More Related Content
PPTX
PPT
PPTX
تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل فائنل.pptx PDF
اسلام - آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا.pdf PPTX
تحریک اسلامی کامیابی کی شرائط سید مودودی.pptx PPTX
DOC
DOC
Similar to 2624-1.doc
PPTX
islamic civilization.pptx PPTX
PPTX
تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں از سید مودودی.pptx PDF
توحید اور اس کی اقسام تحریر انجینئر توصیف قادر PDF
Terminologies of Tassawuf wo Salook PDF
PPTX
جماعت اسلامی کا مقصد، مسلک اور طریقہ کار.pptx PPTX
A Study of Surah Al-Zumar سورہ زُمر کا مطالعہ PDF
Sunnat Kise Kehte Hai.pdf PDF
PDF
PDF
PDF
PPT
Mn1 sec 1 - les 1 - (mn intro) DOCX
صَلَاةٌ –ہم نے قرآن کےساتھ کیا سلوک کیا؟حصہ سوم PPTX
Bar gah nabwi ki hazri uploaded by javid iqbal sodagar DOC
PDF
PDF
PPTX
destinyتقدیر اور ایمانیات - مسئلہ جبر و قدر More from Noaman Akbar
DOC
DOCX
Comparative Study of Loans and Advances of Commercial Banks.docx DOC
DOC
DOC
DOCX
Financial Accounting Assignment No 04.docx DOC
DOCX
Meaning and Significance of Comparative Education.docx DOCX
Introduction to Secondary Education.docx DOC
DOCX
The Role of Globalization in Education.docx DOC
DOCX
School Organization & Classroom Management.docx DOC
DOC
DOC
DOCX
Introduction to Psychology Preseant.docx DOCX
Foundation of Education Preseantati.docx DOCX
over pollution as a social problems.docx DOC
2624-1.doc
- 1.
1
ANS 01
د ،بنانابہتر ،کرنا پاک سے عیوب ، کرنا اصالح مفہوم کا تہذیب ۔ ہیں کے ہدایت و اصالح معنی کے تہذیب
، کرنا رست
تا کے نظریے یاسوچ کسی نہکسی عمل کا انسان باشعور ہر ہے۔ بنانا اخالق اورخوش دینا وتربیت تعلیم
۔ ہے ہوتا بع
بنیکی سوچنے عمل کا انسان مند ہوش
عار سے سمجھنے سوچنے ذہن کا انسان باختہ حواس کہ جب ہے پر اد
ہوتا ی
لیتے کے درستگی اور اصالح معنی کے تہذیب ہم ۔جب ہے ہوتا مقصد بے اور غلط عمل ہر کا اس لیے اس ۔ ہے
ہیں
۔ ہےہوتی نتیجہ فکرکا اور سوچ کسی نہکسی درستگی اور اصالح یہ تو
ا سوچ کسی تہذیب میں تناظر اس
اس ۔ ہے ہوتی پذیر ظہور اصالح اثرکوئی زیر کے جس ۔ ہے نام کا نظریے ور
طرح
کسی اثر زیر کے نظریے و عقائدانھی اور ہے جاتی ہو ظاہر میں شکل عملی ) نظریہ یاسوچ ( غلط اور درست
پرکھنے کو تہذیبکی قوم کسی لیے اس ۔ ہیں چڑھتے پروان عناصر تمام کے زندگی عملی میں معاشرے
ک
اس لیے ے
ماننے اپنے جو ہیں تحریکیں اور قوتیں وہ عوامل میں ضمن ۔اس ہیں جاتے پرکھے عقائد و نظریات کے قوم
والوں
۔ ہےکردیتی پرگامزن راستےمخصوص اپنے انھیں ہوئے کرتے متعین راہیں کی عمل و فکر کے
کہ بھی ایمان اجزائے جو ہے مبنی پر عقائد بنیادی پانچ تہذیباسالمی
تاصولی اور بنیادیوہ یہ ہیں۔ التے
جو ہے علیم
فرش کے اس ، ماننا کو خدا ایک میں عقائداسالمی ۔ ہیں رہے دیتے کو کاروں پیرو اپنے نبی کے زمانے ہر
اور توں
بطوربھی جوکام میں زندگیاسالمی ۔ ہے ضروری النا ایمان پرزندگی کی خرتٓا اور کتابوں سمانیٓا ، رسولوں
فرائض
(
رسول ہدایت ، ربی حکم
)ﷺ
ال ایمان پر اسالم دین ا ذ ٰلہ ۔ ہیں عنصر کے تہذیباسالمی سب وہ ہیں جاتے کیے
نے
ہ انداز اثر پرزندگی عملی کی اس نظریات یہی اور ہےہوتی تابع کے تعلیماتاسالمی فکر کی شخص والے
۔ ہیں وتے
ج ہیںذیل درج خصوصیات اہم اور بنیادیکی تہذیباسالمی
ہیرکھتی حیثیت کی روح میں معاشرے اسالمی و
۔ ں
ک پیدا شجاع اور جرات میں انسان عقیدہ یہ ۔ ہےخصوصیت پہلی کی ذہن اسالمی عبادت کی خالق ایک ) الف (
۔ ہے رتا
ک اس ہے۔ کرتا خدا شریک کو کسی نہ اور ہے ڈرتا سے کسی کے ہللا ماسوائے واال کرنے عبادت کی خدا ایک
یقین ا
ب اور
مایوس ۔کبھی ہے چھوڑتا پر خدا نتیجہ الکر کار بروئےکو صالحیتوں اپنی وہ ہے ہوتا پر ہللاھروسہ
ہوتا نہیں
۔ ہے رہتامشکور پر رضاکی ہللا ہمیشہ ہوجائے نہ کیوں ہی ناکام بظاہر خواہ
- 2.
2
کی خدا ایکسب بھیجے نے ہللا میں دنیا کرام انبیائے تمام کہ ہے عقیدہ کا مسلمان )ب (
تعلیم کی عبادت
۔ رہے دیتے
ک ضرورتوں کی زمانے اگرچہ ۔ تھیں کڑیاں مختلف کی سلسلے ہی ایک اور مقصد ہی ایک کرام انبیائے تمام
لحاظ ے
مس ۔ تھی ایک کی سب تعلیم بنیادی مگر تھا فرق میں )زندگی قوانین (شریعتوں کی کرام انبیائے سے
نبیکسی لمان
۔ ہےسمجھتا کفر جھٹالنا کو
۔ ہےخصوصیت کی معاشرے اسالمی تکریم و عزت کی کرام انبیائے تمام
عمرا لٓا ٔسورہ ہو مالحظہ ۔ ہے حاصل درجہ کا دین کو ہی اسالم کہ ہے ایمان کا مسلمان میں روشنی کی نٓاقر )ج (
ن
یتٓا
19
اور
85
نے پیروکاروں کے کرام انبیائے پہلے کہ ہے ہوجاتیواضح بات یہ سے عقیدے اس ۔
کے اسالم
نئے
۔ ہے تآا ذکر کا ناموں کے مذاہب دیگر میں جس ۔ لیے رکھ نام
بھ تحت کے مقصد ایک میں دنیا انسان اور ہے زمائشٓا اور امتحان محض زندگی دنیاوی نزدیک کے مسلمان )د (
یجا
کرتا برداشت لیے اس کو تکلیف اور نقصان ہر ہوئے چلتے پر ہدایت کی ہللا مسلمان ۔ ہے گیا
امت تاکہ ہے
میں حان
ا ۔ ہے فانی دنیا کہ جب ہے ابدی زندگی کی خرتٓا ۔ ملیں راحتیں ًانتیجت میں زندگی کی خرتٓا اور ہو کامیابی
لیے س
۔ ہے کرتا محسوس قلب سکون بھی میں تکالیف بلکہ ہوتا نہیں مایوس پر ناکامیوں مسلمان ایک
رسالت و دین تکمیل میں مجید نٓاقر نے ہللا )ہ (
ﷺ
یتٓا مائدہ ٔ
ہسور ہو مالحظہ ( ۔ ہے فرمایا اعالن کا
3
ٔ
ہسور اور
یتٓا احزاب
40
ک تحریف نے کاروں پیرو کے ان میں ہیہٰال کتب اور تعلیمات کی کرام انبیائے پہلے چونکہ ۔ )
ہے ردی
رک اٹھا نے ٰ
تعالی تبارک ہللا خود ذمہ کا حفاظت کی حکیم نٓاقر گئیں۔ ہو عمل ناقابل وہ ذا ٰلہ
ہو مالحظہ ( ۔ ہے ھا
ٔ
ہسور
یتٓا حجر
9
رسول کے اس لیے کے اطاعت کی ہللا میں نٓاقر ۔ )
ﷺ
حضر یعنی ہے حکم کا کرنے اختیار اطاعت کی
ت
محمد
ﷺ
محمد رسول میں شعبے ہر کے زندگی اپنی مسلمان لیے اس ۔ ہے ہدایت کی اتباع کی
ﷺ
ح رہنمائی سے
اصل
النبی سیرت اور ہیں کرتے
ﷺ
حس ٔ
ہاسو کو
النبی سیرت ۔ ہیںسمجھتے ) نمونہ عملی بہترین ( نہ
ﷺ
اسالمی
کی تہذیب
۔ ہےخصوصیت ترین اہم
مسلمانو نے ٰ
تعالی ہللا ۔ ہےبخشتی وسعت عالمگیر کو معاشرے مسلم اخوت عالمگیر کی تہذیباسالمی )و (
ایک کو ں
ٓا دسویں کی حجرات ٔ
ہسور کی مجید نٓاقر ۔ ہے کردیا منسلک میں برادری
موم ( ترجمہ ، ہے ربانی ارشاد میں یت
تو ن
ض اس ۔ ہیںسمجھتے اپنا کو خوشی و غم کے دوسرے ایک مسلمان لیے اس ۔ ) ہیں بھائی بھائی میں پسٓا سب
من
۔ ہے مظاہرہ عملی کا اخوت عالمگیرحج میں
احترام اسے ساتھ کے حکم کے کرنے سلوک نیک سے مسلمان کو مسلمان ایک اسالم دین )ز (
ت کی انسانیت
ہذیب
وہ اگر ،کھالئے کھانا کو مسلم غیرنڈھال سے بھوک ، جائے کیا نہ ظلم پر انسان کسی کہ ہے سکھاتا بھی
ہوتو بیمار
ن اسے تو ہے مبتال میں مصیبت کسی وہ اگر ، کرے کوشش پوری کی بچانے جان کی اس معالج مسلمان ایک
جات
تبلیغ کی اسالم دین ۔ کرے کوشش کی دالنے
ن حکم کا زبردستی سے کسی ۔ ہےمحدود تک سمجھانے صرف
۔ ہے ہیں
کے ان ۔ کریں پیروی کی مذہب اپنے وہ کہ ہے حاصل زادیٓا مذہبی پوریکو مسلموں غیر میں ریاستاسالمی ہر
جان
ہے داری ذمے کی ریاستاسالمی حفاظت کی مال و
مل سے مسلمان ایک جب مسلم غیر ایک کہ ہے یہ اسالم دین ۔
ت
ا
ہے اعتماد قابل سے لحاظ ہر جو ہے مال سے انسان صفت ہمہ ایسے ایک واقعتا کہ ہے کرتا محسوس وہ تو ہے
اور
۔ ہے اطمینان باعث ہمراہی اور ہمسائیگیکی اس
- 3.
3
نہیں قائم میںموجودگی کی تہذیب دوسری کسی تہذیب بھی کوئی
سکتی رہ
تہذی سے وجہ کہ جس
کے بوں
او حفاظت اپنی درمیان
تصادم ہے۔یہ جاتا ہو ناگزیز تصادم لیے کے ترقی ر
چار
ہوت کا نوعیت مختلف
ہےیعنی ا
رہتے میں کوشش اس ہمیشہ والے ماننے کے تہذیب ایک لہذا ۔ اورعسکری، اقتصادی ،سیاسی ،فکری
کہ ہیں
کے تہذیب مخالف ذریعے کے ملٹری تو یا آغاز کا جس ،دیں شکست سے لحاظ ہر کو تہذیب مخالف وہ
ل
وگوں
سیاسی پر ان یا ہے ہوتا سے کنٹرول راست براہ پر
طریقے
کو لوگوں اپنے
دےکر حکمرانی
ا تاکہ
قتصادی
کو لوگوں پر طور فکری اور
۔ سکے جا الیا پر تہذیب اپنی
ہے مضبوط تہذیب سرمادرانہ سے لحاظ عسکری اور سیاسی ،اقتصادی میں دنیا آگرچہ آج
فکری لیکن
کسی سے اعتبار
مسلم بھی آج میں ممالک مسلم لہذا ۔ ہے ہوتا مشکل بہت دینا شکست کو تہذیب بھی
کی انوں
اکثریت
اپنی باوجود کے ہونے کمزور سے اعتبار عسکری اور اقتصادی ، سیاسی
بنیادیعنی فکری
و قران
قائم پر سنت جبکہ ہے
باعث کے ہونے کھوکھلے کے بنیاد فکری اپنی سوشلزم
برقرا حیثیت اپنی
نہیں ر
رکھ
سکا
مج بحیثیت کا ہےجس کرتی غالب پر تہذیب دوسری کو تہذیب ایک دراصل ہی مظبوطی فکری یہ ۔
موعی
ہم کہ ہے وجہ ہے۔یہی فقدان میں دنیا مسلم
“
ہے پڑھنی طرح کس نماز
”
تے ڈھونڈ سے اسالم تو جواب کا
ہیں
کر کنٹرول طرح کس کو اکنامکس میں دور کے آج اسالم کہ پوچھا نہیں یہ کبھی لیکن
ک اسالم ہے؟ تا
خارجہ ی
طرح کس اسالم ہے؟ کیا پالیسی
7
کالئمیٹ اسالم ؟ دیتاہے نظام کیا لیے کے دنیے انصاف کو انسانوں ارب
ج اور ہے۔ انحطاط فکری مجموعی وجہ کی زوال ہمارے تو وغیرہ۔ وغیرہ ہے کرتا کنٹرول کیسے کو چینج
ب
دنیا ہم تک تب ہوتے نہیں مضبوط پر طور فکری ہم تک
گے۔ رہیں ہوتے رسوا یی یوں میں
ANS 02
ہو مسخ پرطور مکمل معاشرت ِبآدا اور تہذیب ِتصورات میں دنیا قبل سے وسلم وآلہ علیہ ہللا صلی محمدی ِبعثت
و ظلم اور الحاد و کفر تھے۔ رکھے ڈال ڈیرے نے بربریت و وحشت اور تشدد و جبر ،ستم و ظلم طرف ہر تھے۔ چکے
تاریکی کی جہالت
سے خطوں دوسرے کے دنیا حالت کی عرب تھا۔ رکھا گھیر سے طرف چاروں کو انسانیت عالم نے
،نوشی شراب تھی۔ بہ ناگفتہ نہایت حالت اخالقی کی ان سے وجہ کی پرستی نفس اور جاہلیت تھی۔دگرگوں زیادہ
وا اور رکھنا بیویاںالتعداد ،دینا کر دفن زندہ کو لڑکیوں ،رقص عریاں کا عورتوں
چیزوں دیگر بعد کے مرنے کے لد
کا قبیلوں بعض تھا۔ عام دینا کر فروخت یا رکھنا کر بنا بیویاں اور لینا بانٹ میں آپس بھی کو ماؤں اپنی ساتھ ساتھ کے
( تھا۔ گری غارت و قتل اور مار لوٹ ،چوری ہی پیشہ
1
پڑتی گزارنا عدت کی سال ایک اسے جاتی ہو بیوہ عورت جو )
نہایت اسے اور
اور جاتا دیا نہ تک پانی لئے کے دھونے ہاتھ منہ اور غسل اسے تک سال ایک جاتا سمجھا منحوس
:ہے میں پاک حدیث کہ جیسا جاتا۔ کیا فراہم ہی لباس لئے کے پہننے نہ
‘‘
ہاتھکو خوشبو اور لیتی پہن کپڑے خراب ،جاتی ہوداخل میں کوٹھڑی ایک وہ تو جاتا مر خاوند کا عورتکسی جب
ت
جاتا۔ گزر سال کہ تک یہاں لگاتی نہ ک
’’
مرد سب سوا کے قریش لیکن ہوتے جمع لوگ ہزاروں پرموقع کے حج کہ تھی چکی ہو عام تک حد اس حیائی بے
کھا تک سانپ اور چوہے ،چھچھوندر ،بچھو ،چھپکلی یعنی االرض حشرات کرتے۔ طواف میں حالت برہنہ عورتیں اور
- 4.
4
کھانا کامال یتیموں،جاتے
بچوں اور عورتوں تھا۔ رائج نظام کا سود میں زندگیمعاشی تھا۔ عام ستانا کو غریبوں اور
دیتے۔ کر درگور زندہ کو بچیوں لوگ جاتا۔ دیا رکھ گروی کو تک
‘‘
دیتے۔ کر درگور زندہ کو بچیوں لوگ
’’
کے آج جو تھیںبھی خصوصیات ایسی کچھ میں عرب اہل باوجود کے عیوب و نقائص تمام ان
یافتہ ترقی اور مہذب
رکھتا گیری ملک ہوس نہ اور تھامحکوم کا کسی نہ عرب کا حجاز عہد ایفائے مثال آتیں نہیں نظر ہمیں بھی میں دور
اور اپنے نوازی مہمان کی عرب اہل تھی۔ کی نہیں حکومت پر ان نے غیرکسی تک وقت اس کے لے سے شروع تھا۔
(تھی۔ عام لئے کے سب بیگانوں
1
لیک )
میں دامن ناپاک اپنے نےوعیاشی ظلم ،بدکرداری کی ان کو خوبیوں سب ان ن
اور اچھائی نزدیک کے ان کہ یہ مزید ہیں۔ جاتی رہ کر دب خوبیاں چند میں برائیوں شمار بے کیونکہ تھا رکھا چھپا
دنیا مذہبی کی ان کیفیت یہی تھے۔ کرتے ًاعادت کام ہر وہ تھا۔ نہیں فرق کوئی میں برائی
کی ذوق مذہبی تھی۔بھی میں
( تھے۔ نہیں تابع کے معبودوں اپنے وہ باوجود کے پرستش مگر تھے رکھے تراش بت نے انہوں لئے کے تسکین
2
)
کہا )(گونگا عجم کو عرب غیر ہر وہ تھا رہاچھو کو حدوں آخری اپنی تفاخر نسلی تھے۔ ڈالتے کر آتا میں من جو
تھے۔ کرتے
،آیا میں دنیا اسالم وقت جس تھا۔ رہا کر پیش نقشہ کا نگری اندھیر اور جہالت و ظلم عرب پورا وقت اس الغرض
اپنے اپنے قومیں والی بسنے میں ممالک ان آج تھی۔ ہوئیچھائی تاریکی کی جہالت پر جہانوں دونوں مغرب و مشرق
اقوام ان پہلے بہت سے اسالم ظہور کہ ہے یہ واقعہ لیکن ،کہیں بھی کچھ جو میں بارے کے عظمت کی ماضی ثقافتی
تھیں۔ رہی کر بسرزندگی کی اضمحالل و جمود وہ اور تھیں چکی ہو ختم سرگرمیاں ثقافتی و علمی کی
تہذیبیں معروف و حال صورت تہذیبی کی دنیا قبل سے اسالم
3
حال ِصورت تہذیبی کی دنیا قبل سے ِسالما ۔
د قبل سے وسلم وآلہ علیہ ہللا صلی محمدی ِبعثت
ہو مسخ پرطور مکمل معاشرت ِبآدا اور تہذیب ِتصورات میں نیا
و ظلم اور الحاد و کفر تھے۔ رکھے ڈال ڈیرے نے بربریت و وحشت اور تشدد و جبر ،ستم و ظلم طرف ہر تھے۔ چکے
سے خطوں دوسرے کے دنیا حالت کی عرب تھا۔ رکھا گھیر سے طرف چاروں کو انسانیت عالم نے تاریکی کی جہالت
ز
،نوشی شراب تھی۔ بہ ناگفتہ نہایت حالت اخالقی کی ان سے وجہ کی پرستی نفس اور جاہلیت تھی۔دگرگوں یادہ
چیزوں دیگر بعد کے مرنے کے والد اور رکھنا بیویاںالتعداد ،دینا کر دفن زندہ کو لڑکیوں ،رقص عریاں کا عورتوں
ب اور لینا بانٹ میں آپس بھی کو ماؤں اپنی ساتھ ساتھ کے
کا قبیلوں بعض تھا۔ عام دینا کر فروخت یا رکھنا کر بنا یویاں
( تھا۔ گری غارت و قتل اور مار لوٹ ،چوری ہی پیشہ
1
پڑتی گزارنا عدت کی سال ایک اسے جاتی ہو بیوہ عورت جو )
جاتا دیا نہ تک پانی لئے کے دھونے ہاتھ منہ اور غسل اسے تک سال ایک جاتا سمجھا منحوس نہایت اسے اور
اور
:ہے میں پاک حدیث کہ جیسا جاتا۔ کیا فراہم ہی لباس لئے کے پہننے نہ
‘‘
ہاتھ کو خوشبو اور لیتی پہن کپڑے خراب ،جاتی ہو داخل میں کوٹھڑی ایک وہ تو جاتا مر خاوند کا عورتکسی جب
جاتا۔ گزر سال کہ تک یہاں لگاتی نہ تک
’’
- 5.
5
م کے حجکہ تھی چکی ہو عام تک حد اس حیائی بے
مرد سب سوا کے قریش لیکن ہوتے جمع لوگ ہزاروں پروقع
کھا تک سانپ اور چوہے ،چھچھوندر ،بچھو ،چھپکلی یعنی االرض حشرات کرتے۔ طواف میں حالت برہنہ عورتیں اور
بچو اور عورتوں تھا۔ رائج نظام کا سود میں زندگیمعاشی تھا۔ عام ستانا کو غریبوں اور کھانا کامال یتیموں ،جاتے
ں
دیتے۔ کر درگور زندہ کو بچیوں لوگ جاتا۔ دیا رکھ گروی کو تک
‘‘
دیتے۔ کر درگور زندہ کو بچیوں لوگ
’’
یافتہ ترقی اور مہذب کے آج جو تھیںبھی خصوصیات ایسی کچھ میں عرب اہل باوجود کے عیوب و نقائص تمام ان
ن عرب کا حجاز عہد ایفائے مثال آتیں نہیں نظر ہمیں بھی میں دور
رکھتا گیری ملک ہوس نہ اور تھامحکوم کا کسی ہ
اور اپنے نوازی مہمان کی عرب اہل تھی۔ کی نہیں حکومت پر ان نے غیرکسی تک وقت اس کے لے سے شروع تھا۔
(تھی۔ عام لئے کے سب بیگانوں
1
میں دامن ناپاک اپنے نےوعیاشی ظلم ،بدکرداری کی ان کو خوبیوں سب ان لیکن )
تھ رکھا چھپا
اور اچھائی نزدیک کے ان کہ یہ مزید ہیں۔ جاتی رہ کر دب خوبیاں چند میں برائیوں شمار بے کیونکہ ا
کی ذوق مذہبی تھی۔بھی میں دنیا مذہبی کی ان کیفیت یہی تھے۔ کرتے ًاعادت کام ہر وہ تھا۔ نہیں فرق کوئی میں برائی
با کے پرستش مگر تھے رکھے تراش بت نے انہوں لئے کے تسکین
( تھے۔ نہیں تابع کے معبودوں اپنے وہ وجود
2
)
کہا )(گونگا عجم کو عرب غیر ہر وہ تھا رہاچھو کو حدوں آخری اپنی تفاخر نسلی تھے۔ ڈالتے کر آتا میں من جو
( تھے۔ کرتے
3
)
آ میں دنیا اسالم وقت جس تھا۔ رہا کر پیش نقشہ کا نگری اندھیر اور جہالت و ظلم عرب پورا وقت اس الغرض
،یا
اپنے اپنے قومیں والی بسنے میں ممالک ان آج تھی۔ ہوئیچھائی تاریکی کی جہالت پر جہانوں دونوں مغرب و مشرق
اقوام ان پہلے بہت سے اسالم ظہور کہ ہے یہ واقعہ لیکن ،کہیں بھی کچھ جو میں بارے کے عظمت کی ماضی ثقافتی
وہ اور تھیں چکی ہو ختم سرگرمیاں ثقافتی و علمی کی
تھیں۔ رہی کر بسرزندگی کی اضمحالل و جمود
نامہ منظر عالمی
عرب نمائے جزیرہ تھی۔ چکی ہو پامال قدر ہر کی انسانی ِشرف تھی۔ شکار کا ظلم کے شہنشاہیت اور آمریت ،انسانیت
گر کی انا کی تصورحکمرانوں ہر کا حقوق انسانی تھی۔ رہی کر پیش منظر کا جبر و ظلم دنیا پوری نہیں ہی
ہو گم میں د
( طاقت عالمیکی وقت اپنے ایران اور روم وسلم وآلہ علیہ ہللا صلی محمدی ِبعثت زَا قبل تھا۔ چکا
super powers
)
کمزور اور چھوٹے بجائےکی ارتقاء کے انسانی ِنسل ِبتہذی پاورز سپر یہکی وقت اپنے تھے۔ رکھتے حیثیت کی
ای کے کر مسلط رات سیاہ کی غالمی پر ممالک
طبقاتی تھیں۔ مبتال میں مرض عالج ال کے برتری ِ
احساس غیرفطری ک
ہو محیط تک انسانی ِذہن چنگل کا برائیوں سماجی تھی۔ ہوئی بنی مقدر کا آدم ابن ساتھ کے قباحتوں تر تمامکشمکش
تھا۔ چکا
بچن سے گرفت کی زنجیروں اقتصادی اور روحانی،سماجی ،سیاسی اور رہا جاری سفر کا تاریخ
ناکامسعی ہر کی ے
گرد کے حکمرانوں تھے۔ رہے گزار زندگی آسائشُپر طبقے حکمران کے رومیوں اور ایرانیوں لگی۔ ہونے
یہ تھے۔ رہے آ چلے کھنچے پر دہلیز کی حکمرانوں ان بھی ہنر ِاہل ازیں عالوہ تھا۔ چکا ہو جمع ٹولہ کا خوشامدیوں
- 6.
6
پرکی حکمرانوں انکمال اپنا بھی کمال ِاہل
شاہی کرتے۔ استعمال لئے کے بنانے آسائش پر مزید کو زندگیوں آسائش
ساتھ کے عوام ،سجاتے کدے عشرت اپنے سے کمائی کی پسینے خون کے عوام حکمران اور پاتے انعام سے خزانے
ظل ،تھی حائل خلیج وسیع ایک کی نفرت درمیان کے طبقوں محکوم اور حکمران ہوتا۔ سلوک بدتر بھی سے جانوروں
م
تھے۔ آتے نہ نظر آثار بھی کہیں کے جمہور سلطانی اور تھا گرم بازار کا
صدی چوتھی تھی۔ میں زدکی تحریفات ہدایتآسمانی تھی۔ شکار کا تضادات نظری اور فکری عجیببھی دنیا عیسائی
خرافا یونانی تھے۔ چکے ہودور بہت سے تعلیماتکی السالم علیہ ٰ
عیسي حضرت نصرانی میں عیسوی
کر لے سے ت
اور عقائد جان بے چند مذہب عیسائی تھا۔ رکھا لگا سے گلے اپنے نے دنیا عیسائی کو برائی ہر تک پرستی بترومی
تھا۔ گیا رہ کر ہومحدود تکمراسم کیف بے
پیم کا صبر کے عوام مقہور اور مجبور تھی۔ چکی پہنچ کو انتہاء اپنی نظمی بد اجتماعی میں ریاستمشرقی کی روم
انہ
چکی بن پارینہ قصہ باتیںکی کردار و اخالق تھے۔ چکے ہوشروع فسادات پر پیمانے بڑے اور تھا چکا ہو لبریز
تھی۔ غالب شیطنت پر چیز ہر تھیں۔
غالموں کر جما قبضہ پر زمینوں نے طبقات ٰ
اعلي کے رومیوں تھا۔ لیا بنا ضرورت اپنی نے مراُا کو ادارے کے غالمی
ک تعداد کثیر کی
بنتی رزق کا زمین کے کر ایک پسینہ خون بھیاوالد کی غالموں ان تھا۔ رکھا لگا پر باڑی کھیتی و
ہوا ختم سلسلہ کا فتوحات کی رومیوں میں عیسویصدی پہلی کرتے۔ سلوک وحشیانہ ساتھ کے غالموںرومی رہتی۔
کش محنت میں نتیجہ کے جس لگی ہونےواقع کمی بھی میں آبادی کی غالموں تو
بہتہوگئی کم بھی نفری کی افراد
رومی کہ ہے یہ حقیقت گئے۔ ہو مجبور پر کرنے تقسیم میں مزارعوں زمینیں اپنی پر طور جزوی جاگیردار سے
تھے۔ چکے آ میں وجود طبقے دو کے محکوم اور حاکم تھا۔ چکا بن عالمتکی بربریت اور درندگی ،وحشت معاشرہ
مق کا جس تھا کا امراء طبقہ ایک
نسل در نسل جو تھا طبقہ محکوم کا عوامدوسرا اور تھا کرنا حکومت پر عوامصد
تھا۔ رہا ال بجا خدمت کی طبقے حکمران
اور ناخواندگی و جہالت قومیں یہتھی۔ ہوئی نہیںنمودار صبح کی اخالق و علم اور وتمدن تہذیب تکابھی میں یورپ
جہا و ظلم اور تھیںہوئیڈوبی میں جدل و جنگ
و مصائب بار بار مگر تھیں۔ رہی مار پاؤں ہاتھ میں تاریکیکی لت
متمدن اور مہذب قومیں یہ طرف دوسری تھیں رہی لے نہیں ناخن کے عقل یہ بھیباوجود کے گرنے میں حوادث
ان قومیں تمام یافتہ ترقی اور تھیں رہی مار ٹوئیاں ٹامک میں اندھیروں ٹوپ گھٹا تھلگ الگ بالکل سے معاشرہ
سے
ان سے ان تھے رہے آ پیش تغیرات سے واقعات انگیز انقالب جو میں ممالک کے مغرب و مشرق تھیں۔ ناآشنا ًاتقریب
کا ان میں دنیا سیاسی نہ اور تھا طریق کوئی پاس کے ان سے حوالے دینی نہ تھا۔ نہیںواسطہ بھی کا دور کا قوموں
( بریفالٹ رابرٹ مقام کوئی
Robert Briffault
لک )
:ہے ھتا
‘‘
زیادہًاتدریج تاریکی یہ اور تھی۔ ہوئی چھائی تاریکی گہری پر یورپ تک صدی دسویں کر لے سے صدی پانچویں
درجہ کئی سے بربریت و وحشت کی قدیم زمانہ بربریت و وحشت کی دور اس تھی رہی جا ہوتی بھیانک اور گہری
تھے رہے مٹ نشانات کے تمدن اس ۔۔۔ تھیہوئی بڑھی زیادہ
جہاں ممالک وہ تھی۔ چکی لگ مہر کی زوال پر اس اور
- 7.
7
،تباہی میں وغیرہفرانس ،اٹلی جیسے تھا گیا پہنچ کو ترقی انتہائی اپنی میں زمانہ گزشتہ اور الیا بار و برگ تمدن یہ
تھا۔دورہ دور کا ویرانی اور الملوکی طوائف
(’’
1
)
یہودی والے بسنے میں افریقہ اور یورپ ،ایشیا براعظم
ان کہ تھے ممتاز سے لحاظ اس سے اقوام تمام دیگر کی دنیا
وتمدن تہذیب اور سیاست و مذہب پر بناکی وجوہات دیگر یہودی یہ لیکن تھا علم زیادہ بہت کا دین آسمانی پاس کے
پرس ہوس ،تکبر ،غرور ،ہوس کی دولت سکیں۔ ہو انداز اثر زیادہ پردوسروں کہ تھے رکھتے نہیں مقام وہ میں
،تی
آنے پرسطح عوامی انہیں جو تھی۔ گئی ہو پیدا ذہنیت مخصوص اندر کے ان سے وجہ کی غرورقومی اور تکبرنسبی
شدہ مسخ ،پستی اخالقی کی ان نے قرآن تھی ثانیہ ِفطرت کی ان کرنا منع کو لوگوں سے حق ِہرا تھی۔روکتی سے
کش نقشہ میں انداز احسن بڑی کی فساد اجتماعی اور ذہنیت
ہے۔ کی ی
ایک تھی۔ رہی چھو کو حدوں آخری اپنی میں آخر کے عیسویصدی چھٹی رقابت باہمیکی عیسائیوں اور یہودیوں
دقیقہ کوئی میں رکھنے روا سلوک انسانی غیرساتھ کے اقوام مفتوح اور بہانے خون ،کرنے رسوا و ذلیل کو دوسرے
تشد و جبر ،سفاکی اس تھا۔ جاتا کیا نہیں گزاشت فرو
یہ مظاہرہ کا مینجس ماحول اس کے بربریت و وحشت اور د
انسانیت میں حکومت ِ
دور اپنے وہ کہ تھی سکتی جا کی توقع کیا سے ان تھے رہتے کرتے ًافوقت ًاوقت مذاہب دونوں
گے۔ کریں پاسداریکی اقدار کی مساوات و عدل اور انصاف و حق اور گے ہوں پاسبان کے
4
معروف ِسالما زَا قبل ۔
تہذیبیں
سب سوا کے ایک چند آج لیکن ،ہوئیں چار دو سے زوال و عروج تہذیبیں شمار بے میں دنیا قبل سے آمد کی ِسالما
کیا ذکر ًامختصر کا تہذبیوں چند کی قبل سے وسلم وآلہ علیہ ہللا صلی نبوی ِبعثت میں ذیل ہیں۔ چکی کھو تشخص اپنا
ہے۔ جاتا
(
1
( تہذیب سمیری )
SUMERIC CIVILIZATION
)
کی استعمال کے دھات ساتھ اپنے لوگ یہ ہوئے۔ آباد کر آ لوگ کے قوم نئی ایک سے طرف کی شمال میں عراقجنوبی
تھے۔ آئے کر لے ایجاد کی چاک کے کمہار اور صنعت یافتہ ترقی
3000
عراقجنوبی قبل عرصہکچھ سے مسیح قبل
ت قوم متمدن ایک جو گیا ہو قبضہ کا قوم اجنبی اس پر
آئی۔ میں وجود تہذیب سمیری یوں اور ھی
(
2
( تہذیب مصری )
EGYPTIAN CIVILIZATION
)
ترقی ایک مصر ِاہل تھی۔ قدیم سے تہذیب مصری ،تہذیب سمیری تھے۔ حامل کے روایاتتہذیبی شاندار بھی مصر ِاہل
م تھا۔ حامل کا انفرادیت اور تھا مختلف سے کلچر سمیری کلچر کا ان تھے۔ قوم یافتہ
،ایشیا مغربی ،لیبیا میں قوم صری
بھی سے اعتبار ثقافتیجو آئی میں وجود تہذیبمخلوط ایک یوں اور تھے شامل بھی لوگ توبیائی اور سوڈانی ،سامی
لی بیگار سے عوام ہوتے۔ مالک کے سفید و سیاہ کے ملک اور کہالتے فرعون حکمران تھی۔ حامل کی روایات توانا
کا خون کے ان اور جاتی
اور کرنے تعمیر عمارتیں شان عالی لئے کے حکمرانوں عوام جاتا۔ لیا نچوڑ تکقطرہ آخری
دیتے۔ کر قربان تک جانیں اپنی لئے کے گیری ملک ِ
ہوس کی ان
(
3
( تہذیب یِِّت ِ
ح )
HITTITE CIVILIZATION
)
- 8.
8
لوگ یہ تھے۔کہتے کو قبائل مختلف والے رکھنے تعلق سے نسل آریائی یِِّت ِ
ح
3000
قبل
اپنے تکوسط کے مسیح
نے انہوں وہاں پہنچے۔ جا اناطولیہ ہوئے ہوتے سے شام قبائل یہبوجوہ تھے۔ آباد میں کیسپین بحیرہ وطن اصل
کر ہو گامزن پر ترقی شاہراہ پھر اور سیکھے ضوابط و اصول ابتدائی سے لوگوں مقامی
1600
نے انہوں مسیح قبل
طاقتو اور منظم ایک میں کوچک ایشیائے
میں وجود بعد کے تہذیب مصری اور سمیری تہذیب حتی کی۔ قائم حکومت ر
کیا۔ استفادہ بھرپور نے اس سے تہذیبوں بڑی دو ان لئے اس آئی
(
4
( تہذیبفونیقی )
PHOENICIAN CIVILIZATION
)
اجداد آباؤ کے ان تھے۔ لوگالنسل سامی اصل در فونیقی
2800
عالق کے فارس خلیج قریب کے مسیح قبل
سے ے
تجارت تھے۔ مراکز کے دستکاریوں مختلف جو کئے آباد شہر نے انہوں یہاں ہوئے۔ منتقل میں عالقے کے شام ساحل
ترقی کمال بھی سے اعتبار لسانی نے انہوں بنی۔ بنیاد کی تہذیب منفرد کی ان تجارت یہی تھا۔ معاش ذریعہ واحد کا ان
زب اپنی نے انہوں کہ ہے یہ کارنامہ کا ان کی۔
کو آوازوں تمامکی ان
22
کا ان کیا۔ آغاز کا لکھنے میں تہجی حروف
قائم آبادیاں نو اپنی وہاں رفتہ رفتہ اور کی حاصل رسائی تک ساحلوں کے اسپین نے انہوں کہ ہے یہ کارنامہ دوسرا
لیں۔ کر
(
5
( تہذیب یونانی )
GREEK CIVILIZATION
)
یونان
1600
تھا۔ملک وحشی نیم ایک مسیح قبل
2000
وہ تھے آئے میں یونان لوگجو کے نسل آریا مسیح قبل
ہوئی پیدا لہر کی بیداری میں قوم یونانی سے وسط کے صدی آٹھویں لوگ۔مقامی جتنے تھے نابلد ہی اتنے سے تہذیب
بعضکی تمدن و تہذیب مشترکہ لوگ یونانی کے دور کے صدیوں چار سابقہ لگے۔ آنے نظر آثار کے ترقی اور
مخصو
سمیری قبل سے یونان اگرچہ ریاست شہری تھے۔ گئے ہو کامیاب میں کرنے قائم خصوصیات منفرد اور ص
کے ریاستوں شہری اور کیا ظاہر نے یونانیوںشوق اور انہماک جتنا لیکن تھی چکی آ میں وجود معرض میں تہذیب
م تہذیب سمیری خود خروش و جوش اتنا لیا بنا حصہ کا تہذیب اپنی کو تصور
و تہذیب یونانی تھا۔ جاتا پایا نہیں بھی یں
بنے۔ باعث کا ترقی مادی کی اقوام یورپی میں بعد جو تھے سائنس اور فلسفہ رجحان بنیادیدو کے تمدن
(
6
( تہذیب ایرانی )
IRANIAN CIVILIZATION
)
حامل کا اہمیت خاص عالقہ کا ایران مغربی جنوب سے میں مراکز ابتدائی کے تمدن و تہذیب
مال سے فارس خلیج تھا۔
میں زمانے قدیم عالقہ یہ ہوا
‘‘
عالم
‘‘
ہےہوچکی ثابت چیز یہ سے دریافتوں کی قدیمہ ِ
آثار تھا۔ مشہور سے نام کے
ِ
ظہور تھا۔موجود تمدن یافتہ ترقی ایک میں سوسا شہر مرکزی کے عالم سے زمانے ابتدائی کے تہذیب سمیری کہ
طاقتو ایک ایران وقت کے اسالم
اس بھی سے حوالے تہذیبی اور بھی سے حوالے عسکری تھا۔ جاتا گردانا ملک ر
ہے۔ جاتا کیا تعبیر سے پاور سپر کی عہد اس کو ایران لئے
میں بعد اور پائی نما و نشو وہاں نے حکمت و فلسفہ کہ تھا مدعی کا بات اس سے ہمیشہ ایران میں مشرق کے عرب
ا کہ ہے بتاتی تاریخ پہنچے۔ یونان
یونان حکمائے میں قدیمہ زمنہ
‘‘
پارس ِمغان
‘‘
آداب کے مجاہدہ و ریاضت سے ہی
سے اس بھی ایران ،تھی رہی چل میں دنیا آندھی جو کی جہالت پہلےکچھ سے اسالم ِ
ظہور مگر تھے۔ جاتے سیکھنے
- 9.
9
عہد ساسانی تھا۔گیا لے کر لوٹ سکندر سرمایہ وحکمی علمیقدیمی کا فارس سکا۔ رہ نہمحفوظ
کی نقصان اس میں
کی رکھنے یادتفصیل کی اس نے تاریخ کہ تھی اہم غیر اتنی سے اعتبار علمیوہ مگر گئی کی کوشش کی تالفی
ہیں۔ محفوظ تک جزئیات کی عظمت ملکی اور فتوحات سیاسی کی ایران حاالنکہ سمجھی نہیں ضرورت
ANS 03
اکرم ِ رسول
ﷺ
میں دنیا وقت جس
نبوت اور ہوئے مبعوث
اور عجیب نہایت کا دنیا دور وہ گئے کئے سرفراز سے
،تھادور ترین تاریک
،وستم ظلم
،تلفیحقوق و ناانصافی
،وتشدد جبر
،تھی عام بیزاریتوحیدو خدافراموشی
،تھا بحران کا وشرافت اخالق
،تھے گزارہے زندگی کر بن دشمن کے دوسرے ایک انسان اور
کے محبت اور ہمدردی
جذبا
،ت
،تھے ہوچکے ختم احساسات کے مودت و اخوت
باتوںمعمولی
جنگ تک سالہاسال جھگڑااور لڑائی پر
،تھا چلتا سلسلہ کا وجدال
میں دور ایسے
پٓا
ﷺ
،الئے تشریف
دنیا ذریعہ کے ہدایات ونبوی تعلیمات نیٓاقر پھر اور
میں وعجم عرب ،بدال کو
،برپاکیا انقالب
پر کو وانصاف عدل
جذبوں کے ادائیگی کی حقوق ،چڑھایا وان
،ابھارا کو
،دی تعلیم کی انسانیت ِ احترام
انسانوں سے گری وغارت قتل
،روکا کو
عورتوں
،عطاکیا ومرتبہ کومقام
غالموں
کو
یتیموں ،نوازا سے عزت
،ایثاروقربانی ،رکھا شفقت ِ دست پر
احسانا ،کیا پیدا کو مزاج کے ووفاداری خلوص
ِ ت
رشتوں ہوئے ٹوٹے سے رب ،کیا باخبر سے حیات ِ مقصد ،کیا گاہٓا سے خداوندی
کے خدا کو عبدیت ِ جبین ،جوڑا کو
،کی عطاصبح نئی ایک کو دنیا سے تعلیمات کی توحید یااور پڑھا سبق کا ٹیکنے سامنے
تاریکیوں
خاتمہ کا دور کے
کرنوں ضیاپاش کی اسالم ،فرمایا
ا ِ کائنات سے
کردیا۔ ومنور روشن کو رضی
پٓا
ﷺ
،کی اصالح کی فرد نے
معاشرہ
،سدھارا کو
انسانوں اور
: جاگیاکہ کہا پر طور بجا چمکایاکہ کر فرمائی تربیتایسی کی
اوروں پر راہ خود تھے نہ ؎جو
گئے بن ہادی کے
مردوں نے جس تھی نظر کیا
کردیا مسیحا کو
الطاف بقول اور
ؔ حالی حسین
اتر
کر
حرا
سے
سوئے
قوم
یآا
ور ا
اک
نسخہ
ٔ
کیمیا
ساتھ
الیا
مس
ِ
خام
کو
جس
کندن نے
بنایا
کھرا
اور
کھوٹا
الگ
کر
دکھایا
قرنوں پہ جس عرب
طاری جہل تھا سے
پلٹ
بس دی
میں نٓا اک
کایا کی اس
اکرم نبی
ﷺ
کے خدا سے پھر کو انسانیت بھٹکی بھولی نے پٓا کہ ہےبھی یہ احسان بڑا سے سب پر انسانیت یقینا کا
پٓا فرمایا۔ کوتازہ بندگی ِ
احساس اور پہنچایا پر در
ﷺ
صرف کارنامہ انگیز حیرت یہ نے
23
میں مدت مختصر سالہ
دیا۔ انجام
23
دور سالہ
میں
سامنے کے دنیا نقشہ ایسا ایک کا کامیابی اور وصالح فالح کی انسانیت ساری نے پٓا
میں روشنیکی س ا کیاکہ پیش
میں دور ہر
جاسکتا دیا انجام کام کا وتربیت اصالح اور ہے کیاجاسکتا برپا انقالب
پٓا ہے۔
ﷺ
میں دنیا کر دے مقاصد عظیم جن تعالی ہللا کو
،بھیجا
پٓا
ﷺ
ن
ِحیات اپنی کارالکر بروئے کو مقاصد ان ے
میں مبارکہ
ہیں۔اصول رہنمایانہ ایک لئے ہمارےوہ فرمائی جدوجہد
بعثت ِ پرچارمقاصد طور بنیادی میں کریم نٓاقر
ہے۔ گیا کیا کوبیان
: ہیں ڈالتے پر مقاصد ِ مقاصد ان روشنیمختصر ایک ئیےٓا
میں نٓاقر
:تذکرہ کا بعثت ِ مقاصد
- 10.
10
میں کریم نٓاقر
پٓاپر مقامات تین نے تعالی ہللا
ﷺ
،فرمایاہے بیان کو بعثت ِ مقاصد کے
جہاں ہے وہ پہالمقام
حضرت
،ہوا ذکر کا اس سے زبان کی ؑ ابراہیم
صلی محمد حضرت الرسل سید الزمان خرٓا نبی کہ تھی وتمنا روزٓا یہ کی ؑ ابراہیم
او خاندان کے ہی پٓا وسلم علیہ ہللا
، ہوں سے نسل ر
چناں
،فرمائی تعمیر کی ہللا بیت جب نے پٓا لئے کے اس چہ
یہ
چوں وقت
،تھاحامل کا اہمیت بڑی کہ
میں کائنات اس
،لئے کے انسانوں گھر کاپہال خدا
لئے کے وبندگی اطاعت رب
،تھا گیا کیا تعمیر
کریم اور ہوئےسمجھتے کو نزاکت کی موقع اہم اور س حسا اس
کو وعنایات الطاف کی پروردگار
ٰتِکْال ُمُھُمِِّلَعُیَو َکِتٰیٰا ْمِْھیَلَع ا ْوُلْتَی ْمُھْنِم ًالُْوس َر ْمِْھیِف ْثَعْبا َو اَنَّبَر:دعاکی نے پٓا کر رکھ سامنے
ْمِْھیِِّک ِ
ُزیَو َََمْک ِ
حْال َو َب
َکَّنِا
:البقرۃ ( ْم۔یِکَحْال ُْزی ِ
زَعْال َتْنَا
129
’’)
پروردگا ہمارے
میں !انر
میں انہی جو بھیجنا بھیرسول ایسا ایک
جو ،ہو سے
یتوںٓا تیری سامنے کے ان
،کرے تالوتکی
انہیں
،دے تعلیم کی حکمت اور کتاب
،بنائے پاکیزہکو ان اور
بیشک
،ہےکامل بھی اقتدار کا جس ہےوہ ذات تیری صرف اور تیری
کامل۔ بھی حکمت کی جس
‘‘
پٓا کی نبی جس
تمنا نے
ہللارسولمحمد مراد سے اس تھی کی
ﷺ
۔ ہیں
:کثیر ابن تفسیر (
2
/
92
کریم )نبی
ﷺ
میں : کہ تھے کرتے فرمایا
اپنے
۔ ہوں نتیجہ کا دعا کی ابراہیم باپ
:دطیالسی ٔ
داو ابو (مسند
1224
ترین عظیم سے سب کی کائنات نےابراہیم )حضرت
میں خاندان اپنے کو ہستی
،لیا مانگ
ا
کرلیا۔ حاصل کو سعادت لئے کے ورہمیشہ
َعَبِْذا َْنیِنِم ْٔوُمْال یَلَع ُ ہاّٰلل َّنَم ْدَقَل:فرمایا ہوئے قراردیتے احسان کو جانے بھیجے کے پٓا نے تعالی ہللا جگہ دوسری
َث
ُھُمِِّلَعُیَو ْمِْھیِِّک َُزیَو ٖہِتٰیٰا ْمِْھیَلَع ا ْوُلْتَی ْمُھْنِم ًالُْوس َر ْمِْھیِف
َََمْک ِ
حْال َو َبٰتِکْال ُم
لٰا ( ْن۔یِبُم ٍلٰلَض ْیِفَل ُلْبَق ْنِم ا ْوُنَاک ِْناِو
:عمران
164
’’)
منوں ٔ
مو نے ہللا کہ ہے یہ حقیقت
میں درمیان کے ان کہ کیا احسان بڑا پر
جو بھیجارسول ایک سے
یتوںٓا کی تعالی ہللا سامنے کے ان
انہیں ،کرے تالوتکی
بنائ وصاف پاک
انہیں اور ے
،دے تعلیم کی حکمت اور کتاب
میں گمراہی ہوئی کھلی یقینا پہلے سے اس لوگ یہ جبکہ
تھے۔ مبتال
‘‘
ْتَی ْمُھْنِم ًالُْوسَر َن ٖ
ِِّٖیِِّمُ ْ
اال یِف َثَعَب ْیِذَّال َوُھ:فرمایا ہوئے کرتے ن بیا کو بعثت ِ مقاصد نے تعالی ہللا جگہ تیسری
ا ْوُل
ٖتٰٰای ْمِْھیَلَع
: َالجمع ( مبین۔ ٍلٰلَض ْیِفَلُلْبَق ْنِم ا ْوُنَاک ِْناِو َََمْک ِ
حْال َو َبٰتِکْال ُمُھُمِِّلَعُیَو ْمِْھیِِّک َُزیَو ہ
2
’’)
امی نے جس ہے وہی
لوگوں
میں
میں انہی
یتوںٓا کی اس سامنے کے ان جو بھیجا کو رسول ایک سے
، کریں تالوت کی
پاکیزہکو ان اور
، بنائیں
اور
انہیں
، دیں تعلیم کی وحکمت کتاب
میں گمراہی ہوئی کھلی پہلے سے اس وہ جبکہ
تھے۔ ہوئے پڑے
‘‘
میں انداز جامع لیکن مختصر کو ِبعثت ؒمقاصد دریابادی الماجد عبد موالنا حضرت
ذرا: ہیں لکھتے ہوئے کرتے بیان
اعظم رسول کہ گا جائےٓا پرنظر کرنے غور سا
ﷺ
کم فرایض جملہ کے
چندفقروں ساتھ کے ایجاز ِ ال
میں
ہیں۔ گئےٓا
’’
َکِتٰیٰا ْمِْھیَلَع ا ْوُلْتَی
‘‘
،ہے ہوتا یاتٓا ِ تالوت سامنے کے امت اپنی کام پہال کا رسول
رسول گویا ،پہنچانا کالم کا ہللا یعنی
ہے۔ ہوتی کی اعظم ِ مبلغ حیثیت پہلی کی
’’
َبٰتِکْال ُمُھُمِِّلَعُی
‘‘
ت محض کاکام رسول
نہیں ختم پر رسانی وپیام بلیغ
،ہوجاتا
،شرح کی کتاب اندر کے تعلیم اس ،ہے بھی کا تعلیم کی اس بعد کے تبلیغ کی الہی ِ کتاب کاکام اس
،ترجمانی
تعمیم
میں
،تخصیص
میں تخصیص
یہیں اور ،گئیٓا کچھ سب تعمیم
فہموں کج ان سے
کا رسول جو ہوگئی تردیدبھیکی
معاذ ( منصب
، ہیں سمجھتے قاصد یا ڈاکیہ صرف ) ہللا
ہوئی۔ کی اعظم ِ معلم حیثیت دوسری کی رسول گویا
’’
َََمْک ِ
حْال َو
‘‘
دیں نہ کی ہی ب کتا محض تعلیمرسول پھر
کریں کو امت بھی تلقین کی دانائی و حکمت بلکہ گے
،گے
،ومسائل احکام
،دابٓا اور قاعدے کے دین
سکھائ کو سب وخواص عوام
یں
اسرارو رہنمائی کی خواص اور گے
- 11.
11
رموزمیں
کریں بھی
ہوئی۔ کیاعظم ِ مرشد حیثیت تیسری کی رسول گویا ،گے
’’
ْمِْھیِِّک َُزی
‘‘
دلوں مراد سے تزکیہ
کی
،ہے صفائی
نہیں محدود تک تشریح کی ظاہری ِ احکام اور الفاظ محض کام کا رسول
،گا رہے
کی اخالق وہ بلکہ
او پاکیزگی
نیتوں ر
دیں انجام فرائض بھی کے اخالص کے
کی اعظم ِ مصلح حیثیت چوتھی یہ کی رسول گویا ،گے
:ی ماجد ِ (تفسیرہوئی۔
1
/
251
)
نٓاقر ِتالوت:مقصد پہال
ہللارسول
ﷺ
میں امت نے
،کیا گاہٓا سے وبرکات فوائد کے اس اور ،فرمایا عام کو واہمیت عظمت کی نٓاقر ِتالوت
اورانسانوں
میں ہاتھ کے
ِ تالوت اور نکلی سے مذمت ِ قعر انسانیت ان سے وجہ کی جس سوپنا کالم عظیم یہ کا خدا
نہیں حاصل سیری کو ؓ کرام صحابہ لمحہکسی سے اس کہ کیا عطاکو ان ذوق ایسا کا نٓاقر
،تھیہوتی
پٓا خود اور
ﷺ
ہوجاتےموم دل پتھر ہی کتنے فرماتے تالوت کی کریم نٓاقر جب
اور پڑجاتے نرم انسان مزاج سخت کیسے کیسے اور
نہیں بغیر کئے اقرار کا عظمت و حقانیت کی نٓاقر
اسالم ٔدائرہ سے سماعت کی نٓاقر اسی لوگ سے بہت اور رہتے
میں
میں دنیا ہوئے۔ داخل
سیدنا کتاب صاحب جو ہے بدولت کی کتاب عظیم اس یہ بالشبہ ہے رہآا نظر انقالب کچھ جو
م
ہللارسولحمد
ﷺ
انسانوں امانت بطور نے
تقاضوں کے اس اور پہنچایا تک
دکھایا۔ کرکے پورا پر طور عملیکو
کر بن نبوی ٔمعجزہ واسطے کے ہمیشہ ہمیشہ اور لئے کے دنیا پوری وہ لیکن پوا پر سرزمین کی عرب نزول کا نٓاقر
کرنیں کی اس اور یآا
میں عالم سارے
گئیں پھیل
اور
وہاں پہنچا نور کا نٓاقر جہاں
اندھیریوں
کفر اور ہوا خاتمہ کا
توڑدیا۔ دم نے شرک و
زندگیوں ؓکی کرام صحابہ حضرات
میں
،کئے پیدا نے کالم اسی اثرات انقالبی
انسانوں وہ اور
بنیں رہنما اور رہبرکو
بنیں۔ کرکے عمل پر تعلیمات کی نٓاقر اسی تو بھی
ش ہر نے نٓاقر
میں زندگی ٔ
عبہ
انقالب مثالی
کیا۔ پا بر
پٓا ہوئے کرتے بیان کو اہمیت کی نٓاقر ِ تالوت
ﷺ
میں پڑھنے کریم نٓاقر جو:فرمایا نے
ہو مستغرق قدر اس
والوں مانگنے کہ فرمایا نے تعالی ہللا تو ملے موقع کا مانگنے دعا سے اس کہ
عطاکروںکو بندے ایسے زیادہ سے
:(ترمذی گا۔
2869
پٓا)
ﷺ
گھروں کے ہللاقوم کوئی:کہ فرمایا نے
میں
میں گھر کسی سے
کرتی تالوت ہوکر مجتمع
ہیں لیتے گھیر کو ان رحمت مالئکہ ،ہے لیتی ڈھانپ رحمت اور ہےہوتی نازل سکینہ پر ان تو ہے
اس تعالی حق اور
میں مجلس کی مالئکہ ذکر کا
ہیں۔ فرماتے
:(مسلم
4873
انس )حضرت
کریم نبی کہ ہے مروی ؓ سے
ﷺ
فرمایا نے
میں گھر جس:
، ہیں ہوجاتے دور رشیاطین او تےٓا فرشتے مین اس ہے جاتی کی تالوت کی کریم نٓاقر
( اہل اپنے وہ
میں اس اور ہے ہوجاتاکشادہ لئے کے )افراد خانہ صاحب
،ہےہوجاتی قلت کی شر اور بہتاتکی بھالئی
جس اور
میں گھر
ٓاقر
میں اس ہو نہ تالوتکی ن
، ہیں جاتےٓا شیاطین
ہیں جاتے نکل فرشتے
باسیوں اپنے گھر وہ اور
پر
،ہے تا ہوجا تنگ
ہے۔ جاتا بڑھ بہت شر اور خیرکم
:نٓاالقر حفظ فضائل (
131
)
نٓاقر ِ تعلیم :مقصد دوسرا
مع کے اس ساتھ کے کرنے تالوت اور پڑھنے ً الفاظا کو کریم نٓاقر
انسانوں ومطالب انی
نبیبھی یہ سمجھانا کو
ﷺ
پٓا اور رہی داری ذمہ عظیم کی
ﷺ
نبی بتالئے۔ بھی نٓاقر ٔمعانی ساتھ کے نیٓاقر ِ الفاظ نے
ﷺ
کو خداوندی ِمراد نے
اس ہے۔ چاہتا کیا تعالی ہللا کہ کیا گاہٓا سے مقصد کے اس کو امت کرکے تشریح کی نیٓاقر ِ یاتٓا اور سمجھایا
لئے
جہاں ؓ کرام صحابہ
وہیں تھے کرتے کیا اہتمام کا کرنے یاد کے نیٓاقر ِ الفاظ
میں سمجھنے بھی کو ومطالب معانی
- 12.
12
میں مضامین اورمعانی کے اس ساتھ کے پڑھنے تالوۃ کو مجید نٓاقر تھے۔ کرتے رہامصروف
،کرنا تدبر
کے اس
میں مفہوم
،کرنا فکر و غور
رکی نٓاقر تفاسیر
،وشنی
کریم نبی
ﷺ
نٓاقر سے عمل کے کرام صحابہ اور تشریحات کی
،ہےضروری بھی کرنا کوشش کرنے حاصل رسائی تکمقصود کے مجید
کیوں
نہیںکو نٓاقر مطلوب تک جب کہ
نہیں بھی جذبہ کا وریٓا عمل پر طور یقینی تو گا جائے سمجھا
،گا ابھرے
س اس فرمارہاہے کیا تعالی ہللا اور
گہیٓا ے
نہیں حاصل بھی
ہوگی۔
میں انداز والے چونکادینے نہایت نے تعالی ہللا
قفالہا۔ٔ
ا قلوب علی مٔ
ا نٰالقرا افالیتدبرون:کہ کیا
:(محمد
۲۴
)
میں نٓاقر لوگ یہ
نہیں غور
۔ ہیں ہوئے پڑے پرقفل دلوں کے ان یا کرتے
سمجھا کو کریم نٓاقر لئے اس
ہے۔ حق کا اس
مجید نٓاقر
ہے۔ داری ذمہ کی ایمان ِ اہل بھی کرنا عمل مطابق کے تعلیمات کی
یا کر پڑھ صرف نٓاقر
نہیں کتاب کی دینے رکھ کر سمجھ
زندگیوں مطابق کے اس بلکہ ہے
ہے۔ تضرور کی سنوارنے اور بنانےکو
نٓاقر
،بتائےاصول لئے کے ناجائز و جائز اور حرام و حالل نے
نب تشریخ کی اس اور
کریم ی
ﷺ
فرمائی۔ نے
میں کریم نٓاقر
فاتبعوہ۔ مبارک ہ نزلنأ
ا کتاب وھذا:کہ گیا فرمایا ہوئے دیتے حکم
: االنعام (
155
ہم جو کتاب )مبارک نٓا(قر یہ)یعنی
:االعراف ( ربکم۔ من الیکم انزلٔ
اما اتبعوا:کہ فرمایا جگہ ایک اور کرو۔ اتباع کی اس کی نازل نے
3
کچھ جو )یعنی
کرو۔ اتباع کی اس گیا کیا نازل طرف تمہاری سے جانب کی رب تمہارے
نفس ٔتزکیہ :مقصد تیسرا
اکرم نبی
ﷺ
میں دنیا مقصد تیسرا کا
پٓا کہ ہے یہ کا جانے بھیجے
ﷺ
انسانوں
دلوں کے
، کریں صاف کوپاک
ان
دلوں کے
میں
گندگیاں جو کی وشرک کفر
خرابیا کی واعمال اخالق اور
ں
ہیں
، کریں باہر نکال کو ان
دلوں اور
کو
بنائیں قابل اس
رسول ِ محبت اور مسکن کا الہی ِ یاد وہ کہ
ﷺ
سکے۔ بن مرکز کا
چناں
پٓا چہ
ﷺ
جہاں نے
معاشرہ
کوششیں اصالحی اجتماعی کی
کیں
وہیں
دلوں بھی پر طور انفرادی
کا حضوری خداکی فرمایا۔ اہتمام کا اصالح کی
ا
دلوں خیال کا ہونے وناظر حاضر کے تعالی ہللا ،پیداکی فکر کی بازپرس کی قیامت ِ
روز ،پیداکیا حساس
میں
راسخ
تنہائیوں یا ہوجاتا سرزد بھی گناہ کا درجہ معمولی کہ تھا نتیجہ یہی کروایا۔
میں
فوری تو کرلیتے ارتکاب کا جرم کسی
ماب رسالت
ﷺ
تالف کی اس ہوکر حاضر حضور کے
ہوجائے۔ حفاظت سے عذاب ترین سخت کے خرتٓا تاکہ کروالیتے ی
گندگیوں اور الئشوںٓا کو معاشرہ انسانی
انسانوںًافرد ًافرد تو ہو بچانا رپر طو عمومی سے
،ہے ضروری اصالح کی
کیوں ہے ضروری کرنا درست کو دل پہلے سے سب لئےاسی ؛ ہےموقوف پر اصالح کی دل کے انسان ہر یہ اور
کہ
میں ء اعضا سارے اور سردار کا جسم تمام ہیدل
ہے۔ رکھتا حیثیت مرکزی
کریم نبی
ﷺ
میں انسانی ِ جسم:فرمایا نے
د فسا سارا جسم تو جائے ہو خراب وہ اگر اور ہوگاصحیح جسم سارا تو ہو درست وہ اگر ہے لوتھڑا کا گوشت ایک
میں
،گا ہوجائے مبتال
ہے دل وہ !سنو سے غور
۔
نمبر؛ حدیث : بخاری (
51
پٓا لئے کے )اس
ﷺ
اس کو امت نے
ہمیں کہ دی تعلیم کی بات
ہمیں پہلے سے سب
برائیوں کو دل اپنے
اچھی تاکہ ہے الزم و ی ضرور کرنا پاک سے
میں قلب طرح
گزیں جا محسنات
ہوں۔
جوچیزیں
میں ودنیا دین اور والی کرنے ہالککو انسان
باعث کا نقصان
ہوتیں
ہیں
،کینہ ،حسد :جیسے
،کذب
،غیبت
،بغض
بچنے ساتھ کے اہتمام بہت سے تمام ان وبخل اورطمع عناد
دی۔ تعلیم کی
میں اعمال سارے یقینا اصالح کی دل
اور اہمیت بڑیکی اس لئےسی ا ہے والی کرنے پیدا روح انقالبی
میں یاتٓا و احادیث بھی تاکید
۔ ہیں ئیٓا
- 13.
13
چوتھا
حکمت ِ تعلیم:مقصد
پٓا کام چوتھا
ﷺ
ہللارسول مراد سے حکمت ہے۔ دینا تعلیم کی حکمت کو امت کا
ﷺ
ابن تفسیر ( ہے۔ سنت کی
:کثیر
3
/
251
پٓا)
ﷺ
میں گرامی ِ ذات کی
انسانوں
ہے۔موجود ونمونہ اسوہ سے اعتبار ہر لئے کے
پٓا
ﷺ
تر تمامکی
وکا سعادت لئے کے انسانیت تعلیمات
ہیں۔ عالمت کی میابی
پٓا
ﷺ
میں ہونے پیرا عمل پر فرمایااس کچھ جو نے
ہی
پٓا لئےاسی ہے۔پوشیدہ دارین فالح
ﷺ
اصول کے زندگی ٔطریقہ نوازااور سے تعلیمات کی سنت کو امت اپنی نے
پٓا نے تعالی ہللا بتالئے۔ دابٓاو
ﷺ
ہے۔ رکھاموقوف کو محبت اپنی ہر اتباع کی
چناں
ا چہ
ْمُتْنُک ِْنا ْلُق: ہے رشاد
۔ْمُکَبْوُنُذ ْمُکَلْرِفْغَیَو ُ ِّ
اّٰلل ُمُکْبِبُْحی ْیِنُْوعِبَّتاَف َ ِّ
اّٰلل َنُّْوب ِ
حُت
: عمران لٓا (
31
لوگوں ! پیغمبر اے ( )
ہللا تم اگر کہ دو کہہ ) سے
،کرو اتباع میری تو ہو رکھتے محبت سے
تمہاری اور گا کرے محبت بھی سے تم ہللا
کردے معاف گناہ تمہارے خاطر
رسول و ہللا : کہ ہے لکھا نے مفسرین گا۔
ﷺ
دونوں کہ ہے یہ عالمت کی محبت کی
جائے۔ کی اطاعت کی
لکھا اور
پٓا عالمتکی محبت سے کریم نبی: کہ ہے
ﷺ
سنتوں کی
ہے۔ کرنا محبت سے
:قرطبی تفسیر (
5
/
92
)
کریم نبی
ﷺ
س میری شخص جو:کہ ہے ارشا کا
وہی حقیقت در ہے رکھتا محبت سے نت
،ہے رکھتا محبت سے مجھ
مجھ جو اور
میں جنت ساتھ میرے وہ گا کرے محبت سے
:(مشکوۃ ہوگا۔
1
/
383
)
:بات کی ت خرٓا
پٓا
ﷺ
اور معاشرہ ہوئے بگڑے ایک اور دیا انجام کام کا ترقی و تعمیر کی انسانیت تحت کے مقاصد بنیادی چار ان نے
کے تباہی
میں انداز بہتر سے بہترسنوارااور کو دنیا جاچکی پر دہانے
پیدا شوق کا نٓاقر ِ تالوت فرمائی۔ تربیتکی ان
دلوں ،بنایا مزاج کا ہونے پیرا عمل پر نیٓاقر ِتعلیمات ،کیا
میں
خرابیوں موجود
،اصالح کی
،وعداوت نفرت
حسد
،وبغض
بیماریوں ساری بہت اور
ک پانے نجات سے
،پیروی و اتباع اور ،کی بیدار فکر ی
وفرماں اطاعت
کا برداری
میں وجان دل کے کوٹ کوٹ جذبہ
میں نتیجہ کے جس کہ دیا بھر
قیامت فرمایا۔ وکامران کامیاب کو ان نے تعالی ہللا
چیزیں چار یہ لئے کے انسانیت والی نےٓا تک
ہیں رکھتی حیثیت بنیادی
میں روشنی کی اس کہ
خود
سنوارنے کو
میں امت جائے۔ کی کوشش کی سدھارنے کو معاشرہ اور
برکتوں جو کیاجائے پیدا مزاج کا نٓاقر ِ تالوت
رحمتوںاور
،ہے ذریعہ کا
کوئی بغیر کے جس جائے دی دعوت کی پوراکرنے کو نٓاقر ِ مطالبات ہوئے سمجھتے کو نٓاقر معانی
۔ نہیں چارہ
دلوں مردہ
،کرنے زندہکو
بیماریوں کی روح اور
ہونے رجوع سے ہللا اہل لئے کے کروانے عالج کا
بندوں نیک کے ہللا اور
ہوگی اصالح بھی کی ذات سے جس ،ہے ضروری بھی تلقین کی اٹھانے فائدہ سے صحبت کی
سنتوں اور بھی۔کی معاشرہ اور
زندگیوںسے
میں ماحول اور گھر ،جائے کیا کرنے روشنکو
تکی سنت
کو علیمات
نبی اپنے مسلمان تاکہ جائے کیا عام کو ومحنت کوشش کی کرنے عام
ﷺ
انسانوں کو وعمل اسوہ کے
والوں دنیا اور
میں انداز اچھے سامنے کے
کرسکیں۔ پیش
ANS 04
انفرادی کی انسان کے َورد ہر عمل و فکر ِنظام کردہ پیش کا اس ہے۔ زندگی ٔ
طریقہ اور دین مکمل ایک اسالم
کہ ہے پابند کا بات اس پیروکار کا اسالم ہے۔ ہدایت ٔ
ضابطہ عمل ِقابل واحد لیے کے پہلو ہر کے زندگی اجتماعی اور
- 14.
14
راستہ وہی صرفلیے کے تسکین و تکمیل کی خواہش بھی کسی اور کردے تابع کے دین کے ہللا کو خواہشات اپنی
ہے۔ گیا کیا میں دین تعین کا جس اپنائے کار ِطریق اور
:ہے ارشاد کا ٰ
تعالی ہللا
’’
جائو ہو داخل پورے کے پورے میں اسالم دائرہ ،ہو الئے ایمان جو لوگو اے
‘‘
۔
ہللا رسول اور
ﷺ
:ہے فرمایا نے
’’
کی اس تک جب سکتا ہو نہیں مومن تک وقت سُا بھی کوئی سے میں تم
جائیں ہو نہیں تابع کے تعلیمات ہوئی الئی میری خواہشات
‘‘
۔
اور یتٓا اس
تعلیمات یہ ہے۔ محیط پر زندگی پوری کی انسان دائرہ کا تعلیمات اسالمی کہ ہے ثابت سے حدیث
ہللا رسول پر پشت کی جن ہیں کرتی فراہم اصول راہنما لیے کے پہلو عملی و فکری ہر کے زندگی انسانی
ﷺ
ٔ
نمونہ کا
ہے۔ موجود )حسنہ ٔ
ہسوُا( عمل
یعنی ثقافت و تہذیب جس تعلیمات اسالمی
معاشرتی صرف میں ذیل کے سُا ہیں دار ئینہٓا کی معاشرت ِ
طرز
تصور جامع اور مکمل ایک کا ثقافت یا تمدن و تہذیب اسالم بلکہ ،تےٓا نہیں بحث ِ
زیر ہی پہلومخصوص چند کے زندگی
ہ جاتا پایا اہتمام بھرپور کا تہذیب و اصالح کی زاویے ہر کے عمل و فکر انسانی میں جس ہے کرتا پیش
ے۔
مراد لطیفہ ِفنون اور سرگرمیاں مخصوص کی قوم کسی صرف سے ثقافت کہ ہے تعلق کا بات اس تک جہاں
ڈاکٹر ہے۔ نہیں درست کرنا پر ثقافت اسالمی اطالق کا اس ہے۔ کارفرما سبب خاص پیچھے کے اس تو ہیں جاتے لیے
:ہیں لکھتے ناصر احمد نصیر
’’
سا کے اصالح کی ثقافتمخصوص میں اردو
رفعت کی معانی اپنے وہ کہ ہے یآا پیش حادثہ عبرتناک ایک تھ
چلی میں خانے نگار کر نکل سے مدرسے ،لگی ہونےاستعمال میں مفہوم متبذل و محدود کر ہومحروم سے وسعت و
معنوی کی اس طرح اس ہے۔ جاتی لی مراد وغیرہ فنکاری،نگاری تمثیل ،سرود و رقص ًاعموم سے اس اور ہے گئی
جوال
ہے یہ جواب مختصر اور سادا سیدھا کا اس ہے؟ ہوا کیوں ایسا ہے۔ گئی ہومحدود تک لطیفہ ِفنون کر سمٹ گاہ ن
سمجھے سوچے ایک لیے کے کرنے گمراہ پر طور عملی اور فکری کو مسلمانوں نےقوتوں ابلیسی دشمن اسالم کہ
بن سوقیانہ و محدود کو مفہوم کے ثقافت تحت کے منصوبے عالمگیر
ہے دیا ا
‘‘
۔
محیط پر انسانی ِحیات پوری اور گیر ہمہ جو ہے کی تخلیق کی تہذیب ایسی نے اسالم کہ ہے حقیقت ایک یہ
ہے۔ جاتا پایا فلسفہ پورا ایک کا زندگی ِمقصد میں اس اور ہے
نمائی راہکی تہذیب ِکاروان
بھ کی اصالح اور قیادت کی تہذیبوں کی عالم ِاقوام میں تہذیباسالمی
بھی کسی ہے۔ جاتی پائی صالحیت رپور
ہے۔ ماخوذ سے تہذیب اسالمی درحقیقت خوبی بھی کوئی والی جانے پائی میں تہذیب کی قوم
:ہیں لکھتے بی۔کے۔نریان ڈاکٹر
’’
خشک تہذیبیں ہندوستانی اور ایرانی ،بازنطینی ًالمث تہذیبیں قدیم جب ہوا پذیر ظہور وقت سُا میں دنیا اسالم
تھ چکی ہو
کی تہذیبوں قدیم کہ جو ،تھے منتظر کے نجات سے نظاموں ظالمانہ اور طبقے جابر لوگ جگہ ہر اور یں
تھی خصوصی مشترک
‘‘
۔
- 15.
15
کی دنیا اورفرینیٓا انقالب ،زرخیزی کی تہذیب اسالمی ہوئے لیتے جائزہ تاریخی حسین افتخار غآا ڈاکٹر
ڈالتے روشنی یوں پر خوبیوں کی راہنمائی کی تہذیبوں
:ہیں
’’
معاشرتی اور ذہنی عظیم ایک بلکہ نہیں کی ہی فطرت ِدین ایک حیثیت کی اسالم میں تاریختہذیبی کی انسان
ِقرون یورپ یافتہ تہذیب کا جٓا تھی۔ دوچار سے انحطاط تہذیبیشدید دنیا وقت کے ظہور کے اسالم ہے۔بھی کی انقالب
،نیل وادی تھا۔ ہوا ڈوبا میں تاریکیوںکی ٰ
وسطی
کر پہنچ پر عروج تہذیبیں قدیم کی سندھ وادی اور فرات و دجلہ وادی
ِمملکت میں یورپ میں عرصے اس تھا۔ چکا ہو ختم بھی َورد سنہری یہ کا افکار یونانی تھیں۔ چکی ہو شکار کا زوال
لیکن تھی ابھری کر لے نوید نئی ایک کی تہذیب روما
…
ہو پذیر زوال بھی )(تہذیب مملکت عظیم یہ
طرح اس گئی۔
کیا ُرپ سے کامیابی نہایت نے اسالم کو خالء اس گیا۔ ہو پیدا خالء ایک کا تہذیب میں مغرب اور مشرق
‘‘
۔
کا انسان ہے۔ سے ذہن انسانی تعلق کا نظر و فکر کہ لیے اس ،ہے ضروری ارتقاء ذہنی لیے کے ترقی تہذیبی
فطرت وہ ہی اتنا گا ہوپسند حقیقت اور صاف قدر جس ذہن
یہ جب ًانتیجت گا۔ ہو حامل کا ارتقاء فکری اور تر قریب سے
طور امتیازی لیے کے دوسروں یقینا تہذیب وہ تو گا ہو کارفرما میں ترقی کی ثقافت و تہذیب پائیدار اور مضبوط رویہ
مفک مغربی اعتراف کا حقیقت اس ہے۔ چڑھایا پروان کو تہذیب ہیایسی نے اسالم گی۔ ہوقبول ِقابل پر
ہے۔ بھی کو رین
:ہے کہنا کا ہنٹنگٹن پی۔ ایس۔ دانشور مغربی ایک کے حاضر ِ
عصر چنانچہ
’’
صدیوں عیسوی تیرہویں اور گیارہویں تحت کے مفادات اور حاالت مخصوص کے مغرب نے ثقافت یورپی
کرتے اخذ عناصر موزوں میں تناسب لحاظ ِقابل سے تہذیبوں بازنطینی اور اسالمی ٰ
اعلی دوران کے
غازٓا کا ترقی ہوئے
کیا
‘‘
۔
مفکر مغربی اور ایک طرح اسی
Ingmarcarlson
میں تہران نے
’
مغرب اور اسالم
‘
اپنے پر موضوع کے
:کیا اعتراف یہ دوران کے خطاب
’’
فنون و علوم یونانی ان نے علماء مسلمان اور ہیں احسان ِممنون قدر کس کے اسالم ،تمدن اور تہذیب ہماری
تحف و ترقی کی
زیادہ بہت لوگ میں بارے اس ،کیا ادا کردار کیا ،ہیں دیتے قرار بنیاد کی تہذیب مغربی ہم جنہیں میں ظ
تعبیر و تشریح نے انہوں بلکہ ،رکھا محفوظ سرمایہ فکری کا روم اور یونان قدیم صرف نہ نے مسلمانوں نہیں۔ واقف
متعدد کے جستجو و تالش انسانی کیے۔ اضافے میں اس ذریعے کے
کے اہمیت بنیادی کارنامے کے نُا میں میدانوں
ہیں حامل
‘‘
۔
علمی نے اقوام دیگر اور ہے سرچشمہ کا تہذیب اور علوم اسالم کہ ہیں مظہر اعترافات یہ کے مفکرین مغربی
:ہیں لکھتے الدین کمال خواجہ ہے۔ کیا استفادہ سے ہی اسالم پر طور تہذیبی و
’’
قومی مختلف اگرچہ پہلے سے اسالم
اپنا کو تمدن و تہذیب نے جنہوں رہیں اقتدار ِ
برسر میں ہستی ِہکارگا ں
مقبول اور مِّمسل سے طور عام جٓا جو طریقہ وہ کا حصول کے اس اور نظریہ وہ کا تہذیب لیکن ،دیا قرار العین نصب
ِقرون اور دیا کو دنیا درس کا حقیقت اس نے کریم نٓاقر دن جس ہوا نصیب کو دنیا دن اسی ،ہے
مسلمانوں کے ٰ
ولیُا
بنایا العمل دستور اپنا کو ہدایت اس نے
‘‘
۔
- 16.
16
تصنیف مشہور اپنینے ؒتیمیہ ابن عالمہ االسالم شیخ سے حوالے کے معاشرت و تہذیب اسالمی
’
اقتضاء
المستقیم الصراط
‘
کی فرق درمیان کے ثقافت و تہذیب اسالمی غیر اور اسالمی ننے انہو ہے۔ کی بحث بھرپور میں
وضا
جگہ ایک ہے۔ کیا ثابت تہذیب گیر ہمہ اور جامع کو زندگی ِ
طرز اسالمی اور ہے کی میں روشنی کی دالئل حت
:ہیں فرماتے
’’
میں ان میں بعد یا ،تھیں ناقص تہذیبیں اور شریعتیں )(پہلی اگلی کہ ہے یہ ہی مطلب کا نےٓا کے کامل ِدین
ہ سچائی خریٓا وہ اگر کہ لیے اس گیا ہو پیدا نقص
کی بھیجنے کے ؐرسول نئے اور کتاب نئی ،دین نئے پھر تو وتیں
صالح کے ان اور دے سہارا کو تہذیبوں کہ تھا یآا لیے اس اسالم کہ ہے ہوتا معلوم سے اس تھی؟ کیا ہی ضرورت
ِتاریخ ،کرے پورا کو تقاضے کے زمانے اور مانگ کی وقت ،کرے اصالح و تجدید کی مذاہب ابھارے۔ کو نقوش
انس
دے پاٹ کو خلیج کی نظر و فکر اور دے بھر کو خالء کے انیت
‘‘
۔
اثرات پر تہذیبوں دیگر
راہیں تاریک کی یورپ کہ بھی یہ اور ہے ریکارڈ تاریخی ایک شنائیٓانا سے تہذیب اور جہالت کی یورپ
:ہیں لکھتے ملک حیات امجد ہوئیں۔ روشن سے چراغوں کے تمدن و تہذیب اور دانش و علم اسالمی
’’
قیادت کی دستے ہراول کے ترقی نے اسالم میں َورد کے ویرانی علمی اور اخالقی پرانی صدیوں کی یورپ
ناکام میں راہنمائی اور ہدایتکی عالم ِاقوام لیکن لیا کر متمکن تو پر تخت کے روم قیصر کو پٓا اپنے نے عیسائیت کی۔
چھا پر یورپ تک عیسوی صدی بارہویں سے صدی چوتھی رہی۔
ہوتے تر دبیز سے دبیز پردے کے ظلمتوں ہوئی ئی
دیں کر مسدود سکے ہو شروع َورد کا تہذیب اور انسانیت ،علم سے جن راہیں تمام وہ نے کلیسا گئے۔ چلے
…
لیکن
لگے ہونے محسوس کر پہنچ میں دنیا عیسائی اثرات بابرکت کے اسالم ساتھ کے وقت پھربھی
‘‘
۔
نے رخینٔ
مو مغربی جانبدار غیر
احسان کا مسلمانوں پر یورپ اسے اور ہے کیا اعتراف کا حقیقت اس بھی
روح کی انقالب تہذیبی اور بیداری علمی میں اقوام مہذب غیر کی َورد سُا نے ثقافت و تہذیباسالمی کہ ہے کیا تسلیم
:ہے لکھا نے الدین عزیز نجالء ڈاکٹر مصنفہ کی دنیا عرب پھونکی۔
’’
ک )(عیسویصدی تیرہویں
برتری کی تہذیب مسلم نے انہوں ،تھے راہنما ذہنی کے یورپ لوگ جو دوران ے
عیسائی کہ ہے یہ سبب کا کھانے شکست سے مسلمانوں نکی عیسائیو میں نظر کی بیکن ہے۔راجر کیا اعتراف کا
( سائنس اطالقی اور زبانوں سامی
Applied science
تھے ماہر بڑے میں ان مسلمان اور تھے ناواقف سے )
۔
تھا ہوا چڑھا گہرا بہت رنگ کا تخیل مسلم پر اساتذہ بڑے بڑے کے مسیحیت
‘‘
۔
برطانوی پر موقع کے افتتاح کے عمارت نئی کی ایجوکیشن ہائر فٓا ٹیوٹ انسٹی فیلڈ مارک میں برطانیہ
ج اور حقانیت کی معاشرت ِ
طرز اسالمی اور اسالم دین ہوئے کرتے بیان تاثرات اپنے نے چارلس شہزادہ
کا اذبیت
:کہ بتایا سے حوالوں تاریخی نے انہوں کیا۔ اعتراف
’’
کے فالح انسانی نے مسلمانوں ہے۔ )(ہاتھ بیوشن کنٹری بڑا بہت کا اسالم میں کاری ُسنح کی تہذیب عالمی
سکتے چکا نہیں بدلہ کا احسانوں کے نُا ہم کہ ہیں دیے انجام نمایاں کارہائے ایسے ایسے
‘‘
۔
- 17.
17
دین اسالم طرحجس
فطری میں جس ہے۔ تہذیب فطری بھی تہذیب کردہ پیش کی اس طرح اسی ہے فطرت
حقیقت یہ سکتا۔ رہ نہیں بغیر ہوئے متاثر سے اس ہو مذہب بھیکوئی کا سُا خواہ انسان جانبدار غیر ایک ہے۔ جاذبیت
مرت اثرات گہرے کے اس پر سب اور ہے فائق تہذیب اسالمی پر تہذیبوں کی بھر دنیا کہ ہے
ہیں۔ ہوئے ب
۱۹۶۸
جس تھیہوئی شائع کتاب ایک سے لندن سے حوالے کے کارکردگی کی گھروں گرجا میں بھارت میں ء
:کہ تھا بھی اعتراف کا امر اس میں اس تاہم ،تھا گیا بنایا تنقید ہدف کو اسالم اور مسلمانوں اگرچہ میں
’’
صدیوں کئی اسالم میں بھارت
اور ہے کیا بھی متاثر کو لوگوں کے اردگرد اپنے نے اس ہے۔ موجود سے
ہے لیا بھی اثر کا ماحول
‘‘
۔
قبول اثر کا ماحول تک جہاں ہے۔ کیا متاثر کو تہذیبوں اور مذاہب دوسرے ہمیشہ نے تہذیباسالمی اور اسالم
ٓا کی تہذیب اسالمی اور حقانیت کی اسالم بات ایسی تو ہے تعلق کا کرنے
اس ہر میں اسالم البتہ ہے۔ منافی کے فاقیت
ہو۔ نہ متصادم سے اصول اسالمی سے طرح بھی کسی باطنی و ظاہری جو ہے گنجائش لیے کے چیز
:ہیں لکھتے عبدہللا احمد
’’
،گیا ہو شروع پھیلنا اسالم میں عالقوں ان ہوئے داخل میں یورپ جنوبی اور پرتگال ،اسپین مسلمان جب
پھیالئ یہ لیکن
قبول اسالم صرف نہ نےتعداد بڑی ایک کی لوگوں ہسپانوی تھا۔سست نسبتکی عالقے اور بھیکسی و
اپنایا سے خروش و جوش بھی کو تمدن اسالمی اور زبان عربی بلکہ کیا
‘‘
۔
Murray T.Titus
لکھا سے تعلق کے پذیری اثر کی تہذیب اسالمی اور اشاعت کی اسالم میں بھارت نے
:ہے
’’
ماالبا
کے کٹ کالی میں بنانے مسلمان کو لوگوں کے وہاں وجہ دلچسپ ایک کی اسالم ِاشاعت پر ساحل کے ر
Zamorin
حوصلہ کی ہونے مسلمان پر طور زادانہٓا کی لوگوں کے ذات نچلی نے سُا کہ ہے جاتا کہا تھا۔ کردار کا
کی افزائی
…
گی ماہی میں حکومت کی سُا کہ تھا دیا حکم تک حد اس نے سُا
سے ایک یا ایک میں خاندان ہر کے روں
نے ضرورت سیاسی ایک کی معاشرے ہندو طرح اس چاہیے۔ ہونی پر طور کے مسلمان پرورش کی مردوں زیادہ
بٹایا ہاتھ میں اسالم اشاعت میں ہندوستانجنوبی
…
بھی نے والوں ہونے برگشتہ سے میں ذاتوں نچلی کی ہندوستان
حاصل درجہ کا زادیٓا معاشرتی
کے پات ذات لچکدار غیر اور ظالمانہ کے ہندومت کہ جو ہوئے پاتے موقع کا کرنے
کہا مدیدٓا خوش کو اسالم تھا رکھا کر انکار سے دینے انہیں نے نظام
‘‘
۔
کی جن اور ہیں سے میں خصوصیات نمایاں کی تہذیباسالمی جو مروت و احسان اور انصاف و عدل ،مساوات
چُک َبےد کے معاشرے بدولت
کے نُا اور اقوام دیگر ہے ہوا نصیب اطمینان اور اعتماد ہمیشہ کو طبقات مظلوم اور لے
تصویر کی رسوم ظالمانہ دیگر اور پات ذات سے شروع جو ،معاشرہ ہندو ہیں۔ کرتی مرتب اثرات گہرے پر سہن رہن
لیے اپنے کو معاشرت ِ
طرز اسالمی نے طبقے محکوم و مظلوم کے اس ہے رہا کرتا پیش
،کیا محسوس کشش باعث
استفادہ پر طور عملی سے ثمرات کے تہذیب اسالمی کر ہو داخل میں اسالم دائرہ نے تعداد بڑی سے میں نُا چنانچہ
:ہیں طراز رقم سالک عبدالمجید کیا۔
- 18.
18
’’
اس باوجود کےہونے دار دعوے کے مذہب مقدس اس امراء و سالطین مسلمان بعض کہ نہیںشک میں اس
معیاروں کے
بڑی بہت کی مسلمانوں لیکن ،ہوئے موجب کے رسوائی و ننگ لیے کے اسالم اور اترے نہ پورے پر
،رہی کرتی پیش نمونہ کا تعلیم صحیح کی نٓاقر اور اسالم سامنے کے ہند ِاہل کر رہ کاربند پر احکام کے دین اپنے تعداد
طر پوری سے فائدے اس گو ،اٹھایا فائدہ کافی نے قوم ہندو سے جس
سکی ہو نہ یاب بہرہ ح
‘‘
۔
:لکھا میں بارے کے مالدیپ نے یونس محمد قاری ڈاکٹر
’’
کر پلٹ کایا کی باشندوں تمام کے یہاں نے اس میں نٓا کی نٓا اور یآا طرح کی انقالب ایک اسالم میں مالدیپ
دی رکھ
…
ُا ،گئے بدل عقائد کے ان گئے بدل افکار و نظریات کے نُا ،گئے بدل ذہن کے ان
گئے بدل تہوار کے ن
‘‘
۔
بیان اثرات کے تہذیب اسالمی پر منگولوں اور تاتاریوں نیز ،پیروکاروں کے مت ہندو اور زرتشت ،عبدہللا احمد
:ہیں لکھتے ہوئے کرتے
’’
بالجواز سے حیثیت طاقتور اپنی پادری کیونکہ ،کی اختیار شمولیت لیے اس میں اسالم ٔ
حلقہ نے زرتشتوں
ت رہے اٹھا فائدے
کے اسالم سے مت ہندو ہوئی۔ پیدا ابتری ساتھ کے تباہی کی اقتدار کے ان میں نتیجے کے اس ھے
بے انتہائی ساتھ کے طبقے ایک کے معاشرے جو ،تھے امتیازات کے پات ذات وجہ عمومی کی نےٓا میں عاطفت ٔ
سایہ
کے مسلمانوں کے عہد اپنے نے تاتاریوں اور منگولوں تھے۔ دار ذمہ کے انصافی
و تعلیمی اور تمدن یافتہ ترقی
کیا قبول اسالم کر ہو متاثر سے کارناموں سائنسی
‘‘
۔
ہوئے کرتے بیان وجہ کی ہونے متاثر سے اسالم کے اچھوتوں کے ہندوستان اور باشندوں افریقی وہ گےٓا
:ہیں لکھتے
’’
استیصا اور ظلم پر بنیاد کی معیاروں ساختہ خود دیگر اور رنگ ہاتھوں کے مغرب
وجہ کی بننے نشانہ کا ل
انہیں جو ،ہے ضرورت کی ان یہ ہے۔ رہی ہو داخل میں اسالم ٔ
ہدائر ہی پہلے تعداد بڑی کی لوگوں کے افریقا سے
ہے معاملہ کا اچھوتوں میں ہندوستان طرح اسی ہے۔ الرہی طرف کی اسالم
…
ہیں کرتے محسوس لوگ ہوئے پسے یہ
مساوا انہیں ہی معاشرہ اسالمی صرف کہ
کے شریعت کہ جو ہے دیتا ضمانت یقینی اور الزمی کی چارہ بھائی اور ت
اسالم انہیں بلکہ نہیں ضرورت کوئی کی ان کو اسالم ہے۔ ہوتا مینقائم روشنی کی اصولوں اور قدروں مستقل ذریعے
ہے ضرورت کی
‘‘
۔
:ہیں کرتے تحریر برق جیالنی غالم ڈاکٹر
’’
بادیٓانو بھی نے اسالم میں وقت کسی
میں شمال ،ملتان میں جنوب کر نکل سے عرب ہم تھیں۔ کی قائم ات
سو ٹھٓا میں اسپین ہم تھے۔ جاپہنچے تک اسپین اور مراکش میں مغرب اور ترکستان چینی میں مشرق ،اسود ٔ
ہبحیر
کی حکومت سال ہزار پر ہند رہے۔ برس
…
احسان و عدل بنیاد کی جس کو حکومت ہماری نے باشندوں کے ممالک ان
انہوں کہ کیا پسند قدر اس تھا کرنا قائم سے ہللا رابطہ کا انسان مقصد کا جس اور تھی گئی رکھی پر عشق و علم اور
اپنالیا کو تک مذہب و تہذیب ہماری نے
‘‘
۔
اور ہیں ہوتے قطعی اور گیر ہمہ ،دار ئینہٓا کے سچائی اصول کے فطرت ہے۔ فطرت ِدین ماخذ کا تہذیباسالمی
ک زمانہ ہر
جاذبیت اور کشش فطری میں تہذیب اسالمی بدولت کی اصولوں انہی ہیں۔ کرتے پورا کو تقاضوں فطری ے
- 19.
19
کے تاریخ تہذیباسالمی کہ ہے وجہ یہی جاتی۔ پائی نہیں میں تہذیب اور نظام اور کسی کے دنیا بات یہ ہے۔ جاتی پائی
ا ورغبت رضا بہ نے اقوام دوسری اور ہے رہی ممتاز میں َورد ہر
کا تہذیب اسالمی ہیں۔ کیے قبول اثرات گہرے کے س
ہیں۔ رہی لوٹ طرف کی زندگی سادہ کر ہو بیزار سے فاتِّتکل عالم ِاقوام جٓا اور ہے بھی سادگی وصف ایک
کرتے تبصرہ پر انفرادیت کی تہذیب والی نےٓا میں ظہور معرض تحت کے اسالم ِدین نےفواد الدین فخر ڈاکٹر
:ہے لکھا ہوئے
’’
ا
بدل نظام فرسودہ کا دنیا دیا۔ جنم کو تہذیب نئی ایک اور تمدن نئے ایک پر تختہ کے دنیا نے ظہور کے سالم
ڈالی طرح کی زندگی ِ
دستور ،کیا قائم نسق و نظم نو انداز بہ اندر کے دنیا دیا۔ رکھ کے
‘‘
۔
( نائیڈوسروجنی مسز دان سیاست اور شاعرہ مشہور کی بھارت
Sarojini Naidu
نے )
پیغمبراسالم،اسالم
ﷺ
:ہیں لکھتی وہ ہے۔ کیا اعتراف کا صداقت فاقیٓا کی تہذیب اسالمی اور
’’
کے جس کروں اعتراف سامنے کے پٓا کا اخوت عالمگیر سُا کہ ہوں پاتی قابل اس کو پٓا اپنے میں تاہم
محمد حضرت وہ اور ہیں موجود پر دل میرے نقش
ﷺ
نت کا کوششوں شاندار اور پاکیزہ کی
ہیں یجہ
…
انسان پاک وہ
کا پیدائش کی اس جو اندر کے صحرا اس اور یآا طرف کی دنیا مخمور سے تعصب و بغض ،بھرپور سے نفرت ایک
ہوا انکشاف پر سُا کا صداقت والی مٹنے نہ ایک ،تھا گہوارہ
‘‘
۔
:ہیں لکھتے یونیورسٹی پرنسٹن پروفیسر ،برنارڈلیوس ڈاکٹر
’’
عر زائد سے سال ہزار ایک
پر طور عالمی لیے کے انتظام کے زندگی سماجی اور پبلک نے اسالم تک صے
رسوخ و اثر یورپی زیادہ سے زیادہ میں ملکوں جن کہ تک یہاں ہے۔ کیا مہیا ضوابط و اصول ٔ
مجموعہ واحد قبول قابل
وہ اور رہے تسلط زیر کے طاقتوں شہنشاہی کی یورپویسے جو یا رہیحکومت کی یورپ پر جن ،رہا
یورپی جو بھی
برسوں حالیہ رہا۔ اثر پذیر نفوذ اور گہرا کا رجحانات اور تصورات سیاسی کے اسالم وہاں ،تھے زادٓا بالکل سے تسلط
ہیں سکتے ہو پذیر ظہور میں شکلوں شدہ ترمیم نسبت کی غلبے گزشتہ اپنے رجحانات اور تصورات وہ میں
‘‘
۔
ANS 05
بھی ) (قیادت لیڈرشب میں جن ہیں کرتی ونمایاں ممتاز سے مخلوقات دیگر کو انسان جو ہیںایسی چندخصوصیات
ہوتا کرنا فراہم حل آسان کا مسائل کے ان اور رہنمائیدرست کی انسانوں مقصد بنیادی کا ہے۔قیادت شامل
بلکہ ہے رہتیسرگرم و مستعدد ہمیشہ میں حل کے مسائل انسانی صرف نہ قیادت دار دیانت اور باصالحیت،ہے۔باشعور
عوام لئے کے حصول کے مقاصد متعین ہے۔قیادت کرتی ادا کردار کلیدی بھی میں ترقی اور امن خوشحالی کی معاشرے
اور ہیں کہتے کوقیادت مجموعہ کے کردار و ہے۔تاثیر کانام کرنے گامزن پرسمت شدہ طئے ایک اکراہ و بالجبر کو
کے منصب اپنے اسے تووہ جائے کیا عطا عہدہ یا داری ذمہ کوئی اسے جب ہے ہوتاایساشخص ایک مراد سے قائد
ہر کی دہی انجام کی جس کہ ہے نہیں کام معمولی ور ا آسان کوئی قیادت ہے۔ رکھتا صالحیت کی دینے انجام شان شایان
سے چیلنجز ان ۔ ہے رہتا ہوتا سامنا سے چیلنجز بیرونی و اندرونی کاہردم جائے۔قیادت کی توقع سے ناکس و کس
مسائل گوں ہے۔گوناںہوتی کامیاب میں کرنے حاصل درجہ کا قبولیت اور استحکام، اعتماد قیادت ہیہوکر براں عہدہ
کو معاشرے ہے۔ضروری حد بے ہونا میں ہاتھوں کے افراد اہل ہمیشہ ڈور باگ کی قیادت باعث کے چیلنجز اور
- 20.
20
نہیں ممکن ہونہ کیوں حامل کا کردار و صالحیت ٰ
اعلی ہی کتنی وہ خواہ سے واحد فرد ایک حل کا مسائل تمام درپیش
ضرورہے۔ مشکل تو نہیں ناممکنبھی ہونا براںعہدہ سے داریوں ذمہ کی کاقیادت انسان ۔اکیلے ہے
د فر کسی مراد سے لیڈرشب ہے۔ عام مغالطہ کا سمجھنے قیادت و قائد حقیقی ہی کو ایکفردواحد میں معاشرے آج
۔فکری ہے نام کا اجتماعیت اورمخلص باصالحیت، باشعور ایک )(قیادت لیڈرشب بلکہ ہے نہیں ہرگز آمریت کی واحد
اسالمی کہ جو ہیں بیٹھےسمجھ کو آمریت کی واحد فرد کسی مطلب کا قیادت آج ہم سے وجہ کی ذہن رواجی اور جمود
اور لیڈر اپنا کو واحد فرد ایک عوام سے وجہ کی ذہن رواجی اور جمود ہیں۔فکری مغائر عین کے اصولوں اور تعلیمات
دوچار سے نقصان ہوئے تے کر وابستہ توقعات کی حل کے مسائل و مقاصد اپنے سے اسی کر مان دہندہ نجات
کودھوکادیتی عوام ہوئے کرتے پیش پر طور کے قیادت حقیقی کو ذات اپنی قیادت کی واحد فرد پسند ہیں۔آمریت
میں گونج کی نعروں ان عوام اور ہے رہتیجٹی میں حصول کے مفادات اپنے قیادت یہ سے نعروں ہے۔دلفریب
کے مقبولیت کی لیڈروں ہیں۔ایسے گرفتارہوجاتے میں سحر کے شخصیت ہوئے رکھتے طاق باالئے کو اجتماعیت
ایک کسی کے زندگی،تعلق سے گھرانے حکمران،پسندیدگیکی حکمرانوں ،عنایت نظر کی طبقوں حکمران میں اسباب
شامل وغیرہ استعمال دریغ بے کا نعروں مبنی پر مسائل عوامی،مہارت میں خطابت فن،کارکردگی کامیاب میں شعبے
کی عوام قائدین جعلی یہ سبب کے فقدان کے تربیتشعوری و سیاسی کی )(طلبہ نسلنوجوان بالخصوص ہیں۔عوام
راگ کے رہنماچاہئے نہیں منزل ہمیں عوام اور ہیں کرلیتے حاصل کامیابی میں بنانےوقوف بے کو تعداد بڑی ایک
کھل راستہ کا لیڈری تاحیات لئے کے لیڈروں جعلی ان صرف نہ سے پرستیشخصیت کی قسم اس ہیں۔ نظرآتے االپتے
نسلنوجوان بالخصوص عوام ہیں۔ ہوجاتے ہموار بھی راستے کے حکمرانی خاندانی کی ان درنسل نسل بلکہ ہے جاتا
سرگرم میں حصول کے مفادات اپنے کر ہو جمع گرد کے لیڈر ایک کسی گروہ پرست مفاد سبب کے تقلید اندھی اس کی
بلکہ ہوا استحصال خوب پر نام کے خدمت کی قوم اور آڑ کی شخصیات کا ان کہ ہے المیہ یہ کا مسلمانوں ہیں۔ ہوجاتے
کی نسل نوجوان لئے کے تبدیلی کی نامے منظر ہیں۔اس خبر بے سے استحصال اپنے یہ تک آج لیکن جارہاہے کیا
کوالیٹیز شب لیڈر حقیقی ہوئے کرتے پیدااستعداد اور شعوری، اخالص میں ۔طلبہ ہے ضرورت اشد کی تربیت و تعلیم
ہے۔ جاسکتا دیا فروغ کو )اوصاف (قائدانہ
کسی کے قیادت سے وجہ کی جاللت و عظمت کی اس لیکن ہے منصب القدر جلیل اور الشان عظیم ایک قیادت بالشبہ
جائے پرکھا پرکسوٹی کی وسنت قرآن کو نظریات و احکامات کے جاسکتا۔قیادت کیا نہیںعمل دھند پراندھا حکم بھی
یکلخت ورنہ گے ہوں العمل واجب ور ا قبول قابل ہی تب ہوں اترتے پورے پراصولوں کے سنت و قرآن وہ ۔اگر گا
اپنے اور کی سلم و علیہ ہللا صلی رسول اور کرو اطاعت کی ہللا والوں ایمان گا۔’’اے جائے کردیا نامنظور انھیں
رسول کے اس اور ہللا کہ ہے ہوتا معلوم سے آیت اس کی النسا سورۃ ) 59 (النساء ‘‘کی ) امر صاحبان ( الواالمر
کے اطاعت مستقل اطاعت کی اولواالمر ہے۔ رکھتی درجہ کا اطاعت مستقل ایک ہی اطاعت کی سلم و علیہ ہللا صلی
ساتھ کے اطاعت کی )احکامات کے سنت و سلم(قرآن و علیہ ہللا صلی ہللارسول اور ہللا یہ بلکہآتی نہیں میں درجے
سلم و علیہ ہللاصلی رسول احادیث و نصوصقطعی کے قرآن نظریات و احکامات کے )الواالمر ( ہے۔قیادتمشروط
- 21.
21
یہ تب ٹکرائیںسے رسول سنت اور قرآن اگر اعمال و اقوال ، نظریات کے )امر(قیادت ۔صاحبان ہوں نہ متضاد سے
باغی۔ ہی نہ اور گے ہوں پر غلطی تو نہ والے کرنے انکار کا اس اور گے ہوں نہیں اطاعت قابل و اتباع الئق ہرگز
بھی نیک جو گے ہوں حکام بعد میرے ’’فرمایا نے سلم و علیہ ہللا صلی کریم نبی کہ ہے روایت سے ؓابوہریرہ حضرت
نماز میں اقتدا کی اوران کرنا اطاعت کی ان،ہوںموافق کے حق جو سننا احکام کے ان تم،بھی فاسق اور گے ہوں
کو ان تو کریں کام برے وہ اگر اور بھی تمہارا اور ہے نفع بھی کا ان میں اس تو کریں کام نیک ہ و اگر اور پڑھنا
ہوگا۔ فائدہ تمہیں اور ‘‘ضرر
سنت، خداوندی احکامات بلکہ ہو نہ العنان مطلق قیادت گویا کہ ہے ہوتا معلوم ہمیں میں روشنی کی ت تعلیمااسالمی
فرائض کے رہنمائیدرست کی خداا خلق سے مشاورت کی افراد علم اہل اور باشعور، متقی میں روشنی کی رسول
باطنی و ظاہری کے ہدایت ور ا رہنمائی، سیادت و قیادت میں خاکی پیکر کے انسان نے العزت رب ہو۔ہللادیتی انجام
ان کردہ عطاکی ہللا ہے۔انسان ہوا اضافہ میں منزلت و قدر کی انسان سے جن ہیں فرمائی ودیعت قوتیں بہا بیش
اپنے ہے۔اساتذہ رہا دے انجام فرائض کے سیادت و قیادت سے آفرینش ابتدائے ہوئے التے کار بروئےکو خوبیوں
بسر زندگی اور سربستہ ہائے راز کے زندگیکو چھوٹوں اپنے بڑے، رعیت اپنی راعی، اصاغر اپنے اکابر،کو تالمذہ
ہوتا منتقل نسل در نسل ہی سے آغاز کے زندگی انسانی فن و علم یہ اور ہیں آئے سکھاتے طریقے و سلیقے کرنے
کا نگاہ عقابی اور دوراندیش، م اولوالعز کا قیادت لئے کے دہی انجام کی فرائض کے قیادت کی وملت قوم ہے۔ چالآرہا
صراحت میں روشنی کی سنت و قرآن لئے کے ہونے فائز پر جلیلہ منصب کے ہے۔قیادت گیا گردانا الزمی ہونا حامل
شرائط کردہ بیان کی سنت و قرآن قبل سے کرنے منتخب قائد اپنا کو فرد بھی۔کسی ہے الزمی تکمیل کی شرائط کردہ
ان بلکہ ہیں ہوتے نہیں نازل بنائے بنے قائد کہ چاہئے رکھنی نشین ذہن ہمیں بات یہ ہے۔ ضروری رکھنا میں نگاہ کو
ہیں ہورہی شائع کتابیں دن آئے پر )اسکلز شب (لیڈر صالحیتوں قائدانہ ہے۔ ہوتادخل بڑا کا تربیت میں گری صورت کی
کو رہنماوں و قائدین مثالی چند پر بنیادکی معلومات و علم اپنے جو ہیں ہے جار کئے منعقد بھی س سیمنار متعدد اور
ان کہ ہوگا معلوم تو جائے پرکھا پرکسوٹی کی تاثیر و اعتبار جب کو مثالیت کی شخصیات مثالی ان ۔ ہیں کررہے پیش
اس میں ہرشعبے کے ندگی ز جو ہےضرورت کی آئیڈیل و قائد ایسے ایک کو انسان ہے۔آج نہیں ہی تیل تو میں تلوں
فطرت انسانی قوانین و اصول کردہ بیان کے ۔قائد ہو توازن و اعتدال میں زندگیکی جس کرسکے رہبری و رہنمائی کی
کے زندگی حاالت کے شخصیات نامورکی دنیا اور کتابوں ہزاروں گئی لکھی پر سیادت و ہوں۔قیادت مطابق عین کے
اقدس ذات کی سلم و علیہ ہللاصل اکرم نبی لیکنمحدودہے ہی بہت دائرہ کا اثر کے ان کہ ہے ہوتا معلوم سے مطالعہ
وسلم علیہ ہللاصلی آپ ۔ آزادبھی سے قید کی حدود مکانی اور زمانی کی طرح ہر اور ہے محیط و بسیطدائرہ اثرکا کے
توجہ پر اوصاف اسالمی ان کے قیادت میں مضمون اس ہے۔معجزہ زندہ ایک خود بذات ہدایت و تعلیم اور سیرت کی
خون پرانے خون نیا اور آسکیں میسر مواقع کے ترقی میں نظام سماجی کو آدمی ذریعے کے جس ہے گئی کی مرکوز
سکے۔ دے انجام فرائض کے رہبری و رہنمائی بہتر کی عوام مطابق کے تقاضوں جدید ہوئے لیتے جگہ کی
- 22.
22
اور مصلحتوں وقتیہمیشہًایقین ہے۔قیادت ہوتا کردار کلیدی کا اخالص میں کامرانی و کامیابی کی اخالص؛۔قیادت
اگر میں ہے۔عبادات کرتا عطا مرتبہ و وقار اسے للہیت و اخالص کا قائد لیکن ہے رہتی میں گھیرے کے تقاضوں
صلی النبی گا۔سیرت رہے محروم انسان سے دولت کی الہی عرفان لیکن گا ہوجائے ادا تو ض فر تو ہو نہ شامل اخالص
نہ اذیتیں کتنی نے پرستوں بت کے مکہ کو آپ پر حق دعوت کہ ہے ہوتامعلوم ہمیں سے مطالعہ کے سلم و علیہ ہللا
و استقامت پائے کے سلم و علیہ ہللاصلی آپ لیکن گئے دیئے کونہیں سلم و علیہ ہللا صلی آپ اللچ کیسے کیسے، دیں
کو اللچکی قسم ہر اور کیں برداشت اذیتیں کی ح طر ہر نے سلم و علیہ ہللا صلی آیا۔آپ نہیں فرق کوئی میں اخالص
میں سالوں23 صرف اور ہوگیا ختم دور کا آزمائشوں اور مشقتوں یہ کہ ہےگواہ ٹھکرادیا۔دنیا سے حقارت پائے
بھی ۔کسی بہادیا طرح کی خاشاک و خس کو باطل ہر ، ظلم ہر نے جس ہوا رونما انقالب ایساعظیم ایک پر ہستی صفحہ
متصف سے اخالص قوم و قائد ہے۔جب اہم جانا پایا کا نیت خلوص میں کارکنان اور قائد کے تنظیم اور انجمن تحریک
ہیں۔ ہوجاتے سرنگوں پرچم کے رفعتوں اور عظمتوں تلےقدموں کے ان تو ہیں ہوجاتے
استقامت، ترقی،بہتری،بھالئیکی انسانوں میں ہے۔علم رکھتا حیثیت کی ذرہ اور قلعہ لئے کے ملت و ملک ؛۔علم علم
آدم نے ٰ
تعالی ہیں۔ہللا ہوتےروشن دل و ذہن سے ہے۔علم پنہاں تحفظ کا نسلوں اور مندی سعادت، ہدایت و رشد، تزکیہ،
بتالئے نام کے چیزوں تمام السالم)کو (علیہآدم فرمائی’’اور عطا برتری پرفرشتوں ذریعے کے علم کو السالم علیہ
نام کے ان مجھے ہوتو میں)سچے بات (اپنی تم اگر، فرمایا کیااور پیش سامنے کے فرشتوں کو چیزوں انہی پھر،
کی شر و خیر میں آدمی سے ہے۔علم حاصل فوقیت پر سب کو حکمت و علم میں تقاضوں کے )۔قیادت31بتالؤ(البقرہ
ہے۔علمضروری ہونا کا علم زیادہ سے افراد عام میں قائد لئے کے جال و فروغ کے تمیز قوت ہے۔ہوتی پیدا تمیز
ہللا سے میں بندوںًا’’یقین ہے ہوتی پیدا الہی خشیت میں انسان سے وجہ کی ہے۔علم کرتا پیدا توازن و عدل میں انسان
ہوتی پیداخوبی و حسن میں اعمال سے وجہ کی )۔علم28ہیں‘‘(فاطر ہوتے ہی والے علم والے ڈرنے سے ٰ
تعالی
کے ہللا کہ لو ’’جان ہے فرمان کا ہللا ہے ممکن ہی ذریعے کے علم پیروی کی سنت اور اخالص، عقیدہ کا ہے۔انسان
فرمایا ذکر کا علم پہلے سے عمل و قول نے ٰ
تعالی ہللا میں مبارکہ آیت )اس19:ہے۔(محمد نہیں برحقمعبود کوئی سوا
حکمت و علم کا شخص والے دینے انجام فرائض کے قیادت کہ ہے ں عیا بات یہ میں روشنی کی تعلیماتہے۔اسالمی
درست دہی انجام کی فرائض اپنے وہ تاکہ ہےالزمی ہونا لیس سے علوم ضروری کا ہے۔قیادت الزمی ہونا متصف سے
دے انجام سے طور بہتر بھی فرائض کے تربیتکی دوسروں ضرورت وقت اور سکے ے د انجام سے طریقے
آئیں۔ چلے دوڑے طرف کی اس لئے کے رہنمائی اور مشورے دوسرے کہ ہووسعت اتنی میں علم کے سکے۔قائد
بہت ہونا مند عقل زیادہ کا قائد نسبت بہ کے انسان عام ۔ایک ہے شرط دوسری کی قیادت حکمت و حکمت؛۔عقل
اور حکمت و کرسکے۔عقل رعایت کی عوام اور ہوسکے برآں عہدہ سے منصبی فرض اپنے وہ تاکہ ہے ضروری
الزمی کو اوصاف جیسے حکمت و عقل میں ہے۔قائد ہوتا پیدا ملکہ کا تدبیر اور فکر،تجربہ میں قائد سے دانشوری
حکمت اور مندی ہے۔دانش کرتا گفتگو سے احتیاط بہت ہوئے التے کار برؤے کو دانشوری اپنی ۔قائد ہے جاتا گردانا
- 23.
23
بہت اسے بالشبہتو جائے کی عطا دانائی جسے ہیں’’اور فرماتے ٰ
تعالی ہللا ہے مظہر عظیم ایک سے میں عقل مظاہر
انجام فرائض کے )۔قیادت269 ہیں‘‘۔(البقرہ والے عقلوں جو مگر کرتے نہیںقبول نصیحت اور گئی دی بھالئی زیادہ
نہ ہے۔قرآن انقالب کتاب ایک مجید ۔قرآن ہے الزمی مطالعہ کا رسول سیرت اور قرآن لئے کے اشخاص والے دینے
فراہم بھیحل کامیاب کا مسائل تمام بلکہ ہے رکھتا طاقت کی کرنے سامنا کا چیلنجز اور فتنوں کے حاضر عصر صرف
و حالل صرف ہے۔نہ کرتا فراہم بھی بنیادیںٹھوس کی نظام اقتصادی وہیں ہے نظرآتا دیتا ہدایات اخالقی ہے۔جہاں کرتا
کے اورقیادت نوجوان، انسان عام ہے۔ کرتا پیدابھی تمیز کی فرق میں باطل و حق بلکہ ہے سیکھاتا تمیز کی حرام
ین قائد لئے کے بینائی و دانش، حکمت و ۔علم کرسکتے نہیںحاصل کامیابی حقیقی بغیر کے انقالب کتاب اس علمبردار
جاسکے۔ کیا رائج میں دنیا کو انصاف و امن تاکہ ہےضرورت سخت کی کرنے رجوع سے الہی کتاب کواس
قوم اور ہو اعتماد کامل پر ذات اپنی کو قائد کہ ہے بھی یہ تقاضہ اہم ایک سے میں تقاضوں کے واعتماد؛۔قیادت یقین
اسی ہوگا پراعتماد جتنا ہے۔قائدخصوصیت قدر گراں اور اساسی، ٰ
اعلی کی قیادت پر۔اعتمادصالحیتوں کی قائد اپنے کو
ہیں فرماتے ؒاقبال ہوگا۔ رائے صائب و قدر
یقینی بے ہے بدتر سے غالمی گرفتار کے حاضر تہذیب اے سن
کو جرات ہے۔اعتماد ضروری اعتماد و یقینکامل پر ذات اپنی بعد کے ہللا کا قائد پہلے سے کرنے پیدا اعتماد میں عوام
لگتے کرنے بات کر ڈال آنکھیں میں آنکھوں کی آقاؤں بھی غالم تو ہےہوجاتی پیدا جرات اورجب ہے دیتا جنم
کے بادشاہوں بھی گدا کہ ہے کردیتی پیدا فضا ایسی کی یقین و اعتماد میں پیروکاروں اپنے قیادت اعتماد پر ہیں۔ایک
ہیاعتمادی اوراورخود یقین کامل پر ذات کی ہللا کا السالم علیہ ابراہیم ۔حضرت التے نہیں میں خاطر کو جالل و جاہ
زبان بہ آئی نہیں لغزش برابربھی ذرہ میں استقامت پائے کے ان اور پڑے کود میں شعلوں کے آگ دہکتی وہ کہ تھی
ؒاقبال عالمہ
ابھی بام لب تماشہمحوئے ہے عقلعشق میں د نمرو آتش پڑاکود خطر بے
ابراہیم تو آگ ؛اے فرمایا نے ’’ہم ہے پہنچتی لئے کے مدد الہی نصرت ہوتو د اعتما جب پر ذات اپنی اور یقین پر ہللا
۔ )69ہوجا۔‘‘(االنبیاسالمتی سراپا اور ٹھنڈی السالم)پر (علیہ
ملک اپنے قیادت والئق ہے۔دوراندیش ہوتا العین نصب کا قوم کی اس العین نصب کا العین؛۔قائد نصب /آگہی سے مقصد
مقاصد متعین وہ کہ ہے فرض کا ہے۔قائد کرتی وضع کو مقاصد اپنے ہوئے رکھتے نظر پیشکو ضرورتوں کی قوم و
میں قوم اور قائد متعلق کے مقاصد کہ رہے خیال اور کرے پیش آگے کے قوم پوری میں انداز شفاف اور صاف کو
نہ یدشوار کی قسم کسی بھیکو کسی میں تفہیم و ادراک کے مقاصد اور ہوںواضح ہو۔مقاصد نہ ابہام کا قسم کسی
اس کو انسانوں اور جن نے ’’میں ہے کردیا بیان مدعا و مقصد کا زندگی میں الفاظ واشگاف نے ٰ
تعالی ہللا ۔ آئے پیش
عمل حسن نے ہللا جگہ ایک اگر ۔ )الذاریات (‘‘کریں۔ بندگی میری وہ کہ ہے کیا نہیں پیدا لیے کے کام کسی سوا کے
سے میں تمدیکھے کر آزما کو لوگوں تم تاکہ کیا ایجاد کو زندگی اور موت نے ہے’’جس دیا قرار زندگیمقصد کو
قراردیا نفس تزکیہ کو کامیابی اور مقصد کا زندگی جگہ دوسری تو )الملک (‘‘ہے۔ واال کرنے عمل بہتر کون
- 24.
24
اور حیات مقصدکے انسان جہاں سے آیات ان کی )۔قرآن ٰ
االعلی (‘‘کی۔ اختیار پاکیزگی نے جس وہ گیا پا ہے۔’’فالح
سامنے ہمارے میں انداز واضح بڑے بھیمقاصد کے قیادت وہیں ہے جاتا اٹھا پردہ سے راز کے کامیابی کی زندگی
اور ں آرزؤ کی قوم پوری پہنچائے‘‘۔مقاصد نفع کو لوگوںدوسرے جو ہے وہ انسان بہترین میں ہیں’’لوگوں آجاتے
معاشرتی،سیاسی، معاشی کے قوم و ملک اپنے میں تعین کے مقاصد قائد لئے اسی ہیں تے ہو مرکز کا ں تمناؤ
وہیں لیکن ہے کرتا عطا ضرور مقام اونچا کو قائد رکھے۔اسالم نظر پیش کو حاالت علمیاور،دینی، مذہبی،اخالقی،
ہے۔ ہوتا خادم کا قوم، سردار کا ہے’’قوم خادم کا قوم وہ کہ ہے کرتا بھی پابند ‘‘اسے
صبر پر اس، پہنچے تمہیں مصیبت بھی جو ہے۔’’اور دیا قرار کو عزیمت ساتھی ایک کا صبر نےاولوالعزمی؛۔قرآن
،ہےاولوالعزم آدمی وہ ہے۔ ارادہ پختہ معنی کے لقمان)عزم ہے‘‘۔(سورہ سے میں کاموں کے عزیمت یہ بالشبہ،کرو
کی اس اور ہو عزم پر میں مقاصد اپنے جو آدمی ایسا جائے۔ جم پر اس اور کرے ارادہ لیے کے مقصد کسی جو
کے اس ہے۔ چالجاتا بڑھتا آگے بغیر الئے میں خاطر کو مشکالت کی راستے وہ تب ہوںپرجمی منزل اپنی نگاہیں
بن ہللا عبد المنافقین رئیس وہ اور گے ہوں نہیں پختہ ارادے کے اس ہوگیکمی کی ہمت و عزم پاس کے جس برعکس
پاتے پہنچ نہیں تک منزل کبھی والے حوصلے و عزمکھڑاہوگا۔پست بھاگ سے آزمائش میدان طرح کی ابی
اور ہے کرتی سامنا کا مشکالت سے عزیمت بجائے کے کرنے کاشکوہ کمی کی وسائل و مصائب قیادت م ہیں۔اولوالعز
فرماتے سے ؓ
جراح بنعبیدہ ابو ؓ
عمر حضرت ہے۔ رہتی گامزن سمت کی منزل اپنی ساتھ کے حوصلے و عزم پورے
پر مہم کی اندلس جب کو زیاد بن ہے۔‘‘طارقہوتی حاصل سے اعتماد پر خدا اور محکم ِیقین، نہیں سے امید ہیں’’فتح
ساری اپنی ہوئے کرتے اقدام کن حیران اور تاریخی ایک نے اس کر پہنچ پرسمندر گیاساحل بھیجا کر بنا ساالر سپہ
اس اور کرنے عام کو پیغام کے ہللا یہاں گ لو کہ’’ہم کی تقریر انگیز ولولہ ایک سامنے کے فوج اور جالدیں کشتیاں
کے آفریں جان جانیں اپنی پھر یا گے ہوئیں کامیاب میں مقصد اپنے ہم اب ہیں آئے لئے کے کرنے قائم حکومت کی
پوری کہ تھی ہیاولوالعزمی کی طارق گے‘‘۔یہ لوٹیں نہیں بغیر کیئے قائم حکومت کی ہللا لیکن گے کردیں حوالے
کرلیا۔ فتح کو اندلس نےانھوں اور ہوگیا پیدا ولولہ ایک میں فوج
میں انسان احساس ۔یہ ہے کرتا پیدا جویا کا جوابدہی اور داری ذمہ احساس میں انسان ہرداری؛۔اسالم ذمہ احساس
علیہ ہللا صلی اکرم ہیں۔نبی بنتے باعث کا چڑھانے پروان کو اقدار و اخالق ٰ
اعلی اور صالحیت ،پرہیزگاری ، ٰ
تقوی ،نیکی
پرس باز میں سلسلے کے رعیتکی اس سے ایک ہر ہے دار ذمہ شخص ہر میں ’’تم ہے شان عالی فرمان کا سلم و
مثال بے ایک لئے کے والوں دنیا کو ؓاکرم صحابہ نے احساس اسی کے دہی جواب اور داری ہوگی۔‘‘(بخاری)۔ذمہ
تک دنیا رہتی جو کیا پیدا جویا ایسا کا پاسداری اور داری ذمہ میں صحابہ نے سلم و علیہ ہللادیا۔سرکارصلی بنا نمونہ
م انجا کو فرائض کے خالفت سے دوراندیشی اور داری ذمہ پوری نے ؓ
ابوبکر ہے۔حضرت مثال روشن ایک لئے کے
کے گزاری۔دنیا زندگی میں کسمپرسی نہایت اور کی نہیں حاصل کبھی رعایت یا د مد کی قسم کسی سے المال دیا۔بیت
عالم یہ کا داری ذمہ احساس کے ؓاعظم فاروق حضرت والے کرنے تلے پرچم کے حکومت اسالمی کو رقبےوسیع ایک
کرتے پوراکو ضرورتوں کی ان کرتے ی گیر خبر کی رعایا کر جاگ کو راتوںسوتے پر چٹائی کی کھجور وہ کہ تھا
علیہ ہللاصلی عالمسرور قائد و آقا اپنے نے آپ نکہ کیو پہنچاتے تک رعایا الدکربوجھ کا غلے پر پیٹھ اپنی کہ حتی
- 25.
25
بلکہ نہیںمخدوم ۔یہہے ہوتا سربراہ کا قوم اپنی تھا۔قائد دیکھا ہوئےکھودتے خندق سے مبارک دست اپنے کو وسلم
بلکہ ہے داری ذمہ کی قائد صرف فکرنہ کی بہتری کی ان،خیال کا ضرورتوں کی ان،خیرخواہی کی ہے۔عوام ہوتا خادم
کو فرائض اپنے وہ تو ہے ہوتا جاگزیں دہی جواب و داری ذمہ احساس جب میں ہے۔قائدبھیمنصبی فرض کا اس
جاں میں ہیں۔ان رہتےخوش سے اس ماتحت کے اس اور عوام میں نتیجے کے جس ہے دیتا انجام سے طور ٹھیک
کرتے۔ نہیں گریز سے کرنے پیش تعاون عملی اپنا کو قائد وہ اور ہے چڑھتا پروان جذبہ کا نثاری
تمہیں ہللا ہے۔’’مسلمانوں داری ذمہ اہم ایک بھی پہنچانا تک افراد اہل کو اس اور ہے امانت ایک دیانت؛۔قیادت و امانت
ہللا،کرو فیصلہ ساتھ کے عدل کرو فیصلہ درمیان کے لوگوں جب اور کرو سپرد کے امانت اہل امانتیں کہ ہے دیتا حکم
ٰ
اعلی و اہل جب )قیادت58 النساء ہے۔‘‘(سورہ دیکھتا کچھ سب ہللاًایقین اور ہے کرتا نصیحتعمدہ ہی نہایت کو تم
رہتے ن گامز جانب کی العین نصب ٰ
الکراعلی کار بروئے کو صالحیتوں اپنی وہ تو ہے پہنچتی تک افراد صفات
رسوخ و اثر، طاقت،۔موروثیت ہے کرتی اعالن کا خاتمہ کے وقیادت حکمرانی موروثی اور خاندانی آیت ہیں۔مذکورہ
و خیر کی ہوگاان دہ جواب کو عوام،ہوگا اہل کا جوقیادت ہوگاوہی ہوگا۔قائد نہیںدعویدار کا قیادت کوئی پر بل کے
ہوگا۔ والے کرنے اقدامات کے بہتری
بھی پر عوام اور ماحول، معاشرے اثر گوار خوش کا اس ہوتو ڈسپلن پابند اگر پاسداری؛۔قائد کی واصولوں قوانین
عمل پر قوانین و اصول کی قائد ساتھ کے عوام ہے۔ہوتی نہیں باالتر سے قوانین و اصول ذات کی قائد ہے۔ ہوتا مرتب
کریم ہے۔نبی ہوتا اضافہ بھی میں مقبولیت اور دبدبے ، رعب کے اس سے پسندیاصول کی ہے۔قیادت الزمی پیرائی
کریم ہے۔نبی دی تعلیم کی پسندیاصول اور پاسداریکی قانون کو ہم سے طیبہ حیات اپنی نے سلم و علیہ ہللا صلی
جاری حکم جب کا دینے کاٹ ہاتھ کے اثرخاتون وبا معزز ایک کی عرب مرتکب کی چوری نے سلم و علیہ ہللا صلی
۔آپ کی سفارش سے سلم و علیہ ہللا صلی آپ لئے کے بچنے سے سزا اور رسوائی نے والوں قبیلے کے اس فرمایاتو
تو کرتا ارتکاب کا غلطی بڑاکوئی جب کہ ہوگئیں تباہ لئے اس قومیں ’’پہلی:فرمایا ارشاد نے سلم و علیہ ہللا صلی
پاتا۔آپ سزا تو ہوتا مرتکب کا شنیع فعل کسی انسان عامکوئی جب اور جاتا بچ سے سزا سے بہانوں،حیلوں مختلف
ہاتھ بھی کے اس میں تو کرتی چوری بھی سلم و علیہ ہللا صلی محمد بنت ؓفاطمہ اگر فرمایا نے سلم و علیہ ہللا صلی
قربت اور تعلقات میں نفاذ کے حدود اور پاسداری کی اصولوں کہ ہے ہوتامعلوم ہمیں سے مبارکہ حدیث دیتا۔‘‘یہ کاٹ
دور کا امان و امن طرف ہر تو ہے ہوجاتا بیدار جذبہ یہ کا پسندی اصولوں جب میں ہے۔قائد نہیں اہمیت کوئی کی داری
ہیں۔ ہوجاتےمحفوظ حقوق کے فرد ہر کے معاشرے الغرض غریب ہے۔امیر رہتادوررہ
ہرشعبے کے زندگی م ہے۔اسال ہوتیضرورت کی توازن و اعتدال لئے کے دینے انجام سے عمدگی کو کام ؛۔ہر اعتدال
یا بناوسط امت تمیں نے ہم ہے’’اور ارشاد کا ٰ
تعالی ہے۔ہللا دیتا حکم کا کرنے اختیار راہ کی اعتدال ہمیں میں
کا برقراررکھنے توازن و اعتدال میں زندگی اپنی کو فرد ہر کے امت صرف نہ ت العز رب)ہللا341۔ البقرہ ہے۔‘‘(سورہ
ہیں۔اے کرتے تلقینکی کرنے اختیار روش والی اعتدال بھی کو سلم علیہ و ہللا صلی اعظم ہادی بلکہ ہیں دیتے حکم
مطلوبہ کے )۔قیادت92۔ ہے‘‘۔(اعراف دیا حکم کا کرنے اختیار راہ کی اعتدال نے رب میرے کہ دیجئے کہہ !ؐمحمد
شدت میں زندگی اپنی کو قائد بالخصوص اور کو شخص ہر ہے۔ اہمیت زیادہ بہت کی توازن اور اعتدال میں اوصاف
- 26.
26
چاہئے۔ کرنا اختیارروی میانہ ہوئے کرتے اجتناب سے غلو اور تفریط و افراط،پسندی
کا کرنے سلوک ساتھ کے داروں قرابت اور کا بھالئی ،کا عدل ٰ
تعالی ’’ہللا :ترجمہ ہے ٰ
تعالی باریانصاف؛۔ارشاد و عدل
نصیحت تمہیںخود وہ ہے روکتا سے زیادتی و ظلم اور حرکتوں ناشائستہ ،کاموں کے حیائی بے اور ہے دیتا حکم
،ہے انسان ہر کا دنیا بلکہ نہیں ہی مسلمان صرف مخاطب کے آیت اس )النحل (سورہ ‘‘کرو۔ نصیحت تم کہ ہے کررہا
بھی کو آخرت اپنی بلکہ ہے سکتا بنایاجاکارآمد کو زندگی سی مختصر کی دنیا صرف کرنہ ہو پیرا عمل پر جس
انسان سرے دو انسان ایک یعنی ہیں کے کرنے انصاف معنی کے عدل ہے۔ کا کرنے عدل حکم ہے۔پہال سکتا سنواراجا
سے وجہ کی قرابت یا محبت ،عناد،دشمنی ساتھ بھی کے کسی لے۔ کام سے انصاف میں زندگی دنیاوی اس سے
چچا کے وسلم علیہ ہللاصلی آپ ساتھ کے قیدیوں دوسرے پر موقع کے بدر ہوں۔غزوہ نہمجروح تقاضے کے انصاف
تھی درہم ہزار چار رقم کی فدیہ تھا۔ رہا جا کیا رہا انہیں کر لے فدیہ سے تھے۔قیدیوں ہوئے گرفتار بھی عباس حضرت
کے وسلم علیہ ہللاسرکارصلی ؓ
عباستھی۔حضرت رہی جا لی رقم زیادہ کچھ بھی سے اس سے لوگوں ترین امیر لیکن
ؓ
عباس حضرت کہ دیجئے اجازت سلم و علیہ ہللا صلی ہللارسول یا کیا عرض نے اکرام صحابہ چند لیے اس تھے چچا
ہرگز فرمایا نے سلم و علیہ ہللا صلی ہللارسول کر سن یہ جائے دیا کر رہا نہی یو انہیں اور جائے دیا کر معاف فدیہ کا
جائیں۔(صحیح کیے وصول زیادہ سے درہم ہزار چار قاعدہ حسب سے وجہ کی امیری کی ان سے ؓ
عباس بلکہ نہیں
انصاف و عدل اور ہے میں بعد قرابت میں نظر کی اسالم کہ ہے ہوتا معلوم ہمیں سے واقعہ اس المغازی)۔ کتاب ،بخاری
با اس ۔قائد لے نہ کام سے تفریط یا افراط میں معاملے بھیکسی آدمی یعنی ہے۔بھی اعتدال دوسرانام کا ہے۔عدل پہلے
کے انصاف و ہے۔عدل ہوتی منافی کے تقاضوں کے وانصاف عدل نیچ اونچ بھی سی ذرا کہ رکھے خیال خاص کا ت
فرماتے ہوئے کرتے مخاطب حکام(قائدین)کو ٰ
تعالی ہللا ۔ ہے ہوتی عائد یکساں پر سب رعایا و حاکم تکمیل کی تقاضوں
رہا کر ہللا تمہیں نصیحت کی اس ہے چیز بہتر وہًایقین کرو سے انصاف و عدل تو کرو فیصلہ کا لوگوں جب ’’اور ’’ہیں
کو خواص و عوام بالتخصیص نے ٰ
تعالی ہللا میں مائدہ سورہ )النساء (سورہ ‘‘ہے۔ دیکھتا اور سنتا ہللاشک بے ،ہے
بہت کے ٰ
تقوی یہیکرو عدل،چھوڑو نہ گز ہر کو عدل باعث کے دشمنی کی قوم ہیں۔’’کسی فرمائے صادر احکامات یہی
کو والے کرنے انصاف اور عادل کو والے کرنے ہے۔عدلبھی انصاف لفظ مترادف ایک کا )عدل8ہے۔‘‘(المائدہ۔ قریب
سے انصاف و عدل قیادت ہے۔اگر ضروری بہت ہونا متصف سے صفات کے انصاف و عدل کا ہے۔قائد کہاجاتا منصف
انصاف و گا۔عدل پڑے بھگتنا پر جگہوں دونوں آخرت اور دنیا خمیازہ کا اس اسے تو ے کر تہی پہلو میں لینے کام
و عدل میں معاملے ہر، جگہ ہروہ کہ ہے الزم لئے کے قیادت لئےاسی ہے محال بھیتصور کا امان و بغیرامن کے
۔ رہے تھامے کادامن انصاف
نہیں ممکن سیادت و قیادت، امارت بغیر کے اس کیونکہ ہےحدضروری بے کاہونا شجاعت میں ؛۔قائد شجاعت
حسین زیادہ سے زیادہ سے سب سلم و علیہ ہللا صلی اکرم نبی کہ ہے ہوتامعلوم سے مطالعہ کے طیبہ ہے۔سیرت
معروف اور بلند سے سب مقام بھی میں دلیری اور بہادری ،شجاعت کا وسلم علیہ ہللاصلی تھے(بخاری)۔نبی اوربہادر
جانبازوں اچھے اچھے جبکہ پر موقع مشکل اور کٹھن نہایت تھے۔ دلیر زیادہ سے سب وسلم علیہ ہللا صلی آپ ہے۔
ہیآگے بجائے کے ہٹنے پیچھے ، رہتے برقرار جگہ اپنی وسلم علیہ ہللا صلی آپ اکھڑجاتے پاؤں کے بہادروں اور
- 27.
27
کے جنگ جبکہ ہیں فرماتے عنہ ہللارضی علی حضرت آئی۔ نہ لغزش میں ثبات پائےکبھی اور جاتے چلے بڑھتے
بڑھ سے وسلم علیہ ہللا صلی آپ تھے۔ کرتے لیا آڑ کی وسلم علیہ ہللا صلی ہللارسول ہم تو اٹھتے بھڑک خوب شعلے
کو مدینہ اہل رات ایک کہ ہے بیان کا عنہ ہللا رضی انس المختوم)۔حضرت (الرحیق ہوتا۔ نہ قریب کے دشمن کوئی کر
ملے۔ ہوئے آتے واپس وسلم علیہ ہللاصلی ہللارسول میں راستے تو دوڑے طرف کی شور لوگ ہوامحسوس خطرہ
اس تھے چکے )لے جائزہ کا مقام کے (خطرے کر پہنچ جانب کی آواز ہی پہلے سے لوگوں وسلم علیہ ہللا صلی آپ
کر حمائل تلوار میں گردن تھے۔ سوار پرگھوڑے کے زین بغیر کے عنہ ہللارضی ابوطلحہ وسلم علیہ ہللا صلی آپ وقت
آپ میں سینوں اپنے ہمآج اگر )(مسلم )ہے نہیں خطرہ (کوئی نہیں ڈرو ،نہیںڈرو تھے رہے فرما اور تھی۔رکھی
کرسکتی۔ نہیں مقابلہ ہمارا طاقت کوئی کی دنیا تو لیں بھر شجاعت کی وسلم علیہ ہللا صلی
کی سخاوت سلمنے و علیہ ہللا صلی ہللاہے۔رسول نام کا شکر کے نعمتوں کی ہللا اور عبادت ایک سخاوت؛۔سخاوت
سارا کا سارا تھابھی جتنا اور دیا لٹا میں راہ کی ہللا کو چیز ہر نےوسلم علیہ ہللا صلی آپ ہے۔ کی قائم مثال ترین ٰ
اعلی
علیہ ہللاصلی ہللارسول کہ ہیں کہتے ؓ
جابر حضرت رکھا۔ نہ باقی بھیکچھ پاس اپنے اور کردیا قربان میں راہکی ہللا
کیا سوال کا وادی بھری سے بکریوں نےآدمی ایک کہ ٰ
حتی،کیا نہیں انکار نے آپ تو مانگا نےکسی جب سے وسلم
پر تن اپنے کہ تھا عالم یہ کا سخاوت کی وسلم علیہ ہللا صلی آپ دی۔ دے بھیوہ اسے نے وسلم علیہ ہللا صلی آپ تو
خواہی خیر کی امت زندگی ساری اپنی نے آپ کہ ہے ہیسخاوت کی آپ بھی دی۔یہ دے کر اتار بھیقمیض موجود
واال ڈرانے تمہیں پہلے سے عذاب سخت ایک محض تووہ ’’ہیں فرماتے ارشاد ٰ
تعالی ہللا کردی۔ وقف کیلئے
ہللارضی عباس ابن عبدہللا ہے۔حضرت مثال ایک کی سخا و جود کی آپ بھی محبت کی آپ سے سبا)۔امت ہے۔‘‘(سورہ
ہللاصلی تھے۔آپ والے کرنے سخاوت زیادہ سے سب میں لوگوںوسلم علیہ ہللا صلی ہللارسول کہ ہیں کرتے بیان عنہ
اور کرنے خرچ کے آپ تھے۔ کرتے خرچ پر محتاجوں اور ضرورتمندوں ،حاجتمندوں زیادہ سے سلمسب و علیہ
دیتے۔ پہنچا تکمستحقین ًافور اسے آتا پاس کے آپ مال کچھ جو تھی طرح کی ہوا تیز ایک شان کی کرنے سخاوت
آراستہ سے وصف کے سخاوت تھا۔قیادت ہوجاتا تقسیم اور تھا جاتا بٹ پہلے پہلے سے آنے راتوہ آتا کو دن کچھ جو
مال ہیں۔ طریقے کئی کے سخاوت ہے۔ نہیںسخاوت ہی کاباٹنا اسباب و مال کہ چاہئے ہونا معلوم کو چاہئے۔قیادت ہونی
تعلق قطع ہے۔درگزرکرناسخاوت سے والے کرنے زیادتی ہے۔ دیناسخاوت کر معاف کو ہے۔ظالم کرناسخاوت خرچ
دعوت کی کواسالم غیرمسلموں ہے۔ کرناسخاوت اصالح کی ہے۔مسلمانوںجوڑناسخاوت تعلق سے والے کرنے
حقوق ہے۔اپنے سخاوت دینا کو کسی تجربہ اپنا اور معرفت و ہے۔علمکرناسخاوت عذرقبول کا ہے۔کسی دیناسخاوت
ہے۔معاشرے کرناسخاوت افرائی عزت کی ہے۔کسی کرناسخاوت افزائی حوصلہ کی ہے۔کسی سخاوت دستبردارہونا سے
کرناسخاوت سفارش پرحق کی ہے۔کسی سخاوت دینا کو کسی وقت اپنا ہے۔دورکرناسخاوت کو بگاڑکسی کے
چلنا ساتھ کے ان لئے کے خدمت کی اورلوگوں ہٹانا سے راستےاشیاکو دہ ہے۔تکلیف کرناسخاوت خدمت کی ہے۔کسی
دریافت خیریت کی کسی ،مسکراہٹ ایک ،سخاوت ترین آسان سے سب کہ چاہئے ہونا کوعلم ہے۔قیادت سخاوت بھی
سخاوت بھی یہ،دینا کر خرید دوا ،کردینا مدد بہت تھوڑی کی کسی ،دینا دعا ،کہنا بات اچھی،کرنا مالقات کیلئے کرنے
ایک ہر اب دروازے کے سخاوت لئے کے کرنے عمل پر ۔سخاوت کرے سخاوت چاہے جو اب بلکہ قیادت صرف ہے۔نہ
- 28.
28
۔ ہیں کھلےلئے کے
استحکام کو سیادت و قیادت اخالق ہیں۔حسنخصوصیات ٰ
اعلی کی قیادت خصائل عمدہ و اخالق اخالق؛۔اچھے حسن
ہیں۔بااخالق جاتے بن مطیع بھی گ لو سرکش اور باغی،دشمن اپنے تو اپنے بدولت کی اخالق ہیں۔حسن بخشتے
انسان ذریعے کے اخالق ہے۔عمدہ ہوجاتی پیدا امنگ کی زندگی اور حوصلہ ، عزم، امید میں دلوں مرجھے سے قیادت
چیز وزنی سے سب میں میزان قیامت روز فرمایاکہ نےوسلم علیہ ہللا صلی اکرم ہے۔نبی کرتا راج پر دلوں کے لوگوں
صلی تھے۔آپ فائز پر معیار بلند اور افضل سے سب کے کردار و اخالق سلم و علیہ ہللا صلی گے۔آپ ہوں اخالق اچھے
عزت سے بڑوں سلم و علیہ ہللا صلی آپ کرلیا۔ فتح کو دنیا پوری سے کریمانہ اخالق اپنے نے سلم و علیہ ہللا
کر مل ساتھ کے لوگوں نادار اور غیریبوں ،یتیموں سلم و علیہ ہللا صلی آپ تھے۔ آتے پیش سے شفقت سے چھوٹوں،
فرماتے سلوک حسن ساتھ کے والوں گھر تھے۔ فرماتے کامعاملہ سخا جودو اور دلی رحم، محبت سے ان اور بیٹھتے
بتا نے ؓ
آپ توپوچھا میں بارے کے اخالق کے سلم و علیہ ہللا صلی آپ نےکسی سے ؓعائشہ حضرت المومنین تھے۔ام
فحش تو نہ آپ کہ ہیں فرماتے ؓ
عاص بن عمرو حضرت تھے۔ قرآن مکمل اخالق کے سلم و علیہ ہللا صلی اکرم نبی کہ یا
ہی بڑے کو وسلم علیہ ہللا صلی نبی نے العزت رب تھے۔ہللا کرتے پسند کو گوئی فحش نہ اور تھے والے کرنے گوئی
اپنے بیگانے،دوست دشمن سے جس تھے ہی اخالق ارفع کے وسلم علیہ ہللاصلی آپ یہ تھا۔ نوازا سے اخالق ٰ
اعلی
میں الفاظ ان نے العزت رب ہللا تعریف کی اخالق بلند اسی کے وسلم علیہ ہللا صلی نبی خوبنے۔ نرم دل سخت اور
(سورہ ہے۔ بلند بہت اخالق کا وسلم علیہ ہللا صلی آپ شک بے ۔اور ترجمہ ‘‘عظیم خلق ٰ
لعلی ’’وانک کہ ہے فرمائی
بھیجا کیلئے تکمیل کی اخالق بہترین ’’میں کہ ہےگرامی ارشاد کا وسلم علیہ ہللاصلی نبی میں مالک امام موطا )قلم
مدت اس ’’کی خدمت کی وسلم علیہ ہللاصلی نبی تک برس دس نے میں ہیں فرماتے ؓ
انس حضرت رسول خادم ہوں گیا
نہیں کیوں کام یہ کیا کیوں کام یہ نے تو کہ کہا یہکبھی نہ اور کہا نہ تک اف مجھے نےوسلم علیہ ہللا صلی آپ میں
دلوں کے عوام زیادہسے حصول کے منصب لئے کے چاہئے۔قائد ہونے مثالی اطوار و اخالق کے قائد )کیا‘‘(مسلم
ہے۔ کہالتا فاتح حقیقی وہی ہے کرتا فتح کو دلوں اورجو ہے ہوتا ضروری بنانا جگہ میں
زمانہ فاتح ہیوہ کرلے فتح کو دلوں جو عاشقانہ نوائے یا ہو ی دلبر ادائے وہ
تو ہو نہ اگر پاسداری کی پیمان عہدو میں ہے۔قائد اہمیت زیادہ بہت میں زندگی اجتماعی کی عہد عہد؛۔ایفائے ایفائے
کہ تھے پکے اتنے کے وعدے سلم و علیہ ہللا صلی کریم نبی ہے۔ اٹھجاتا اطمینان و یقین سے پر قیادت کا عوام
دھوکہ قیادت تھے۔آج رکھتے پاس کے آپ امانتیں اپنی اور تھے پکارتے کر کہہ امین و صادق کو آپ کفارمکہ
معامالت اور بولناجھوٹ میں بات مبتالہے۔بات میں امراض موذی جیسے خیانت، بددیانتی،جھوٹ، فریب و مکر،دہی
ہے گیا دیا حکم ساتھ کے سخت بڑی کا عہد ایفائے میں ہے۔اسالم چکا بنوطیرہ کا قائدین کے آج کرنا بددیانتی میں
قیامت کہ کیوں ،کرو پورا کو ’’عہد :ہے ارشاد کا ٰ
تعالی ہللا ہے۔گئی کی مذمت سخت کی شکنی عہد و خالفی وعدہ اور
اپنے جو ہے کی تعریف کی لوگوں ان نے قرآن )اسرائیل گا۔‘‘(بنی ہو دہ جواب انسان میں بارے کے عہد دن کے
ورزی خالف کی وعدہ ٰ
تعالی ہللا کہ ہے فرمایا ذکر بار بار کا صفت اس اپنی نے ٰ
تعالی ہللا۔خود ہیں کرتے وفا وعدے
وعدہ اور اہمیت کی عہد ایفائے بھی ذریعے کے ارشادات اپنے نےوسلم علیہ ہللا صلی ہللا(الحج)رسول کرتے۔ نہیں
- 29.
29
وہ ہوں جاتیپائی باتیں تین میں ’’جس :فرمایا نے وسلم علیہ ہللاصلی آپ چنانچہ ہے۔ فرمایا بیانکو برائیکی خالفی
‘‘کرے۔ خیانت تو جائے رکھی امانت اگر ،کرے خالفی وعدہ تو کرے وعدہ ،بولےجھوٹ تو کرے بات جب :ہے منافق
میں نگاہ کی عنہم ہللارضی صحابہ اور وسلم علیہ ہللا صلی ہللارسول کہ ہے ہوتا معلوم سے حدیث اس )(بخاری
ایک ہر مسلم غیر یا ہو مسلمان،بیگانہ یا ہو اپنا، دشمن یا ہودوست دم ہر کارکنان و تھا۔قائد اہم قدر کس عہد ایفائے
خیال اپورا پور کا پیمان و عہد اور معاہدات اپنے سلم و علیہ ہللا صلی ہللاکریں۔رسول پابندیکی پیمان و عہدساتھ کے
ہے۔ عجیب قصہ کا عنہ تعالی ہللارضی الحمسا ابی بن عبدہللا ۔حضرت تھے رکھتے
ایک کا فروخت و خرید سے وسلم علیہ ہللا صلی ہللارسول نے میں پہلے سے نبوت اعالن اور وحی نزول :ہیں فرماتے
ادا بھی رقم باقی آکر ابھی ابھی میں کہ کیا وعدہ نے میں گئی۔ رہ باقیکچھ ،دی کر ادا نے میں رقمکچھ کیا۔ معاملہ
آنے نے میں جہاں پہنچا جگہ اس میں جب دن تیسرے آیا۔ نہیں یادوعدہ اپنا مجھے تک دن تین سے اتفاق گا۔ کردوں
اس میری کہ یہ عجیب زیادہ بھی سے اس مگر پایا۔ منتظر جگہ اسی کو وسلم علیہ ہللاصلی حضور تو تھا کیا وعدہ کا
تھے؟ کہاں تم :فرمایا ہی اتنا صرف آیا۔بس نہیں بل ذرا اک پر ماتھے کے وسلم علیہ ہللا صلی حضور سے خالفی وعدہ
میں قیادت مسلم پر طور خاص قیادت کی ابوداؤد(۔آج ہوں۔)سنن رہا کر نتظار ا تمہارا سے دن تین پر مقام اس میں
ہی نہ اور ہے ہوتیمقبول تو نہ قیادت بغیر کے تکمیل کی عہد ہے۔ایفائے فقدان کا پاسداری کی معاہدے اور وعدے
ہے۔ چڑھتی پروان
قاصر سے رہبری کی دوسروں باوجود کے لیول کیو آئی بلند انتہائی اپنے لوگ بعض ذہانت)؛۔ بردباری(جذباتی و حلم
وجہ سی سادہ بالکل ایک کی ہیں۔اس ہوئے ثابت ناکام میں امور انتظامی و تنظیمی بھی لوگ ذہین انتہائی ہیں۔ رہتے
پر جذبات اپنے خود کر پہچان کو جذبات منفی اور مثبت کے کارکنان اور پیروں اپنے کا قائد ہے۔ فقدان کا ذہانت جذباتی
ناگہانیکسی قائد کہ ہے یہ تعریف کی بردباری و ہے۔حلم ضمانت کی لیڈرشب کامیاب اور اچھی ایک ،رکھنا قابو
پر ۔معاملے رکھے قابو پر حواس و ہوش اپنے میں تحال صور بہے۔ناگہانی نہ میں روکی جذبات بھی میں صورتحال
فیصلہ کوئی بعد کے مشاورت سے قوم زعمائے اور لے کام سے کرے۔دوراندیشی وخوض غور سے سنجیدگی نہایت
کر سمجھ نہیں درخوراعتناء کو مشاورت سے کسی میں نشے کے قیادت، قائد کہ ہے آیا میں دیکھنے کرے۔اکثر
تعلیمات ہیں۔نبوی ہوتے ثابت دہ نقصان میں مفاد کے ملک اور قوم جو کربیٹھتاہے فیصلے ایسے میں رو کی جذبات
مرتکب کے ہیں۔زیادتی جاتی دی دعائیں بھیکو والے دینے گالیاں میں جس ہے تعریف قابل حلم وہ میں روشنی کی
و علیہ ہللا صلی ہللاہے۔رسول جاتا کیا معاملہ کا سلوک حسن مزید سے اس بلکہ جاتاہے کردیا معاف صرف نہ کو افراد
تاریخکی دنیا سلوک حسن اور معاملہ یہ فرمادیا۔ معاف تک کو قاتلوں کے عزیزوں اور دشمنوں ذاتی اپنے نے سلم
برداشت کو والوں رکھنے اختالف میں نظریات اور معامالت ذاتی ًاہے۔مختصر باب سنہری ایک کا بردباری و حلم میں
ہے۔ ہوتا باعث کا اضافے میں پذیری اثر اور مقبولیت کی قیادت آنا پیش سے بردباری و حلم سے ان اور کرنے
کے )کارکنان(عوام توہوگی نرمی میں دل کے قائد ہے۔اگر ضروری بہت لئے کے قیادت خوئی نرمخوئی(رفق)؛۔ نرم
حضرت المومنین ام گا۔ رہےمحفوظ سے فساد و فتنے معاشرہ اور ہوگی عزت و محبت لئے کے اس بھی میں دل
کا معاملے کسی کے امت میری بھیکوئی جو ہللا یا کہ فرمایا نے سلم و علیہ ہللا صلی ہللارسول کہ ہے فرماتی ؓعائشہ
- 30.
30
ولی کا امرکسی کے امت میری بھیکوئی جو اور فرما سختی پر اس بھی تو تو کی سختی پر ان نے اس اور بنا ولی
سے ؓعائشہ حضرت المومنین ام جو حدیث ایک فرما۔‘‘(مسلم)اور می نر پر اس بھی تو توکی نرمی نے اس اور بنا
فرماتا پسند کو نرمی او واالہے فرمانے نرمی ٰ
تعالی ہللاشک بے فرمایا نے سلم و علیہ ہللا صلی ہللارسول ’’ہے مروی
)خوئی(رفق نرم لئے کے ) (اولواالمر قیادت کہ ہےہوجاتی ں عیا بات یہ میں روشنی کی احادیث ہے۔‘‘(مسلم)مذکورہ
ہے۔ اہم انتہائی
صلی ہللارسول پرموقعوں ہے۔ایسےہوسکتی پیدا اوررنجش ناراضگی مرتبہ بعض میں سفر کے درگزر؛۔زندگی عفو
وجہ کی درگزر و ہے۔عفو فرمائی رہنمائی بہترین ہماری ذریعے کے ودرگزر عفو اور رعایتآپسی نے سلم و علیہ ہللا
اور توازن درمیان کے رشتوں اور تعلقاتسماجی اور ہیں پاتے انجام سے طریقے احسن معموالت کے زندگی سے
کام سے عفودرگزر بھی ٰ
تعالی ہے۔ہللا کرتی عطا بلندی کو عظمتکی قائد صفت کی درگزر و ہے۔عفوہوتی پیدا الفت
ہللا اور والے کرنے درگزر سے لوگوں اور والے جانے پی کو غصے ہے۔’’اور فرماتا پسند کو بندوں والے لینے
ذریعے کے ودرگزر عفو اور کردار ٰ
اعلی اپنے کہ چاہئے کو ہے۔‘‘(بقرہ)قائد فرماتا پسند کو والوں کرنے احسان
سختی کہ چاہئے رکھنی یاد بات یہ ہمیشہ کو دت کرائیں۔قیا روشناس سے حقائق انہیں کرے فتح کو دلوں کے لوگوں
نرمی کو قائد باوجود کے تعصب اور مخالفت ہے۔سخت ہوتی نہیں ثابت کارگر اور مفید بھیکبھی درشتگی اور رعونت،
وہ کہ چاہئے اسے تو ہے گار طلب کا نصرت اور رحمتکی ہللا اگر چاہئے۔قائد کرنا پیش مظاہرہ کا خوداری اور
بنائے۔ حصہ الزمی کا اخالق اپنے کو عفوودرگزر
ہونا عنصر کا رواداری میں قائد کہ ہے ہوتا معلوم ہمیں سے مطالعہ کے سلم و علیہ ہللا صلی طیبہ رواداری؛۔سیرت
دیگر اور مذہب غیر بلکہ نہیں ہی سے مذہب ہم اور نظریہ ہم، عقیدہ ہم اپنے کو کہ چاہئے کو ہے۔قائدضروری حد بے
نظریات مختلف اردگرد کے آئے۔قائد پیش سے سلوک حسن اور رواداری بھی سے لوگوں حامل کے نظریات و عقائد
و س پا کا عقائد و نظریات مذہنی کے ان وہ کہ ہے ضروری لئے کے ہیں۔قائد جاتے پائے لوگ کے ذہنوں مختلف اور
جو ہے مذہب واحد ایسا ایک واال رواداری کرے۔اسالم فراہم آزادی پوری کی عبادتمذہبی نہیں اور رکھے لحاظ
ہللا صلی کریم نبی ہے۔ روکتا سے دینے گالیاں اور بدکالمی متعلق کے معبودوں کے مذاہب باطل دیگر کو مسلمانوں
دوسرا کوئی تک قیامت مثال کی جس کہ ہیںچھوڑے نقوش انمٹ ایسے کے رحمی صلہ اور رواداری نے وسلم علیہ
کا وفد آیا۔ سے مقصد کے مناظرے سے سلم و علیہ ہللاصلی آپ مدینہ سے نجران وفد عیسائی سکتا۔ایک دے نہیں
گیا پوچھا سے سلم و علیہ ہللا صلی آپ متعلق کے قیام کے وفد اس تھا۔جبآلود زہر سے تعصب اور عداوت مذہبی ذہن
آپ پھر تو آیا وقت کا عبادت کی ان جب اور دیا حکم کا ٹھہرانے میں نبویمسجد اسے نے سلم و علیہ ہللا صلی آپ تو
اجازت کی عبادت اپنی میں نبویمسجد کو ان نے سلم و علیہ ہللا صلی گیا۔آپ کیا رجوع سے سلم و علیہ ہللا صلی
اور ہیں آتے قریب اغیار سے رواداری کہ ہے چلتا پتا سے تعلیماتکی سلم و علیہ ہللاصلی فرمادی۔آپ مرحمت
ہیں۔ لگتیں لینے جنم خود از اچھائیاں
الگ سے لوگوں ہمیں ۔اسالم رکھتی نہیں تھلگ الگ سے دوسروں بھیکبھی کو خود قیادت ٰ
اعلی ایک رابطہ؛۔عوامی
امر اس ساتھ کے سختی نے مجید قرآن ہے۔ کرتا منع سے گزارنے زندگی پھیرکر منہ سے لوگوں اور رہنے تھلگ
- 31.
31
لقمان)صعر۔(سورہ ‘‘کرو نہبات کر پھیر منہ سے لوگوں ۔ترجمہ؛۔اورتم ِ
اسَّنلِل َکَّدَخ ِّْرِعَصُت َ
ال َ’’و ہے۔ کیا منع سے
جاتی کولگ اونٹ جب بیماری ہے۔یہ جاتی پائی میں دنوں گر کی اونٹوں میں عرب جو ہے کانام بیماری ایک میں اصل
بھی رویہ کا قائد تو ہےہوجاتی شکار کا اناپرستی جب قیادت سکتا۔ نہیں گھما بائیں دائیں کو گردن اپنی وہ تو ہے
چاہئے۔ کرنا اجتناب سے سختی سے افعال کے طرح اس کو ہے۔قائد ہوجاتا طرح اسی بالکل
معلومات نئی اور کرنے مطالعہ سے سنجیدگی میں ان ہیں گزرے لیڈر کامیاب بھی جتنے میں ذخیرہ؛۔دنیا کا معلومات
معلومات مفید پاس کے قائد لئے کے پہنچنے تک تہہ کی واقعے بھی کسی تھا۔موجود اتم بدرجہ جذبہ کا کرنے اکٹھی
کے اس اثر راست براہ کا اس گا ے کر فیصلہ غلط یا اچھا جو پر بنیاد کی معلومات اپنی قائد ہے۔ ضروری ہونا کا
ناقابل سے قائد سے وجہ کی ہونے نہ معلومات یا معلومات غلط اوقات بعض گا۔ پڑے پر ادارے متعلقہ اور پیرروں
دانشمندانہ بجائے کے محنت سخت کو قائد چاہئے۔ رہنا آشنا اور باخبر سے وسائل اپنے کو ہے۔قائدسرزدہوجاتی تالفی
ہی ہیں۔ایک آتے نظر دیتے درس کا محنت کڑی اور سخت قائد عام اکثر چاہئے۔ کرنا رخ جانب کی افعال اور سرگرمیوں
و مسائل میں انداز آتاہے۔دانشنمدانہ میں زمرے کے محنت سخت کرنا کوشش و کاوش تک دیر لئے کے تکمیل کی کاز
سخت ہے۔اگر جاتا پایا تنوع میں کار طریقہ ۔اس ہے ضروری جانا دیکھا میں انداز منطقی اور تعمیری، تخلیقی کو کاز
ابھرسکتی نہیں پر منظر عالم آج اختراعات جیسی اورجاوا گوگل کہ بتایئے تو رہتا اڑا انسان ہی پر نکتہ کے محنت
ستائش کی اعمال و افعال اچھے کے کارکنوں دے۔اپنے ترجیح کو ورک اسمارٹ ساتھ کے ہاڑورک لئےاسی تھیں۔قائد
سونپے۔ داری ذمہ انھیں بجائے کے کرنے تفویض ات اختیار کو کرے۔کارکنوں
نہیں صالحیت کی کرنے فیصلہ پاس کے شخص ہر میں حاالت ہنگامی اور مشکل طرح کی حاالت عام فیصلہ؛۔ قوت
صالحیت کی لینے فیصلے اہم پر بل کے بینش و دانش اپنی بھی میں وقت کٹھن اور مشکل قائد بااثر ایک ہے۔ ہوتی
ان بلکہ ہے رکھتا شامل صرف نہ کو افراد علم اہل کار تجربہ کے جماعت میں سازی فیصلہ ہمیشہ قائد بہتر ہے۔ رکھتا
خیال خاص بھی کا نفس عزت کی ان وقت کرتے ردکو وتجاویز ہے۔آرا کرتا بھی افزائی حوصلہ کی ان پر آرا و تجاویز
محروم وہ سے تجاویز اور مشوروں کے ماتحتوں اپنے تو گا کرے نہیں مرکوز توجہ پر امور ان قائد ہے۔اگر رکھتا
گے۔ لگیں دیکھنے پرطور کے قائد پسند یت آمر ایک اسے وہ اور گا ہوجائے
کی درجے ٰ
ادنی ۔قیادت بھیکی جماعت بڑی ایک پھر ہییاہوسکتیبھی کی گروہ چھوٹے مہارت؛۔قیادتکسی و تجربہ
از کم یا ہو رکھتا مہارت میں اس وہ جائے سونپی قیادت کوئی جب کو بھی۔قائد کی درجے ٰ
اعلی اور ہے ہوسکتیبھی
کرسکے نہیں انصاف سے عہدے اپنے وہ دیگر بصورت ہوضرور علم اسے کا اساسیات اور مبادیات کی اس کم
و طب، تربیت و تعلیم،ثقافت،قانون،سیاسیات،مالیات،معاشیات، ودانش علم جیسے جات شعبہ دیگر کے زندگی کا گا۔قائد
سے طریقے احسن کو داریوں ذمہ کی قیادت وہ ورنہ ہے ضروری رکھناآگہی بھی سے وغیرہ بہبود و فالح،صحت
گا۔ پائے دے نہیں انجام
کام کے وبہبود فالح کی ان وہ تاکہ ہے ہوتیضروری واقفیت سے (تنظیمی)حاالت عوامی لئے کے حل؛۔قائد کا مسائل
نے کرتاہے’’انہوں مبذول توجہ ہماری قرآن جانب ۔اس رہے باخبر سے اورپیروں کارکنوں اپنے سکے۔قائد دے انجام
ہمیں سے آیت نمل)۔اس (سورہ ‘‘ہے۔ غائب وہ ہے آرہا نہیں نظر ہدہد مجھے ہوگیا کیا کہ کہا تو لیا جائزہ کا پرندوں
- 32.
32
بے سے ہدہدتو نہ وہ تھی کی عطا سلطنت الشان عظیم نے ہللا جنہیں السالم علیہ سلیمان حضرت کہ ہے ہوتا معلوم
کہ تھے حساس اتنے میں معاملے کے گیری خبر کی رعایا ؓ
عمرسے۔حضرت معامالت کے اس ہی نہ اور تھے خبر
اس سے مجھ ہللا کہ ہے ڈر مجھے تو مرگیا سے)بھی (بھوک بچہ کا بھیڑ کنارے کے فرات ’’اگر کہا نے آپ لئےاسی
)االولیاء َگا۔‘‘(حلی کرے سوال متعلق کے
پیغام اپنا سے طریقے موثر تکدوسروں پاس کے قائد ،تحریر یا ہو تقریر کافن؛۔ پہنچانے پیغام اپنا تکدوسروں
اور شائستگی کی زبان ،روانیکی جملوں ،فراوانی کی الفاظ متبادل اور اچھے پاس اسکے چاہئے۔ ہونا گر کا پہنچانے
کی حضرات علم اہل اور مطالعہ ذخیرہضروریہے۔قائدین پر طور الزمی کا عناصر جیسے گداز و سوز میں بولنے
ہیں۔ کرسکتے دور کو کمی اس اپنی سے صحبتوں