Download free for 30 days
Sign in
Upload
Language (EN)
Support
Business
Mobile
Social Media
Marketing
Technology
Art & Photos
Career
Design
Education
Presentations & Public Speaking
Government & Nonprofit
Healthcare
Internet
Law
Leadership & Management
Automotive
Engineering
Software
Recruiting & HR
Retail
Sales
Services
Science
Small Business & Entrepreneurship
Food
Environment
Economy & Finance
Data & Analytics
Investor Relations
Sports
Spiritual
News & Politics
Travel
Self Improvement
Real Estate
Entertainment & Humor
Health & Medicine
Devices & Hardware
Lifestyle
Change Language
Language
English
Español
Português
Français
Deutsche
Cancel
Save
Submit search
EN
Uploaded by
hanazir
DOCX, PDF
3,126 views
محبت کے چالیس اصول ترجمہ محمود غزنوی
Forty rules of love urdu translation
Spiritual
◦
Read more
2
Save
Share
Embed
Embed presentation
Download
Downloaded 19 times
1
/ 8
2
/ 8
Most read
3
/ 8
4
/ 8
Most read
5
/ 8
Most read
6
/ 8
7
/ 8
8
/ 8
More Related Content
PDF
10 Reasons Why You Need More Transparency at Work
by
Weekdone.com
PDF
Effective Time Management Techniques to Teach Your Employees
by
BizLibrary
PPT
Chapter 12 communication&interpersonal skills
by
Việt Hoàng Dương
PPT
personal and organizational values
by
Lolit Orlanda
PDF
Entrepreneurship power point slides
by
President Career Development Academy
PPTX
Interpersonal Dynamics at work
by
HackerEarth
PPTX
Values and its formation
by
Karishma Chaudhary
PPTX
Teamwork culture
by
Eric Nhan Le
10 Reasons Why You Need More Transparency at Work
by
Weekdone.com
Effective Time Management Techniques to Teach Your Employees
by
BizLibrary
Chapter 12 communication&interpersonal skills
by
Việt Hoàng Dương
personal and organizational values
by
Lolit Orlanda
Entrepreneurship power point slides
by
President Career Development Academy
Interpersonal Dynamics at work
by
HackerEarth
Values and its formation
by
Karishma Chaudhary
Teamwork culture
by
Eric Nhan Le
Similar to محبت کے چالیس اصول ترجمہ محمود غزنوی
PDF
Urdu - Wisdom of Solomon.pdf
by
Filipino Tracts and Literature Society Inc.
PDF
Urdu - Ecclesiasticus the Wisdom of Jesus the Son of Sirach.pdf
by
Filipino Tracts and Literature Society Inc.
PDF
Urdu - The Epistles of Paul the Apostle to Seneca, with Seneca's to Paul.pdf
by
Filipino Tracts and Literature Society Inc.
PDF
گوہر اور گوہر شناشی
by
maqsood hasni
PDF
Urdu - Testament of Gad.pdf
by
Filipino Tracts and Literature Society Inc.
PDF
Urdu - The Epistle of Apostle Paul to Titus.pdf
by
Filipino Tracts and Literature Society Inc.
PPTX
Teaching of Ghalib in Mauritius Powerpoint
by
Meherhossen1
PDF
Urdu - Testament of Benjamin.pdf
by
Filipino Tracts and Literature Society Inc.
PDF
ڈاکٹر مقصود الہی شیخ کے چار خط
by
maqsood hasni
PDF
Urdu - Testament of Asher.pdf
by
Filipino Tracts and Literature Society Inc.
PDF
ہر فن مولا
by
maqsood hasni
PDF
Intresting Muhammad
by
Sarkash Tehri
DOCX
احتساب اور انسان کی پیدائش نو حصہ اوّل
by
Dr Kashif Khan
PDF
حسرت موہانی کی شاعری کی خصوصیات ۔۔۔۔۔۔خصوصیت.pdf
by
ssuserccd37a1
PDF
The Book of the Prophet Habakkuk-Urdu.pdf
by
Filipino Tracts and Literature Society Inc.
PDF
Kahawatain sarwar alam raaz sarwar u.pdf
by
RizwanOpai1
PDF
کماؤ سوچ
by
maqsood hasni
PDF
Urdu - Testament of Naphtali.pdf
by
Filipino Tracts and Literature Society Inc.
PPTX
Significance of Education of Urdu Language in Alleviating Contemporary Econom...
by
Lucknow Educational And Development Trust (LEAD Trust)
PDF
طلاق
by
maqsood hasni
Urdu - Wisdom of Solomon.pdf
by
Filipino Tracts and Literature Society Inc.
Urdu - Ecclesiasticus the Wisdom of Jesus the Son of Sirach.pdf
by
Filipino Tracts and Literature Society Inc.
Urdu - The Epistles of Paul the Apostle to Seneca, with Seneca's to Paul.pdf
by
Filipino Tracts and Literature Society Inc.
گوہر اور گوہر شناشی
by
maqsood hasni
Urdu - Testament of Gad.pdf
by
Filipino Tracts and Literature Society Inc.
Urdu - The Epistle of Apostle Paul to Titus.pdf
by
Filipino Tracts and Literature Society Inc.
Teaching of Ghalib in Mauritius Powerpoint
by
Meherhossen1
Urdu - Testament of Benjamin.pdf
by
Filipino Tracts and Literature Society Inc.
ڈاکٹر مقصود الہی شیخ کے چار خط
by
maqsood hasni
Urdu - Testament of Asher.pdf
by
Filipino Tracts and Literature Society Inc.
ہر فن مولا
by
maqsood hasni
Intresting Muhammad
by
Sarkash Tehri
احتساب اور انسان کی پیدائش نو حصہ اوّل
by
Dr Kashif Khan
حسرت موہانی کی شاعری کی خصوصیات ۔۔۔۔۔۔خصوصیت.pdf
by
ssuserccd37a1
The Book of the Prophet Habakkuk-Urdu.pdf
by
Filipino Tracts and Literature Society Inc.
Kahawatain sarwar alam raaz sarwar u.pdf
by
RizwanOpai1
کماؤ سوچ
by
maqsood hasni
Urdu - Testament of Naphtali.pdf
by
Filipino Tracts and Literature Society Inc.
Significance of Education of Urdu Language in Alleviating Contemporary Econom...
by
Lucknow Educational And Development Trust (LEAD Trust)
طلاق
by
maqsood hasni
محبت کے چالیس اصول ترجمہ محمود غزنوی
1.
بنام مصنفہ ترک
ایکElif shafakناول کاForty Rules of Loveمطالعہ ِزیر عرصہ کچھ رہاکو اثرات اسکے پر شخصیات دونوں اور مالقات کیتبریزی شمس اور روم موالنا میںہے۔۔جس انکا کہ ۔۔۔سوچا ہیں اقوال کےتبریزی شمس دراصل اصول چالیس یہ ہے۔ گیا کیا بیان میں پیرائے عمدہ کچ اصول چالیس کے محبت جائے۔۔۔۔چنانچہ کیاشئیر کرکے ترجمہ:ہیں یوں ھ 1-ہمارے میں بارے کےشخصیت اپنی ہماری دراصل وہ ،ہیں رکھتے گمان جو میں بارے کے خدا ہم اس یہ تو ابھرے ہی خوف اور الزام محض میں ذہن سے ذکر کے خدا ہے۔اگر ہوتا عکس ایک کا گمان پنپ میں گھٹن کی سینے اپنے ہمارے تراشی الزام اور خوف کہ ہے عالمت کی باتاگر اور ہے۔ رہی چھلک سے شفقت اور محبت بھی ہم ّایقین تو ،دے دکھائی ہوا چھلکتا سے شفقت اور محبت ہمیں خدا ہیں۔ رہے 2-کو عقل ،بناؤ مرشد اولین اپنا کو دلاپنے نہیں۔ کا دماغ ہے راستہ کا دل دراصل راستہ کا سچائی دل کیلئے کرنے مقابلہ اور سامنا کا نفس اپنے نہیں۔کی خدا ہی پر روح تمہاری کیونکہ لو مدد کی ہے۔ ہوتا نزول کا معرفت عشق ہے اولیں ِمرشد کا نگاہ و دل و عقل تصورات ِہبتکد ،دیں و شرع تو ہو نہ عشق 3-ہے۔ پاتا سمجھ ہی مطابق کے گہرائی کی ادراک و فہم اپنے کو قرآن ،شخص ہر واالپڑھنے قرآن ہ درجات چار کے فہم کی قرآنکئے قناعت پر اسی اکثریت تر زیادہ اور ہیں معانی ظاہری درجہ پہال یں۔ درجہ چوتھا اور ہے۔ بطن کا معنوں باطنی ان درجہ تیسرا ہے۔ کا معانی باطنی درجہ دوسرا ہے۔ ہوئے ہیں۔ بیان ِناقابل یہ چنانچہ ہوسکتی نہیں قادر پر بیان انکے زبان کہ ہے حامل کا معنوں عمیق قدر اس علمدوسرا ہیں۔ پر درجے پہلے یہ ،ہیں رہتے کرتے غوروخوض پر احکامات کے شریعت جو فقہاء و اء ربانی انکے اور مرسلینانبیاء صرف درجہ چوتھا ہے۔ کا اولیاء درجہ تیسرا ،ہے کا صوفیہ درجہ اپن کونوعیت کی تعلق اس اور تعلق ساتھ کے ٰتعالی ہللا کے انسان کسی تم پس ہے۔ کا وارثینےقیاس نوعیت اپنی ایک کی بندگی ِاظہار اور ہے راستہ اپنا اپنا کا شخص ہر کرو۔ کیا نہ فکر کی جاننے سے رواج و رسوم مذہبی یہ ہے۔ دیکھتا کو دلوں ہمارے بلکہ نہیں کو اعمال و الفاظ ہمارے بھی خدا ہے۔ ہے۔ پاکیزگی کی دل تو چیز اصل ہیں۔ نہیں مقصود خود ِبذات 4-کائ تمکسی صرف خدا کیونکہ ہو سکتے دیکھ نشانیاں کی خدا میں ہرشخص اور شئے ہر کی نات تو ہو نہ تسلی تمہاری بھی پھر اگر لیکن ہے۔ نہیں محدود تک صومعے اور گرجے کسی یا مندر ،مسجد ڈھونڈھو۔ میں دل کے صادق ِعاشق کسی کو خدا
2.
5-ک کو لوگوں
عقل ہیں۔ چیزیں مختلف دو ،دل اور عقلکسی اور ہے جکڑتی میںبندھن کسی نہ سی ہمیشہ عقل ہے۔ دیتا لگا پر داؤ آپ اپنا ہوکر آزاد سے بندھن ہر دل لیکن ،لگاتی نہیں پر داؤ کو چیز کہتا دللیکن لینا۔ مت اثر زیادہ کا کیفیت کسی دیکھو کہ ہے رکھتی قدم کر پھونک پھونک اور محتاط ڈوب اور کرو ہمت ،گھبراؤ مت کہ ہےکرتینہیں فراموش آپ اپنا سے آسانی عقل میں۔ کیفیت جاؤ میںویرانوں تو بھی خزانے اور ہے۔ تیار وقت ہمہ کیلئے ہوجانے فنا اور بکھرجانے تو عشق جبکہ ہے۔ ہوتا مدفون خزانہ تو ہی میں دل شکستہ ایک ہیں۔ ملتے تلے ملبے 6-کوتاہی کی زبان اور الفاظ مسائل تر زیادہ کے دنیاہیں۔ لیتے جنم سے کرنے اخذ معانی غلط اور وں میدان کے عشق اور محبت جب کرو۔ مت محدود کو خود تک سطح ظاہری کی الفاظ بھی کبھی چنانچہ سے لفظ کسی جو وہہیں۔ بیٹھتے کھواہمیت اپنی اظہار و زبان اور بیان الفاظ تو ہیں رکھتے قدم میں ہی سے خاموشی صرف اسکو ،ہوسکے نہ بیانہے۔ جاسکتا سمجھا 7-مبتال میں فہمی غلط اس تو ہیں ہوتے اکیلے اور تنہا ہم جب ہیں۔ چیزیں مختلف دو ، خلوت اور تنہائی ہوئے ہوتے تنہا آدمی کہ ہے یہی خلوت لیکن ہیں۔ پر رستے سیدھے ہم کہ ہے ہوجاتا آسان بہت ہوجانا ایسے کسیتنہائی ہماری کہ ہے بہتر ہو۔ نہ تنہا بھیایک لئے ہمارے جو ہو آباد سے قدم دم کے شخص درست اپنا تم ہی میں دل کے انسان دوسرے کسی صرف کہ رکھو یاد ہو۔ رکھتاحیثیت کی آئینے بہترین ،ہے ہورہا ظہور کا جلوے مخصوص جس کے خدا میںشخصیت تمہاری اور اور ہو سکتے دیکھعکس تم میں قلب ِہآئین کے انسان دوسرے کسی صرف وہگا۔ دے دکھائیہیں -یقین ہونا۔ مت کبھی مایوس ،لگے لگنے نہ کیوں دشوار ہی کتنی زندگی ،ہوجائے بھی کچھ میں زندگی راہنئی کوئی نہ کوئی کیلئے بندے اپنے کریم ِخداوند بھی تب ہوجائے بند دروازہ ہر جب کہ رکھو جار اچھا کچھ سب جب کرو۔ کرُش میں حال ہر ہے۔ دیتا کھول ضروربہت کرنا شکر وقت اس ،ہو ہا اور عطا ساتھ اسکے میں جن ہے ہوتا گذار شکر پر باتوں ان صرف نہ صوفی ایک لیکن ہے آسان گیا۔ رکھا محروم اسے سے جن ہے کرتا ادا شکر بھی پر باتوں تمام ان بلکہ ،گذرے معاملہ کابخشش کر۔ُش میں حال ہر ،منع یا ہو عطا 9-نہی کانام بات اس صبرسے عمل کے برداشت ہاتھوں کے بسی بے ہوکر معطل ِعضو انسان کہ ہے ں معامالت کہ ہو حامل کا نگاہ وسیع اور اندیش دور اتنا انسان کہ ہے یہ مطلب کا صبر بلکہ رہے۔ گذرتا کو کانٹے تم جب کہ ہے یہ صبر ہے؟ کیا صبر رکھے۔ بھروسہ پر رب ہوئے رکھتے نظر پر انجام کے تمہی تو دیکھوِصبح میں اس تو پڑے نظر پر اندھیرے ھپُگ کے رات جب دے۔ دکھائی بھی پھول ں کے معاملے کہ ہو نظر کم اور بین کوتاہ اتنا انسان کہ ہے یہ صبری بے دے۔ دکھائی بھی اجاال کا صادق ،چھوڑتے نہیں سے ہاتھ کبھی دامن کا صبر ہیٰال ِعاشقان جائے۔ رہ قاصر سے ڈالنے نظر پر انجام کیووقت کچھ کیلئے ہونے تبدیل میں کامل ِہما کو چاند باریک کے پہلی کہ ہیں جانتے طرح اچھی وہ نکہ ہے۔ پڑتا گذارنا ضرور
3.
10-بھی کوئی سمت
کی سفر تمہارے پڑتا۔ نہیں فرق کچھ سے سب جنوب۔۔۔ان ، شمال ،مغرب ،مشرق ضرور سفر داخلی کا ذات ،سفر ہر کہ رہے ضرور دھیان یہ بس ،ہواندرون کے ذاتاپنی تم اگر بنے۔ کچھ جو اور کائنات پوری یہ ساتھ تمہارے تو کرو سفر باطنی کا تک مقام دوسرے سے مقام ایک میں ہیں۔ ہوجاتے سفر ِشریک بھی وہ ،ہے ماوراء سے اس 11-اسی ،ہے پڑتا گذرنا سے مرحلے کے کرب و درد کیلئےپیدائش کی بچے کو ماںایک طرح جس ای طرحدن ایک طرح جس ہیں۔ پڑتی اٹھانی ضرور سے تکالیف کیلئے دینے جنم کو شخصیت نئی ک ،ہے پڑتی کرنی برداشت حدت اور شدیدگرمی ،کیلئےبکھیرنے ساتھ کے شدت پوری روشنی اپنی کو سکتی۔ پہنچ نہیں کوتکمیل بغیر کے درد اور دکھ بھی محبت طرح اسی 12-کرکےتبدیل ہمیں تالش کیمحبتجسے گذرانہیں مسافر کوئی ایسا میں عشق ِہرا ہے۔ دیتی رکھ ،ہو کرتے شروع سفر کا تالش کی محبت تم لمحے جس ہو۔ کی عطا نہ پختگی کچھ نہ کچھ نے راہ اس ہے۔ ہوجاتا شروع گذرنا سے عمل کے تبدیلی باطن اور ظاہر تمہارا 13-ج میں دنیا جتنے ہوں نہ ستارے اتنے شائد پر آسمانتم ہیں۔ جاتے پائے شیوخ ناقص اور ھوٹے کا ذات اپنی اور ہو پجاری کانفس جو مالنا مت سے مرشد ایسے کسی کو مرشد سچے کسی بھی کبھی ہی نہ اور گا کرےنہیں کوشش کیبنانے اسیر کا ذات اپنی تمہیں بھی کبھی مرشد سچا ایک ہو۔ اسیر ت و تعریف اور تابعداری سے تم کیلئےنفس اپنےوہ برعکس اسکے بلکہ گا۔ کرے تقاضا کا صیف و شیشے کسی تو مرشد کامل اور سچے گا۔ کروائے متارف سے شخصیت حقیقی اور اصل تمہاری تمہیں سکے۔ پہنچ تک تم کر ھن ِچ پر طور کامل سے میں ان نور کا خدا تاکہ ہیں ہوتے ف شفا مانند کی 14-اسکی ،رہو تیار کیلئےاستقبال اسکے ،آئے میں راستے تمہارے تبدیلی بھی جو میں زندگی اس بناسکے۔ راستہ اپنا کر گذر سے میں تم کہ دو موقع کا بات اس کو زندگی بلکہ کرو مت مزاحمت ت تبدیلی والی آنے کہ پتہ کیا تمہیں ہیں۔ آرہے فراز ونشیب میں زندگی کہ کرو مت فکر کی باتمہارے حالت؟ موجودہ یا ہے بہتر میں حق 15-ساتھ کے انسان ہر خدا کیلئے تکمیل ہے۔جسکی پارہ فن تکمیل ِتشنہء ایک انسان ہرداخلاور ی انفرادی ساتھ کےایک ہر سے میں ہم خدا ہے۔ عمل مسلسلایک یہ ۔ ہے کار ِمصروف پر طور خارجی ہے کرتا معاملہ پر سطحای انسانیت کیونکہکلطیف بیحدپر جس ہے شہکار کا مصورینفیس اور نقطہ ایک ہر واال جانے کیاثبتہے۔ ہوتا حامل کا اہمیت یکساں کیلئے تصویر پوری
4.
16-ایکسی آسان تو
بظاہر کرنا محبت سے خدا پاک سے نقص کے طرح ہر اور ذات برتر و بلند لیکن ،ہے۔ ہوتی معلوم باتمش زیادہ کہیں سے اسانسان کہ ہے یہ بات کلسے جنس ابنائے اپنے جان کو اسی انسان کہ رکھو یاد ہیں۔ جاتی پائی خامیاں اور کمزوریاں کی طرح ہر میں جن کرے محبت ہے سکتاجب ہوتی۔ نہیں معرفت معرفت کوئی بغیر کے محبت ہو۔ قادر پر کرنے محبت وہ سے جس س نہیں کرنا محبت سے تخلیق کی ہللا ہم تکتک تب ،یکھتےہللا کہہوسکتے نہیں قابل اس ہمسے پائیں۔ جان اسکو اور کرسکیں محبت پر طور حقیقی 17-اصلتو ناپاکیتو سب باقی ہے۔ ناپاکی کی اندرہے۔ جاتا ُھلد سے آسانیبس کی غبار و گرد اور نفرت ہے وہ اور ،ہوپاتی نہیں صاف سے پانی پاکیزہ جو ہے قسم ہی ایککے تعصب،دھبےجو دنیا ِترک تم ہیں۔ کردیتے آلودہ کو روحسے رکھنے روزے اور سےاپنےحاصل تو تزکیہ کا بدن لیکن ،ہو کرسکتےتزکیہ کا قلبہوگا۔ ہی سے محبت صرف 18-پوریتم ہے۔ موجود اندر کے انسان ایک کائنات پوری کیتمہیں کچھ جو گرد ارد تمہارے اور دکھائچیزیں تمام ،ہے دیتا یخواہ لوگ تمام ،ناپسند یا ہوں پسند تمہیں خواہتمان کیلئےرغبتکرتے رمحسوس،کراہت یا ہودرجے کسی نہ کسی اندر اپنے تمہارے سب کے سب یہ غیر ایسی ئی کو شیطان کرو۔ تالش اندر اپنے بلکہ ،دیکھو مت باہر کو شیطان ،چنانچہ گے۔ ملیں میں معمولیایک والی ابھرنے سے اندر تمہارے بلکہ ، ہے ہوتی آور حملہ سے باہر پر تم جو نہیں قوت تم اگر ہے۔ نام کا آواز سی معمولیاور روشن کے ذاتاپنی کبھی سے دیانت اور محنت پوری تاریکگوشوںعظیم ایک پر تم تو ہوجاؤ قابل کے دیکھنے کوکا شعور برتر اورگ کھلے دریچہا۔ وہ تو ہے لیتا جان کو آپ اپنے شخص کوئی جبہے۔ لیتا جان بھی کو رب اپنے 19-کہ ہو چاہتے تم اگرلئے اسکے تو ،کردیںتبدیل کو رویے اور کو برتاؤ اپنے ساتھ تمہارے لوگ ہو۔ ہوئے رکھے روا ساتھ کے آپ اپنے تم جو ہوگا کرناتبدیل کو رویے اس تمہیں پہلےتک جبتم آ اپنےسے پاور سے خلوص پورے،سیکھتے نہیں کرنا محبت طرح پوریتمہیں کہ ہے مشکلبہت ہو۔ نصیب محبتاورجبپھر تو ہوجائے حاصل مرتبہ یہرہو گذار شکر بھی کیلئے کانٹےسُا ہر جوپھول عنقریب پر تم کہ ہے عالمت کیبات اس یہ کیونکہ جائے۔ پھینکا میں راستے تمہارے بھینچہونگے۔ ھاور 20-پر قدم پہلے اپنے توجہ اپنی بلکہ ،گا جائے لیکر کہاں راستہ کہ ہو مت پریشان پر بات اس رکھو۔پھر تو ،اٹھالیا قدم پہال جب ہے۔ کام سےمشکل سب یہی اور ہے داری ذمہ تمہاری یہیاسکے میں انداز قدرتی اپنے کو شئے ہر بعددو کرنے کامک گے دیکھو تم اورجائ کھلتا خودبخود راستہ ہے ہے۔ ہوتا بہاؤ ایک اپنا جسکا جاؤ بن لہر ایک خود بلکہ ،بہو مت ساتھ کے بہاؤ گا۔ 21-اپنی کو سب ہم نے سُاکیا پیدا پر صورتسب ہم باوجود اسکے لیکن ہےسے دوسرےایک بھ کوئی نہیں۔ جیسے ایک انسان دو بھی کوئیہیں۔ ممتاز ویکتا اور مختلفدو یپر طور یکساں دل اگر دھڑکتے۔ نہیںچاہتا وہچنانچہ بناتا۔ ہی جیسا ایک انکو وہ تو ،ہوجائیں جیسے ایک لوگ سب کہ اباختالفات انکیکرنا کوشش کی کرنے مسلط پر دوسروں کو افکار اپنے اور کرناتنقیص وتوہین حک پایہ بلند اور قدر و قضا کی عالم ِپروردگار دراصلمتہے۔ مترادف کےتوہین کی
5.
22-واال چاہنے سچا
اسکا جبمیں میکدے کبھیمیکدہ وہ تو ،پہنچے جاو محراب لئے اسکے بہکا کوئی اگر لیکن ،ہے کرلیتا اختیار صورت کی مصلےتو جائے چال بھی میں مسجد خوار مئے ہوا میخانہ لئے اسکے وہہیں کرتے ہم بھی کچھ جو ہے۔ جاتی بنکا دل ہمارے تو کردار اصل میں اس کا اندر ہمارے ،ہےصوفی نہیں۔ کا ظاہر ، ہےنہیں سے قطع وضع انکی اور حلئے انکے کو لوگوں کرچکا بند کو آنکھوں دونوں اپنی دراصل وہ تو ہے جماتا نگاہ اپنی پر کسی صوفی ایک جب جانچتے۔ ہ میں قلب اسکے سے(جو آنکھ تیسری ایک اور ہے ہوتا)ےہوتا رہا لے جائزہ کا اندر کے منظر اس ہے۔ 23-ایک کاحقیقت اصل اور ہے ناپائیدار مانند کی ادھار ایک تو زندگینقل۔ اور خاکہ سا دھندال پر کھلونوں لوگ ،باوجود اسکے لیکن ہیں۔ بہلتے سے کھلونوں بجائے کیحقیقت اصل ہی بچے صرف انہی سے قدری بے یا ہیں ہوتے فریفتہتوڑ ںقسم ہر میں زندگی اس ہیں۔ ڈالتےکیس انتہاؤںدور ے صوفی ہے۔ دیتی بگاڑ کو توازن اندرونی تمہارے انتہاپسندی کیونکہ ،رہوپ انتہا میں رویوں اپنےسند بلکہ ہوتے نہیںہیں۔ ہوتے نرم اور متوازن 24-کو انسان میںسلطنت کی پروردگارحاصل مرتبہ و مقام خاص بہت، کہا نے ہللا ہے۔می اور "ں روح اپنی اندر اسکے نےگیا کیا پیدا ساتھ کے قابلیت اس کوایک ہر سے میں ہم دیا"۔ پھونک سے میں وہ کہ ہےپوچھو سے آپ اپنے سکے۔ بن خلیفہ اسکاہیں؟ جیسے خلیفہ اسکے اعمال تمہارے کیا کہ کہ رکھو یاداس ہم کہ ہے الزم پر ہمر رحمانیوح)ہے گئی پھونکی میں ہم (جوکواندر اپنے جئیں۔ ساتھ اسکے اور پہچانیں ، کریں دریافت 25-ِلمحہء اسی ہیں یہیں دوزخ اور جنت کیونکہ چھوڑدو رہنا فکرمند میں بارے کے دوزخ اور جنت ،ہیں کرتے محسوسمحبت ہم بھی جب میں۔ موجودایک کاجنتجب اور ہیں کرتے طے زینہبھی اور حسد ، نفرتتر بد بھی سے اس کیا ہیں۔ ہوتے میں زد کی لپٹوں کی دوزخ،ہیں پڑتے میں جھگرے جب ہے ہوسکتا دوزخ کوئییہ میں گہرائیوں کی دلاپنے شخص کوئیکہ پائے احساساس سےاس ہے۔ ہوگیا سرزد کام برا اور غلط بیحد کوئیبتائے تمہیں وہ کردیکھو پوچھ سے شخصگکہ ا جب ہے ہوسکتی جنت کوئی بھی بڑی سے اس کیا اور ہیں۔ کہتے کسے دوزخخاص پر شخص کسی میں لمحاتہے ہوتی نازل سکینت وہجبہیں ہوتے کشادہ دریچے کے کائنات پر اساورانسان ساتھ کے رب اپنےکی قربمیں حالتابدیتہے؟ ہوتا ہمکنار سے اسرار کےشخص اس پوچھو ہے۔ ہوتی کیاجنت کہ گابتائے تمہیں وہ ،سے 26-کوئی ہر یہاں ہے۔ واحد ِوجودایک کائناتسے دھاگوں مرئی غیر کے واقعات اپنے اپنےایک ہے۔ ہوا لپٹا ساتھ کے دوسرےمیں انجانے جانے سب ہمایککو کسی ہیں۔ حصہ کا مکالمے خاموش ،دو نہ دکھرک برتاؤ کا شفقت اور نرمیخواہ کرو مت برائی اسکی پیچھ پیٹھ کی کسی ،ھوایبے ک زبانوں ہماری بار ایک جو الفاظ ہو۔ نہ کیوں ہی جملہ سا ضررنہیں فنا کبھی وہ ،ہیں آتے نکل سے بلکہ ہوتےایکواپس میں وقت مقرر اپنے اور ہیں ہوجاتے محفوظ کیلئے ہمیشہ میں وسعت المحدود باآل ہیں۔ پہنچتے آن تک ہمآدمی بھی خر،کسیکو سب ہم ،تکلیف کیمبتال میں دکھ اجتماعی ایک اورکسی گی کرجائےآدمی بھیگی۔ بنے باعث کا مسکان پر ہونٹوں کے سب ہم خوشی کی 27-دنیا یہہر گئی کی بلند جہان ہے طرح کی پہاڑ برفانی اسکر ٹکرا سے پہاڑوں ،آوازبازگشت تم ہم واپس میں صورت کیواپس تک تم ،گے کرو بات بری یا اچھی کوئی تم بھی جب ہے۔ پہنچتی
6.
ہر جو ،نکالو
سے منہ کلمات برے کیلئے شخص ایسے کسی تم اگر اب چنانچہ گی۔ آئے کرپلٹ ضرور اور گا بنادے گھمبیر بھی اور کو معاملے اس یہ تو ،ہے رہتا سوچتا برا تمہارا وقتقوتوں منفی تمکے ہو ختم نہ ایکچکر والے نے،کہو برا کچھ لئے اسکے تم کہ اسکے بجائے گے۔ رہو گھومتے میں ہر بعد دن چالیس کہ دیکھنا تم ،نکالو سے منہ بات اچھی اور سوچو اچھا لئے اسکے تک دن چالیس محسوس مختلف شئےتم کیونکہ ،ہوگیہوگئے۔ تبدیل سے اندر اور رہےنہیں جیسے پہلے 28-تعبیر ایک ماضیمستقبل جبکہ ،ہے نظر نقطہ ایک ہے( مایاIllusionہے۔ سراب ایک ، ہے ) کی مستقبل سے ماضی جو گذرتی نہیں سے میں دھارے کے وقت مینشکل کی مستقیم ِخط ایک دنیا بلکہ ،ہو رہا جا طرفسے اندر ہمارے وقتہوئی پھیلتے بتدریجالمتناہی( قوسوںSpiralsکی ) میں صورتہ گذرتاابدیت ے۔تم اگر ہے۔ نام کا ہونے ماورا سے وقت بلکہ نہیں کو وقت المحدود ابدیروشنیکومستقبل اور ماضی تو ہو چاہتے ہونا حامل کےدونکال سے ذہن اپنے میں موجود ِلمحہء فقط اورہمیشہ اور ہے کچھ سب اور تھا کچھ سب ہی موجود ِلمحہء یہ رہو۔ باقی گا۔ رہے 29-تقدیکو بات ہر ہے۔ گیا دیا رکھ کرباندھ پر طور مکمل کو زندگی تمہاری کہ نہیں مطلب یہ کار آہنگ ہم ساتھ کے کائنات اور دینا چھوڑ پر مقدرکی جہالت ،محض کرنا نہ کوشش کوئی کیہونے مختلفچالیس اسکے اور ہے رہی پھوٹ سے طرف ہر موسیقی کائناتی ہے۔ عالمتدرجاتہیں۔ تمہاکیا نہ تبدیل ساز تمہارا کہ ہے ہوسکتا ہو۔ رہے بجا ساز اپنا تم پر جس ہے درجہ وہ مقدر را جو سے ساز اس لیکن ،جاسکےہو نکالتے تم ُھند جو اور نغمہصرف اور صرف انحصار اسکاتم ہے۔ پر 30-صوفی سچااگر کہ ہے فرد ایسا،جائے لگائی تہمت ناحق کوئی پر اساورسم ہراس سے ت پروہ بھی تب ،ہو بوچھاڑ کی مالمتاور ہے جھیلتا سب یہ ساتھ کے صبرکے والوں کرنے تنقید وہ نکالتا۔ نہیں سے منہ لفظ ایک خالفلگاتا۔ نہیں الزام میں جواب کے الزاماسکا اورکوئیمخالف اوردشمنکہ ٰحتیبھی ہو ""غیرہے کیسےسکتانزدیک کے اس جبکسیہی وجود کوئی کا غیر کسی کسطرح وہ چنانچہ ،ہے معدوم سے نفس اپنے خود تو وہنہیں۔سمجھے مخالف یا دشمن اپنا کو جبہے؟ نمائی جلوہ کی ذات واحد ہی ایک صرف اور صرف وہاں 31-لئے اسکے تو ہو چاہتے کرنا مضبوط ایمان اپنا تم اگراندر اپنے تمہیںکرنا دور سختی کی ہوگہے۔ درکار دل نرم زیادہ بھی سے پروں کے پرندے کسی کیلئے ایمان مضبوط طرح کی چٹان ی۔ ، حادثات ،بیماریاں میں زندگیاور ٹوٹنا کا تمناؤں ، نقصانمعامالت دیگر کئی کے قسم اسہمارے ہمیں تاکہ ہیں آتے پیش لئے اسی ساتھقلب ِرقت،کریں عطاخودغرضیوں ہمیںنکال سےیںنکتہ ، رویے کے چینیتو لوگ کچھ سکھائیں۔ دلی کشادہہمیں اور کریںتبدیلہوجات نرم کر سیکھ سبقے ہیںلوگ کچھ اورتلخ اور مزاجسخت زیادہ بھی سے پہلےہوہیں۔ جاتےہونے قریب کے ٰتعالی حق کہ ہے ضروری کیلئےکہ ہوں کشادہ اتنے قلوب ہمارےانسانیت تمامماساسکے اور سکے سما یں بعدرہے۔ باقی گنجائش کی محبت مزید میں ان بھی 32-،پادری کوئی ،امام کوئیربی کوئیاور تمہارے بھی کوئی سے میں قائدین مذہبی و اخالقی اور روحانی تمہارا اور ایمان تمہارا کہ ٰحتی چاہئیے۔ ہونا نہیں حائل بیچ کے رب تمہارےبھی مرشدنہ۔ یں
7.
کے لوگوں تم
کرو۔اگر مت مسلط پر دوسروں انکو لیکن ،رکھویقین ضرور پر اصولوں اور اقدار اپنے فریضہ مذہبی بھی کوئی تو ،ہو رہتے توڑتے کو دلوںلئے تمہارے دینا انجامق ہر ۔ نہیں مند سودسم کوبینائی روحانی تمہاری یہ کیونکہ رہو دور سے پرستی بت کیصر گی۔ دے دھندالرب اپنے فکو سمجھو۔ حقیقی ِمرشد اپناان لیکن ،کرو حاصل ضرور اورمعرفت علمزندگی اپنی کو معارف و علوم بناؤ۔ مت مقصد کا 33-کسی نہ کسی کوئی ہر جہاں میں دنیااسجہد جدو کیبننے کچھ نہ کچھ اور پہنچنے پر مقامکرتا ،ہےحاالنکہاسے دنایک کچھسب یہچھ یہیںصرف اور صرف تم میں ایسے ،ہے پڑجاتا وڑنا دو۔ قرار مقصد اپنا کو نیستی اور نایافتاتنے میں زندگیجاؤ بن سبککہ جتناہندس کا صفرہوتا ہ لیکن ،ہوں نہ کیوں نگار و نقش ہی کتنے خواہ پر برتن ہیں۔ طرح کی برتن ایک ہم ہے۔ک اسکاارآمد ج ہے سے وجہ کی خال اس صرف ہوناہے بناتا برتن اسے ہی خال یہ ،ہے اندر اسکے واور یہیہمیں خال اور نایافتہیں۔ رکھتے درست بھیہمیں حصول کا مقصد کسی، رکھتا نہیں متحرک یہی بلکہہے۔ رکھتا دواں رواں ہمیں جو ہے شعور کا پن خالی 34-کہ نہیں مطلب یہ کا رہنے برضا راضی اور کرنے خم تسلیم ِسرہمہوکر عمل بےمعطل ِعضو (جبریت یہ ہی نہ اور ہوجائیںFatalismتعطیل یا )(Capitulation)ہے۔اسکے تو یہ بلکہبالکل قوت اصل ہے۔ برعکسجو لوگ وہ ہے۔ پھوٹتی سے اندر ہمارے جو قوت ایسی ،ہے میں رضا و تسلیم زندگی(الوہی کیDivine)حقیقتتسلیم ِسر سامنے کےاور سکون دائمی ایسے ہ و،ہیں کردیتے خم کہ ہیں رہتے میںسکینتاگرسکون اس بھی تب ہوجائے مبتال میں فتنوں موج در موج جہان سارا پڑتا۔ نہیں خلل کوئی میں 35-،ہیں رہے رہ ہم جہاں میں دنیااساور یکسانیت،جاتی نہیں لیکر آگے ہمیں ہمواریت بلکہتضاد اور مخالفتبھی جتنے دنیامین اور ہے۔ جاتا لیکر آگےمیں ہم سب وہ،ہیں امور متضاد کے ایک ہر سےجاتے پائے بھی اندرکے اندر اپنے کہ ہے ضروری کیلئے مومنایک چنانچہ ہیں۔ کے اندر اپنے بھی کو کافرایک اور ملے۔ ضرور سے کافرمومن خاموشچاہئیے۔ کرنا دریافت کو تد ایک ایمانریجییعنی مخالف اسکے لئے جسکے ہے سفریقینی بےتاوقتیکہ ہے الزم ہونا کا جاپہنچے۔ تک مقام کے کامل ِانسان ،انسان 36-دنیاردعمل اسکے اور عملہے۔ قائم پر اصول کےبھی ذرہ ایک کا برائی یا قطرہ ایک کانیکی لوگو رہتے۔نہیں بغیر کئے پیدا نتیجہ یا ردعمل اپناچالبازیوں اور دہیوں دھوکہ ،سازشوں کی ںکا تو ہے رہا کر تیار جال لئے تمہارے کوئی اگر ۔ کھاؤ مت خوفہللا کہ رکھو یادبھیخیر الماکرینپتا ایک ہے۔ ساز سےاچھامنصوبہ سب اور ہےعلم اسکے بھینہیں بغیر کے اجازت اور پر ہللا بس ہلتا۔پوری اور ساتھ کے سادگیخوبصورت بہت ،ہے کرتا بھی کچھ جو وہ رکھو۔یقین طرح ہے۔ کرتا سے طریقے 37-خدابین باریک بہتہے۔ ساز گھڑی کاریگر ہی بڑا اورکہ درست اتنااپنے چیز ہر پر زمین نہ اور پہلے سے وقت لمحہ ایک نہ ،ہے۔ ہوتی پذیر وقوع پر وقت مقررہتاخیر لمحہ ایکسے۔اور عظیم یہسبھی ،کےاستثناء کسی بغیر ،گھڑیہر ہے۔ کرتی کام پر طور درست اور ٹھیک بالکل کیلئے کیلئے ایکمحبتہے۔ مقرر لمحہ ایک کا موت اور
8.
38-پوچھیں سوال یہ
سے آپ اپنے ہم میں مرحلے بھی کسی کے زندگی اگر نہیں حرج کوئی "کہکیاروش اپنی اور زندگی ِطرز اپنا میںتیار کیلئے بدلنے آپ اپنا میں کیا ہوں؟ تیار کیلئے بدلنے میں دنیا اگر ہوں؟"۔بھی دنایک کا زندگی ہماریحسرت بڑی تو گذرے مساوی کے دن ہوئے گزرے ، آن ہر ، لمحہ ہر ہے۔ مقام کالیتے چاہئیے،نیاجنم رہنا کرتے تجدید اپنی ہمیں ساتھ کےسانس اورہر نی اور چاہئیے۔ رہناکیلئے لینے جنم امرجانا۔ پہلے سے ہے۔۔۔موت طریقہ ہی ایک 39-لُک اسکا لیکن ،ہے رہتا ہوتا تبدیل جزوسے دنیا ہے۔ رہتا ہی ویسا کا ویسےکوئ بھی جبچور ی ولی اور صالح ہر اور ہے۔ جاتا کردیا پیدا شخص نیا ایک کیلئے لینے جگہ اسکی ،ہے ہوتا رخصت ڈاکو پ ہونے رخصت کےبیک سے طریقے اس ہے۔ لیتا سنبھال جگہ اسکی ولی اور صالح دوسرا کوئی ر وقتلیکن ہے جاتی ہوتی تبدیل شئے ہرمیں حقیقت مجموعیہوتی۔ نہیں واقع تبدیلی کوئی 40-مت ہے۔ معنی بے زندگی بغیر کےمحبتکی محبت کی قسم کس مجھے کہ سوچوتالش ہے؟،جسمانی یا روحانیملکو،ناسوتی یا تیپیدا تقسیم مزید تقسیم یہ کی محبت مغربی۔۔۔ یا مشرقی کوئی کا محبت ہے۔ کرتیہوتا نہیں عنوانکوئی ہی نہ ،( تعریف مخصوصDefinitionیہ ۔ )تو حیات ِبآ محبتبس۔ ہے چیز خالص اور ،سادہ ایکاور ،ہے بھیجب ہے۔ بھی روح کی آتشآتش کرتمحبت سے آبتو ،ہے یمختلف ایک کائناتمیں نئےانداز اور روپہے۔ ہوجاتی پذیر ظہور
Download