوں آ کھلی میں یات آ شمار بے تو ئے جا(Reincarnation)اور نات بیا کے
ْاہے۔ سکتی جا دیکھیتفصیل نکیذاٰلہکی دوں رْم ہوئے ئے سو میں قبروںالشوںکوقیامتکے
عقیدہ کا نے جا ئے ٹھاْا کے کر زندہ دن(resurrection of corpses)صرفیہودیتئیت عیسا ،
15. ہب مذا کے کتاب ِ اہل یاکےساتھہیشروعنہیںیہ بلکہ ۔ ہواباآلخرة ایمان(Eschatology)
قدیمفارسزر نے جنہوں ہے د ایجا کی ں سیو مجو حانی رو پرست ستارہ ن ْا کے )ایران (
ہب مذ تشی(Zoroastrian Religion)عیسا پھر دیوں یہو پہلے نے جس تھی رکھی د بنیا کی
۔ ڈسا کو نوں مسلما بعد کے ان اور ئیوں
دمی آ عقلمند تین(Three Wise Men)شا باد نی حا رو تین میں ریخ تا کی ں ئیو عیسا جنہیں
کر لے تحائف تین لئے کے ان بعد کے والدت کی السالم علیہ ٰعیسی حضرت ہے جاتا کیا بھی ہ
کی سمس کر گئے۔ بن حصہ مستقل اور اہم ایک کا ت یا روا ئی عیسا میں بعد تھے۔جو آئے
تحفے میں ان اور تقریبات(Christmas Gifts)دینے اور لینےتین نہیں ِا میںئیوں عیسا رواج کا
ہوا۔ شروع سے جہ و کی سیوں مجولو شناس رہ ستا ملکی غیر ممتازتین ان بھی انجیل کی متی
(مر ، بان لو زیارت کی السالم علیہ ٰعیسی حضرت نے جنہوں ہے دیتی حوالہ کا گوں
گنقرس)کے سونے اور' واقعہ یہ میں ریخ تھی۔تا کی ساتھ کے ئف تحا'شہرت سی مجو
(Magi Fame)کا واقعہ ریخی تا اس تو دے زت اجا وقت اگر ہے۔ مشہور صہ خا سے نام کے
میجک میںسکیں۔انگریزی جان حقیقت خود پ آ کہ تا گا ہو بہتر کرنا لعہ مطاMagicکا
ان لفظمیجی گروہ کے گوں لو تین ہیںMagiستارہ سی مجو وہ کہ ہے۔کیوں خوذ ما سے
تھے۔ان رکھتے رت مہا بھی میں دو جا یعنی السحر علم اور نجوم ِ علم س شناالمجوسثہ الثال
(Three Magi)نام کےبالتازار(Balthasar)كاسبار(Caspar)اورملكیور(Melchior)جن تھے
گھر ئب عجا کے قدیمہ ِ ر ثا آ میں رک یا نیو کے خا تصویری صل ا میںلباس نی ایرا کے
لین بروکBrooklynMuseum))حا میں مت خد کی پ آ نقول عکسی کی جن ہیں۔ محفوظ میں
ہیں۔ ضر
16. قدیم ِ عہد(Old Testament)جب میں ر دو کےتھے رہے گزر سے وطنی جال کی بل با دی یہو
میں ۔جس گیا کیا داخل رّتصو تشی زر دہ جو مو کا مت قیا اور خرت آ میں مذہب کے ان توپو
مت قیا ِ ز رو دن آخری کا فیصلے کے کر زندہ سے قبروں انکی کو دوں رْم کے دنیا ری
مو کے فرشتوں والے پروں ، ہوا مقررکوشیطان ،پایا تشکیل رّتصو کا نچے ھا ڈتنظیمی دہ جو
اور گیا یا ال میں عمل قیام کا ہوں گا دت عبا والی مہراب ،گیا کیاپیش کر بنا حریف کا ہللا
گیا۔ دیا کر تبدیل سے رّتصو منطقی غیر کے تال پا دوز مین ز کو عمل یّبر کے نو ِ پیدائش
متی)(Matthewمطاب کےقچاروہیت ایک صرف سے میںاناجیل(Canonical Gospels)میں
کہ ہے گیا کیا بیان یہال با رہ کو مزمیجی(Magi)کی یسوع نے جنہوں تھے لوگ وہ ہی
زبو نے روم ئے کلیسا میں بعد کو دیا۔جس جہ در کا خدا کو ان اور ڈالی طرح کی نے کر دت عبا
یت آ کی ر۷۲:۱۱کیتشر غلطکے ں تشیو زر کے کر یحلیا کر منسلک سے عقیدے میجی
خدا کو السالم علیہ ٰعیسی حضرت پر ر طو تحریری اوردی کر شروع دت عبا کی ان کے مان
یت آ رہ کو مز کی ر زبو ۔ گئی۷۲:۱۱ہے۔ رہی جا کیپیش میں مت خد کی آپ
Psalms 72:11, "May all kings fall down before him
تماماس بادشاہسامنے کےگرگے۔ ئیں جار زبو۷۲:۱۱
مائ فر حظہ مال کرام ِ رین قایت آ اس کی ر بو زیے۷۲:۱۱کو السالم علیہ ٰعیسی حضرت میں
کی ان کے بنا خدادت عبامقام اور تبے مر کے ان بلکہ رہی جا کی نہیں بات کی نے کر
ہے۔ رہی ہو بات کییا نظر اپنے تشریح کی اس کے بدل مطلب کا اس نے ئیوں عیسا مگر
لی کر بق مطا کے ت!بوں کتا دیگر دہ کر زل نا سے طرف کی ٰلی تعا رک تبا ہللا حال یہی
او یح تشر کی۔ گیا کیا بھی میں جم ترا ر
( سیفس یو ویس فال مورخ یہودی مشہور کے صدی پہلیFlavius Josephusکہ ہیں لکھتے )
فرقہ کے دیوں یہو بھی تب گئے بٹ میں فرقوں بڑے تین یہودی جب بعد کے سازش زرتشی
فریسی(Pharisees)نو ِ پیدائش یہودی باز راست والے رکھنے تعلق سے(Reincarnation)پر
پال تھے۔ رکھتے ایمان(Paul)کرنےاختیار عیسائیت کے چھوڑ یہودیت بھی د خو
۔ تھا رکھتا تعلق ہی سے قے فر کے فریسیوں پہلے سے
17. فریسیوںنسب ِ شجرہ کا۱۶۵مس قبلسسدانس کےقبیلے کاروںنیک ان کے یح
(Assideans( رشوں شو بی مکا نے جنہوں ہے ملتا جا سے )Maccabean Revoltخالف )کے
حکمران کے شام اور نان یوچہارم أنطیوخس(Antiochus IV)نامہ عہد تھی۔یہ لی رّکٹ سے
حضرت اور بعد کے قدیمپیدا کی السالم علیہ عیسیوہ محیط پر صدیوں چار درمیان کے ئش
پر بت نانی یو میں شلم یرو اور تھی آئی نہیں میں جود و ِمعرض روم ِ سلطنت ابھی جب تھا دور
تھا۔ پر عروج اپنے خل د عمل اور اثر کا ستوں
سیفس یو مورخ(Josephus)ب کے موت کہ تھا ایمان کا فریسیوں کہ ہیں لکھتے مزیدعد
کی لوگوں اچھے اور باز راست لیکن ہے جاتی دی سزا کو روح کی لوگوں برے صفت شیطان
جی بارہ دو وہ تاکہ ہے تی جا دی کر بحال گی زند کی ان کر ٹا لو میں جسموں دوسرے روح
سکیں۔میں نے ما ز سْا ہے ہوتی بت ثا بھی بات یہ سے حوالوں مستند کے تاریخ یہودییہو
سے دنیا اس السالم ِ علیہ انبیاء جو کہ تھا عقیدہ راسخایک یہ میں دیوںما فر خصت ر
جاتےبعد کے وفات اپنی وہہیںنو ِ پیدائش(Reincarnation)میں دنیا اسی یعے ذر کے
شلم یرو عقائد مستقل یہ کے دیوں یہو مگر ۔ ہیں آتے لے تشریف واپسپرکے تشتیوں زر
گئے۔ ڑ تو دم سے وجہ کی غلبے
کے دیوں یہوئد عقا قدیم اور ایماننو ِ ئش پیدا میں(Reincarnation)عبرانی ثبوت کے
" لْگ لِگ لفظ کے زبانלגול"(Gilgul)لفظ اس کے نی ۔عبرا ہیں ملتے سے ' اوتار 'یعنی
جمہ تر میں بی عر کا''المرمى خطگول اسے میں اردو دہ ۔سا ہے تا جا کیا بھیدائرہفارسی اور
ہے۔ جاتا کہا بھی 'وازہ در ِخط ' میں'لْگ لِگ '(Gilgul)" لفظ سرا دو کا زبان عبرانی ساتھ کے
הנשמות",ہا-نے-موت شا(ha'ne'shamot)بھیترجمہ میں بی عر کا جس ہے تا جا یا لگا'
'النفس" لفظ عبرانی نو دو یہ میں تعلیمات دی ہے۔یہو جاتا کیا'ارواح ' میں فارسی اورלגול"
" اورהנשמות",اکٹھےکی روح سے جن ہیں جاتے لے بو کے مالریسائیکلنگ
transmigration and Reincarnation)(اورجاتا لیا مطلب کا دائرے کے نو ِ پیدائش
دائرہ گول وہی کا ممات و ت حیا ہے۔یہ(cycle)جود مو بھی میں کریم ِ آن قر ذکر کا جس ہے
' حوالہ کا اس ہم اور ہےواعظیات آ کی '۹-۱:۴دیکھ میں باال ِ سطور کی مضمون اسی میں
موت شاِن لْگ لِگ ' ذاٰ۔لہ ہیں چکے(Gilgul Neshamot)روح ِ تقمص کو(metempsychosis
of souls)یاتحریروں مقدس کی دیوں یہو ہے۔جو جاتا کہائیکل سا کا روح(Kabbalah)میں
عقا ان اور ہے ملتاٰوسطی ِ قرون یہاں کے ان تعلیم کی رکھنے ایمان پر ئد(Medieval)کے
نے زماپسند مت قدا ہے۔ رہی آ چلی سے(Orthodox)ئش پیدا رہ با دو چہ اگر دی یہو
(Reincarnation)صحیح کو تعلیم کیاس مگر دیتےنہیں زور دہ زیا پر سوال کے روں اوتا یا
ہیں۔ سمجھتے ضرورالحسیدیہ قہ فر کے دیوں یہو(Hasidic)نو ِ ئش پیدا یعنی جلجلم لوگ کے
تحریروں مقدس اور ہیں رکھتے ایمان زیادہ سے سب پر سائیکل کے(Kabbalah)قدر بہت کو
۔ ہیں دیکھتے سے ہ نگا کی
'میں عبرانیزوهار'(Zohar)کے نے مرْا بارہ دو کے کر بلند ت جا در بعدکو نے جا ئے ٹھاجا
جمہ تر کا اس میںتاہے۔انگریزی(Elevation)معہ جا کی انگریزی تشریح کی جس ہے گیا کیا
ہے۔ تی جا کی میں ظ الفا ان میں ت لغا
The action or fact of raising or being raised to a higher or more important level, state,
or position or increase in the level of something,
عمل۔ کا ٹھنےْا یا نے ٹھاْا پر موقف یا حالت ،سطح اہم دہ زیا اور یٰاعل یعنی
18. کے ء علما دی یہو جب ہوئی صل حا لیت مقبو صی خا وقت اس میں صدی ہویں تیر کو ھار زو
ِ ئش پیدا خر باآل بعد کے حثوں مبا و بحث طویل میان درِ ا کے کر تسلیم کوحقیقت کی نوستو ے
'کےحصہ رات'بالك(Balak)میں جس گیا سمجھا کر ڑ جو ساتھ کےسلسلے کے نو ِ ئش پیدا
' میں سلسلے کے مد آ کی تاروں او اور نو ِ ئش پیدا ذاٰلہ تھے۔ جود مو سے پہلے جات لہ حوا کے
'ر ھا زو(Zohar)آ ذیل جہ مندر کینیال ہے۔دا مل شا میں عقیدے کے دیوں یہو بھی رّتصو کا
یت۱۲:۳گی زند ِ شجر میں(TheTree of Life)نے جا ئے ٹھاْا رہ با دو کر دے ترقی سے
(Elevation)ہے۔ تا جا کیا پیش دلیل ِ ر بطو بیان کا
"But the wise shall understandthattheir elevationcomesfromthe Creator,the Tree of Life.And
theywhoare righteousshall shinelikethe brightnessof the firmament"(Daniel 12:3)
گی زند ، لق خا ، ہے تا آ ، نا جا یا ٹھاْا کر دے قی تر انہیں کہ گے ئیں جا سمجھ عقلمند لیکن
طرف کی شجر کےسمان آ ئے ہو چمکتے گے ٹھیںْا چمک وہ ہیں صالح گ لو جو اور ۔ سے
نیال طرح۔دا کی۱۲:۳
The Tree of Lifeیعنیساتھ کے شجر کے زندگیelevation، نا اٹھا پر وْا ، یعنیارتفاع،باال
رفتن،بوجودآمدہیانهضآیت باال جہ مندر کی نیال دا تو ئے جا کیا لعہ مطا بغور کا۱۲:۳سے
م کا زندگی کہ ہے تا ہو واضح بھی یہنبع(source)ہے ذات کی تعالی ہللا صرف حیات ِ شجر یعنی
ہیں۔ تی جا میں اسی کرلوٹ اور ہیں نکلتی گیاں زند سب سے جس
یلیاہ راہب ء العلما ذ استا دی یہو کے نیا تھواِل میں صدی ہویں ر اٹھا(Elijah)کیبائبل نے
نس یو کتاب(the biblical Book of Jonah)انہوں میں جس لکھا تبصرہ حاسل سیر ایک پرنے
نو ِ ئش پیدا نس یو ِ کتاب کہ کیابت ثا یہ سے حوالوں مدلل(Reincarnation)روں استعا کے
(allegory)ضا و کی عمل کے نے ہو پیدا رہ با دو کے انسان میںشکل کی تار او جو ہے مبنیپر
ہیں۔ تے کر حت
راہبہشخصیت ہبی مذ دی یہو معروفریا لو یتشک(Rabbi Yitzchak Luria)ہیں لکھتی
کہموشه(Moshe)یعنیٰموسینو ِ ئش پیدا کی شیت بیٹے تیسرے کے دم آ حضرت
(Reincarnation)تھا۔ جنم اگال کابیل ہا شیت جبکہ تھےکہ ہیں لکھتی مزید لوریا راہبہ''م
(mem)ج نئے سےکے ٰموسی نام کے نم، حرف کا شروع'ش'(shin)اس سے
اور حرف پہال کا شیت نام کے جنم پہلے سے'ہ'(heh)عبرانی ان ہے بنتا ہابیل سے
نام مکمل تو ئے جا دیا مال کو حروفموشه(Mosheمیں صحیفوں عبرانی جو ہے بنتا )
کر لے جنم سرا دو ھلیل میں ریخ تا کی دیوں یہو طرح ہے۔اسی نام کا السالم ِہعلی ٰسی مو حضرت
۔ تھے ہوئے پیدا السالم علیہ رون ہا حضرت
محقق ناز یہ ما کے ت تعلیما دی یہویم حا ہب را(Rabbi Haim)الشجلجلم ر عا(Sha’ar
Ha’Gilgulim)میں( سکم دار کر معروف دو کے ریخ تا دی یہو کہ ہیں طراز رقمShechem)
( دینہ اورDinah)نو ِ پیدائش بھی(Reincarnation)دائرے کے( Cycle)چکے رہ میں
عصمت کی یعقوب ِ بنت دینہ رت عو کی نے گھرا دار عزت ایک جب سکم ہیں۔کا دری
گیا۔ ہو مہ الذ ی بر خود کر ڈال پر ورش پر اپنی داری مہ ذ کی س ا نے سکم تو ہوا تکب مر
نے نوں دو ان جبکر لے جنم رہ با دو گیا۔سکم لٹ ْا دار کر کا ں نو دو تو لیا جنم رہ با دو
' جنرل ئیلی اسراجمری(Zimri)'مد دینہ اور بناکزبی ' کیقبیلے نی یا(Cuzbi)'نامی
میان در کے نوں دو یا۔ ہا بڑ ہاتھ ف طر کی کزبی سے نیت بری نے جمری ۔ بنی رت عو
( بنحاس پسند انتہا جب خبر کی ہونے استوار تعلقاتPinhasنے اس تو ملی کو)قتل کو دونوں
19. س بقہ سا یعنی جمری طرح اس ۔ دیا کراس ۔اسے گیا دیا کر رسید جہنم لئے کے ہمیشہ کو کم
سے وجہ کی نے پا ورش پر میں گھرانے اچھے بار اس وہ اور گئی مل سزا کی نی کر کی
ممات و ت حیا ۔ سکا ڈال نہیں پر ورش پر بری اپنی داری ذمہ کی جرم اپنے طرح کی بار پچھلی
بنحاس ، بڑہا گے آ سائیکل کا(Pinhas( اکیوا راہب بطور جنم اگال کا )Rabbi Akivaبی کز اور )
( فس رو ترمس جنرل کے رومTurnusRufusہب مذ دی یہو نے ۔جس ہوئی پیدا کر بن بیوی کی )
دیا۔اس کر شروع سلسلہ کا نے کر منعقد عات اجتما ہبی مذ کے اکیوا ہب را کے کر اختیار
نے اس میں زندگیجنرل میں زندگی پچھلی اپنی کر دے فروغ کا ت تعلیما کی دیت یہو
( لْگ لِگ کےاس طرح اس ۔ کیا ادا رہ اّفک کا ہوں گنا گئے کئے ساتھ کے جمریgilgulکے)
۔ ہوا احتتام اچھا کاسائیکل
یات آ ذیل جہ مندر کی گنتی ساتھ کے قعہ وا اس۱۸-۲۵:۶کاہے۔ جاتا دیا بھی حوالہ
A Midianite woman,distinguished as the daughter ofZur, "head of the people of a fathers'house in Midian." She
was slain by Phinehas atShittim in companywith "Zimri, the son of Salu,a prince of a fathers'house among the
Simeonites"(Numbers 25:6-18).
تھی مشہور سے نام کے دختر کی زور دار سر کے ئن مدا جو رت عو ایک کی قبیلے نی یا مد
نیوں شمو پاس کے )درخت کا کیکر والے لوں پھو (سفید شیتم نے س بنحا اسےسل راجہ کےو
دیا۔گنتی کرقتل ساتھ کے جمری بیٹے کے۱۸-۲۵:۶)جمہ تر (رواں
تثنيه(Deuteronomy)حواے ذیل جہ مندر کے۱۰-۲۵:۵کی می د آ کسی میں د یہو ِ اہل بھی
پیدائش رہ با دو(reincarnation)میں جن ہیں تے جا دئیے میں ضمن کےایک کا زبان عبرانی
لفظיבום,تلفظ کا ہےجس ملتا( بم ییyibum,میںانگریزی اسے ۔ ہے )levirateعربی اور
میںالسلفهتو جائے مر دمی آ جوان کا عورت دی یہو کسی اگر مطابق کے اس ہے۔ جاتا کہا
مرے پنے ا نام کا بچے والے نے ہو پیدا اور ہے تی کر دی شا سے بھائی کے دمی آ اپنے وہ
۔ ہے تا جا رکھا پر نام کے می د آ ہوئےپہلے کے رت عو اس بچہ یہ کہ ہے یقین کا دیوں یہوآ
یعنی تار او ہی کا دمیگی۔ چلے نسل ئندہ آ کی دمی آ اس سے جس گا ہو جنم سرا دو
تثنيه(Deuteronomy)۱۰-۲۵:۵ہے۔ ضر حا میں مت خد کی پ آ ترجمہ کا
بیوہ کی اس تو جائے گزر ہوئے پیدا بیٹا بغیر ئی کو سے میں ان اور ہوں رہتے اکٹھے بھائی اگر
قبول اسے بھائی کا ہر شو حوم مر کے رت عو گی۔اس کرے نہیں دی شا گز ہر باہر سے ندان خا
ذمہ اپنی پر طور کے بھائی کے آدمی کے عورت اس اور گا کرے دی شا ساتھ کے اس کے کر
تاکہ گا رکھے پر نام کے بھائی ہوئے مرے اپنے نام کا اس تو گا ہو پیدا بیٹا گا۔پہال کرے ادا داری
دی شا ساتھ کے بیوی کی بھائی حوم مر اپنے دمی آ یہ اگر مٹے۔تاہم نہ سے ئیل اسر بنی نام کا اس
پا کے گوں بزر بڑے کے عالقے وہ کہ ہئے چا کو رت عو اس تو ہے چا نا کر نہکہے کر جا س
چا نہیں رکھنا ری جا میں ئیل اسرا بنی نام کا بھائی ہوئے مرے اپنے بھائی کا دمی آ ے میر کہ
اصرار کا بات اس وہ اگر گے۔ کریں بات سے اس کے کرطلب اسے لوگ بڑے کے شہر ہتا۔پھر
لو بڑے ان بیوہ کی بھائی کے اس تو چاہتا نا کر نہیں دی شا سے عورت اس میں کہ کرےک گوںی
تھوکتے پر منہ کے دمی آ اس کرےگی۔اور ھائی چڑ پر کےاس ہو ؤں پا ننگے میں گی جود مو
کا نصب ِ شجرہ کے بھائی اپنے جو ہئے چا کرنا یہی ساتھ کے دمی ا اس کہ گی کہے ہوئے
إنشاءگا۔ کہالئے ندان خا واال پاؤں ننگے میںئیلیوں اسرا شجرہ کا دمی آ کرتا۔اس نہیںتثنيه
(Deuteronomy)۱۰-۲۵:۵)جدید ِ نسخہ االقوامی بین(
20. 5 If brothers are living together and one of them dies without a son, his widow
must not marry outside the family. Her husband’s brother shall take her and
marry her and fulfill the duty of a brother-in-law to her. 6 The first sonshe bears
shall carry on the name of the dead brother so that his name will not be blotted
out from Israel. 7 However, if a man does not want to marry his brother’s wife,
she shall go to the elders at the town gate and say, “My husband’s brother
refuses to carry on his brother’s name in Israel. He will not fulfill the duty of a
brother-in-law to me.” 8 Then the elders of his town shall summon him and talk
to him. If he persists in saying, “I do not want to marry her,” 9 his brother’s
widow shall go up to him in the presence of the elders, take off one of his
sandals, spit in his face and say, “This is what is done to the man who will not
build up his brother’s family line.” 10 That man’s line shall be known in Israel as
The Family of the Unsandaled.) Deuteronomy 25:5-10) New International
Version (NIV)
یات آ کی قا لو۹-۹:۷کہ ہے تا ہو ہر ظا بھی سےمیں کتاب ِ اہل کے قدیم ِ نہ زمابعد ت حیا
اور ایمان پر المماتتاروں او والے نے ہو پیدا رہ با دو(reincarnated people)نے آ کے
ئد عقا کےلوگ تو ہوا غاز آ کا نبوت کی السالم علیہ عیسی حضرت جب کہ تھے مضبوط اتنے
بعد کے نو ِ ئش پیدا السالم علیہ عیسی کہیں کہ رہے پڑے میں اچھنبے اس تک دیر بہت
؟ نہیں تو تار او کے نبی بقہ سا کسی والے آنےالسالم علیہ ٰیحی کو ان نے لوگوں کچھ(John)
کیا خیال اوتار کا ان یعنی پیدائش بارو دو کیکا السالم علیہ الیاس حضرت نے کچھ اور
۔نو ِ پیدائش(Reincarnation)میں سلسلے کےگردوں شا اپنے کی السالم علیہ عیسی حضرت
طل غور بہت میں ضمن اس گفتگو سےانداز حلفیہ سے گردوں شا اپنے نے انہوں جب ہے۔ ب
حنا یو کہ کہا میںٰ(یحی)الیاس حضرت اصل در(Elijah)بارہ دو جو تھے وتار ا کے
پیدائشReincarnation)تھے۔ الئے تشریف میں دنیا ذریعے کے )
ٰیحی حضرت(John)علیہ یا کر ز حضرت نے فرشتوں پہلے سے پیدائش کی السالم علیہ
اس گا ہو ٰیحی نام کا جس گی جنے بچہ ایک بیوی کی ان کہ ئی سنا خبری ش خو کو السالم
گیا یا بتا کچھ جو میں بارے کے میوں گر سر کی السالم علیہ ٰیحی حضرت میں خبری ش خو
م ن بیا کا اسضر حا میں مت خد کی آپ حوالے کے جن ہے جیسا ایک میں ں نو دو قا لو اور تی
۔ ہیں
And he will go before him in the spirit and power of Elijah to turn the hearts of the fathers to
the children and the disobedient to the wisdom of the just; to make ready a people prepared
for the Lord (Luke 1:17. Italics mine).
گا ئے جا منے سا کے اس وہ اوریلییابچوں دل کے پوں با ، میں قت طا اور روح کی ) (الیاس ہ
دےعقل کی بننے باز راست کو ن ما فر نا اور لئے کے نے پھیر طرف کیگا کرے تیار کر
لئے۔ کے رب اپنے(لوقا۱:۱۷(
21. لوقا۱:۱۷کاجملہ"in the spirit and power of Elijah"(ہ یلییاکیطا اور روح
میں قت)انداز کھلےحقیقت یہاور السالم علیہ الیاس حضرت کہ ہے رہا کر واضح میں
ٰیحی یعنی تھی ہی ایک روح میں ان مگر تھے ضرور جسم الگ الگ دو السالم علیہ ٰیحی حضرت
نو ِ پیدائش کی السالم علیہ الیاس حضرت السالم علیہ(reincarnation)تھے-میںانجیل کی متی ذاٰلہ
ہیں گئےبتائے ط نقا دواور ہے حقیقت مہّمسل ایک نو ِ پیدائش کہ ہے یہ تو ایک سے میں جن
نو ِ ئش پیدا کی السالم علیہ الیاس حضرت کہ یہ سرا دو(reincarnation)ٰیحی حضرت بطور
اس نقاط نوں دو تھی۔یہ نہیں بات نی انہو کوئی میں نے زما اس جو تھی ئی ہو کے السالم علیہ
باتکار پیرو کے ان میں حیات ِ دور کے السالم علیہ ٰعیسی حضرت کہ ہیں تے کر تصدیق کی
نو ِ پیدائش(reincarnation)کے ئیوں عیسا بھی اب کہ ہے وجہ تھے۔یہی رکھتے یقین مکمل پر
ہیں۔ سمجھتے حصہ کا ن ایما اپنے کو نو ِ پیدائش قے فر کچھ
علما یتی روا قدیم رے ہمالص خا ہم جنہیں مگر ہے باہر قطعی سے بیان ِہط احا تو بات کی ء
یات نظر کے پوپ بھی عمر کی ان ہیں کہتے علماء پسند جدت مل حا کے سوچ نی آ قر
پتہ کاحقیقت اس گزری۔ہمیں لکھتے میں بوں کتا اپنی بہ چر کا فلسفے بی مغر کے ئیت عیسا اور
صرفمذ نہ تھیں ھی پڑ بیں کتا کی ریوں پاد اور پوپ کبھی نہ نے ہم کہ چال نہیں لئے اس
ء علما رہ کو مز ۔ زشیں سا کی ل ّاو ِ کلیسا ہی نہ اور فلسفہ بی مغر کاہبلوقاال با جہ مندر کیآیت
۱:۱۷ٰیحی حضرت ' کہ نکلے مطلب یہ سے جس کرتے ایسے ترجمہ کاکام میں السالم علیہ
تھا'۔ جاتا دیکھا میں السالم علیہ الیاس حضرت کہ جیسا تھا ایسا بہ جذ اور صالحیت کی کرنے
کے ت مو کی دت شہا اپنی بھی شہید ال وا نے جا را ما میں راہ کی ہللا دیک نز کے ن ا
اس بلکہ تا پا نہیں زندگی جسمانی بعدبعد کے موت وہ طرح اسی ہے رہتا زندہ ہی نام ف صر کا
مر صرف بجائے کیلینے میں مطلب کے گی زند نی جسما بھی کو یات آ نی آ قر والی حیات
کمو کو شے ہر جب ہیں وار پیدا کی دوراس ء علما یہ ہیں۔ لیتے استعارہ کا تبدیلی میں سوچ دہ
نیزم(communism)لئے ۔اس تھا تا جا دیکھا میں روشنی کی نین قوا دی ما اور نکی میکا کے
تے آ کر لوٹ بھی والے نے مر کبھی کہ تھا تا آ نہیں یقین انہیں مگر رے کہتا تو ہے کہتا ن آ قر
ہیں؟
( متیMatthewکے علماء عاری سے عقل صرف نہ جات حوالہ ذیل جہ مندر کے )ساختہ خود
ہیں۔ رہے کر بھی ثیق تو کی زندگی جسمانی والی ملنے بعد کےموت بلکہ ہیں کرتےنفی کی فلسفے
And if you are willing to accept it, he is Elijah who is to come. He that hath ears to hear, let
him hear. (Matthew 11:14-15)
22. کر قبول کو بات اس تم اگر اوروہی یہ تو ہو تیار کو نےیلییاہ)(الیاسواال نے آ جو ہےہے
ہیں کان لئے کے سننے پاس کےشخص ۔جسوہلے سن(متی۱۵-۱۱:۱۴)
And if you are willing to understand what I, mean, he is Elijah, the one the prophets said would
come. And if ever you were willing to listen, listen now! (Matthew 11:14-15, the Living New
Testament).
اورآپ اگریہسمجھنےہیں تیار لئے کے؟ ہے کیا مطلب میرا کہوہالیاہے س،کے جس وہی
میں بارےنبیوںکبھی اگر گا۔اور ئے آ وہ کہ تھا کہا نےآپیہلئے کے سننےتھے تیار،تواب
سنئے!(متی۱۵–۱۱:۱۴،زندہنیانامہ عہد)
میں جن یئے ما فر حظہ مال نات بیا ذیل جہ مندر کے قس مر اور متی کرام ِ رین قاحضرت
حضرت نے السالم علیہ ٰعیسی)(الیاس یلییاہتار او کےآ کیمد
(Rebirth of the same person)ئی۔ ما فر د خو تصدیق کی
But I tell you that Elijah has already come, and they did not know him, but did to him
whatever they pleased (Matthew 17:12).
کہ ہوں دیتا بتا کو آپ میں لیکنیلییاہ) (الیاسجا کو ان نے لوگوں اور ،ہیں چکے آ ہی پہلے
ہیں۔(م خوش پر اس کیا لئے کے ان بھی کچھ جو نے لوگوں مگر تھا نہیں ناتی۱۷:۱۲)
But I tell you that Elijah has come, and they did to him whatever they pleased, as it is written
of him (Mark 9:13).
کہ ہوں تا بتا تمہیں میں مگریلییاہ)(الیاسکے اس بھی کچھ جو ہیں خوش وہ ہے،اور گیا آ
قس ہے۔(مر ہوا لکھا ہی ایسا کیا لئے۹:۱۳)
زش سا کی ل ّاو ِ کلیسا(conspiracyof early church)آ ان کی قس مر اور متی سے وجہ کی
بات یہ صرف تو یہاں کہ ہیں دیکھتے بھی سے نظر اس لوگ کچھ سے میں ب کتا ِ اہل کو یات
حضرت کہ ہے رہی جا ئی بتایلییاہ) (الیاسمگر تھے۔ ئے ال تشریف میں دنیا پر وقت اپنے
ان کی قا لو اور قس مر ،متی بھی کو فہمی غلط اسلہ حوا ذیل جہ مندر دیا۔ کر دور بی بخو نے جیل
ٰعیسی حضرت میں جن مائیے فر حظہ مال ت جاٰیحی حضرت السالم علیہر بطو کیحضرت
ئش پیدا رہ با دو السالم علیہ الیاس(Reincarnation)ہیں۔ رہے کرتصدیق کی
And if you are willing to receive it, he is Elijah who was to come." (Matthew
11: 14)
23. وہی یہ تو ہو تیار کو نے کر قبول کو بات اس تم اگر اوریلییاہ۔متی تھا واال نے آ جو ہے۱۴:
۱۱
He said, It is John whom I beheaded; he is risen from the dead (Mark 6:14-16).
گیا ہو زندہ کے مر یہ ؛ تھا کیا بریدہ سر نے میں کو جس ہے حنا یو وہی یہ کہا نے اس!
(مرقس۶:۱۶)
And he (King Herod) said that John the Baptist was risen from the dead, and therefore mighty
works do show forth themselves in him. Others said that it is Elijah. And others said that it is
a prophet, or as one of the prophets. But when Herod heard thereof, he said, It is John whom I
beheaded; he is risen from the dead (Mark 6:14-16). (Authorized King James Version).
یو کہا نے ) دیس ہیرو ہ شا (باد اس اورغالب ِ ند و خدا ، تھا گیا ہو زندہ کے مر بپتست حنا
کہا نے گوں لو کئی ۔ ہیں تے ہو ہر ظا سے اسی کام کےیہ کہیلییاہکہا نے کئی اور ۔ ہے
تو یہ کہ کہا نے اس تو سنا یہ نے دیسہیرو جب مگر ہے۔ سے میں نبیوں یا ہے نبی کوئی یہ کہ
ہے حنا یو وہیکا جیمز گیا۔(شاہ ہو زندہ کے مر یہ ؛ تھا دیا کر بریدہ سر نے میں کو جس
قس مر ، نسخہ شدہ تصدیق۱۶-۶:۱۴)
Luke (9:7-9) people thought that Jesus was John the Baptist resurrected, or a reincarnation of
Elijah or one of the old prophets.
تعمیر نی روحا اور اصالح روحپیدائش بارہ دو اور ہے تی آ میں نیا د بھی لئے کے ترقی و
کے زندگی کی کسی مقصد یہ ۔اگر ہے ہوتی بھی لئے کے حصول کے مقصد ص خا کسی
بعض ہے۔ تا جا دیا بھیج پر زمین واپس بارہ دو کو روح تو تا ہو نہیں را پو میں دور ایک
محد واپسی میں دنیا اوقاتچھوٹی ًالمث ہے ہوتی بھی سے لحاظ کے وقت مختصر اور حاالت ود
گزشتہ واپسی میں دنیا کی روح ذریعے کے نو ِ پیدائش ۔ وغیرہ معزوری کوئی اور عمر
پچھلی نے دمی آ امیر کسی اگر کہ ہے۔جیسے گزیر نا یہ بھی لئے کے سزا کی اعمال کے زندگی
طا اور دولت اپنی میں زندگیزند اگلی کہ ہے سکتا ہو وہ تو کیا استعمال ئز جا نا کا قت
میں دنیا کی روح ذریعے کے پیدائش دوبارہ جائے۔ بھیجا کر بنا غریب اور الحال مفلوک میں گی
واپسیکتاب کی رات تو حوالہ کا'روتھ '(Ruth)یعنیرحمةآیت کی۱:۶جا دیکھا بھی میں
ہ سکتاے۔
بائبلکابابنہمپیدائشِنوکےبعدملنےوالیسزاکاحوالہدیتاہے۔جبایکاندھےکو
دیکھکرحضرتعیسیعلیہالسالمکےشاگردوںنےکہا۔
Rabbi, who sinned, this man, or his parents, that he was born blind? (John 9:2)
،راہبجواندھاپیداہوا،اسآدمینےیااسکےوالدیننےکیاگناہکیاتھا؟(یوحنا۹:۲)
24. کے جنم پچھلے ذاٰ۔لہ ھوگا کیا نہیں گناہ کوئی تو میںپیٹ کے ماں اپنی کہ ہے ہر ظا نے اندھے اس
ہون گناگئی۔ دی سزا میں جنم اس کو شخص اس میں داش پا کی
قدیم مہ ناِعہد متعلق سے مضمون ہمارے(Old Testament)جدید نامہ عہد اور(New
Testament)ہیں۔ مت خد ِ ضر حا جات لہ حوا مزید کے
"And many of those who sleep in the dust of the ground will awake, these to
everlasting life, but the others to disgrace and everlasting contempt.” (Daniel
12:2(
"اورجوسو میں دھول کی زمینکو لوگوں سے بہت سے میں ان ہیں جاتےکے زندگی کی ہمیشہ
،لئےجدیا گالیکن ،گا جائےدوسروںابدی لئے کےاور ذلتہے۔ زندگی میز آ ہین تو)دانیال
۱۲:۲(
Psalms 16:9, 10”... my flesh also shall rest in hope. For thou wilt not leave
my soul in hell..." Ecclesiastes 12:7 ...then the dust will return to the
earth as it was, and the spirit will return to God who gave it.
کو نفس میرے میں جہنم تو کہ گا رہے سے آرام میں امید اس بھی جسم میراگا چھوڑے نہیں
(زبور۱۰،۱۶:۹تھی یہ کہ جیسے گی جائے آ واپس ہی ایسے پر زمین ھول د کی زمین )۔پھر
تھا دیا اسے نے جس گی جائے چلی واپس پاس کے خدا اسی روح پھر اور)واعظ۱۲:۷)
"Listen, I tell you a mystery: We will not all sleep, but we will all be changed." (1
Corinthians 15:51)
کر تبدیل کو سب ہم لیکن نہیں گے ئیں سو سب ہم ؛ ہوں تا بتا بات کی بھید تمہیں میں ، سنو
( گا جائے دیا1کرنتھیوں۱۵:۵۱)
آیت کی دانیال۱۲:۱۳مائیے۔ فر حظہ مال میں ذیل بیان کا ملنے گی زند بعد کے موت بھی میں
"Now go your way to the end and rest, and you shall arise to your destiny at the end of days."
(Daniel 12:13)
تک آخر جاؤ چلتے پر راستے اپنے اب "اپنی گے جاؤ کئے زندہ تم اور ، رکھو سکون اور
"پر نے ہو پورے دن کے زندگی ، بق مطا کے قسمت)دانیال۱۲:۱۳)
go your way to the end،ہے ہوا استعمال میں محاورے کے کرنے کوشش تک آخرrestسے
، ہیں کے رکھنے اطمنان مرادdestiny
گی۔ ہو مطابق کے اعمال گزشتہ جو ہے قسمت وہend of daysیعنی ہونے رے پو دن کے گی زند
ہے۔ میں مطلب کے موت
کے اعمال رے تمہا تمہیں بعد کے مرنے کہ رکھو اطمنان اور رہو کرتے کوششنتہائی ا اپنی تم
مطابق)جمہ تر گی۔(رواں جائے دی گی زند
حی و وہ عال کے اس۷:۱۴(Revelation 7:14)کے نو ِ ئش پیدا بھی بیان ذیل جہ مندر کا
(دائرےcycle of reincarnationsاس احتتام کا ہے۔جس تا کر حت وضا کی تسلسل اور عمل کے )
مقام ئی انتہا کے غت بلو اپنی تے کر تے کر ترقی روح نی انسا کہ تک جب تا ہو نہیں تک وقت
م مقا ئے۔یہ جا پہنچ نہ تکمکاشفه(Revelation)کیہے۔ گیا یا بتا میں ظ الفا ان میں انجیل
"These are the ones who died in the great tribulation.They have washedtheir robes in the blood of
the Lamb and made them white. (New Living Testament, Revelation 7:14)
25. "These are theywho have come out of the great tribulation;theyhave washedtheirrobesandmade
them white in the blood of the Lamb. (Revelation 7:14)
یہہیں وہنے انہوں ۔ ہیں ئے آ ہر با سے مصیبت بڑی جوکے برہے کپڑ اپنے رنگے میں خون
ہیں۔ لئے کر سفید کے ھو دحی و۷:۱۴
"No one can see the kingdom of God unless he is born again";( John 3:3)
ئی کوحنا ہو(یو نہ پیدا رہ با دو وہ تک جب سکتا دیکھ نہیں کو ہی شا د با کی خدا بھی۳:۳)
ہیں رہی جا دی لیں مثا کی پہئے اس کے عمل ِ فات مکا یعنی کرم جنم میں حوالوں ذیل جہ مندرجو
تقدیر یا قسمت اسے ہے۔ تا کر تب مر زندگی والی نے آ سے حساب کے اعمال کے گی زند شتہ گز
ہے۔ تا جا کہا بھیمیں شش کو کی نے کر ختم تصور کا مقدر اور قسمت نے جدید ئے علما رے ہما
دیں بھر بیں کتا ضحیم بڑی بڑیک کی ان سے دراز صہ عر ر کا پیرو سچے کے ء علما انہیں ۔تا
بوںبھی درس سے گی عد قا با کاکاریس تد و درس اس پر گوں لو مگر ۔ ہیں آرہے چلے دیتے
کچھاثرئی کو قسمت کہ ہیں تیار لئے کے ننے ما کوبات جھوٹی اس گ لو ہی نا اور تا ہو نہیں
۔ل نہیں چیزوہ نکہ کیو ہیں سچے بھی گ وم عملی کا قسمت میں گی زند مرہ روزآ اپنی ہرہ ظا
ئی ہے۔کو رہا کھا لے نوا کے نے سو ئی کو تو ہے رہا کر قے فا ئی ہیں۔کو دیکھتے سے نکھوں
ئی کو تو ہے محتاجگھر کا کسی اور ہے گھرا میں نیوں پریشا اور مصیبت ستی تنگد ئی غنی۔کو
ہے۔ ہوا بنا جنت سے لی شحا خو اور گی سود آک جنم پچھلے میں اصل سب یہکرم ہی کے اعمال ے
تا کرنہیں ظلم ساتھ کے کسی ہللا ہے۔مگر تی جا کی مرتب عدہ قا با وہ اور ہے تقدیر ہاں ۔جی ہیں
نے اس ہے۔جو دار مہ ذ کا نے جا لکھے کے تقدیر بری اپنی کے کر ظلم ساتھ اپنے خود بندہ بلکہ
ہے رہا ٹ کا آج وہ یا بو کل۔
"The wheel of nature";( James 3:6)
(جیمز پہیہ کا فطرت۳:۳)
"A man reaps what he sows";(Galatians 6:7)
گا ٹے کا وہی گا ئے بو جو شخص ئی کو(کلتیوں۶:۷)
"All who draw the sword will die by the sword";(Matthew 26:52)
گے(متی مریں ہی سے تلوار والے نکالنے تلوار۲۶:۵۲)
"If anyone is to go into captivity, into captivity he will go. If anyone is to be
killed with the sword, with the sword he will be killed."(Revelation 13:10)
26. اگروہ تو ہے نا مر سے تلوات کو کسی ۔اگر گا ئے جا ہی میں قید وہ تو ہے نا جا میں قید کو کسی
تلواروحی (گا مرے ہی سے۱۳:۱۰)
LORD says: "'Thosedestined for death, to death; those for the sword, to the
sword; those for starvation, to starvation; those for captivity, to captivity'"
(Jeremiah 15,2).
گے مریں وہ ہے نا مر میں قسمت کی ہے،"جن کہتا وند خداتلوار وہ ہے نی ہو زنی تلوار پر ،جن
جا لے ڈا میں قید وہ ہے نا ہو قید جنہیں ،گے کریں قے فا وہ ہیں نے کر قے فا جنہیں ،گے ہوں زن
میاہ گے(یر ئیں۱۵:۲)
کے یارک نیوادارہ ناشر مشہوربکس نٹم با(Bantam Books Publisher)نے۱۹۸۳
نفسیات ِ ہر ما نامور میںویز ئن برا ڈاکٹر(Dr Brain Weiss)سی بہت ' کتاب نہ زما ِ مشہور کی
'سٹر ما سے بہت زندگیاں(Many Lives, Many Masters)نفسیا صرف نہ کو جس کیئع شا
خوب میں حلقوں علمی کے سائنس تیپذیرائیاپنے نے برائن ڈاکٹر مصنف کے کتاب بلکہ ملی
کتاب اپنی بات تجر جو گئے کئے میں تفتیش و تحقیق کی گیوں زند گزشتہ انکی پر مریضوں
ہیں۔ چکی بن بھی فلمیں کئی پر ان تھے کئے رقم میں
صفحہ کے کتاب اپنی برائن ڈاکٹر۳۵اور۳۶کہ ہیں لکھتے پرقدیم نامہ عہد(Old
Testament)جدید نامہ عہد اور(New Testament)نے ہو پیدا بارہ دو میں
(Reincarnation)جو تھے جود مو اتم جہ بدر جات لہ حوا گئے کئے وحی میں بارے کے
۳۲۵قسطنطین اعظم ِہ شہنشا کے روم سلطنت میں عیسوی (Constantine)نےماں اپنی
ہلینا(Helena)کوئیت عیسا کے نکال سے نامے عہد نئے جودہ مو کےعیسائیوں کر مل سے
اور ۔ دیا دے قرار ہب مذ کاری سر کا روم۵۵۳قسطنطنیہ والے نے ہو منعقد میںعیسوی
ٰری شو ِ مجلس کی)(The Council of Niceaثیق تو کی عمل اس کے شہنشاہ میں اجالس دوسرے کے
کرنو ِ ئش پیدا ہوئے تے(Reincarnation)عت بد میںئیت عیسا کو(heresy)گیا۔ دیدیا قرار
ذاٰلہ،اصلئش پیدا رہ دوبا سے رو کی متن کے ئبل با(Reincarnation)نات بیا کے
رہے د جو مو توں کے جوں میںانجیل توالمسکونی مجلس کی کلیسا مگر(Ecumenical
Council)سے تفسیر اور ترجمے کےبائبل نےرج خا کو نات بیا انِ ِ مجلس کی کلیسا دیا۔ کر
پیدا بارہ دو کی بائبل لئے کے نے کر مستحکم کو یات نظر کے کلیسا نے ارکان کے ٰری شو
ئشوالیمواد تعلیمی متعلقہ سے اس اور دیا روک اسے کر دے دہی رائے خالف کے تعلیم
کی وقت ِ مت حکو اور کلیسا بعد کے اس لیا۔ کر ضبط کلیسا ِ بحق کر دے قرار لعدم کا بھی کو
نو ِ ئش پیدا جب ہوا ز غا آ کا دور اس سے بھگت ملی(Reincarnation)ک والوں دینے تعلیم کیو
موش خا پر زور کے قت طا اور ؤ دبا سی سیا کو ء علما باز لگی۔راست جانے دی ت مو ئے سزا
ہی ئد عقا غلط یہ بعد کے رہی۔جس ہی ایسی لت حا تک عیسوی صدی ہویں بار اور گیا دیا کر
عیسائایمان دہ جو مو کایوںگئے۔ بن
نگ یو کارل(Carl Jung)فرائیڈ اسگمنڈ(Sigmund Freud)فورڈ ہینری ،(Henry Ford)
برگ لینڈ لس ر چا ،(Charles Lindbergh)،ییٹس ولیم(William Yeats)ئس کا گر ایڈ ،
(Edgar Cayce)اورالنورولت روز(Eleanor Roosevelt)غیر کے ضر حا ِ دور جیسے
ثا ِ ط نشا کی ت تعلیما کی نو ِ ئش پیدا نے مفکرین بل قا والے رکھنےبصیرت علمی اور متعصب
تو میں د اعتقا کےئیت عیسا سے ۔جس دیں نجام ا سر ت ما خد قدر گراں لئے کے ترویج اور نیہ
27. کلیس نکہ کیو ئی آ نہیں تبدیلی ص خا ئی کو الحال فیاپنے طرح کی لویوں مو رے ہما والے ا
نو ِ ئش پیدا مگر ہیں ئے ہو ٹے ڈ پر مسلک(reincarnation)گا آ میں الناس عوام میں بارے کے
اور محفلوں ضوع مو یہ اور ہے گئی دیکھی ضرور ہیبھی میں گفتگو رسمی غیر و رسمی
لگا نے آ بحث ِ زیرہےمط کے وے سر لیہ حا ۔ایککے امریکہ بشمول لک مما مغربی بق ا۳۳
کے رپ یو مشرقی اور فیصد۴۰نو ِ پیدائش عیسائی فیصد(reincarnation)ہیں رکھتےیقین پر
ًایقین میں مد کی نے ال ایمان پر خرت آ جوخوشآیندکی ۔ ہے باتکہ ہے کہتا خود آن قر نکہ و
ایمان پر خرت آ اور ایمان پر ہللایہودی وہ ۔خواہ گا ہو نہیں حزن و خوف کوئی کو والوں رکھنے
ہوں۔البقرہ )والے ماننے کے ہب مذا (دیگر زرتشی یا ہوں عیسائی ، ہوں۶۲
والے رہنے مین چیئر تک سال پچاس کے نیورسٹی یو میڈیکل کی جینیا ور ریاست امریکی
میڈیک نیل ر کو کی ک یار نیو ، طب ِ ہر ما، نیورسٹی یو ل(Cornell University)،نا ئسیا لو
سٹی نیور یو سٹیٹUniversity)(Louisiana Stateاوراینجلس السکییو میڈیسنٹیولین
نیورسٹی(Tulane University of Medicine)معہ الجا عمید کے(dean of university)
تی نفسیا ، طنی البا طب ، امراض غی دما ، ویات اد ، کیمسٹری ئیو با ، تیات حیا اور
،بانی کے سائٹی سو تحقیقی کیئنس سا ، استاد کے نے پڑھا مین مضا یّبط دیگر اور امراض
نو ِ ئش پیدا اور لوں مقا تحقیقی زائد سے سو تین(Reincarnation)ہ دو پرصفحا زائد سے زار
می قوا اال بین میں ریسرچ اور تحقیق یّبط ، مصنف کے بوں کتا ضحیم لیس چا مشتمل پر ت
سٹیونسن آئن کٹر ڈا فیسر و پر مل حا کے شہرت(Ian Stevenson)ئت عیسا میں ل خیا کے
نو ِ ئش پیدا مذاہب سبھیًاتقریب کے دنیا وہ عال کے اسالم اور(Reincarnation)یقین میں
نے صوف مو فیسر ہیں۔پرو رکھتےاألمراض أسباب علمپرنشا ئشی پیدا میں بوں کتا اپنی
نوں(Birthmarks)ئص نقا ئشی پیدا اور(Birth Defects)ہے کی بحث صل حا ِ سیر پر
ہے کیاثابت سے رو کی ئنس سا یّبط نے نھوں ا میں جست با جذ رے ہما کہ
(emotions)دیں یا ،(memories)ٰحتی ر او ،آ پیش میں گیوں زند شتہ گز کہنے
ٹیں چو نی جسما والی لگنے سے وجہ کی دث حوا والے(physical injuries)ایک تک
میں ن انسا کسی ہیں۔ تی ہو منتقل میں گی زند سری دو سے گی زندحیت صال ص مخصو ئی کو
ہو منت ِن ہو مر کے حول ما کسی ہی نا اور ہے تی ہو ثی رو مو تو نہ بلیت قا یا فن ،آرٹ ، کال ،
تی جا میں جسم نئے کسی کر ہو زندہ بارہ دو بعد کے موت کی جسم ایک جب روح بلکہ ہے۔ تی
س اپنے میں گی زند نئی بھی ش نقو کےشخصیت پچھلی وہ تو ہےفیسر ہے۔پرو تی جا لے تھ ا
ان کہ کیا یافت در یہ ئے ہو تے کر عالج کا مریضوں تی نفسیا میں اسپتال رک یا نیو نے سٹیونسن
سے گیوں زند پچھلی کی ان اثرات کے ڈپریشن اور ؤ تنا ذہنی میں مریضوں کےتھے وابستہ
خون ِ فشار ہتے بڑ ہتے بڑ جو(High Blood Pressure)ہو تبدیل میں امراض کے نس سا اور
امراض رونی اند کو مریضوں بھی میں اسپتال زف جو سینٹ کے نا اریزو ریاست امریکی گئے۔
(internal disease)کیویات اددیتےڈاکٹر بعد کے اس ۔ ہوئے بات تجر کے قسم اسی ہوئے
دن اور ستان ہندو بلکہ امریکہ صرف نہ نے ف صو موسینکروں کر جا میں لک مما دیگر کے یا
معذور نی جسما ، ریوں بیما ئمی دا سی بہت کہ گیا ہو بت ثا یہ سے جس کی تحقیق پر مریضوں
کہ نہ تاہے ہو سے گی زند گزشتہ کی انسان کسی تعلق کا ؤ تنا ذہنی اور پریشن ڈ ، یوںرو مو
ثیتیاآئ کٹر ڈا فیسر پرو سے۔ حول ماکر لعہ مطا کا الت مقا ر او بوں کتا کیسٹیونسن ن
نو ِ ئش ا پید والی نے ہو لمحہ بہ لمحہ کے(Reincarnation)کی طب اور ئنس سا کوحقیقت کی
کیسٹیونسن آئن تو دے نہ زت اجا وقت اگر ہے۔ سکتا جا نا جا بی بخو میں روشنیایک کم از کم
' کتابپی اور تیات حیاِ ئش دا'نو(Biology and Reincarnation)نا کر لعہ مطا کا
گا۔ ہو نہ لی خا سے دلچسپی
28. اے این ڈی بق مطا کے سائنس یّبط اور تیات حیا ِ علم(DNA)جنیا میںتسلسل کیبی تر کے
تحویل تی(Gene Mutation)وجہ کیہما وہ ہے تی ہو واقع تبدیلی مستقل جو سےجین رے
باپ ماں تو ایک سے میں جن ہے۔ تی ہو سے طرح دو تحویل تی جنیا میں انسان ہر ہے۔ تی بنا
یا تحویل ثی رو مو کی جین جسے ہے تی ہو سے م سو مو کرو کےالجرثومية ساللةکہتے
تحویالت سری ۔دو ہیں(Mutations)بیضہ صرف(Egg)یعنی نطفہ صرف یاالخليةالمنوية
(sperm cell)میںإخصاب(Fertilisation)نئی کو جن ہیں تی ہو واقع بعد ًافور کے
تحویالتDe Novo Mutations)تحویل تی جنیا ئی ہو آئی سے باہر اور نئی ۔یہ ہیں )کہتے
ت خلیا تمام کے بچے ساتھ تھ سا کے تحویل ثی رو مو ئی ہو آئی سے طرف کی والدین بھیمیں
ِضطراباتا ان میںخلیات کے لود مو نو ۔ ہے جاتی ئی پا(Disorders)یا ثیت رو مو تعلق کا
نی ندا خا کے قسم کسیمنظرپس(Family History)نسل یہ ہی نا اور تا ہو نہیں لکل با سے
ت رکھا کر قائم ضہ مفرو یہ تک صے عر ایک نے ہے۔انسان تا ہو منتقل نسل درنی نسا ا کہ ھا
کی توں قو مرئی غیر کی سورج اور حول ما تحویل تی جنیا نئی اثرار پر رہ کو مز میں خلیوں
والی نے آ سے رج سو میں جس ہے تی ہو لت بدوتابکاری بنفشی باالئے(ultraviolet
radiation)جنوم میں دور دہ جو مو ہے۔مگر تی کر ادا دار کر اہم(Genes)والی نے ہو پر
جین ش مو خا بحث ِ زیر کہ ہے دیا کربت ثا یہ نے تحقیق(Muted Genes)سے پ با ماں نہ
گی زند شتہ گز میں ان بلکہ ہیں رکھتے منظر پس نی ندا خا ئی کو ہی نا اور ہیں تے آ میںثت ورا
ثبت نقوش کے(Record)س اپنے گی زندنئی جنہیں ہیں تے ہوہے آتی میں دنیا اس کر لے تھ ا
قیرے بر ایک یہ اور(Electronic Chip)گز اور گرام پرہ شدہ ڈ ر ریکا سے پہلے طرح کی
ہیں۔ تے کر منتقل میں گی زندنئی اثرات کے ل اعما والے نے جا کئے میں گی زند شتہ
کے ہب مذ ئی عیسا ،دری پا مانے نے جا کے ٰنصاری ِاہلفو کیلے کی امریکہ ، عالم ممتاز
خیالی غیر ،رکن کے سائٹی سو ئل را ادبی ، فلسفہ ِ رئیس کے سٹی نیور یو رنیا(non-
fiction)ست ریا امریکی میں بلے مقا بی اد کے تحریروں مبنی پر حقیقت اور ئی سچا یعنی
فیسر و پر والے پانے میڈل گولڈ سے نیا فور کیلےیگر گر مک یز گڈ(Geddes MacGregor)
' کتاب اپنی'نو ِ ئش پیدا میںئیت عیسا(Reincarnation in Christianity)ہیں لکھتے میں
سے یات نظر کے بوں کتا ہبی مذ عقیدہ یتی روا کا ئیوں عیسا میں رے با کے نو ِ ئش پیدا کہ
ص مو فیسر ۔پرو رکھتانہیں بقت مطادیتے زور پر قت صدا کی ئیے نظر کے نو ِ ئش پیدا نے وف
سے بوں کتا می الہا جو کیا پیش تصور نیا کا دار کر کے نو ِ ئش پیدا میں سوچ ئی عیسا ئے ہو
کسی کےئیوں عیسا قبل سال دس کہ ہیں کھتے مزید گریگر فیسر پرو ہے۔ رکھتا بقت مطا عین
ء ابتدا انہیں نے عالم بڑے(پیئش دا)نسخہ نانی یو اور الطینی کے اصولوں اولین کےاس جاتدر
ہے۔ صحیح سا کون سے میں نوں دو کہ ئیے بتا یہ فرماکر غور پر ان کہ بھیجے ساتھ کے خواست
بعد کے ض خو رو غو پر نسخوں نوں دوہے۔جب مختلف سے سرے دو ایک بیان کا نوں دو کیونکہ
کئے میں زبان طینی ال اور حقیقت کی نو ِ ئش پیدا کو عالم اس نے گریگری فیسر پروگئغلط ے
کہ سے ڈر اس اور آگیا میں سکتے کر پڑہ اسے وہ تو بھیجی کر لکھ تفصیل کیتفسیر اور ترجمہ
وہ نے عالم اس جائے ہو زخمی نہ روح کی ئیت عیسا کہیں تو گئی آ پر عام ِ منظرتفصیل یہ اگر
ٹھوس کےبات اس نکہ کیو دی۔ کر بند میں دراز اپنی لئے کے ہمیشہ رٹ رپوہی جود مو ہد شواں
پال کہ(Paul)ِ کالم پر ء بنا کی تعصب ہبی مذ میں ادوار ئی ابتدا کے ئیت عیسا اثر ِ زیر کے
ہب مذ کو ئیت عیسا نے بد ِ اثرات کے جس تھا گیا کیا جمہ تر کن گمراہ میں زبانطینی ال کا ہیٰال
جیروم سینٹ دیا۔ کر دور سے تعلیم اصل کی(St. Jerome)خط سے میں خطوط کے۱۲۴جو
خاص کو بات اس نے جیروم سینٹ میں اس تھا لکھا کواویطس حکمران کے روم مغربی نے اس
وقت کرتے ترجمہ میںطینی ال سے نی نا یو کہ تھا کیا واضح پر طورالوجود قبل(pre-
existence)،المبادئاألولى(First Principles)اورغلط کا ان کرتبدیل نات بیا کےپیدائش
میں دور ئی ابتدا کےعیسائیت کہ ہے ثبوت کھال کا بات اس خط کا جیروم ہے۔سینٹ گیا کیا جمہ تر
29. نو ِ پیدائش پہلے سے شوں ساز کی کلیسا(reincarnation)بق مطا کے مقدس ِ ب کتا تعلیم کی
اویطس کہ رہے د یا تھی۔ جاتی دیکی روم نے جس ہے شخصیت وہ میں ریخ تا کیئیوں عیسا
کیا۔ استعمال رسوخ و اثر گار ساز انتہائی میں وقت مشکل کےعیسائیت اور فت ثقاک نیا دمشہو ے
ئیں ہو کی زل نا کی ٰلی تعا ہللا ہستیاں نی ما نی جا سے اعتبار علمی اور نشور دا معروف و ر
کر سمجھ کو بوں کتاپھنے ڑنو ِ ئش پیدا سے وجہ کی نے کر فکر و ر غو میں ان اور
(Reincarnation)۔ تھے رکھتے یقین پر خرت آ کیمعروفعیسائیعالمطرطولین
(Tertullisn)اپنیکتابرسالہٰعلیالروح(Treatise on the soul)کےباب۳۳–۲۸میںپیدا
ئشِنو(reincarnation)پرسیرِحاصلبحثکرتےہوئےلکھتےہیںکہمشہورریاضیدان
فیثاغورثبھیپیدائشِنوپریقینرکھتاتھا۔
میں جسم نئے دوران کے یوں صد تین پہلی کی ئیوں عیساتناسخِارواح(Transmigration of
souls)نی طو افال میں ریخ تا جو رہا یا چھا پر یانطو نما پر ئیت عیسا فلسفہ نی نا یو کا
نظریات(Platonism)عکس بر کے فلسفہ نی حا رو کے ہے۔مشرق تا جا نا جا سے نام کے
م ِ ذات اور شعور اپنے میں واح ار عالم بعد کے موت نی انسا روح کہ تھا خیال کا افالطونہنفرد
خدا تو نا روح نی انسا عکس بر کے ے عقید ہندو اور ہے۔ رہتی زندہ ہمیشہ پر ر طو کے
جسم نئے ہیں۔بلکہ سکتی کر اظہار کا وجوداپنے سے طریقے اور کسی وہ ہی نا اور ہے بنتی
یعنی نگ ر ز اپنی طون ہیں۔افال جاتی آ میں دنیا رہ با دو کر ہو پیدا میںداشتوں یا عقلی
(Phaedrus )سچائی اور تی ہو نہیں پیرا عمل پر ہیٰال ِ احکام روح کوئی اگر کہ ہے لکھتا میں
کے مصیبتوں وہ سے وجہ کی ہ گنا اور غفلت اس تو ہے رہتی م کا نا میں نے کر ادراک کا
تلے جھ بو ْگنےدپر کی اس سے جس ہے تی جا کچلی کر دبصالحیت کی نے کر واز
سے عمل کےپیدائش اپنی روح ہے۔ تی جا دی پٹخ پر زمین منہ لٹےْا وہ اور ہے تی جا چھن
کسی پر طور عام وہ تو ہے تی پا گی زند بارہ دو جب تحت کے ہیٰال ِ ن نو قا بعد کے نے گزر
جس نی انسا اسے بلکہ تی جا نہیں میں جسم کے نور جانے جس روح وہ ہے۔اور تا جا کیا عطا ہی م
پیشہ اور کال ، آرٹ بھی کسی یا فلسفی بطور پیدائش کی اس تھا کیا اختیار راستہ کا ئی سچا
ہ وغیر عالم ،استاد ،ادیب ،دان قانون ،دان سائنس ،انجینئر ،ڈاکٹر ًالمث فن ِ ہر ما کےاورہنستی
ک شخصیت طبع خوش تی گاہے۔ تی ہو ے
Plato writes in Phaedrusaboutthis:
"But when she (the celestial soul) is unable to follow, and fails to behold the
truth, and through some ill-hap sinks beneath the double load of forgetfulness
and vice, and her wings fall from her and she dropsto the ground, then the law
ordainsthat this soul shall at her first birth pass, notinto any other animal, but
only into man; and the soul which has seen most of truth shall come to the
birth as a philosopher, or artist, or some musical and loving nature".
کو روح عام ایک کہ ہے لکھتا مزید طون افالمیںپہنچنے جگہ سیْا واپس تھی چلی وہ سے جہاں
پر مقام اصلی اپنے میں وقت کم ہی گ لو ب مقر اور فلسفی ہیں۔صرف لگتے سال ہزار دس
گزار گی زند میں لت جہا اور تیں پا کر نہیں تکمیل کی حیات ِ مقصد روحیںہیں۔جو پہنچتے واپس
بعد کے موت وی دنیاانکی ہیں دیتیک فیصلہہے جاتی کی تعین سزا کے راصالح اورانہیں
نچلے کے زمین کےلئےہے تا جا دیا بھیج میں گھروں کے درجے۔
30. In the same work, Plato states that "ten thousand yearsmustelapse before the
soul of each one can return to the place from whence she came." Only the soul
of the philosopher or of the lover can get back to its originalstate in less time
(i.e., in three thousand years). The soulsthat fail to aspire to perfection and live
in ignorance are judged after their earthly life and then punished in "the houses
of correction, which are underthe earth."
اور گناہ لئے اس نہیں فی کا دورایک کا زندگی لئے کے تطہیر روحانی میں خیال کے طون افال
کے اسکچھ کہ ہے سکتا ہو بھی یہ سے اعتبار کے عیت نو کی قید ئے سزا والی ملنے میں بدلے
اور جائے دی دے زندگی کی نور جا میں بدلے کے اعمال برے کے ان کو نوں انسا صفت درندہ
با دو میں جسم انسانی واپس سے نور جا روحیں یہ بعد کے ٹنے کا قید کی مدت خاص ایک
رنہیں تطہیر مکمل کی ان تک جب بھگتیں تک وقت اس انسان ِر بطو سزا کی قی با اور ہوں پیدا ہ
نو ِپیدائش لئے کے نے کر حاصل گی کیز پا کی روح جاتی۔ ہو(reincarnation)افال یہ کا
میں ئیے نظر اس مگر ہے مشتمل پر ادوار شمار بے کے ممات و حیات چہ اگر نظریہ طونی
رالمطلق با اتحاد ِ یہ نظر کے برہمن مقام خری آ کا سفر کے وح(union with the Absolute)
نجات کی روح افالطون ، ذاٰہے۔لہ وجود پاکیزہ الگ ایک اپنا خود بذات کا روح ہر عکس بر کے
(salvation)جا میں وجود کے خدا کہ نا ہے لیتا پر طور کےبخشش ذاتی کی انسان کوک ملنےو۔
نو ِ ئش پیدا اور چھاپ کییات نظر ال با جہ مندر کے افالطون میں دورابتدائی لکل با کے کلیسا
وہ تعلیم گئی دی میں کتابوں الہامی میں بارے کےاور مصدقہاجنہیں ہیں ہد شوا ریخی تا ٹِم ن
سکتا۔ جا نہیں یا جھٹال بھی طور کسییات نظر کے نو ِ ئش پیداکے ہب مذ عیسائی تبدیلی میںبا
اس نکہ کیو گئی کی نہیں پر سر کے وحی ِ نزول یا پر حکم کے السالم علیہ ٰعیسی حضرت نی
ٰعیسی حضرت تک وقتچکے ما فر رخصت سے دنیا السالم علیہتباہ یہ میں ئیت عیسا ذاٰتھے۔لہ
پال تبدیلی کن(Paul)وجو سی سیا کردہ پیدا کیکو جس گئی کی پر بنا کی ہات۵۵۳م
علیہ ٰعیسی حضرت گیا۔ کیا داخل میںئیت عیسا سے منظوری کی ٰری شو ِمجلس کی قسطنطنیہ میں
پال بعد کے وفات کی السالم(Paul)صل حا مقام ساختہ خود کا نے ہو نبی میں شریعت کی ان نے
نب کو ملعون اس ئی عیسا بھی آج اور لیا کرعیسا نے ہیں۔جس دیتے جہ در کا مسیحبشریعت ی
کو ان کہ دکھائی محبت اتنی سے السالم علیہ ٰعیسی حضرت لئے کے نے بنا وقوف بے کو ں ئیو
استعارات کے اس اور تبدیلی میں تراجم کے ہیٰال ِ کالم دیا۔ بنا بیٹا کا خدا میں زمین اور خدا اوپر
(Metaphors)تشر ختہ سا خود کیدنیا کیہب مذ بھی یح(Theology)دود مر اسی بار پہلی میں
وحی اور مالکر یہاں سے وہاں اور وہاں سے یہاں کو ٹکڑوں کے یات آ مختلف کی کی۔انجیل نے
اسی بھی طرح کی لکھنے تفسیر کر ڈھال مطابق کے یات نظر اپنے نی معا کے الفاظ مختلف کے
کمبختکا ئنات کا ۔ ڈالی نےالطبیعیہ نین قوا بجائے کی خدا طاقت والی نے چال نظام
(Natural Laws and Natural Forces)ہے۔ ایجاد کی اسی بھی اصطالح کیکیجسمیں تقلید
خدا بھی ہمیںت ذا کیاور لگا نے جا دیا درس کا رکھنے طرف ایک کر ٹھاٌا کولمین العا رب
جگہ کی نام کےنے چال ئنات کا ِر گا روزوالی'توں قو تی ئنا کالے نے 'لی۔بع کے نے مرد
31. تک مت قیااور نے سو سے ٹھاٹھکر ٹھْا سے قد مر مت قیا ِ روزنجاتکی نے کر صل حاجیسی
ہے۔ سر کے اسی بھی سہرہ کا نکالنے عات اخترا
اور تراجم کے آن قر میں تقلید کی مردود اسی نے علماء ہمارے کہ افسوس صد افسوس مگر
تا ہو لیا پڑھ کوپوپ اور پال اگر پہلے سے ھنے پڑ تحریریں کی علماء اپنے نے دیں۔ہم لکھ تفسیریں
اور جاتا آ منے سا کے نتھر پانی کا نی پا اور دودھ کا دودھ تومیں ننے جا یہب لکل باھینہیں دیر
کامتحقیقی ئی کو سے د خو کے کر استعمال کو فکر و غور اپنے نے ء علما ہمارے کہ لگتی
اپنی سے یات نظر کے انہیں کرپڑھ کوپوپ اور پال لئے کے نے کر غوب مر ہمیں بلکہ کیا نہیں
ب عود المو مسیح نے نی دیا قا احمد غالم زا مر دیں۔ بھر بیں کتاچرا سے پال بھی خیال کا ننے
کہالیا مسیح ِ بشریعت نبی کو آپ اپنے نے جس تھا شخص پہال وہ ہی پال نکہ کیو یا۔بلکہ
بالک ورڈ ر رےفا ہما کہ ہے یہ تو حقیقت(Forward Block)کےچھوٹے سبھیبڑےعلما
ءکے کر نقل کی اسیملوث میں بازی قہ سر ادبینے جس نہیں م نا ایسا بھی ایک ہیں۔کوئی
ہو۔ کیا بق مطا کے تعلیمات آنی قر عین کام کا تفسیر یا جمے تر کے آن قرکے ت مما و ت حیاقد
معنی بے رّتصو دہ جو مو کا ب احتسا اور انصاف مل کا بغیر سمجھے کو م نظا رتی
ایما کو نظام اس کے خرت آ لئے ہے۔اسیکئے مل کا ِ یقین پر جس گیا یا بنا حصہ زمی ال کا ن
ِ صراط پھر اور گا ہو درست کیا دار کر تو ہوا نہ مکمل ہی ایمان ۔ تا ہو نہیں مکمل ایمان بغیر
نہیں ہی معلوم ہمیں تو منزل کیونکہ گا ملے لئے کے نے جا کہاں مستقیم!
میں رے با کے خرت آ ِ حقیقتاور ئنس سامنطقسےعلمیدالئلتو ئیں جا ئیے دآ جواب
' تو جائے کیابت ثا ہی سے آن قر اگر اور " نہیں میں آن قر یہ " کہ ہے تابول نئی ميں
دا بول يار ميرا وچہ ميرے دیکہا اور کچھ میں جن کر دے حوالہ کا یات آ ٌن ا مصداق کے '
دھرا بھی یہ ساتھ کے مقرر واعظ کے سمجھنے ہی سے آن قر صرف کو آن قر ، ہے ہا ر جا
فالں نے حب صا فالں اور کہا کیا میں رے با کے خرت آ نے حب صا فالں کہ ہے تا جا یا
لکھا کیا میں کتابسمجھا اور سمجھنے کو جس ہے رہی ہو بات کی ' آن قر لص خا ' کیسے یہ ۔
کےٹنوں اور منوں کے مواد نی آ قر غیر ئے ہو کئے اکٹھے سے ھر دْا ادھر لئے کے نے
لہ حوا سے بوں کتا ہوئیں کی زل نا پہلے سے آن قر جب ؟ ہیں تے جا ئیے د لے حوا سے حساب
ت جا کئےپیش جاتنہیں ہی نتے ما ہم تو کو بوں کتا ان کہ ہے تا آ ب جوا ٹوک دو تو ہیں ے
عر ِ محمد جو نہیں آن قر وہ یہ کم از کم ہے؟ رہی ہو بات کی آن قر کس تی آ نہیں سمجھ !
بیﷺک ہللا پہلے سے آن قر اور نے ال ایمان پر خرت آ تو میںسْا تھا۔ ہوا زل نا پرکر زل نا ی
چکے کر رد کو بوں کتا ان کر سوچ یہ ہم اگر البتہ ہے۔ حکم کا نے ال ایمان بھی پر بوں کتا دہ
ال ایمان پر جن رہیںنہیں وہ اب بیں کتا یہ سے وجہ کی تبدیلیوں اور میم ترا شمار بے کہ ہیں
کہ کیوں ہیں پر غلطی ہم بھی تو ہے گیا دیا حکم کا نےمیں بوں کتا انتب مبینہ بھی جودیلیاں
ئیں ہوتیں با کی پہلے بہت سے آن قر ِ نزول ِ نہ ما ز میں ل ٗاو ِ ر دو کےئیت عیسا سب وہ تھیں
حکم کا نے ال ایمان پر بوں کتا ان بھی پھر نے جس نہیں دہ ذیا سے ہللا علم را ہما اور ہیں
ن ا بعد کے آن قر ِ دیا۔نزولال بد نہیں متن مگر گے ہوں لے بد ضرور جم ترا کے بوں کتا
جا بھی علم ِ اہل اور ہے گواہ ریخ ۔تا تا پڑ نہیں فرق ئی کو پر حیثیت اصل کی بوں کتا ان سے جس
آن قر جب بلکہ ۔ ہیں آج جیسی تھیں ہی ایسی بھی وقت کے آن قر ِ نزول بیں کتا یہ کہ ہیں نتے
زل ناکا نے ال ایمان پر انجیل ہاں جی ۔ تھی جود مو بھی میں مہ مکر مکہ ئبل با یہی تو ہوا
ٰ عیسی حضرت انجیل کہ تھا علم بی بخو بھی کابات اس کو ٰلی تعا ہللا پہلے سے دینے حکم
ل نے دوں گر شا کے ان بعد بہت کے نے جا ہو خصت ر سے نیا د کے السالم علیہمگر کھیہم
بھی پھراساور تے النہیں ایمان پرنے نبی کسی جسے ہے وحی کیسی یہ کہ ہیں چتے سو
32. ہی ایک سوچ ری ہما کہ کیوں ؟ یا لکھوا نہیں کے بٹھا منے سا اپنے کو حی و ِ تبین کا
ک نے ما ز ہر کہ نہیں ہی چتے سو یہ ہم اور ہے ہوئی اٹکی جگہاپنا ایک اہے تا ہو حول ما
جن السالم علیہ ٰعیسی حضرت ہے۔ تا ہو بق مطا کے الت حا کے نے ما ز اس کام ہر میں جس
تھی ممکن ہی بعد کے ان بت کتا کی وحی میں الت حا ان ئے ہو رخصت سے نیا د میں الت حا
ہیٰال ِ کالم کیونکہ ہو ہی غلط کہ نہیں ضروری کہ جو ۔نے جنہوں ہیں رہے میں دور ہر حفاظ کے
کی ری بخا کوئی ہے ہللا کالم یہ یا۔ پہنچا گے آ بلفظ لفظ اور بسینہ سینہ کو وحی کی ہللاروا
ہم پر جن نہیں یتیںسے جھٹپہنچتے ت با تک تے پو سے دادا کہ دیں کر در صا ٰفتوی
حقی ہے۔ جاتا آ فرق میں اس پہنچتےاور مکملاپنی پاس ہمارے آن قر جو آج کہ ہے یہ تو قت
ہے منت ِ ہون مر کی ہی کرام ِظ حفا بھی وہ ہے جود مو میں لت حا صحیح بلفظ لفظاوررا ہما
ایمانبھیکا ظت حفا کی آن قر نے ٰلی تعا ہللا کہ ہےہے کیا وعدہ جووہاسےپو میں حال ہر
محمد کریم ِ نبی رے ہما کہ ہے تا ہو معلوم سے نے کر غور ہے۔ تا کر راﷺحا کے ر دو کے
ہو تے کر استعمال بہترین کا جن تھے مختلف قطعی سے ادوار کے السالم علیہ انبیا گزشتہ الت
مبار ِ ت حیا اپنی کر لکھوا آن قر سے وحی ِ تبین کا نے انھوں ئےشکل بی کتا ہی میں ک
شبہ ہی پر انجیل صرف ہم ۔ تھا کرلیا محفوظ میںکریں کیوںبلکہکہ ہے یہ تو حقیقتترات و
کا نسے کو اور کب نے السالم علیہ نبی کسانہیں کہنہیں خبر کچھ کو کسی بھی کی ر بو ز اور
اہ تھا؟ یا لکھوا کے بٹھا منے سا اپنے کو حی و ِ تبینمیں ت عا مجمو رہ کو مز کے کتاب ِ ل
ئے ہو کئے زل نا پہلے بہت سے السالم علیہ ٰسی مو حضرتکچھوہ ۔ ہیں مل شا بھی ئف صحا
ان کتنا اور لکھا د خو حصہ کتنا کا وحی نے السالم علیہ ٰسی مو حضرت اور لکھے؟ نے کس
؟ گیا لکھا بعد کےپھر مگربھی۶۱۰اور۶۳۰ہو زل نا ن دورا کے عیسوی
میں آن قر والے نےحکم کا نے ال ایمان پر بوں کتا اندےگیا۔ دیازل نا پر السالم علیہ ء انبیا اور
ہم انہیں کے کر تصدیق کی بوں کتاہوئیں کیدیا بنا حصہ کا ایمان رے اگیا۔م طرح جسختلف
داریوں مہ ذ کی ان ًالصت خا تخصیص میان ر د کے السالم علیہ ء انبیاعت ستطا ا اور
ٖبعینہ گیا دیا حکم کا رکھنے نہ فرق میں قیر تو و عزت کی ان اور گئی کی سے ظ لحا کے
دی کو السالم علیہ ء انبیا القدر جلیل انپر ر طو ضح وا بھی حکم کا ننے ما کو بوں کتا گئیں
۔ گیا دیاہے کرتاتصحیح کی ان بلکہ تا کر نہیں رد کو بوں کتا ان آن قر، ذاٰ۔لہانسا ابکام کا ن
کہ ہےلے۔ سنبھال کے کر پاک سے غلطیوں میں روشنی کی آن قر کو بوں کتا ان
ہے مقام کا المیئےہی ٰری نصا دو یہو کتاب ِ اہل تو نہ کہکر سمجھ کو بوں کتاانکی خرت آ
زبور ، تورات ، انجیل ،آن قر جبکہ ۔ مسلمہ ِ امت ہی نا اور ہیں ر تیا لئے کے ننے جا حقیقت
س آن قر سے طرف کی ٰلی تعا رک تبا ہللا اورئے ہو کئے زل نا پہلے ےمیں صحیفوں تمام
ہے۔ ہا ر آ ساتھ کے مسلسل ِ تکرار کی کی نو ِ ئش پیدا بیان کا آخرت
تورات میں شروع ہم کرام ِ رین قا(Torah)پا میں جن ہیں چکے کر لعہ مطا کا یات آ کی
شیول یا تال(sheol)د لہ حوا کا جہنم اس یا دوزخ والی نے ہو ئم قا پر زمین سےگیا یا
وہ ۔جب گا جائے بھیجا پر ر طو کے سزا بعد کے موت کی ان کو گوں لو اعمال بد میں جس
کے جس گا ہو کتاب حساب سے سرے نئے پھر تو گے جائیں واپس رہ با دو کر بھگت سزا لوگ
حصہ کے الوحی ب کتا ٖبعینہ گی۔ ہو تب مر گی زند والی نے آ کی ان بق مطاجنتی میں ل ّاو
لباس سفید کو روحوں(White Robes)گی زند بخت خوش ئندہ آ انہیں مطلب کا نے جا یئے د
میں وحی ذیل جہ مندر تو گا جائے کیانہیں ہی زندہ بارہ دو کوئی بعد کے موت ہے۔اگر نا جا دیا
نہیں۔ مطلب ئی کو کا نے پہچا باہم لباس ٰاعلی اور امارت ہوئی کی بیان
Then each of them was given a white robe, The Book of Revelation 6:11
پھرہر سے میں انایککولباس سفیدتھا گیا دیاالوحی ۔کتاب۶:۱۱
33. He who overcomes will, like them, be dressed in white. Revelation3:5
اپنے جونفسپا قابو پرلیتاہے،طرح کی گوں لو ان ،سفیدلباسملبوس میںکیات جاہے ا.
مکاشفہ)حی (و۵:۳
I counsel you to buy from me gold refined in the fire, so you can becomerich;
and white clothes to wear ۔Revelation 3:18
میںتمھیںنا سو ہوا نکھرا میں آگ ہوں دیتا رہ مشوسے مجھلئے کے خریدنے،تم تاکہ
سکو۔ پہن کپڑے سفید اور سکو بن مند دولتوحی۳:۱۸
میںنتیجے کے اعمال رے ہما زخ دو اور جنت کہ ہے تا ہو ہر ظا یہ سے یات آ ال با جہ مندر
یت آ ذیل جہ مندر کی حی و اور گی ں ہو ئم قا ہی پر زمین۲۰:۶اور۲:۱۱گیا دیا بتا یہ میں
دیا کر دور بہت سے ہم نے ئد عقا نی آ قر غیر رے ہما جسے مت قیا کہدنیا اس رے ہما وہ
گی۔ ئے جا ہو ئم قا ہی تے ہو رخصت سے
Blessed and holy are those who share in the first resurrection. The second death
has no power over them, but they will be priests of God and of Christ and will
reign with him for a thousand years.) Revelation 20:6(
لوگ وہ ہیں مقدس اور مبارکجوئی کو پر ان موت سری ہیں۔دو لیتے حصہ میں مت قیا پہلی
ک مسیح اور گے ہوں بندے گذیدہ بر کے خدا وہ کیونکہ ،رکھتی نہیں اختیارسات کے اس ےاورھ
گے۔ کریں راجتک سال ہزار(وحی۲۰:۶)
Whoever has ears, let them hear what the Spirit says to the churches. The one
who is victorious will not be hurt at all by the second death. )Revelation 2:11(
دو کو شخص میاب کا ۔ ہے کہتا کیا سے والوں کلیسا المقدس روح لے سن وہ ہیں کان کے شخص جس
گی۔ جائے دی نہیں تکلیف کی موت سری(وحی۲:۱۱)
کی کریم ِآن قر کرام رین قاالدخان رة سوآیت کی۴۴:۵۶بھی میںال با جہ مندر کی وحی
آیت۲۰:۶پہلی کو لوگوں گار ہیز پر کہ ہے رہا جا یا ما فر ہوئے کرتے تصدیق کی بیان کے
ہی بعد کے موت پہلی کی ان مت قیا لئے کے ان گی۔یعنی ئے آ نہیں موت اور کوئی سوا کے موت
مق کے گاری ہیز پر اور بازی راست لوگ جو ر او گی ئے جا ہو قائمنہیں پورے پر معیار ررہ
ایک کوئی کا قیامت ،ذاٰلہ ہوگی۔ قیامت نئی بعد کے موت ہر اور اموات کئی لئے کے ان گے اتریں
ئے جا لی ٹا تک مدت معینہ غیر کسی بق مطا کے عقیدے موجودہ رے ہما یہ نہی اور نہیں مقرر دن
ہونے قائم کے عمل کسی تو مطلب کا گی۔قیامت(to establish something)نہیں کچھ دہ ذیا سے
ئم قا کچھ جو لیکن ہیں رہے جا پیٹے ڈہنڈورہ ہی کا ' نے ہو ئم قا ' لفظ صرف ہم کہ افسوس مگر
جا ڑ ْا کر بن لے گا کے روئی پہاڑ دن اس کہ کےاس سوائے ما کرتےنہیں ہی بات کیاس گا ہو
ج ہو نور بے ند چا ،گا ئے جا پھٹ سمان آ ،گے ئیںبھی رج سو اور گا ئے اقی باگا۔یہ رہے نہیں
اور ہے اشارہ بھی کا کیفیات اندونی کی انسان میں نزع ِ لت حا قت و کے موت تویہ سے اس
ہے د مقصو نا بتا بھیمجموعہ دہ جو مو کا جسم اور روح کہ(combination)ِ لت حا جو
یہ تو نہ بعد کے موت اس وہ ہے میں نزعگا دیکھے سمان آ یہ ہی نا ۔ ند چا نہ گا دیکھے رج سو
زند اس والی ملنے سے مالپ کے جسم اور روح ۔یعنی پہاڑ موجود پر اس اور زمین یہ ہی نا اور
رج سو کا گیاس میں دنیا ہے۔ رہا ڈوبشخصکا کت شو و شان اور تبے مر ، حیثیت کی
34. ہے۔ رہا بجھ (چاند)بھی چراغاکے شخص سال با و بلند اور محالت ئے ہو کئے کھڑے پر زمین
آج ہیں۔ رہی ہو س بو زمین رتیں عمائیں جا ہو ریزہ ریزہ کر ٹ ٹو ڑ پہا سب کےتکبر و غرور
نکہ کیو گےہو ختم دن کے غم میں جنم اگلے تو ہوئے اچھے ل اعما ہے۔ تیار ری سوا کی واپسی
ہمیشہ نہ ور گےئیں جاکے مصیبتوں اور غموں میں گی زند ری پو کی جنم اگلے یعنی لئے کے
ٹت ٹو ڑ پہامیں نزع ِ لت حا ۔ گے رہیں ےبڑ انسان تو ہے تا ہو س احسا کا توں با سب ان جب
ج کی اس اگر کہ ہے تا بڑاکر جا واپس تو ئے جا دیبخش انوہایسےکی جن گا کرےنہیں کام
آج وہ سے وجہہے۔ گرفتار میں مصیبتآن قرکہ ہے کہتا ہوئے تے کر بیان کو حالت اسی کی ان
آن گا۔قر ئے آ نہیں م کا کے ان بھی کچھ آج ۔ ہیں رہے بڑا بڑ فقط یہکی زل نا پہلے سے اس اور
میں بوں کتا ئیں ہوجات لہ حوا ایسےاگلی کی مضمون اسی جو ہیں سکتے جا دیکھے بجا جا
اقساطلے حوا ری فو ۔لیکن گے ئیں جا ئیے د کر پیش میں عالی ِ مت خد کی پ آ میںیسعیاہ
یات آ ذیل جہ مندر کی۲۰-۶۰:۱۹سے ہنے پڑ کر سمجھ کوبھی۔ ہیں سکتے جا دیکھے
The sun will no more be your light by day, nor will the brightness of the moon shine on you,
for the LORD will be your everlasting light, and your God will be your glory. Your
sun will never set again, and your moon will wane no more; the LORD will be your
everlasting light, and your days of sorrow will end. (Isaiah 60:19-20)
رہنے ہمیشہ ،گا ئے جا ہو نور بے پر تم چاند ،گی جائے پڑ ماند پر تم روشنی کی رج سو دن اس
رج سو را گا۔تمہا رہے باقی جالل کا خدا تمہارے اور گی ہو ہی کی رب تمہارے روشنی والی
داور گا ہو نہیں قائم بارہ ہھاؤ چڑ تارْاسے چاند رے تمہاتمہا اور ،گا رہے تا جا احساس کا
گے۔ جائیں ہو ختم دن کے غم رے(یسعیاہ۲۰-۶۰:۱۹)
جیسا کرام ِ رین قاہے م نا کا نے ہو قائم کے چیز کسی مت قیا لفظ کہ ہے چکا جا یا بتا پر او
جسقعات وا والے نے ہو نما رو میںکتا ب حسا کر ہو شروع سے موت سلسلہ کااس اور ب
کو روح اسی بق مطا کےرہ با دو ساتھ کے جسم نئےہے وجہ یہی ہے۔ چلتا تک ملنے گی زند
کہہے۔ گیا کہا بھی دن کا نے ہو پیدا رہ با دو یعنی المبعوث یوم کو مت قیاآ قر مگرنییوم
کو المبعوثریسرکشن میں جم ترا انگریزی بھی نے جمین متر رے ہما میں نقل کیئیوں عیسا
(Resurrection)رے ہما تو گے دیکھیں سے رو کی ئیے نظر کے ئیوں عیسا جسے ہے کہا ہی
کہ گا ئے جا ہو معلوم بھی یہ اور گی جائے کھل قلعی بھی کی علم کے کرام ِ ء علماریسریکشا ن
نا کے کر استعمال لفظ یہ میں تراجم کے آن قر ہم کہ گا ہو بھی افسوس مگر ؟ کیا ہے میں صل
س ا کہ دیں ئی صفا الکھ ء علما رے ہما رہے؟ تے کر کیوں عظیم ِ ہ گنا جیسا شرک میں سمجھی
گی ہو ہی ایسی ت با یہ ۔ لیتے ئی عیسا جو لیتے نہیں مراد وہ ہم سے لفظکہ یہ کوئی جیسےکہ ے
خود ِ ت بذا شرک کیونکہ ۔ ہیں تے کر ہندو جیسا تے کرنہیں ایسا مگرہیں تے کر بھی ہم شرک
اسی تے۔ کر نہیں ال بد سے کہنے کے کسی جو ہے رکھتا نی معا ص خا اپنے میںتعریف اپنی
ریسرکشن طرح(Resurrection)م ، ہندو جو ہے تعریف مخصوص بھی کیاور ئی عیسا ، سلمان
ریسرکشن اگر کہ ہے بھی یہ رخ سرا دو کا تصویر اسی ہے۔ جیسی ایک لئے کے سب دی یہو
(Resurrection)ر انکا ری ' وہ تو لگتا لفظ سرا دو ئی کو میں جمے تر کے آن قر ئے بجا کی
' نیشن(Reincarnation)' برتھ ری ' یا نو ِ ئش پیدا یعنی(Rebirth)جو ۔ تا ہو جنم دوسرا یعنی
زرتشی کے ء علما ہمارےلی پا اور(Pauli)ان میں حال ِ رت صو اس تا۔ ہو خالف کےیات نظر
؟ تا ہو کیا کائیت مال کی
35. ریسرکشن(Resurrection)مطلب کا لفظ کےتعریف ،عقیدہ اورہزاسال روں
خرة بااآل ایمان کا ئیوں عیسا سےرہا آ چالہبق مطا کے ےجستو ہے تا مر شخص کوئی جب
عیسا ہے۔ تی جا سو لئے کےتک مت قیا میں قبر بھی روح کی اس تھ سا کے جسم دہ مر کے اس
نہّیمب سے سمان آ ساتھ کے فرشتوں کی السالم علیہ ٰعیسی حضرت تعریف کی ریسرکشن نے ں ئیو
جس ہے کی سے رّتصو گھڑت من کے واپسیمیںْ ا سے سمان آ السالم علیہ ٰعیسی "حضرت
کریں زندہ لئے کے ہمیشہ پہلے کے جگا کو دوں رْم ئے ہو ئے سو میں قبروں بعد کے نے تر
"۔ گے ئیں کرا بخشش کی ان پھر گےرینگنے ہی ویسے لکل با کرنکل سے قبروں شیں ال اور
نے والوں وڈ لی ہا جیسے گی لگیںعیایمان کے ئیت سابااآلخرةمبنی پردو رْم زندہ ' فلمں
'رات کی(Night of the Living Dead)ہے۔ کی کشی منظر میںدہ جو موکی ئیے نظر ئی عیسا
ٰعیسی حضرت نے کلیسا کے ل ّاو ِ عہد فہمی غلط یہ ہے۔ جاتا کہا مت قیا کو قعہ وا اس سے رو
السالم علیہ ٰعیسی حضرت میں جن کی پیدا کر ڈال پشت ِ پس کو ت تعلیما ٰاعلی نْا کی السالم علیہ
جگا کو دے رْم ہوئے ئے سو یا نو ِ ئش پیدا نےنے(awakening or reincarnation)کی
کسی د جو مو سے پہلے ئش پیدا رہ با دو کی روح میں جسم نئے 'کسی کہ ہے کی ایسے تعریف
'ہے تی ہو ہی اندر کے جسم زندہمیں۔پیٹ کے ماں کسییعنیکہ ناصرفدن کے مت قیا یتی روا
بخ کو ں گو لو السالم علیہ ٰعیسی حضرتگے۔ تریںْا سے ں نو سما آ لئے کے شوانے
ایوب۱:۲۱کاالسالم علیہ ب ایو حضرت میں جس ہے۔ دلیل میں ضمن اس لہ حوا ذیل جہ مندر
نو ِ ئش پیدا نے ٰلی تعا ہللا یعے ر ذ کے(Reincarnation)سے پیٹ کے ماں حت ضا و کی
مائی فر سے عمل کے نے ہو پیدا بارہ دودو وہ کہ ہیں رہے کرتوقع السالم علیہ ب ایو ں ہے۔یہا
گے۔ ئیں جا میں پیٹ کے ماں لئے کے نے ہو پیدا رہ با
"Naked I came from my mother’s womb, and naked I shall return there. The
Lord gave and the Lord has taken away. Blessed be the name of the Lord.”( Job
1: 21)
نے رب اور دیا نے رب گا۔ ؤں جا پس وا وہیں ننگا اور ، تھا یا آ ننگا سے پیٹ کے ں ما اپنی میں
ب نام۔ایو کا رب ہو رک مبا ۔ لیا لے ہی۱:۲۱
یات آ کی ب ایو وہ عال کے اس۱۹:۲۵،۲۶،۲۷دہ سا ئت نہا نے السالم علیہ ایوب حضرت میں
کا نو ِ ئش پیدا میں الفاظہو ختم جسم کا ان جب بعد کے نے مر کہ ہے کیا بیان ایسے ئیکل سا
دو کوئی ، وہ گا۔پھر ئے جا دیا کر عطا جسم کا شت گو نئے انہیں سے پھر بار ایک تو گا جائے
کا دیکھنے کو رب گی۔ یکھے د کو رب پنے ا ساتھ کے جسم نئے روح ہی و یعنی نہیں سرا
ری کا کی اس مطلبو کا رب ً یقینا سے جس ہے سے دیکھنے دنیا ئی ہو ئی بنا کی اس اور گری
ہے۔ دیتا ئی دکھا جود
36. Job 19:25 I know that my Redeemer lives, and that in the end he will stand upon
the earth. :19 26 And after my skin has been destroyed, yet in my flesh I will see
God; :19 27 I myself will see him with my own eyes-I, and not another. How my
heart yearns within me!
وہیتک آخر میں دنیا کہ یہ اور ، ں ہو نتا پہچا کو ہندہ د ت نجا کے گیوں زند اپنی میںئ قارہے م
گا۔ایوب۱۹:۲۵
ں دیکھو کو خدا ساتھ کے جسم والے شت گو اپنے میں بھی ، بعد کے نے جا ہو ختم جسم اپنا اور
ب گا۔ایو۱۹:۲۶
نہیں۔ سرا دو ئی کو میں مجھ ، خود گا۔میں دیکھوں سے ں نکھو آ اپنی اسے د خو ِ ت بذا میںدمیرال
کتنا سے اندرہے رہا ہو تاب بے!ب ایو۱۹:۲۷
ایوب۳۰:۲۳نے آ واپس میں دنیا کر ہو زندہ بعد کے ت مو السالم علیہ ب ایو حضرت میں
۔ ہیں دیتے میں ظ الفا ان بیان ئیدی تا کا
(Job 30:23 ). "For I know that You will bring me to death And to the house of
meeting for all living .
میں دنیا کی لوگوں زندہ اور گے دیں موت مجھے پ آ کہ ہوں جانتا میںواپسگے۔ ئیں آ لے
(ایوب۳۰:۲۳)
The house of meeting for all living”"بسنے میں زمین یعنی گھر کا قات مال سے لوگوں زندہ
ہے۔ حوالہ کا بھیجنے واپس میں دنیا اصل در لوگ زندہ والےکر ئید تا بجا جا کی اس بھی آن قر
جس ہے تا کر تعریف بھی کی زخ بر میں ز اندا ئنسی سا ساتھ ساتھ کے نےموت میںکےباچھی عد
دو بری اورار نوںگی۔ ہوں مقیم واحدو جو ہے یّھل ِج وہ بق مطا کے تعریف نی آ قر اپنی زخ بر
بچہ یا کھ کو کی ہے۔ماں رکھتی بھی جدا جدا انہیں اور ہے چلتی بھی کر لے ساتھ کو اجسام دی ما
بھی الگ الگ تک ئش پیدا کی بچے کو گیوں زند دو کی بچے اور ماں بھی پرہ یا جھلی کی دانی
ہے رکھتاہے۔ چلتا کر لے بھی ساتھ ساتھ اورعالوہ کے تعریف ئنسی سا اس کی زخ بر ِ عالمہما
ہو نہیں کہیں پر ر طو عملی اطالق کا تعریفوں پچو اٹکل ئیں ہو کی میں تفسیروں اور جم ترا رے
تا۔
متفقہ ِ کتب(synoptic gospels)یعنیمتی،میں انجیلوں قاکی لو اور مرقسئش پیدا بارہ دو
(Reincarnation)حضرت میں ہے۔جس ضر حا میں مت خد کی پ آ حوالہ مستند اور ایک کا
ذیا گنا سو سے گی زند دہ جو مو میں گی زند اگلی کو والوں دینے ساتھ کا ان نے السالم علیہ ٰعیسی
بیوی ،بہن بھائی ،باپ ماں ،گھر دہسنائی نوید کی ملنے زمین بچےاورگئی۔
"No one who has left home or brothers or sisters or mother or father or wife or
children or land for me and the gospelwill fail to receive a hundred times as
much in this present age - homes, brothers, sisters, mothers, children and fields
... and in the age to come, eternal life." (Mark 10:29-30)
37. یا باپ یا ماں یا بہنیں یا بھائی یا گھر اپنا لئے کےانجیل اور لئے میرے بھی نے کسی جس
سے زندگی دہ جو مو اپنی میں گی زند کی ہمیشہ والی نے آ وہ ڑا چھو کو زمین یا بچے یا بیوی
گھ اپنے دہ زیا بار سوہو نہیں کام نا میں کرنے صل حا زمین اور بچے ،مائیں،بہنیں ،ئی بھا ، ر
قس گا۔(مر۳۰-۲۹:۱۰)جمہ تر رواں
ئش پیدا بارہ دو وعدہ الواسطہ با یہ کا ٰلی تعا ہللا کہ مائیے فر غور(Reincarnation)کے
کی انسان کسی گا؟ ہو ہوا رہ پو کیسے بغیرایک صرف کا باپ ماں میں دور ایک کے گی زند
عہ مجمو ہی(Set)اپنے نے جنہوں گرد شا رّتس کے السالم علیہ ٰعیسی ۔حضرت ہے سکتا ہو
سو کو ایک ہر میں گی زند سیْا کی ان انہیں ڑے چھو لئے کے ہیٰال ئے ضا ر نوادے خا اور گھر
اتنے اور گھر سو سو ، یاں بیو سوکی ان تو جواب کااس گے؟ ہوں ملے کیسے نوادے خا ہی
ئش پیدا بار سو کم از کم(Reincarnation)ہے۔ ممکن ہی سےنے السالم علیہ ٰعیسی حضرت اگر
ماننے نہ کوپیدائش بارہ دو مگر تھی الگ بات تو تا ہو کیا وعدہ ہی کا بھائیوں بہن سو سو صرف
س پاس کے کلیسا والےمیں بارے کے ملنے کے ؤں ما سو سو اور گھروں سو سو ، بیویوں سو و
با قر میں راستے کے خدا نے جنہوں تھا گیا کیا وعدہ ٹا جھو سے لوگوں ان کیا ۔ نہیں جواب کوئی
؟ دیں نیاں
کی نیو عبراذیل جہ مندریات آ۹:۲۷اور۹:۲۸موت بار ایک صرف ٖ کے کر تراجم غلط کے
بعد کےگیا۔ گھڑا عقیدہ ہونےکا کتاب حساب اکٹھا کا سب دن کے مت قیاکےآیات اناور رائج
انگریزی مصدقہنقل بہو ہو کی جمے تراس اورکاکی پ آ جمہ تر اردومت خدحا میں
ضرہے۔
27 Just as people are destined to die once, and after that to face judgment, 28 so
Christ was sacrificed once to take away the sins of many; and he will appear a
second time, not to bear sin, but to bring salvation to those who are waiting for
him. Hebrews 9:27-28 New International Version (NIV)
سا کا فیصلے بعد کے نے مر بار ایک کو لوگوںگناہ کے سب نے مسیح لئے ہے۔اس ہوتا کرنا منا
کے نے ٹھا ْا بوجھ کا گناہوں ، گے ئیں آ بار سری و د وہ ۔اور دی بانی قر بار ایک لئے کے لینے
نیو ہیں۔عبرا رہے کر ر انتظا کا ان جو کی گوں لو ان کر لے بخشش بلکہ نہیں لئے۲۸-
۹:۲۷
تمام کےئبل باشدہ تسلیمکے لفظ آدھ ایک سوائے ما جمہ تر کا ت یا آ ان کو آپ میں جات نسخہ
ہے۔ ملتا ہی جیسا ایک ًاقریب سے پھیر ہیریت آ۹:۲۷ئی کو جیسے ہے ایسا لکل با بیان ِانداذ کا
اس اسے میںانگریزی "ہے تی جا چل گولی ہی تے دبا بار ایک ڑا گھو کا بندوق " کہ کہے یہ
کہیں طرحگے(Once the trigger is pulled the bullet is fired)،"ْچ بار ایک کو آگلیا ھو
توگےئیں جا جل"(Once you touch the fire it will burn)جا ہو سزا تو ڑا تو نون "قا یا
"گی ئے(Once you break the law you will be sentenced)کی عد قوا کے نحو و صرف
'بار "ایک میں جن ہیں ملتے میں زبان ہر جملے طیہ شر ایسے سے رو(once)کے شمار یا گنتی
"نہی جو " ًات ورہ محا بلکہ نہیں بار ایک سے حساب(As soonas)ہو استعمال میں نی معا کے
کہ ہے تی جا لی مراد یہ سے ہے۔جس تاعم کے م کا کسیہو پذیر لکوئی مشروط سے اس ہی تے
عمل اوربھیہے۔ تا جا ہو شروعیا دبا نہیں تو بار ہی ایک لئے کے گھوڑاہمیشہ کا بندوق جیسے
ج ہی ایسے ،گی چلے لی گو گا ئے جا یا دبا ڑا گھو جب جب جاتابلکہئیں چھو کو آگ بھی بار تنی
ا اور گا جلے ہاتھ گےت گے کریں شکنی نون قا بار بار گروگی۔ ملے سزا بار بارسے نظر اس
38. یت آ کی نیو عبرا۹:۲۷تو گے دیکھیں کوہے تا آ میں سمجھ صاف مطلبموت بھی بار "جتنی کہ
"گا ہو کتاب حساب بعد کے موت ہر گی ہو واقعجا ہو شروع کتاب حساب گی ئے آ موت نہی جو یا
گا۔ ئے)شفۃ (المکا وحی وہ عال کےاس۲۰:۶اور۲:۱۱ہیں چکے کر لعہ مطا ًالتفصی ہم میں
ہے۔ تی آ بار دہ ذیا سے ایک بلکہ نہیں بار ایک صرف موت کہیوحنا۱۶-۱۱:۱۱میںجذا ایک
می)sLazaru(گوں لو اور کئی اورکےاور نے ہو زندہ بعد کے موتبار دوہبیان کا نے مر
ہے۔ ملتا سے تفصیلاول کرنتھیوں۱۵:۲۰میںہے بیان کا نے ہو زندہ بارہ دو بھیحوالوں تمام ان ۔
ب ثا یہ بھی سےآیت نظر ِ زیر کی نیو عبرا کہ ہے تا ہو ت۹:۲۷جو نہیں وہ مطلب کانے کلیسا
میں ضمن کے ت مو لی وا نے آ بار ایک صرفلیاہے۔ہم ابرہ کو مز کی نیو عبراآیات
۹:۲۷اور۹:۲۸کاصحیحمن جمہ ترکےلئ نے ال پر عام ِ ظرےکا ت یا آ انخد پکی آ متناصل
ہیں تے کرپیش میں مت۔
Hebrews9:27 καθ’ ὅσον ἀπόκειται τοῖςἀνθρώποιςἅπαξἀποθανεῖν, μετὰ
δὲ τοῦτο κρίσις•
ایسانظامتشکیلدیاگیاہےکہانسانکےبار ایکمرتےہیاسپرفیصلےکیگھڑیآن
پہنچتیہے۔عبرانیوں۹:۲۷
Hebrews9:28 οὕτως καὶ ὁ χριστός, ἅπαξ προσενεχθεὶς εἰς τὸ πολλῶν
ἀνενεγκεῖν ἁμαρτίας,ἐκ δευτέρου χωρὶς ἁμαρτίας ὀφθήσεται
τοῖς αὐτὸν ἀπεκδεχομένοις, εἰς σωτηρίαν.
کےانجیلبابنہمکیاٹھائیسویںآیتکیوحیکےالفاظیونانیلفظοὕτως'اوٹوز'سے
شروعہوتےہیںجو'ٹوس ہو 'Hotosمصدرکامخرجہےجسکامطلب'اس،طرح'اس
طریقےسے،اسکےبعد' (in this manner, thus or after that)ہے۔اگاللفظ''ہی کاκαὶ
ِحرفربط(conjunction)ہےجسکامطلب'پھر،،اور،بھییہاںتککہ'(and, also,
even, so then)ہوتاہے۔پھراسمِضمیر(Pronoun)‘ھو'آتاہےجوواحدمذکرہےاور
یکساںطورپرعورت،مرداورکسیاکیلیچیزکےلئےاستعمالہوتاہے(he, she , it, that)۔
اسکےبعدکالفظ‘ Χριστὸςکھرستوز‘ہے۔جسکامطلبئنٹڈ انو 'میں لغات انگریزی
'(Anointed)ہے۔یعنیرطوبت کی رحم کے عورت(Smear)،گندمندمیلکچیل،داغ
دھبوںاورآالئشسےلتپت۔کو لفظ اس حضرات ضل فا کچھتیلیاگریسکےکوٹاور
عورتکیدانی بچہکیرطوبت(smear)کےمعنیمیںکر لےگناہوںکااستعارہ
(Metaphor of sins)بھیہیں لیتے۔مگرمذثر متا سے نظریات ہبیاور دی یہو یا
عیسائیعلماءکیلغاتٹرانسلیٹر گل گو اور(Google Translator)میںاسلفظکاترجمہ'
مسیح'کیاگیاہےجواصل کے وحیمتنکےلحاظسےبالکلغلطاورگمراہکنہے۔اگر
آپکسیبھیمعیاریغیرجانبدارلغت(dictionary)میںاسکےمعانیدیکھیںگےتو
آپکووہیمعانیملیںگےجویہاںپردرجکئےگئےہیں۔کی نے کر غور عالوہ کے اس
' عہد ' نیوں عبرا نہم باب کا نجیل ا کہ ہے بھی یہ بات(Covenant)،' عہد ِ 'تجدیدِ ئش پیدا اور
نونات عنوا کےمشتمل پرعہد ۔ ہےسے خدا کہ ہے سکتا ہو کیسے یہ میں منظرپس اس کے
سر اپنے السالم علیہ ٰعیسی حضرت نبی کے خدا بوجھ کا عہدی بد کی ْن ا اور کریں عہد لوگ
انہیں کے کرا معاف گناہ کے امتیوں سب پنے ا مت قیا ِ روز خر اآل با اور پھریں ئے ٹھاْا پر
دالنجات سے ب عذا کے جہنم' لفظ اگال بعد کے اس ۔ دیں' ہپیکسἅπαξآتاہےجس
کامطلب'باری'(turn)ہےکئیلغاتاسکاترجمہ'ایکبار' (once)بھیکرتیہیں۔' لفظ پھر
' فیرو پروسπροσενεχθεὶςہےجسکامطلب'،الناساتھلےجاناجانا دیا ،اورسلوک
39. (Deal)کرناہوتاہے۔اسکےبعدحرفِ' جرآئس'ειςآتاہےجسکامطلبًانتیجتوقت
کےلحاظسےکسیجگہیاکسیمقامپرپہنچناہوتاہے۔پھ'ھو ' رτοآتاہےجوکسیخاص
چیز،اکیلیعورتاوراکیلےمردکیضمیرکےطورپراستعمالہوتاہے۔پھراگاللف' ظپو
لوس'πολλῶνہےجسکامطلببہت،سا،کثیر،لمبالمباعرصہاوراکٹھا(many,
much, abundant, long , long time or altogether)ہوتاہے۔اسکےبعدفعل'انافیر'و
ἀνενεγκεῖνآتاہےجسکامطلبٹھاْانا،قبولکرنااورآگےلےکرجاناہے۔اسکےبعدکا
' لفظہمرتیہ'ἁμαρτίαςہےجسکامطلبمنزلسےبھٹکجا،ناغلطیاورگناہکاسرذد
ہوناہے۔پھرحرفِج' رائیک'ἐκآتاہےجسکامطلبکسیعملیاتحریککانقطِآغاز
یاابتداءہے۔جوبراہِراستیاباالواسطہکسیعملکیوجو،ہاتجگہاوروقتکےساتھمشروط
ہے۔پھر'ڈیوٹرس‘کالفظδευτέρουدوبارہ،دوسریجگہاوردوسرےمرتبےکے
تواتراورباربارکےمعانیمیںآتاہے۔اسکےبعدلفظ'خوریسχωρὶς ’آتاہےجواگر
' تو ہو اسمایکجگہمگر پرعلیحدہعلیحدہلفظ یہ لیکن ہے۔ دیتا مطلب کا 'اکثرحرفِجرکے
طورپرجو ہے ہوا ل استعما'کیطرفسے،کےعالوہ،خودکیطرف،سےکےبغیر'کے
معانیمیںآتاہے۔اسکےبعد'ہمار' تیہἁμαρτίαςلفظ کاآتاہےجوکسیگناہیاجرمکےمنا
سبخالصےکےطورپراستعمالہوتاہے۔پھرزِہمانمستقبلمیںتیسرےواحد(third person
singular)شخصکےلئےفعل'اوپتناوماہ' یοφθησεταιآتاہےجسکامطلب'ظاہر،
خودظاہرہونااوردیکھناہوتاہے۔چونکہیہفعلمجہولی(passive)حالتمیںہےاسلئے
دکھاجا یانااورظاہرکیاجاناکےمعانیمیںآئےگا۔اسکےساتھاسمِضمیر'ھ' وτοις
ْاسعورت،ْاسآدمییااسچیزکےلئےیا آہے۔اسکےبعدواحدمذکرکیذاتیضمیر'او
'توزαυτονہےجو'خود'کےمعانیمیںمعکوسضمیربنکےتیسرےشخصیادیگرافراد
ہے تی کر طب مخا کو۔پھر'اپیکدیکھاوماہ' یαπεκδεχομενοιςفعل وہہےجوکسیبا
تکیمکملتوقعرکھنےکےلئےاستعمالکیاجاتاہے۔پھرحرفجر'آئس' ειςرہ با دوآتاہے
جوکسیعملکےنتیجےمیںکسیگھڑییامقامپرپہنچنےیامقصدکینشاندہیکرتاہے۔آ
خریلفظ'سوتیر' یاσωτηριανآتاہےجواسمہےاوریہجسمانییااخالقیطورپربچا
نے(Rescue)یاامن،سالمتیاورحفاظتکیفرا،ہمیصحتیامصیبتسےنجاتنے پا
(Salvation)کےلئےاستعمالہوتاہے۔
کرام ِ رین قایت آ اس کی نیو عبرا۹:۲۷کےاصلذیل جہ مندر ترجمہ صحیح ممکنہ سے متن
ہےلئے کے ء بقا کی یات نظر اپنے صرف نے والوں کلیسا جوتک آجلوگوںس ہوں نگا کیے
تھا۔ رکھا کر جھل او
اسطرحایکبارپھروہگناہوںمیںلتپتشخصاپنےتمامگناہوںکابوجھاٹھائےاپنے
اسیمقامپرواپسجاتاہے(کی رحم کے رت عورطوبتمیں)جہاںسےوہگناہوںکےبغیر
شروعمیںچالتھا۔وہاوردیگرافرادجونجاتکیامیدلگائےبیٹےہیںکا ں اعمالیو بد اپنی
نتیجہخوددیکھلیںگے۔نیو (عبرا۹:۲۷)جمہ تر ہوا کیا خود سے متن اصل کے
اسکوایسےبھیسمجھسکتےہیںکہ"عورتسے رحم کےایکبارنکالہواشخصجب
موتکےبعدواپسآتاہےتووہاپنےتمامگناہوںسمیتدوبارہوہیںبھیجدیاجاتاہے
جہاںسےوہنکالتھا۔پھرجولوگاپنیغلطکاریوںکےنتائجسےبچنکلنےکیتوقعرکھتے
ہیںوہاپنےساتھہونےواالسلوکخوداپنیآنکھوںسےدیکھلیںگے"۔نیو (عبرا۹:۲۷کے
)جمہ تر ہوا کیا خود سے متن اصل
40. قاِرینکرامکہہیں سکتے کر خود پ آ فیصلہوحیکااصلمتنکیابیانکررہاہےاور
عیسائیوںکےبھٹکےہوئےعلماءاسکاترجمہاورتشریحکیاکررہےہیں؟نیو عبرا
۹:۲۸کظ الفا کے متن اصل ےگز ہرکہ کہتےنہیں یہسب بار پہلی السالم علیہ ٰعیسی حضرت '
ہی ایک دن کے مت قیا بار دوسری اور ہوئے رخصت سے دنیا اس کے ٹھاٌا جھ بو کا ہوں گنا کے
دال نجات کے کر زندہ کر نکال سے قبروں کو دوں رْم ہوئے تے سو سب بار'گےآئیں نےبلکہ
تو یہاںشرو سے پیٹ کے ماں طرح اسی گی زند رہ با دو بعد کے موتہے بیان کا نے ہو ع
پہلے جیسےتھی۔ ہوئی
ئیے د کے والوں کلیسا خرت آ اپنی بھی وہ نہیں کم بھی والے مسجد کیوں ہی والے کلیسا
کتاب حساب ہی تے مر کہ ڈرتے نہیں سے بات اس بھی ہیں۔وہ دیکھتے ہی میں ئینے آ ہوئے
یّسر کی گز رّتس کہ کےتنبیہ اس کی آن قر وجود با اور گا جائے ہو شروعکی گی زند (اگلی
سے ڈاک واپسی انہیں کے باندھ میں گلے کے موں مجر )عمرھا سیدگا۔ جائے کیا رسید جہنمہم
دئیے کتاب ب حسا بغیر بعد کے موت کہ ہیں مبتال میں فہمی خوش اسی تک بھی امختل غیرنیند
دن کے قیامت گا۔پھر رہے نہیں قی با ہی احساس کا وقت میں جس گے ٹیں وْل مزے کےہو زندہ
نہ افسا اچھا گے۔ مائیں فر قیام میں دوس الفر جنت کے(Fiction)نے نے فسا تراشیدہ اس ہےمگر
ْا کی نے بنا )آخرت ( گئی۔مستقبل ہو پید نا جہد و جد کی دی۔عمل رکھ کے توڑ کمر کی مسلمہ ِ امت
ڈ کا خرت آ اور خدا ِ ۔خوف گئی ہو ختم وہ ہے دیتا آن قر جو العزمی لوخرت آ کہ کیوں ہا ر جاتا ر
پیچھے سے موں قو سب ہم سے وجہ کی دیاجس پھینک باہر کے نکال سے ایمان اپنے نے ہم کو
م نظروں کی نیا د اورگئے رہ کے ہو خوار و ذلیل یںکا اس ہے جاتا دیا زوربہت پر ایمان ۔لفظ
ن ئی دکھا بھی پھر امن مگر تاہے جا لیا سے امن بھی ماخذت ا ّجر اتنی میں کسی کہ ۔کیوں دیتا ہیں
ہیکہ دے بتا یہ کو لوگوں کے کھول آن قر ئے بجا کی توں با کی ادھر ادھر کہ نہیںای اصلن ما
نکہ کیو ؟ کیا ہےفا ئی کو کا ایمان لے لو لنگڑے بغیر الئے ایمان پر ئیے نظر آنی قر کے آخرت
بلکہ نہیں بعد یوں صد کئی وہ گے کرو آج جو کہ جائے ہو کامل ِ یقین پر بات اس اگر ۔ نہیں ئدہ
اور گا جائے ہو مل کا بھی ایمان را ہما گاتو پڑے نا بھر میں گی زند اگلی والی نے آ ہی کلبہت
کر ئع ضا وقت محظ تو جاتا کیا نہیں سب یہ ۔اگر جائےگا ہو بھی تمہ خا بخود د خو کائیوں برا سی
واال ر چا پر کے الت خیا کے شدوں مر یا جائے کیا کر لکھ بیں کتا وہ خواہ ہے بات والی نے
بل والی نے آ نہیں تبدیلی کوئی سے موں کا جائے۔ان کیا کر دے آن قر ِ درسنیک کو کاماس کہکام
لو نے انہوں کہ گے ہوں دہ جواب ضرور ر حضو کے ٰلی تعا ہللا گ لو والے نے کر کر سمجھ
نہ کو لوگوں کیوں ڈاال؟ پردہ پر ئی اّسچ کیوں کیا؟ کیوں ہ گمر مزید کو گوںقر کہ یا بتا یںکیا آن
ہے کہتا؟
نو ِ ئش پیدا(reincarnation)جسے ہے حقیقت وہکی آن قر ہم کہ کیوں سکے نہیں سمجھ ہم
آ ِ ورّصت ئے ہو گھڑے کےپوپ اور پال بجائےخلقت ری پو تو وہ ہیں۔ رکھتے ایمان پر خرت
کتاب حساب کےاس پر دن ہی ایک کے ہونے زندہ بارہ دو کر نکل سے قبروں اور فیصلے ،
لئےایمانسے سمان آ انہیں کہ ہیں رکھتےکہ تا ہے۔ انتظار کا اترنے کے مسیح یسوعجبوہ
ئیوں عیسا میں دن ہی ایک تو آئیں واپسکو ردوںْم ہوئے ئے سو میں قبروں کےسے موت
کے جگاکہ ہے کہتا آن قر تو ہمیں ہیں؟ رہے کر انتظار کا کس ہم دیں۔مگر دال نجات انہیںتم
گئے کئے پیدا اکیلے اکیلے جیسےکا ےّذر ےّگے۔ذر ؤ جا واپس اکیلے اکیلے ہی ویسے ہو
گا کرےنہیں بھی عت شفا کوئی اور گا ہو حساب!
ن خا شف کا کٹر ڈا