مسلمان کا مقصدحیات
اللہ تعالی کا قرب ﴿جنت﴾ حاصل کرنا
تو اس منزل تک پہنچنے کا راستہ ، طریقہ
کار؟
اھدنا الصراط المستقیم
دن میں کم از ک ۳۲ مرتبہ لازمی دھرایا
جاتا ہے
تو کتنا اھم ہے یہ سوال
ن
ٓ
تو اس صراط مستقیم کی تفصیل قرا
2.
ٓ
کے معنیراستہ کے ہیں اور راستے کے لیے قرا یں ۸ الفاظ
صراط ن م
استعمال ہو ئے ہیں۔
۱۔ طریق : یہ لفظ ہر طرح کے راستہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس لفظ کا استعمال
مادی اور معنوی دونوں صورتوں میں ہوتا ہے۔
مادی استعمال کی مثال :
هُ
َ
اضْرِبْ ل
َ
سْرِ بِعِبَادِي ف
َ
أ
ْ
ن
َ
ى مُوسَ ى أ
َ
ا إِل
َ
وْحَيْن
َ
دْ أ
َ
ق
َ
وَل
ُ
اف
َ
خ
َ
ت
َ
بَحْرِ يَبَسًا لا
ْ
ا فِي ال
ً
رِيق
َ
مْ ط
ى
َ
ش
َ
ت
ْ
خ
َ
ا وَلا
ً
دَرَك ) 77 ( سورہ طہ
اور معنوی استعمال
﴾۴/ ولا لیھدینھم طریقا الا طریق جھنم ۔﴿ ۱۶۸
اور نہ ہ ى اللہ ان کافروں
کو راہ دکھلائے گا مگر جہنم کی راہ۔
3.
۲۔ صِراط ،صُ راط لمبى اور تیز دھار تلوار کو کہتے ہیں ﴿منجد﴾
اور وہ راستہ جو جہنم کو عبور کر نے کے لیے بنایا جائے گا جسے عام طور پر
پل صراط کہا جاتا ہے اور اس کی بھی یہى صفت بیان کی گئى ہےکہ وہ
تلوار سے تیز اور بال سے باریک ہوگا۔ گویاصراطوہ راستہ ہے جسے
انتہائی حزم و احتیاط سے طے کرنا پڑے اور جس کے ارد گرد بہتخطرات
ہوں اور اس انتہائی حزم و احتیاط سے راستہ طے کر نے کا نام تقوی ہے ۔
• صراطکا یہ لفظ مادی اور معنوی دونوں صورتوں میں استعمال ہوتا
ہے۔ معنوی صورت میں اس کا مفہوم بالعموم ہدایت کا راستہ ہے
• ابو ہلال کے نزدیل صراط سہل راستہ کو کہتے ہیں
• معنوی استعمال : اھدنا الصراط المستقیم
• لفظی استعمال : ولا تقعدوا بکل صراط توعدون و تصدون عن سبیل اللہ
۷﴾ اور ہر راستہ پر مت بیٹھا کرو اور جو شخص خدا پر ایمان /۸۶﴿
لاتا ہے اسے تم ڈراتے دھمکاتے ہو اور راہ خدا سے روکتے ہو۔
4.
۲۔ سبیل :ہر وہ راستہ جس پر بسہولت چل سکیں ۔ ابن سبیل بمعنى مسافر اور عاب ری سبیل
بمعنى راہ گیر
• اور سبیل بمعنی کھلی سڑک ۔
ٓ
• اسبل الطریق : مدورفت والا ہونا
راستہ کا بہت ا
ٓ
ا
• اسبل الدمع والمطر : نکھوں اور بارش کا باکثرت بہنا برسنا
ٓ
• مدورفت ہوتی ہے۔
گویا سبیل ایسے راستہ کو کہتے ہیں جہاں کثرت سے ا
• فاسلکی سبل ربک ذللا : نحل ۹ ۶ اور اپنے رب کے صاف رستوں پر چلتی جا ۔
• یہاں سبل سے مراد فطری راہنمائی ہے جو اللہ نے جو اللہ تعالی نے ہر چیز میں ودیعت کر رکھی ہے اور
سانی چلا جا سکتا ہے اور سب یکساں چلتی ہیں ۔ اور اس لفظ کا بھی استعمال
ٓ
جن پر با لفظی اور
یت میں
ٓ
معنوی ﴿اصطلاحی﴾ دونوں معنی میں ہوتا ہے اوپر ا معنوی استعمال تھا۔
۱۵ اور وہ ﴿شہر ، لوط کی بستی﴾ اب تک سیدھے / • مادی استعمال کی مثال: و انھا لبسبیل مقیم ۷۶
راستے پر موجود ہے۔
5.
• اب دیکھےکہ اللہ تعالی نے اس ”ہدایت کے راستہ“ کے لیے
ٓ
قرا ن کریم میں
طریق ، صراطاور سبیل تینوں الفاظ
استعمال فرمائے ہیں یہ طریق اس لحاظ سے ہے کہ
طریق کا لفط عام ہے جو ہر راستہ کے لیے استعمال ہوتا
ہے ۔ صراطاس لحاظ سے ہے کہ امر و نواہ ی کے حد ود
و قیود میں گھرا ہوا ہے اور سبیل اس لحاظ سے ہےکہ
جو شخص عزم کے ساتھ اس راستہ پر چل کھڑا ہوتا
سانی
ٓ
ہے تو شریعت نے اس کے لیے ہر طرح کی ا وں کو
ملحوظ رکھا ہے اور اس پر چلنے و الے افراد کی تعداد بھی
کافی ہے۔
6.
۴۔ فج :فجة دو پہاڑوں کے درمیان کشادگی کو اور
فجوة دو پہاڑوں کے درمیان کے میدان ور فج اس کھلے
راستہ کو کہتے ہیں جو اس میدان میں سے گذر کر ان
دونوں پہاڑوں کو ملاتا ہے ﴿ فج کی جمع فجاج﴾
و اذن فی الناس بالحج یاتوک رجالا و علی کل ضامر
۲۲ ﴾ اور لوگوں میں حج / یاتین من کل فج عمیق ﴿ ۲۷
کے لیے ندا کرو کہ تمہاری طرف پیدل اور دبلے پتلے
تے ہوں
ٓ
اونٹوں پر جو دور دراز رستوں سے چلے ا ﴿سوار
ئیں۔
ٓ
ہو کر ﴾ چلے ا
7.
۵۔ امام :۱۔ پیشوا ۲۔ شاہراہ ، بڑی اور کھلی سڑک •
• فانتقمنا منہم و انہما لبامام مبین ۔ سو ہم نے ان سے بدلہ
لے لیا اور وہ دونوں بستیاں بڑی شاہراہ پر واقع ہیں۔
۱۵ ﴾۔ /۷۹﴿
۶۔ نجد : ۱۔ گھاٹی ۲۔ وہ راستہ جو اوپر بلندی کی طرف •
تا ہے۔
ٓ
چڑہتا ہے یا اوپر سے نیچے ا
۹۰ ﴾ اور / • و ھدینہ النجدین فلا اقتحم العقبة ﴿ ۱۰
انسانوں کو دونوں راستے دکھا دیے مگر وہ گھاٹی پر سے
ہو کر نہیں گذرا۔
8.
۷۔ ھدی :﴿ضد ۔ ضللة ﴾ راہنمائی اور راہ ۔ اگر کس ی بھو لے
بھٹکے انسان کو صحیح راہ مل جائے تو اسے ھدی کہا جائے گا ۔
تیکن منھا بقبس او اجد علی النا
ٓ
نست نارا لعلی ا
ٓ
انی ا ر ھدی ۔
ٓ
۲۰ گ دیکھی ہے ﴿میں وہاں جاتا ہوں﴾ شاید /۱۰﴿
﴾ میں نی ا
گ کے مقام
ٓ
اس میں سے تمھارے پاس انگاری لاوں یا اس ا ﴿پر بیٹھے
لوگوں﴾ سے راہ معلوم کرسکوں ۔
۸۔ سبب : بمعنی ذریعہ ، رس ی ، راستہ ۔ راستہ اور اس کو طہ
کر نے کے وسائل ۔ سامان سفر
۱۸ پھر ذوالقرنین نے ایک اور سامان ﴿سفر﴾ کا / ثم اتبع سببا ۸۹
کیا
9.
•و قال فرعونیھامان ابن لی ص رحا
۴۰ ﴾ اور / لعلی ابلغ الاسباب﴿ ۲۶
فرعون نے کہا اے ہامان میرے لیے
ایک محل تعمیر کر تھ کہ میں
﴿اس پر چڑھ کر ﴾ رستوں پر پہنچ
جاوں۔
10.
ما حصل :
۱۔ طریق : راستہ کا عام لفظ
۲۔ صراط: ایسا راستہ جس پر محتاط ہو کر چلنا پڑے
ٓ
۳۔ سبیل : سانی چل سکیں اور ک
وہ راستہ جس پر با افی
ٓ
ا
مدورفت رہتی ہو۔
۔ فج : دو پہاڑوں کے درمیان کھلا ۴راستہ
۵۔ امام : شاہراہ ، کھلی سڑک
۶۔ نجد : کس ی گھاٹی پر چڑھنے اور اتر نے والی راہ
۷۔ ھدی : بھو لے بھٹکے انسان کو اگر ٹھیک راستہ مل جائے
۸۔ سبب: راستہ بمعہ سامان ۔ رستہ ۔ ذرائع
1. AL Hamdonly for Allah, What the link of this
“Ayat” to our life? Because here is no doubt
that “Hamd” is only for Allah and Allah is the
creator and the owner of every thing.