More Related Content
PDF
توحید اور اس کی اقسام تحریر انجینئر توصیف قادر DOCX
صَلَاةٌ –ہم نے قرآن کےساتھ کیا سلوک کیا؟حصہ سوم PPTX
PDF
اسلام - آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا.pdf PPTX
DOCX
قرآنی نظر یہ ِ حیات ۔ہم نے قرآن کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ باب 18 PPTX
destinyتقدیر اور ایمانیات - مسئلہ جبر و قدر PDF
Terminologies of Tassawuf wo Salook Similar to 2626-2.doc
PDF
Qehare ilahee saiy bachnay ka raasta DOC
PDF
PPTX
عصر حاضر میں اجتہاد کی ضرورت و اہمیت DOC
DOCX
MsSaajjdaLodhiNotes Based on IGCSE TOPIC HINDUISM AND SANSKRIT.docx in Urdu.docx DOC
DOCX
PDF
Urdu - Testament of Asher.pdf PPTX
islamic civilization.pptx DOC
DOCX
ہم نے قرآن کے ساتھ کیا سلوک کیا حصہ ششم۔اسلام RTF
PPTX
PDF
Questions of an Atheist (Urdu Article) ! PPTX
Uloom ul hadees . knowledge on hadees. علوم الحدیث DOC
DOC
PDF
DOCX
ماہ شعبان کا آغاز ہوتے ہی شعبان کی پندرھویں رات کی فضیلت و عظمت اور اس کے خصا... More from Noaman Akbar
DOCX
The Role of Globalization in Education.docx DOCX
School Organization & Classroom Management.docx DOCX
Introduction to Secondary Education.docx DOCX
over pollution as a social problems.docx DOCX
Meaning and Significance of Comparative Education.docx DOCX
Introduction to Psychology Preseant.docx DOCX
Foundation of Education Preseantati.docx DOCX
Financial Accounting Assignment No 04.docx DOCX
Comparative Study of Loans and Advances of Commercial Banks.docx DOC
DOC
DOC
DOC
DOC
DOC
DOC
DOC
DOC
DOC
DOC
2626-2.doc
- 1.
1
نمبر مشق امتحانی
2
ANS01
اس ہے۔ عقیدہ کا الوجود وحدت وہ ،ہے بنا نشانہ کا تنقید زیادہ سے سب عقیدہ جو میں عقائد کے صوفیاء
سے ی
ہے۔ جاتا پایا ہاں کے صوفیاء بعض جو ہے عقیدہ کا حلول متعلق
الوجود وحدت حلول عقیدہ اور:
تقریب اندر کے صوفیاء عقیدہ کا الوجود وحدت
ا میں بارے کے تفصیل کی اس تاہم ہے نظریہ علیہ متفق ًا
ہاں کے ن
س اس بعض جبکہ ہے جاتا پایا اندر کے صوفیاء بعضبھی حلول عقیدہعالوہ کے اس ہے۔ جاتا پایا اختالف
انکار ے
ہیں۔ کرتے
اور ہےوجود ہی ایک صرف اور صرف کہ ہے یہ مطلب میں الفاظ سادہ کا فلسفے کے الوجود وحدت
ت ہللا ہے وہ
عالی۔
می مخلوق و خالق پھر تو جائے لیا مان کو بات اس اگر ہے۔ جاتا پایا نہیںوجود اور کوئی عالوہ کے ذات کی اس
ں
نع بھی شیطان اور غالظت کہ حتی ،اشیاء جان بے ،نباتات،حیوانات ،انسان بلکہ رہتا نہیں باقی فرق کوئی
ہللا ،باہللوذ
ق حصہ کا وجود کے ہی تعالی
ک کرنے فرق بھی میں حرام و حالل اور کفر اور اسالم بعد کے اس ہیں۔ پاتے رار
کوئی ی
ہیں۔ ہی خدا سبھی ہللا معاذ حرام و حالل کیونکہ جاتی رہ نہیں باقی ضرورت
وس اگر کو عقیدے اس ہے۔ جاتا کر حلول اندر کے انسان کسی تعالی ہللا کہ ہے یہ مطلب کا عقیدے کے حلول
معنوں یع
میں
جانوروں سے بہت ہاں کے ہندوؤں کہ ہے وجہ یہی ہے۔ جاتا کر حلول اندر کے چیز ہرخدا پھر تو جائے لیا
مطابق کے نظر نقطہ کے ان کیونکہ ہے جاتا کیا احترام بڑا کا وغیرہ بندر اور ہاتھی ، سانپ ،گائے جیسے
ان بھگوان
موجود بھی تصور یہ ہاں کے ان ہے۔ ہوتا ظاہر میں صورت کی
حلول اندر کے بندوں خاص اپنے بھگوان کہ ہے
کر
انتہائی کی سادھوؤں اور جوگیوں ،فقیروں پیروں ہندو کہ ہے وجہ یہی ہیں۔ کہالتے ""اوتار کہ جو ہے جاتا
تعظیم
ک مذاہب دیگر وہ بلکہ رہتا نہیںمحدود ہی تک بزرگوں اپنے کے ان معاملہ یہ کا عقیدتکی ان اور ہیں کرتے
ے
کی صوفیاء
ہیں۔ کرتے تعظیم ہیویسی بھی
تش مختلف کی عقیدے کے الوجود وحدت اور ہیں کرتے انکار سے عقیدے کے حلول صوفیاء شریعت پابند
کرتے ریح
ہی کرتے تاویل کی ان تو یا وہ ،ہے جاتا کیا اعتراض پر عبارتوں جن کی اکابرین صوفی میں ضمن اس ہیں۔
پھر یا اور ں
ہ دیتے قرار الحاقی انہیں
و پہلے سے کرنے بیان نظر ہائے نقطہ کے فریقوں مختلف کہ گا ہو مناسب یں۔
الوجود حدت
ہ جائے۔ ہو وضاحت کی نظریے اس تاکہ جائیں دی کر پیش عبارتیں کی صوفیاء اکابر متعلق سے حلول اور
یہاں م
و طلبہ کے مدارس دینی یا حضرات دان عربی تاکہ عبارات عربیاصل ساتھ ساتھ کے ترجمے
م کا ان خود طالب
طالعہ
لیں۔ فرما
الہروی عبدہللا شیخ (d. 481/1088) ہےہوئی لکھی بات یہ میں السائرین منازل کتاب کی:
وجوہ ثالثة علىوالتوحید:
الث والوجه بالحقائق یثبت الذي وھو الخاصة توحید الثاني والوجه بالشواھد یصح الذي العامة توحید األول الوجه
الث
قائم توحید
الخاصة خاصة توحیدوھو بالقدم
- 2.
2
كفو له یكنولم یولد ولم یلد لم الذي الصمد األحد له شریك الوحدہ ہللا إال إله ال أن شھادة فھو األول التوحید فأما
ھذا .َدأح ا
و واألموال الدماء حقنت وبه وجبتالذمة وبه القبلة نصبت وعلیه األعظم الشرك نفى الذي الجلي الظاھر التوحید ھو
انفصلت
الكفر دار من اإلسالم دار ...
ا منازعات عنوالصعود الظاھرة األسباب إسقاط وھو الخاصة توحیدفھو بالحقائق یثبت الذي الثاني التوحید وأما
لعقول
سببا التوكل في وال دلیال التوحید في تشھد ال أن وھو بالشواھد التعلق وعن...
ال اختصه توحیدفھو الثالث التوحید وأما
صفو من طائفة أسرار إلى الئحا منه وأالح بقدرہواستحقه لنفسه حق
وأخرسھم ته
القدم وإثبات الحدث إسقاط أنه المشیرین ألسن على غلیه به یشار والذي بثه عن وأعجزھم نعته عن.
ہیں درجے تین کے توحید:
درجہ دوسرا ہے۔ مبنی پردالئل صحت کی جس ہے توحیدکی لوگوں عام درجہ پہال
ج ہےتوحید کی لوگوں خاص
کہ و
ہے توحیدکی لوگوں الخاص خاص درجہ تیسرا کا توحید ہے۔ ہوتی ثابت سے ]تجربات روحانی [یعنی حقائق
ذات کہ جو
ہے۔ قائم پر بنیاد کی ہی ] تعالی [ہللا قدیم
نہیںمعبود کوئی سوا کے ہللا کہ ہے دینا گواہی یہ کہ جو ہے تعلق کا توحید پہلی تک جہاں
کوئ کا اس ،
شریک بھیی
ہے توحیدروشن ظاہر یہ نہیں۔ ہمسرکوئی کا اس اور بیٹا نہ ہے باپ کا کسی وہ نہ ،ہے نیاز بےوہ ،نہیں
بڑے کہ جو
گ دیا قرار ذمی کو ]مسلموں [غیر اور گیا کیا نصب کو قبلہ پر بنیاد کی اسی ہے۔ مبنی پر نفی کی شرک
وجہ کی اسی یا۔
محف مال اور خون سے
۔۔۔۔ ہے ہوتا الگ سے الکفر دار ،االسالم دار اور ہیں ہوتےوظ
اسباب ظاہری میں اس اور ہےتوحید کی لوگوں خاص یہ ہے۔ مبنی پر حقائق جو ہےوہ توحید کی قسم دوسری
کو
ج مانا کو توحید بغیر کے دلیل کر ہو بلند سے تعلق ساتھ کے شواہد اور دالئل عقلی اور ہے جاتا دیا چھوڑ
اتا
اور ہے
ہے۔۔۔۔ جاتا کیا نہیں تالشکو سبب کسی لیے کے توکل
ک اسرار کے اس ضرورت بقدر اور ہے لیا کر خاص لیے اپنے نے تعالی حق جس ہےوہ درجہ تیسرا کا توحید
منتخب و
طر کی جس ہے۔ نہیں ممکن پھیالنا ]تفصیالتکی [اس کرنےاور بیان صفات کی اس ہے۔ کرتا ظاہر پر افراد
اشار ف
ہ
ہے اثبات کا ]تعالی [ہللا قدیم اور نفی کی ][مخلوق حادث یہ کہ ہے کیا اشارہ یہ نے والوں کرنے
الم الخالق فاألمر .الخالق من الخلق تمیز قد كان وإن ،المشبه الخلق ھو المنزة الحق أن علم ،ھاُتإثبا عین نفیھا وأن
،خلوق
،ال،واحدة عین من ذلك كل .الخالق المخلوق واألمر
یا"قال ترى ذا ما فانظر .الكثیرة العیون وھو الواحد العین ھو بل
أبت
بص ظھر من كبش بصورة فظھر "عظیمبذبح"وفداہ .نفسهسوى یذبح رأى فما .أبیه عین والولد :"تؤمر ما افعل
ورة
سوى نكح فما :"زوجھا منھا "وخلق .الوالد عین ھو من ولد بحكم بل ،ال :ولد بصورة وظھر .إنسان
الص فمنه .نفسه
احبة
العدد في واحد واألمر والولد....
فادكروا الوجه بذاك خلقا ولیس.......... فاعتبروا الوجه بھذا خلق فالحق
بصر له من إال یدریهولیس ..........َهبصیرت تخذل لم قلت ما یدر من
تذر وال تبقي الالكثیرة وھي............ واحدة العین فإن وفرق جمع
کی اس
علیح بظاہر سے خالق کو خلق وہ اگرچہ ہے مشبہ خلق ہی منزہ حق کہ گیا جان وہ ہے۔ اثبات عین نفی
دہ
سرچشم ہی ایک سب یہ ہے۔ خالق معاملہ کا مخلوق اور ہے مخلوق معاملہ کا خالق کہ ہے یہ معاملہ تو ہو۔سمجھتا
ہ
مو میں حقائق کثیر سب ان ہےجوسرچشمہ ایک یہی بلکہ نہیں ہیں۔ سے
رائے کیا کی آپ دیکھیے ہے۔جود
[ہللا ہے؟
ع [اسماعیل"وہ ]فرمایا ہوئے کرتے ذکر کا قربانی کی والسالم الصلوة علیہما اسماعیل و ابراہیم نے تعالی
]السالم لیہ
د کیا نے انہوں تو ،ہے باپ اپنا عین بیٹا تو "کرگزریے۔ ،ہے گیا دیا حکم کو آپ کا کام جس !اباجان :بولے
کہ یکھا
وہ
م صورت کی دنبہ تو "دی۔ کر قربانی بڑی ایک میں فدیہ کے اس نے ہم "پھر ہیں۔ رہے کر ذبح کو آپ اپنے
وہی یں
کے بیٹےوہ بلکہ ،نہیں ہوا۔ ظاہر میں صورت کی بیٹےیعنی ہوا ظاہر میں صورت کی انسان کہ جو ہوا ظاہر
میں حکم
ہے۔ والد کہ جو تھا وہی عینوہ کہ ہوا "ظاہر
اس اور
ا سے میں انہی کیا۔ نکاح سے کس عالوہ اپنے نے انہوں تو کیا"۔ تخلیق جوڑا کا اسی سے میں )(آدم
کی ن
ہے۔۔۔۔ ہی ایک معاملہ اصل میں انسانوں متعدد ان تو نکلے۔سبھی اوالد ،بیوی
- 3.
3
کو بات اسہے۔ نہیںمخلوق سے اعتبار سُا اور ہے مخلوق ][تعالی حق سے اعتبار اس کہ لو جان تو
لو۔ کر یاد
جو
" پاس کے جس ہے جانتا وہی اسے گا۔ کرے نہرسوا کو بصیرت اپنی وہ ،ہے جانتا جو اسے ،ہوں رہا کہہ میں
"نگاہ
نہ اور گی رہے نہ باقی کثرت یہ اور ہے ہی ایک سرچشمہ وہ کہ کیا علیحدہ اور اکٹھا اسے نے اس ہے۔موجود
ہی
گی۔ جائے دی چھوڑ
پ صدیاں تین سے عربی ابن
ہے ہوا بیان میں تصوف کتب تمام اور ہے مشہور بہت واقعہ حالجکا منصور ہلے
انہوں کہ
سکر غلبہ بارآدھ ایک محض وہ اگر تھا۔ کہا "ہوں حق "میں یعنی "الحق "انا ہوئے کرتے دعوی کا خدائی نے
میں
باقاعد کی دعوے اس ساتھ کے حواس و ہوش پورے وہ مگر ہوتا نہکچھ تو دیتے کر ایسا
رہے کرتے تبلیغ ہ
بادشاہ ۔
جر اس رہے۔ قائم پر دعوی اپنے وہ مگر گیا کیا پیش سامنے کے علماء کے کر گرفتار انہیں سے حکم کے
کی م
ہوں شریعت مخالف وہ خواہ ،صوفیاء تمام وہ تک آج کر لے سے وقت گئی۔اس دی سزا کی موت انہیں میں پاداش
یا
سمجھے شہید اور ہیرو کے ،شریعت پابند
؎ ہے شعر کا قوالی مشہور ایک کی پنجابی ہیں۔ جاتے
کہندے ہی الحق انا او رہندے وچ عشق نشہ جیہڑے
ANS 02.
ہللارسول مطابق کے قرآن
ﷺ
ہیں۔ چار مقاصد کے بعثتکی
1
،آیات ۔تالوت
2
،کتاب تعلیم ۔
3
،حکمت تعلیم ۔
4
تزکیہ ۔
تزکی تاہم ،ہے اہم جگہ اپنی فریضہ ہر سے میں فرائض نفسان۔
ہے غایتاصل کی اسالمیہ تعلیمات نفس ہ
رسول جو
اکرم
ﷺ
ہے۔ایک ملتا پر مقامات دو تذکرہ کا بات اس میں مجید قرآن ہے۔ حصہ اہم کا چہارگانہ فرائض مذکورہ کے
میں۔ جمعہ سورۂ دوسرے میں عمرانآل سورۂ
:ترجمہ
’’
پ ایک سے میں انہی میں نُا کہ ہے کیا احسان بڑا پرمومنوں نے ہللا
کی ہللا کو نُا جو بھیجا یغمبر
پڑھ آیتیں
ہے سکھاتا دانائی اور کتاب )کی (ہللا اور کرتا پاک کو ان اور سناتا کر پڑھ
‘‘
۔
ترجمہ
’’
(محمد سے میں انہی میں پڑھوں ان نے جس ،ہے تو وہی
ﷺ
سامن کے ان جو بھیجا )کر (بنا پیغمبر )کو
اس ے
(ہللا اور کرتے پاک کو ان اور پڑھتے آیتیں کی
ہیں سکھاتے دانائی اور کتاب )کی
‘‘
۔
- 4.
4
ہے سکتی آبھی بیماری کل تو ہے صحت آج ہے۔ مجموعہ کا دونوں بیماری اور صحت انسان کہ ہے مسلمہ امر یہ
۔
رک یادبھی ہے۔یہ سکتا کر عطابھی شفایابی کے کر دور بیماری ٰ
تعالی ہللا تو ہے غلبہ کا بیماریآج اگر
ضروری ھنا
بیماریا کہ ہے
انسان بیماریاںبیماریاں۔۔۔جسمانی روحانیدوسرے ،بیماریاںجسمانی ایک ہیں۔ کی قسم دو ں
جسم کے
ہے ساتھ کے دل تعلق کا بیماریوں روحانی ہے۔ ممکن عالج کا ان سے دارو دوا ،ہیں آتی رنظر او ہیں لگتی کو
م دیکھنے بظاہر یہ ہیں۔ کہتے بھی بیماریاں باطنی کو بیماریوں ۔روحانی
ر کی انسان لیکن،آتیں نہیں یں
الحقکو وح
ص ، ٰ
تقوی صاحب ضرورہے۔جو ممکن عالج کا بیماریوں ان لیکن ،نہیں ممکن سے دارو دوا عالج کا ان ہیں۔ ہوتی
احب
ہے ممکن ہی سے صحبت کی باعمل عالم فراست صاحب ،دل:
ہوئے پیدا میں زمانے جس وسلم علیہ ہللا صلی عربی ِمحمد حضرت
بڑا سے سب کا پرستی بت مکہ وقت اس
اس کہ تھا یہ صرف امتیاز ٴ
تمغہ کا خاندان کے وسلم علیہ ہللا صلی تھے۔حضور بت سوساٹھ تین میں تھا۔کعبہ مرکز
نہیں سر آگے کے بتوں کبھی نے وسلم علیہ ہللا صلی حضرت آں ۔ تھے بردار کلید اور متولی کے کدے صنم
میل تین سے معظمہ جھکایا۔مکہ
اور فرماتے قیام جاکر وہاں آپ ،ہیں کہتے حراء جسے تھا۔ غار ایک پر فاصلے کے
میں حرا ِ
غار آپ مطابق کے روایت کی شریف بخاری ،جاتے لے سامان کا پینے کھانے کرتے۔ مراقبہ
”
تحنث
“
یعنی
چنانچ تھی؛ پذیری عبرت اور فکر و غور عبادت یہ کہ ہے لکھا نے تھے۔علماء کرتے کیا عبادت
کو آپ میں غار اس ہ
سے نگاہ کی سیرت ِبطال بھی کسی وہ آئے پیش حاالت جو بعد کے نبوت گیا۔ کیا فائز پر منصب ترین عظیم کے نبوت
دعوتی و تعلیمی متعین کوئی لیے کے مسلمانوں اور اسالم میں مکرمہ مکہ پہلے سے ہجرت چنانچہ ہے؛ نہیں مخفی
اطمینان وہ کر رہ جہاں ،تھا نہ مرکز
مکی حقیقت در رکھتے۔ جاری کو سرگرمیوں دعوتی اپنی ساتھ کے سکون اور
حال ہر رات اور دن ،حضر و سفر تھی۔ گاہ درس متحرک ہی اقدس ِذات کی وسلم علیہ ہللا صلی رسول خود میں دور
کرام ٴ
صحابہ تھی۔ تبلیغ و دعوت ذات کی ہی وسلم علیہ ہللا صلی آپ میں مقام ہر اور
چ پر طور عام
قرآن ہی کر ھپ
ٴ
صحابہ کے وسلم علیہ ہللا صلی ہللا رسول باوجود کے رانیوں ستم کی مکہ ِ
۔کفار تھے کرتے حاصل تعلیم کی مجید
کرام
کے تبلیغ و دعوت کو جات حلقہ اور مقامات ایسے کے دور مکی رہے۔مصروف میں اشاعت و تبلیغ کی اسالم
حاالت جہاں ہے۔ جاسکتا کیا تعبیر سے مراکز
نشر کی اسالم میں انداز کسی نہکسی مطابق کے ضرورت اور نزاکتکی
گی۔ جائے ڈالی روشنی پر نظام تربیتی و تعلیمی کے مکے میں ذیل بریں۔سطور بنا ،رہا ہوتا کام کا اشاعت و
بکر ابو بیت گاہ درس
اکبر صدیق حضرت مرکز اولین کا تبلیغ و دعوت میں دور مکی
ت گھر کا
صحن کے گھر نے آپ ،ھا
کرتے پڑھا نماز اور کرتے تالوت کی مجید قرآن آپ میں جس تھی جگہ کھلی ایک یہ میں ابتدا تھا۔ کومسجدبنارکھا
آپ پر طور عام تھے۔
جمع گرد کے ان عورتیں اور بچے کے مکہ ِ
کفار تو کرتے تالوتکی مجید قرآن سے آواز بلند
بخ خود وہ سے جس سنتے۔ قرآن ہوکر
گوارا کب بھال کو مکہ ِمشرکین حال ِصورت یہ ہوتے۔ مائل طرف کی اسالم ود
ابوبکر حضرت نے انھوں چنانچہ تھی؛
آپ سے وجہ کی جس ،کیا مبتال میں اذیت سخت کو
کا ہجرت سے مکہ نے
اب اے پوچھا نے اس ہوئی۔ مالقات سے الدغنہ ابن رئیس کے قارہ ٴ
قبیلہ میں راستے مگر کرلیا؛ ارادہ
وبکر
کا کدھر
آپ ہے؟ ارادہ
میں گوشہ کسی اور گا کروں سیر کی دنیا اب ،ہے کردیا مجبور پر ہجرت مجھے نے فرمایاقوم نے
- 5.
5
آپ کر کہہیہ الدغنہ ابن مگر گا؛ کروں عبادت کی رب اپنے سے اطمینان
آپ کہ آیا لے واپس کو
باکردار جیسے
پ اور جاسکتا کیا نہیں مجبور پر ہجرت کو شخص
صدیق حضرت ھر
کیا۔ اعالن کا پناہ اپنی لیے کے اکبر
ابوبکر
(:بنالی مسجد باقاعدہ میں صحن کے گھر اور آئے لے تشریف واپس
۱
)
یہ ہے جاسکتا کہا یہ البتہ تھا؛ علم طالب باقاعدہکوئی نہ اور تھا مقرر معلم مستقل کوئی نہ میں بکر ابی مسجد
اور تربیت و تعلیممسجد
خدمات تبلیغی سے اوریہیں تھی گاہ درس اولین کی دور مکی لیے کے سیکھنے مسائل دینی
بہ مائل اور تھے سنتے کو پیغام آفاقی کے قرآن عورتیں اور بچیاں بچے کے مکہ کفار یہاں نیز ،تھیں جاتی دی انجام
:تھے ہوتے اسالم
”
ابوبکر حضرت
پڑ قرآن جب ،تھے انسان القلب رقیق
آپ سے وجہ اس ،روتے تو ھتے
،لڑکے پاس کے
آپ اور ،ہوجاتیں کھڑی عورتیں اور غالم
گئے پاس کے الدغنہ ابن لوگ چند کے قریش ،کرتے پسند کو ہئیت اس کی
وہ پہنچائے۔ تکلیف ہمیں وہ کہ تھی دی نہیں پناہ تو لیے اس کو شخص اس نے تو الدغنہ ابن اے : کہا سے اس اور
ہے شخص ایسا
آتا بھر دل کا اس تو ہے ہوا الیا کا وسلم علیہ ہللا صلی محمد جو ہے پڑھتا کالم وہ میں نماز جب کہ
لوگوں دیگر اور عورتوں ،بچوں ہمیں سے وجہ کی جس ہے اورطریقہ ہیئت خاص ایک کی اس ہے۔ روتا وہ اور ہے
اس تو لیے اس دے؛ ڈال نہ میں فتنے انھیں یہ کہیں کہ ہے خوف متعلق کے
اپنے وہ کہ دے حکم اور جا پاس کے
کرے چاہے جو میں اس اور رہے اندر کے گھر
“
۔
ابوبکر حضرت الدغنہ ابن چنانچہ
آپ تو یا کہ کہا اور آیا پاس کے
میری یا آجائیں باز سے طریقے اس
ابوبکر حضرت لوٹادیں۔ واپس مجھے پناہ
کرد واپس تجھے پناہ تیری نے میں : فرمایا نے
پناہ کی ہللا لیے میرے ی۔
(ہے کافی
۲
)
۔
فاطمہ ِبیت گاہ درس
حضرت یہ تھا۔ رکھتا حیثیت کی مرکز تربیتی اور ،دعوتی،تبلیغی،دینی بھی گھر کا خطاب بنت فاطمہ طرح اسی
عمر
ک قبول اسالم سمیت زید بن سعید خاوند اپنے ہی میں دور ابتدائی نے جنہوں ہیں بہن کی خطاب بن
یہ رلیا۔
خباب حضرت ہی میں گھر اپنے بیوی میاں دونوں
حضرت تھے۔ کرتے حاصل تعلیم کی مجید قرآن سے االرت بن
نکلے؛ سے ارادے کے قتل کے وسلم علیہ ہللا صلی ہللا رسول ہوے لیے تلوار پہلے سے النے اسالم دن ایک عمر
خب کی ہونے مسلمان کے بہنوئی اور بہن اپنی میں راستے لیکن
میں ہاتھ تلوار میں حالت کی غصے انتہائی تو ملی ر
: لکھاہے نے اسحاق ابن پایا مشغول میں تعلیم اور تالوت کی قرآن کو ان تو پہنچے پر مکان کے ان کر لے
(ایاھا یقرھما طہ فیھا صحیفة ہَعَم ِتْاالر ُنب خباب اَمُھَدْنِعَو
۳
)
”
بن خباب پاس کے دونوں ان
تھی ہوئی لکھی طہ ٴ
ہسور میں جس تھا صحیفہ ایک پاس کے جن تھے االرت
تھے۔ رہے پڑھا کو دونوں ان وہ جو
“
مسلمانوں دو یہاں کے بہنوئی میرے نے وسلم علیہ ہللا صلی ہللا رسول کہ ہے منقول زبانی کی عمر حضرت
االرت بن خباب ایک ،تھا کیا انتظام کا کھانے کے
دوس اور
اور بہن میری االرت بن خباب نہیں۔ یاد مجھے نام کا رے
( تھے۔ کرتے دیا تعلیم کی قرآن کو ان اور تھے جاتے آتے پاس کے بہنوئی
۴
)
عمر حضرت میں سلسلہ اس
یہ کا
:ہے بیان
(معہم ًصحیفة نٴ
یقرو ًاُلوسج القوم وکان
۵
)
”
رہی پڑھ صحیفہ کر بیٹھ جماعت ایک اور
تھا موجود پاس کے جوان تھی
“
خطاب بنت فاطمہ بیت
کم از کم جہاں ہے جاسکتا کہا مرکز کا اشاعت و تعلیم کی مجید قرآن میں دور مکی کو
عمر حضرت اگر اور تھا۔ معلم ایک اور علم طالب دو
لفظ میں بیان کے
”
قوم
“
پر طور یقینی تو جائے کیا اعتبار کا
پڑھنے قرآن یہاں
ہے۔ چلتا پتہ کا جماعت پوری ایک والی
طالب ابی شعب ِہگا درس
نیند کی موت کو تحریک اس کی اسالم سے تشدد و جبر وحشیانہ اپنے وہ کہ تھیفہمی خوش یہ کو مکہ ِ
کفار
ا گیا چال ہی پھیلتا دائرہ کا اسالم باوجود کے تدبیروں اور مساعی تمام کی ان جب لیکن گے؛ سالدیں
نے انہوں ور
حمزہ حضرت کہ دیکھا
عمر اور
کے ان بھی میں دربار کے نجاشی اور کرلیا قبول اسالم بھی نے لوگوں جیسے
ان چنانچہ کردیا؛ باختہ حواس مزید کو مکہ کفار نے چوٹ اس تو ہے پڑا کرنا سامنا کا ناکامی آمیز ذلت کو سفیروں
طور متفقہ بعد کے خوض و غورطویل نے لوگوں
خاندان کے ان اور وسلم علیہ ہللاصلی ہللارسول کہ کیا فیصلہ یہ پر
قربت سے ہاشم بنی خاندان شخص کوئی کیاکہ معاہدہ ایک نے قبائل تمام چنانچہ جائے؛ کردیا تباہ کرکے محصور کو
- 6.
6
دے جانے سامانکا پینے کھانے پاس کے ان ہی نہ اور گا کرے فروخت و خرید ہاتھ کے ان نہ گا؛ کرے
معاہدہ یہ گا۔
(کردیاگیا آویزاں پر دروازے کے ہللا کعبة کر لکھ
۶
)
۔
طالب ابی شعب سمیت ہاشم بنی خاندان تمام اور وسلم علیہ ہللا صلی ہللا رسول ہوکر مجبور طالب ابو حضرت
محرم میں
۷
/
اس سمیت خاندان اپنے نےوسلم علیہ ہللا صلی ہللارسول ہوگئے۔محصور میں نبوی
سال تین میں حصار
ہللا صلی ہللا رسول میں موسم کے حج لیے اس تھی؛ خواہش کی امن کو لوگوں تمام چونکہ میں حج ِایام کیے۔ بسر
ہللا صلی آپ میں اوقات باقی جبکہ دیتے؛ دعوت کو عرب ِقبائل مختلف کر نکل باہر سے طالب ابی شعب وسلم علیہ
کی مسلمانوں میں گھاٹی اسی وسلم علیہ
ٴ
صحابہ عالوہ کے ہاشم بنی ِخاندان میں طالب ابی شعب فرماتے۔ تربیت
کرام
بھی خود جو ہے کیا نقل بیان کا وقاص ابی بن سعد نے سہیلی امام ہیں۔ ملتے بھی اشارات کے موجودگی کی
:ہیں فرماتے وہ تھے۔ شامل میں ین محصور
”
اندھرے کو رات تھا۔بھوکا حد از دن ایک میں
منہ کر اٹھا اسے نے میں آگیا پر چیز گیلی کسی ںٴ
پاو میرا میں
بارے کے اس مجھے تک اب اور ہے چیز کیا وہ کہ کرتا پتہ میں کہ تھا نہ بھی ہوش اتنا مجھے لیا۔ نگل اور ڈاال میں
نہیں علم کوئی میں
(“
۷
)
۔
ارشا میں جمعہ ٴ
خطبہ دفعہ ایک نے غزوان بن عتبہ حضرت طرح اسی
:فرمایا د
”
درختوں لیے کے کھانے پاس ہمارے اور تھا مسلمان ساتواں ساتھ کے وسلم علیہ ہللا صلی ہللا رسول میں
ہوگئیں زخمی باچھیں ہماری کہ حتی ،تھا نہ کچھ سوا کے پتوں کے
(“
۸
)
۔
دارارقم ِہگا درس
وا النے اسالم میں دور ابتدائی ارقم ابی بن ارقم حضرت
حجر ابن حافظ ،ہیں سے میں لوں
االصابہ بھی نے
سعد ابن میں
یا دسواں میں اسالم قبول کا ارقم حضرت مطابق االثیرکے ابن تاہم ہے؛ کیا اختیار ہی کو قول کے
(ہے نمبر بارہواں
۹
)
۔
(َّفاءصال یَلَع ہَُارد ْتَنَاک َو
۱۰
” )
تھا اوپر کے صفا ِہکو مکان کا ان میں مکہ
“
۔
مکان یہ ہے۔ حاصل اہمیت بڑی میں تاریخاسالمی کو مکان اس والے کرنے حاصل شہرت سے نام کے ارقم ِ
دار
”
االسالمُدار
“
(ہے تا جا کیا یاد بھی سے لقب متبرک کے
۱۱
)
۔
پ مسلمانوں کمزور نےانھوں تو سکے روک نہ بھی طرح کسی کو ٴ
پھیالو کے اسالم جب مکہ ِمشرکین
ٴ
عرصہ ر
ِ
ذکر ،روکتے سے کرنے ادا نماز آزادانہ میں ہللا بیت کو مسلمانوں اور وسلم علیہ ہللا صلی ہللارسول کردیا۔ تنگ حیات
اس حاالت تھا۔ ہوتا گستاخانہ انتہائی رویہ کا ان اکثر اور کرتے درازی دست ہوتے۔ انداز خلل میں قرآن ِتالوت اور ہیٰال
مس کہ تھے ہوچکے نازک قدر
اور عبادت پر طور آزادانہ اور محفوظ میں تک گھاٹیوں اور گوشوں لیے کے لمانوں
تھا۔ نہ ممکن کرنا ادا کا نماز
”
اور لیا دیکھ انھیں نے گروہ ایک کے مشرکین کہ تھے رہے پڑھ نماز میں گھاٹی کی مکہ مسلمان دفعہ ایک
لڑ بڑھتے بڑھتے بات کیا۔ شروع کہنا سست سخت کو ان
وقاص ابی بن سعد حضرت اور گئی پہنچ تک ائی
ایک نے
بہایا میں بارے کے اسالم جو تھا خون پہال یہ گیا۔ پھٹ سر کا اس سے جس ماری کھینچ ہڈی کی اونٹ کو شخص
گیا
(“
۱۲
)
۔
کر لے کو مسلمانوں وسلم علیہ ہللاصلی ہللارسول میں جن تھے حاالت سنگین وہ یہ
”
دارارقم
“
میں
گزیں پناہ
ہی جلد چنانچہ جھکاسکیں؛ کو نیاز ِجبین اپنی حضور کے رب اپنے سے انہماک پورے مسلمان تاکہ ہوگئے؛
”
دار
ارقم
“
کی ان بلکہ تھا؛ جاتا کیا داخل میں اسالم دائرہ کو لوگوں صرف نہ پر جہاں ،گیا بن مرکز کا سرگرمیوں دعوتی
کی بھی نفس ٴ
تزکیہ اور تربیت و تعلیم مناسب
:ہیں طراز رقم ہوئے کرتے تائید کی اس میں اسدالغابہ سعد تھا۔ابن جاتا ا
”
دیتے دعوت کی اسالم کو لوگوں ،تھے رہتے میں مکان اس میں اسالم ابتدائے وسلم علیہ ہللاصلی ہللارسول
ہوئے اسالم بہ مشرف یہاں لوگ سے بہت اور تھے
(“
۱۳
)
۔
مکی بھی نے طبری صاحب
قرار مرکز کا سرگرمیوں تربیتی اور تعلیمی،دعوتی کو دارارقم میں نبوت ِعہد
ارقم حضرت چنانچہ کیا؛ قبول اسالم نے لوگوں کثیر پر جہاں ،دیاہے
:ہیں لکھتے ہوئے کرتے ذکر کا
ہللا صلی ُّیِبَّنال ََانک يِتَّال ُارَّدال َيِہَو ،اَفَّصال یَلَع ہَُارد ْتَنَاک َو
َ
اسَّنال َاعَد اَہْیِف َو ِمَالْسِاال ِل َّأو ْیِف اَہْیِف ُنْوُکَی وسلم علیہ
(ٌْریِثَک ٌم ْوَق اَہْیِف َمَلْسأَف َِّالمسال َالی
۱۴
)
”
ارقم حضرت
رہا میں گھر اسی وسلم علیہ ہللا صلی ہللا رسول میں اسالم ِ
آغاز ،تھا واقع پر صفا ِہکو گھر کا
یہیں ،تھے کرتے
ِ
بگوش حلقہ لوگ سے بہت پر یہاں اور تھے کرتے دیا اسالم ِکودعوت لوگوں وسلم علیہ ہللا صلی آپ
ہوئے اسالم
“
- 7.
7
میں عہد مکیساتھ ساتھ کے ہونے مرکز تربیتی و تعلیمی دارارقم کہ ہے چلتا پتہ سے مطالعے کے تاریخ
تھا۔ کز مر بھی کا انصرام و انتظام دعوتی
”
ی
ارقم ابی بن ارقم ہ
سے قریش میں مکرمہ مکہ وسلم علیہ ہللا صلی ہللا رسول میں گھر کے جن ہیں وہی
یہ کا ارقم حضرت تھے۔ دیتے دعوت کی کرنے قبول اسالم ،قبل سے آنے سامنے کر کھل تھے۔ رہتے مقیم پوشیدہ
نے جماعت بڑی بہت پر یہاں چنانچہ تھا؛ واقع پر صفا ِہکو میں مکہ مکان
کیا قبول اسالم
(“
۱۵
)
۔
یہ کا اسالم ِدعوت لگا۔ ہونے ساتھ کے اطمینان قدرے کام کا تبلیغ و دعوت بعد کے بننے اسالم ِ
کومرکز دارارقم
نجات کی آخرت دنیاو اپنی میں تحریک نئی اس غالم اور غریب ،کس بے کے مکرمہ مکہ میں جس ہے مرحلہ وہ
تھ ہوتے داخل ہوئے کرتے تصور
ے۔
کرام ٴ
صحابہ یہاں بلکہ تھی؛ پناہ جائے کی اسالم ضعفائے صرف نہ دارارقم نیز
ساتھ کے تربیت و تعلیم کی
قابل سے خصوصیت دعا وہ میں تھا۔اس رہتا جاری وقت ہمہ سلسلہ کا ںٴ
دعاو اور ہللا ذکر ،عبادات پر طور اجتماعی
نے وسلم علیہ ہللا صلی ہللارسول جو ہے ذکر
خطاب بن عمر
کے ایک کسی سے میں ہشام بن عمرو )(ابوجہل اور
عمر حضرت دن ایک کہ ہے یہ تفصیل کی اس تھی۔ مانگی لیے کے اسالم ِقبول
علیہ ہللا صلی ہللا رسول )ہللا (معاذ
خطاب بنت فاطمہ بہن اپنی میں راستہ ہوئے۔ روانہ سے ارادے کے کرنے قتل کو وسلم
کی ٰطہ ٴ
ہسور گھر کے
تالوت
خطاب حضرت کر دیکھ اسالم بہ مائل کو ان ،گئی پلٹ ہی کایا توسنی
میں انداز کے خوشخبری انھیں نے االرت بن
:ہے سنا کرتے دعا یہ میں دارارقم کو وسلم علیہ ہللا صلی ہللا رسول نے میں کہ بتایا
َامشِہ ِْنب َِمکَحْال أبيِب َمَالْساال ِِّدِیأ َّمُہّٰللَا
(ِباَّطَخْال ِْنبَ رَُمعِب ْأو
۱۶
)
”
خطاب بن عمر یا ہشام بن ابوالحکم ! ہللا اے
فرما تائید کی اسالم سے
“
عمر حضرت ؛چنانچہ
سے یہاں
کرلیا۔ قبول اسالم اور پہنچے دارااقم سیدھے
ٰ
دارالشوری بحیثیت دارارقم
دارارقم
”
داراالسالم
“
ساتھ ساتھ کے ہونے
لیے کے مسلمان
”
ٰ
دارالشوری
“
ِہجرت دوسری اور تھا۔پہلی بھی
پائے۔ انجام سے ہی مشاورت باہمی جگہ اسی بھی معامالت اہم جیسے حبشہ
”
کرام ٴ
صحابہ نے وسلم علیہ ہللا صلی ہللا رسول
تو ٴ
جاو نکل طرف کی حبشہ زمین سر تم اگر !فرمایا سے
یہ کے جس ،ہے بادشاہ ایک وہاں
تمہیں ٰ
تعالی ہللا کہ حتی ،ہے زمین سر کی سچائی وہ جاتا۔ کیا نہیں ظلم پر کسی اں
ہو گرفتار تم میں جس دالدے نجات سے مشکل اس
(“
۱۷
)
کرام ٴ
صحابہ خطاب یہ کہ ہے ہوتا ظاہر تو جائے کیا غور پر الفاظ ان
جو ہوگا ہی سے اجتماع کسی کے
ہوگا پذیر انعقاد میں دارارقم
باہمی اور ہوئے جمع صحابہ کے وسلم علیہ ہللا صلی ہللا رسول روز ایک طرح اسی ۔
ایسا کوئی ذا ٰلہ ،سنا نہیں کبھی ہوئے پڑھتے سے آواز بلند سامنے اپنے کو قرآن نے قریش کہ کیا طے سے مشاورت
عبدہللا حضرت چنانچہ دے؛ انجام فریضہ یہ جو ہو شخص
قبول داری ذمہ یہ نےمسعود بن
کی ان کو قریش اور کی
(دی دعوت طرف کی قرآن جاکر میں مجلس
۱۸
)
۔
کرام ٴ
صحابہ کہ ہے جاسکتا کہا نہیں پر طور یقینی یہ البتہ
تاہم ہوئی؟ منعقد پر کہاں مشاورت مجلس یہ کی
عالوہ کے اس ہوگی؛کیونکہ ہوئی قائم میں ہی دارارقم مشاورت ِ
مجلس یہ کہ ہے یہی گمان غالب
اجتماع کا صحابہ
تھا۔ مشکل پر جگہ اور کسی
طرح جس
”
الفیل عام
“
اور
”
الفضول حلف
“
کے تاریخ معاصر اپنی مکہ ِاہل سے حوالے کے واقعات جیسے ،
اندراج اور تذکرہ کا واقعات کے اسالم ِتاریخ و سیرت میں نبوت مکی بھی مورخین مسلمان ،تھے کرتے تعین کا واقعات
محمد بھی
نے االثیر ابن مثالمورخ ہیں۔ کرتے سے حوالے کے ہونے فروکش میں دارارقم کے وسلم علیہ ہللا صلی
عامر ،ربیعہ بن مسعود
معمر ،فہیرہ بن
لوگ یہ کہ ہے کی وضاحت میں ) (تذکروں تراجم کے وغیرہ حارث بن
ہو مسلمان قبل سے ہونے منتقل میں داررقم کے وسلم علیہ ہللا صلی ہللا رسول
معصب طرح اسی تھے۔ چکے
بن
صہیب ،عمیر
طلیب ،سنان بن
،یاسر بن عمار ،عمیر بن
فاروق عمر
نے االثیر ابن میں تذکروں کے وغیرہ
(تھے ہوئے ماالمال سے دولت کی اسالم جاکر میں دارارقم لوگ یہ کہ ہے کی تصریح
۱۹
)
۔
ق کے اسالم سابقین و اولین سے میں مکہ ِمہاجرین
وہ کہ ہے کیا تقسیم میں مرحلوں کودو حق ِدین بول
نے سعد ابن ہوئے۔ اسالم بگوش حلقہ بعد کے بنانے مرکز کا دین ِدعوت کو دارارقم جو تھے کون کون حضرات
کرام ٴ
صحابہ ذیل مندرجہ
وسلم علیہ ہللا صلی ہللا رسول وہ کہ ہے کی ذکر سے خصوصیت بات یہ میں تذکروں کے
می دارارقم کے
:تھے کرچکے قبول اسالم قبل سے فرماہونے تشریف ں
- 8.
8
خدیجہ حضرت
ابوبکر ،
غنیعثمان ،
المرتضی علی ،
زید ،
عبیدہ ،حارثہ بن
،حارث بن
ابوحذیفہ
عبدہللا ،عتبہ بن
عبدالرحمن ،حجش بن
عبدہللا ،عوف بن
خباب ،مسعود بن
مسعود ،االرت بن
بن
واقد ،ربیع
عبدہللا بن
عامر ،
ابوسلمہ ،فہیرہ بن
سعید ،اسد بن
عامر ،زید بن
خنیس ،ربیعہ بن
،حذافہ بن
عبدہللا
عمرو۔ بن حاطب اور مظعون بن
ہللا رسول آکر اندر کے دارارقم جو ہے سمجھی ضروری نشاندہی بھی کی بزرگوں ان نے سعد ابن طرح اسی
م پر مبارک ِدست کے وسلم علیہ ہللا صلی
کرام ٴ
صحابہ ان ہوئے۔ اسالم بہ شرف
صہیب حضرت میں
بن عمار ،
یاسر
معصب،
خطاب بن عمر،عمیر بن
عاقل ،
ایاس ،بکر ابی بن
شامل بکر ابی بن خالد اور بکر ابی بن
(ہیں
۲۰
)
۔
مدت کی قیام میں دارارقم
ظا حقیقت یہ سے ترتیب طرز اس کہ چلتاہے پتہ سے مطالعہ کے تاریخ
دارارقم نزدیک کے ان کہ ہے ہوتی ہر
کی دنیا نے جس ہے تغیر نقطئہ ایسا ایک واقعہ کا بنانے محور و مرکز کا سرگرمیوں تبلیغی و دعوتی کی حق دین کو
کام کا گاہ تربیت مثال بے اور گاہ پناہ محفوظ ایک میں کرنے عطا رخ نیا ایک کو تحریک اسالمی انقالبی اور مثال بے
با اس دیا۔
فاروق عمر حضرت وسلم علیہ ہللا صلی ہللارسول کہ ہے اتفاق کا اورمحققین مورخین تمام پر ت
قبول کے
عمر حضرت مطابق کے روایات بعض جبکہ رہے؛ مقیم ہی میں دارارقم تک اسالم
میں سال چھٹے کے نبوت نے
ہللا رسول کہ ہے اختالف میں بارے اس کا مورخین البتہ تھا؛ کیا قبول اسالم
کب میں دارارقم وسلم علیہ ہللا صلی
قیام میں دارارقم نے مورخین بعض چہ اگر رہا۔ دیتا کام کا گاہ پناہ کی مسلمانوں دارارقم عرصہ کتنا اور ہوئےفروکش
(ہیں کیے نقل بھی اقوال کے ماہ ایک اور ماہ چھ سے حوالے کے مدت کی
۲۱
)
۔
ل جائزہ تفصیلی کا ماخذ اگر لیکن
کا وسلم علیہ ہللا صلی ہللا رسول میں دارارقم کہ ہے ہوتا معلوم تو جائے یا
ہللا صلی ہللا رسول کہ نہیں ممکن بھی بتانا یہ اور ہے مشکل تو تعین کا مدت اس چہ اگر ہے۔ رہا تک مدت کافی قیام
سے اشارات نامکمل بعض کے مورخین تاہم ہوئے؛ گزین پناہ میں دارارقم کب وسلم علیہ
اندازہ کا مدت اس ہم
عمر حضرت نے االثیر ابن ًالمث ،ہیں کرسکتے
:ہے لکھا ہوئے کرتے تذکرہ کا واقعہ کے اسالم ِقبول کے
”
بن عمر
مسلمان ۔ تھا کا کرنے قتل کو وسلم علیہ ہللا صلی ہللارسول )ہللا (معاذ ارادہ کا ان نکلے۔ سے گھر لٹکائے تلوار خطاب
وس علیہ ہللا صلی آپ بھی
ہللا حضرتصلی آں وقت اس تھا۔ پاس کے صفا ِہکو جو تھے۔ جمع میں دارارقم ساتھ کے لم
لیے کے حبشہ ہجرت جو تھے گزین پناہ وہاں ساتھ کے زن و مرد چالیس ًاتقریب سے میں مسلمانوں ان وسلم علیہ
(تھے نکلے نہیں
۲۲
)
۔
:ہے ہوتا واضح سے قول اس کے االثیر ابن
(
۱
)
عمر حضرت
ہجرت پہلی کہ ہے کی تصریح نے قیم ابن جبکہ کیا قبول اسالم بعد کے حبشہ ِہجرت نے
رجب ہ ما حبشہ
۵
(آئی پیش میں نبوی
۲۳
)
۔
(
۲
)
کرسکے نہ ہجرت طرف کی حبشہ سے وجہ کسی جو تھے ہوئے گزین پناہ مسلمان وہ صرف میں دارارقم
مسلم ماندہ باقی ان ذا ٰلہ تھے۔
کل کی والوں کرنے قبول اسالم تک وقت اس کہ نہ ،تھی چالیس تقریبا تعداد کی انوں
تھی۔ چالیس ہی تعداد
حضرت اگر سے لحاظ اس تھا۔ ہوا سے مشاورت باہمی میں ہی دارارقم فیصلہ کا حبشہ ہجرت دوسری اور پہلی
عمر
شم کو عرصہ درمیانی کے حبشہ ِہجرت اور اسالم ِقبول کے
بنتا ہی زائد سے سال ایک بھی وہ تو جائے کیا ار
گزیں پناہ میں دارارقم پہلے کافی سے حبشہ ِہجرت وسلم علیہ ہللا صلی ہللا رسول کہ ہے بات یقینی یہ جبکہ ہے؛
وسلم علیہ ہللا صلی ہللا رسول ہی میں سالوں دو ایک ابتدائی کہ ہے ہوتا معلوم سے روایات بعض تھے۔ ہوچکے
دارارقم
عمار حضرت االثیر ابن !مثال تھے۔ ہوگئے مقیم میں
:ہیں کرتے نقل بیان یہ کا یاسر بن
”
ہللا رسول نے میں
،غالم پانچ صرف ساتھ کے وسلم علیہ ہللا صلی آپ تو دیکھا )بعد کے النے اسالم (اپنے کو وسلم علیہ ہللا صلی
تھے صدیق ابوبکر اور عورتیں
(“
۲۴
)
حضرت کہ ہے بیان کا مجاہد ۔
عمار
کرنے قبول اسالم میں ابتدا یاسر بن
(تھے سے میں آدمیوں سات والے
۲۵
)
تھے سے میں لوگوں ان وہ کہ ہے اتفاق کا مورخین تمام پر بات اس جبکہ ؛
(کیا قبول اسالم جاکر میں دارارقم نے جنہوں
۲۶
)
اسالم ابتدائے کا وسلم علیہ ہللا صلی ہللا رسول تو میں صورت اس ۔
دارا میں ہی
ہے۔ ہوتا ثابت ہونا پذیر قیام میں رقم
حمزہ حضرت طرح اسی
ِاعالن کہ ہے کہا نے بعض ،ہیںاقوال مختلف میں بارے اس کیا؟ قبول اسالم کب نے
آپ کہ ہے یہ تحقیق کی محققین لیکن سال۔ چھٹے کے نبوت ِاعالن نے بعض اور سال پانچویں کے نبوت
نبوت اعالن
م سال دوسرے کے
حجر ابن عالمہ چنانچہ ہوئے؛ اسالم بہ شرف
:ہیں فرماتے تحریر
- 9.
9
ہَعَم َرَاجَہَو وسلمعلیہ ہللا صلی ّٰاّٰلل ِرسول َْرصَن َم َزَالَو ِةَثْعِبْال َنِم ِةَیِناَّالث ِةَنَّسال یِف َمَلْسأ َو
(
۲۷
)
”
آپ
ہللارسول ہمیشہ اور الئے ایمان سال دوسرے کے بعثت
آپ اور رہے کرتے مدد کی وسلم علیہ ہللا صلی
کی ہجرت ہی ساتھ کے وسلم علیہ ہللا صلی
“
(ِثَعْبَمْال َنِم ِةَیِناَّالث ِةَنَّسال یِف َمَلْسأ
۲۸
” )
الئے ایمان سال دوسرے کے بعثت آپ
“
عمر حضرت
حضرت نے
حمزہ
او کیا قبول اسالم بعد دن تین صرف کے ہونے مسلمان کے
ہے گئی کی بیان بھی رائے یہ کی محققین علماء ر
حمزہ حضرت مطابق کے قول صحیح کہ
واضح بات یہ سے اس ہوئے۔ اسالم بہ مشرف سال دوسرے کے نبوت
کے وسلم علیہ ہللا صلی ہللا رسول بعد دن تین کے حمزہ حضرت سال دوسرے کے نبوت نے عمر حضرت کہ ہوگئی
بیعت کی اسالم پر مبارک ِدست
ہے رائے یہ کی علماء اکثر کہ ہے ہوتی بھی سے بات اس تائید مزید کی قول اس کی۔
آپ کہ
آپ تھے۔ ہوچکے مسلمان مرد انتالیس پہلے سے
حضرت ہوا۔ پورا عدد کا چالیس سے ہونے مسلمان کے
:ہے بیان کا عمر
”
ان صرف ساتھ کے وسلم علیہ ہللا صلی ہللارسول کہ دیکھا نے میں
نے میں اور ہیں الچکے اسالم آدمی تالیس
کیا مکمل عدد کا چالیس الکر ایمان
(“
۲۹
)
۔
حمزہ حضرت کہ جائے کیا اعتبار کا قول اس کے محققین اگر کہ ہے یہ بحث ِحاصل
عمر اور
نبوت نے
ہللا رسول کہ ہے ہوجاتی واضح مزید حقیقت یہ تو تھا کرلیا قبول اسالم ہی سال دوسرے کے
دارارقم میں ہی ابتدا بہت
حضرات دونوں ان کہ ہے اتفاق کا مورخین تمام پر بات اس کیونکہ تھے؛ چکے بنا مرکز کا سرگرمیوں دعوتی اپنی کو
تھا۔ کیا قبول اسالم جاکر ہی میں دارارقم نے
خالصہ
ب حقیقت یہ سے تصریحات باال مذکورہ کی نگاروں سیرت اور اسالم ِمورخین
:کہ ہے ہوجاتی واضح الکل
$
ہدایت فیض آیا یہاں جو اور تھے دیتے اسالم ِدعوت کو حق ِطالبان والے نے یہانآ وسلم علیہ ہللاصلی ہللارسول
نکال۔ ہی پاکر
$
اور مقہور و مجبور اور ہوئے ستائے ،نادار بالخصوص ،تھا مرکز کا قلب ِاطمینان لیے کے مسلمانوں دارارقم
تھے۔ لیتے پناہ کر یہانآ غالم
$
جاں اپنے وسلم علیہ ہللا صلی ہللا رسول تھا۔ پاتا انجام مسلسل بھی فریضہ کا تذکیر و وعظ اور ہللا ذکر پر یہاں
خباب حضرت تھے۔ فرماتے بھی دعائیں اجتماعی ساتھ کے نثاروں
کہ ہے ہوتا واضح بھی یہ تو سے بیان کے
یہاں انسانیت ِمحسن
تھے۔ فرماتے التجا حضور کے ٰ
تعالی ہللا لیے کے ہدایت کی خدا بندگان بھی کو راتوں
$
خود اور تھے بنتے منصوبے آئندہ کے تبلیغ ،تھا جاتا لیا جائزہ کا کارکردگی کی اسالم ِمبلغین میں مکان اس
یافتہ تربیت کے دارارقم تھا۔ پاتا انجام بھی کام کٹھن کا تربیت کی مبلغین
ابوبکر حضرت سے میں مینِّمعل
خباب،
بن
مسعود بن عبدہللا ،االرت
مصعب اور
ہیں۔ ذکر ِقابل پر طور خاص عمیر بن
$
لیے کے مسلمانوں دارارقم
”
داراالسالم
“
ساتھ ساتھ کے ہونے
”
ٰ
دارالشوری
“
باہمی میں جس ،تھا بھی
حب ِہجرت تھے۔ بنتےمنصوبے کے تبلیغآئندہ سے مشاورت
اور ،ہوا طے پر یہیں سے مشورہ باہمی بھی فیصلہ کا شہ
تھا۔ حاصل کو دارالندوہ ہاں کے قریش جو تھا حاصل مقام وہی میں اسالم ِتاریخ کو جگہ اس
$
،الفضول حلف بھی یہ اور تھا مرحلہ ساز تاریخ ایک ہونا گزین پناہ کا وسلم علیہ ہللا صلی ہللارسول میں دارارقم
الفج حرب
،تھے کرتے سے واقعات ان تعین کا تاریخ معاصر اپنی مکہ کفار طرح جس تھا واقعہ جیسا الفیل عام اور ار
ہللا صلی ہللا رسول میں دارارقم تعین کا واقعات والے آنے پیش میں نبوت عہد مکی بھی مورخین مسلمان طرح اسی
ہیں کرتے سے حوالے کے بعد اور قبل سے ہونے داخل کے وسلم علیہ
۔
$
ارقم حضرت
ہی میں شروع نے انھوں اور تھے ہوگئے سرفراز سے دولت کی اسالم جو سے میں لوگوں ان
نشرواشاعت کی اسالم میں دور تھا۔جومکی کردیا وقف لیے کے سرگرمیوں دعوتی اور تربیتی ، تعلیمی کو ن مکا اپنے
پایا۔ قرار مرکز ترین اہم کا
$
بی مختلف کے مورخین
کے وسلم علیہ ہللا صلی ہللا رسول میں دارارقم کہ ہے جاسکتا کہا میں روشنی کی انات
تھی۔ زائد حال بہر سے سال ایک مدت کی قیام
$
اندرونی کی دارارقم تھے؛تاہم واقف طرح پوری سے ہونے گزیں پناہ میں دارارقم کے مسلمانوں مکہ کفار
قط وہ سے بندیوں منصوبہ اور سرگرمیوں
تھے۔ عاناواقف
$
کرام ٴ
صحابہ میں طالب ابی شعب
دور اس کے محصوری ہے۔ ملتا اشارہ پر طور واضح بھی کا موجودگی کی
کرام ٴ
صحابہ نے وسلم علیہ ہللا صلی ہللا رسول میں طالب ابی شعب یقینا ،ہوئی نازل وحی قدر جس میں
کی اس کو
- 10.
10
کرام ٴ
صحابہ یہاںاور ہوگی دی تعلیم
بھی
کو طالب ابی ِبشع سے لحاظ اس گے۔ ہوں کرتے خیال ٴ
تبادلہ پر امور دینی
ٴ
صحابہ اور وسلم علیہ ہللا صلی ہللا رسول جہاں ،ہے جاسکتا دیا قرار مرکز دعوتی ایک کا نبوت ِعہد مکی بھی
کرام
رہے۔ مشغول میں تبلیغ و دعوت اور تعلم و تعلیم تک سال تین
$
کہ ہے یہ بات اخری
حاصل سبق سے سوہُا کے وسلم علیہ ہللا حضورصلی میں زمانے موجودہ ہمیں
مصلحت اور حکمت بڑی کو مساعی دعوتی اور اشاعت و نشر کی اسالم میں دور مکی ،میں باال ِ
سطور ،کرناچاہیے
ہے۔ نمونہ لیے کے انسانیت تمام اسوہ کایہ آپ کیاہے پیش سے
ANS 03
ہیں فرماتے وسلم وآلہ علیہ ّٰاّٰلل صلی اسالم پیغمبر:
” این من و مطعمہ این من فیعلم ․
ہشریک الشریک محاسبة من اشد نفسہ یحاسب حتی المتقین من الرجل الیکون اباذر؛ یا
حرام من ام ذلک حل امن ملبسہ؟ این من و “مشربہ
” تر سخت سے کرنے محاسبہ کا شریک اپنے وہ کہ تک جب ہوتا شمارنہیں میں گاروں پرہیز تک تب انسان !ابوذر اے
کہاں لباس کا رپہننے او چیزوں کی پینے ، خوراک کی اس لے جان تاکہ ۔ دے نہ قرار میں منزل کی محاسبہ کو خود
ہے سے حرام یا ہے سے حالل ،ہے یآا ․سے “
اور ہیں کرتے شمار میں صفات جملہ کی متقین کو خصوصیات کی کتاب و حساب وسلم وآلہ علیہ ہللا صلی اسالم پیغمبر
کو ک خورا کسی اگر ۔ دے قرار محاسبہ تحت کو آپ اپنے اور ہو نہ ہ جوالپروا ہےوہ باتقوی :ہیں فرماتے
کہ لےدیکھ تو ہے ہوا فراہم لباس اگر ،سے راہ یاحرام ہے کیا حاصل سے راہ حالل اسے کہ لےدیکھ تو حاصلکیاہے
اسی ہیں۔ ہوئے فراہم سے کہاں پیسے کے اس کہ میں بارے کے گھر طرح اسی ۔ ہے الیا سے کہاں پیسے کے اس وہ
لئے کے خاندان ،سکے دے انجام پر طور بہتربندگی و عبادت کی خدا کہ ہے یہ محرک کا بنانےگھر کی اس طرح
بنانے گھر کا اس یا سکے کر تربیت کی فرزندوں اپنے اور سکے کر عبادت بہتر اور کرے فراہم آسائش و آرام بیشتر
دکھاناہے۔ نیچاکو دوسروں کرنااور مباہات و فخر پردوسروں محرک کا
کام کوئی تر واجب سے اس اور ہےراضی پر اس خدا دیکھناچاہئے ،کرناچاہتاہے خرچ پیسے میں راہکسی ہ و جب
ہو نہ ایسا اور کرے پڑتال کی جوانب تمام صورت بہر ہوں؟ کرناضروری خرچ پیسے یہ لئے کے جس کہ ہے نہیں تو
کہ لے دیکھ ۔ کرے خرچ چاہے پر کام جس کرکے جمع پیسے ہو ممکن بھی سے راہ جس اور کرکے نیجے کو سر کہ
حاصل سے طریقے حرام اگر ۔ سے حرام یا ہیں ہوئے حاصل سے راہ حالل وہ ہیں ہوئےحاصل اسے امکانات جو
ڈالے نہ میں مصیبت کو رخود او دے پلٹا واپس پر کیجگہ اس اسے تو ہیں ․ہوئے
سے اس کہ کرتاہے گرفتار میں امور دنیوی کو آپ اپنے اور ہے ملوثہوتا میں داری دنیا قدر اس انسان اوقات بعض
کو آبرو اپنی اور پھنساتاہے میں قسطوں کی لون اور قرضوں بڑے بڑے کو آپ اپنے ۔ ہے ہوجاتا ناممکن پانا چھٹکارا
کا نجات طرحسے س اورا ہے کرتا گرفتار میں مسائل اپنے بھیکو دوسروں طرح کسی نہ کسی حتی ،لگاتاہے پر داؤ
حالل ،ہوبھی سے طریقہ جس، آئیں ہاتھ کے اس پیسے کچھ کہ ہوتاہے میں فکر اس صرف ،جاتا رہ نہیں راستہکوئی
)ہو جیسا ہو پیسہ یعنی (!حرام یا
حدودکی کے حرام کم از توکم ،کریں پرہیز سے مکروہ و مشتبہ کہ ، ہیں پہنچے پرنہیں مرحلہ بلند کے تقوی ہم اگر
بعض میں زندگی اپنی کو مومن ہر ۔ ہے حق کا اور کسی وہ آیاہے ہاتھ ہمارے مال جو کہ ہو ایسانہ !کریں رعایت
احکام سےشرعی طرح ایک تاجرکو ایک ۔ بڑھناچاہئے نہیں آگے سے اس اور چاہئے کرنی رعایت کی حدود و قوانین
- 11.
11
وہ جو کہچاہئے دیکھنا اسے اور چاہئے کرنی رعایت کی ان سے انداز دوسرے کو مالزم چاہئے کرنی رعایت کی
اور ،پینے سیگریٹ ،آرام تفریح وقت کے کام کرتاہے؟ کام کم یا کرتاہے کام وہ ساری کے اس کیا ،ہے لیتاتنخواہ
لیکن ،ہیں پڑھتے نافلہ ، عبادت اہل و مومن بعض دیتاہے؟ انجام کام یا ہے گزارتا وقت میں کرنے گفتگو سے دوسروں
رتصور او ہیں جاتے بھول کو فریضہ اپنے کر ڈال پشت پس کو چیزوں تمام تو ہیں بیٹھتے پرکرسی کی کام اپنے جب
۔ ہے دیا دے انجام کو اپنےفریضہ نےانھوں گویا ہی جانا بیٹھ پرکرسی اس کہ ہیں کرتے
میں وقت اس اسے ہے حق کا مالک کے اس وقت کا ڈیوٹی لئے کے مالزم کے کمپنی پرائیویٹکسی یا مالزم سرکاری
کام ٹیلیفون وہ اور کرے ٹیلیفون لئے کے کام ذاتی کبھی اگر حتی ،ہوناجاہئے نہیںمشغول امورمیں ذاتی اپنے کسی
بیت طرح اسی ہیں۔ رکھتے نہیں توجہ طرف کی نکات ان ہم ، ہےدہ مینجواب مقابل کے اس وہ تو ،بنے رکاوٹ میں
ایک کہ ہے پیمانکیاعہدو نے ہم اگر بناپر اس ،چاہئے ہونا میں راہکی مصلحت ہی کی المال بیت، استفادہ سے المال
،کرناچاہئے نہیں صرف میں کام دوسرے کسی کو وقت اس تو ،دیں انجام کام خاص ایک میں وقت )(معینمشخص
وقت اس توہمیں ،ہے کیا پیمان عہدو لئے کے دینے انجام پر اجرت کو کام ایک میں زمانہ خاص ایک نے ہم اگر حتی
ہو۔ رکھی شرط سے مالک ہی سے پہلے کہ یہ مگر ہے نہیں حق کا پڑھنے نماز میں
ایسے سے بختی خوش ۔ ہےدشوار کرنا رعایتکی حدود و شرائط کے اس ر او حالل و حرام میں بارے کے المال بیت
جاتے لئے کے تبلیغ کی دین ہم جب :ہیںروبرو سے مسائل دوسرے ہم لیکن ،ہیں آتے پیش کم بہت لئے ہمارے مسائل
کہ دیں نہ انجام کام ایسا کہ چاہئے کرنی کوشش ہمیں ، جانیں کو راہوں کی تبلیغ کہ چاہئے کرنی کوشش ہمیں ہیں
نہ میں فکر کی کرنے نمایان کو آپ اپنے اور کریں نہ احترامی بےکی دوسروں اور آئے آنچ پردوسروں سے جس
گیا لئے کے تبلیغشخص اور کوئی پہلے سے ہم پر جہاں جائیں پر جگہ ایسی ایک لئے کے تبلیغ ہے ممکن ہوں۔
مجلسیں اچھی شخص فالں کہ کریں تعریفیں کی اس سامنے ہمارے اور ہوں خوش اور مطمئن سے اس ہولوگ
تعریف کی شخص اس ہم ہے ممکن پر یہاں ۔ تھے کرتے استقبال کا اس لوگ اور تھی چھی-ا تقریر کی اس ،پڑھتاتھا
مجھ علم کا شخص اس کرینکہ کوشش کی سمجھانے یہ کو لوگوں میں باتوں باتوں حتی میں ں اشارو لیکن ،کریں تو
وہ پہلے سال چند ہیں کہتے طرح اس ہم مثال !کریں دعوت ہی مجھے پھر میں برسوں والے بعد کہ تا ہے کم سے
کو پڑھائی اور ہوگیامشغول میں کاموں دفتری یاچھوڑدی پڑھائی نے اس بعد کے مدت ایک تھا درس ہم میرا شخص
رہا پیچھے وہ اور بڑھے آگے میں علم ہم یعنی ،سکا رکھ نہ !جاری
ذاتی اپنے یا لئے کے دکھالنے پستکو شخصیت کی دوسروں اور لئے کے کرنے تضعیف اور تردیدکی دوسروں
سے میں ان کہ ہے لیتا کام سے ربہانوں او حیلوں کے طرح مختلف شیطان ، لئے کے پہنچنے تک مقاصد و منافع
ہے ممکن ہے سکتا جان نہیں کو برائی اور قباحت کی ان ایک ہر اور ہیں ہوتے حامل کے ظرافت کی قسم خاص بعض
دیں۔ دکھائی زیبا اور رونق پرکافی میں ظاہر
ہیں فرماتے ہوئے رکھتے کوجاری نصیحتوں اپنی سے ابوذر جناب )وسلم آله و علیه ہللا (صلی اسالم پیغمبر:
”النار ادخلہ این من عزوجل ّٰاّٰلل یبال لم المال اکتسب این من یبال لم من اباذر؛ “یا
” گا کرے پروانہیںکی اس بھی متعال خدائے ہے آتا سے کہاں مال کہ ہے رکھتا نہیں خیال کا اس بھی جو ابوذر؛ اے
۔ ڈالے میں جہنم سے کہاں اسے “کہ
کہ ہو ایسانہ ۔ کرتاہے حاصل سے کہاں پیسے کہ چاہئے دیکھنا اور چاہئے کرنی دقت میں کرنے حاصل مال کو انسان
- 12.
12
نہیں مہم یہلئے کے اس ہوں کئے حاصل پیسے کرکے خم سر سامنے کے ران او ترویج ،تملق ، ستائش کی لوگوں
تو کیا ایسا اگر ، نہیں یا رکھتاہے جواز شرعی م کا کا اس ،سے راستہ حرام یا ہیں ئےٓا سے راہ حالل پیسے کہ ہے
ہےحق کا ڈالنے میں جہنم اور جالنے میں آگ کی قہر اپنے اسے کو متعال ․خدائے
”عزوجل ّٰاّٰلل فلیتق الناس اکرم یکون ان ہ ِّسر من اباذر؛ “یا
” اختیار ہیٰال تقوائے اسے چاہے دیکھنا پر طور کے شخص ترین محترم کو آپ اپنے میں لوگوں بھی جو !ابوذر اے
چاہئے ․کرنا “
”خوفا لہاشدکم ّٰاّٰلل عذاب من انجاکم و لہ اتقاکم ّٰاّٰلل عند اکرمکم و لہ ذکرا اکثرکم ثناؤہ جل ّٰاّٰلل الی احبکم ِّان !اباذر “یا
” سے میں رتم او ہو میں یادکی اس بیشتر جو ہے وہ محبوب زیادہ سے سب نزدیک کے خدا سے میں تم ابوذر؛ اے
جو ہے شخص وہ دورترین سے عذاب کے خدا اور ہو گار پرہیز زیادہ سے سب جو ہے وہ ترین عزیز نزدیک کے خدا
ڈرے زیادہ سے “اس
( ہو نہ خوف یہ تک جب اور ہے سے میں مقدمات کے تقوی خدا خوف کہ کیاہے اشارہ پہلے سے اس نے ہم کہ جیسا
ہوتاہے نہیں حاصل )تقوی
”الشبہة فی الدخول من خوفا منہ الیتقی الذی ء الشی من یتقون الذین المتقین ان:اباذر یا “
” کہ تا ،جاتاہے کیا نہیں پرہیز سے جن ہیں کرتے اجتناب بھی سے چیزوں ان جو ہیں لوگوہ گار پرہیز !ابوذر اے
ہوں۔ نہدوچار سے “شبہ
حرام قطعا جو ہیں کرتے اختیار دوری سے چیزوں ان صرف لوگ بعض اور ہیں مراتب کچھ کے تقوی کہ ہے گیا کہا
لوگ ربعض او ہیں کرتے پرہیزبھی سے چیزوں مشکوک حتی بڑھاکرقدم باالتر سے مرحلہ اس لوگ بعض اور ہیں
کہ تا ہیں کرتے پرہیز بھی سے اس ہے مباح وہ کہ ہیں جانتے میں بارے کے چیز جس کہ ہیں پہنچے پر مقام اس
بارے کے اطاعت کی خدا اور مرحلہ ترین عالی کے تقوی اسالم پیغمبر بعد کے ہوں۔اس نہ مبتال میں وں چیز مشکوک
ہیں فرماتے میں:
”للقرآن تالوتہ و وصیامہ صالتہ قلت ان و ّٰاّٰلل ذکر فقد عزوجل ّٰاّٰلل اطاع من :اباذر “یا
” او ہوں کم نماز و روزہ کے اس چہ اگر ہے کویادکیا اس نے اس کی اطاعت کی متعال خدائے نے جس ابوذر؛ اے
۔ ہے کی کم تالوتکی مجید “رقرآن
ٰ
تقویزہدو میں بیان وسلم)کے آله و علیه ہللا (صلی اسالم پیغمبر:
ہیں فرماتے میں بارے کے زہد آنحضرت بعد کے اس:
”الورع دینکم خیر و الناس اعبد تکن ورعا اباذر؛کم یا ․
ةالطاع راسہ و الورع الدین اصل اباذر؛ “یا
- 13.
13
” اے ۔ہے اطاعت کی خدا اصل کی راس او کرناہے اختیار دوری سے شبہات و گناہ اور جڑزہد کی دین !ابوذر اے
حصہ بہترین کا دین تمھارے اور جاؤ بن شخص ترین عابد میں لوگوں تم کہ تا بچانا سے گناہوں کو نفس اپنے !ابوذر
۔ ہے “پارسائی
یہ بعد کے اس ،ہے میں معنی کے کرنے اختیار دوری سے اس اور روکنے سے محرمات کو نفس ورع پر طور بنیادی
ہے قریب بہت کے سے مفہوم تقوی مفہوم کا اس اور ہواہےاستعمال میں معنی کے روکنے کو نفس پر طور مطلق لفظ
مقدمات کا تقوی اور ہیں کرتے استعمال میں )ہے حالت اندورنی ایک (جو ملکہ کے پرہیزگاری کو ورع غالبا لیکن ۔
ہوتاہے اطالق پر ملکہ داخلی نیز عمل اچھے خود ،․عمل
فرماتے میں بارے کے نقش کے ورع میں سلسلہ کے روکنے سے اورانحراف گناہ کو انسان السالم علیہ علی حضرت
ہیں:
”الورع من احسن معقل ال و التقوی من ِّاعز ِّعز ال و االسالم من اعلی “الشرف
” و ورع اور ہے نہیں احترام و عزتکوئی باالتر سے گاری پرہیز ،ہے نہیں بزرگی و عظمتکوئی باالتر سے اسالم
۱ “۔ ہے نہیں گاہ پناہ ترین مستحکم کوئی کر بڑھ سے )دروی سے رشبہات او (گناہ پارسائی
ہیں فرماتے السالم علیہصادق جعفر م اما حضرت:
”بالورع دینکم صونوا و ّٰاّٰلل “اتقوا
”۲ “کرو تحفظ کا دین اپنے سے پارسائی اور دو قرار پیشہ عمل الئحہ اپنا کو تقوی الہی
سے سب لئے کے بچنے سے ہونے غرق گرکر میں بھنور کے ہالکت اور پہنچنے تک درجات معنوی ربلند او سعادت
خدا محفوظرکھنا کو اپنے سے گناہوں اور ورع میں حقیقت ۔ ہے بچانا سے حرام کو آپ اپنے اور پارسائی ذریعہ بڑا
ہیں فرماتے السالم علیہ باقر امام لئے اس ۔ ہے مرحلہ ترین سخت کا عبادت کی اس اور بندگی کی:
”الورع العبادة اشد ان “
”۳ ‘“۔ ہے عبادت ترینمشکل ورع
ہیں فرماتے السالم علیہ علی حضرت المومنین امیر نظر پیش رول کے ورع میں سالمتی کی عبادت:
”۴ “فیہ الورع نسکفی الخیر ۔ ۔ ۔
”۔ ہے نہیں فائدہ کوئی کا اس ہو نہ ساتھ کے ورع عبادت“جو
ہیں فرماتے مزید وسلم وآلہ علیہ ہللا صلی اسالم پیغمبر نظر پیش کے ضرورت کی ورع ساتھ کے عبادت:
- 14.
14
” ما کاالوتارتکونواحتی صمتم و کالحنایا تکونوا حتی صلیتم لو انکم اعلم و العبادة فضل من خیر العلم فضل !اباذر یا
بورع اال “ینفعکم
” خم مانند کے ن کما پڑھوکہ نماز قدر اس اگر لو جان اور ہے زیادہ سے فضیلت کی عبادت فضیلت کی علم !ابوذر اے
۔ ہے نہیں فائدہ کوئی تو ہو نہ ورع اگر ہوجاؤ پتلے دبلے مانند کے تیررکھوکہ روزہ قدر اس اور “ہوجاؤ
ہیں فرماتے مزید:
”حقا ّٰاّٰلل اولیا ہم الدنیا فی الزہد و الورع اہل باذر؛ “یا
”ہیں۔ الہی اولیائے وہ میں حقیقت ہیں زہد و ورع اہل میں دنیا “جو
” یعنی ۔ ہے میں معنی کے رغبتی بی میں مقابلہ کے رغبت و میل ،دلچسبی سے دنیا میں لغت “”زھادہ اور “ زہد
کرے قناعت پر زندگیسادہ صرف اور رکھے نہ رشغف او رغبت سے دنیا ․انسان
سادگی ،لئے کے نبھانے میں صورت بہتر کو داریوں ذمہ اپنی کہ ہے یہ ،زہد مطلوب میں اسالم کہ ہے یہ بات ذکر قابل
۔ دکھائے اعتنائی بے نسبت کی زندگی ظاہری والی وبرق زرق اور دے قرار شیوہ اپنا کو پرہیز سے گرائی رتجمل او
اجتماعی اور تضادموجود میں آخرت و دنیا ، جاننے ناپاککو مظاہر کے اس اور دنیا طریقہ کایہ رفتار کہ ہے بدیہی
و اور دینے مینانجام صورت بہترکو داریوں ذمہ زہد میں اسالم بلکہ ،ہے نہیں سے وجہ کی فرار سے داریوں ذمہ
کنٹرول کو ذہنیت کی خواہی زیادہ کی انسان زہد ہے لئے کے بچانے سے کششوں ظاہری کی زندگی کو میالنات افراطی
ہیں کہتے حافظ چنانچہ ۔ ہے کردیتا ختم کو فروشی خود میں مقابلہ کے حالت ظاہری کی زندگی کی دنیا اور کرتاہے:
کبود چرخ زیر کہ آنم ہمت غالم
آزاداست پذیرد تعلق رنگ چہ ہر ز
۔ ہے نہیں محتاج کا کسی عالوہ کے متعال خدائے نیچے کے آسمان اس جو ہوں غالم کا کا ارادے و شخص اس میں
کو مظاہر کے زندگی جو ہےوہ زاہد میں حقیقت اور ہے رکھتا نہیں منافات سے اقتدار و مال ،زہد میں اسالم پر بنا اس
کو رآخرت او ہے تا کر نہیں قربان پر مقاصد دنیوی کو مقاصد الہی اور ہے رکھتا نہیںدوست زیادہ حقسے اور خدا
۔ ہے جانتا سے عنوان کے مقدمہ اور وسیلہ ، فروع کو دنیا کر دے قرار بنیاد
واضح فرق ہے)سے رائج میں پیرؤں کے مذہب ربدھ او عیسائیوں (جو رہبانیت کا زہد نظر پیش کے مطالب مذکورہ
اسالم فکر کی قسم اس اور ہے میں معنی کے فرار سے اجتماع اور داریوں ذمہ ،دنیا ترک رہبانیت کیونکہ،ہوجاتاہے
غیرہ و ریاست اور فرزند ، مال جیسے مظاہر تمام کے زندگی میں نظر کی اسالم ، رکھتی نہیں موافقت سے روح کی
کی تعادل میں استفادہ اور استعمال صحیح کا ان اور نعمتیں تمام کی متعال اورخدائے ہیںوسائل کے تکامل و ترقی سب
صحیح ۔ ہے سبب بھی کا کرنے آباد کو آخرت ،ہیں سبب کا ہونے آباد کے دنیا کی انسان عالوہ کے اس ، رعایت
کمال انھیں اور ہو نہ قائل کا دینے قرار اصل اور بنیاد کو مظاہر کے اس اور دنیا انسان کہ ہے میں معنی اس استفادہ
ہے گیا فرمایا چنانچہ ،دے درجہ کا نعمتوںکی خدا لئے کے پہنچنے تک اخروی سعادت اور:
- 15.
15
”۱ “ اآلخرہمزرعة الدنیا
”۔ ہےکھیتی کے آخرت “دنیا
فرماتاہے متعال خدائے اور:
’’)۷۷/(قصص ‘‘․
․
․
انیِّدال من نصیبک تنس ال و خرةٓالا ارِّدال ّٰاّٰلل کٰتٰا فیما ابتغ و
”جاؤ نہبھول حصہ اپنا میں دنیا اور کرو انتظام گھرکا کے آخرت سے اس ہے دیا خدانے کچھ جو ․اور ․ ․ “
۔ ہے کیا نہیں خلق کو چیز بریکسی نے متعال خدائے ،ہے اچھا وہ ہےموجود میں دنیا کچھ جو ، میں نظر کی اسالم
انسان مطابق کے میالنات طبیعی جو کہ وابستگی اور دلچسپی سے ان نہ ہیں برے مظاہر کے اس اور دنیا نہ لئے اس
ہے فرمایا نے وسلم آلہ و علیہ ہللا صلی اکرم پیغمبر ۔ ہےگئی دی قرار اندر کے:
” بما منک اوثق یدیک فی بما تکون ال ان الدنیا فی الزہادة لکن و المال اضاعة ال و الحالل بتحریم لیست الدنیا فی الزہادة
۲ “ ّٰاّٰلل ید فی
” ۔ کروگے ضائع کو مال اپنے یاکروگے حرام لئے اپنے کو حالل کہ ہے نہیں یہ دینا نہ اہمیت کو دنیا اور زہد میں دنیا
۔ ہے پاس کے خدا جو رکھنا نہ اعتقاد زیادہ سے اس اسے ہے میں ہاتھ تمھارے کچھ جو یعنی ،“زہد
ہیں فرماتے السالم علیہ علی حضرت نیز:
”المحارم عند الورع و النعم عند الشکر و ملٴ
الا قصر ہادةِّالز الناس ِّہای․ا ․ ․ “
”ہے پرہیز سے حرام اور گزاری شکر کی نعمتوں ،کرنا کم کو آرزؤں اپنی ، زھد !لوگ ․اے “
راہبوں جسے، ہے جانتا بدعتایسی ایک اسے اور کرتاہے مذمت کی رہبانیت مجید قرآن ،عالوہ کے بیاناتمذکورہ
کے فرمانے یہمجید ۔قرآن ہے کیا رائج میں مذہب عیسائی پر بنیادکی فہمی غلطکی تضاد درمیان کے آخرت و دنیا نے
اور مہربانی میں دل کے والوں کرنے پیروی کی ان اور کی عطا انجیل انھیں اور بھیجا کو عیسی﷼ نے ”ہم :کہ بعد
فرماتاہے “دیا قرار رحم:
’’)۲۷/(حدید ‘‘رعایتہا حق فمارعوہا ّٰاّٰلل رضوان ابتغاء اال ماکتبناہاعلیہم ابتدعوہا رہبانیة و ۔ ۔ ۔
” اوپر کے ان نے ہم تھے طلبکار کے خدا رضائے سے اس اور تھا کیا ایجاد خود از نے انھوں کو رہبانیت جس اور
کی۔ نہیں پاسداری مکمل کی اس بھیخود نے انہوں اور تھا کہا نہیں “فرض
حاضر میں خدمت کی وسلم لہٓاو علیہ ہللا صلی اکرم پیغمبر لئے کے کرنے شکوہ بیوی کی مظعونی بن عثمان دن ایک
(اپنی ہے کرتا بیداری شب کو رات اور ہے رکھتا روزہ کو دن مظعون بن عثمان ہللارسول اے :کی عرض اور ہوئی
گئے لے تشریف پاس کے عثمان بعد کے سننے مطلب یہاسالم پیغمبر )کرتاہے نہیں فکر کی عیال و اہل اور زندگی
سے اس نے ۔پیغمبر کی ختم نماز نے اس تو دیکھا کو پیغمبر نے عثمان جب ۔ ہے میں حالت کی نمازوہ کہ دیکھا اور
- 16.
16
کہا:
”۱ ۔۔۔ اھلیلمسٴ
ا و صلیٴ
ا و صومٴ
ا السمحة السہلة بالحنفیة بعثنی ولکن بالرہبانیة ہللا یرسلنی لم !عثمان ‘یا
” معتدل ایک بلکہ ہے کیا نہیں مبعوث لئے کے دنیا ترک اور پر دین کے تصوف ہمیں نے متعال خداوند ! عثمان اے
کرتا بھی مباشرت سے بیوی اپنی اور ہوں پڑھتا بھی نماز ، ہوں رکھتاروزہ میں ۔ ہے کیا مبعوث پر دین سانٓا اور
“ہوں۔
ANS 04
فی حصول سے ان ًافوقت ًاوقت اور ہے کرتی حفاظت کی تبرکات کے صالحین و اولیاء اکثریت کی اسالم اہل
۔ ہےکرتی ض
اسالف اور مبارکہ احادیث
ہ چلتا پتہ کا فضیلت اور اہمیت کی تبرکات کے صالحین ہمیںبھی سے عمل کے
ولی ہر ۔ ے
برکت سے قبور کی نُا بعد کے وصال کے نُا اور میں حیات کی ان نے متعلقین کے ان سے شخص صالح اور
حاصل
ذکر کا شام ِلاہ پاس کے ؓ
پٓا میں اتنے تھے مقیم میں عراق ؓ علی حضرت چنانچہ ۔ ہے کی
نے لوگوں ۔ گیا کیا
سے ؓ
پٓا
:کہ کہا
’’
بھیجیں لعنت پر شام اہل ؓ
پٓا ! منین ٴ
امیرالمو
‘‘
: فرمایا نے ؓ
پٓا ۔
’’
ک بھیجتا نہیں لعنت میں ! نہیں
میں یونکہ
اکرم حضور نے
ﷺ
جب سے میں ان ، گے رہیںموجود ابدال چالیس ) (ہمیشہ میں شام، ہے سنا ہوئے فرماتے کو
پاتا وفات کوئی
ا تو ہے
ہللا
ب شام اہل سے وجہ کی ان ہیں۔ بنادیتے ابدال کو دوسرے کسی جگہ کی اس ٰ
تعالی
سے ارش
س برکت کی ان اور ہے جاتی کی عطا فتح سے وسیلے کے ابدال کو ان پردشمنوں ۔ ہیں جاتے کئے سیراب
شام اہل ے
ہے جاتا دیا ٹال عذاب سے
‘‘
) المسند ، احمد امام ( ۔
کرت شرح کی حدیث اس
: ہیں فرماتے ؒ قاری علی مال ہوئے ے
’’
بابر ِوجود کے ان میں ان اور برکت کی ابدالوں
کے کت
محمدیہ متُا سے برکتکی ان اور ہے ہوتیحاصل فتح پردشمنوں ، ہیں ہوتی بارشیں سبب
ﷺ
د بالئیں سے
ہوتی ور
ہیں
‘‘
)المفاتیح (مرقاة ۔
ا رسول کہ ہیں کرتے بیان ؓ مالک بن انس حضرت
ہللا
ﷺ
: فرمایا ارشاد نے
’’
چالیس ) ایسے (بھی کبھی زمین
دمیوںٓا
جو ہوگی نہیں خالی سے
ا خلیل
ہللا
س سبب و ذریعہ کے انہی ۔ گے ہوں مانند کی السالم علیہ ابراہیم حضرت
لوگوں ے
س دنیا اس دمیٓا کوئی سے میں ان ۔ جائیگی کی مدد کی لوگوںصدقے کے انہی اور گا جائے کیا سیراب کو
ے
پردہ
ا کہ یہ مگر کرتا نہیں
ہللا
ہے تآا لے ) میں افراد چالیس ( کو دوسرے جگہ کی اس ٰ
تعالی
‘‘
ا المعجم ، (طبرانی ۔
)الوسط
عبدا حضرت
ہللا
ا رضی عمر بن
ہللا
اکرم حضور کہ ہے روایت سے عنہا
ﷺ
: فرمایا نے
’’
ا بیشک
ہللا
کچ کے ٰ
تعالی
ھ
ا کہ ہیں ایسے بندے خاص
ہللا
ک مخلوق انھیں نے ٰ
تعالی
گھبرائ لوگ ۔ ہے فرمایا خاص کیلئے روائی حاجت ی
ہوئے ے
ہیں مامون سے ہیٰال عذاب جو ہیں بندے وہ یہی ۔ ہیں تےٓا لے پاس کے ان حاجتیں اپنی
‘‘
)الزوائد مجمع ( ۔
ا میں زمانہ ہر کہ ہے ہوتی ثابت بات یہ سے احادیث مذکورہ تمام ان
ہللا
موجود صالحین و اولیاء کچھ کے ٰ
تعالی
ہوتے
ا تو ہے ہوجاتی وفات کی کسی سے میں ان اگر اور ہیں
ہللا
، ہے کردیتا عطا کو ولی دوسرے جگہ کی نُا ٰ
تعالی
ا اور
ہللا
او ہے نوازتا سے رزق اور بارش ، نصرت و فتح کو مسلمہ متُا طفیل کے برکات کی بندوں صالح ہی ان ٰ
تعالی
ر
۔ ہے ٹالتا کو عذاب اور پریشانیوں ، مصیبتوں
ح مرتبہ ایک
: کہ ہیں پوچھتے سے رسول صحابی ؓ انس حضرت ، ہیں سے میں تابعین جوکہ ؒ
ثابت ضرت
’’
ک
نے ؓ
پٓا یا
اکرم حضور
ﷺ
؟ ہے کیا سَم ، چھوا سے ہاتھ اپنے کو
‘‘
حضرت نے ؓ
ثابت پھر ، ! ہاں : فرمایا نے ؓ
انس حضرت ۔
چوما کو ہاتھ کے ؓ انس
‘‘
) المفرد دبٴ
الا ، (بخاری ۔
کہت ؓ
صہیب حضرت
:کہ ہیں ے
’’
ںٴ
پاو اور ہاتھ کے ؓ
عباس حضرت نے انھوں کہ دیکھا کو ؓ
علی حضرت نے میں
کو
دیا بوسہ
‘‘
)المفرد دابٴ
الا ، بخاری ( ۔
ن لیا۔ بوسہ کا ںٴ
پاو اور ہاتھ کے ان ، سے وجہ کی ہونے صالح مرد اور چچا نے ؓ علی حضرت کو ؓ
عباس حضرت
یز
ر علی بن حسن امام نے ؓابوہریرہ حضرت
ا ضی
ہللا
جگہ وہ مجھے ؓ
پٓا :ہوئے گذار عرض اور کی مالقات سے عنہا
- 17.
17
اکرم حضور جہاںبتائیں
ﷺ
ٓا نے انھوں تو ہٹایا کپڑا سے جسم اپنے نے ؓ
حسن امام ، ہے دیا بوسہ کو پٓا نے
ناف کی ؓ
پ
)بغداد تاریخ ( ۔ لیا بوسہ کا
ا رضی کرام صحابہ تمام
ہللا
سب ؓابوہریرہ حضرت میں اجمعین عنہم
مرت اس اور ، ہیں راوی کے احادیث زیادہ سے
بہ
اکرم حضور نےانھوں باوجود کے
ﷺ
۔ سمجھا ضروری کرنا حاصل برکت اور فیض سے مطہر لٓا کی
ا رضی کرام صحابہ تو یہ
ہللا
حصو نے انھوں ہیں عظیم ِمحدث جوکہ ؒمسلم امام لیکنہوئی بات کی اجمعین عنہم
برکتل
پیشانیکی ؒ
بخاری امام کیلئے
:کیا عرض پھر اور دیا بوسہ کا
’’
پٓا المحدثین سید ، استاذ کے استاذوں اے
مجھے
لوں لے بوسہ کا پاوں کے پٓا میں تو دیں اجازت
‘‘
۔
م و مربی ، شیخ اپنے سالک یا شاگرد ، مرید کوئی بھی جٓا اگر کہ ہیں دلیل پر بات اس واقعات و ثارٓا مذکورہ
کے رشد
کا سر اور ںٴ
پاو ، ہاتھ
ا رضی کرام صحابہ بلکہ ہوگا نہیں شرک وہ تو لے بوسہ
ہللا
اور فعلی سنت کی عنہم
کی اسالف
اس کبھی حدیث ئمہٓا والے نےٓا میں بعد اور رسول اصحاب توہوتی ممانعت کوئی میں افعال ان اگر ۔ ہوگی اتباع
عمل
ع ، زاہد ، صالح نے ؒ
شافعی نووی امام بلکہ کرتے نہ تٴ
اجر کی بجاالنے کو
ف کی خرتٓا دیگر جیسے ان اور الم
کر
اور مقرر بات یہ : فرمایا نے ؒ شافعی شروانی امام اور ہے دیا قرار مستحب چومنا ہاتھ کا اشخاص والے رکھنے
ہےعمل مسنون چومنا کو ںٴ
پاو اور ہاتھ کے شخص صالح کہ ہے متحقق
‘‘
)الشروانی حواشی ( ۔
حصول بالواسطہ سے صالحین و اولیاء تو یہ
دین سے محنتوں کی جن سلف ئمہٰا لیکن ہوئی بات کی برکت
تک ہم
صالحین و اولیاء نےانھوں ہے رکھتا اہمیت بڑی درمیان کے اسالم اہل عمل کا جن کہ وہ ہے پہونچا سے سانیٓا
سے
کہت ؒ
سلیمان بن ربیع شاگرد ایک کے ؒ
شافعی امام چنانچہ ۔ ہے فرمایا برکات ِحصول بھی سے اشیاء منسوب
کہ ہیں ے
سات کے سالمتی خط یہ میرا : کہا سے مجھ نےانھوں دوران اسی ، تھے ہوئے الئے تشریف مصر ؒ
شافعی امام
امام ھ
ن تو پہنچابغداد کر لے خط وہ میں کہ ہیں کہتے ؒ
ربیع حضرت ۔ دو الکر جواب اور پہونچادو تک ؒحنبل بن احمد
فجر ماز
ہوئی مالقات میری سے ؒاحمد امام وقت کے
ک سپرد کے نُا خط نے میں تو الئے تشریف باہر سے حجرے وہ جب ۔
ردیا
ایسا ، ہوا کیا ؒاحمد امام کہ کیا عرض نے میں ، ئیںٓا بھر نکھیںٓا کی ان تو پڑھا اسے توڑکر مہر نے ؒاحمد امام ۔
کیا
فرمایا نے انھوں ۔ ہوگئے اشکبار پٓا سبب کے جس ہے لکھا
’’:
لکھا مجھے نے ؒ
شافعی امام
نے انھوں کہ ہے
خواب
اکرم حضور میں
ﷺ
پٓا ہے۔ کی زیارتکی
ﷺ
لک سالم اسے ، لکھو خط کو حنبل بناحمد کہ ہے فرمایا انھیں نے
کر ھ
اس تم سو دیجائیگی دعوت کی )عقیدہ باطل کے ( نٓاقر خلق تمہیں اور گا جائے زمایآا عنقریب تمہیں کہ کہو
نہ قبول ے
ا ، کرنا
ہللا
رو تمہیں ٰ
تعالی
ٹھائیگاُا طورپر کے دین ِعالم باعزت قیامت ِ ز
‘‘
س جسم اپنے نے انھوں بعد کے اس ۔
مس ے
تو ہوا حاضر پاس کے ؒ
شافعی امام میں مصر کر لے جواب سے ان میں ۔ فرمایا عنایت مجھے تارکرُا قمیص کردہ
ؒ
پٓا
ہاں : کہا نے میں ۔ ؟ ہے کی عطا چیز کوئی تمہیں نے ؒاحمد احمد : فرمایا نے
ؒ
شافعی امام ۔ ہے دی قیمص اپنی !
نے
تکردو حوالے ہمارے کرکے گیال قمیص وہ مجھے تم تو کرو نہمحسوس تکلیف میں بارے اس تم اگر فرمایا
اس ہم اکہ
کریں۔ حاصل برکت سے
نبوی اہلبیت لیکر سے السالم علیھم کرام انبیاء
ﷺ
برک بھی سے قبور کی صالحین تمام اور کرام صحابہ و
کا ات
حاصل
ل ؒ
غزالی امام میں بارے کے برکاتحصول سے صالحین و اولیاء ِ
قبور ۔ رہا حصہ کا تاریخکی مسلمہ ِمتُا کرنا
کھتے
: ہیں
’’
اس بھیبعد کے وفات ، ہے جاسکتی کی حاصل برکت سے زیارت میں زندگی کی جس کہ شخص وہ ہر
قبر کی
ہے جاسکتی کی حاصل برکت سے زیارت کی
‘‘
ع ابن عالمہ ۔
: ہیں لکھتے ؒ
شامی ابدین
’’
ا کو اولیاء
ہللا
العز رب
کے ت
ک زیارتکی قبور کی نُا ( کو زائرین ) سے وجہ اس ( ہیں ہوتےحاصل مقام مختلف سے لحاظ کے قربت پاس
وقت ے
ہے ہوتاحاصل نفع حال ِبحس کے اسرار اور معارف کے نُا )
‘‘
کہ ہے فرمایا تحریر نے ؒ
شافعی شروانی عالمہ ۔
:
’’
او
نہیںمکروہ چومنا لئے کے برکت ِحصول کو قبور کی لیاء
‘‘
۔
ANS 05
ْوَھَن َو ِفْوُْرعَمْالِب ا ْوُرَمَا َو َةو ٰک َّالز اُوَتٰا َو َةوَّٰلصال واُماَقَا ِ
ضْرَ ْ
اال یِف ْمُھّٰنَّکَّم ِْنا َْنیِذَّلَا
لر۔وہْوُمُ ْ
اال َُُبِقَاع ِ ّٰ ِ
ّٰلل َو ِ
َرکْنُمْال َِنع ا
وگ
ہم اگر کہ
کر منع اور کا کام بھلے دیں حکم اور ة ٰ
زکو دیں اور نماز رکھیں قائم وہ تو میں ملک دیں قدرت کو ان
یں
آیت ،ِّالحج (سورة ہے۔ میں اختیار کے ہللا انجام کا کاموں تمام اور سے برائی
۴۱
)
- 18.
18
’’ اَّنَکَم
‘‘
شخ فالں،شخص فالں طاقت۔ اور قوت ،مرتبہ ہیںمعنی کے جس ہےماخوذ سے مکانہ
ہ مقیم ہاں کے ص
ے
ہے۔ رکھتا مرتبہ نمایاں یعنی
’’
ُمکان
‘‘
د کے بادشاہکسی کو کسی جو ہیں کہتے کو درجے اور مرتبے اس
میں ربار
اور جائے مل
’’
ََنکْمَتْسا َو َِیءشال َنِم َنَّکَمَت
‘‘
گیا۔ ہو کامیاب وہ کہ ہے مطلب کا
( آیات دو پہلی سے تمکین آیت
۳۹،۴۰
)
ہے گیا بتایا یہ میں
ب انہیں ہیں رہے کر جنگ کافر سے مسلمانوں جن :کہ
ھی
ہے۔ قادر ہللا پرمدد کی ان شک بے ہیں مظلوم وہ کیونکہ ہے جاتی دی اجازت کی مقابلے
ا ہے۔ ہللا فقط پروردگار ہمارا کہ پرقول اس کے ان صرف نکاالگیا سے گھروں اپنے حق نا جنہیں ہیں ہ و یہ
ہللا گر
آپس کو لوگوں ٰ
تعالی
یہودیوں اور مسجدیں اور گرجے اور خانے عبادت تو رہتا ہٹاتا نہ سے دوسرے ایک میں
کے
بھی ہللا ،گا کرے مدد کی ہللا جو ہے۔ جاتا لیا بکثرت نام کا ہللا جہاں جاتیں دی ڈھا بھی یںمسجد وہ اور معبد
ضرور
ہے۔ واال غلبے بڑے ،واال قوتوں بڑی ہللاشک بے گا۔ کرے مدد کی اس
اس
کو مہاجرین مظلوم ہی ان میں تمکین آیت بعد کے
’’
االرض فی تمکنت
‘‘
ح نظام عالوہ کے دینے بشارتکی
کومت
ہیں۔ گئے بتائےاصول بنیادی کے
کہ ہیں فرماتے ؒ قرطبی امام مفسر مشہور:
بھ لوگ وہ لیکن ہیں انصار و مہاجرین اول مصداق کا آیت اس کہ ہےقول کا عنہ ہللارضی عباس ابن
م کا اس ی
صداق
ہوں۔ کرتے تابعداریکی ان ساتھ کے اخالص جو ہیں
ت ہللا جب کہ ہے ہدایت لیے کے حکمرانوں میں آیت اس کہ ہیں فرماتے نجیح ابی ابن اور ضحاک ،ابوالعالیہ
کو ان ٰ
عالی
ت کیے نے راشدین خلفائے جو گے کریں کام یہ میں اقتدار اپنے وہ تو فرمادیں عطا سلطنت اور ملک
(ا ھے۔
لجامع
جلد القرآن الحکام
۱۲
صفحہ ،
۷۳
)ُاآلی تحت ۔
کہ ہیں لکھتے میں تفسیر کی آیت اس ؒ صاحب شفیع محمد مفتی:
مہاجرین اور راشدین خلفائے چاروں کہ ہوا طرح اس وقوع کا خبر اس کی ٰ
تعالی ہللا پھر
’’
جوا َرْخَا َینَّالذ
‘‘
مص کا
داق
فرمایا نے علما لیے اسی تھے۔۔۔صحیح
باسی سب کے سب راشدین خلفائے کہ ہے دلیل کی اس آیت یہ کہ
کے شارت
رض اور ارادے کے ٰ
تعالی ہللا عین اور صحیح و حق وہ ہوا قائم میں زمانے کے ان خالفت نظام جو اور ہیںمصداق
ا
ہے۔ مطابق کے خبر پیشگی اور
الف کہ ہے ظاہر لیکن ہے پہلو واقعاتی کا نزول شان کے آیت اس تو یہ
و خاص کسی وہ تو ں ہو عام جب قرآن ِاظ
اقعہ
آی اس کہ فرمایا نے ضحاک سے میں تفسیر ائمہ لیےاسی ہے۔ ہوتا عام حکم کا ان ،ہوتے نہیںمنحصر میں
ان میں ت
ا کام یہ میں اقتدار اپنے وہ کہ دیں فرما عطا سلطنت و ملک ٰ
تعالی ہللا کو جن ہےبھی ہدایت لیے کے لوگوں
دیں نجام
خل جو
جلد القرآن (معارف تھے۔ دیے انجام میں وقت اپنے نے راشدین فائے
۶
صفحہ،
۲۷۱
)
کہ ہیں لکھتے میں تفسیرکی آیت اس اصالحی احسن امین محمد موالنا:
ہے ہوتا سے زمین سر کی حرم آغاز کا جس ہے یہی بشارت پہلیکی تمکین و اقتدار کے مسلمانوں میں دنیا
)(کیونکہ
تِّمل حیثیت کی اس
ب ہے۔ انحصار کا فساد و صالح کے تِّمل تمام پرفساد و صالح کے اسی ہے۔ کی قلب کے
یہی ٖعینہ
فری یہوہ اگر بخشے۔ اقتدار کو ان ٰ
تعالی ہللا جہاں ہے ہوتا عائد لیے کے سرزمین اس پر مسلمانوں فریضہ
نہ ادا ضہ
ا طرح اسی ہے ناجائز تسلط کا دوسروں طرح جس نزدیک کے ہللا تو کریں
نبھی تسلط کا مسلمانوں نہاد نام ن
اجائز
صفحہ ،پنجم جلد قرآن (تدبر ہے۔
۲۵۸
)
کہ ہیں فرماتے میں تفسیر کی آیت اس محمود مفتی موالنا اسالم مفکر:
ک مضبوط کو مساجد جہاں ذا ٰلہ ہے ذکر کا کار طریق اور مقاصد کے اس ،تعریفکی حکومت اسالمی میں آیت اس
رنا
بیت وہاں ہے ضروری
جل محمود ہے۔(تفسیر ضروری حد از بھی کرنا نافذ کو احکام دیگر اور کو نظام کے المال
،ددوم
صفحہ
۴۴۸
)
کہ ہیں لکھتے میں تفسیرکی آیت اس یوسف الدین صالح موالنا:
ا راشدہ خالفت جنہیں ہیں گئے کیے بیان مقاصد و اغراض اور اہداف بنیادی کے حکومت اسالمی میں آیت اس
قرن ور
اول
ر فہرست سر کو ان میں ترجیحات اپنی نے انہوں اور گیا الیا کار بروئے میں حکومتوں اسالمی دیگر کی
ان تو کھا
عربسعودی بھی آج رہے۔ بھی سرفراز و بلند سر مسلمان اور رہابھی سکون و امن میں حکومتوں ان بدولت کی
کی
برکت کی اس تو ہے اہتمام کا چیزوں ان بحمدہللا میں حکومت
سے اعتبار کے حالی خوش و امن بھی اب وہ سے
دنیا
صفحہ ،تفسیر و ترجمہ اردو مع کریم (قرآن ہے۔حکومت مثالی اور بہترین کی
۹۲۶
پرنٹنگ کریم قرآن شافہد ۔مطبوعہ
)کمپلیکس
کہ ہیں لکھتے لدھیانوییوسف محمد موالنا:
- 19.
19
مہاجرین کہ یہایک:ہےمشتمل پرگوئیوں پیشدو شریفہ آیت یہ
)االرض فی (تمکین اقتدار میں زمین کو
کیا عطا
ز ایتائے ،ة ٰ
(صلو دین اقامت ہےوہ گی ہو پذیر ظہور چیز جو سے ان میں اقتدار دور کے ان کہ یہدوم گا۔ جائے
)ة ٰ
کو
المنکر۔ عن نہی اور امربالمعروف
راش خلفائے جنہیں کو اکابر چار ان میں لینِّاو مہاجرین مطابق کے ہیٰال وعدہ اس
ک عطا اقتدار ،ہے جاتا کہا دین
گیا یا
باال مندرجہ میں حق کے ہی ان اور تھےمصداق کا وعدہ کے شریفہ آیت اس حضرات یہی کہ ہوا معلوم سے جس
پیش
صفح ،مستقیم ِصراط اور تِّام (اختالف دیا۔ انجام فریضہ کا دین ِاقامت نے حضرات ان اور ہوئیں پوری گوئیاں
ہ
۱۹۷
)
ہے صحیح بات یہ
خال میں دور کے ان ،ہیں سے میں لینِّاو مہاجرین عنہم ہللارضی اربعہ خلفائے حضرات کہ
کے فت
رضی کرام صحابہ پر خالفت کی ان اور ہیںشامل بھی میں راشدین خلفائے زمرۂوہ ،ہوئے پورےبھی مقاصد
عنہم ہللا
ل ہے اظہار کا مرضی اور منشا کی ہی ٰ
تعالی ہللا بھی اتفاق و اجماع کا
کی کہ ہے غور ِقابل ضرور بات یہ یکن
خلفاء ا
کو عنہم ہللارضی اربعہ
’’
مہاجر
‘‘
پر بنا کی ہونے
’’
راشدین خلفائے
‘‘
صحابیت بسبب یا ہے جاتا کہا
’’
رش
ہدایت و د
‘‘
می حصول کے خالفت ِمقاصد میں روشنیکی اصولوں بنیادی کے حکومت نظامکردہ بیان میں تمکین آیت اور
بے ں
کام مثال
ہے؟ ضروری اور الزمی بھیشرط کی ہونے مہاجر لیے کے راشد خلیفہ کیا نیزسے؟ وجہ کی یابی
پموضوع اس میں صدیوں گیارہ ابتدائی تو ہے تعلق کا شرط کی ہونے مہاجر لیے کے راشد خلیفہ تک جہاں
لکھی ر
میں کتب والی جانے
’’
ہجرت
‘‘
م نہیں ہی نشان و نام کوئی تکدور دور کا شرط کی
سرے میں کتب ان بلکہ لتا
سے
(م ؒ
دہلوی ثِّدمح ہللا ولی شاہ صرف جاتی۔ پائی نہیں ہی بحث کی راشدہ خالفت
۱۱۷۶
کہ ہواحاصل اعزاز یہ کو )ھ
پہلی سے سب نے انہوں
’’
راشدہ خالفت
‘‘
ہے فرمایا نے انہوں چنانچہ فرمائی گفتگو ِّلصمف پرموضوع کے
کہ :
’’ کے ِّہصخا خالفت لوازم منجملہ
ہو۔۔۔ سے میں لینِّاو مہاجرین خلیفہ کہ ہے یہ ایک ‘‘
( صفحہ ل ِّاو جلد الخفاء ُازال
۴۳ )
مہاجرین مظلوم کہ یہ ل ِّاو :ہے کیا ذکر کا گوئیوں پیشدو نے کرام مفسرین میں تفسیر کی آیت بحث زیر
قتال (جنہیں
یہدوم اور گا۔ جائے کیا عطا اقتدار میں زمین کو )ہے رہی جا دی اجازت کی
مذکو میں آیت کو اقتدار اپنے وہ کہ
ر
گے۔ کریں استعمال ہی لیے کے حصول کے مقاصد
عط اقتدار و نتِّکتم میں زمین مطابق کے گوئی پیش اور خبر اس کی ٰ
تعالی ہللا جب انہیں کہ ہے شاہد تاریخ
تو گیا کیا ا
شب و شک بال ذا ٰلہ کیا استعمال اسے لیے کے حصول کے مقاصد ہی ان نے انہوں
ع ہللارضی اربعہ خلفائے ہ
ِبترتی نہم
خلفائ کہ ہے نہیں ہرگزبھی مطلب یہ کا اس لیکن ہوئے۔ ثابتمصداق لینِّاو کے آیت اس مطابق کے خالفت
اربعہ ے
پر عنہم ہللا رضی
’’
راشدہ خالفت
‘‘
خلف والے آنے بعد کے ان اور گی جائے ہو ختم لیے کے ہمیشہ ہمیشہ ہی
اپنے اء
مقاصد میں ادوار
خلفائے زمرۂباوجود کے اترنے پورا پر شرائط کی خالفت ِاستحقاق اور کرنے حاصل خالفت
راشدین
گے۔ ں ہومتصور خارج سے ہونےمصداق کا تمکین آیت اور ہونےشامل میں
تی ًاتقریب سے میں لینِّاو مہاجرین ہے۔ نظر محل کرنا ثابت شرط کا ہجرت لیے کے خالفت سے تمکین آیت
سسال
(
۱۱
ھ۔۔
۔
۴۰
خب بطور انتخاب کا عنہم ہللا رضی علی حضرت اور عثمان حضرت، عمر حضرت، ابوبکر حضرت تک)ھ
ر
طرح جس ہے آیا میں عمل طرح اس کے گوئی پیش اور
’’
قریش من ُاالئم
‘‘
مطابق کے گوئی پیشکی
۹۱۰
تک سال ،
ساع بنی سقیفہ کہ ہے وجہ یہی تھا۔ آیا میں عمل قیام کا خالفت ہی میں قریش
تمکی آیت میں اجتماع کے دہ
رو کی ن
کو عنہم ہللا رضی صحابہ انصار سے
’’
ہجرت
‘‘
لیے کے خالفت پر بنا کی اترنے نہ پورا پر شرط کی
’’
ا نا
ہل
‘‘
نہیں
میں اجتماع اس گیا۔ دیا قرار
’’
قریش من ُاالئم
‘‘
لیکن ہےگونجی تو صدا کی
’’
لینِّاالو المہاجرین من ُاالئم
‘‘
صدا کی
ب نےکسی
کی۔ نہیں لند
لیے کے راشد خلیفہ بالفرض اگر
’’
ہجرت
‘‘
ہللا رضی حسن حضرت پھر تو جائے لیا کر تسلیم کو شرط کی
کی عنہ
ب ہی والدت کی ان مطابق کے قول مشہور کیونکہ گی جائے ہو خارج سے راشدہ خالفت بھی ہِّتتم بطور خالفت
از عد
رمضان ہجرت
۳
صحابی بطور وہ کہ جب ہےہوئی میں ھ
ہیں۔ راشد خلیفۂًایقین
لیے کے راشد خلیفہ اگر
’’
مہاجر
‘‘
ح قاتالنہ پر عنہ ہللارضی علی حضرت تو ہوتیضروری شرط کی ہونے
کے ملہ
ضرور وہ تو تھا گیا کیا دریافت متلعق کے اس سے ان جب بعد
’’
تمکین آیت
‘‘
فرمات جاری ہدایت مطابق کے
کہ جب ے
راشدہ خالفت مدت سالہ تیسوقت اس
تھے۔ باقی ابھی مہینے چھے بھی سے میں
صحاب مہاجر کسی مصداق کے تمکین آیت بجائے کی عنہ ہللا رضی حسن حضرت ہیخود عقد و حل اہل پھر یا
کو ی
وقت اس حاالنکہ دیتے کر تفویض خالفت ِبمنص
’’
لینِّاو مہاجرین
‘‘
سعد حضرت بالخصوص تھےموجود بھی
ابی بن
از (یکے عنہ ہللا رضی وقاص
یّٰمتوف )مبشرہ عشرہ
۵۱
، ھ
۵۴
،ھ
۵۸
اکرم نبی متعلق کے (جناالقوال۔ اختالف ٰ
علی،
تھا فرمایا پر موقع کے احد غزوہ نےوسلم علیہ ہللا صلی
’’
یِّام و ابی فداک سعد یا ارم
‘‘
او عمر حضرت نیزجو
ر
- 20.
20
چکے دے انجامبھی فرائض عراق والی بحیثیت سے طرف کی عنہما ہللا رضی عثمان حضرت
سے سب اور تھے
بڑھ
خ طرح کی ہی عنہما ہللا رضی علی اورحضرت عثمان حضرت بعد اپنے نے عنہ ہللارضی عمر حضرت جنہیں کر
الفت
مگ تھےمستحق زیادہ سے سب کے منصب اس )تھا فرمایا شامل میں کمیٹی خالفت رکنی چھ کر سمجھ اہل کا
ر
حضرت انہیں باوجود کے ہونے حامل کے اوصاف مذکورہ
کی نہیں منتخب خلیفہ بعد کے عنہ ہللارضی علی
عالوہ گیا۔ ا
ضرور کو ہونے مہاجر لیے کے خلیفہ بھی نے عنہم ہللا رضی کرام صحابہ دیگر یا لینِّاو مہاجرین خود ازیں
قرار ی
ساعدہ بنی سقیفہ انصار تو ہوتا ضروری ہونا مہاجر سے رو کی تمکین آیت لیے کے خلیفہ اگر دیا۔ نہیں
ا میں
س
اپنے مفہوم کا آیت بحث زیر وہ کیونکہ ہوتے نہ اکٹھے کبھی لیے کے مقصد
’’
اخالف
‘‘
بہترًایقین سے
تھے۔سمجھتے
لیے کے خالفت اگر
’’
ہجرت
‘‘
ہللا رضی جبل بن معاذ کبھی عنہ ہللا رضی عمر حضرت توہوتی الزمی شرط کی
کے عنہ
سال بعد اپنے یا )احمد کرتے(مسند نہ بات کی استخالف
کرنے مقرر خلیفہ کو عنہ ہللارضی حذیفہ ٰ
مولی م
نہ تمنا کی
ن اختیار سکوت پر تجویز کی خالفت کی عنہ ہللا رضیحسن حضرت ،عنہ ہللا رضی علی حضرت یا ،کرتے
فرماتے۔ ہ
موجودگی کی لینِّاو مہاجرین عنہم ہللارضی کرام صحابہ تو ہوتیضروری شرط یہ تحت کے تمکین آیت اگر
میں
حضرت
کرتے۔ نہکبھی انتخاب کا عنہ ہللارضی معاویہ حضرت اور عنہ ہللارضی حسن
رضی معاویہ حضرت تو جائے لیا کر بھی تسلیمکو شرط کی ہجرت میں درجے کسی التنزل سبیل علی اگر
نہ عنہ ہللا
اور وسلم علیہ ہللا صلی رسولصحابی ،خالفت ِاہلیت ،شرائط ،خالفت ِمقاصد صرفباعتبار
’’
ال
راشدون
‘‘
کی
ہیٰال ِسند
پور بھی پر ہجرت ِشرط سے رو کی تمکین آیت بحث زیر بلکہ ہیں راشد خلیفۂ سے وجہ کی ہونے حامل کے
اترتے ے
ہیں۔
(م اثیر ابن امام
۲۳۰
(م کثیر ابن امام ،)ھ
۷۷۴
(معسقالنی حجر ابن حافظ اور )ھ
۸۵۲
خود سعد ابن بروایت نے)ھ
کا عنہ ہللا رضی معاویہ حضرت
نے انہوں کہ ہے کیا نقلقول یہ
’’
القضاء عمرة
‘‘
کی قبول اسالم پہلے سے
اور ہے ا
مخفی سے والدین اپنے کو اسالم اپنے اور کی مالقات مسلمان بحیثیت سے وسلم علیہ ہللا صلی اکرم نبی
جب پھر رکھا
تجھ یزید بھائی تمہارا کہ کہا نے انہوں تو ہوا علم کا حققیت اس کو والد کے ان
قوم اپنی جو ہے بہتر سے
پر دین کے
ہے قائم:
َمَّلَس َو ِہْیَلَع ّٰاّٰلل یِّصل ّٰاّٰلل َل ُْوس َر لقی ٗہَّنَا َو ُِی ِ
ضَقْال َمْاَع َمَلْسَا ٗہَّنَا َل ْوُقَی ََُیِواَعُم ََانک َو
ِہْیِبَا ْنِم ٗمہ َ
ْالسِا َمَتَک َو اًمِلْسُم
۔(اسد ٖہِِّمُا َو
س ابی بن معاویہ ذکر تحت الغابہ
)عنہما ہللارضی فیان
قومہ۔۔۔ق دین ٰ
علی منک خیر وہو یزید اخوک ذاٰہ لی فقال علم ثم ابی من اسالمی کتمت کنٰول ُالقضی یوم اسلمت
ُویٰمع ال
جلد والنہایہ بہ۔(البدایہقِّدلمصیِّنوا القضاء عمرة فی ُِّکم وسلم علیہ ّٰاّٰلل یِّصل ّٰاّٰلل رسولدخل ولقد
۸
صفحہ ،
۱۱۷
)
ق اسلمت لقد
جلد القضیُ۔۔۔(االصابہ عمرة بل
۳
صفحہ،
۴۳۳
)
اور الئےاسالم کے حدیبیہ بعد عنہ ہللارضی معاویہ حضرت :کہ ہیں لکھتے یِّکالم الہیتمی حجر ابن عالمہ
بعض
رپوشیدہ اسالم اپنا سے والدین اپنے نے انہوں مگر الئے اسالم دن کے حدیبیہ کہ ہے کیا بیان نے لوگوں
(یہاں تھاکھا
کہ تک
بع کے حدیبیہ جو میں )ُالقضی عمرة (یعنی عمرہ واقعہ وہ پر بنا اس کیا۔ ظاہر میں مکہ فتح )اسے
د
۷
میں ،ھ
ب امام نے احمد امام جو ہےہوتی سے روایت اس تائید کی اس تھے۔ مسلمان تھا ہوا پہلے سال ایک سے مکہ فتح
اقر
حضر کہ ہے کی نقل سے عنہ ہللا رضی عباس ابن نے انہوں ،سے
ن میں تھے کہتے عنہ ہللا رضی معاویہ ت
مروہ ے
تھے۔ کترے بال کے ہللا ل رسو پاس کے
ن عنہ ہللا رضی معاویہ حضرت کہ ہے مروی سے ؓ
عباس ابن حضرت طاؤس بواسطہ میں بخاریصحیح حدیث اصل
ے
تھے۔ کترے بال کے ہللارسول سے قینچی نے میں کہا
ردونوں یہ ہے۔ نہیں ذکر کا مروہ میں اس
واقعۂ عنہ ہللارضی معاویہ حضرت کہ ہیں دلیل کی بات اس وایتیں
عمرہ
ب بلکہ کتروائے نہیں بال میں الوداع ُحج نے وسلم علیہ ہللا صلی آنحضرت کہ لیے اس تھے۔ مسلمان میں
ٰ
منی االتفاق
نہیں پر موقع کسی اور عالوہ کے )(القضا عمرة کتروانا کا بال یہ پس ،تھے منڈوائے بال میں
ج کہا اگر ہوا۔
کہ ائے
اخیر بعد کے حنین ہزیمت اور مکہ فتح جو ہو ہوا کا کترنے بال واقعہ یہ میں جعرانہ عمرہ شاید
۸
کہ جب ہوا میں ،ھ
تھے۔ گئے الئے میں جعرانہ اموال اور قیدی کے حنین
پوشیدہ شب بوقت نے وسلم علیہ ہللا صلی آنحضرت تو جعرانہ عمرہ کہ گا دوں جواب میں تو
کیا ادا پرطور
اسی تھا۔
صفحہ ، واللسان الجنان (تطہیر ہے۔ کیا انکار کا )(عمرہ اس نے عنہم ہللا رضی صحابہ بعض سے وجہ
۷
ل ِّاالو الفصل ۔
)عنہ ہللارضی معاویہ اسالم فی تحت
ؒ صاحب شفیع محمد مفتی حضرت
’’
َْنی ِ
ِّر ِ
صَقُم َو ْمُکَس ْو ُءُر َْنیِقِِّلَحُم
(‘‘
آیت ،الفتح سورة
۷
۲
)
ہیں فرماتے میں تفسیرکی
ع ہللا صلی آنحضرت نے عنہ ہللا رضی معاویہ حضرت میں قضا عمرہ سال اگلے کہ ہے میں بخاری صحیح :کہ
لیہ
- 21.
21
آ تو میںالوداع ُحج کیونکہ ہے کا ہی قضا عمرۂ واقعہ یہ ،تھے تراشے سے قینچی مبارک موئے کے وسلم
نے پ
ہے۔ فرمایا حلق
( ہشت جلد القرآن معارف
صفحہ ،م
۹۰ )
الق عمرة پہلے سے مکہ فتح نے عنہ ہللارضی معاویہ حضرت کہ ہے گئی ہو ثابت بات یہ سے تفصیل اس
کے ضا
ترج بہرحال کو قول اپنے کے معاملہ صاحب خود میں مقابلے کے اقوال دیگر تھا۔ لیا کر قبول اسالم پرموقع
دی یح
کہ ہے حقیقت مہِّمسل بھی یہ عالوہ کے اس ،گا جائے
ط مستقل کے کر ہجرت نے عنہ ہللارضی معاویہ حضرت
پر ور
وسلم علیہ ہللاصلی رسول ِارشاد اگر تھی۔ لی کر اختیار اقامت میں منورہ مدینہ
’’
الفتح بعد ہجرة ال
‘‘
ظا کو
پر ہر
ہ آباد سے حیثیت کس میں منورہ مدینہ عنہ ہللارضی معاویہ حضرت کہ ہے یہسوال پھر تو جائے کیا محمول
وئے
تھے؟
نے حدیث شارحین اگرچہ
’’
بعدالفتح ہجرة ال
‘‘
ہجر بعد کے مکہ فتح کہ ہے کیا بیان بھی یہ مطلب ایک کا
نہیں واجب ت
تھی۔ رہی
کہ ہے کی نقل روایت یہ کی عنہ ہللارضی معاویہ حضرت نےداؤد ابو امام:
تنق ال یقولوسلم علیہ ّٰاّٰلل یِّصل ّٰاّٰلل رسول سمعت قال ُمعاوی عن
ال تنقطع ال ،ُالتوب تنقطع ٰ
حتی الہجرة طع
تطلع ٰ
حتی ُتبوب
مغربہا۔ من الشمس
( صفحہ ، انقطعت ہل الہجرة فی باب ،الجہاد کتاب ل ِّاو جلد داؤد ابی سنن
۳۴۳ )
یہ کو وسلم علیہ ہللاصلی ہللارسول نے میں کہا نے انہوں کہ ہے روایت سے عنہ ہللا رضی معاویہ حضرت
فرماتے
سنا ہوئے
طل سے مغرب سورج تک جب گی ہو نہ ختم توبہ اور ہو نہ ختم توبہ تک جب گی ہو نہ ختم ہجرت کہ
نہ وع
ہو۔
ایک پہلے سے روایتمذکورہ کی عنہ ہللا رضی معاویہ حضرت نےاحمد امام
’’
مذاکرہ
‘‘
یہ میں جس ہے کیا نقل
باقی یا ہے چکا ہو منقطع سلسلہ کا ہجرت آیا کہ تھا بحث زیر مسئلہ
ہے؟
حضر پر موقع اس تو تھے قائل کے رہنے باقی کے اس بعض کہ جب تھے قائل کے انقطاع کے ہجرت بعض
معاویہ ت
سنا ارشاد کن فیصلہ باال لہِّمحو کا وسلم علیہ ہللا صلی اکرم نبی میں مسئلہ بحث زیر نے عنہ ہللا رضی
تھا۔ یا
کہ ہے غور قابل بھی بات یہ پھر
’’
ہجرت
‘‘
کوئ طرح کی نبوت
علیہ ہللاصلی آنحضرت تھاجو نہیں منصب ی
کی وسلم
کے ہونے بنددروازہ کا توبہ پر طور اجتماعی جو ہے نام کا خیر عمل ایک بلکہ تھا گیا ہو ختم بعد کے نبوت
ہی ساتھ
قی اور )ہے تا ہو ختم وقت کے کنی جان کی آدمی دروازہ کا توبہ پر طور انفرادی کہ رہے ملحوظ (یہ گا۔ ہو ختم
ا
تک مت
گا۔ رہے جاری بھیعمل یہ طرح کی اعمال دوسرے
:کہ ہے گیا بتایا یہ میں جس ہوتیبھی سے آیت ذیل حسب کی کریم قرآن تائید کی رہنے جاری کے ہجرت
َْنیِذَّال َِّنا
ْضَتْسُم اَّنُک ا ْوُالَق ْمُتْنُک َمْیِف ا ْوُالَق ْمِھِسُفْنَا ْٓیِمِلاَظ َُُک ِآلءَمْال ُمُھّٰف َوَت
ِاس َو ِ ّٰاّٰلل ُضْرَاْنُکَت ْمَلَا ا ْٓوُالَق ِ
ضْرَ ْ
اال یِف َْنیِفَع
اَھْیِف ا ْوُر ِ
اجَھُتَف ًَُع
قبض روحکی ان فرشتے جب ہیں والے کرنے ظلم پر جانوں اپنی لوگا۔جو ًْری ِ
صَم ْت َءآَس َو ُمَّنَھَج ْمُھ ٰ
وْاَم َکِءٰٓولُاَف
یہ تھے؟ میں حال کس تم،ہیںپوچھتے تو ہیں کرتے
تھے۔ مغلوب اور کمزور میں زین ہم کہ ہیں دیتے جواب
فرشتے
آیت ،النساء (سورة جاتے؟ کر ہجرت تم کہ تھی نہکشادہ زمینکی ٰ
تعالی ہللا کیا :ہیں کہتے
۹۷
)
یہاں
’’
االرض فی
‘‘
آگے اور ہے جوار و قرب کا اس اور مکرمہ ہِّکم نزول شان باعتبار مراد سے
’’
ہللا ارض
‘‘
سے
مدینہ مراد
مراد سے جگہ پہلی بعض ہے عام سے اعتبار کے حکم لیکن ہے منورہ
’’
کفار ارض
‘‘
اس جہاں گی ہو
الم
اور ہومشکل عمل پر
’’
ہللا ارض
‘‘
س غرض کی کرنے عمل پر دین کے ہللا انسان جہاں گی ہو جگہ وہ ہر مراد سے
ے
جائے۔ کے کر ہجرت
ان اور اسالم کے عنہ ہللا رضی معاویہ حضرت تک جہاں
رضی عباس حضرت بعینہوہ تو ہے تعلق کا ہجرت کی
ہللا
ا کہ ہے ثبوتواضح کا بات اس بھی قیام مستقل میں منورہ مدینہ کا ان ہے۔ طرح کی ہجرت اور اسالم کے عنہ
نہوں
می منورہ مدینہ انہیں نے وسلم علیہ ہللا صلی اکرم نبی اور تھا لیا کر قبول اسالم پہلے سے مکہ فتح نے
ہجرت ں
کے
چن تھا۔ دیا کر قائم بھی چارہ بھائی ساتھ کے انصاری ایک کا ان بلکہ تھی دی نہیں ہی اجازت کی قیام بعد
مشہور انچہ
صفحہ سوم جلد کی للعالمین ُرحم سیرت کتاب اپنی نے پوری منصور سلیمان محمد قاضی نگار سیرت
۳۶۸
پر
چوبیسویں میں جس ہے کی پیش فہرست ایک کی مدینہ مواخات
ذک کا عنہ ہللارضی معاویہ سیدنا پر نمبر
کہ ہے کیا ر
ہیں۔ عنہ ہللارضی بشر بن حتات سے میں انصار بھائی کے ان
باوج کے تفاوت میں درجات اور مراتب حفظ بھی کو والوں کرنے ہجرت بعد کے لینِّاو مہاجرین نے ٰ
تعالی ہللا
ہی ان ود
ہے کیا شمار میں:
- 22.
22
ْنِم ا ْوُنَمٰاَْنیِذَّال َو
ِک ْیِف ْضعَبِب یٰلْوَا ْمُھُضْعَب ِامَح ْرَ ْ
اال واُولُا َو ْمُکْنِم َکِءٰٓولُاَف ْمُکَعَم ا ْوُدَھ ٰ
ج َو ا ْوُرَاجَھ َو ُدْعَب م
ا َِّنا ِ ّٰاّٰلل ِبٰت
ِِّلُکِب َ ّّٰٰلل
ْم۔یِلَعء َْیش
مل ساتھ تمہارے کیا بھی جہاد اور کی بھی ہجرت اور میں بعد الئے ایمان لوگ جو اور
میں ہی تم بھیوہ تو کر
سے
چیز ہر ٰ
تعالی ہللاًایقین ،مطابق کے ہیٰال حکم ہیں دار حق زیادہ کے دوسرے ایک )میں (ورثہ دار رشتہ اور ہیں
خوب کو
آیت ،االنفال (سورة ہے۔ واال جاننے
۷۵
)
ہ پہلے سے حدیبیہ صلح یعنی :کہ ہیں لکھتے میں تفسیر کی آیت اس ازہری صاحب شاہ کرم پیر
ک جرت
اور والوں رنے
جو بھی بعد کے اس لیکن ہے بلند بہتشک بے مقام کا والوں آنے میں میدان بکف سر لیے کے دین نصرت
کر ہجرت
سیاس تمام دیگر اور شرعیہ احکام بھیوہ دیا کر وقف کو آپ اپنے لیے کے بلندی سر کی اسالم اور آیا کے
حقوق ی
دوسر ایک وقت کے ضرورت ہیں۔ یکساں میں
بھی وارث کے دوسرے ایک اور گی ہو ضروری بھی نصرتکی ے
ہوں
گے۔
ک قائم مواخاة اور چارہ بھائی جو میں مہاجرین اور انصار نےوسلم علیہ ہللا صلی ُرنورپ حضور بعد کے ہجرت
تھی ی
دے قرار منسوخ طریقہ یہ کا توارث میں آیت اس تھے۔ ہوتے بھی وارث کے دوسرے ایک وہ سے وجہ کی اس
دی
گیا ا
صفحہ ،دوم جلد القرآن (ضیاءگئی۔ دی کر محدود وراثت میں داروں رشتہقریبی صرف اور
۱۷۱
)
اسال قبول نے انہوں کیونکہ ہیںمصداق بھی کے آیت مذکورہ کی االنفال سورہ عنہ ہللا رضی معاویہ حضرت
بعد کے م
م قیادت و معیت کی وسلم علیہ ہللاصلی اکرم نبی اور کی بھی ہجرت
طائ و حنین غزوہ بعد کے مکہ فتح یں
غزوہ اور ف
صفحہ الثانی الجزء ،ل ِّاو جلد ُالسن منہاج :ہو (مالحظہ لیا۔ حصہ بھرپوربھی میں تبوک
۳۱۴
)
شاہ چنانچہ ہیں شامل میں مہاجرین وہ کہ تھا یہی بھی ٰ
دعوی اپنا کا عنہ ہللارضی معاویہ حضرت !آں بر مزید
ہللا ولی
نے ؒ دہلوی محدث
م ایک کہ گیا بتایا میں جس کی نقل حدیث طویل ایک کی عنہ ہللا رضی حجر بن وائل حضرت
پر وقع
عنہ ہللارضی علی حضرت کہ پوچھا سے عنہ ہللا رضی حجر بن وائل حضرت نے عنہ ہللا رضی معاویہ حضرت
کے
شر میرے وجہ ایک کہ دیا جواب نے انہوں تو رہے؟ باز کیوں سے مدد ہماری آپ خالف
ہبھی یہ کی ہونے نہیک
ے
چاہتا۔ لڑنانہیں سے مہاجرین میں کہ
کہا نے عنہ ہللا رضی معاویہ حضرت
’’
َْنی ِ
ر ِ
اجَہُم اَنْسَلَوَا
‘‘
حج بن وائل (یعنی میں ہیں؟ نہیں مہاجر لوگ ہم کیا
رضی ر
الخ ُ(ازال رہے۔ الگ سے دونوں سے ان اور سے آپ ہم تو سے وجہ اسی:دیا جواب نے )عنہ ہللا
صفح ،ل ِّاو جلد فاء
ہ
۴۱۸
)
س سے میں مہاجرین کو آپ اپنے عنہ ہللا رضی معاویہ حضرت کہ ہے گئی ہو ثابت بات یہ بھی سے روایت اس
مجھتے
سا کے عنہ ہللارضی حجر بن وائل حضرت وسلم علیہ ہللا صلی رسولصحابی نے انہوں جب لیے اسی تھے
اپنے منے
نے انہوں تو کیا ٰ
دعوی کا ہونے مہاجر
ک ہونے دار جانب غیر اپنے ہوئے کرتے تسلیمصحیح اور درست اسے
ایک ی
دیا۔ قرار وجہ
ل کر تسلیم ہجرت ٰ
دعوی کا عنہ ہللا رضی معاویہ امیر حضرت تو نےوسلم علیہ ہللا صلی رسول صحابی ایک
مگر یا
کہ دیا کر مسترد اسے کر کہہ یہ نے ؒ صاحب ہللا ولی شاہ کہ ہے حیرت سخت
’’
معاویہ
رضی سفیان ابی بن
عنہما ہللا
ہج کہ دیا کہہ االطالق علی نے انہوں سے وجہ اسی سکا ہو نہیں معلوم فرق میں معانی دونوں ان کے ہجرت کو
رت
ہے۔ باقی تاقیامت
‘‘
صفحہ ،مذکور (حوالہ
۴۱۹
)
ب اور نظر محلًایقین تبصرہ یہ کا ؒ صاحب شاہ پر ہجرت ٰ
دعوی کے عنہ ہللا رضی معاویہ حضرت
ہےتعجباعث
حال بہر ۔
ا نبی لیے کے علم ِتحصیل اور ہجرت ٰ
دعوی ،قیام مستقل اپنے میں منورہ مدینہ عنہ ہللا رضی معاویہ حضرت
صلی کرم
(جس شرکت میں غزوات میں ِّتیمع کی وسلم علیہ ہللاصلی آپ عالوہ کے حاضری میں خدمت کی وسلم علیہ ہللا
شاہ ے
م دوسرے بھی نے ؒ صاحب ہللا ولی
مہا بھی پر بنا کی )ہے دیا قرار ہجرت کی درجے ٰ
اعلی سے اعتبار کے ٰ
عنی
جرین
ہیں۔ جاتے بنمصداق کا تمکین آیت بھی مطابق کے ہجرت ِشرط کی ؒ
صاحب شاہ ؓوہ سے جس ہیںشامل میں
ف بھی دعا لیے کے تمکین کی عنہ ہللارضی معاویہ حضرت نےوسلم علیہ ہللا صلی اکرم نبی ازیں عالوہ
ر
، تھی مائی
ک کہا ،سے مخلد بن سلمہ نے عساکر ابن کیا روایت :کہ ہیں لکھتے دہلوی ثِّدمح صاحب ہللا ولی شاہ چنانچہ
نے میں ہ
تھے کہتے لیے کے عنہ ہللارضی معاویہ وسلم علیہ ہللا صلی آپ کہ سے وسلم علیہ ہللاصلی نبی سنا
کو اس ہللا یا :
تمک کو اس میں ملک اور سکھائیے کتاب
الخفاء ُ(ازال بچائیے۔ سے عذاب کو اس اور کیجئے عطا )(اقتدار ین
جلد
صفحہ ،چہارم
۵۱۶
)
کو تمکین کی عنہ ہللارضی معاویہ حضرت ؒ
نانوتویقاسم محمد موالنا برعکس کے اس
’’
تمکین دینی
‘‘
قرار
نہیں
چند ہر عنہ ہللارضی معاویہ امیر رہے باقی : کہ ہیں فرماتے وہ چنانچہ ۔ دیتے
آئ میسر تمکین بظاہر کو ان
لیکنی
- 23.
23
ک نہیںپوشیدہ پررَیِس ِواقفان چنانچہ تھی۔ سلطنت و ملک تمکین،تھی نہیں دین تمکین وہ میں حقیقت
کے اربعہ خلفا ہ
فقی گذران کی ان ،تھا فرق کا آسمان زمین میں انداز اور اطوار کے عنہ ہللارضی معاویہ امیر اور انداز اور اطوار
رانہ
اور
صح یکہباوجود کو ان سنت ِاہل لیے اس ساتھا۔ کا ملوک طور کا عنہ ہللا رضی معاویہ امیر اور تھی زاہدانہ
ابی
ُ(ہدی ہے۔ فرق بھی میں ملوک ،ملوک لیکن ہیں کرتے شمار میں ملوک گنتے نہیں میں خلفا ،ہیںسمجھتے
، ُالشیع
صفحہ
۶۶
)ملتان اشرفیہ تالیفات ادارہ ۔مطبوعہ
نانو حضرت
کہ سکتا جا کیا نہیں اتفاق ساتھ کے رائے اس کی ؒ توی
’’
بل تھی نہحاصل دین ِتمکینانہیں
ملک تمکین کہ
ت فرق کا آسمان زمین میں انداز و اطوار کے اربعہ خلفائے اور میں انداز و اطوار کے ان اور تھی حاصل سلطنت و
ھا ‘‘
سات کے سلطنت و ملک تمکین کو عنہ ہللا رضی معاویہ حضرت
ا تھی۔ حاصل بھی دین تمکینًایقین ساتھ ھ
سنت اہل مام
:کہ ہیں لکھتے میں بارے کے خالفت کی عنہ ہللا رضی علی حضرت ؒ لکھنوی عبدالشکور موالنا
’’
تمکیاور
ان دین ن
تھا۔ کا ؓثالثہ خلفا حضرات جو تھا وہی دین کا ان کیونکہ تھیحاصل کو
(‘‘
صفحہ ،سنت اہل تحفہ
۲۵
تحریک مطبوعہ ۔
)پاکستان سنت اہل امِّدخ
آ تھا؟ مختلف دین کا راشدین خلفا رو پیش کے ان اور عنہ ہللارضی معاویہ حضرت کیا کہ ہے یہسوال اب تو
خود ئیے
ہیں لیتےپوچھ سے ہی عنہ ہللارضی علی حضرت:
والظاہ :کہ کیا جاری مراسلہ گشتی ایک ذیل حسب بعد کے ینِّفص جنگ نے عنہ ہللارضی علی حضرت
ِّبر ِّان ر
و واحد نا
یستزیدوننا۔ظا وال برسولہوالتصدیق ّٰباّٰلل االیمان فی نستزیدہم الواحدة االسالم فی دعوتنا و واحد ِّناینب
ہمارا کہ ہے ہر
تصدی کی وسلم علیہ ہللا صلی رسول کے اس اور النے ایمان پر ٰ
تعالی ہللا ہیں۔ ایک نبی ہمارے ،ہے ایک رب
کرنے ق
سے ان ہم نہ میں
البالغ (نہج ہے۔جیسی ایک حالت دینی کی ان اور ہماری ہیں زیادہ سے ہم وہ نہ اور ہیں زیادہ
جلد ہ
صفحہ ،دوم
۱۱۴
)
ک ان تھی۔ حاصل تمکیندنیوی و دینی کو عنہ ہللا رضی معاویہ حضرت کہ ہے حقیقت تردید ناقابل ایک یہ
وہی بھی ا
دی وہی اور تھا کا خلفا رو پیش کے ان جو تھا دین
یہی اور اور تھا غالب اور رائج میں راشدہ خالفت عہد کے ان ن
وس علیہ ہللاصلی اکرم نبی ہے۔ نتیجہ کا برکت کی وسلم علیہ ہللا صلی نبوی دعائے جو ہے دین تمکین
کے ان نے لم
کہ فرمائی دعا یوں لیے
: العذاب۔ وقہ البالد فی لہ نِّکم و الکتاب مہِّعل ہمّٰالل
قر انہیں !ہللا اے
و رکھ۔(البدایہ محفوظ سے عذاب انہیں اور دے تمکین انہیں میں ملک اور دے سکھا علم کا آن
النہایہ
جلد
۸
صفحہ ،
۱۲۱
)
کے آسمان و زمین میں انداز و طور کے عنہ ہللارضی معاویہ حضرت اور عنہم ہللا رضی اربعہ خلفائے تک جہاں
فرق
کے ان تو ہے تعلق کا
’’
انداز و طور
‘‘
توثیق کی
ع ہللارضی عثمان حضرت اور عمر حضرت راشدین خلفائے دو
نہما
تھی۔ کی نے
:کہ ہیں لکھتے فرہاروی عبدالعزیز عالمہ
’’
المباحات فی ِّعستو ہِّنکٰل ًامنکر یرتکب لم ان فہو ُمعاوی اِّام و
‘‘
ح
ضرت
ان لیکن تھا کیا نہیں ہرگز کام شرع خالف اور منکر کوئی گرچہ نے عنہ ہللا رضی معاویہ
مباحاتکے نے ہوں
استعمال
صفحہ العقائد لشرح شرح براسِّن(ال لیا۔ کام سے فراخی میں کرنے
۵۱۱
)
کہ نہیں معلوم
’’
المباحات فی ِّعستو
‘‘
ہوئیواقع تبدیلیاں کیا میں دین ،ہیں گئی ٹوٹحدود سے کون سے
کیا اور ہیں
ہے؟ سکتا جا کیا فرق کا آسمان و زمین اسے
ہ لکھتے کثیر ابن امام
:کہ یں
’’
االرض اطراف من الیہ ترد والغنائم ُعالی ّٰاّٰلل ُوکلم قائم ِّالعدو بالد فی والجہاد
وعفو۔ وصفح عدل و ُراحفی معہ والمسلمون
‘‘
می ممالک کے دشمنوں میں دور کے عنہ ہللا رضی معاویہ حضرت
ں
غنیمت مال سے اکناف و اطراف اور رہا سربلند کلمہ کا ہللا ،رہا جاری جہاد
ک ان مسلمان اور رہی جاری پیل ریل کی
ے
جلد والنہایہ (البدایہ رہے۔ کرتے بسرزندگی کی درگذر و عفو اور عدل و راحت سایہ زیر
۸
صفحہ ،
۱۱۹
)