Download free for 30 days
Sign in
Upload
Language (EN)
Support
Business
Mobile
Social Media
Marketing
Technology
Art & Photos
Career
Design
Education
Presentations & Public Speaking
Government & Nonprofit
Healthcare
Internet
Law
Leadership & Management
Automotive
Engineering
Software
Recruiting & HR
Retail
Sales
Services
Science
Small Business & Entrepreneurship
Food
Environment
Economy & Finance
Data & Analytics
Investor Relations
Sports
Spiritual
News & Politics
Travel
Self Improvement
Real Estate
Entertainment & Humor
Health & Medicine
Devices & Hardware
Lifestyle
Change Language
Language
English
Español
Português
Français
Deutsche
Cancel
Save
Submit search
EN
Uploaded by
Engr
92 views
عیسی ابن مریم
عیسی ابن مریم.pdf
Spiritual
◦
Read more
0
Save
Share
Embed
Embed presentation
Download
Download to read offline
1
/ 97
2
/ 97
3
/ 97
4
/ 97
5
/ 97
6
/ 97
7
/ 97
8
/ 97
9
/ 97
10
/ 97
11
/ 97
12
/ 97
13
/ 97
14
/ 97
15
/ 97
16
/ 97
17
/ 97
18
/ 97
19
/ 97
20
/ 97
21
/ 97
22
/ 97
23
/ 97
24
/ 97
25
/ 97
26
/ 97
27
/ 97
28
/ 97
29
/ 97
30
/ 97
31
/ 97
32
/ 97
33
/ 97
34
/ 97
35
/ 97
36
/ 97
37
/ 97
38
/ 97
39
/ 97
40
/ 97
41
/ 97
42
/ 97
43
/ 97
44
/ 97
45
/ 97
46
/ 97
47
/ 97
48
/ 97
49
/ 97
50
/ 97
51
/ 97
52
/ 97
53
/ 97
54
/ 97
55
/ 97
56
/ 97
57
/ 97
58
/ 97
59
/ 97
60
/ 97
61
/ 97
62
/ 97
63
/ 97
64
/ 97
65
/ 97
66
/ 97
67
/ 97
68
/ 97
69
/ 97
70
/ 97
71
/ 97
72
/ 97
73
/ 97
74
/ 97
75
/ 97
76
/ 97
77
/ 97
78
/ 97
79
/ 97
80
/ 97
81
/ 97
82
/ 97
83
/ 97
84
/ 97
85
/ 97
86
/ 97
87
/ 97
88
/ 97
89
/ 97
90
/ 97
91
/ 97
92
/ 97
93
/ 97
94
/ 97
95
/ 97
96
/ 97
97
/ 97
More Related Content
PDF
محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
by
Engr
PPTX
The birth of our lord in urdu (pakistani)
by
Martin M Flynn
PDF
Islam.pdf
by
Engr
PDF
اصولِ ایمان
by
Islamhouse.com
PPTX
حضرت داؤد علیہ السلام LIFE AND DESCRIPTION AND ITS SAYINGS AND LIFE
by
muk7971
PDF
Sunnat Kise Kehte Hai.pdf
by
Engr
PPT
تدوین قرآن في عهد النبي
by
Abdul Maalik Hashmi
PDF
Urdu - The Epistle of Ignatius to the Philadelphians.pdf
by
Filipino Tracts and Literature Society Inc.
محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
by
Engr
The birth of our lord in urdu (pakistani)
by
Martin M Flynn
Islam.pdf
by
Engr
اصولِ ایمان
by
Islamhouse.com
حضرت داؤد علیہ السلام LIFE AND DESCRIPTION AND ITS SAYINGS AND LIFE
by
muk7971
Sunnat Kise Kehte Hai.pdf
by
Engr
تدوین قرآن في عهد النبي
by
Abdul Maalik Hashmi
Urdu - The Epistle of Ignatius to the Philadelphians.pdf
by
Filipino Tracts and Literature Society Inc.
Similar to عیسی ابن مریم
PDF
Para 13
by
ammara khurram
PDF
بحال شدہ عیسائی Ourdou
by
Jean-Jacques PUGIN
PPTX
محرم الحرام- About the History of Muharam ul Haram
by
fatimakhan030758
PDF
اسلام - آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا.pdf
by
KashifAkmalMHassni
PDF
قرآن
by
Engr
RTF
Documentاااا
by
Murabitoon
PDF
Urdu - The Gospel of the Birth of Mary.pdf
by
Filipino Tracts and Literature Society Inc.
PDF
Urdu - Tax and Tithe Biblical Principles.pdf
by
Filipino Tracts and Literature Society Inc.
PDF
Urdu - 2nd Maccabees.pdf
by
Filipino Tracts and Literature Society Inc.
PDF
حرمتِ دم اور تکریمِ بشر
by
MeharHamza2
PDF
Urdu - The Apostles' Creed.pdf
by
Filipino Tracts and Literature Society Inc.
PPTX
Hazrat Muhammad (part 1)
by
sobia sultan
PDF
Para 15
by
ammara khurram
DOC
1951-2.doc
by
Noaman Akbar
PDF
Para 12
by
ammara khurram
PDF
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
by
Engr
PDF
Shan e ahlebyat aur quran
by
Adeel Naqvi
PPTX
Seerah of Muhammad (PBUM)
by
Tuba Ashfaq
PDF
Para 11
by
ammara khurram
PPT
Khutbat madras 2
by
Mohammed Abbas Ansari
Para 13
by
ammara khurram
بحال شدہ عیسائی Ourdou
by
Jean-Jacques PUGIN
محرم الحرام- About the History of Muharam ul Haram
by
fatimakhan030758
اسلام - آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا.pdf
by
KashifAkmalMHassni
قرآن
by
Engr
Documentاااا
by
Murabitoon
Urdu - The Gospel of the Birth of Mary.pdf
by
Filipino Tracts and Literature Society Inc.
Urdu - Tax and Tithe Biblical Principles.pdf
by
Filipino Tracts and Literature Society Inc.
Urdu - 2nd Maccabees.pdf
by
Filipino Tracts and Literature Society Inc.
حرمتِ دم اور تکریمِ بشر
by
MeharHamza2
Urdu - The Apostles' Creed.pdf
by
Filipino Tracts and Literature Society Inc.
Hazrat Muhammad (part 1)
by
sobia sultan
Para 15
by
ammara khurram
1951-2.doc
by
Noaman Akbar
Para 12
by
ammara khurram
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
by
Engr
Shan e ahlebyat aur quran
by
Adeel Naqvi
Seerah of Muhammad (PBUM)
by
Tuba Ashfaq
Para 11
by
ammara khurram
Khutbat madras 2
by
Mohammed Abbas Ansari
More from Engr
PDF
خود مختار ریاستوں کی فہرست
by
Engr
PDF
پاکستان میں ہوائی اڈوں کی فہرست
by
Engr
PDF
پاک بھارت جنگ 1965ء.pdf
by
Engr
PDF
پاک بھارت جنگ 1971ء کے بارے میں مکمل تفصیلی معلومات.pdf
by
Engr
PDF
پاکستان کی سیاسی جماعتیں
by
Engr
PDF
فقہ
by
Engr
PDF
امام ابو حنیفہ
by
Engr
PDF
جن
by
Engr
PDF
اسلامی اقتصادی نظام کے بارے میں مکمل تفصیلی معلومات
by
Engr
PDF
اسلام میں مذاہب اور شاخیں کے بارے میں مکمل تفصیلی معلومات
by
Engr
PDF
Ahl Tashee.pdf
by
Engr
PDF
آخرت
by
Engr
PDF
وفاق المدارس العربیہ پاکستان
by
Engr
PDF
جادو
by
Engr
PDF
تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان
by
Engr
PDF
ahl e sunnat.pdf
by
Engr
PDF
Tasauf.pdf
by
Engr
PDF
فتح مکہ
by
Engr
PDF
Ahl al Bait.pdf
by
Engr
PDF
علم غیب (اسلام)
by
Engr
خود مختار ریاستوں کی فہرست
by
Engr
پاکستان میں ہوائی اڈوں کی فہرست
by
Engr
پاک بھارت جنگ 1965ء.pdf
by
Engr
پاک بھارت جنگ 1971ء کے بارے میں مکمل تفصیلی معلومات.pdf
by
Engr
پاکستان کی سیاسی جماعتیں
by
Engr
فقہ
by
Engr
امام ابو حنیفہ
by
Engr
جن
by
Engr
اسلامی اقتصادی نظام کے بارے میں مکمل تفصیلی معلومات
by
Engr
اسلام میں مذاہب اور شاخیں کے بارے میں مکمل تفصیلی معلومات
by
Engr
Ahl Tashee.pdf
by
Engr
آخرت
by
Engr
وفاق المدارس العربیہ پاکستان
by
Engr
جادو
by
Engr
تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان
by
Engr
ahl e sunnat.pdf
by
Engr
Tasauf.pdf
by
Engr
فتح مکہ
by
Engr
Ahl al Bait.pdf
by
Engr
علم غیب (اسلام)
by
Engr
عیسی ابن مریم
1.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 1/97 مریم ابن عیسی ہوئی نازل انجیل پر جن نبی اسالمی جو ہیں۔ مانتے نبی برگزیدہ کا ہللا کو ان مسلمان ہیں۔ نبی قرآنی ایک مریم ابن ٰیعیس زندہ پھر رہے پر زمین تک مدت ایک ہوئے۔ مبعوث لیے کے رہبری اور ہدایت کی خدا مخلوق ایک گے۔ ہوں عامل پہ محمدیہ شریعت اور salahuddins بذریعہ "" گئے۔ لیے اٹھا پر آسمان گے۔ ہوں مدفون میں منورہ مدینہ کر فرما وصال پھر اور گے کریں قیام تک مدت مریم بن ٰیعیس پیدائش م ق 2-7 ًاتقریب سلطنت رومی ،یہودیہ ،اللحم بیت غائب ء33 - ء30 یروشلم ،گتسمنی والدہ عمران بنت مریم زبان عبرانی پیشہ مبلغ صحائف انجیل شمار پہلے سے آخری دین منسوب مسیحیت انبیا/نبی معاصر السالم علیہ ٰییحی ذکر میں کتابوں آسمانی میں انجیل اور قرآن نبی پیشرو سلم و آلہ و علیہ ہللا صلی محمد نبی جانشین السالم علیہ ٰییحی خاندان قرآن تھیں۔ بنی ماں کنواری جو تھے بیٹے کے عمران بنت مریم ٰیعیس مطابق کے قرآن سے نسل کی السالم علیہ داؤد السالم علیہ ٰیعیس مطابق کے روایات اسالمی اور تھے۔ سے نسل کی السالم علیہ اسحاق بیٹے کے ان اور السالم علیہ ابراہیم یعنی تھے یہ اور ہے کہا بیٹا کا السالم علیہا مریم صرف کو السالم علیہ ٰیعیس نے قرآن ]درکار حوالہ[ علیہا مریم کو السالم علیہ ٰیعیس یعنی تھے سے میں ذریت کی انبیا وہ کہ بھی ہے۔ دیا قرار ذریت کی انبیا سے وساطت کی السالم المسیح قیامت کریں۔ مالحظہ المسیح قیامت لیے کے مضمون تفصیلی
2.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 2/97 زندہ انہیں نے ہللا بلکہ ہوئی نہیں واقع موت کی عیسی مطابق کے مسلمانوں اکثر ان کہ ہے جاتا کہا ہوگا۔ایسا نزدیک کے قیامت salahuddins بذریعہ "" اور لیا اٹھا پر آسمان دوبارہ کا ان اور گیا لیا اٹھا پر آسمان زندہ کو ان ہوا۔ مصلوب شکل ہم ایک کا ان جگہ کی ہوگا۔ نزدیک کے قیامت ظہور الزمان آخر سے رو کی احادیث و قرآن نظریات پر آمد دوبارہ ہیں کی بیان وجوہات کچھ کی ہونے ملعون کے یہود میں آیات ان کی النساء سورۃ نے ہللا کہ؛ ہے میں ان جملہ من 157 آیت ،النساء سورة ،رسول کے ہللا نے ہم کہ )(بھی سے وجہ کی )ی دعٰو فخریہ (یعنی کہنے اس کے ان اور کیا قتل کو ان نہ نے انہوں حاالنکہ ،ہے ڈاال کر قتل کو السالم علیہ ٰیعیس بیٹے کے مریم السالم علیہ ی عیٰس کو (کسی لیے کے ان )کہ یہ (ہوا مگر چڑھایا پر صلیب انہیں نہ اور ًایقین وہ ہیں رہے کر اختالف میں بارے کے ان لوگ جو بیشک اور گیا دیا بنا شکل ہم )کا ہیں ہوئے پڑے میں شک سے )حوالے کے (قتل اس 158 آیت ،النساء سورة اور )ہیں رہے (کر پیروی کی گمان کہ یہ مگر نہیں علم بھی کچھ )کا حال ِت(حقیق انہیں کیا۔ نہیں قتل ًایقین کو )السالم (علیہ ی عیٰس نے انہوں کہ ہے میں النساء سورہ عالوہ کے اس اور 159 آیت ،النساء سورة یا (فرد کوئی سے میں کتاب ِلاہ )وقت کے السالم علیہ ٰیعیس ِلنزو قیامت ِب(قر اور (صحیح ضرور پہلے سے موت کی ان پر )السالم (علیہ ٰیعیس وہ مگر گا رہے نہ )فرقہ ہوں گواہ پر ان )السالم (علیہ ی عیٰس دن کے قیامت اور گا آئے لے ایمان ) سے طریقے گے۔ اہل تو ہوگا نزول سے آسمان کا ان جب پیشتر سے وفات کی السالم علیہ ٰیعیس یعنی کریں تصحیح کی عقیدے اپنے میں بارے کے ان اور گے مانیں کو ان کر دیکھ کو ان کتاب گے۔ نبوی حدیث احادیث ان ہیں۔ پہنچتی کو تواتر درجہ احادیث متعلق کے السالم علیہ مسیح نزول و حیات نزول في تواتر بما «التصريح کتاب اپنی نے کشمیری شاہ انور محمد ہونا متواتر کا ہیں؛ خدمت پیش احادیث چند ہے۔ کیا ثابت میں »المسيح وامامكم فيكم مريم ابن نزل اذا انتم كيف ( : قال عنه هللا رضي هريرة ابي وعن )ومسلم البخاري (رواه منكم حال کیا فرمایا نے َمَّل َوَس ٖہِلٰاَو ِہْیَلَع یٰلاَتَع ُہللا یَّلَص مصطفی محمد کہ ہے روایت سے ہریرہ ابو سے میں تم امام تمہارا اور گے ہوں نازل سے آسمان مریم ابن ی عیٰس جب کہ تمہارا ہوگا ہوگا۔ ابن عيسى ينزل :َموسل عليه هللا صلى هللا رسول قال :قال عمر بن هّللا عبد عن ثم سنة وأربعين ا ًسخم ويمكث له دَلوُيو فيتزوج األرض إلى السالم عليه مريم أبي بين ٍدواح قبر من مريم ابن وعيسى أنا فأقوم قبري في معي دفنُيف يموت
3.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 3/97 ہللا رسول محمد کہ ہے روایت سے عنہما یٰلاتع ہللا رضی عمر ابن ہللا عبد وعمر بكر زمیں السالم علیہ ی عیٰس میں آئندہ زمانہ کہ فرمایا ارشاد نے وسلم آلہ و علیہ ہللا صلی ابو ،مریم ابن مسیح اور میں دن کے قیامت گے۔ ہوں مدفون قریب میرے اور گے تریںُا پر گے۔ ٹھیںُا سے قبر ہی ایک والی میں درمیان کے وعمر بکر ان لليهود وسلم وآله عليه هللا صلي هللا رسول قال :قال ًالمرس الحسن عن القيامة يوم قبل اليكم راجع وانه يمت لم عيسى وسلم آلہ و علیہ ہللا صلی ہللا رسول محمد کہ ہے روایت ًالمرس سے بصری حسن امام کر لوٹ ضرور قریب کے قیامت وہ مرے نہیں السالم علیہ ی عیٰس کہ فرمایا سے یہود نے گے۔ آئیں وقت کے نزول کے السالم علیہ ی عیٰس کہ ہے ثابت سے مبارکہ احادیث سی بہت دیگر ہدایت اس السالم علیہ ی عیٰس اور گے ہوں السالم علیہ مہدی امام ،امام کے مسلمانوں گے۔ کریں ادا نماز میں اقتداء کی امام یافتہ واقعہ ََالتفصی کا السالم علیہ ٰیعیس )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت اور عزیز قرآن جس اور ‘ ہیں سے میں پیغمبروں العزم اولوا اور القدر جلیل )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت حضرت طرح اسی ہیں رسل و االنبیاء خاتم )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی اکرم نبی طرح کہ ہے اجماع پر اس کا جمہور اور ‘ ہیں اسرائیل بنی االنبیاء خاتم )السالم (علیہ ٰیعیس کوئی درمیان کے )السالم (علیہ ٰیعیس اور )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی ہللا رسول محمد فترۃ ہے سال ستر سو پانچ ًاتقریب مدت کی جس زمانہ کا درمیان اور ‘ ہوا نہیں مبعوث نبی ایک کا شان عظمت اور قدر جاللت کی )السالم (علیہ ٰیعیس ہے۔ زمانہ کا )وحی (انقطاع )السالم (علیہ ٰیموس حضرت میں اسرائیل بنی انبیائے اگر کہ ہے بھی یہ نشان امتیازی بنی انبیائے مجدد )السالم (علیہ ٰیعیس تو ہے حاصل امامت مقام کا رسالت و نبوت کو کے ہدایت و رشد کی اسرائیل بنی بعد کے ) توراۃ ( ربانی قانون کہ لیے ‘اس ہیں اسرائیل یہ اور ہوئی نہیں نازل کتاب کوئی دوسری المرتبت عظیم زیادہ سے )(بائبل انجیل لیے یعنی ہے ہوا میں شکل کی ہی تکمیل کی توراۃ قانون نزول کا انجیل کہ ہے حقیقت ایک تھیں۔ کرلی پیدا میں حق دین گمراہیاں کی قسم قسم جو نے یہود بعد کے توراۃ نزول دی دعوت کی بچنے سے گمراہیوں ان کو اسرائیل بنی کر بن شارح کی توراۃ نے انجیل (علیہ ٰیموس حضرت میں اسرائیل بنی اور دیا انجام فرض کا توراۃ تکمیل طرح اس اور اور دالیا یاد دوبارہ نے ہی )السالم (علیہ ٰیعیس ہدایت پیغام شدہ فراموش کا )السالم کہ یہ برآں ‘مزید بخشی زندگی دوبارہ کو کھیتی خشک اس ذریعہ کے رحمت باران تازہ سے سب کے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی محمد کائنات سرور )السالم (علیہ ٰیعیس دونوں مستقبل اور ماضی درمیان کے پیغمبروں مقدس دو ہر اور ہیں مبشر اور مناد بڑے وآلہ علیہ ہللا (صلی اکرم نبی نے عزیز قرآن ہے۔ جاتا پایا عالقہ اور رابطہ خاص میں زمانوں بحث زیادہ بہت سے واقعات کے ہستیوں پاک جن میں سلسلہ کے مماثلت کی )وسلم کی )السالم (علیہم ٰیعیس حضرت اور ٰیموس حضرت ‘ ابراہیم حضرت میں ان ہے کی قرآن شخصیت کی )السالم (علیہ ابراہیم حضرت ہیں۔ آتی نظر نمایاں زیادہ ہستیاں مقدس ملت اور قویم دین جس کہ ہے رکھتی اہمیت زیادہ لیے اس میں “ ِہّٰللا ِماَّیَاِب رْیِکْذَت ” کے تھا وابستہ ساتھ کے تقدیس کی )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی محمد کمال و عروج کا بیضاء )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی اقدس ذات مرکز و محور کا تبلیغ و دعوت کی ملت جس اور کیونکہ } َمْیِھ ٰرْبِا ْمُکْیِبَا َۃَّلِم { ہے موسوم سے نام کے ابراہیم ملت وہ تھی۔ والی بننے ہیٰلا توحید پہلے سے سب میں مقابلہ کے شرک نے جنہوں ہیں پیغمبر بوڑھے وہ یہی ملت ” لیے کے مستقیم راہ کی خدا لیے کے ہمیشہ آئندہ اور دیا لقب کا حنیفیت کو کی کائنات مظاہر لیے کے پرستش کی خدا جو ‘یعنی کردیا قائم امتیاز کا “ حنیفیہ کر ہو قائل کا یکتائی کی کائنات خالق جو اور ہے “ مشرک ” وہ ہے بناتا وسیلہ کو پرستش
4.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 4/97 خدا نے پیغمبر مقدس اس ہے۔پس “ حنیف ” وہ ہے کرتا پرستش کی اسی راست براہ میں مستقبل کہ کیا نمایاں درجہ اس میں حیثیت عملی کو تصور حقیقی اس کے پرستی کی برتر خدائے اور گئی بن معیار کا صداقت و حق پیروی کی اس لیے کے حق ادیان امام کا ہدایت و رشد کائنات پیغمبر مقدس یہ کہ ہوا عطا شرف یہ کا قبولیت سے جانب : گیا پا قرار اعظم مجدد اور اکبر کر کٹ سے سب جو ‘ کی ملت کی ابراہیم کرو پیروی اور ” } اْیًفِنَح َمْیِھ ٰرْبِا َۃَّلِم اْوُعِبَّتاَف { “ ہے۔ واال جھکنے جانب کی خدا صرف باپ تمہارے ہے ملت یہ ” } اَذ ٰھ ِفْی َو ُلْبَق ْنِم َنْیِلِم ُمْسْلا ُمُکّٰم َس َوُھ َمْیِھ ٰرْبِا ْمُکْیِبَا َۃَّلِم { بھی میں قرآن اس اور قبل سے قرآن نزول رکھا “ مسلم ” نام تمہارا نے اس ‘ کی ابراہیم تابعدار کا خدا مسلم ہیں۔ متحد میں مفہوم حنیف اور (مسلم “ ہے۔ “ مسلم ” نام تمہارا ) واال۔ ہوجانے کا خدا صرف کر پھیر منہ سے سب حنیف اور ان کہ ہے حامل کا اہمیت لیے اس تذکرہ کا زندگی مقدس کی )السالم (علیہ ٰیموس اور نبرد سے خدا ‘دشمنان نافرمانی و جہالت کی قوم یعنی واقعات کے تبلیغ و دعوت کی دوسرے کے قسم اسی اور ‘ ثبات و دوام کا استقالل و صبر پر آالم و مصائب پیہم ‘ آزمائی زیادہ بہت درمیان کے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی اکرم نبی اور کے ان میں حاالت و کوائف اور حق انکار و قبول ‘ حاالت و واقعات وہ لیے اس اور ہے۔ جاتی پائی مناسبت و مشابہت و نظائر اور کرتے مہیا سامان کا عبرت و بصیرت میں سلسلہ کے نتائج شدہ پیدا سے ان مقدس کا طیبہ حیات کی )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت اور ہیں رکھتے حیثیت کی شواہد ہے۔ رکھتا اہمیت خاص پر بنا کی امتیازات و خصوصیات باال مسطورہ ذکر تفصیل و بسط کو واقعات و حاالت کے )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت نے عزیز قرآن غرض حضرت والدہ کی ان پر طور کے دیباچہ کے طیبہ حیات کی ان اور ہے کیا بیان ساتھ کے رْیِکْذَت ” مقصد کا قرآن تاکہ ہے کیا روشن بھی کو زندگی واقعات کے )السالم (علیہا مریم ہو۔ پورا “ ِہّٰللا ِماَّیَاِب مبارک نام جگہ کسی سے میں ان ‘ ہے ہوا میں سورتوں تیرہ کی عزیز قرآن پاک ذکر یہ لقب کے “ عبدہللا ” اور “ مسیح ” جگہ کسی اور ہے گیا کیا یاد سے )(یسوع ٰیعیس کا حقیقت اس ذیل نقشہ ساتھ۔ کے اظہار کے “ مریم ابن ” کنیت پر مقام کسی اور سے : ہے معاون ممدو لیے کے بصیرت کی مطالعہ ارباب اور کاشف آیات تعداد مریم ابن عبدہللا مسیح ٰیعیس وآیات سورة شمار ٥ ٢ ٠ ٠ ٣ ٢٥٣ ‘١٣٨ ‘١٣٧ ‘١٣٦ ‘٨٧ البقرۃ ١ ١٩ ١ ٠ ١ ٥ ٨٤ ‘٥٩ تا ٤٢ عمران آل ٢ ٧ ٢ ٠ ٣ ٣ ١٧٢ ‘١٧١ ‘١٦٣ ‘١٥٩ تا ١٥٦ النساء ٣ ١٤ ١٠ ٠ ٥ ٦ ١١٨ ‘١١٠ ‘٧٨ ‘٧٥ ‘٧٢ ‘٤٦ ‘١٧ المائدہ ٤ ١ ٠ ٠ ٠ ١ ٨٥ االنعام ٥ ٢ ١ ٠ ١ ٠ ٣١ ‘٣٠ التوبہ ٦ ٢١ ١ ١ ١ ١ ٣٦ تا ١٦ مریم ٧ ١ ١ ٠ ٠ ١ ٥٠ المومنون ٨ ٢ ١ ٠ ٠ ١ ٨ ‘٧ االحزاب ٩ ١ ٠ ٠ ٠ ١ ١٣ ٰیالشور ١٠ ٩ ١ ٠ ٠ ١ ٦٥ تا ٥٧ الزخرف ١١ ١ ١ ٠ ٠ ١ ٢٧ الحدید ١٢ ٢ ٢ ٠ ٠ ٢ ١٤ ‘٦ الصف ١٣ حنہ و عمران میں اسرائیل بنی ہے۔کہ چکا گزر میں حاالت کے )السالم (علیہما ٰییحی اور زکریا حضرت امامت کی نماز سے وجہ کی عبادت و زہد اسی اور تھے شخص زاہد و عابد ایک عمران اپنی اور تھیں عابدہ اور پارسا بہت بھی حنہ بیوی کی ان اور تھی سپرد کے ہی ان بھی
5.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 5/97 تھے۔ مقبول و محبوب بہت میں اسرائیل بنی دونوں وہ سے وجہ کی نیکی : ہے کیا بیان طرح اس نامہ نسب کا عمران نے مغازی صاحب ؒقاسحا بن محمد بن یاوش بن امصیا بن عزازیا بن موثم بن احریق بن حزقیا بن میشا بن یاشم بن عمران داؤد بن سلیمان بن )(رحبعام رحبعم بن ایان بن ایشا بن یہفاشاط بن یازم بن احریہو ۔ )السالم (علیہما بیانات دونوں ان اور ہیں کئے بیان نام دوسرے عالوہ کے ناموں ان نے عساکر ابن حافظ اور عمران کہ ہے اتفاق کا انساب علمائے تمام پر اس تاہم ہے جاتا پایا اختالف کافی میں بھی قبیل بن فاقوذ بنت حنہ اور ہیں سے میں اوالد کی )السالم (علیہ سلیمان حضرت ہیں۔ سے نسل کی )السالم (علیہ داؤد اوالد کے ان کہ تھیں متمنی زیادہ بہت حنہ بیوی کی ان اور تھے نہیں اوالد صاحب عمران منتظر وقت ہر لیے کے دعاء قبولیت اور بدعا دست میں ہیٰلا درگاہ لیے کے اس وہ ‘ ہو دیکھا ‘ تھیں رہی کر قدمی چہل میں مکان صحن حنہ مرتبہ ایک کہ ہیں کہتے تھیں۔ رہتی اور لگی چوٹ سخت کر دیکھ یہ پر دل کے حنہ ‘ ہے رہا بھرا کو بچہ اپنے پرندہ ایک کہ ہاتھ لیے کے دعا میں ہیٰلا بارگاہ میں اضطراب حالت اور مارا جوش بہت نے تمنا کی اوالد : کیا عرض اور دیئے اٹھا کا دل اور نور کا آنکھوں ہماری وہ کہ کر عطا اوالد بھی کو مجھ طرح اسی ! پروردگار ” “ بنے۔ سرور کہ کیا محسوس بعد روز چند نے حنہ اور پہنا جامہ کا قبولیت نے دعا ہوئی نکلی سے دل لی مان نذر نے انھوں کہ ہوئی مسرت درجہ اس سے احساس اس کو حنہ ہے حاملہ وہ گی۔ دوں کر وقف لیے کے خدمت کی ) ٰیاقص (مسجد ہیکل کو اس ہوگا پیدا بچہ جو کہ کہ تھی جاتی سمجھی مقدس بہت رسم یہ سے میں رسوم مذہبی کی اسرائیل بنی کی عمران نے ٰیتعال ہللا بہرحال کریں۔ وقف لیے کے خدمت کی ہیکل کو اوالد اپنی وہ بر امید ساتھ کے شادمانی و مسرت وہ اور بخشا قبولیت شرف کو دعاء کی حنہ بیوی ہی حاملہ ابھی حنہ کہ ہیں کہتے اسحاق بن لگیں۔بشر کرنے انتظار کا گھڑی کی آنے ہوگیا۔ انتقال کا عمران شوہر کے ان کہ تھیں والدت کی )السالم (علیہا مریم بطن کے ان کہ ہوا معلوم کو حنہ تو آپہنچا وقت کا والدت اور ہوگئی پوری حمل مدت جب لڑکے بھی لڑکی یہ لیے کے حنہ ہے تعلق کا اوالد تک ‘جہاں ہے ہوئی پیدا لڑکی سے پوری وہ تھی مانی نذر جو نے میں کہ ہوا ضرور افسوس یہ کو ان مگر تھی نہ کم سے ؟ گی کرسکے خدمت کی ہیکل مقدس طرح کس لڑکی کہ لیے ‘اس گی سکے ہو نہیں ہی کو لڑکی تیری نے ہم کہ دیا بدل کر کہہ یہ کو افسوس کے ان نے ٰیتعال ہللا لیکن لڑکی نے حنہ ‘ پایا قرار مبارک اور معزز بھی خاندان تمہارا سے وجہ کی اس اور کیا قبول خدمت کی ہیکل یہ چونکہ ‘ ہیں کے خادم معنی کے اس میں سریانی ‘ رکھا مریم نام کا کو واقعہ اس نے عزیز قرآن گیا۔ سمجھا موزوں نام یہ لیے اس گئیں کردی وقف لیے کے : ہے کیا بیان طرح اس ساتھ کے اختصار معجزانہ َو ٍضْعَب مْنِم َھاُضْعَب ًۃَّیِّرُذ ۔ َنْیِمَل ٰعْلا یَلَع َن ٰرْمِع َلٰا َو َمْیِھ ٰرْبِا َلٰا َّو اْوًحُن َو َدَمٰا یٰٓفَطْصا َہّٰللا َّنِا { ِمِّنْی َّبْلَقَتَف ًراَّرَحُم ِنْیْطَب ِفْی َما َکَل ُتْرَذَن ِّنْیِا َرِّب َن ٰرْمِع ُتَاَرْما ِتَلاَق ْذِا ۔ ْیٌمِلَع ٌعْیِم َس ُہّٰللا َو ْتَضَعَو َماِب ُمَل ْعَا ُہّٰللا َو ی ٰثْنُا َھآُتْعَضَو ِّنْیِا َرِّب ْتَلاَق َھاَضَعْتَو اَّمَفَل ۔ ْیُمِلَعْلا ُعْیِم َّسال َتْنَا َکَّنِا ۔ ِمْیِجَّرال ِنٰطْی َّشال َنِم َتَھاَّیِّرُذ َو َکِب اَھُذْیِعُا ْٓیِّنِا َو َمْرَیَم َھاْیُتَّم َس ِّنْیِا َو ی ٰثْنُاْلاَک ُرَکَّذال َسْیَل } اَّیِرَکَز َھاَکَّفَل َّو اًن َحَس اًتَباَن َبَتَھاْنَا َّو ٍن َحَس ٍلُبْوَقِب َھاُّبَر َھاَلَقَّبَتَف جہان )میں زمانہ اپنے (اپنے کو کو عمران آل اور ابراہیم آل اور نوح اور آدم نے ہللا بیشک ” ‘ واال سننے ہللا اور ہیں ذریت کی بعض بعض ) سے میں (ان فرمائی عطا بزرگی پر والوں مان نذر نے میں ! خدایا ” کہا نے بیوی کی عمران جب )کرو یاد وقت (وہ ہے۔ واال جاننے میری کو اس تو پس ہے آزاد میں راہ تیری وہ ہے۔ )(بچہ جو میں پیٹ میرے کہ ہے لی تو جنا نے اس جب پھر “ ہے۔ واال جاننے ‘ واال سننے تو بیشک فرما۔ قبول سے جانب
6.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 6/97 اور ہے جنا نے اس جو ہے جانتا خوب ہللا ہے ہوئی پیدا لڑکی میرے ! پروردگار ” لگی کہنے کرسکتا لڑکا کرسکتی نہیں لڑکی خدمت کی ہیکل (یعنی ہیں نہیں یکساں لڑکی اور لڑکا شیطان کو اوالد کی اس اور کو اس میں ‘اور ہے رکھا مریم نام کا اس نے میں اور )ہے بہت نے پروردگار کے اس کو مریم پس ہوں۔ دیتی میں پناہ تیری سے فتنہ کے الرجیم نگران کا اس کو زکریا اور کی پر طریق اچھے نشوونما کی اس اور فرمایا قبول طرح اچھی “ بنایا۔ کار (علیہا مریم حضرت اور ہے بھی نام کا والد کے )السالم (علیہ ٰیموس حضرت عمران ہیں۔ مراد )السالم (علیہا مریم والد یہاں ‘ بھی کا والد کے )السالم مقدس کہ ہوا پیدا سوال یہ اور پہنچیں کو شعور سن جب )السالم (علیہا مریم حضرت یہ نے ایک ہر سے میں ؎ ٢ کاہنوں تو جائے کی سپرد کے کس امانت یہ کی ہیکل کی امانت اس مگر جائے بنایا کو مجھ کفیل کا امانت مقدس اس کہ کی ظاہر خواہش )السالم (علیہا مریم وہ کہ لیے اس ‘ تھا نہ کوئی زیادہ سے زکریا حضرت اہل کا نگرانی خدائے اور کاہن معزز کے ہیکل مقدس اور تھے بھی شوہر کے )(الیشیع ایشاع خالہ کی جب مگر کیا پیش نام اپنا نے انھوں پہلے سے سب لیے اس ‘ تھے بھی نبی کے برتر آپس تو لگا ہونے اندیشہ کا کشمکش باہمی اور کی ظاہر خواہش یہی نے کاہنوں سب بنی روایات بقول اور جائے۔ کرلیا فیصلہ کا اس ذریعہ کے اندازی قرعہ کہ پایا طے میں کی قرعہ مگر ڈالتے )(پورے اپنے میں دریا وہ گئی کی اندازی قرعہ مرتبہ تین اسرائیل کہ دیکھا یہ جب نے کاہنوں ‘ نکلتا نام کا ہی )السالم (علیہ زکریا مرتبہ ہر مطابق کے شرط اس بخوشی نے انھوں تو ہے غیبی تائید ساتھ کے )السالم (علیہ زکریا میں معاملہ اس زکریا حضرت “ امانت سعید ” یہ طرح اس اور کردیا خم تسلیم سر سامنے کے فیصلہ گئی۔ کردی سپرد کے )السالم (علیہ خدمت اور کرتی ادا رسوم مذہبی میں ہیکل جو ہیں مراد ہستیاں مقدس وہ سے کاہن تھیں۔ مامور پر ہیکل یتیم وہ کہ آیا پیش لیے اس معاملہ یہ کا کفالت کی )السالم (علیہا مریم کہ ہے جاتا کہا میں زمانہ اس کہ ہیں کہتے بعض اور تھا نہیں کفیل کا ان کوئی سے میں مردوں اور تھیں بھی نہ اگر باتیں دونوں یہ لیکن ہوا۔ پیدا سوال کا کفالت لیے اس تھا زور بہت کا قحط (علیہا مریم کہ لیے رہتا۔اس باقی بھی پھر جگہ اپنی سوال کا کفالت بھی تب ہوتیں تھیں لڑکی چونکہ اور تھیں ہوچکی “ ہیکل نذر ” مطابق کے نذر کی والدہ اپنی )السالم انجام کو خدمت اس میں کفالت کی نیک مرد کسی وہ کہ تھا ضروری بس از لیے اس کا احترامات صنفی کے )السالم (علیہا مریم حضرت نے )السالم (علیہ زکریا غرض دیتیں۔ میں دن وہ تاکہ کردیا مخصوص لیے کے ان حجرہ ایک قریب کے ہیکل ہوئے رکھتے لحاظ کی ان پر مکان اپنے کو ان تو آتی رات جب اور ہوں ور بہرہ سے ہیٰلا عبادت کر رہ وہاں کرتیں۔ بسر شب وہیں وہ اور جاتے لے پاس کے ایشاع خالہ )السالم (علیہ مسیح حضرت میں قرآن ” : ہیں لکھتے میں القرآن ترجمان آزاد موالنا کی عمران آل سورة اور یہاں ‘ ہے گیا کیا جگہ دو ساتھ کے تفصیل زیادہ ذکر کا ظہور کے کی ٰییحی حضرت اور دعا کی )السالم (علیہ زکریا حضرت ذکر یہ یہاں ‘ میں ٦٣ ۔٣٥ آیات انجیل کی لوقا سینٹ سے میں اربعہ جیل انا اور ہے ہوا شروع سے بیان کے پیدائش اس تذکرہ یہ میں عمران آل سورة لیکن ہے۔ کرتی شروع تذکرہ یہ طرح اسی ٹھیک ٹھیک اور پیدائش کی مریم حضرت یعنی ‘ ہے ہوتا شروع سے واقعہ ایک کے پیشتر بھی سے لیکن ہیں خاموش انجیلیں چاروں میں بارہ اس اور سے واقعہ کے پانے پرورش میں ہیکل ہوااس برآمد سے خانہ کتب کے ویٹیکان نسخہ جو کا اناجیل متروک میں صدی انیسویں سے اس ہے کردیا مہیا ٹکڑا مفقود یہ کا پیدائش کی )السالم (علیہا مریم حضرت نے اسی بھی ٹکڑا یہ کا سرگزشت تک اوائل کے صدی چوتھی کم از کم کہ ہے ہوتا معلوم “ ہیں۔ جاتے کئے یقین ٹکڑے بقیہ طرح جس تھا جاتا کیا یقین الہامی طرح الیشع اور حنہ
7.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 7/97 کی )السالم (علیہا مریم )(الیشیع ایشاع کہ ہے یہ قول کا جمہور کہ ہیں فرماتے ؒرکثی ابن اور ٰیعیس نے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی اکرم نبی میں معراج حدیث اور تھیں ہمشیرہ ہے فرمایا ظاہر رشتہ جو “ ٍۃَلاَخ َناْبِا َماُھَو ” کر فرما یہ متعلق کے )السالم (علیہما ٰییحی ہے۔ ہوتی تائید کی قول کے جمہور بھی سے اس مریم نے قرآن کہ لیے اس ہے خالف کے دونوں تاریخ اور عزیز قرآن قول یہ کا جمہور لیکن بتارہا صاف وہ ہے کیا بیان ساتھ کے اسلوب جس کو واقعہ کے والدت کی )السالم (علیہا ًاقطع سے اوالد قبل سے والدت کی )السالم (علیہا مریم حضرت حنہ اور عمران کہ ہے ” کہا نہیں یہ پر والدت کی )السالم (علیہا مریم نے حنہ کہ ہے وجہ یہی تھیں محروم عطا ہی لڑکی بھی دوبارہ تونے اب ‘ تھی موجود لڑکی ایک بھی پہلے تو میرے ! خدایا قبول تونے دعا میری میں شکل جس کہ کیا عرض یہ میں ہیٰلا درگاہ بلکہ “ فرمائی تاریخ کی اسرائیل بنی اور توراۃ نیز کروں کیسے نذر تیری وعدہ حسب کو اس ہے فرمائی ماسوا کے )السالم (علیہا مریم کے حنہ اور عمران کہ نہیں ثابت یہ کہیں بھی سے یہ قول مشہور کا اسرائیلیات اور یہود تاریخ برعکس کے اس بلکہ تھی بھی اوالد اور کوئی یہ منسوب جانب کی جمہور دراصل تھیں۔ خالہ کی )السالم (علیہا مریم الیشاع کہ ہے نبی حاالنکہ ہے آیا میں ظہور نظر پیش کے جملہ باال مسطورہ کے معراج حدیث صرف قول بھائی زاد خالہ دونوں وہ ” “ ٍۃَلاَخ َناْبِا َماُھَو ” ارشاد یہ کا )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی اکرم کو خالہ کی والدہ توسع طریق بہ نے آپ یعنی ہے میں شکل کی متعارف مجاز “ ہیں شائع میں چال بول عام توسع کا قسم اس اور ہے فرمایا خالہ کی )السالم (علیہ ٰیعیس لیے اس ہے نظر محل بھی کہنا “ جمہور قول ” کو اس کا ؒکثیر ابن ازیں عالوہ ہے۔ ذائع و ہللا رحمہم حجر ابن اور جریر ابن ‘ عساکر ابن ‘ بشر بن اسحاق ‘ اسحاق بن محمد کہ کی حنہ ایشاع کہ ہے جانب اس رجحان کا سیر و حدیث اصحاب القدر جلیل جیسے ہیں۔ نہیں بیٹی کی حنہ ‘ ہیں خالہ کی )السالم (علیہا مریم اور ہمشیرہ ٰیوتقو زہد کا )السالم (علیہا مریم ان لیے کے ہیکل خدمت جب اور رہتیں میں ہیٰلا عبادت روز و شب )السالم (علیہا مریم بنی ٰیوتقو زہد کا ان کہ ٰیحت تھیں دیتی انجام بخوبی بھی کو اس تو آتی نوبت کی لگیں۔ جانے دی مثالیں کی عبادت و زہادت کی ان اور گیا بن المثل ضرب میں اسرائیل خداوندی مقبولیت کبھی میں سلسلہ کے نگہداشت ضروری کی )السالم (علیہا مریم )السالم (علیہ زکریا کہ آتی نظر عجیب بات یہ کو ان لیکن تھے کرتے جایا لے تشریف میں حجرہ کے ان کبھی کے بےموسم اکثر پاس کے )السالم (علیہا مریم تو ہوتے داخل میں کدہ خلوت وہ جب صرف میں آیت اور ہے ماخوذ سے روایات تفسیری اگرچہ تفصیل یہ پاتے۔ موجود پھل تازہ انسانی رزق یہ کا مریم کہ ہے ہوتا ثابت بصراحت سے آیت لیکن ہے آیا “ قِرِز ” لفظ )السالم (علیہ زکریا آخر تھا۔ ہللا جانب من کرامت بطور بلکہ تھا نہیں نتیجہ کا دادودہش آتے سے کہاں پھل بےموسم یہ پاس تیرے مریم : کیا دریافت نے انھوں اور گیا نہ رہا سے کو جس وہ ‘ ہے کرم و فضل کا پروردگار میرے یہ ” : فرمایا نے )السالم (علیہا مریم ؟ ہیں گئے سمجھ تو سنا یہ نے )السالم (علیہ زکریا حضرت “ہے۔ پہنچاتا رزق بےگمان ہے چاہتا بےموسم ہی ساتھ اور ہے مرتبہ اور مقام خاص کا )السالم (علیہا مریم یہاں کے خدا کہ کاملہ قدرت اپنی نے برتر خدا جس کہ کردی پیدا تمنا میں دل نے واقعہ کے پھلوں تازہ باوجود کے ہونے بانجھ کے بیوی اور بڑھاپے میرے ‘وہ کردیئے پیدا بےموسم پھل یہ سے کے خضوع و خشوع نے انھوں کر سوچ یہ ؟ گا کرے نہ عطا )(بیٹا پھل بےموسم کو مجھ : ہوا عطا مژدہ کا قبولیت شرف سے وہاں اور کی دعا میں ربانی بارگاہ ساتھ ْتَلاَق اَذ ٰھ ِکَل یّٰنَا ُمَمْرَیٰی اَلَق اًقْزِر اَھَدْنِع َوَجَد اَبَرْحِمْلا اَّیِرَکَز َھاْیَلَع َلَخَد َماَّلُک اَّیِرَکَز َھاَکَّفَل َو { } ٍبا َسِح ِرْیَغِب ُئآ َشَّی ْنَم ُقُزَیْر َہّٰللا َّنِا ِہّٰللا ِدْنِع ْنِم َوُھ
8.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 8/97 تو ہوتے داخل زکریا پاس کے )(مریم اس جب ‘ کی زکریانے کفالت کی )(مریم اس اور ” کہاں پاس تیرے یہ ! مریم اے ” : کہا نے زکریا پاتے۔ رکھی چیزیں کی کھانے پاس کے اس چاہتا کو جس ٰیتعال ہللا بالشبہ ‘ ہیں آئی سے پاس کے ہللا یہ ” کہا نے مریم “ آئیں سے “ ہے۔ دیتا رزق بےگمان ہے زندگی پاک ساتھ کے مشاغل مقدس اپنے تک عرصہ ایک طرح اسی )السالم (علیہا مریم )السالم (علیہ زکریا حضرت مجاور مقدس سے سب کا ہیکل مقدس اور رہیں کرتی بسر جاللت اور عظمت کی ان نے ٰیتعال ہللا کہ تھے متاثر بےحد سے ٰیوتقو زہد کے ان بھی یہ کی ہونے ہیٰلا بارگاہ برگزیدہ کو ان ذریعہ کے فرشتوں اور کیا بلند زیادہ اور کو قدر : سنائی بشارت ُمَمْرَیٰی ۔ َنْیِمَل ٰعْلا ِئآ َسِن یٰلَع ِک ٰفَطْصا َو َرِکَّھَط َو ِک ٰفَطْصا َہّٰللا َّنِا ُمَمْرَیٰی ُۃَکِئ ٰٓل َمْلا ِتَلاَق ْذِا َو { } َنْیِکِعّٰرال َعَم ِعْیَکاْر َو ْیِدُج ْسا َو ِکِّبِلَر ِتْیُنْقا نے ٰیتعال ہللا بالشبہ ! مریم اے : کہا نے فرشتوں جب )کیجئے یاد وقت وہ پیغمبر (اے ” اپنے ! مریم اے ‘ کیا برگزیدہ کو تجھ پر عورتوں کی دنیا اور کیا پاک اور دی بزرگی کو تجھ ادا نماز ساتھ کے والوں پڑھنے نماز اور ہوجا ریز سجدہ اور جا جھک سامنے کے پروردگار “ کر۔ } َنُمْوِصَتْخَی ْذِا ْمِھْیَدَل ْنَتُک َما َو َمْرَیَم ُفُلْکَی ْمُھُّیَا ْمُھَم اَلْقَا َنْوُقْلُی ْذِا ْمِھْیَدَل ْنَتُک َما َو { قرعہ کو )(پوروں قلموں اپنی وہ جب تھے نہ موجود پاس کے کاہنوں ان وقت اس تم اور ” موجود )(بھی وقت اس تم اور کرے کون کفالت کی مریم کہ تھے رہے ڈال لیے کے اندازی “ تھے۔ رہے جھگڑ میں آپس میں بارے کے کفالت کی اس وہ جب تھے نہ ضرب میں طہارت و ٰیتقو اور زاہد و عابد ‘ مرتاض نہایت جبکہ )السالم (علیہا مریم حضرت کی )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت پیغمبر القدر جلیل کو ان عنقریب جبکہ اور تھیں المثل و تقدیس کی ان ہللا جانب من تو تھا واال ہونے حاصل بھی شرف کا ہونے ماجدہ والدہ اعتبار تاریخی اور علمی ‘تاہم ہے مصداق کا رسید حقدار بہ حق بالشبہ اعالن یہ کا تطہیر { آیت کہ ہے توجہ قابل مسئلہ یہ سے لحاظ کے مفہوم کے حدیث و قرآن خود بلکہ سے (علیہا مریم حضرت درحقیقت کیا اور ہے کیا مراد کی } َنْیِمَل ٰعْلا ِئآ َسِن یٰلَع ِک ٰفَطْصا َو ہے حاصل فضیلت اور برتری پر عورتوں تمام کی کائنات کے استثناء کسی بغیر کو )السالم متعلق سے ذات کی )السالم (علیہا مریم نے فضیلت آیت اس بلکہ نہیں یہی اور ؟ ہے ہوسکتی نبی عورت کیا ًالمث ہے بنادیا بحث زیر کو مسائل اہم چند میں سلف علمائے { جملہ کے آیت تو تھیں نہیں نبی اگر " ؟ تھیں نبی )السالم (علیہا مریم حضرت کیا ! ؟ ؟ ہے کیا مطلب کا } َنْیِمَلاَعْلا ِئا َسِن یٰلَع ِک ٰفَطْصَوا ؟ ہے ہوسکتی نبی عورت کیا اس )مرقدہم ہللا حزمؒ (نور ابن ‘ ؒقرطبی ‘ ؒیاشعر الحسن ابو شیخ ‘ ؒاسحاق بن محمد حضرت کہ ہیں کرتے ٰیدعو یہ حزمؒ تو ابن بلکہ ہے ہوسکتی نبی عورت کہ ہیں مائل جانب اور ‘ تھیں نبی سب یہ )السالم (علیہن مریم اور آسیہ ‘ ؑ ٰیموس ام ‘ ؑہاجرہ ‘ ؑہسار ‘ ؑاوح ہے ہوسکتی نبی عورت کہ ہیں قائل کے اس فقہاء اکثر کہ ہیں کہتے ؒقاسحا بن محمد کے اقوال کے حضرات ان تھیں۔ نبی )السالم (علیہا مریم کہ ہیں فرماتے ؒیقرطب اور ہللا (نور عیاض قاضی اور عبدالعزیز شیخ الحرمین امام ‘ بصری حسن خواجہ برعکس (علیہا مریم لیے اس اور ہوسکتی نہیں نبی عورت کہ ہے جانب اس رجحان کا )مرقدہم کا جمہور کہ ہیں کہتے بھی یہ کثیر ابن اور عیاض قاضی تھیں۔ نہیں نبی بھی )السالم ہیں فرماتے یہ علماء جو ہیں۔ کرتے ٰیدعو تک اجماع تو الحرمین امام اور ہے یہی مسلک َمآ َو { : ہیں کرتے پیش کو آیت اس میں دلیل اپنی وہ سکتی بن نہیں نبی عورت کہ } ْمِھْیَلِا ْٓیِحْوُّن اًلَجاِر اَّلِا َکِلْبَق ْنِم َناْل ْرَسَا “ طرف کی ان ہم تھے بھیجتے وحی کہ مرد مگر بھیجے نہیں نے ہم پہلے سے تم اور ” دیتے دلیل یہ پر انکار کے نبوت کی )السالم (علیہا مریم حضرت ساتھ کے خصوصیت اور : ہے میں مائدہ سورة ‘ ہے کہا “ ہَقْیِصِّد ” کو ان نے عزیز قرآن کہ ہیں
9.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 9/97 }َقٌۃْیِصِّد ٗہ ُاُّم َو ُل ُسُّرال ِہِلْبَق ْنِم ْتَلَخ ْدَق ْوٌل ُسَر اَّلِا َمْرَیَم ْبُنا ُحْیِسَمْلا َما { کی ان اور ہیں چکے گزر پیغمبر بھی اور پہلے سے جن ہیں پیغمبر ایک تو مریم ابن بس ” تھیں۔ صدیقہ والدہ کے اس وہ ہے دی فہرست جو کی “ ْمِہْیَلَع ُمْنَعْم ” نے عزیز قرآن میں نساء سورة اور “ حضرات جو ہے۔اور نازل اور کم سے “ نبوت ” درجہ کا “ ْتَیِقْیِصِّد ” کہ ہے قطعی نص لیے ام ‘ سارہ حضرت نے عزیز قرآن کہ ہیں فرماتے وہ ہیں قائل کے ہونے نبی کے عورت میں ان ہے کیا اظہار کا واقعات جن متعلق کے السالم علیہن مریم حضرت اور ٰیموس ہللا منجانب کو ان اور ہوئے نازل کر لے وحی فرشتے کے خدا پر ان کہ ہے موجود بصراحت چنانچہ ‘ پہنچایا حکم کا عبادت اور معرفت اپنی تک ان اور فرمایا سرفراز سے بشارات سورة لیے کے ٰیموس ام اور میں الذاریات سورة اور ہود سورة لیے کے سارہ حضرت مالئکہ بواسطہ میں مریم سورة اور عمران آل لیے کے )السالم (علیہا مریم اور میں قصص معنی لغوی کے وحی پر مقامات ان کہ ہے ظاہر اور ہے۔ موجود ہیٰلا خطاب بالواسطہ اور : آیت کہ جیسا ہیں نہیں کے )اشارہ مخفی یا ہدایت (وجدانی ہے۔ گیا کیا اطالق کا وحی لیے کے مکھی کی شہد میں } ِلْحَّنال یَلِا َکُّبَر ی ٰحْوَا َو { ہے دلیل واضح یہ کی ہونے نبی کے )السالم (علیہا مریم حضرت ساتھ کے خصوصیت اور انبیاء دیگر پر طریقہ جس ہے گیا کیا ساتھ کے اسلوب اسی ذکر کا ان میں مریم سورة کہ : ًالمث ‘ ہے کیا تذکرہ کا رسل و )١٩/٥١ : (مریم } ی ٰٓسُمْو ِب ٰتِکْلا یِف ْرُکْذا َو { )١٩/٥٤ : (مریم } َلْیِع ٰم ْسِا ِب ٰتِکْلا یِف ْرُکْذا َو { )١٩/١٦ : (مریم } َمْرَیَم ِب ٰتِکْلا یِف ْرُکْذا َو { )١٩/٥٦ : (مریم } َسْیِرْدِا ِب ٰتِکْلا یِف ْرُکْذا َو { )١٩/٤١ : (مریم } َمْیِھ ٰرْبِا ِب ٰتِکْلا یِف ْرُکْذا َو { )١٩/١٧ : (مریم } َحَناُرْو َھاْیَلِا َنآْل ْرَسَفَا { ًالمث یا “ بھیجا کو جبرائیل فرشتہ اپنے جانب کی ؑمریم نے ہم } ِکِّبَر ْوُل ُسَر اَنَا َمآَّنِا اَلَق { “ ہوں پیغامبر سے جانب کی پروردگار تیرے بالشبہ میں ” سے جناب کی خدا طرح جس نے ہللا مالئکۃ کو )السالم (علیہا مریم میں عمران آل نیز (علیہا مریم اور ہے۔ دلیل روشن کی ٰیدعو اس بھی وہ ہے کیا خطاب کر بن پیغامبر فرماتے ہوئے دیتے جواب کا اس ہے سوال جو متعلق سے ہونے “ صدیقہ ” کے )السالم کی ان لقب یہ تو ہے کہا “ صدیقہ ” کو )السالم (علیہا مریم حضرت نے قرآن اگر کہ ہیں کے )السالم (علیہ یوسف حضرت طرح جس ہے نہیں منافی طرح اسی کے نبوت شان نبی کے ان ہونا صدیق کا ان میں ُقْیِّصِّدال َھاُّیَا ُف ُیْوُس آیت باوجود کے ہونے نبی مسلم جو کیونکہ ‘ ہے ہوا مذکور پر بنا کی خصوصیت مقامی ذکرپاک بلکہ ہے نہیں مانع کو ہونے ہے۔ نہیں ضروری عکس کا اس البتہ ہے ضرور “ صدیق ” بہرحال وہ ہے “ نبی ” مشہور میں “ الفصل کتاب ” ساتھ کے تفصیل جس ترجمانی کی اسالم علمائے ان نہیں سے نظر جگہ دوسری ساتھ کے قوت و تفصیل اس ہے کی نے ؒحزم ابن محدث : ہے مطالعہ الئق ترجمہ کا مضمون پورے اس میں ذیل سطور لیے اس گزری ؒمحز ابن اور النساء نبوۃ شدید میں )(اندلس قرطبہ میں زمانہ ہمارے پر جس ہے متعلق کے مسئلہ ایسے فصل یہ ایسا جو اور ہوسکتی نہیں نبی عورت کہ ہے کہتی جماعت ایک کی علماء ‘ ہوا بپا اختالف دوسری اور ہے کرتا ایجاد بدعت نئی ایک وہ ہے ہوسکتی نہیں نبی عورت کہ ہے کہتا الگ سے دونوں ان اور ‘ ہیں ہوئی نبی اور ہے ہوسکتی نبی عورت کہ ہے قائل جماعت پسند کو سکوت میں باتوں دونوں نفی و اثبات وہ اور ہے توقف مسلک کا جماعت تیسری پاس کے ان ہیں کرتے انکار کا نبوت منصب متعلق سے عورت حضرات جو مگر ہیں۔ کرتے اس بنیاد کی اختالف اپنے نے حضرات بعض البتہ آتی نہیں نظر دلیل کوئی کی انکار اس
10.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 10/97 : ہے بنایا کو آیت } ْمِھْیَلِا ْٓیِحْوُّن اًلَجاِر اَّلِا َکِلْبَق ْنِم َناْل ْرَسَا َمآ َو { ہللا کہ ہے کیا ٰیدعو یہ نے کس اور ہے اختالف کو کس میں بارے اس کہ کہتاہوں میں ” کو عورت کسی نے اس یا ہے بھیجتا بناکر رسول لیے کے خلق ہدایت کو عورت ٰیتعال طلب پس ‘ ہے میں نبوت بلکہ ہے نہیں میں مسئلہ کے رسالت بحث ‘ ہے بنایا “ رسول کیا کے “ نبوت ” لفظ میں عرب لغت کہ جائے کیا غور یہ اول کہ ہے ضروری لیے کے حق دینا اطالع ” معنی کے جس ہیں پاتے ماخوذ سے “ ِئَباْنِا ” کو لفظ اس ہم تو ؟ ہیں معنی سے ہونے کے معاملہ کسی ٰیتعال ہللا کو شخص جس کہ ہے نکلتا یہ نتیجہ ‘پس ہیں “ فرمائے نازل وحی جانب کی اس لیے کے بات بھی کسی یا دے اطالع وحی بذریعہ قبل سکتے کہہ نہیں یہ پر مقام اس آپ ہے۔ “ نبی ” بالشبہ میں اصطالح مذہبی شخص وہ میں سرشت کی مخلوق کسی نے ٰیتعال ہللا جو ہیں کے الہام اس معنی کے وحی کہ َو { ہے۔ ارشاد کا برحق خدائے متعلق کے مکھی کی شہد کہ جیسا ہے کردیا ودیعت } ِلْحَّنال یَلِا َکُّبَر ی ٰحْوَا علم ” کو دونوں ان کہ لیے اس ہیں سکتے لے کے وہم اور ظن معنی کے وحی نہ اور نہیں کام کا کسی اور سوا کے مجنوں )ہے نتیجہ قدرتی کا وحی (جو سمجھنا “ یقین یہ یعنی ہیں رکھتے تعلق سے “ کہانت باب ” جو ہیں ہوسکتے مراد معنی وہ یہاں نہ ہے۔ کی ٰیتعال ہللا اور ہیں۔ کرتے کوشش کی چرانے اور سننے کو باتوں آسمانی شیاطین کہ کہتا یہ قرآن متعلق کے جس اور ہے جاتا کیا رجم ذریعہ کے ثاقب شہاب پر ان سے جانب باب ” یہ کیونکہ } ًراُرْوُغ ِلْوَقْلا َفُرُزْخ ٍضْعَب یٰلِا ْمُھُضْعَب ِحْیُیْو ِّنِجْلا َو ِسْناِاْل َنْیِطٰی َش { : ہے سے وقت کے باسعادت والدت کی )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی ہللا رسول “ کہانت رکھتے تعلق سے علمیہ تجربات کے نجوم معنی کے وحی جگہ اس نہ اور ہوگیا۔ مسدود نہ اور ہیں کرتے ہوجایا حاصل سے سکھانے اور سیکھنے باہم کے انسانوں خود جو ہیں علم کوئی کا ہونے جھوٹ یا سچ کے ہیں۔جن ہوسکتے کے )(خواب رؤیا معنی کے اس اپنے ٰیتعال ہللا کہ ہیں یہ “ نبوت بمعنی وحی ” جدا سے معانی تمام ان بلکہ ہے نہیں نہیں سے پہلے وہ کو جن دے اطالع کی امور ایسے کو شخص ایک سے ارادہ اور قصد اس پر شخص اس کر بن ثابتہ حقیقت امور یہ الگ سے علم ذرائع باال مسطورہ اور جانتا کے خاص علم اس ٰیتعال ہللا اور ہے رہا دیکھ سے آنکھوں گویا ہوجائیں منکشف طرح دے کر عطا یقین صحیح ایسا ًۃبداہ کے کسب و محنت کسی بغیر کو شخص اس ذریعہ ذریعہ کے عقل بداہت اور حواس وہ طرح جس کرلے معلوم طرح اس کو امور ان وہ کہ نہیں باقی گنجائش کی شبہ و شک کے قسم کسی کو اس اور ہے کرتا کرلیا حاصل کا خدا کو شخص اس کر آ فرشتہ کہ ہے ہوتی طرح اس تو یا وحی یہ کی خدا اور رہتی۔ اگر پس ہے۔ کرتا خطاب سے اس راست براہ ٰیتعال ہللا کہ طرح اس یا اور ہے سناتا پیغام نہیں یہ معنی کے نبوت ہیں کرتے انکار کا ہونے نبی کے عورت جو نزدیک کے حضرات ان اس وہ کہ ہے یہ حقیقت ؟ کیا ہیں معنی کے نبوت آخر کہ سمجھائیں کو ہم وہ تو ‘ ہیں ہیں وہی معنی کے نبوت کہ جب اور کرسکتے۔ نہیں ہی بیان معنی کوئی اور ماسوا کے ہے مذکور یہ جہاں کیجئے مطالعہ بغور کو مقامات ان کے قرآن اب تو .کئے بیان نے ہم جو جانب کی ٰیتعال ہللا نے فرشتوں اور بھیجا کو فرشتوں پاس کے عورتوں نے عزوجل ہللا کہ جانب کی ٰیتعال ہللا نے فرشتوں چنانچہ کیا مطلع سے “ حق وحی ” کو عورتوں ان سے ہللا ‘ سنائی بشارت کی والدت کی )السالم (علیہ اسحاق کو ) ؑ(سارہ اسحاق ام سے : ہے فرماتا ارشاد ٰیتعال َو ُدِلَئَا یٰٓتَلْیَوٰی ْتَلاَق ۔ َبْوُقْعَی َق ٰح ْسِا ِئَرآَّو ْنِم َو الَق ٰح ْسِاِب َھاْرٰن َّشَبَف ْتَکِحَضَف ٌۃَمِئآَق ٗہُتَاَرْما َو { َو ِہّٰللا ُتَمْحَر ِہّٰللا ِرْمَا ْنِم َنْیِبَجْعَتَا آْوُلاَق ۔ ْیٌبِجَع ْیٌئ َشَل اَذ ٰھ َّنِا اًخْی َش ِلْیْعَب اَذ ٰھ َّو ْوٌزُجَع اَنَا جانب کی ٰیتعال ہللا کو اسحاق ام نے فرشتوں میں آیات ان } ِتْیَبْلا َلْھَا ْمُکْیَلَع ٗہُت ٰکَرَب [ سارہ اور ہے سنائی بشارت کی )السالم (علیہما یعقوب بعد کے ان اور اسحاق سے ممکن کیسے یہ تو } ِہّٰللا ِرْمَا ْنِم َنْیِبَجْعَتَا { ہے کیا خطاب دوبارہ کر کہہ یہ پر تعجب کے ان طرح اس ذریعہ کے فرشتوں ٰیتعال ہللا اور ہوں نہ تو نبی )[ (سارہ اسحاق والدہ کہ ہے
11.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 11/97 (ام مریم کو فرشتہ جبرائیل ٰیتعال ہللا کہ ہیں دیکھتے ہم طرح اسی کرے۔ خطاب سے : ہے کہتا یہ کرکے مخاطب کو ان اور ہے بھیجتا پاس کے ) ٰیعیس } اًّیِکَز اًمٰلُغ ِکَل َبَھَاِل ِکِّبَر ْوُل ُسَر اَنَا َمآَّنِا اَلَق { طور صاف میں آیت اس کیا اور ؟ ہے کیا اور تو نہیں نبوت ذریعہ کے “ حقیقی وحی ” یہ تو ٰیتعال ہللا )السالم (علیہ جبرائیل پاس کے )السالم (علیہا مریم کہ ہے گیا کہا نہیں پر کے )السالم (علیہا مریم جب )السالم (علیہ زکریا نیز ؟ آئے کر بن پیامبر سے جانب کی نے انھوں اور تھے۔ پاتے رزق ہوا دیا سے غیب کا ٰیتعال ہللا پاس کے ان تو آئے میں حجرہ ‘ تھی کی دعا کی ہونے پیدا لڑکا فضیلت صاحب میں ہیٰلا بارگاہ کر دیکھ کو رزق اسی ٰیتعال ہللا کہ ہیں دیکھتے میں معاملہ کے والدہ کی )السالم (علیہ ٰیموس ہم طرح اسی کو ان ہی ساتھ اور دو ڈال میں دریا کو بچہ اس اپنے تم کہ فرمائی نازل وحی پر ان نے ‘ گا بناؤں “ مرسل نبی ” کو اس اور گا کروں واپس جانب تمہاری کو اس میں کہ دی اطالع شعور و عقل ہے۔معمولی نہیں معاملہ کا “ نبوت ” یہ کہ ہے کرسکتا شک کون پس کی )السالم (علیہ ٰیموس اگر کہ ہے سکتا سمجھ یہ بآسانی بھی آدمی واال رکھنے بناء کی خواب محض اور ہوتا نہ وابستہ سے نبوت شرف عطاکردہ کے ہللا عمل یہ کا والدہ ہی نہایت عمل یہ کا ان تو کرتیں ایسا وہ سے وجہ کی وسوسہ شدہ پیدا میں دل یا پر یا عمل یہ ہمارا تو بیٹھے کر ایسا کوئی سے میں ہم آج اگر اور ہوتا متہورانہ اور مجنونانہ بھیج خانہ پاگل لیے کے عالج اور گا جائے کہا پاگل اور مجنوں کو ہم یا اور گا پائے قرار گناہ ہی سوال کا شبہ و شک میں جس ہے بات واضح اور صاف ایسی ایک یہ ‘ گا جائے دیا کا والدہ کی )السالم (علیہ ٰیموس حضرت کہ ہے درست ًاقطع کہنا یہ تب ہوتا۔ نہیں پیدا جس تھا پر بناء کی ہیٰلا وحی طرح اسی دینا ڈال میں دریا کو )السالم (علیہ ٰیموس (علیہ اسماعیل بیٹے اپنے میں )(خواب رویا نے )السالم (علیہ ابراہیم حضرت طرح (علیہ ابراہیم حضرت اگر کہ لیے اس تھا۔ کرلیا معلوم وحی بذریعہ کرنا ذبح کا )السالم یہ وہ پھر اور ہوتا نہ وابستہ سلسلہ کا ہیٰلا وحی ساتھ کے ان اور ہوتے نہ نبی )السالم ان شخص ہر تو گزرتے کر سے وجہ کی ظن شدہ پیدا میں نفس یا خواب ایک محض عمل یہ کے تردد کسی بغیر اب تو کرتا یقین جنون انتہائی یا سمجھتا گناہ یا کو عمل اس کے تھیں۔ نبی ؑ ٰیموس ام کہ ہے جاسکتا کہا جاسکتی کی پیش بھی دلیل یہ ایک پر نبوت کی )السالم (علیہا مریم حضرت ازیں عالوہ ہے کیا میں زمرہ کے )السالم (علیہم ذکرانبیاء کا ان میں مریم سورة نے ٰیتعال ہللا کہ ہے َدَمقٰا ِۃَّیِّرُذ ْنِم َنّٖیِبَّنال َنِّم ْمِھْیَلَع ُہّٰللا َمَعْنَا َنْیِذَّلا َکِئ ٰٓل وُا { : ہے فرمایا ارشاد بعد کے اس اور } ٍحْوُن َعَم َناْلَحَم ْنَّمِم َو کشتی ساتھ کے نوح نے ہم کو جن میں ان اور سے نسل کی آدم انبیاء وہ ہیں یہی ” “ ہوا۔ اکرام و انعام کا ہللا پر جن کیا سوار میں کی انبیاء کو ان کرکے تخصیص کی )السالم (علیہا مریم میں عموم اس کے آیت تو نے قرآن کہ بات یہ رہی ہوسکتا۔ نہیں صحیح طرح کسی کرلینا الگ سے میں فہرست یہ لیے کے )السالم (علیہا مریم حضرت ہوئے کرتے ذکر کا )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت حضرت طرح جس نہیں مانع طرح اسی لیے کے نبوت کی ان لقب یہ تو “َقٌۃْیِصِّد ٗہ ُاُّمَو ” کہا َھاُّیَا ُف ُیْوُس ” نہیں مانع آیت یہ لیے کے ہونے رسول اور نبی کے )السالم (علیہ یوسف مریم حضرت ‘ سارہ حضرت اب )التوفیق ہّٰلل(وبا ہے۔ حقیقت انکار ناقابل ایک یہ اور “ ُقْیِّصِّدال کو )(آسیہ بیوی کی فرعون ساتھ کے نبوت مسئلہ کے السالم علیہن ٰیموس ام حضرت ‘ ارشاد نے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی اکرم نبی کہ لیے اس ‘ کرلیجئے شامل بھی : فرمایا ٍمِحَمَزا ُتْنِب ۃُی َسِآ َو َنَراْمِع ُتْنِب ُمَمْرَی اَّلِا ِئا َسِّنال َنِم ُمْلْکَی ْمَلَو ْیٌرِثَک ِلَجاِّرال َنِم َلُمَک( ( ))السالم (علیہ اَلَق َماَکْوَا( َنْوْرَعِف ُۃَئَراْمِا من کمل )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی ہللا رسول (قال ( : ہیں یہ حدیث الفاظ میں بخاری عائشۃ فضل وان عمران بنت مریم و فرعون امرأۃ آسیۃ اال النساء من یکمل ولم کثیر الرجال کامل آدمی بہت تو سے میں مردوں یعنی ” ))الطعام سائر علی الثرید کفضل النساء علی بنت آسیہ اور عمران بنت مریم : ہوئیں کامل ہی دو صرف سے میں عورتوں مگر ہیں ہوئے
12.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 12/97 “ فرعون۔ زوجہ مزاحم ان اگرچہ اور ہے ہوا حاصل کو ہی رسولوں بعض کمال درجہ یہ میں مردوں کہ رہے واضح اور کاملین مرسلین ان لیکن ہیں مامور پر رسالت و نبوت درجہ بھی رسل و انبیاء عالوہ کے کو عورتوں جن نے ٰیتعال ہللا کہ ہے یہ مطلب کا حدیث لیے اس ‘ ہیں نازل سے درجہ کے تک کمال درجہ ہی کو عورتوں دو صرف میں ان ہے۔ فرمایا سرفراز سے نبوت منصب جو ہے رہا ہو ذکر کا کمال درجہ جس میں حدیث کیونکہ ہے حاصل فضیلت کی پہنچنے ہوا ثابت یہ سے حدیث اس بہرحال ہے۔ نہیں کامل وہ ہے نازل سے درجہ اس بھی ہستی درجہ بھی کو عورتوں دو ان سے میں ان لیکن ہیں نبی قرآن نص بہ عورتیں بعض اگرچہ کہ َکْلِت { : ہے کیا بیان طرح اس نے قرآن خود کو فرق اس کے درجات ہے۔ ہوا حاصل کمال ہللا (صلی اکرم نبی ہے۔ ہوتا وحی بھی خواب کا نبی } ٍضْعَب یٰلَع ْمَضُھْعَب َناَّضْلَف ُل ُسُّرال اس کامل کہ ہے یہ ہے۔حقیقت فرمایا ہی ایسا میں حدیث ایک بھی نے )وسلم وآلہ علیہ میں مردوں پس ‘ ہو نہ ہمسر کا اس دوسرا کوئی سے میں نوع کی جس ہے جاتا کہا کو و انبیاء دوسرے ہمسری کی جن ہیں ہوئے رسول ہی چند کے خدا کامل ایسے سے (صلی محمد ” پیغمبر ہمارے سے میں کاملین ہی ان بالشبہ اور ہوئی نہیں عطا کو رسل ان نے )حدیث و (قرآن نصوص متعلق کے ہیں۔جن “ ؑابراہیم ” اور “ )وسلم وآلہ علیہ ہللا اسی البتہ ‘ ہیں نہیں حاصل کو رسل و انبیاء دوسرے جو ہے کیا اظہار کا کمال فضائل ہللا (صلی اکرم نبی ذکر کا جن ہیں پہنچی کو کمال درجہ وہی سے میں عورتوں طرح خالصہ کا مضمون طویل اس کے ؒحزم ابن “ ہے۔ کیا میں حدیث اس نے )وسلم وآلہ علیہ لغت عموم بلحاظ اطالق کا جن ” کرکے انداز نظر کو معانی ان کے وحی اگر کہ ہے یہ لیے معنی اصطالحی وہ “ ہے ہوتا پر والہام القاء کا درجہ کے وہم و ظن میں نفس یا جبلت ہیں صورتیں دو کی اس تو ہے۔ کیا مخصوص لیے کے رسل و انبیاء نے قرآن کو جن ہیں سے نواہی اوامرو تعلیم اور ہدایت و رشد کی خدا مخلوق منشاء کا جس )(وحی وہ ایک واسطہ کے فرشتہ یا راست براہ سے شخص کسی ٰیتعال خدائے کہ یہ دوسری اور ہو۔ کی واقعہ والے ہونے کسی ‘ دینا بشارات سے جس کہ کرے خطاب کا قسم اس سے ہو مقصود فرمانا نہی و امر کوئی لیے کے ذات کی اس خاص یا ‘ دینا اطالع قبل سے ہونے فرق اس کے رسول اور نبی یہاں (ہے۔ “ الرسالۃ مع نبوۃ ” یہ تو ہے صورت پہلی اگر ‘اب ساتھ کے کثرت قرآن کیونکہ ہے اصطالح خاص کی کالم علم جو ‘ ہے گیا کردیا انداز نظر کو یہ نزدیک کے سب باالتفاق اور )ہے۔ کرتا استعمال میں معنی مرادف کو رسول اور نبی واضح سے آیت کی النحل سورة کہ جیسا ہے مخصوص ہی ساتھ کے مردوں صرف درجہ ہے شکل دوسری کی ہیٰلا وحی اگر اور ہیں۔ نہیں دورائے ًاقطع میں مسئلہ اس اور ہے ہے۔ قسم ایک کی ہی نبوت بھی یہ میں رائے کی علماء مویدین کے ان اور حزم ابن تو طریقے جو کے وحی نزول پر )السالم (علیہم انبیاء میں ی ٰروش سورة نے عزیز قرآن کیونکہ : ہے میں ی ٰروش سورة ہیں۔ آتے صادق بھی پر وحی اس وہ ہیں کئے بیان َما ٖہِنْذِاِب َیِحوُیَف اًلْو ُسَر َلِسْرُی ْوَا ٍبَجاِح ِٔیَراَّو ْنِم ْوَا اًیْحَو اَّلِا ُہّٰللا َمُہِّلَکُّی َاْن ٍر َشِلَب َناَک َوَما { }ْیٌمِکَح ٌّیِلَع ٗہَّنِا طُئا َیَش )(بالمشافہہ سے اس ٰیتعال ہللا کہ نہیں ممکن صورت یہ لیے کے انسان کسی اور ” ہللا کہ سے صورت اس یا اور ذریعہ کے کالم پردہ پس یا ذریعہ کے وحی یا مگر کرے گفتگو اس چاہے وہ کہ کو جس سے اجازت کی اس اور ! بھیجے کر بنا پیغامبر کو فرشتہ کسی “ ہے۔ واال حکمت وباال بلند وہ بالشبہ دے سنا کر ال وحی کو بشر ‘ مریم حضرت صریح نص بہ اطالق کا قسم دوسری اس کی وحی نے قرآن جبکہ اور کہ جیسا ہے کیا پر )السالم (علیہن آسیہ حضرت اور ٰیموس ام حضرت ‘ سارہ حضرت “ اطالق کا نبی ” پر عورتوں مقدس ان تو ہے ہوتا ظاہر سے مریم اور قصص ‘ ہود سورة نے علماء مؤید کے )(رح حزم ابن ہے۔ غلط سر تا سر کہنا بدعت کو اس اور ہے صحیحًاقطع طرح جس نے قرآن کہ ہے دیا بھی جواب کا شبہ اس والے ہونے پیدا میں سلسلہ اس کسی سے میں عورتوں ان طرح اس ہے کہا رسول اور نبی کو انبیاء مرد میں الفاظ صاف لیے کے مردوں کہ جو “ الرسالۃ مع نبوۃ ” جبکہ کہ ہے یہ حاصل کا جواب “ کہا نہیں کو سے انسانی نوع تبلیغ و تعلیم اور ہدایت و رشد کی انسانی کائنات ہے مخصوص ہی
13.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 13/97 اس کو شخص جس نے ٰیتعال ہللا کہ ہے یہ تقاضا قدرتی کا اس تو ۔ ہے ہوتی متعلق بھیجا کا خدا وہ کہ کرے اعالن صاف صاف وہ متعلق کے اس ہے فرمایا ممتاز سے شرف خدا اور ہوجائے الزم کرنا قبول کا تبلیغ و دعوت کی اس پر امت تاکہ ‘ ہے رسول اور نبی ہوا ہے ہوتا بھی پر عورتوں اطالق کا جس قسم وہ کی نبوت چونکہ اور ہو پوری حجت کی صرف متعلق کے اس تو ہے مال شرف یہ کو جس ہے ہوتی وابستہ سے ہستی اس خاص ہے مخصوص ہی لیے کے رسل و انبیاء “ ہللا من وحی ” جو کہ ہے کافی کردینا اظہار یہی ہے۔ گیا کیا مشرف بھی کو عورتوں چند ان سے اس اس جو ہے کی علماء ان رائے تیسری عالوہ کے انکار و اثبات کے نبوت کی عورتوں ؒسبکی الدین تقی شیخ میں ان ہیں دیتے ترجیح کو “ توقف اور سکوت ” میں مسئلہ : ہے مذکور قول یہ کا ان میں الباری فتح ‘ ہیں رکھتے حیثیت نمایاں ) )الخ ْیٌئ َش َکِلَذ ِفْی ْیِدْنِع َّحِصَی ْمَلَو ِۃَلَئ ْسَمْلا ِذٖہَھ ِفْی َفِلُتْخُا ُّیِکُب َّسال اَلَق( ( بارے اس نزدیک میرے اور ہیں مختلف آراء کی علماء میں مسئلہ اس ہیں فرماتے سبکی ” “ ہے۔ نہیں ثابت بات کوئی ًایانفی ًااثبات میں ؟ ہیں نبی )السالم (علیہا مریم حضرت کیا کا الحرمین امام پر انکار کے نبوت کی عورتوں کہ ہے ہوتا معلوم ضرور یہ سے تفصیل اس میں انبیاء فہرست کہ ہے پڑتا کرنا تسلیم بھی یہ نیز ہے نہیں صحیح اجماع دعوائے کی )السالم (علیہا مریم حضرت میں مقابلہ کے عورتوں مقدس دوسری باال مسطورہ حزم ابن ‘ شعرانی امام کہ ہے وجہ ‘یہی ہیں واضح زیادہ نصوص قرآنی متعلق کے نبوت فہرست کی ات نبی عالوہ کے )السالم (علیہا مریم درمیان کے )ہللا (رحمہم قرطبی اور کے نبوت کی )السالم (علیہا مریم حضرت اور ہے آتا نظر اختالف خاصہ میں بارے کے اختالف بھی سے ٰیدعو اس کے ؒکثیر ابن کو ہم ہے۔ اتفاق کا نبوت مثبتین تمام متعلق ہے۔ کرتی پسند کو توقف اور سکوت ًاغالب اکثریت البتہ ‘ ہیں جانب کی انکار جمہور کہ ہے ہیں قائل کے نبوت میں عورتوں علماء جو مطلب کا } َنْیِمَلاَعْلا ِئآ َسِن یٰلَع ِکاَفَطْصَوا { آیت تو مطابق کے مسلک کے ان ‘ ہیں کرتے تسلیم نبی کو )السالم (علیہا مریم حضرت اور مریم حضرت کہ یہ وہ ہے واضح اور صاف مطلب کا } َنْیِمَلاَعْلا ِئا َسِن یٰلَع ِک ٰفَطْصَوا { آیت ہیں نہیں نبی عورتیں ‘جو ہے حاصل فضیلت پر عورتوں تمام کی کائنات کو )السالم (علیہا کہ لیے اس پر ان ہیں نبی عورتیں جو اور ہیں نبی )السالم (علیہا مریم کہ لیے اس پر ان باقی ہیں رکھتی تعلق سے کماالت و فضائل کے ان جو نظر پیش کے نصوص قرآنی ان وہ اور ہیں فرماتے انکار کا نبوت کی عورتوں علماء جو لیکن ہیں۔ رکھتی برتری پر اس نبی دو میں مراد کی آیت اس وہ کرتے تسلیم نہیں “ نبیہ ” کو )السالم (علیہا مریم حضرت اور ہے عام َنْیِمَلاَعْلا ِئا َسِن جملہ کا آیت کہ ہیں کہتے بعض ‘ ہیں رکھتے خیال جدا جدا مریم حضرت بالشبہ لیے اس ہے۔ شامل کو عورتوں تمام کی مستقبل اور حال ‘ ماضی و فضیلت پر عورتوں تمام کی انسانی کائنات کے استثناء کسی بغیر کو )السالم (علیہا وہ کی کائنات سے “ العالمین ” لفظ کے آیت کہ ہے یہ قول کا اکثر اور ہے حاصل برتری عزیز قرآن تھیں۔یعنی معاصر کی )السالم (علیہا مریم حضرت جو ہیں مراد عورتیں تمام نے ٰیتعال ہللا کہ ہے کہتا ہوئے کرتے نقل واقعہ کا زمانہ کے )السالم (علیہا مریم حضرت ہیں کمال صاحب اور برگزیدہ میں عورتوں تمام کی زمانہ اپنے وہ کہ دی بشارت یہ کو ان حیثیت وہی اطالق یہ کا “ لمین الٰع ” اور ہے لیا چن کو ان سے میں سب ان نے ہم اور میں آیت اس لیے کے )اسرائیل (بنی امت کی )السالم (علیہ ٰیموس حضرت جو ہے رکھتا : ہے گئی کی اختیار } َنْیِمَل ٰعْلا یَلَع ٍمْلِع یٰلَع ُہْماْرَنَتْخا ِدَقَلَو { پسند میں مقابلہ کے والوں جہان کو )اسرائیل (بنی ان سے علم اپنے نے ہم بالشبہ اور ” “ ہے کرلیا “ لمین الٰع ” کہ ہے جاتا کہا یہ متعلق کے فضیلت کی اسرائیل بنی آراء باتفاق جبکہ اور کو )السالم (علیہ ٰیموس امت سے میں ان کہ ہیں مراد اقوام و امم معاصر کی ان سے
14.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 14/97 یہی بھی میں باب کے فضیلت کی )السالم (علیہا مریم حضرت تو ہے حاصل فضیلت حضرت ‘ طہارت و ٰیتقو اور تقدس کا )السالم (علیہا مریم حضرت چاہئیں۔ لینے مراد معنی ہاتھ کے مرد ‘ شرف کا ہونے والدہ کی پیغمبر القدر جلیل جیسے )السالم (علیہ ٰیعیس )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت سے معلی مشکوئے کے ان پر طور کے معجزہ بغیر لگائے فضیلت پر عورتوں معاصر کو ان بدولت کی جن ہیں امور ایسے بالشبہ باسعادت والدت کی ایک فضیلت باب کہ چاہیے ہونی نہیں فراموش بھی حقیقت یہ پھر تھی۔ حاصل برتری و طریق عمدہ اور بلیغ میں کرنے بیان حقیقت کی شئے کسی طرح جس اور ہے باب وسیع تمام کہ ہو حاوی طرح اس پر حقیقت کی اس یعنی ہو مانع و جامع وہ کہ ہے یہ بیان طرح پوری حقیقت اصل کہ جائے رہ کمی ایسی ‘نہ ہوجائے ممتاز سے چیزوں دوسری ساتھ کے اس بھی حقائق دوسری بعض کہ کرے اضافہ ایسا نہ اور سکے ہو نہ بیان کا بالغت و فصاحت لیے کے فضیلت بیان برعکس کے اس طرح اسی ‘ ہوجائیں شامل اس جائے۔کیونکہ دیا جکڑ نہ میں وقیود حدود طرح کی حقیقت بیان کو اس کہ ہے یہ تقاضا کے طرح اسی اگر جو ہے رہا ہو اظہار کا شئے فضیلت بلکہ نہیں شئے حقیقت پر مقام نہیں واقع خلل کوئی میں اس طرح کی حقیقت بیان تو آجائے صادق بھی پر افراد دوسرے میں دل کے مخاطب تاکہ ہے ہوتا ضروری بس از ہی بیان وسعت پر موقع اس بلکہ ہوتا ایسی تو سکے۔ ہو موثر اور نشین دل وہ ہے کرنا پیدا اثر نفسیاتی جو سے فضیلت اظہار (علیہا مریم حضرت کہ گے ہوں نہیں یہ معنی کے َنْیِمَل ٰعْلا ِئا َسِن یٰلَع میں صورت نہیں یا سکتی پہنچ نہیں کو شرف اس عورت مقدس کوئی دوسری عالوہ کے )السالم بلند میں کماالت و فضائل کو )السالم (علیہا مریم حضرت کہ ہوگا مطلب یہ بلکہ ‘ پہنچی فضائل پر کردینے فراموش کے جس ہے حقیقت وہ یہی کی فضائل ‘باب ہے حاصل مرتبہ اشخاص مقدس چند اور ہوجاتی لغزش کو ہم اکثر میں وغیرہ عنہ رضوا و )(رض صحابہ حدود کی فضائل ان البتہ ‘ ہے لگتا آنے نظر تناقض و تضاد مابین کے فضائل متعلق سے کر لے جائزہ کا اعمال اجتماعی و انفرادی کے افراد فضائل صاحب ہم جب کر گزر سے ًالہیں۔مث ہوتے ثابت فاصل حد لیے کے دوسرے ایک ضرور وہ تو ہیں کرتے بیان مراتب فرق ہی جب فیصلہ صحیح کا مراتب فرق نظر پیش کے فضائل کے وصحابیات صحابہ حضرات نکلے سے ترجمان ٔیوح زبان جو ساتھ ساتھ کے فضائل ان کے ان کہ ہے ہوسکتا ممکن اسالم ‘ خدمات اسالمی کی ‘ان وحدیثی قرآنی ارشادات خصوصی متعلق سے ان ہیں ‘ کاریاں فدا مالی میں حق نصرت ‘ سپاریاں جاں و فروشیاں سر کی ان متعلق سے عملی کی ان اور کشائیاں عقدہ کی تدبر و علم کے ان میں لمحات ترین نازک کے اسالم جائے۔ کیا فیصلہ کر رکھ سامنے کو سب ان سرگرمیاں رفیع کی جدوجہد سابقہ کتب بشارات اور )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت بیضاء ملت اور حق دین کہ ہے ہوتا معلوم یہ سے کرنے مطالعہ کا تاریخ کی ملل و ادیان االنبیاء خاتم کر ہو شروع سے )السالم (علیہ آدم اگرچہ سلسلہ کا دعوت و تبلیغ کی قوت مزید کو سلسلہ اس لیکن ہے رہا جاری برابر تک )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی محمد ایسے ایک بعد صدیوں کہ ہے رہی یہ ہللا سنت لیے کے کرنے بلند سر اور پہنچانے عام شدہ پیدا سے وجہ کی زمانہ امتداد جو بھیجے کو پیغمبر القدر جلیل اور اولوالعزم اور بخشے تازگی میں رجحانات افسردہ کے حق قبول کرکے دور کو اضمحالل روحانی و حق میں دنیا خوابیدہ کی مذہب ‘گویا بنادے تر قوی سے قوی کو عواطف روحانی ضعیف دے ڈال روح نئی میں دلوں مردہ اور دے کر بپا عظیم انقالب ایک کر پھونک صور کا صداقت ہونے بعثت کی پیغمبر المرتبہ عظیم اس میں امم و اقوام جن کہ ہے رہا ہوتا ایسا اکثر اور اس ))السالم (علیہم (انبیاء حق داعیان اور ملت ہادیان کے ان پہلے صدیوں.ہے ہوتی والی کی اس تاکہ ہیں رہتے سناتے ذریعہ کے ہیٰلا وحی بشارات کی آمد کی رسول مقدس تو آجائے وقت کا ہونے روشن کے حق نور اس جب اور رہے ہموار زمین لیے کے حق دعوت (علیہ ٰیعیس جائے۔حضرت بن نہ حادثہ متوقع غیر آمد کی اس لیے کے امم و اقوام ان اور ہیں ایک سے میں رسولوں مقدس اور القدر جلیل ‘ العزم اولوا چند ان بھی )السالم
15.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 15/97 سے آمد کی ان )السالم (علیہم انبیاء متعدد سے میں اسرائیل بنی انبیاء پر بنا اسی ہی ان اور ہیں آتے نظر سناتے بشارت کی آمد اور کرتے منادی میں حق کے ان قبل ظہور کا موعود مسیح کہ تھے منتظر سے مدید مدت اسرائیل بنی سے وجہ کی بشارات میں عالم اقوام طرح کی زمانہ کے )السالم (علیہ ٰیموس حضرت پھر وہ مرتبہ ایک تو ہو خدا اور ہوگی پیدا تازہ روح میں کھیتی خشک کی ہدایت و رشد اور گے ہوں ممتاز و معزز )انجیل و توراۃ ( گے۔بائبل اٹھیں چمک پھر مرتبہ ایک قلوب کے ان سے جالل و جاہ کے میں سینہ اپنے کو بشارات چند ان بھی آج باوجود کے تحریفات معنوی و لفظی اپنی توراۃ ہیں۔ رکھتی تعلق سے آمد کی )السالم (علیہ مسیح حضرت جو ہے رکھتی محفوظ : ہے میں استثناء ‘ ہوا طلوع پر ان سے )(ساعیر شعیر اور آیا سے سینا خداوند کہ کہا نے ٰیموس اس اور ” “ ہوا۔ گر جلوہ سے پہاڑوں کے فاران اور کی نبوت کی )السالم (علیہ ٰیموس حضرت “ آمد کی خدا سے سینا ” میں بشارت اس ‘ ہے مراد )السالم (علیہ ٰیعیس نبوت سے “ ہونا طلوع سے ساعیر ” اور ہے اشارہ جانب ۔اور ہے ہوئی میں “ اللحم بیت ” مقام ایک کے پہاڑ اسی باسعادت والدت کی ان کیونکہ آفتاب “ ہونا گر جلوہ پر فاران ” اور ہوا طلوع حق نور سے جہاں ہے جگہ مبارک وہ یہی ہے۔ نام کا سلسلہ پہاڑی مشہور کے حجاز فاران کیونکہ ہے اعالن کا بعثت کی رسالت : ہے میں انجیل کی مرقس جو ہوں بھیجتا آگے تیرے پیغمبر اپنا میں دیکھ ہے لکھا میں کتاب کی نبی یسعیاہ جیسا ” ‘ کرو تیار راہ کی خداوند کہ ہے آتی آواز کی والے پکارنے میں بیابان ‘ گا کرے تیار راہ تیری “ بناؤ۔ سیدھے راستے کے اس پکارنے میں بیابان اور ہیں مراد )السالم (علیہ ٰیعیس سے “ پیغمبر ” میں بشارت اس اور تھے مناد کے )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت جو ہیں )السالم (علیہ ٰییحی حضرت والے سناتے جانفزا مژدہ کا رسالت و بعثت کی ان میں اسرائیل بنی قبل سے بعثت کی ان یہودیہ میں زمانہ کے بادشاہ ہیرودیس یسوع جب ” : ہے میں انجیل کی متی اور تھے۔ ہوئے کہتے یہ میں یروشلم سے پورب مجوس کئی دیکھو تو ہوا پیدا میں اللحم بیت کے اس اور بادشاہ ہیرودیس کر سن یہ ؟ ہے کہاں وہ ہے ہوا پیدا جو بادشاہ کا یہودیوں کہ آئے اور کاہنوں سردار سب کے قوم نے اس اور گئے گھبرا لوگ سب کے یروشلم ساتھ کے نے انھوں ؟ چاہیے ہونی کہاں پیدائش کی مسیح کہ پوچھا سے ان کرکے جمع کو فقیہوں کی ))السالم (علیہ (یسعیاہ نبی کیونکہ میں لحم بیت کے یہودیہ کہ کہا سے اس ہرگز میں حاکموں کے یہوداہ تو ! عالقے کے یہوداہ لحم بیت اے ‘ ہے گیا لکھا یوں معرفت اسرائیل امت میری جو گا نکلے سردار ایک سے میں تجھ کیونکہ نہیں چھوٹا سے سب “ گا۔ کرے بانی گلہ کی بیت پر پہاڑ کے زیتون اور پہنچے نزدیک کے یروشلم وہ جب اور ” : ہے جگہ دوسری اور گاؤں کے سامنے اپنے کہ بھیجا کر کہہ یہ کو شاگردوں دو نے یسوع تو آئے پاس کے فگے انھیں ‘ گے پاؤ بچہ ساتھ کے اس اور ہوئی بندھی گدھی ایک ہی پہنچتے وہاں جاؤ میں کی ان کو خداوند کہ کہنا تو کہے کچھ سے تم کوئی اگر اور آؤ لے پاس میرے کر کھول گیا کہا معرفت کی نبی جو کہ ہوا لیے اس گا۔یہ دے بھیج انھیں الفور فی وہ ہے ضرورت وہ ہے آتا پاس تیرے بادشاہ تیرا دیکھ کہ کہو سے بیٹی کی صیہوں ” کہ ہو پورا وہ تھا “ پر۔ بچہ کے دو ال بلکہ ہے سوار پر گدھے اور ہے حلیم جب کہ ہے یہ گواہی کی ))السالم (علیہ ٰی(یحی یوحنا اور ” : ہے میں انجیل کی یوحنا اور (علیہ ٰی(یحی پاس کے اس کو پوچھنے یہ الوی اور کاہن سے یروشلم نے یہودیوں کیا اقرار بلکہ کیا نہ انکار اور کیا اقرار نے اس تو ؟ ہے کون تو کہ بھیجے )پاس کے )السالم اس ‘ ہے ایلیاہ تو کیا ؟ ہے کون پھر پوچھا سے اس نے انھوں ‘ ہوں نہیں مسیح تو میں کہ اس نے انھوں پس ‘ نہیں کہ دیا جواب نے اس ؟ ہے نبی وہ تو کیا ‘ ہوں نہیں میں کہا نے میں حق اپنے تو کہ دیں جواب کو والوں بھیجنے اپنے ہم تاکہ ؟ کون ہے تو پھر کہا سے کی والے پکارنے میں بیابان ہے کہا نے نبی یسعیاہ جیسا میں کہا نے اس ؟ ہے کہتا کیا “ کرو۔ سیدھی راہ کی خداوند تم کہ ہوں آواز
16.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 16/97 میں دل اپنے اپنے سب اور تھے منتظر لوگ وہ ” : ہے میں انجیلوں کی لوقا اور مرقس اور یوحنا تو نہیں یا تھے مسیح وہ آیا کہ تھے سوچتے بابت کی ))السالم (علیہ ٰی(یحی یوحنا ہوں دیتا بپتسمہ تمہیں تو میں : کہا میں جواب کے سب ان نے ))السالم (علیہ ٰی(یحی کے کھولنے تسمہ کا جوتی کی اس ہے۔میں واال آنے وہ ہے آور زور سے مجھ جو مگر یہ سے بشارات دو ہر ان “ گا۔ دے بپتسمہ سے القدس روح تمہیں وہ ‘ نہیں الئق بھی کی پیغمبروں العزم اولوا جن پر بنا کی روایات مذہبی اپنی یہود کہ ہے ہوتا معلوم بھی ؎ ١ ٰییحی حضرت اور تھے بھی )السالم (علیہ مسیح میں ان تھے منتظر کے بعثت مسیح بلکہ ) ( مسیح نہ اور نبی وہ نہ ہیں ایلیاہ نہ وہ کہ بتایا کو ان نے )السالم (علیہ یوحنا میں )(انجیل جدید نامہ عہد ؎ ١( ہیں۔ مبشر اور مناد کے بعثت کی )السالم (علیہ )السالم (علیہ ٰیعیس دوسری اور )السالم (علیہ ٰییحی ایک ‘ ہیں شخصیتیں جدا جدا دو ) شاگرد۔ اور حواری کے حضرت کو واقعہ کے )السالم (علیہما ٰییحی حضرت اور زکریا حضرت بھی نے عزیز قرآن کو )السالم (علیہ ٰییحی اور ہے دیا قرار تمہید کی بعثت کی )السالم (علیہ ٰیعیس : ہے میں عمران آل سورة ہے۔ بتایا مناد اور مبشر کا )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت َنِّم ٍۃَمِلَکِب امًقِّدَصُم یٰیْحَیِب َکُرَبِّشُی َہّٰللا َّنَا ِبَراْحِمْلا یِف ِّلْیَصُّی ٌمِئآَق َوُھ َو ُۃَکِئ ٰٓل َمْلا ُہْتَناَدَف { } ِہّٰللا پڑھ نماز ہوا کھڑا میں حجرہ وہ جبکہ پکارا وقت اس کو )(زکریا اس نے فرشتوں جب پس ” کلمہ کے ہللا جو ‘ ہے دیتا بشارت کی )(فرزند ٰییحی کو تجھ ٰیتعال ہللا بیشک ‘ تھا رہا “ گا۔ کرے تصدیق کی ))السالم (علیہ ٰی(عیس مبارک والدت رہتی عبادت مشغول میں کدہ خلوت اپنے )السالم (علیہا مریم مآب عفت اور زاہد و عابد مسجد مرتبہ ایک ‘ تھیں نکلتی نہیں باہر سے اس کبھی عالوہ کے حاجات ضروری اور ایک سے ضرورت کسی دور سے نگاہوں کی لوگوں جانب مشرقی کے )(ہیکل ٰیاقص انسانی ))السالم (علیہ (جبرئیل فرشتہ کا خدا اچانک کہ تھیں بیٹھی تنہا میں گوشہ طرح اس کو شخص اجنبی ایک نے )السالم (علیہا مریم ہوا۔حضرت ظاہر میں شکل خوف کا خدا بھی کچھ کو تجھ اگر ” لگیں فرمانے اور گئیں گھبرا تو دیکھا سامنے بےحجاب ” : کہا نے فرشتے “ ہوں۔ چاہتی پناہ سے تجھ کر دے واسطہ کا رحمان خدائے میں تو ہے کی بیٹے کو تجھ اور ہوں فرشتہ فرستادہ کا خدا بلکہ نہیں انسان ‘میں کھا نہ خوف ! مریم فرمانے تعجب ازراہ تو سنا یہ نے )السالم (علیہا مریم حضرت “ ہوں آیا دینے بشارت ہاتھ نے شخص بھی کسی تک آج کو مجھ جبکہ ہے ہوسکتا کیسے لڑکا میرے ” : لگیں : دیا جواب نے فرشتہ “ ہوں زانیہ میں نہ اور کیا نکاح نے میں تو نہ کہ لیے اس لگایا۔ نہیں فرمایا بھی یہ اور ہے کہا طرح اسی سے مجھ نے اس ‘ ہوں قاصد کا پروردگار تیرے تو میں اپنی لیے کے والوں دنیا کو لڑکے تیرے اور کو تجھ کہ گا کروں لیے اس میں یہ کہ ہے ہوگا ثابت “ رحمت ” سے جانب میری لڑکا اور دوں بنا “ نشان ” کا اعجاز کے کاملہ قدرت جو ہے دیتا بشارت کی لڑکے ایسے ایک کو تجھ ٰیتعال ہللا مریم ہے۔ اٹل فیصلہ یہ میرا اور )(یسوع ٰیعیس نام کا اس اور ؎ ٢ “ مسیح ” لقب کا اس ‘ ہوگا ؎ ١ “ کلمہ ” کا اس ہللا وہ کیونکہ گا رہے عظمت صاحب اور وجاہت با میں دونوں آخرت اور دنیا وہ اور ہوگا خوارگی شیر بحالت پر طور کے نشان کے ٰیتعال ہللا وہ ‘ ہوگا سے میں مقربین کے ٰیتعال کائنات تاکہ گا پائے بھی )دور ابتدائی کا (بڑھاپے کہولت سن اور گا کرے باتیں سے لوگوں رہے کر ہو ضرور لیے اس کچھ سب یہ اور کرے۔ تکمیل کی خدمت کی ہدایت و رشد کی تو ہے چاہتا النا میں وجود کو شئے کسی وہ جب کہ ہے یہ قدرت قانون کا ٰیتعال ہللا کہ گا ذا لٰہ ہے۔ کردیتا ہست سے نیست کو شئے اس “ ہوجا ” کہ حکم اور ارادہ یہ محض کا اس حکمت کو اس ‘ گا کرے عطا کتاب اپنی کو اس ٰیتعال ہللا اور گا رہے کر ہو ہی یوں یہ پیغمبر اولوالعزم اور رسول لیے کے ہدایت و رشد کی اسرائیل بنی کو اس اور گا سکھائے گا۔ بنائے
17.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 17/97 مریم سورة اور عمران آل سورة ساتھ کے بیان اسلوب معجزانہ کا واقعات ان نے عزیز قرآن ُہُم ْسا ُہْنِّم ٍۃَمِلَکِب ِکُرَبِّشُی َہّٰللا َّنِا ُمَمْرَیٰی ُۃَکِئ ٰٓل َمْلا ِتَلاَق ْذِا { : ہے کیا ذکر طرح اس میں یِف اَسَّنال ُمِّلَکُی َو ۔ َنْیِبُمَقَّرْلا َنِم َو ِخَرِۃٰاْلا َو َیاْنُّدال یِف اْیًھِجَو َمْرَیَم ْبُنا ی َسْیِع ُحْیِسَمْلا َکِل ٰذَک اَلَق ٌر َبَش ِنْی ْس َسْمَی ْمَل َّو ٌدَلَو ِلْی ُنْوُکَی یّٰنَا َرِّب ْتَلاَق ۔ َنْیِلِحّٰصال َنِم َّو اًلْھَک َو ِدْھَمْلا َو َۃَمْکِحْلا َو َب ٰتِکْلا ُہُمِّلَعُی َو ۔ ُنْوُکَیَف ْنُک ٗہَل ْوُلُقَی َماَّنِاَف ًراْمَا یٰٓضَق اَذِا ُئآ َیَش َما ُقُلْخَی ُہّٰللا } َلْیِئَرآ ْسِا ْٓیِنَب یٰلِا اًلْو ُسَر َو ۔ َلْیِجْناِاْل َو َۃ ٰرْوَّتال کو تجھ ٰیتعال ہللا ! مریم اے ” : کہا سے مریم نے فرشتوں جب )ہے ذکر قابل وقت (وہ ” آخرت و دنیا وہ ‘ ہوگا مریم ابن ٰیعیس مسیح نام کا اس ہے دیتا بشارت کی کلمہ اپنے کہولت اور میں گود )کی (ماں وہ اور ہوگا سے میں مقربین ہمارے اور وجاہت صاحب میں ” : کہا نے مریم “ ہوگا۔ سے میں نیکوکاروں وہ اور گا کرے کالم سے لوگوں میں زمانہ کے نے فرشتہ “ لگایا نہیں تک ہاتھ نے مرد کسی کو مجھ جبکہ ہے ہوسکتا کیسے لڑکا میرے لیے کے شئے کسی جب وہ ‘ ہے کردیتا پیدا طرح اسی ہے چاہتا جو ٰیتعال ہللا ” کہا اور حکمت و کتاب کو اس ہللا اور ہے ہوجاتی وہ اور “ ہوجا ” ہے دیتا کہہ تو ہے کرتا حکم “ ہوگا۔ رسول کا ہللا جانب کی اسرائیل بنی وہ اور گا کرے عطا علم کا انجیل و توراۃ اًبَجاِح ْمِھِنُدْو ْنِم َذْتَخَّتاَف ۔ اًّیِقْر َش اًناَکَم َھاِلْھَا ْنِم َذْتَبَتْنا ِاِذ َمْرَیَم ِب ٰتِکْلا یِف ْرُکْذا َو { اَلَق ۔ اًّیِقَت ْنَتُک ْنِا َکْنِم ِن ٰمَّرْحالِب ُذْوُعَا ْٓیِّنِا ْتَلاَق ۔ اًّیِو َس ًرا َبَش َھاَل َلَّثَتَمَف َحَناُرْو َھاْیَلِا َنآْل ْرَسَفَا َّو ٌر َبَش ِنْی ْس َسْمَی ْمَل َّو ٌمٰلُغ ِلْی ُنْوُکَی یّٰنَا ْتَلاَق ۔ اًّیِکَز اًمٰلُغ ِکَل َبَھَاِل ِکِّبَر ْوُل ُسَر اَنَا َمآَّنِا } اَّنِّم ًۃَمْحَر َو ِساَّنلِّّل ًۃَیٰا ٓٗہَلَعْجَنِل َّو ٌنِّیَھ َّیَلَع َوُھ ِکُّبَر اَلَق ِلِک ٰذَک اَلَق ۔ اًّیِغَب ُکَا ْمَل جو جگہ ایک وہ جب ذکر کا وقت اس کرو ذکر واقعہ کا مریم میں کتاب ! پیغمبر اے اور ” طرف کی لوگوں ان نے اس پھر ہوئی الگ سے آدمیوں کے گھر اپنے تھی طرف کی پورب آدمی چنگے بھلے ایک وہ اور بھیجا فرشتہ اپنا طرف کی اس نے ہم پس ‘ کرلیا پردہ سے ہے آدمی نیک تو اگر ” بولی وہ ‘ گئی گھبرا کر دیکھ اسے مریم ہوگیا نمایاں میں روپ کے تیرے میں ” : کہا نے فرشتہ “ ہوں۔ مانگتی پناہ سے تجھ پر نام کے رحمان خدائے میں تو مریم “ دیدوں۔ فرزند پاک ایک تجھے کہ ہوں ہوا نمودار لیے اس اور ہوں فرستادہ کا پروردگار نہیں چھوا مجھے نے مرد کسی حاالنکہ ‘ ہو لڑکا میرے کہ ہے ہوسکتا کیسے یہ ” بولی کہ ہے فرمایا نے پروردگار تیرے ‘ ہی ایسا ہوگا ” : کہا نے فرشتہ “ ؟ ہوں بدچلن میں نہ اور کے لوگوں کو )(مسیح اس کہ ہوگا لیے اس یہ ہے کہتا وہ نہیں مشکل کچھ لیے میرے یہ کا جس ہے بات ایسی یہ اور ہو ظہور میں اس کا رحمت میری اور دوں بنا نشان ایک لیے “ ہے۔ ہوچکا طے ہونا دیا پھونک میں گریبان کے ان کر سنا بشارات یہ کو )السالم (علیہا مریم نے امین جبرئیل کے عرصہ کچھ نے )السالم (علیہا مریم گیا۔ پہنچ تک ان کلمہ کا ٰیتعال ہللا طرح اس اور طاری کیفیت اضطراری ایک پر ان بشری تقاضائے توبہ کیا محسوس حاملہ کو خود بعد کہ دیکھا نے انھوں جب ‘ کرلی اختیار صورت شدید وقت اس نے کیفیت اس اور ہوگئی کہ سوچا نے انھوں ‘ ہے رہا جا ہوتا تر قریب سے قریب وقت کا والدت کر ہو ختم حمل مدت اس ہے نہیں واقف سے حال حقیقت وہ چونکہ تو آیا پیش کر رہ اندر کے قوم واقعہ یہ اگر پریشان درجہ کس ذریعہ کے طرازیوں بہتان اور بدنام طرح کس کس وہ معلوم نہیں لیے کر سوچ یہ چاہیے۔ جانا چلے جگہ کسی دور سے لوگوں کہ ہے یہ مناسب لیے اس ‘ کرے پر ٹیلہ ایک کے )(ساعیر سرات کوہ دور میل نو ًاتقریب سے )المقدس (بیت یروشلم وہ درد بعد روز چند کر پہنچ یہاں ‘ ہے مشہور سے نام کے “ اللحم بیت ” اب جو گئیں چلی کے تنے نیچے کے درخت ایک کے کھجور میں حالت کی اضطراب و تکلیف تو ہوا شروع زہ پریشانی اور قلق انتہائی کرکے اندازہ کا حاالت نازک والے آنے پیش اور گئیں بیٹھ سہارے ہستی میری اور ہوتی مرچکی پہلے سے اس میں کہ ”کاش لگیں کہنے میں حالت کی فرشتہ کے خدا سے نشیب کے نخلستان تب “ ہوتے۔ کرچکے فراموش قلم یک لوگ کو عرب لغت “ سری ”(؎ ١ تلے تیرے نے پروردگار تیرے ‘ ہو نہ غمگین ! مریم ” پکارا پھر نے مراد معنی پہلے جگہ اس نے جمہور ‘ بھی کو ہستی بلند اور ہیں کہتے بھی کو نہر میں معنی دوسرے سے )ہللا (رحمہم اسلم ابن اور انس بن ربیع ‘ بصری حسن اور ‘ ہیں لیے کردی جاری نہر ) ہے۔ کردی پیدا ہستی بلند ایک تلے تیرے نے ٰیتعال ہللا یعنی ہیں منقول
18.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 18/97 گے۔ لگیں گرنے پر تجھ خوشے تازہ اور پکے تو ہال جانب اپنی کر پکڑ تنا کا کھجور اور ہے “ جا۔ بھول کو غم و رنج اور کر ٹھنڈی آنکھیں سے نظارہ کے بچہ اپنے اور پی کھا تو پس اور طاری خوف جو سے حال نزاکت اور تکلیف ‘ تنہائی پر )السالم (علیہا مریم حضرت جیسے )السالم (علیہ ٰیعیس اور پکار آمیز تسلی کی فرشتہ تھا ہوگیا پیدا اضطراب شاد کر دیکھ دیکھ کو )السالم (علیہ ٰیعیس اور ہوگیا کافور سے نظارہ کے بچہ برگزیدہ اگرچہ کہ تھا رہتا کھٹکتا طرح کی کانٹے وقت ہر میں پہلو خیال یہ لگیں۔تاہم ہونے کام اس کی ان بھی پھر ہے نہیں ناآشنا سے دامنی پاک و عصمت میری قوم اور خاندان پیدا بچہ سے پیٹ کے ماں طرح کس کے باپ بن کہ گا جاسکے مٹایا طرح کس کو حیرت ؟ ہے ہوسکتا و کرب اس کو ان کب وہ بخشی برتری اور بزرگی یہ کو ان نے برتر خدائے جس مگر )السالم (علیہا مریم ذریعہ کے فرشتہ نے اس لیے اس ‘ دیتا رہنے مبتال میں بےچینی معاملہ اس سے تجھ وہ اور پہنچے میں قوم اپنی تو جب کہ بھیجا پیغام یہ پھر پاس کے دار روزہ میں کہ بتانا کو ان سے اشارہ بلکہ دینا نہ جواب خود تو کرے سواالت متعلق کے اس ‘ ہے کرنا دریافت کچھ جو کو تم کرسکتی نہیں بات سے کسی آج لیے اس ہوں۔اور حیرت کی ان کے ظاہر نشان کا کاملہ قدرت اپنی پروردگار تیرا تب ‘ کرلو دریافت سے بچہ کے ہیٰلا وحی )السالم (علیہا مریم گا۔حضرت دے کر مطمئن کو قلوب کے ان اور دور کو شہر جب ہوئیں۔ روانہ کو المقدس بیت کر لے میں گود کو بچہ کر ہو مطمئن پر پیغامات ان اور لیا گھیر کو ان سے جانب چہار تو دیکھا میں حالت اس نے لوگوں اور پہنچیں میں : لگے کہنے اے ‘ کرلیا کام کا تہمت بھاری اور دکھائی کر بات عجیب ہی بہت تو تونے ؟ کیا یہ ! مریم ” کر کیا یہ تو پھر تھی بدچلن ہی ماں تیری نہ اور تھا آدمی برا باپ تیرا تو نہ ! بہن کی ہارون جانب کی لڑکے ہوئے کرتے تعمیل کی حکم کے خدا نے )السالم (علیہا مریم “ ؟ بیٹھی (بنی ٢ روزہ آج تو میں ‘ کرلو معلوم سے اس ‘ ہے کرنا دریافت کچھ جو کہ کردیا اشارہ یہ نے ہوں۔لوگوں سے )تھی۔ عبادت داخل بھی خاموشی میں روزہ یہاں کے اسرائیل باتیں سے بچہ خوار شیر ایسے طرح کس ہم ” : کہا ساتھ کے تعجب انتہائی کر دیکھ ”: اٹھا بول ًافور بچہ مگر “ ہے۔ بچہ واال بیٹھنے میں گود کی ماں ابھی جو ہیں کرسکتے اور ہے دی )(انجیل کتاب کو مجھ )میں تقدیر فیصلہ (اپنے نے ہللا ‘ ہوں بندہ کا ہللا میں ہوں بھی جگہ کسی اور حال کسی میں خواہ بنایا مبارک کو مجھ نے اس اور ہے بنایا نبی شعار میرا یہی رہوں زندہ میں تک جب کہ ہے دیا حکم کا زکوۃ اور نماز کو مجھ نے اس اور اور بنایا نہیں نافرمان اور سر خود اور بنایا گزار خدمت کا ماں اپنی کو مجھ نے اس اور ہو کہ دن جس اور ہوا پیدا میں کہ دن جس ہے پیغام کا سالمتی کو مجھ سے جانب کی اس “ گا۔ جاؤں اٹھایا زندہ پھر کہ دن جس اور گا مروں میں فرمایا ذکر میں مریم سورة اور تحریم سورة ‘ انبیاء سورة کو تفصیالت ان نے ٰیتعال ہللا } َنْیِمَل ٰعْلِّل ًۃَیٰا َنَھآْبا َو َھا ٰنْلَعَج َو َناِحْوُّر ْنِم َھاْیِف َناْخَنَفَف ْرَجَھاَف ْتَصَنْحَا ْٓیِتَّلا َو { : ہے ‘ رکھا قائم کو دامنی پاک اپنی نے جس معاملہ کا ))السالم (علیہا (مریم عورت اس اور ” والوں جہان کو لڑکے کے اس اور کو اس اور دیا پھونک کو “ روح ” اپنی میں اس نے ہم پھر ْنِم ِہْیِف َناْخَنَفَف ْرَجَہاَف ْتَصَنْحَا ِتْیَّلا َنَراْمِع َتَنْبا َوَمْرَیَم { “ ہے۔ ٹھہرایا “ نشان ” لیے کے نے ہم پس رکھا برقرار کو عصمت اپنی نے جس کہ مریم بیٹی کی عمران اور ” } َناِحْوُّر “ دیا۔ پھونک کو روح اپنی میں اس ْبَلَق ُّتِم ِنْیَتْیَلٰی ْتَلاَق ِۃَلَّنْخال ِعْذِج یٰلِا ُضاَخَمْلا َھاَئَجآَفَا ۔ اًّیِصَق اًناَکَم ٖہِب َذْتَبَتْناَف ُہْتَلَحَمَف { ْٓیِّزُھ َو ۔ اًّیِر َس ِکَتَتْح ِکُّبَر َلَعَج ْدَق ِنْیَزَتْح اَّلَا َھآِتَتْح ْنِم اَھ اٰدَنَف ۔ اًّیِسْنَّم اًی َنْس ُتْنُک َو اَذ ٰھ ِر َشَبْلا َنِم َّنِیَرَت اَّمِاَف اْیًنَع ْیِّرَق َو ْیِبَر ْشا َو ِلْیُکَف ۔ اًّیِنَج ًباَطُر ِکْیَلَع ْطِق ٰسُت ِۃَلَّنْخال ِعْذِجِب ِکْیَلِا اْوُلاَق ٗہ ُلِمَتْح َمَھاْوَق ٖہِب ْتَتَفَا ۔ اًّیِسْنِا َمْوَیْلا َمِّلَکُا ْنَفَل اْوًمَص ِن ٰمَّرْحلِل ُتْرَذَن ِّنْیِا ْٓیِلْوَفُق اًدَحَا ۔ اًّیِغَب ِکُاُّم ْتَناَک َما َّو ٍئْو َس َاَرْما ِکُبْوَا َناَک َما َنُرْو ٰھ َتْخٰٓیُا ا۔ًّیِرَف اًئْی َش ِتْئِج ْدَقَل ُمَمْرَیٰی َو َب ٰتِکْلا َیِنٰتٰا ِہّٰللا ُدْبَع ِّنْیِا اَلَق ۔ اًّیِبَصِدْھَمْلا یِف َناَک ْنَم ُمِّلَکُن ْیَفَک اْوُلاَق ِہْیَلِا ْتاَر َشَفَا اًّرَب َّو ۔ اًّیَح ُتُدْم َما ِۃو َّزٰکال َو ِۃوَّصٰلالِب ِنْی ٰصْوَا َو ُتْنُک َما َنْیَا اًکَرٰبُم ِنْیَلَعَج َّو ۔ اًّیِبَن ِنْیَلَعَج ” } اًّیَح ُثْبَعُا َمْوَی َو ُتُمْوَا َمْوَی َو ُّتْدِلُو َمْوَی َّیَلَع ُمٰل َّسال َو ۔ اًّیِق َش اًراَّبَج ِنْیْلَعْجَی ْمَل َو ِتْیَدِلَواِب
19.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 19/97 سے لوگوں )لئے کے چھپانے حالت (اپنی وہ گیا ٹھہر حمل کا فرزند والے ہونے اس پھر نیچے کے درخت ایک کے کھجور )اضطراب (کا زہ درد اسے پھر ‘ گئی چلی دور کر ہو الگ پہلے سے اس میں کاش کہا نے اس )گئی بیٹھ سہارے کے تنے کے اس (وہ گیا لے والے پکارنے (ایک وقت اس ‘ ہوتے گئے بھول قلم یک لوگ کو ہستی میری ‘ ہوتی مرچکی جاری نہر تلے تیرے نے پروردگار تیرے ہو نہ غمگین ” پکارا سے نیچے اسے )نے فرشتے کے پھلوں ہوئے پکے اور تازہ ‘ ہال طرف اپنی کر پکڑ تنا کا درخت کے کھجور اور ہے کردی ‘ کر ٹھنڈی آنکھیں )سے نظارے کے بچہ (اپنے اور پی کھا ‘ گے لگیں گرنے پر تجھ خوشے نے میں دے کہہ )سے (اشارہ تو )لگے کرنے گچھ پوچھ (اور آئے نظر آدمی کوئی اگر پھر چیت بات سے آدمی کسی آج میں ہے رکھی مان منت کی روزہ حضور کے رحمان خدائے لڑکا ‘ آئی پاس کے قوم اپنی کر لے ساتھ کو لڑکے وہ کہ ہوا ایسا پھر “ کرسکتی۔ نہیں کر بات ہی عجیب تونے ! مریم ” اٹھے بول )ہی (دیکھتے لوگ ‘ تھا میں گود کی اس مریم ہارون کہ ہیں کہتے ؎(؎ ١ ہارون اے ‘ گزری کر کام کا تہمت بڑی اور دکھائی ) تھا۔ مشہور نفس نیک بہت اور انسان زاہد و عابد ایک میں خاندان کے )السالم (علیہا اس “ )بیٹھی کر کیا یہ (تو تھی بدچلن ماں تیری نہ تھا آدمی برا باپ تیرا تو نہ ! بہن کی لوگوں )ہے کیا حقیقت کہ گا دے بتال تمہیں یہ (کہ کیا اشارہ طرف کی لڑکے نے مریم پر ہے بچہ خوار شیر واال بیٹھنے میں گود ابھی جو کریں بات کیا ہم سے اس بھال ” : کہا نے اٹھا۔ بول لڑکا مگر “ کیا بابرکت مجھے نے اس ‘ بنایا نبی اور دی کتاب مجھے نے اس ‘ ہوں بندہ کا ہللا میں ” رہوں زندہ تک جب کہ دیا حکم کا زکوۃ ‘ نماز مجھے نے اس ‘ ہوں جگہ کسی میں خواہ خودسر کہ کیا نہیں ایسا ‘ بنایا گزار خدمت کا ماں اپنی مجھے نے اس ہو۔ شعار میرا یہی جس ‘ ہوا پیدا دن جس ہے پیغام کا سالمتی سے طرف کی اس پر مجھ ‘ ہوتا نافرمان اور “ گا۔ جاؤں اٹھایا زندہ پھر دن جس اور گا مروں دن گئی رہ میں حیرت تو سنا کالم حکیمانہ یہ جب سے زبان کی بچہ خوار شیر ایک نے قوم اور برائی کی قسم ہر بالشبہ دامن کا )السالم (علیہا مریم کہ ہوگیا یقین کو اس اور “ نشان ” ایک ہللا منجانب ًایقین معاملہ کا پیدائش کی بچہ اس اور ہے پاک سے تلویث زا حیرت اس جگہ سب بعید اور قریب ‘ جاتی رہ پوشیدہ کہ تھی نہیں ایسی خبر یہ ہے۔ طبائع اور لگے ہونے چرچے کے والدت معجزانہ کی )السالم (علیہ ٰیعیس اور واقعہ شروع بدلنی کروٹیں مختلف سے ہی شروع متعلق کے ہستی مقدس اس نے انسانی اصحاب تو سمجھا ماہتاب کا وسعادت یمن اگر کو وجود کے اس نے خیر اصحاب ‘ کردیں ہی اندر نے شعلوں کے حسد و بغض اور جانا بد فال لیے اپنے کو ہستی کی اس نے شر ہللا اندر کے فضا متضاد اسی غرض کردیا۔ شروع کھانا کو استعداد فطری کی ان اندر کے اس تاکہ ‘ رہا کرتا حفاظت اور تربیت کی بچہ مقدس اس میں نگرانی اپنی ٰیتعال شجر کے روحانیت کی ان اور بخشے تازہ حیات کو قلوب مردہ کے اسرائیل بنی ہاتھوں : بنائے مثمر اور بارآور پھر مرتبہ ایک کو خشک } ٍنْیِعَمَّو ٍرَراَق ِتاَذ ٍۃَوْبَر یٰلِا َماُہَناْیاَو َّو ًۃَیٰا ٗہَّمُاَو َمْرَیَم َنْبا َناْلَعَوَج { اور بنادیا نشان ) کا قدرت (اپنی کو )(مریم ماں کی اس اور مریم بن ٰیعیس نے ہم اور ” واال چشمہ اور قابل کے سکونت جو بنایا ٹھکانا پر )اللحم (بیت مقام بلند ایک کا دونوں ان الماء المعین قال “ ٍنْیِعَمَّو ٍرَراَق ِتاَذ ٍۃَوْبَر یٰلِا َماُھَناْیاَو َو ” قولہ فی عباس ابن عن “ ہے۔ و الضحاک قال کذا و “ اًّیِر َس ِکَتَتْح ِکُّبَر َلَعَج ْدَق ” ٰیتعال ہللا قال الذی النھر وھو الجاری المذکور النہ االظھر ھو اعلم وہللا فھذا المقدس بیت ھو معین و قرار ذات ربوۃ الی قتادۃ ثم الصحیحۃ االحادیث ثم بہ یفسر ما اولی وھذا بعضا بعضہ یفسر والقران االخری االیۃ فی تفسیر کی ٍنْیِعَمَّو ٍرَراَق ِتاَذ ٍۃَوْبَر یٰلِا َماُھَناْیاَو َو سے ؓعباس بن عبدہللا حضرت یعنی االثار۔ کو جس ہے ذکر کا نہر اسی یہ اور ہے مراد جاری نہر سے “ معین ” کہ ہے منقول میں قول یہی بھی کا ; قتادہ اور ضحاک اور ہے گیا کیا بیان میں اًّیِر َس ِکَتَتْح ِکُّبَر َلَعَج ْدَق آیت اور ہے مراد سرزمین کی المقدس بیت سے ٍنْیِعَمَّو ٍرَراَق ِتاَذ ٍۃَوْبَر یٰلِا َماُھَناْیاَو َو کہ ہے ذکر ہی کا )نہر (کی المقدس بیت میں آیت دوسری کہ لیے اس ہے ظاہر زیادہ قول یہی آیات تفسیر اور ہے کرتا کردیا تفسیر کی حصہ دوسرے ہی خود حصہ بعض کا قرآن اور ہے
20.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 20/97 ذریعہ کے احادیث صحیح بعد کے اس ہے۔ حاصل کو تفسیر طریق اسی جگہ پہلی میں ہے۔ درجہ کا تفسیر ذریعہ کے آثار بعد کے اس اور کا تفسیر والدت بشارات اسی صرف سے میں حاالت کے بچپن کے )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت نے عزیز قرآن تذکیر مقصد کے قرآن ذکر کا جن کو حاالت دوسرے کے بچپن باقی ہے کیا ذکر کا واقعہ اہم مشہور کے اسرائیلیات لیکن ہے کردیا انداز نظر تھا رکھتا نہیں تعلق خاص سے موعظت و کا جن بھی میں انجیل کی متی ہیں۔اور منقول واقعات جو سے منبہ بن وہب حضرت ناقل کی )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت جب کہ ہے بھی واقعہ یہ سے میں ان ہے موجود ذکر روشن ستارہ نیا ایک پر آسمان نے بادشاہ کے فارس میں شب اسی تو ہوئی والدت کہ بتایا نے انھوں تو کیا دریافت متعلق کے اس سے نجومیوں درباری نے ‘بادشاہ دیکھا ملک جو ہے دیتا خبر کی پیدائش کی ہستی الشان عظیم کسی طلوع کا ستارہ اس کو وفد ایک کر دے تحفے عمدہ کے خوشبوؤں نے بادشاہ تب ہے۔ ہوئی پیدا میں شام ‘وفد کریں معلوم واقعات و حاالت متعلق سے والدت کی بچہ اس وہ کہ کیا روانہ شام ملک بچہ اس کو ہم کہ کہا سے یہودیوں اور کی شروع حال تفتیش نے اس تو پہنچا شام جب فارس اہل نے یہود ہوگا بادشاہ کا روحانیت میں قریب مستقبل جو سناؤ حال کا والدت کی کو وفد نے بادشاہ ‘ کی خبر کو ہیرودیس بادشاہ اپنے تو سنے کلمات یہ سے زبان کی پھر اور گھبرایا بہت کر سن کو واقعہ زبانی کی ان اور کیا حال استصواب کر بال میں دربار وفد یہ کا کریں۔پارسیوں حاصل معلومات مزید متعلق کے بچہ اس وہ کہ دی اجازت کو وفد و رسم اپنے تو دیکھا کو )السالم (علیہ مسیح یسوع حضرت جب اور پہنچا المقدس بیت نثار پر ان خوشبوئیں کی قسم مختلف پھر اور کیا تعظیم سجدہ کو ان اول مطابق کے رواج دیکھا میں خواب نے آدمیوں بعض کے وفد میں قیام دوران ‘ کیا قیام وہیں روز چند اور کیں بیت اور جاؤ نہ پاس کے اس اب تم لیے اس ہوگا ثابت دشمن کا بچہ اس ہیرودیس کہ حضرت وقت کرتے ارادہ کا فارس نے وفد کو جاؤ۔صبح چلے کو فارس سیدھے سے اللحم کے یہودیہ کہ ہے ہوتا ایسا معلوم کہ کہا ہوئے سناتے خواب اپنا کو )السالم (علیہا مریم یہ بہتر لیے اس ہے دشمن کا بچہ مقدس اس وہ اور ہے خراب نیت کی ہیرودیس بادشاہ ‘اس ہو باہر سے دسترس کی اس جو رکھو کر جا لے جگہ ایسی کو اس تم کہ ہے بعض اپنے کو )السالم (علیہ مسیح یسوع )السالم (علیہا مریم حضرت بعد کے مشورہ (علیہ ٰیعیس جب اور گئیں چلی ناصرہ سے وہاں اور گئیں لے مصر پاس کے عزیزوں المقدس بیت دوبارہ کر لے ساتھ کو ان تو ہوئی کی سال تیرہ مبارک عمر کی )السالم بچپن کے )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت کہ ہیں کرتی ظاہر بھی یہ روایات آئیں۔یہی واپس ہوتا صدور کا کرامات کی طرح طرح سے ان اور تھے معمولی غیر بھی زندگی حاالت کے )الحال بحقیقۃ اعلم ہّٰللا(و تھا۔ رہتا مبارک حلیہ : فرمایا ارشاد نے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی اکرم نبی کہ ہے میں معراج حدیث بخاری سرخ قد میانہ کو ان نے میں تو ہوئی سے )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت مالقات میری ‘ ہیں آئے کر نہا سے حمام ابھی کہ تھا ہوتا معلوم تھا شفاف صاف ایسا بدن پایا۔ سپید احادیث بعض اور تھے ہوئے لٹکے تک کاندھوں کل کا کے آپ کہ ہے میں روایات بعض اور کا تعبیر و ادا میں روایت اس اور روایت کی بخاری تھا۔ گوں گندم ہوا کھلتا رنگ کہ ہے میں رنگ اس تو ہے ہوتی بھی آمیزش کی مالحت ساتھ کے صباحت اگر میں حسن ‘ ہے فرق صباحت تو آئی جھلک سرخی اگر وقت کسی ہے ہوجاتی پیدا کیفیت خاص ایک میں کے لطافت و حسن پر چہرہ تو آگئی غالب مالحت وقت کسی اگر اور ہے ہوجاتی نمایاں ہے۔ لگتا چمکنے رنگ گوں گندم ہوا کھلتا ساتھ
21.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 21/97 رسالت و بعثت تھے مبتال میں برائیوں کی قسم ہر اسرائیل بنی قبل سے )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت ‘ ہو رہا بچ سے ان جو تھا نہیں ایسا پہلو کوئی کا نقائص و عیوب اجتماعی و انفرادی اور کہ ٰیحت تھے گئے بن محور و مرکز کا گمراہیوں کی قسم ہی دونوں اعمال و اعتقاد وہ کے یہودیہ ‘ تھے ہوگئے دلیر اور جری پر تک قتل کے پیغمبروں اور ہادیوں کے قوم ہی اپنی کو )السالم (علیہ ٰییحی حضرت نے اس کہ ہو کرچکے معلوم متعلق کے ہیرودیس بادشاہ یہ نے اس اور تھا دیا کرا قتل پر طریقہ عبرتناک سے کی پر اشارہ کے محبوبہ اپنی ہوئی بڑھتی کی )السالم (علیہ ٰییحی حضرت وہ کہ کیا لیے اس صرف اقدام سفاکانہ نہی کے ان پر رشتہ ناجائز سے محبوبہ اپنی اور کرسکا نہ برداشت کو مقبولیت روحانی حضرت سانحہ عبرتناک یہ اور السکا نہ تاب کی )ترغیب کی بچانے سے (برائی المنکر عن تھا۔ آچکا پیش قبل سے بعثت کی ان میں ہی مبارک زندگی کی )السالم (علیہ ٰیعیس کے اس ہے مقالہ جو متعلق سے یہود میں )للبستانی پیڈیا (انسائیکلو المعارف دائرۃ پہلے سے بعثت کی )السالم (علیہ مسیح حضرت کہ ہے ہوتا ثابت یہ سے مواد تاریخی بنا مذہب جزء کو عقائد و رسوم مشرکانہ وہ کہ تھا حال یہ کا اعمال و عقائد کے یہود کریمانہ اخالق ًالعم تو کو بداخالقیوں جیسی حسد و بغض ‘ فریب ‘ جھوٹ اور تھے چکے کا فخر پر ان وہ کے ہونے شرمسار بجائے پر بنا اسی اور تھی۔ رکھی دے حیثیت کی ( ہللا کتاب میں حرص اور اللچ کے دنیا تو نے احبار و علماء کے ان اور تھے کرتے اظہار ڈاال کر فروخت کو آیات کی خدا پر دینار و درہم اور چھوڑا نہ بغیر کئے تحریف کو تک ) توراۃ حالل کو حرام اور حرام کو حالل خاطر کی کرنے حاصل بھینٹ اور نذر سے عوام یعنی اعتقادی کی یہود ڈاال۔ کر مسخ کو ہیٰلا قانون طرح اس اور کیا نہیں دریغ بھی سے بنانے توراۃ خود زبانی کی )السالم (علیہ شعیا کو ہم نقشہ مکمل اور مختصر کا زندگی ملی اور : ہے دکھایا طرح اس نے کا ان مگر ہے کرتی عزت میری تو سے زبان )اسرائیل (بنی امت یہ : ہے فرماتا خداوند ” کو حکموں میرے کیونکہ ہیں کرتے پرستش میری بےفائدہ یہ اور ہے دور سے مجھ دل “ ہیں۔ دیتے تعلیم کی حکموں کے آدمیوں کر ڈال پیچھے بھی واقعہ کا قتل کے )السالم (علیہ ٰییحی حضرت جب میں حاالت تاریک ہی ان بہرحال کردی حد کی سرکشی و بغاوت خالف کے حکموں کے خدا نے اسرائیل بنی اور گزرا ہو آغوش کی )السالم (علیہا مریم حضرت نے بچہ مبارک جس کہ آپہنچا سعید وقت وہ تب اس کر پہنچ کو رشد ‘سن تھا دیا ڈال میں حیرت کو اسرائیل بنی کر سنا حق پیغام میں فرض کا اس خلق ہدایت و رشد اور ہے پیغمبر اور رسول کا خدا وہ ” کہ کرکے اعالن یہ نے آواز کی حق اور کر ہو مشرف سے رسالت شرف وہ ‘ کردی پیدا ہلچل میں قوم “ منصبی ‘اس گیا چھا پر دنیا اسرائیلی تمام سے نور کے حقانیت و صداقت اپنی اور آیا کر بن ‘ کدوں خلوت کے راہبوں ‘ مجلسوں علمی کی احبار اور للکارا کو قوم نے ہستی مقدس اور زن وبر کوچہ کہ ٰیحت میں محفلوں کی خواص و عوام اور درباروں کے امراء اور بادشاہ اور رسول اپنا کو مجھ نے ٰیتعال ہللا ! لوگو ” : سنایا حق پیغام یہ روز و شب میں بازاروں ہے فرمائی سپرد میرے خدمت کی اصالح تمہاری اور ہے بھیجا پاس تمہارے کر بنا پیغمبر قانون جو کا خدا میں ہاتھ تمہارے اور ہوں آیا کر لے ہدایت پیغام سے جانب کی اس میں ‘ میں ہے دیا ڈال پشت پس سے روی کج اور جہالت اپنی نے تم کو جس اور ہے ) توراۃ ( آیا کر لے )(انجیل کتاب کی خدا لیے کے تکمیل مزید کی اس اور ہوں کرتا تصدیق کی اس کر ہو فیصلہ درمیان کے سچ اور جھوٹ آج اور گی کرے فیصلہ کا باطل و حق کتاب یہ ‘ ہوں دنیا و دین یہی کہ جاؤ جھک حضور کے خدا لیے کے اطاعت اور سمجھو اور سنو گا۔ رہے سنئے زبانی کی قرآن کو نتائج و عواقب کے ان اور حقائق ان اب “ ہے۔ راہ کی فالح کی حاصل موعظت و عبرت کر ہو مند بہرہ سے لطف کے “ باطل ابطال و حق احقاق ” اور : ہے عبرت و بصیرت یہی عظیم مقصد کا قرآن سے “ ِہّٰللا ِماَّیَاِب ِرْیِکْذَت ” کیونکہ ‘ کیجئے ُہٰنْدَّیَا َو ِت ٰنِّیَبْلا َمْرَیَم َنْبا ی َسْیِع َناَتْیٰا َو ِل ُسُّرالِب ِدٖہْعَب ْنِم َناْیَقَّف َو َب ٰتِکْلا ی َسُمْو َناَتْیٰا ْدَقَل َو { اًقْیِرَف َو ْبُتْمَّذَک اًقْیِرَفَف ْمُتْرَبْکَت ْسا ُمُک ْنُفُسَا یٰٓوَتْھ اَل َماِب مٌلْو ُسَر ْمُکَئَجآ َماَّلُکَاَف ِسُدُقْلا ِحُرْوِب
22.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 22/97 } ۔ َنُنْوِمْؤُی اَّم اًلـْیِلَقَف ْمِھِرْفُکِب ُہّٰللا ُمُھَنَعَّل ْلَب ٌفْلُغ َناْوُبُقُل اْوُلاَق َو ۔ َنْوُلُتْقَت پیغمبر )میں (تم ہم بعد کے اس اور کی عطا ) توراۃ ( کتاب کو ٰیموس نے ہم بیشک اور ” کو اس نے ہم اور بھیجا کر دے معجزے واضح کو مریم ابن ٰیعیس نے ہم اور رہے بھیجتے پیغمبر )کا (خدا پاس تمہارے جب کیا ‘ کی عطا تائید و قوت ذریعہ کے )(جبرئیل پاک روح شیوہ کو غرور نے تم تو چاہتا نہیں دل تمہارا کو کرنے عمل پر جن آیا کر لے احکام ایسے قتل کو جماعت ایک تو ہو جھٹالتے کو جماعت ایک )کی (پیغمبروں پس ؟ لیا بنا )(نہیں ان بلکہ )نہیں (یہ ہیں میں غالف )لئے کے حق (قبول دل ہمارے کہ ہو کہتے اور ہو کردیتے لے ایمان جو ہیں سے تھوڑے بہت پس ہے کردیا ملعون کو ان نے خدا پر کرنے کفر کے “ ہیں۔ آئے ٌرْحِس اَّلِا آَذ ٰھ ْنِا ْمْنُھِم اَفُرْوَک َنْیِذَّلا اَلَقَف ِت ٰنِّیَبْلاِب ْمُھَتْئِج ْذِا َکْنَع َلْیِئَرآ ْسِا ْٓیِنَب ُتْفَفَک ْذِا َو { سے تجھ کو )قتل ارادہ و گرفت (کی اسرائیل بنی نے ہم جب ) ٰیعیس (اے اور ” }ْیٌنِبُّم میں اسرائیل بنی کہا تو آیا کر لے معجزات کھلے پاس کے ان تو جبکہ وقت اس رکھا باز ِۃ ٰرْوَّتال َنِم َّیَیَد َنْیَب َماِّل اًقِّدَصُم َو { “ ہے۔ جادو کھال مگر ہے نہیں کچھ یہ ‘ نے منکروں سے ْیِّبَر َہّٰللا َّنِا ۔ ِنْوُعْیِطَا َو َہّٰللا اْوَّتُقاَف ْمُکِّبَّر ْنِّم ٍۃَی ٰاِب ْمُکُتْئِج َو ْمُکْیَلَع َمِّرُح ْیِذَّلا َضْعَب ْمُکَل َّلِحُاِل َو یَلِا ْٓیِرَصاْنَا ْنَم اَلَق َرْفْلُکا ُمْنُھِم ی ٰسْیِع َّسَحَا آَّمَفَل ۔ ْیٌمِقَت ْسُّم ٌطَراِص اَذ ٰھ ُہْوُدُب ْعاَف ْمُّبُکَر َو } ِہّٰللا ُرَصاْنَا ُنَنْح َنْوُّی ِرَحَواْلا اَلَق ِہّٰللا )ہوں آیا لیے اس (میں اور ہے سامنے میرے جو کی توراۃ واالہوں کرنے تصدیق میں اور ” پر تم )سے وجہ کی کجروی (تمہاری جو دوں کر حالل چیزیں وہ بعض لیے تمہارے تاکہ ہوں آیا کر لے نشانی کی پروردگار تمہارے پاس تمہارے میں اور تھیں گئی کردی حرام پس ہے پروردگار تمہارا اور میرا ٰیتعال ہللا بالشبہ کرو۔ پیروی میری اور کرو خوف کا ہللا پس محسوس کفر سے ان نے ٰیعیس جبکہ پس ہے۔ راہ سیدھی یہی کرو عبادت کی اسی کے ہللا ہیں ہم : دیا جواب نے شاگردوں تو ہے مددگار میرا کون لیے کے ہللا فرمایا تو کیا “ مددگار۔ )کے (دین بعد کے ان پھر ” } َلْیِجْناِاْل ُہَناَتْیا َو َمْرَیَم ِنْبا ی َسْیِعِب َناْیَقَّفَو َناِل ُسُرِب ْمِہِراَثا یٰلَع َناْیَقَّف َّمُث { ٰیعیس بعد کے ان اور بھیجے رسول اپنے نے ہم )بعد کے )السالم (علیہما ابراہیم و (نوح “ کی۔ عطا )(انجیل کتاب کو اس اور بھیجا بناکر رسول کو مریم ابن ِسُدُقْلا ِحُرْوِب َکُّتْدَّیَا ْذِا َکِتَدِلَوا یٰلَع َو َکْیَلَع ِتْیَمْعِن ْرُکْذا َمْرَیَم َنْبا ی َسْیِعٰی ُہّٰللا اَلَق ْذِا { } َلْیِجْنَواِاْل َۃ ٰرْوَّتال َو َۃَمْکِحْلا َو َب ٰتِکْلا َکُتْمَّلَع ْذِا َو اًلْھَک َو ِدْھَمْلا یِف اَسَّنال ُمِّلَکُت ابن ٰیعیس اے ” گا کہے دن کے قیامت ٰیتعال ہللا جب )ہے الئق کے کرنے یاد وقت (وہ ” ہوئی نازل پر والدہ تیری اور پر تجھ سے جانب میری جو کرو یاد کو نعمت اس میری ! مریم آغوش تھا کرتا کالم تو کہ کی تائید تیری ذریعہ کے )(جبرئیل القدس روح نے میں کہ جب اور توراۃ ‘ حکمت ‘ کتاب سکھائی کو تجھ نے میں جبکہ اور میں بڑھاپے اور میں مادر “ انجیل۔ َنِم َّیَیَد َنْیَب َماِّل اًقِّدَصُم ْمُکْیَلِا ِہّٰللا ْوُل ُسَر ِّنْیِا یَلِئَرآ ْسِا ِنْیَب َیا َمْرَیَم ْبُنا ی َسْیِع اَلَق ْذِاَو { ٰیعیس جب )کرو یاد وقت (وہ اور ” } ُدَمْحَا ٗہُم ْسا یِدْعَب ْنِم ِتْیْاَی ٍلْو ُسَرِب ًرامَبِّشُمَو ِۃَراْوَّتال کا ہللا جانب تمہاری بالشبہ میں ! اسرائیل بنی اے : کہا نے )السالم (علیہما مریم ابن بشارت اور ہے سامنے میرے جو کی توراۃ ہوں واال کرنے تصدیق ‘ ہوں پیغمبر ہوا بھیجا “ ہے۔ احمد نام کا اس گا آئے بعد میرے جو کی پیغمبر ایک ہوں واال سنانے بینات آیات تسلیم کے صداقت و حق کہ ہے چکا گزر میں بحث کی معجزات اول جلد القرآن قصص ” کہ یہ ایک : ہے رہی مانوس سے طریقوں دو سے ہمیشہ فطرت انسانی میں وانقیاد ثابت ذریعہ کے روشنی کی براہین اور قوت کی دالئل صداقت و حقانیت کی “ حق مدعی کی اس ہللا منجانب ساتھ ساتھ کے وبراہین دالئل کہ یہ طریقہ دوسرا اور ہوجائے واضح اور و علم تحصیل اور وسائل و اسباب بغیر جدا سے قدرت قانون عام میں تائید کی صداقت مقابلہ کے اس خواص و عوام کہ ہو طرح اس مظاہرہ کا عجیبہ امور پر ہاتھ کے اس کے فن
23.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 23/97 ایجاد کی امور ان بغیر کے وسائل و اسباب لیے کے ان اور ہوجائیں درماندہ و عاجز سے کی اس اور فکر و عقل کے انسان طریق دوسرا یہ ساتھ کے طریق پہلے ‘ ہو ناممکن مجبور پر کرنے تسلیم یہ وجدان کا ان کہ ہے کردیتا پیدا انقالب ایسا میں کیفیات نفسیاتی ہے نہیں فعل اپنا کا اس خود دراصل عمل یہ کا )پیغمبر و (نبی حق داعی کہ ہے ہوجاتا کی ہونے صادق کے اس یہ بالشبہ اور ہے رہی کر کام قوت کی خدا ساتھ کے اس بلکہ : آیت میں قرآن چنانچہ ہے دلیل مزید } ی َرٰم َہّٰللا َّنِکٰل َو ْیَتَمَر ْذِا ْیَتَمَر َما َو { تھی پھینکی خاک بھر مٹھی )پر (دشمنوں تونے جب ) میں غزوہ کے (بدر پیغمبر اے اور “ تھی۔ پھینکی نے ٰیتعال ہللا لیکن تھی پھینکی نہیں خاک مشت وہ تونے تو و علم اصحاب ان سے میں طریقوں دو ہر ان مگر ہے مقصود اظہار کا حقیقت اسی میں ہے ہوتا ثابت مؤثر زیادہ طریقہ پہال ہیں رکھتے مقام بلند میں ادراک و فہم قوت جو پر دانش اور کرتے قبول سے حیثیت کی وتقویت تائید کی طریقہ پہلے کو طریقہ دوسرے وہ اور ثبوت عملی مزید کا صداقت کی رسالت و نبوت دعوائے کے )پیغمبر و (نبی حق ٔیداع ارباب برعکس کے فکر و عقل ارباب حضرات ان اور ہیں آتے لے ایمان پر اس کرکے یقین سے تصدیق طریقہ دوسرے قلوب انسانی عام متاثر سے ذہنیت کی ان اور اقتدار و قوت دائرہ کے قوت و طاقت کی کائنات کو افعال معجزانہ کے پیغمبر و نبی اور ہوتے متاثر زیادہ ” کو امور ان اور ہیں ہوجاتے مجبور پر کرنے یقین فعل قوت و ارادہ کا ہستی باالتر سے ہیں۔ کردیتے خم تسلیم سر سامنے کے صداقت و حق دعوت کرکے باور “ نشان خدائی ” اور “ َنْرَہاُب ” “ ِہّٰللا َّجُۃُح ” کو دلیل طریق پہلے پر مقامات بیشتر و اکثر نے عزیز قرآن و معاد ‘ وحدانیت کی اس ‘ ہستی کی خدا میں انعام سورة ہے کیا تعبیر سے “ َمۃْکِح بعد کے سمجھانے ذریعہ کے شواہد اور نظائر ‘ دالئل کو عقائد بنیادی کے دین اور آخرت : ہے گیا کہا ہوئے کرتے مخاطب کو )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی ہللا رسول کامل حجت ہے ہی لیے کے ہللا ‘ دیجئے کہہ )محمد (اے ” } َغُۃِلَباْلا َّجُۃُحْلا ِہّٰلِلَف ْلُق { “ )دلیل روشن اور مکمل (یعنی : ہے میں تذکرہ کے ابراہیم حضرت جگہ دوسری میں سورة اس اور کو ابراہیم نے ہم جو ہے “ دلیل ” ہماری یہ اور ” } ٖہِمْوَق یٰلَع َمْیِھ ٰرْبِا َھآ ٰنَتْیٰا َنآُتَّجُح َکْلِت َو { “ کی۔ عطا میں مقابلہ کے قوم کی اس : ہے میں نساء سورة اور )بھیجے نے (ہم ” } ِل ُسُّرال َدْعَب مَّجٌۃُح ِہّٰللا یَلَع ِساَّنلِل َنْوُکَی اَّلَئِل َنْیِرِذُمْن َو َنْیِرَبِّشُّم اًل ُسُر { پیغمبر پر خدا سے جانب کی لوگوں تاکہ والے ڈرانے اور والے سنانے خوشخبری پیغمبر راہ ذریعہ کے دالئل پاس ہمارے (کہ رہے نہ باقی ) (دلیل حجت کوئی بعد کے بھیجنے “ )رہے محروم سے معرفت کی حق دین ہم لیے اس تھا آیا نہ کوئی بتانے مستقیم پاس تمہارے بیشک ! لوگو اے ” } ْمُکِّبَّر ْنِم ِّقَحْلاِب ْوُل َّرُسال ُمُک َئَجآ ْدَق ُساَّنال َھاُّیَآٰی { “ آگیا۔ )(قرآن برہان سے جانب کی پروردگار تمہارے : ہے میں یوسف سورة اور اپنے نے )(یوسف اس تھی لی دیکھ کہ بات یہ ہوتی نہ اگر ” } ٖہِّبَر َناْرَھُب ا َّر َاْن آَل ْوَل { “ دلیل۔ کی پروردگار : ہے میں نحل سورة اور اپنے ” } ُن َسْحَا َیِھ ِتْیَّلاِب ْمُھْلِدَجا َو ِۃَن َحَسْلا ِۃَظِعْوَمْلا َو ِۃَمْکِحْلاِب َکِّبَر ِلْیِب َس یٰلِا ُعْدُا { تبادلہ اور ساتھ کے نصیحت عمدہ اور حکمت دو دعوت جانب کی راستہ کے پروردگار “ سے۔ گفتگو طریق اچھے ساتھ کے )(مخالفین ان کرو خیاالت تجھ اتارا نے ٰیتعال ہللا اور ” } َۃَمْکِحْلا َو َب ٰتِکْلا َکْیَلَع ُہّٰللا َزَلْنَا َو { : ہے میں نساء سورة اور “ کو۔ حکمت اور کو کتاب پر احزاب ‘ زخرف ‘ ص ‘ لقمان ‘ مائدہ ‘ عمران آل ‘ بقرہ سورة ذکر یہ کا “ حکمت ” طرح اسی اور “ ہّٰللا ُتآَیا ” اور “ ہّٰللا آیۃ ” اکثر کو دلیل طریق دوسرے اور ہے موجود بکثرت میں قمر اور ہے۔ کہا “ َتَناِّیَب ” اور “ َتَناِّیَب ِتآَیا ” پر مقامات بعض اونٹنی یہ ” } ًۃَیٰا ْمُکَل ِہّٰللا ُۃَقاَن ِذٖہ ٰھ { : ہے ارشاد متعلق کے )السالم (علیہ صالح ناقہ
24.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 24/97 اور )السالم (علیہ مسیح حضرت اور ہے۔ “ نشان ” ایک )سے جانب کی (خدا لیے تمہارے } َنْیِمَل ٰعْلِّل ًۃَیٰا َنَھآْبا َو َھا ٰنْلَعَج َو { : ہے ارشاد متعلق کے )السالم (علیہا مریم والدہ کی ان “ نشان ” لیے کے والوں جہان کو ٰیعیس لڑکے کے اس اور مریم کردیا نے ہم اور ” َناَتْیٰا ْدَقَل َو { : ہے باری ارشاد میں واقعات کے )السالم (علیہ ٰیموس حضرت اور “ )(معجزہ حضرت اور “ کئے۔ عطا )(معجزات نشان نو کو ٰیموس نے ہم اور ” } ٍتٰیٰا َع ْسِت ی ٰسُمْو َناَتْیٰا َو { : ہے ارشاد متعلق کے ان تھے گئے دیئے معجزات جو کو )السالم (علیہ مسیح ْمُھَتْئِج ْذِا { “ معجزات کو مریم ابن ٰیعیس نے ہم دیئے اور ” } ِت ٰنِّیَبْلا َمْرَیَم َنْبا ی َسْیِع پاس کے ان تو جبکہ وقت اس ” }ْیٌنِبُّم ٌرْحِس اَّلِا آَذ ٰھ ْنِا ْمْنُھِم اَفُرْوَک َنْیِذَّلا اَلَقَف ِت ٰنِّیَبْلاِب “ ہے۔ جادو ہوا کھال تو یہ ‘ نے منکروں میں اسرائیل بنی کہا تو آیا کر لے معجزات کھلے اسلوب کے عزیز قرآن کیونکہ ہے کیا اختیار ًاقصد لفظ کا بیشتر و اکثر پر مقام اس نے ہم وسعت میں استعمال کے الفاظ ان نے اس کہ ہے نہیں بیخبر سے اس واقف سے بیان قرآن اور ہے “ برہان ” کا قسم خاص ایک بھی “ معجزہ ” جبکہ یعنی ہے لیا کام سے تعبیر ‘اس ہیں بھی “ معجزہ ” طرح اسی ہیں “ وبرہان علم ” سر سرتا طرح جس قرآن آیات اور مجاز اطالق کا ہللا آیات اور آیت پر جملوں کے ہللا کتاب اور اطالق کا برہان پر معجزہ لیے ید اور عصاء معجزوں دو کے )السالم (علیہ ٰیموس حضرت ًالمث ‘ ہے حقیقت بلکہ نہیں : ہے میں قصص سورة متعلق کے بیضاء “ ہیں۔ دلیلیں دو یہ سے جانب کی رب تیرے پس ” } َکِّبَّر ْنِم ِنٰناْرَھُب َکِن ٰذَف { طویل کوئی کی قرآن تو سے اطالقات کے آیات اور آیت پر جملوں کے اس اور ہللا کتاب اور ہے ہوا استعمال کا اس سے کثرت اس جگہ جگہ میں قرآن تمام ‘ ہوگی خالی ہی سورت اگرچہ کا “ َناتِّیَب ِتآَیا ” طرح اسی ہے۔ سکتا بن موضوع مستقل فہرست کی اس کہ مسطورہ مگر ہے ہوا پر آیات کی ان اور )انجیل ‘ زبور ‘ توراۃ ‘ (قرآن ہللا کتاب اطالق بکثرت گیا کیا استعمال بھی لیے کے “ معجزات ” کو اس جگہ بعض بعض طرح کی مقامات باال ہے۔ معجزات حقیقت اور بات توجہ الئق خیر و فالح کی دنیا و دین اور ہدایت و رشد میں کائنات مقصد کا بعثت کی رسول اور نبی دیتا انجام کو منصبی فرض اس میں روشنی کی وحی ہللا منجانب وہ اور ہے رہنمائی کی کہ کرتا نہیں ٰیدعو یہ وہ ‘ ہے دکھاتا صداقت راہ ذریعہ کے حق حجۃ اور وبرہان علم اور ہے بار بار وہ بلکہ. ہے منصبی کار کا اس بھی تغیر و تصرف میں امور فطرت ماورائے اور فطرت ‘ ہوں آیا کر بن ہللا الی داعی اور نذیر و بشیر سے جانب کی خدا میں کہ ہے کرتا اعالن یہ ٰیدعو کے اس پھر تو ہوں نہیں کچھ اور زائد سے اس ‘ ایلچی کا خدا اور ہوں انسان میں شخصیت کی اس اور تربیت کی ‘اس تعلیم کی اس لیے کے پرکھ اور امتحان کے صداقت وغرائب عجائبات عادت خارق اور فطرت ماورائے سے اس لیکن معقول ًایقین آنا بحث زیر کا طبیب کسی کہ ہے آتا نظر یوں اور ہے ہوتی معلوم بات بےجوڑ اور عقل خالف مطالبہ کا ایک کی کھٹکے طلسمی وہ کہ کرنا مطالبہ یہ سے اس پر طب حذاقت ٰیدعو کے حاذق ٰیدعو یہ نے ‘طبیب دکھائے کر بنا کھلونا کا قسم عجیب ایک کا لکڑی یا الماری عمدہ عالج کے جسمانی امراض تو ٰیدعو کا اس بلکہ ہے بڑھئی یا لوہار ماہر وہ کہ تھا کیا نہیں ہمہ پر کائنات طرح کی خدا وہ کہ ہوتا نہیں ٰیدعو یہ کا خدا پیغمبر طرح اسی ‘ ہے کا امراض تمام وہ کہ ہے یہ تو ٰیدعو کا اس بلکہ ہے قادر و مالک کا تغیر و تصرف کے قسم ہے۔ ماہر و حاذق اور کامل طبیب لیے کے روحانی لیے اس کیا اور ؟ ہے تعلق کیا درمیان کے )امور عادات (خارق معجزات اور نبوت ٰیدعو پس ؟ ہے نہیں سے میں نبوت لوازم “ معجزہ ” کہ ہے نہیں صحیح کہنا یہ کافی کو مسئلہ اس میں کالم علم لیے اس اور ہے توجہ قابل زیادہ بہت سوال یہ بالشبہ ٰیدعو میں کالم ابتدائے ماتحت کے عنوان “ بینات آیات ” نے ہم لیکن ہے گئی دی اہمیت فطری کے ان اور طبائع انسانی تقسیم جو کی دالئل متعلق سے صداقت کی نبوت کے عقل جوہر اور ہے حقیقت انکار ناقابل ایک بھی وہ ہے کی نظر پیش کے رجحانات
25.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 25/97 مائل جانب کی طریقوں دو جدا جدا کو فکریہ قوت کی انسانوں بالشبہ نے درجات تفاوت جانب کی خدا وہ کہ ہے کرتا ٰیدعو یہ رسول اور نبی ایک جب میں حاالت ان ‘ ہے کردیا سے قوت کی عملی نیک اور مجاہدات و ریاضات جو ہے مامور پر منصب ایسے ایک سے رسالت و نبوت منصب ” یہ اور ہے ہوتا حاصل سے عطا اور موہبت کی خدا محض بلکہ نہیں بعض تو ہے صداقت و حق تعلیم اور ہدایت و رشد کی کائنات مقصد کا اس اور ہے “ ٰیدعو یہ کا ہستی اس اگر کہ ہے ہوتا متوجہ جانب اس عقل جوہر کا ان اور دماغ انسانی اس ساتھ کے برتر خدائے کو اس کہ ہیں ہوتے یہ معنی کے اس تو ہے مبنی پر صحت دیکھتے یہ ہم جب پس ہے ناممکن لیے کے انسانوں دوسرے جو ہے حاصل قربت درجہ دھرم و مذہب یا رواج و رسم قدیم ہمارے تعلیم کی اس اور اصالح صدائے کی اس کہ ہیں اور متضاد ان تو ہیں آئے سمجھتے حق ہم کو جس ہے خالف کے اعمال و عقائد ان کے ہستی یہ کہ ہے بھی یہ صورت ایک کی امتحان کے بطالت و صداقت کی تعلیمات متخالف بہت سمجھنا یہ لیے ہمارے تو دکھائے کر امر عادت خارق یا فطرت ماورائے اور کوئی ًایقین صدور کا امر ایسے ہاتھ کے ہستی اس کے وسائل و اسباب بغیر کہ گا ہوجائے آسان ہی تب ‘ ہے حاصل قرب خاص ساتھ کے برتر خدائے کو اس کہ ہے ثبوت واضح کا بات اس صاحب وہ نیز ‘ دی لگا مہر پر صداقت کی اس کر دکھا “ نشان ” یہ نے برحق خدائے تو پر ان کہ ہے گئی ڈھل میں سانچہ ایسے قوت کی فکر و غور کے جن انسان اقتدار و قوت غیبی کو طاقت متکبرانہ کی ان کہ تک جب ہوتا نہیں ہی موثر تک وقت اس حق امر کوئی رسالت و نبوت مدعی کہ ہیں رہتے منتظر کے اس بھی وہ ‘ جائے کیا نہ بیدار سے ٹھوکر انکار ناقابل ذریعہ کے “ کرشمہ ” ایسے ایک ساتھ ساتھ کے وبرہان دلیل کو صداقت اپنی و اسباب بغیر یا اور ہو نہ ہی ممکن تو یا سے انسانوں دوسرے صدور کا جس کہ دے بنا اس بالشبہ کہ جاسکے کیا باور یہ تاکہ ہو ہوسکتا نہ پذیر وجود کئے استعمال کے وسائل ہے۔ حاصل تائید کی برتر خدائے کو تبلیغ و تعلیم کی ہستی یہ ہوئے کرتے بحث پر تعلق درمیان کے معجزہ اور نبوت ٰیدعو نے کالم علمائے لیے اسی اپنا نے وقت بادشاہ کو اس کہ ہے کرتا ٰیدعو یہ جب شخص ایک کہ ہے کی بیان مثال کہ ہیں ہوتے گار خواست باشندے کے صوبے یا ملک اس تو ہے بھیجا کرکے مقرر نائب یہ ہوئے کرتے بحث پر تعلق درمیان کے معجزہ اور نبوت ٰیدعو نے کالم علمائے لیے اسی اپنا نے وقت بادشاہ کو اس کہ ہے کرتا ٰیدعو یہ جب شخص ایک کہ ہے کی بیان مثال کہ ہیں ہوتے گار خواست باشندے کے صوبے یا ملک اس تو ہے بھیجا کرکے مقرر نائب چنانچہ کرے پیش عالمت اور سند کوئی لیے کے صداقت کی ٰیدعو اپنے نیابت مدعی پیش بھی “ نشانی ” ایسی جانب دوسری تو ہے دکھاتا سند اگر جانب ایک نیابت مدعی کے اس نشانی یہ کردہ عطا کی بادشاہ کہ جاسکے کیا یقین یہ متعلق کے جس ہے کرتا کی نہیں حاصل بھی طرح کسی اور عالوہ کے تصدیق کی منصب اس اور عطیہ اس صرف جو عطیہ خاص ایسا یا )حکومت (مہر انگشتری کی بادشاہ ًالجاسکتی۔مث ہو۔ جاتا کیا عطا کو ہستی فائز پر منصب ہے نہیں مطابقت کوئی درمیان کے خاص عطیہ یا انگشتری اور نیابت ٰیدعو بظاہر اگرچہ تو ربط اہم درمیان کے دونوں ان ہے وابستہ سے تصدیق شاہی جو نے خاص تعلق اس تاہم درجہ دوسرے میں حقانیت و صداقت معیار تصدیق طریق یہ کہ جب لیکن ہے۔ کردیا پیدا ہی کو “ حق وبرہان حجۃ ” اول طریق صرف حیثیت معیاری ًاحقیقت اور ہے رکھتا حیثیت کی سے صدور و وجود کے طریق پہلے معاملہ کا صدور و وقوع کے معجزہ لیے اس ‘ ہے حاصل وہ کہ ہے ضروری بس از لیے کے رسالت و نبوت مدعی ایک ہر کہ یہ وہ اور ہے جدا ًاقطع ذریعہ کے قوت کی یقین و علم اور روشنی کی وبرہان حجۃ کو صداقت و حق ٰیدعو اپنے وبرہان دلیل اور ٰیدعو میں پہلو ہر کے حیات شخصی اور تربیت و تعلیم اپنی اور کرے ثابت اس فرض کا رہنمائی کی تدبر و فکر کے عقل جوہر انسانی اور کرے واضح کو مطابقت کی یقین ” میں مقابلہ کے خیاالت سد کا و فاسد اور وہم و ظن کے قسم ہر کہ دے انجام طرح جانب کی کسی لیے کے فرض ادائے اس اور ہوجائے نمودار طرح کی روشن روز “ محکم فرض وہ راست براہ کا رسول اور نبی یہ بلکہ الزم جستجو نہ اور ہے شرط مطالبہ نہ سے کے لمحہ ایک اگر اور ‘ ہے کیا مامور اور منتخب کو اس نے ٰیتعال خدائے لیے کے جس ہے
26.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 26/97 ہاتھ اپنے کو عمارت پوری کی فرض اپنے گویا تو ہے کرتا کوتاہی میں اس وہ بھی لیے : ہے کردیتا برباد سے } ٗہَتَلا َسِر َتْغَّلَب َماَف َعْلْفَت ْمَّل ْنِا َو َکِّبَّر ْنِم َکْیَلِا َلِزْنُا َمآ ْغِّلَب ْوُل َّرُسال َھاُّیَآٰی { نہ ایسا نے تم اگر اور دو پہنچا پورا پورا کو اس تم ہے گیا کیا نازل پر تم جو ! پیغمبر اے ” “ کیا۔ نہ ادا کو رسالت منصب تو کیا ہی ضرور کو اس رسول اور نبی کہ ہے نہیں ضروری یہ لیے کے معجزہ برعکس کے اس کی وبرہان حجۃ “ معجزہ ” بلکہ کرے تعمیل کی اس پر مطالبہ ہر کے مخالفین یا دکھائے صدور کا اس سے اس اور ہے پذیرہوتا وقوع پر مطالبہ کے معاندین اکثر جو ہے قسم وہ جانتا خوب وہی اور ہے رہتا موقوف ہی پر “ مصلحت و حکمت ” اپنی کی الغیب عالم صرف کا کس اور ہے میں حیثیت کی حق جویائے سوال کا کس میں بارے کے معجزہ کہ ہے اٹھیں کہہ وہ کہ گا پڑے اثر یہ کا اس پر روحوں سعید کن ‘ لیے کے مزید انکار اور تعنت ہوں گویا یوں کہ ہوگا انداز اثر طرح اس پر بدبختوں کن اور } ی ٰسُمْوَو َنُرْو ٰھ َرِّبِب اَّنَمٰا { گی ۔ }ْیٌنِبُّم ٌرْحِس اَّلِا اَذ ٰھ ْنِا { گے اور نبیوں اپنے نے اس کہ ہے کیا ظاہر یہ قطعیہ نصوص بہ جانب ایک اگر نے عزیز قرآن پس تو ہیں کئے عطا معجزات لیے کے وتقویت تائید مزید ساتھ کے وبرہان حجۃ کو رسولوں سے جانب کی خدا میں کہ ہے دیا کہال زبانی کی نبی صاف صاف بھی یہ جانب دوسری کیا نہیں ہرگز ٰیدعو یہ نے ہوں۔میں “ٌّیِبَن َّو ْوٌل ُسَر ” اور “ْیٌرِذَن َّو ْیٌرِشَب ” “ْیٌنِبُم ْیٌرِذَن ” فقط ہاں ‘ ہوں قادر پر امور فطرت ماورائے اور تغیرات و تصرفات کے خداوندی کائنات میں کہ ہی جب وہ مگر ہے بھی کیا ایسا نے اس اور ہے کرسکتا ایسا وہ تو چاہے اگر برتر خدائے سلیمان و داؤد حضرت چنانچہ ہو۔ متقاضی کی اس مصلحت و حکمت کی اس کہ ہے کرتا حضرت ‘ گئے دیئے نشان کے جن و طیور ہوا تسخیر اور الطیر منطق کو )السالم (علیہما میں جن گئے کئے عطا “ نشان کھلے نو ” “ ٍتَناِّیَب ٍتآَیا َع ْسِت ” کو )السالم (علیہ ٰیموس فرعون غرق میں قلزم بحر اور ہے کہا نشان بڑے نے قرآن کو یدبیضا اور عصا نشان دو سے ابراہیم حضرت ہے عظیم نشان ایک مستقل واقعہ غریب و عجیب کا ٰیموس قوم نجات اور (علیہ صالح حضرت بنادیا “ سالم بردو ” کو شعلوں کے آگ دہکتی پر )السالم (علیہ ستایا نے کسی کو اس ہی جوں کہ بنایا نشان “کو صالح ناقہ ” لیے کے قوم کی )السالم آیا۔ پیش طرح اسی ٹھیک چنانچہ گا جائے کر برباد و تباہ کو قوم عذاب کا خدا وقت اسی اور کیا طلب عذاب نے قوموں کی ان سے )السالم (علیہما نوح حضرت اور ہود حضرت کی ہیٰلا عذاب نے پیغمبروں ان تو رہا قائم اصرار کا ان جب بھی بعد کے سمجھانے کافی مواقع سب ان حاالنکہ ہوئیں پوری پر وقت اپنے اپنے ٹھیک وہ تھیں سنائی وعیدیں جو اور تھے نہیں سامان کوئی کے ہالکت و حوادث وقوع اور عذاب نزول اسباب بظاہر میں قرآن بھی کو ان گئے دیئے )(معجزات نشان مختلف جو کو )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت محمد االنبیاء خاتم میں آخر اور گے آئیں بحث زیر ابھی جو ہے کردیا بیان صاف صاف نے کے (مقابلہ تحدی کی جس کیا عطا قرآن معجزہ علمی کو )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی کے ان اور نزول کا فرشتوں میں معرکہ کے بدر نیز ‘ سکا دے نہ جواب کوئی کا )چیلنج اعالن کے } ی َرٰم َہّٰللا َّنِکٰل َو ْیَتَمَر ْذِا ْیَتَمَر َما َو { اور یاوری و نصرت کی مسلمانوں ذریعہ کو خاک بھر مٹھی میں میدان کے بدر نے جس فرمایا اظہار کا معجزہ مشہور اس سے فرمایا۔معاملہ عطا معجزہ کا “ القمر شق ” اور بنادیا آزار کا آنکھوں کی دشمنوں ہزار ایک محمد االنبیاء خاتم جب کہ ہے یہ پہلو دوسرا اور ہے رخ ایک یا پہلو ایک یہ کا بحث زیر کا وبراہین دالئل روشن کے حق تبلیغ و ارشاد دعوت کی )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی عادات خارق اور عجائبات سرکشی و تعنت ازراہ تو پڑا بن نہ سے مخالفین جواب کوئی وآلہ علیہ ہللا (صلی پیغمبر وحی بذریعہ نے ٰیتعال ہللا تب لگے کرنے مطالبہ کا امور جو یہ بلکہ ہے نہیں صداقت جستجوئے اور حق طلب مقصد کا ان کہ دی اطالع کو )وسلم یہ جواب کا ان لیے اس ہیں کہتے سے راہ کی تعصب اور ضد ‘ سرکشی ہیں رہے کہہ بلکہ جائے بنادیا کھیل کا یامداری تماشہ کا متی بھان کو نشانات کے خدا کہ ہے نہیں بد و نیک تو میں ہوں نہیں مدعی کا تصرفات ان میں دو کہہ سے ان کہ ہے یہ جواب اصل کاموں بد و نیک اور مالنے رشتہ ساتھ کے خدا کا بندوں کے خدا ‘ کرنے پیدا تمیز میں امور
27.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 27/97 : ہوں “ رسول نبی ” اور “ْیٌنِبُم ْیٌرِذَن ” لیے کے کرنے واضح کو انجام کے ٍبَنِع َّو ٍلْیِخَّن ْنِّم َّنٌۃَج َکَل َنْوُکَت ْوَا ۔ اًعْنُبْوَی ِضْرَاْلا َنِم َناَل َرُجْفَت یّٰتَح َکَل َنِمْؤُّن ْنَل اْوُلاَق َو { َو ِہّٰللاِب َیِتْاَت ْوَا اًف َسِک َناْیَلَع َتْمَعَز َماَک َئَمآ َّسال َطِق ْسُت ْوَا ۔ ًراْیِجْفَت َھاَلٰلِخ َر ٰھْنَاْلا ِّجَرَفُتَف یّٰتَح َکِّیِقُرِل َنِمْؤُّن ْنَل َو ِئَمآ َّسال یِف ی ٰقَتْر ْوَا ٍفُرُزْخ ْنِّم ٌتْیَب َکَل َنْوُکَی ْوَا ۔ اًلْیِبَق ِۃَکِئ ٰٓل َمْلا آْوُنِمْؤُّی َاْن اَسَّنال َعَمَن َما َو ۔ اًلْو َّرُس ًرا َبَش اَّلِا ُتْنُک َھْل ْیِّبَر َنْبَحا ُس ْلُق ٗہُؤَرَّنْق ـًبا ٰتِک َناْیَلَع َلِّزَنُت } ۔ اًلْو َّرُس ًرا َبَش ُہّٰللا َثَعَبَا آْوُلاَق َاْن آَّلِا یٰٓدُھْلا ُمُھَئَجآ ْذِا جب گے مانیں نہیں بات تیری ہرگز تک وقت اس ہم : کہا )نے (مشرکوں نے انھوں اور ” انگوروں اور کا کھجوروں واسطے تیرے یا دے ابال چشمہ سے زمین لیے ہمارے تو کہ تک ہمارے ہے کرتا گمان جیسا تو یا دے بہا نہریں کر پھاڑ زمین درمیان کے اس تو اور ہو باغ کا واسطے تیرے یا الئے مقابل )(ہمارے کو فرشتوں کے اس اور ہللا تو یا دے گرا آسمان اوپر کو جانے چڑھ تیرے ہم اور پر آسمان جائے چڑھ تو یا اور ہو مکان )(طالئی کا سونے ایک کتاب )سے (آسمان پاس ہمارے تو تاوقتیکہ گے کریں تسلیم نہیں تک وقت اس ہرگز بھی کے پروردگار میرے ہے پاکی دیجئے کہہ ) ! محمد (اے پڑھیں ہم کو اس کہ آئے نہ کر لے “ ہوں۔ پیغامبر کا خدا ‘ ہوں انسان کہ نہیں کچھ سوا کے اس میں لیے ُنَنْح ْلَب اُرَنَصاْبَا ْتِّکَر ُس َماَّنِا آْوُلاَقَل ۔ َنْوُجُرْعَی ِہْیِف اْوُّلَفَظ ِئَمآ َّسال َنِّم اًبَبا ْمِھْیَلَع َناْحَتَف ْوَل َو { چڑھنے پر اس یہ اور دروازہ ایک کا آسمان پر ان ہم دیں کھول اگر اور ” } ۔ َنْوُرْوُح ْسَّم ْوٌمَق گئی کردی مست کہ ہے نہیں کچھ سوا کے اس کہ گے کہیں یہی ضرور بھی تب لگیں اگر اور ” } َھاِب اُنْوِمْؤُی اَّل ٍۃَیٰا َّلُک اْوَرَّی ْنِا َو { “ ہے۔ گیا کردیا جادو پر ہم بلکہ آنکھیں ہماری ہیں والے النے ایمان )پر بنا کی تعصب اور (ضد بھی تب لیں دیکھ بھی نشان کے قسم ہر یہ “ ہیں۔ نہیں یہ رائے کی علماء جن میں کالم علم کہ ہوگیا روشن بخوبی بھی یہ سے تفصیالت ان اب ٰیدعو دراصل وہ ؟ ہے کیا مراد کی ان ہے نہیں نبوت دلیل معجزہ کہ ہے گئی کی ظاہر ہیں چاہتے کرنا ظاہر کو فرق کے دالئل دو ہر باال مسطورہ متعلق سے صداقت کی نبوت اور الزم پر اس ہے کرتی ٰیدعو کا رسالت و نبوت ہستی جو کہ ہیں چاہتے بتانا یہ اور کی دالئل اور کرے پیش “ وبرہان حجۃ ” لیے کے تصدیق کی ٰیدعو اپنے کہ ہے ضروری ہدایت کی کائنات وہ تعلیم جو کی ہیٰلا وحی اور کرے ثابت کو حقانیت اپنی میں روشنی گویا تو ‘ کرے واضح کو حقیقت کی اس ذریعہ کے حجت و برہان ہے کرتی پیش لیے کے کے اس ہے رشتہ کا ملزوم و الزم میں صداقت ِنبرہا و حجۃ اور رسالت و نبوت طرح اس نہیں کا طرح اس تعلق کا )خداوندی (نشانات ہللا آیات اور معجزات ساتھ کے نبوت برعکس ہیٰلا حکمت تقاضائے بہ یا پر مطالبہ کے مخالفین اگر کہ ہے تفصیل یہ میں اس بلکہ ہے بالشبہ تو دکھائے )(معجزہ نشان کوئی میں تائید کی صداقت اپنی خود از رسول و نبی درحقیقت انکار کا اس اور ہے دلیل انکار ناقابل کی ہونے رسول و نبی کے ہستی اس وہ انکار کا واقعہ اور حقیقت انکار یہ میں صورت اس کیونکہ ہے انکار کا صداقت کی رسول اس مقصد کے رسالت و نبوت جو ہے ہوتا “ باطل ” بلکہ نہیں “ حق ” انکار کا حقیقت اور ہے کہ ہو یہ تقاضا کا ہیٰلا حکمت اگر البتہ ہوسکتا۔ نہیں جمع بھی طرح کسی ساتھ کے وبرہان حجۃ پر دین اصول اور ‘ یقین کا وبراہین دالئل پر ہیٰلا ‘وحی روشنی کی حق تعلیم جائے کی نہ پروا کی عجائبات و معجزات طلب بار بار کے مخالفین اب ہوئے ہوتے قیام کا جاری حق تعلیم ذریعہ کے وبرہان حجۃ میں روشنی کی ہیٰلا وحی رسول و نبی اور کا قدرت پر فطرت ماورا نے میں کہ دے کہہ صاف صاف میں جواب کے مخالفین اور رکھے اور ہے ہوجاتی تمام حجت کی خدا پر بندوں میں صورت اس تو ‘ کیا نہیں ٰیدعو کبھی حجت روشن اور وبراہین دالئل کے حق تعلیم وہ کہ رہتا نہیں حق یہ کو قوم اور امت کسی اچنبھوں پر طلب کی اس کہ دے کر انکار کا اس لیے اس اور پھیرے منہ لیے اس سے بینہ گیا۔ کیا نہیں کیوں مظاہرہ کا عجائبات اور میں سلسلہ کے ہّٰللا بایام تذکیر حاالت و واقعات کے رسل و انبیاء جن نے عزیز قرآن پس نے ہم کہ ہے کیا ثابت یہ سے وضاحت و صراحت ذریعہ کے قطعیہ نصوص ہوئے کرتے بیان کے مخالفین اور کیے عطا کو ان )(معجزات نشانات پر طور کے نشان کے صداقت کی ان کی ان اور قبول کو ان چرا و بےچون ہم کہ ہے فرض ہمارا تو کیا مظاہرہ کا ان سامنے
28.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 28/97 تصدیق اس کی غیب عالم کر ہو خائف سے الزام کے پرستی عجائب اور کریں تصدیق ہوجائیں آمادہ پر انکار کے ان میں پردہ کے تاویالت باطل و رکیک نہ اور کریں نہ گریز سے : ہے جانا بن مصداق کا آیت اس کرنا ایسا کیونکہ کہتے وہ اور ” } اًلْیِب َس َکِل ٰذ َنْیَب اْوُذِخَّتَّی َاْن َنْوْیُدِرُی َّو ٍضْعَبِب ُرُفْکَن َّو ٍضْعَبِب ُنِمْؤُن َنْوُلْوُقَی َو { ہیں چاہتے وہ ہیں کرتے انکار کا بعض اور ہیں التے ایمان پر بعض کے ہیٰلا کتاب ہم کہ ہیں نہیں کی مسلم و مومن یہ کہ ہے ظاہر اور “ بنالیں۔ راہ ایک درمیان کے کفر و ایمان کہ َنْیِذَّلا َھاُّیَاــٰٓی { : ہے یہ تو راہ سیدھی کی مسلم و مومن ‘ ہے راہ کی منکر و کافر بلکہ پیروان اے ” }ْیٌنِبُّم ٌّوُدَع ْمُکَل ٗہَّنِا ِنٰطْی َّشال ِت ٰوُطُخ اْوُعِبَّتَت اَل َو ًۃَّفآَک ِمْلِّسال یِف اْوُلُخْدا واُنَمٰا باتوں ساری کی عمل و اعتقاد (اور جاؤ ہو داخل طرح پوری میں اسالم ! ایمانی دعوت کا اسالم سے زبان کہ نہیں کافی ہی اتنا صرف لیے کے ہونے مسلم ‘ جاؤ بن مسلم میں “ ہے۔ دشمن کھال تمہارا تو وہ ‘ کرو نہ پیروی کی وسوسوں شیطانی دیکھو اور )کرلو اقرار کائنات تمام یا ہدایت کی قوم کسی جب کہ ہے رہی جاری یہ “ ہّٰللا سنت ” بہرحال ہللا منجانب کو اس تو ہے ہوتا مبعوث پیغمبر اور نبی لیے کے فالح و فوز کی انسانی وحی جانب ایک ‘وہ ہے جاتا نوازا سے دونوں )(معجزات ہللا آیات اور وبراہین دالئل محکم و دستور بہترین اور نواہی اوامرو متعلق سے معاد و معاش کے کائنات ذریعہ کے ہیٰلا کا “ نشانات خدائی ” خداوندی مصلحت حسب جانب دوسری تو ہے کرتا پیش نظام اسی کو پیغمبر ایک ہر ہے۔نیز دیتا ثبوت کا ہونے ہللا منجانب اور صداقت اپنی کرکے مظاہرہ قومی یا ترقیوں علمی کی زمانہ اس جو ہیں جاتے کئے عطا نشانات و معجزات کے قسم و عاجز کو والوں کرنے معارضہ باوجود کے ہونے حال مناسب کے خصوصیتوں ملکی و ضد اور تعصب اگر اور السکے نہ مقاومت تاب میں مقابلہ کے ان کوئی اور کردیں درماندہ آگاہ سے حقائق کے خصوصیتوں اور ترقیوں اکتسابی اپنی تو ہوں نہ حائل میں درمیان کی انسانوں ہے سامنے کچھ جو یہ کہ ہوجائیں مجبور پر اعتراف اس سے وجہ کی ہونے سے جانب کی ہی واحد خدائے صرف اور ‘ باہر سے دسترس کی ان ‘ باالتر سے قدرت ہے۔ علم اور ) ASTRONOMY( نجوم علم میں زمانہ کے )السالم (علیہ ابراہیم حضرت ًالمث کو اثرات کے نجوم و کواکب قوم کی ان ہی ساتھ اور تھا زور بہت کا ) CHEMISTRY( کیمیا ان جگہ کی واحد خدائے کرکے یقین حقیقی موثر کو ان اور سمجھتی اثرات ذاتی کے ان وہ کیونکہ تھا )(سورج شمس دیوتا بڑا سے سب کا ان اور تھی کرتی پرستش کی بقا کی کائنات میں نگاہ کی ان چیزیں دونوں یہی اور تھا حامل کا دونوں حرارت و روشنی مظہر کا اس کو “ آگ ” میں ارضی کرہ پر بنا اسی اور تھیں االصول اصل لیے کے فالح و اثرات و خواص کے اشیاء کو ان ازیں ‘عالوہ تھی جاتی کی پرستش بھی کی اس کر مان وہ سے لحاظ کے تحقیقات علمی کی آج گویا تھا عبور کافی بھی پر عمل رد کے ان اور تھے۔ واقف حدتک بڑی بھی سے عمل ہائے طریقہ کیمیاوی پرستی خدا اور ہدایت کی قوم کی ان کو )السالم (علیہ ابراہیم نے ٰیتعال ہللا لیے اس کے جن فرمائے عطا وبرہان حجۃ روشن ایسے جانب ایک لیے کے تلقین و تعلیم کی مظاہر اور دیں انجام خدمت کی حق احقاق اور ابطال کے عقائد غلط کے قوم وہ ذریعہ کرکے چاک کو اس تھا پڑگیا پردہ جو کا تاریکی پر چہرہ کے حقیقت سے وجہ کی پرستی : کرسکیں نمایاں کو روشن رخ اور }ْیٌمِلَع ْیٌمِکَح َکَّبَر َّنِا ُئآ َشَّن ْنَّم ٍت َرٰجَد ُعَفَنْر ٖہِمْوَق یٰلَع َمْیِھ ٰرْبِا َھآ ٰنَتْیٰا َنآُتَّجُح َکْلِت َو { ان نے قوم افراد عام کر لے سے بادشاہ پرست بت اور پرست کواکب جب جانب دوسری میں آگ دہکتی پر گھمنڈ کے طاقت مادی اپنی کر ہو الجواب سے وبراہین دالئل کے ابراہیم حضرت خدمت کی ارشاد و دعوت کی جس نے اکبر خالق اسی تو دیا جھونک عظیم وہ کا قدرت اپنی کر کہہ اًم اَل َسَّو اًدَبْر ِنْیْوُک تھے رہے دے انجام )السالم (علیہ اور کردیا پیدا زلزلہ میں ایوان پرہیبت کے باطل نے جس کیا عطا )(معجزہ نشان الشان گئی۔ رہ کر ہو خاسر و ذلیل اور پریشان و حیران ‘ عاجز سے مظاہرہ خدائی اس قوم تمام } َنْیِر َسْخَاْلا ُمُھ ٰنْلَعَجَف اْیًدَک ٖہِب اُدْوَراَا َو { میں فنون و علوم مصری ) MAGIC( سحر میں زمانہ کے )السالم (علیہ ٰیموس حضرت اور
29.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 29/97 تھا حاصل کمال میں سحر فن کو مصریوں اور تھا رکھتا شان امتیازی اور نمایاں زیادہ بہت اور یدبیضا ساتھ ساتھ کے ) توراۃ ( ہدایت قانون کو )السالم (علیہ ٰیموس حضرت لیے اس کے مصر ساحرین نے )السالم (علیہ ٰیموس حضرت اور گئے دیئے معجزات جیسے عصا ہو زبان یک کر دیکھ کو اس کمال ارباب تمام کے سحر تو کیا مظاہرہ کا ان جب میں مقابلہ باالتر سے طاقت انسانی اور جدا سے اس تو ‘یہ نہیں سحر یہ بالشبہ کہ اٹھے پکار کر پر ہاتھ کے ان لیے کے تائید کی پیغمبروں سچے اپنے نے برحق خدائے جو ہے مظاہرہ فرعون نے انھوں کر کہہ یہ اور ہیں واقف بخوبی سے حقیقت کی سحر ہم کیونکہ ہے کرایا ہارون اور ٰیموس سے آج وہ کہ کردیا اعالن ساتھ کے بےخوفی سامنے کے فرعون قوم اور : ہیں پرستار کے ہی واحد خدائے کے )السالم (علیہما اور فرعون مگر } َنُرْواَھَو ی ٰسُمْو َرِّب ۔َنْیِمَلاَعْلا َرِّبِب اَّناَم اْوُلاَق ۔َنْیِجِدا َس ُۃَرَح َّسال َیِقُاْلَو { { }ْیٌمِلَع ٌرِحا َسَل اَذٰہ َّنِا ٗہَلْوَح َمـِاَلْلِل اَلَق { : رہے کہتے یہی سے بدبختی اپنی دربار امراء َناِئَبآٰا ْٓیِف اَذ ٰھِب َناْعِم َس َما َّو َتًریْفُّم ٌرْحِس اَّلِا آَذ ٰھ َما اْوُلاَق ٍت ٰنِّیَب َناِتٰیٰاِب ی ٰسْوُّم ْمُھَئَجآ اَّمَفَل } َنْیِلَّوَاْلا ) MEDICAL SCIENCE( طب علم میں زمانہ کے )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت طرح اسی کی )(فالسفر حکماء و اطباء کے یونان اور تھا چرچا بہت کا ) PHYSICS( الطبیعیات علم اور اور تھی انداز اثر زیادہ بہت پر کمال ارباب کے امصار و ممالک کے پیش و گرد حکمت و طب طب کماالت اور دانش و حکمت اپنی فلسفی اور طبیب بڑے بڑے سے صدیوں میں ملکوں و خواص سے تعلیم کی حق دین اور توحید کی واحد خدائے مگر تھے رہے کر مظاہرہ کا پر ہونے میں نسل کی نبیوں کہ جو بھی اسرائیل بنی خود اور تھے محروم یکسر عوام پر ان میں گزشتہ سطور تھے مبتال میں گمراہیوں جن تھے رہتے کرتے فخر ہمیشہ (علیہ ٰیعیس حضرت جب نے “ ہّٰللا سنت ” میں حاالت ان پس ہے۔ پڑچکی روشنی اور )(انجیل وبرہان حجۃ کو ان جانب ایک تو کیا منتخب لیے کے ہدایت و رشد کو )السالم ایسے چند مناسب کے حاالت مخصوص کے زمانہ جانب دوسری تو نوازا سے حکمت اس پر پیرؤوں کے ان اور کمال ارباب کے زمانہ اس جو فرمائے عطا بھی )(معجزات نشان بالشبہ کہ رہے نہ باقی جھجک کوئی میں اعتراف اس کو حق جویائے کہ ہوں انداز اثر طرح کی برحق رسول سے جانب کی ٰیتعال خدائے محض جدا سے علوم اکتسابی اعمال یہ کار چارہ کوئی اور عالوہ کے اس پاس کے متمرد اور متعصب اور ہیں ہوئے رونما میں تائید کرے۔ مشتعل اور کو آگ کی حسد و بغض اپنے کر کہہ “ جادو صریح ” کو ان کہ رہے نہ سامنے کے قوم نے انھوں مظاہرہ کا جن سے میں معجزات ان کے )السالم (علیہ ٰیعیس : ہے کیا ذکر بصراحت کا معجزات چار نے عزیز قرآن کیا کو جذامی اور نابینا پیدائشی تھے۔اور کرتے کردیا زندہ کو مردہ سے حکم کے خدا ۔وہ1 تھے۔ کرتے کردیا چنگا روح میں اس سے حکم کے خدا اور تھے دیتے پھونک میں اس کر بنا پرند سے مٹی وہ ۔2 تھی۔ پڑجاتی ذخیرہ میں گھر کیا اور کیا خرچ اور کھایا کیا نے کس کہ تھے کرتے بتادیا بھی یہ وہ ۔3 ہے۔ رکھا محفوظ سے تدابیر اکتسابی اور معالجے و عالج کے جن تھے موجود مسیحا ایسے میں قوموں جو تھے نہ کم بھی فلسفی ایسے طبیعیات ماہر میں ان تھے پاتے شفا مریض مایوس تجربات و نظریات بےنظیر پر ماہیات کی اشیاء سماوی و ارضی اور حقائق کے مادہ و روح ارباب مہارت اور بینی باریک کی ان میں اشیاء حقائق اور تھے جاتے سمجھے مالک کے نے )السالم (علیہ ٰیعیس سامنے کے ان جب تھی۔لیکن نازش صد باعث لیے کے کمال کی ضاللت و ہدایت بھی پر ان تو کیا مظاہرہ کا امور ان بغیر کئے اختیار وسائل و اسباب موجزن طلب کی حق میں قلب کے شخص جس کہ پڑا اثر یہی مطابق کے تقسیم قدرتی نبی اور باہر سے دسترس انسانی مظاہرہ کا قسم اس بالشبہ کہ کیا اقرار نے اس تھی اور حسد ‘ رعونت میں دلوں جن اور ہے ہللا منجانب لیے کے تصدیق و تائید کی برحق رسل و انبیاء پیشرو کے ان جو کیا مجبور پر کہنے وہی نے تعصب کے ان تھا وعناد بغض }ْیٌنِبُّم ٌرْحِس اَّلِا آَذ ٰھ ْنِا { تھے۔ آئے کہتے سے
30.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 30/97 یہ وجہ کی مظاہرہ کے اس کہ ہیں کہتے مفسرین بعض میں بارے کے معجزے ۔چوتھے4 اور جھٹالتے کو ان کر ہو نفور سے ہدایت و رشد دعوت کی ان جب مخالفین کہ آئی پیش یہ تمسخر ازراہ ہی ساتھ تو جادوکہتے اور سحر کو )(معجزات بینات آیات کردہ پیش کے ان ہم آج بتاؤ تو ہو بندے مقبول ایسے کے ٰیتعال خدائے تم اگر کہ تھے کرتے دیا کہہ بھی کو تمسخر کے ان )السالم (علیہ ٰیعیس تب ہے رکھا بچا کیا اور ہے کھایا کیا نے دیدیا جواب کا سوال کے ان سے نصرت کی ہیٰلا وحی اور دیتے بدل سے سنجیدگی تھے۔ کرتے مطالعہ ساتھ کے غور کو اس ہے کیا بیان میں انداز جس کو معجزہ اس نے حکیم قرآن مگر کردہ بیان کی مفسرین وجہ کی مظاہرہ کے “ نشان ” اس کہ ہے ہوتا معلوم سے کرنے پیغام )السالم (علیہ ٰیعیس کہ یہ وہ اور ہے ہوتی معلوم وسیع اور دقیق زیادہ سے توجیہ ‘ انہماک میں دنیا کو لوگوں بیشتر و اکثر ہوئے دیتے انجام خدمت کی حق تبلیغ و ہدایت مختلف پر رکھنے باز سے محبت کی زندگی پسند عیش اور اللچ کے ثروت و دولت کلمہ اس روحیں سعید بعض طرح جس تو تھے کرتے دالیا توجہ ذریعہ کے بیان اسالیب ان انسان النفس شریر برعکس کے اس تھیں۔ کردیتی خم تسلیم سر سامنے کے حق ہستیوں والی کرنے امر امتثال باوجود کے اعراض و نفرت قلبی سے حسنہ مواعظ کے میں تعمیل کی ارشاد اس کے آپ وقت توہمہ ہم کہ اتیں کر باور یہ کو ان زیادہ سے مضرت کی منافقت کی منافقین ان کہ کیا فیصلہ یہ نے حق قدرت ذا ہیں۔لٰہ رہتے سرگرم کہ جائے کیا عطا “ نشان ” ایسا کو )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت لیے کے کرنے زائل کو پر اتالف کے انسانی حقوق اور ہللا حقوق اور ہوجائے منکشف باطل و حق سے ذریعہ اس جائے۔ کردیا چاک پردہ کا اس ہے رہا جا کیا سامان کا اندوزی ذخیرہ جو کی )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت خود عالوہ کے )(معجزات نشان خدائی گانہ چہار ان ابھی متعلق کے جس تھا “ نشان خدائی ” الشان عظیم ایک بھی پیدائش کے باپ بغیر یا ہوا ظہور کا معجزات جن پر ہاتھ کے )السالم (علیہ مسیح حضرت ہو۔ چکے سن تفصیالت لیکن کیا تو کیا انکار کا ان حسد ازراہ نے یہود ہوئی پر طریق معجزانہ جس والدت کی ان کی کرنے پیدا راہ لیے کے انکار کے ان بھی نے حضرات اسالم مدعی پرست فطرت بعض ذاتی کو انکار اس نے جنہوں ہیں وہ حضرات بعض سے میں ‘ان ہے فرمائی سعی ناکام مرعوبیت سے جدید علمائے یورپین خدا منکرین اور پرست فطرت بلکہ نہیں لیے کے مفاد ہو نہ عائد الزام کا پرستی عجائب پر مذہبیت کی ان تاکہ ہے کی اختیار روش یہ پر بنا کی ہیں۔اور ذکر قابل سے خصوصیت صاحب علی چراغ مولوی اور سید سر میں ان ‘ سکے ازراہ خاطر کی مقصد ناپاک اور غرض ذاتی اپنی جو ہیں اشخاص صفت یہود وہ بعض بلکہ ہیں کرتے انکار صرف نہ کا معجزات ان کے )السالم (علیہ مسیح حضرت بغض و حسد اور قادیانی مرزا کاذب متنبی میں ‘ان ہیں اڑاتے مضحکہ کا ان میں پردہ کے باطل تاویالت ظلم یہ تو نے الہوری اور ہیں۔قادیانی ذکر قابل سے خصوصیت الہوری علی محمد مسٹر ِۃَئْیَھَک ِنْیِّطال َنِّم ْمُکَل ُقُلْخَا ْٓیِّنَا { معجزہ کے )السالم (علیہ مسیح حضرت کہ ہے کیا کا )السالم (علیہ مسیح کہ دیا کہہ یہ متعلق کے } ِہّٰللا ِنْذِاِب ًراْیَط ُنْوُکَیَف ِہْیِف ْنُفُخَفَا ِرْیَّطال مٹی کی تاالب اس ‘ تھا نہیں کچھ معجزہ ‘ تھا منت رہین کا مٹی کی تاالب ایک عمل یہ تک دم سے منہ اور جاتی بنائی شکل کی پرند کسی جس کہ تھی خاصیت یہ کی حرکت اور تھی ہوجاتی پیدا بھی آواز میں اس سے جانے بھر ہوا تو تھا جاتا دیا رکھ سوراخ جانب کی )السالم (علیہ مسیح حضرت نزدیک کے بدبختوں ان ! ہّٰللبا العیاذ گویا ‘ بھی کا باز شعبدہ یا مداری بلکہ تھی نہیں صداقت معجزانہ یہ میں مقابلہ کے منکروں سے تھا۔ تماشہ یہ ہوئے کرتے انکار بھی کا معجزہ کے )کردینا زندہ کو (مردہ ٰیموت احیائے طرح اسی کو کسی بعد کے موت ٰیتعال ہللا کہ ہے دیا سنا فیصلہ یہ نے عزیز قرآن کہ ہے کیا ٰیدعو از کو قرآن پورے اگر کہ ہے یہ لطف گا۔لیکن بخشے نہیں زندگی قیامت از قبل میں دنیا اس اس بلکہ گا ملے نہیں فیصلہ یہ کو آپ بھی میں آیت ایک کسی تو جائے لیا پڑھ آخر تا اول موت میں دنیا اس نے ٰیتعال ہللا کہ گا پائے اثبات کا اس پر مقامات متعدد خالف کے ٰیدعو میں واقعہ کے بقرہ ذبح آیات کی بقرہ سورة ًالمث ہے بخشی تازہ حیات بعد کے دینے
31.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 31/97 } یٰتْوَمْلا ُہّٰللا ِیُیْح َکِل ٰذَک َھاِضْعَبِب ُہُبْوِرْضا َناْلَفُق { : ہے ارشاد ْمَک اَلَق ٗہَثَعَب َّمُث ٍماَع َۃَئاِم ُہّٰللا ُہَتَماَفَا {: ہے ہوتا ارشاد میں آیت اس کی ہی بقرہ سورة یا } ٍماَع َۃَئاِم َتْثِب َّل ْلَب اَلَق ٍمْوَی َضْعَب ْوَا اْوًمَی ُتْثِبَل اَلَق َتْثِبَل یٰتْوَمْلا ِیْحُت ْیَفَک ِنْیِرَا َرِّب ُم ٖھ ٰرْبِا اَلَق ْذِا َو { : ہے مذکور جگہ تیسری میں سورة اسی یا َّمُث َکْیَلِا َّنُھْرُصَف ِرْیَّطال َنِّم ًۃَعْرَبَا ْذُخَف اَلَق ْیِبْلَق َّنِئَمْطَیِّل ْنِکٰل َو یٰلَب اَلَق ْنِمْؤُت ْمَل َوَا اَلَق } اًیْع َس َنَکْیِتْاَی َّنُھُعْدا َّمُث اًئْزُج َّنْنُھِّم ٍلَبَج ِّل ُک یٰلَع َعْلْجا جن اور ہیں ثابت معانی صریح اور صاف کے “ ٰیموت احیائے ” میں واقعات تمام ان چنانچہ کو ان ہیں لیے معنی کنائی یا مجازی سے “ ٰیموت احیائے ” میں مقامات ان نے حضرات ہے ہوتا ظاہر صاف یہ سے تاویالت کی ان مگر ہے پڑی لینی پناہ کی تاویالت کی طرح طرح اس نزدیک کے قرآن کہ ہیں رہے کر نہیں سے وجہ اس تاویل یہ کی ٰیموت احیائے وہ کہ وسباق سیاق کے باال مسطورہ آیات کہ ہیں کہتے وہ بلکہ ہے ممنوع وقوع میں دنیا کا کہ ہے دیتا قرار ممنوع قرآن کہ ٰیدعو یہ ہیں۔غرض حال مناسب معنی یہی نظر پیش کے دماغ کے الہوری مسٹر اور قادیانی مرزا صرف ہو پذیر وقوع “ ٰیموت احیائے ” میں دنیا دار ہے نہیں دلیل کوئی پر پشت کی اس اور ہے ثابت غیر اور ہے باطل ًاقطع جو ہے اپج کی ایسا اگر سو رہتا آتا پیش نہیں ایسا ماتحت کے فطرت قانون عام کے خدا کہ امر یہ ‘رہا انبیاء تصدیق جو خاص قانون کا برتر خدائے اور کہالتا نہ ہرگز “ معجزہ ” یہ پھر تو رہتا ہوتا تحدی بطور میں مقابلہ کے مخالفین کبھی کبھی سے مقصد کے )السالم (علیہم (علیہ مسیح حضرت طرح اسی رکھتا۔ نہ خصوصیت کوئی ہے رہا آتا پیش کے )(چیلنج نے الہوری اور قادیانی اور ہے گیا کیا انکار بھی کا مسئلہ کے پیدائش باپ بن کی )السالم مخالف و موافق کی مسئلہ اس لیکن ہے کی سرائی ہرزہ بےدلیل خالف کے اس بھی پیدائش کی )السالم (علیہ مسیح حضرت جب منصف جانبدار غیر ایک نظر قطع سے آراء ہوجائے آشکارا بخوبی حقیقت یہ پر اس تو گا کرے مطالعہ کا قرآنی آیات تمام متعلق سے افراط کی ٰینصار اور تفریط کی یہود متعلق سے )السالم (علیہ مسیح قرآنحضرت کہ گی حق دعوت کی قرآن لیے کے جس ہے چاہتا کرنا ادا منصبی فرض وہ اپنا خالف کے دونوں چلے میں سمتوں متضاد اور مخالف ًاقطع دو میں بارے اس ٰینصار اور ‘یہود ہے ہوا ظہور کا باز شعبدہ اور کاذب اور مفتری )السالم (علیہ مسیح حضرت کہ ہیں کہتے یہود ‘ ہیں گئے قرآن میں حاالت ‘ان تھے ثلثہ ثالث یا بیٹے کے خدا ‘ خدا وہ کہ ہیں کہتے ٰینصار اور تھے فیصلہ یہ خالف کے دونوں ہوئے دکھاتے راہ کی یقین و علم خالف کے ظنون و اوہام ان نے بڑی سے سب یہی کی مستقیم صراط اور ہے درمیان کے وتفریط افراط حق راہ کہ دیا نہیں کاذب اور مفتری )السالم (علیہ مسیح حضرت کہ رہے واضح ہے کہتا وہ ہے۔ شناخت حق دعوت نے انہوں ‘ تھے صادق داعی کے حق راہ اور پیغمبر سچے کے خدا بلکہ تھے میں فہرست کی انبیاء معجزات وہ کردکھائیں باتیں عجیب بعض جو لیے کے تصدیق کی پیدائش کی ان کہ ہے صحیح بھی یہ ‘اور کی بازوں شعبدہ اور ساحروں کہ نہ ہیں شامل بیٹے کے خدا یا خدا وہ کہ ہے آسکتا الزم کیسے یہ سے اس مگر ہوئی کے باپ بغیر محتاج کا پیٹ کے ماں بھی میں پیدائش اور ہو محتاج کا پیدائش شخص جو کیا ‘ ہوگئے یا خدا ماسوا کے بشر اور عبد وہ ہو محتاج کا پینے کھانے لوازم بشری شخص جو اور نہیں۔ ہرگز نہیں ؟ ہے ہوسکتا معبود )السالم (علیہ مسیح حضرت نے ٰینصار کہ چاہیے کرنا نہیں فراموش کو حقیقت اس یہاں کہ جیسا تھا واقعہ یہی سہارا بڑا بہت کا اس تھا کیا قائم عقیدہ جو کا الوہیت متعلق کے ہے۔ ہوتا ظاہر سے گفتگو باہمی کی )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی اکرم نبی اور نجران وفد کرکے تردید میں الفاظ واضح کی عقائد باطل تمام ان کے ٰینصار و یہود نے قرآن کہ جب تو اصالح فریضہ اپنا تھے لیے کر قائم متعلق کے )السالم (علیہ مسیح حضرت نے انہوں جو تھا واقعی غیر اور باطل واقعہ کا پیدائش کے باپ بن اگر کہ تھا ممکن کیسے یہ ‘ دیا انجام سے طور واضح متعلق کے اس ‘ کا )السالم (علیہ مسیح الوہیت تھا رہا بن سہارا جو اور بیان طرح اسی ٹھیک کو واقعہ اس جگہ جگہ وہ برعکس کے اس بلکہ کرتا نہ تردید قرآن سے سب کہ تھا فرض کا اس ‘ ہے گیا کیا بیان میں انجیل کی متی کہ جیسا جاتا کرتا )السالم (علیہ مسیح حضرت کہ کر کہہ قدر اس صرف اور لگاتا کاری ضرب پر اسی پہلے
32.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 32/97 مسیح الوہیت پر جس پھینکتا اکھاڑ سے جڑ کو عمارت ساری اس تھا شخص فالں باپ کا کہا یہ بلکہ کیا نہیں اختیار طریقہ یہ نے اس مگر ہے گئی رکھی بنیاد کی )السالم (علیہ ‘ سکتی بن نہیں دلیل کی الوہیت کی )السالم (علیہ مسیح بھی طرح کسی بات یہ کہ ْنُک ٗہَل اَلَق َّمُث ٍبَراُت ْنِم ٗہَقَلَخ َدَمٰا ِلَثَمَک ِہّٰللا َدْنِع ی ٰسْیِع َلَثَم َّنِإ{ : کہ لیے اس ؟ کیوں سکتی دے الوہیت درجہ کو )السالم (علیہ مسیح پیدائش کی باپ بن اگر پس } ُنْوُکَیَف باپ ماں بن وہ کہ ہے حاصل حق کا الوہیت زیادہ سے اس کو )السالم (علیہ آدم تو ہے باپ بن کی )السالم (علیہ مسیح حضرت نے پرستوں تاویل جن بہرحال ہے۔ ہوا پیدا کے اس وہ ہیں پیداکئے احتماالت غلط کرکے جدا جدا کو جملوں کے آیات متعلق سے پیدائش ایک تو جائے کیا مطالعہ کرکے یکجا کو آیات متعلق سے واقعہ اس جب کہ ہیں باطل لیے دوسرے ماسوا کے معنی کے پیدائش باپ بن میں معانی کے آیات بھی لیے کے لمحہ کے الفاظ کے زبان عربی کہ یہ مگر رہتی نہیں باقی گنجائش کی احتمال بھی کسی موالنا بقول نیز جائے۔ کی جسارت جا بے پر معنوی تحریف میں اطالقات اور مدلوالت معین ہے کی باطل تاویل میں آیات متعلق سے پیدائش کے باپ بغیر نے اصحاب جن الکالم ابو اگرچہ نکاح کا )السالم (علیہا مریم حضرت کہ ہے پر بات اس صرف مدار کا دلیل کی ان میاں میں صورت ‘ایسی تھی آئی نہیں میں عمل رخصتی مگر تھا ہوچکا سے یوسف و رسم کے وقت تاہم تھی نہیں خالف کے موسوی شریعت گو مقاربت درمیان کے بیوی کو لوگوں پیدائش کی )السالم (علیہ مسیح حضرت لیے اس تھی خالف ًاقطع کے رواج ۔دوسرے ہے بات بےسند سب نہیں موجود ہی ثبوت کا واقعہ اس تو اول لیکن ‘ گزری گراں “ بائبل آف انسائیکلوپیڈیا ” تھا لگایا بہتان جو پر )السالم (علیہا مریم حضرت نے یہودیوں کہ نہ تھی کی جانب کی ٹالی پنتھرا شخص ایک نسبت کی بہتان اس کہ ہے تصریح میں ہے۔ بےاصل اور غلط تاپا سر از ہی بنیاد یہ کی تاویل لیے ‘اس جانب کی نجار یوسف ممنوع کو امکان کے اس بھی عقل سو ہے پہلو عقلی کا مسئلہ اس تک جہاں ازیں عالوہ کی سائنس کیا ‘ ہے کرتی تسلیم الوقوع ممکن کو اس بلکہ دیتی نہیں قرار محال اور کی سائنس کہ جب آج کہ ہیں ناواقف سے حقیقت اس حضرات آشنا سے دنیا موجودہ ہے کردیا ثابت یہ سے تجربہ اور مشاہدہ کر بڑھا قدم آگے سے نظریوں نے تحقیق جدید اور ہے ہوتی سے بیضہ بھی پیدائش و خلقت کی انسان طرح کی حیوانات دوسرے کہ ہیں کہتے )ہیں۔ کہتے ) CELL( میں انگریزی کو ؎(خلیہ ١ تخم خلیہ میں اصطالح کو اس کہ ہیں ہوتے یہ معنی کے جانے پا قرار حمل اور ہے ہوتا میں دونوں عورت اور مرد خلیہ یہ ‘ کا حیات اور زندگی خلیہ یہی ‘ ہیں ہوجاتے داخل میں بیضہ کے عورت تخم خلیات کے مرد کا انچ قطر کا اس (؎ ٢ فرمایا عطا جثہ باریک بہت کو اس نے حق قدرت اور ہے تخم جانب اس کو سائنسدانوں کے انگلینڈ اور امریکہ نے تحقیق اس تو ‘ ہے )ہے۔ ہوتا ٥٠٠/١ کے مقاربت کی مرد بغیر کہ کریں نہ کوشش ایسی ایک وہ کیوں کہ ہے کردیا متوجہ ” کرکے داخل میں مبیض کے اناث جنس ذریعہ کے آالت کو تخم خلیات کے رجال جنس عملی ابھی تخیل یہ کا والوں سائنس ہوں۔ کامیاب میں کرنے حاصل “ انسانی وجود ممکن یہ عقل کہ ہے ہوتا پیدا ضرور نتیجہ یہ سے اس لیکن ہو دور ہی کتنا سے حیثیت بعض عالوہ کے والدت طریق عام دیکھے آنکھوں ‘ پیدائش انسانی کہ ہے سمجھتی نہیں لیے اس خالف کے قدرت قانون کو ان اور ہے ہوسکتی بھی سے طریقوں دوسرے قدر جس انسان بلکہ ہے کرلیا نہیں احاطہ کا قوانین تمام کے قدرت نے ہم کہ جاسکتا کہا نئے نئے کے قانون کے حق قدرت سامنے کے اس ہے جاتا بڑھتا جانب کی دانش و علم وہ آج تھی آتی نظر ناممکن کل بات جو کہ ہے صحیح یہ اگر پس ہیں۔ جاتے کھلتے گوشے معلوم نہیں تو ہے رہا جا کیا یقین پر وقوع کے اس بدیر یا جلد اور ہے جارہی کہی ممکن کو ہم تک ابھی اگرچہ علم کا جس ہیں معنی کیا کے کردینے انکار کا قدرت قانون اس پھر حقیقت کی علم اس پر ہستیوں صفات قدسی جیسی رسل و انبیاء مگر ہے نہیں حاصل اور ہو نہ علم کو ہم کا بات جس کہ ہے پہلو کوئی بھی یہ کا دلیل علمی کیا تو ہے آشکارا وجہ کی “ علم عدم ” صرف انکار کا اس ہو کرتی ثابت نہ محال اور ناممکن کو اس عقل تو ہو سے جانب کی نبوت و مسیحیت مدعی ایک انکار یہ جب ًاخصوص جائے کردیا سے ہے۔ جاسکتا کہا یہی تو لیے کے اس
33.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 33/97 و سر کا حصول کے عبرت و موعظت اور سنئے سے حکیم قرآن کو “ بینات آیات ” ان اب ہے۔ مقصد عظیم یہی کا قرآن سے تذکیر کی واقعات ان کے ماضی کہ کیجئے سامان ْمُکُتْئِج ْدَق ِّنْیَا َلْیِئَرآ ْسِا ْٓیِنَب یٰلِا اًلْو ُسَر َو ۔ َلْیِجْناِاْل َو َۃ ٰرْوَّتال َو َۃَمْکِحْلا َو َب ٰتِکْلا ُہُمِّلَعُی َو { ُٔیِرْبُا َو ِہّٰللا ِنْذِاِب ًراْیَط ُنْوُکَیَف ِہْیِف ْنُفُخَفَا ِرْیَّطال ِۃَئْیَھَک ِنْیِّطال َنِّم ْمُکَل ُقُلْخَا ْٓیِّنَا ْمُکِّبَّر ْنِّم ٍۃَیٰاِب ِفْی َّنِا ْمُکِتُبُیْو ِفْی َنُرْوِخَّدَت َما َو َنْوْاُکُلَت َماِب ْمُکُئِّبَنُا َو ِہّٰللا ِنْذِاِب یٰتْوَمْلا ِیْحُا َو َصَرْبَاْلا َو َہَمْکَاْلا ْیِذَّلا َضْعَب ْمُکَل َّلِحُاِل َو ِۃ ٰرْوَّتال َنِم َّیَیَد َنْیَب َماِّل اًقِّدَصُم َو ۔ َنْیِمِنْؤُّم ْنُتْمُک ْنِا ْمُکَّل ًۃَیٰاَل َکِل ٰذ اَذ ٰھ ُہْوُدُب ْعاَف ْمُّبُکَر َو ْیِّبَر َہّٰللا َّنِا ۔ ِنْوُعْیِطَا َو َہّٰللا واَّتُقاَف ْمُکِّبَّر ْنِّم ٍۃَیٰاِب ْمُکُتْئِج َو ْمُکْیَلَع َمِّرُح } ۔ ْیٌمِقَت ْسُّم ٌطَراِص ہے رسول وہ اور ‘ انجیل اور تورات ‘ حکمت ‘ کتاب کو ) ٰی(عیس اس ہے سکھاتا خدا اور ” کی پروردگار تمہارے پاس تمہارے میں بیشک کہ )ہے کہتا (وہ جانب کی اسرائیل بنی شکل کی پرند سے مٹی لیے تمہارے میں کہ یہ وہ ‘ ہوں آیا کر لے “ نشان ” سے جانب اور ہے جاتا بن پرند زندہ سے حکم کے خدا وہ اور ہوں دیتا پھونک میں اس پھر بناتا کے خدا ‘اور ہوں کردیتا اچھا کو جذام کے داغ سپید اور کردیتا سوانکھا کو اندھے پیدائشی تم جو اور ہو آتے کر کھا تم جو ہوں دیتا بتا کو تم اور ‘ ہوں کردیتا زندہ کو مردہ سے حکم میں امور ان بالشبہ تو ہو رکھتے ایمان حقیقی تم اگر سو ‘ ہو آتے رکھ ذخیرہ میں گھر تصدیق کی تورات میں اور ہے “ نشان ” )لئے کے ہونے ہللا منجانب اور صداقت (میری جو کو چیزوں ان بعض تاکہ )ہوں گیا بھیجا لیے (اس اور ہے سامنے میرے جو ہوں واال کرنے ” سے پاس کے ہی پروردگار لیے تمہارے دوں کر حالل لیے تمہارے ہیں ہوگئی حرام پر تم اطاعت میری )میں احکام ہوئے دیئے کے (اس ‘اور ڈرو سے ہللا تم پس ‘ ہوں الیا “ نشان یہی ‘ کرو عبادت کی اس سو ‘ ہے پروردگار تمہارا اور میرا ہی ٰیتعال ہللا بالشبہ ‘ کرو “ ہے۔ راہ سیدھی َو َہَمْکَاْلا ُٔیِرْبُت َو ِنْیْذِاِب ًراْیَط ُنْوُکَتَف َھاْیِف ُفُخْنَتَف ِنْیْذِاِب ِرْیَّطال ِۃَئْیَھَک ِنْیِّطال َنِم ُقُلْخَت ْذِا َو { میرے تو جبکہ )کر یاد کو نعمت اس میری تو ! مریم ابن ٰیعیس ے (ا اور ” } ِنْیْذِاِب َصَرْبَاْلا میرے وہ اور تھا دیتا پھونک میں اس پھر اور دیتا بنا شکل کی پرند سے گارے سے حکم سوانکھا کو اندھے پیدائشی سے حکم میرے تو جبکہ اور تھا جاتا بن پرند زندہ سے حکم کر زندہ کو مردہ سے حکم میرے تو جبکہ اور تھا کردیتا اچھا کو کوڑھی کے داغ سپید اور ٰی(عیس وہ جب پھر ” }ْیٌنِبُّم ٌرْحِس اَذٰہ اْوُلاَق ِتَناِّیَبْلاِب ْمُہَئَجا اَّمَفَل { “ تھا۔ نکالتا سے قبر کے یہ ” کہا )نے اسرائیل (بنی نے انہوں تو آیا کر لے نشان کھلے پاس کے ان ))السالم (علیہ آیات سامنے کے قوموں بھی کبھی جب نے )السالم (علیہم انبیاء “ ہے۔ جادو ہوا کھال تو تو یہ ” ہے کہی ضرور بات ایک متعلق کے ان ہمیشہ نے منکروں تو ہے کیا مظاہرہ کا ہللا اس جواب یہ لیے کے انسان متعصب غیر اور حق جویائے ایک کیا پس “ ہے جادو ہوا کھال عام ضرور مظاہرے کے قسم اس کے )السالم (علیہم انبیاء کہ کرتا نہیں رہنمائی جانب قدسی ان صرف جو تھے ہوتے پذیر ظہور ذریعہ کے علم ایسے جدا سے قدرت قوانین فہم کے اس دنیا انسانی عالوہ کے ان اور ہے رہا مخصوص ہی لیے کے ہستیوں صفات پر انکار ضد و عناد ازراہ جو پاس کے لوگوں ان ہی تب ہوئی نہیں مند بہرہ سے حقیقت ان وہ کہ تھی نہیں تعبیر دوسری بہتر سے اس لیے کے انکار کے ‘اس تھے ہوئے تلے “ معجزہ ” کے ان بھی کہنا جادو و سحر کو امور ان ذا لٰہ دیں۔ کہہ “ جادو و سحر ” کو امور ہے۔ دلیل زبردست کی ہونے “ خداوندی نشان ” اور خالصہ کا تعلیمات کی ان اور )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت ذریعہ کے ہللا آیات اور وبرہان حجۃ کو اسرائیل بنی )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت بہرحال میں قلوب مردہ کر دال یاد کو سبق ہوئے بھولے کے ان اور رہتے دیتے تعلیم کی حق دین کی ) ( رسل و انبیاء ‘ ایمان پر توحید کی خدا اور خدا تھے۔ رہتے بخشتے تازہ حیات رسولوں کے خدا ‘ ایمان پر قدر و قضا ‘ ایمان پر ہللا مالئکۃ ‘ ایمان پر )(معاد ‘آخرت تصدیق عبادت ‘ اجتناب و پرہیز سے سیہ اعمال ‘ اختیار کے حسنہ اخالق ‘ ایمان پر کتابوں اور محبت سے )خدا (مخلوق کنبہ کے خدا اور نفرت سے انہماک میں دنیا ‘ رغبت سے ہیٰلا
34.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 34/97 ہوا بنا منصبی فرض اور مشغلہ کا زندگی کی ان جو تھی تلقین و تعلیم وہ یہی مودت و جانب کی امور ان ذریعہ کے نصائح و پند حکیمانہ اور انجیل ‘ تورات کو اسرائیل بنی تھا۔وہ تعلیم اور سرکشی مسلسل کی صدیوں کج فطرت اپنی یہود بدبخت مگر ‘ دیتے دعوت نے قتل کے رسل و انبیاء اور تھے ہوگئے متشدد درجہ اس بدولت کی بغاوت سے ہیٰلا مختصر ایک کہ تھا بنادیا سخت درجہ اس میں قبول کے صداقت و حق کو قلوب کے ان کے ان اور مخالفت کی ان نے اکثریت بڑی کی جماعت کی ان عالوہ کے جماعت سی انبیاء لیے اس اور لیا بنا معیار کا زندگی جماعتی اپنی اور شعار اپنا کو بغض و حسد ساتھ کے جالل و جاہ دنیوی میں بگوشوں حلقہ کے ہدایت و رشد مطابق کے راشدہ سنت کی کا ‘ضعفاء تھی آتی نظر اکثریت کی طبقہ ور پیشہ زیردست اور ناتواں و کمزور سے لحاظ وہ کا اسرائیل بنی تو کہتا لبیک پر آواز کی حق ساتھ کے دیانت و اخالص اگر طبقہ یہ مظاہرہ کا تذلیل و توہین ‘ کستا پھبتیاں پر پیغمبر کے خدا اور پر ان حلقہ مغرور و سرکش : تھا رہتا کرتا صرف میں مخالفت و معاندت حصہ بڑا کا جدوجہد عملی اپنی اور کرتا ِہْیِف َنْوُفِلَتْخَت ْیِذَّلا َضْعَب ْمُکَل َنِّیَبُاِلَو ِۃَمْکِحْلاِب ْمُکُتْئِج ْدَق اَلَق ِتَناِّیَبْلاِب ی ٰسْیِع َئَجا اَّمَلَو { مْنِم ُبَزاْحَاْلا َفَلَتْخاَف ۔ ْیٌمِقَت ْسُّم ٌطَراِص اَذٰہ ُہْوُدُب ْعاَف ْمُّبُکَرَو ْیِّبَر َوُہ َہّٰللا َّنِا ۔ ِنْوُعْیِطَاَو َہّٰللا واَّتُقاَف تو آئے کر لے دالئل ظاہر ٰیعیس جب اور ” } ۔ ٍمْیِلَا ٍمْوَی ِباَذَع ْنِم اُمْوَظَل َنْیِذَّلِّل ْیٌلَوَف ْمِہِنْیَب بعض ان تاکہ ہوں آیا لیے اس اور ہوں آیا کر لے “ حکمت ” پاس تمہارے میں بالشبہ ” : کہا اور ڈرو سے ہللا پس ‘ ہو رہے جھگڑ میں آپس تم متعلق کے جن دوں کر واضح کو باتوں پرستش کی اس سو ہے پروردگار تمہارا اور میرا ہی ٰیتعال ہللا بیشک ‘ کرو اطاعت میری لیے کے لوگوں ان سو ‘ لگے کرنے بندی گروہ میں آپس وہ “پھر ہے راہ سیدھی یہی کرو ِنْیَب َیا َمْرَیَم ْبُنا ی َسْیِع اَلَق ْذِاَو { “ ہے۔ خرابی اور ہالکت ذریعہ کے عذاب ناک درد مْنِم ِتْیْاَّی ٍلْو ُسَرِب ًرامَبِّشُمَو ِۃَراْوَّتال َنِم َّیَیَد َنْیَب َماِّل اًقِّدَصُم ْمُکْیَلِا ِہّٰللا ْوُل ُسَر ِّنْیِا یَلِئَرآ ْسِا جب )کرو یاد وقت (وہ اور ” }ْیٌنِبُّم ٌرْحِس اَذٰہ اْوُلاَق ِتَناِّیَبْلاِب ْمُہَئَجا اَّمَفَل ُدَمْحَا ٗہُم ْسا یِدْعَب ہوں پیغمبر کا ہللا جانب تمہاری میں بالشبہ ! اسرائیل بنی اے : کہا نے مریم ابن ٰیعیس ایک ہوں واال دینے بشارت اور ہے سامنے میرے جو کی تورات ہوں واال کرنے تصدیق ‘ آیا ))السالم (علیہ ٰی(عیس جب ‘پس ہے احمد کا اس نام گا آئے بعد میرے جو کی رسول { “ ہے۔ جادو ہوا کھال تو یہ ‘ لگے کہنے )اسرائیل (بنی وہ تو کر لے معجزات پاس کے ان اَّنَمٰا ِہّٰللا ُرَصاْنَا ُنَنْح َنْوُّی ِرَحَواْلا اَلَق ِہّٰللا یَلِا ْٓیِرَصاْنَا ْنَم اَلَق َرْفْلُکا ُمْنُھِم ی ٰسْیِع َّسَحَا آَّمَفَل ” } ۔ َنْیِدِھ ّٰشال َعَم ْبَناُتْکاَف َلْو َّرُسال َناْعَبَّتا َو َتْلَزْنَا َمآِب اَّنَمٰا َنآَّبَر ۔ َنُمْوِل ُمْس اَّنَاِب ْدَھ ْشا َو ِہّٰللاِب میرا جانب کی ہللا ” کہا تو کیا محسوس کفر سے )اسرائیل (بنی ان نے ٰیعیس جب پھر پر ہللا ہم گار۔ مدد )کے (دین کے ہللا ہیں ہم ” : دیا جواب نے حواریوں “ ؟ ہے مددگار کون ہے اتارا تونے جو ! پروردگار ہمارے اے ‘ ہیں مسلمان ہم کہ رہنا گواہ تم اور آئے لے ایمان حق (دین کو ہم تو پس کرلی اختیار پیروی کی رسول نے ہم اور آئے لے ایمان پر اس ہم “ لے۔ لکھ سے میں والوں دینے گواہی )کی )السالم (علیہ ٰیعیس حواری کے سرائیوں ہرزہ اور اندازیوں در کی مخالفین و معاندین )السالم (علیہ ٰیعیس مگر بنی روز و شب اور رہتے سرگرم میں “ الحق الی دعوۃ ” منصبی فرض اپنے باوجود ہللا آیات واضح اور دالئل روشن اور سناتے حق پیغام میں بستیوں اور آبادیوں کی اسرائیل خدا حکم اور خدا اور تھے۔ رہتے کرتے آمادہ پر صداقت و حق قبول کو لوگوں ذریعہ کے جو تھیں آتی نکل بھی روحیں سعید ایسی میں بھیڑ کی انسانوں باغی اور سرکش سے کو حق دین ساتھ کے سچائی اور کہتی لبیک پر حق دعوت کی )السالم (علیہ ٰیعیس ٰیعیس حضرت جو تھیں بھی ہستیاں مقدس وہ میں بندوں پاک ہی ‘ان تھیں کرلیتی قبول کی حق دین بلکہ تھیں آئی لے ہی ایمان صرف نہ کر ہو فیضیاب سے صحبت شرف کے لیے کے دین خدمت کر لگا بازی کی مال و جان نے انہوں لیے کے کامیابی اور بلندی سر تبلیغ کر رہ ساتھ کے )السالم (علیہ مسیح حضرت بیشتر و اکثر اور تھا کردیا وقف کو خود اور )(رفیق “ حواری ” وہ سے وجہ کی خصوصیت اسی ‘ تھیں دیتی سرانجام کو دعوت و
35.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 35/97 گئیں۔ کی ممتاز و معزز سے القاب مقدس کے )مددگار کے دین کے (ہللا “ ہّٰللا انصار ” سے سخت اور بنایا اسوہ اپنا کو پاک حیات کی خدا پیغمبر نے ہستیوں بزرگ ان چنانچہ و معاون طرح ہر اور چھوڑا نہیں ساتھ کا ان بھی میں حاالت نازک سے نازک اور سخت : ہوئیں ثابت مددگار اور ” } َنُمْوِل ُمْس َناَّنَاِب ْدَھ ْشَوا اَّنَمٰا آْوُلاَق ِلْیْو ُسَرِب َو ْیِب اُنْوِمٰا َاْن َنّٖیِرَحَواْلا یَلِا ُتْیَحْوَا ْذِا َو { کی وحی یہ )معرفت (تیری جانب کی حواریوں نے میں جبکہ )کرو یاد وقت وہ ٰیعیس (اے ! خدا اے اور الئے ایمان ہم ” دیا جواب نے انہوں تو الؤ ایمان پر پیغمبر میرے اور پر مجھ کہ “ ہیں۔ مسلمان بالشبہ ہم کہ رہنا گواہ ِہّٰللا یَلِا ْیِرَصاْنَا ْنَم َنْیِّیِرَحَواْلِل َمْرَیَم ْبُنا ی َسْیِع اَلَق َماَک ِہّٰللا اَرَصْنَا اْوُنْوُک اُنْوَمٰا َنْیِذَّلا َہاُّیَاـٰٓی { اُنْوَمٰا َنْیِذَّلا اَنْدَّیَاَف ٌۃَفِئاَط ْتَرَفَکَو یَلِئَرآ ْسِا ِنْیَب مْنِّم ٌۃَفِئاَّط َتَمَنَفٰا ِہّٰللا ُرَصاْنَا ُنَنْح َنْوُّی ِرَحَواْلا اَلَق جیسا جاؤ ہو مددگار )کے (دین کے ہللا تم ! والو ایمان اے ” } َنْیِرِہاَظ اْوُحَبْصَفَا ْمِہِّوُدَع یٰلَع گا مدد میرا کون میں راستہ کے ہللا ” : کہا سے حواریوں جب نے مریم ابن ٰیعیس کہ کی اسرائیل بنی پس مددگار کے )راہ (کی ہللا ہیں ہم ” دیا جواب نے حواریوں تو “ رہے کے ان کی مومنوں نے ہم سو کیا اختیار کفر نے گروہ ایک اور الئی ایمان جماعت ایک “ رہے۔ غالب )(مومن وہ پس کی تائید میں مقابلہ کے دشمنوں بیشتر حواری یہ کے )السالم (علیہ ٰیعیس کہ ہے ہوچکا واضح یہ میں سطور گزشتہ کے تبلیغ و دعوت کی )السالم (علیہم انبیاء کیونکہ تھے سے میں طبقہ مزدور اور غریب حق دین اور کہنے لبیک پر حق صدائے کی ان کہ ہے رہی جاری یہی “ ہّٰللا سنت ” ساتھ اور ہے بڑھتا آگے ہی طبقہ کمزور اور غریب اول لیے کے کرنے مظاہرہ کا سپاری جان پر ہستیاں زبردست اور اقتدار صاحب کی وقت اور ہیں دیتے ثبوت کا کاری فدا ہی زیردست معاندانہ اور آتی سامنے لیے کے معارضہ اور مقابلہ ساتھ کے گھمنڈ اور غرور اپنے جب لیکن ہیں جاتی بن گراں سنگ میں راہ کی ہللا کلمۃ اعالئے ساتھ کے سرگرمیوں کمزور ان کامرانی و فالح میں نتیجہ تو ہے کرتا کام اپنا عمل پاداش قانون کا ٰیتعال خدائے جا میں مذلت قعر کے ہالکت یا ہستیاں مغرور و متکبر اور ہے ہوجاتا حصہ کا ہی حق فدایان نہیں کار چارہ کوئی ماسوا کے ہوجانے سرنگوں کر ہو مغلوب و مقہور یا اور ہیں گرتی دیکھتیں۔ موازنہ کا انجیل و قرآن اور )السالم (علیہ ٰیعیس حواری آل سورة ‘ ہے کی بیان منقبت کی حواریوں کے )السالم (علیہ ٰیعیس نے عزیز قرآن کی حق دین جب )السالم (علیہ مسیح حضرت ‘ ہیں سامنے تمہارے آیات کی عمران نعرہ کا “ ِہّٰللا ُرَصاْنَا ُنَنْح ” نے جنہوں پہلے سے سب تو ہیں پکارتے لیے کے یاوری و نصرت کو مسلمانوں جب نے لمین الٰع رب ہللا میں صف سورة ‘ تھیں ہستیاں پاک یہی وہ کیا بلند ہی ان نظر پیش “کے ہّٰللا بایام تذکیر ” تو دی ترغیب کی ِہّٰللا اَرَصْنَا اْوُنْوُک کرکے مخاطب لیے کے حق نصرت کر دے نظیر اور مثال کی ہی ان اور کیا ذکر کا ہستیوں مقدس و انقیاد سامنے کے حق دعوت اور ایمان قبول کے ان میں مائدہ سورة اور کیا برانگیختہ کی کوشی حق اور طلبی ‘حق خلوص کے ان بھی وہ ہے کھینچا نقشہ جو کا تسلیم (علیہ ٰیعیس حضرت تک جب ہے حال کا وقت اس تو کچھ سب یہ ہے۔ تصویر جاوید زندہ کی ان بھی بعد کے “ السماء الی رفع ” کے آپ لیکن ہیں موجود درمیان کے ان )السالم :آیت کی صف سورة متعلق کے خدمت کارانہ فدا کی قویم دین اور استقامت پر شاہ اور ہے موجود اشارہ کافی میں } َنْیِرِہاَظ اْوُحَبْصَفَا ْمِہِّوُدَع یٰلَع اُنْوَمٰا َنْیِذَّلا اَنْدَّیَاَف { تاریخی ہوئے کرتے تفسیر کی بحث زیر آیت پر بنا اسی نے )مرقدہ ہللا (نور القادر عبد : ہے فرمایا ذکر طرح اس کا شہادت ہیں کی محنتیں بڑی نے )(حواریوں یاروں کے ان بعد کے )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت ” “ کیا۔ زیادہ سے اس نے خلیفوں بھی پیچھے کے حضرت ہمارے ‘ ہوا نشر دین کا ان تب سرائی مدح اور منقبت کی ان اگر میں مقامات بعض )(انجیل بائبل برعکس کے اس مگر یوحنا انجیل ہے۔ کرتی ثابت منافق اور بزدل کو ان جانب دوسری تو ہے اللسان رطب میں
36.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 36/97 اس متعلق کے یہودا حواری علیہ معتمد و مشہور کے )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت میں طرح اس ‘ ہیں چاہتے کرنا گرفتار یہودی کو )السالم (علیہ یسوع حضرت جب حال کا وقت سے تم میں کہ دی گواہی یہ اور گھبرایا میں دل اپنے یسوع کر کہہ باتیں یہ ” : ہے مذکور وہ کہ کرکے شبہ شاگرد گا۔ پکڑوائے مجھے شخص ایک سے میں تم کہ ہوں کہتا سچ ایک سے میں شاگردوں کے اس لگے دیکھنے کو دوسرے ایک ہے کہتا نسبت کی کس سہارا کا چھاتی کی یسوع طرح اسی نے تھا۔اس کرتا محبت یسوع سے جس شخص کر ڈبو نوالہ میں جسے کہ دیا جواب نے یسوع ؟ ہے کون وہ ! خداوند اے کہ کہا کر لے بیٹے کے اسکریوتی شمعون کر لے اور دیا ڈبو نوالہ نے اس پھر ‘ ہے وہی گا دوں دے “ گیا۔ سما میں اس شیطان بعد کے نوالہ اس اور دیا کو یہوداہ عمر ساری اناجیل بقول ” جو متعلق کے حواری پطرس شمعون اس میں انجیل اسی اور سے اس نے پطرس شمعون ” : ہے مسطور یہ “ رہا علیہ معتمد اور پیارا کا یسوع حضرت تو تو اب ہوں جاتا میں جہاں کہ دیا جواب نے یسوع ‘ ہے جاتا کہاں تو ! خداوند اے ‘ کہا اے کہا سے اس نے پطرس گا۔ آئے پیچھے میرے میں بعد مگر آسکتا نہیں پیچھے میرے گا۔ دوں جان اپنی لیے تیرے تو ‘میں آسکتا نہیں کیوں اب پیچھے تیرے میں ! خداوند کہ ہوں کہتا سچ سے تجھ میں ؟ گا دے جان اپنی لیے میرے تو کیا ‘ دیا جواب نے یسوع تمام میں انجیل کی متی اور “ گا۔ کرلے نہ انکار میرا بار تین تو تک جب گا دے نہ بانگ مرغ کا ہوجانے فرار کر چھوڑ مددگار بےیارو کو یسوع حضرت اور بزدلی کی )(حواریوں شاگردوں “ گئے۔ بھاگ کر چھوڑ اسے شاگرد سب پر اس ” : ہے گیا کیا ذکر طرح اس نقل و عقل بھی طرح کسی کو جن ہیں ہوتی ثابت باتیں ایسی تین سے جات حوالہ ان ‘ قریب زیادہ کے یسوع حضرت حواری اور شاگرد جو کہ یہ اول ‘ نہیں تیار کو کرنے تسلیم ” بلکہ بزدل صرف نہ میں نتیجہ وہ تھے محبوب میں نگاہوں کی ان اور علیہ معتمد کے ان کی مصلح اور پیغمبر ایک ہر اگرچہ کہ ہے یہ فیصلہ کا نقل و عقل مگر “نکلے منافق کی اغراض دنیوی اپنی جو ہے ہوتا ًاعموم کا منافقین گروہ سا چھوٹا ایک میں جماعت ایک ‘مگر ہے سمجھتا مفید ہونا جماعت شریک پر طور کے داری ظاہر قلب کراہت بہ خاطر کے جماعت اپنی خواہ مصلح کہ ہے رہا فرق یہ سے ہمیشہ درمیان کے پیغمبر اور مصلح ذریعہ کے “ ہیٰلا وحی ” کو پیغمبر اور نبی لیکن سکے ہو نہ آگاہ طرح پوری سے منافقین سے کافر و منکر ایک تاکہ ہے جاتی دی دے اطالع کی منافق اور مخلص سے ہی شروع نبی ‘ ہے سکتا پہنچ ضرر کو اصالح و دعوت کی اس اور حق جماعت سے گروہ جس زیادہ کسی اور وقت کسی منافق کوئی پر بناء اسی پس رہے۔ نہ غافل سے حاالت کے اس یہ ‘البتہ ہوسکتا نہیں مقرب اور علیہ معتمد ‘ محبوب کا پیغمبر اور نبی بھی میں حالت در اور اعراض ساتھ کے اس سے وجہ کی مصالح کی حق دین نبی کہ ہے امر جدا ایک نے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی اکرم نبی کہ جیسا سمجھے مناسب عمل طریق کا گزر ہیں آگاہ سے منافقت حاالت کے منافقین آپ ”جب کہ پر سوال اس کے صحابی ایک اپنے مسلمین جماعت تاکہ دیتے پہنچا نہیں تک کردار کیفر کو ان کیوں کرکے مقابلہ کا ان تو کی ایمان قبول کے ان کہ لیے ”اس : دیا جواب یہ “ ملے نجات سے منافقت کی ان کو کہ ہو نہ دھوکا یہ کو مسلموں غیر متعلق کے طریقہ گیر سخت ہمارے بعد کے داری ظاہر “ چوکتے۔ نہیں سے کرنے قتل بھی کو ساتھیوں اپنے محمد ” اٹھیں کہہ وہ حضرت جب کیا حلول وقت اس نے شیطان اندر کے یہودا کہ ہے ہوتی ثابت یہ بات دوسری کے نقل اور عقل لیے اس بھی بات یہ مگر کردیا ڈبو نوالہ کو اس سے ہاتھ اپنے نے یسوع ‘ برکت اثر کا اس ہے ہوتا کچھ جو سے ہاتھوں کے انسانوں مقدس اور بزرگوں کہ ہے خالف ‘ کرتا ہوا نہیں نفوذ کا بدی اور حلول کا شیطان لیکن ہے کرتا ہوا تو تقدیس اور طہارت دونوں کھوٹا اور کھرا سے اس تو ہے ہوتا قائم ترازو کا حق جب کہ ہے درست یہ بیشک مس کے پیمانہ اس کہ ہوتا نہیں کبھی یہ لیکن ہے کرتا ہوجایا انکشاف کا حقیقت کی حال صورت میں بیان اس کے انجیل اور ہوجائے پیدا کھوٹ میں کھرے کسی سے کرنے میں حواریوں ان تمام کے یسوع حضرت کہ یہ بات ہے۔تیسری دوسری بلکہ نہیں پہلی دس یا ‘ دو ‘ ایک “ ہے اللسان رطب بائبل جگہ جگہ میں ستائش و مدح کی جن ” سے (علیہ مسیح حضرت وقت اس ساتھ کے غداری اور بزدلی نہایت سب کے سب نہیں پانچ
37.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 37/97 سے سب لیے کے نصرت و حمایت کی حق دین ‘جب ہوگئے کش کناہ سے )السالم پھنسے میں نرغہ کے دشمنوں ) (ﷺ خدا پیغمبر کہ جب اور تھی ضرورت کی ان زیادہ یہ نے عزیز قرآن میں عمران آل سورة خالف کے شہادت اس کی انجیل مگر تھے۔ ہوئے اپنے نے )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت جب میں وقت نازک اس کہ ہے دی شہادت فداکارانہ اور اولوالعزمی نے سب تو پکارا لیے کے یاری و نصرت کی حق دین کو حواریوں کے )السالم (علیہ مسیح حضرت پھر اور “ ِہّٰللا ُرَصاْنَا ُنَنْح ” : دیا جواب یہ ساتھ کے جذبہ کا نصرت کر دے شہادت متعلق کے ایمان مخلصانہ اپنے اور دین استقامت اپنی سامنے نے حواریوں ان کہ کیا ظاہر بھی یہ نے عزیز قرآن میں صف سورة پھر اور دالیا یقین پورا پورا بعد کے ان اور میں موجودگی کی ان تھا کہا کچھ جو سے )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت ہللا لیے اس اور ہوئے ثابت صادقین مومنین بالشبہ اور نباہا ساتھ کے وفاداری سچی کیا۔ کامیاب میں مقابلہ کے حق دشمنان کو ان اور فرمائی مدد کی ان بھی نے ٰیتعال کہ سکتا رہ نہیں بغیر کہے یہ پسند انصاف ایک کر دیکھ کو موازنہ اس کے قرآن اور انجیل تحریف میں انجیل نے ٰینصار علمائے اور ہے ساتھ کے قرآن “ حق ” میں معاملہ اس کے بعد صدیوں تاکہ ہے کیا لیے اس اضافہ کا واقعات ہوئے گھڑے کے قسم اس کرکے قائم پر ترتیب صحیح داستان یہ متعلق سے “ مسیح تصلیب عقیدہ ” عقیدہ ساختہ خود کہتے کہتے یہ نے انہوں تو گیا لٹکایا پر صلیب کو )السالم (علیہ مسیح جب کہ سکے ہو تنہا و یکہ کیوں مجھے تونے ! خدا اے ! خدا اے ” “ شبقتنی لما ایلی ایلی ” دی دے جان بہرحال دیا۔۔ نہ ساتھ کا )السالم (علیہ مسیح بھی نے شخص ایک کسی اور “ دیا چھوڑ زیادہ سے سرائی داستان ساختہ خود اور محرف تصریحات کی بائبل متعلق سے حواریوں رکھتیں۔ نہیں حیثیت کوئی مائدہ نزول مگر تھی االعتقاد راسخ اور االیمان صادق اگرچہ جماعت کی حواریوں فداکار اور مخلص کے زندگی ضروریات اور لوح سادہ سے لحاظ کے شنید و گفت فاتّلتک مجلسی و علمی ازراہ نے انہوں لیے اس تھی۔ جماعت کی ضعفاء اور غرباء سے اعتبار کے سامان سرو جس کہ کی درخواست یہ سے )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت دلی سادہ و سادگی نشان وہ اور اقدس ذات کی آپ نمونہ ایک کا اس کہ ہے طاقت المحدود یہ میں برتر خدائے ہاتھ کے آپ لیے کے رسالت و نبوت تصدیق کی آپ کو جن نے ٰیتعال خدائے ہیں )(معجزات ایک سے غیب لیے ہمارے وہ کہ ہوگی ضرور بھی طاقت یہ میں خدا اس فرمایا ظاہر پر یاد قلب باطمینان کر ہو آزاد سے فکر کی کمانے روزی ہم تاکہ کرے کردیا نازل خوان دستر )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت کریں۔ رہا مصروف میں تبلیغ و دعوت کی حق دین اور خدا ہے بےنہایت اور بےغایت طاقت کی خدا اگرچہ کہ فرمائی نصیحت کو ان کر سن یہ نے خدا پس ‘ آزمائے کو خدا طرح اس وہ کہ نہیں زیبا یہ لیے کے بندہ سچے کسی لیکن کو خدا اور ہم ” دیا جواب نے حواریوں کر سن یہ ‘ بچو سے خیاالت ایسے اور ڈرو سے سے جدوجہد کی رزق کہ ہے مطلب یہ تو ہمارا ‘ نہیں مقصد یہ تو ہمارا حاشا ؟ آزمائیں میں تصدیق کی آپ اور بنالیں سہارا کا زندگی کو عطیہ اس کے خدا کرکے مطمئن کو دل انسانی کائنات پر خدائی کی اس ہم اور ہوجائے حاصل راسخ اعتقاد کا الیقین حق کو ہم اصرار ہوا بڑھتا انکا جب نے )السالم (علیہ ٰیعیس “حضرت جائیں۔ بن عدل شاہد لیے کے سے آسمان اور کر پورا کو سوال کے ان تو ! خدا اے ” کی دعا میں ہیٰلا بارگاہ تو دیکھا ہو نہ ثابت مظہر کا غضب تیرے لیے ہمارے وہ کہ فرما نازل )نعمت خوان (دستر مائدہ ایسا “ نشان ” تیرا اور جائے بن )(عید یادگار کی خوشی لیے کے سب آخر و اول ہمارے بلکہ بہتر ہی تو کیونکہ کرے کام شاد سے رزق غیبی اپنے کو ہم سے ذریعہ اس اور کہالئے ٰیعیس ” : فرمائی نازل وحی نے ٰیتعال ہللا میں جواب کے دعا اس “ ہے رساں رزق کھلی اس کہ رہے واضح یہ لیکن گا کروں نازل ضرور کو اس میں ‘ ہے قبول دعا تمہاری خالف کی حکم کے خدا بھی نے کسی سے میں ان اگر بعد کے ہونے نازل کے نشانی کو انسان کسی کے کائنات جو گا دوں ہولناک ایسا بھی عذاب کو ان پھر تو کی روزی
38.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 38/97 کے بیان اسلوب معجزانہ اس کا واقعہ کے مائدہ نزول نے عزیز قرآن “ گا۔ جائے دیا نہیں : ہے کیا ذکر ساتھ ِئَمآ َّسال َنِّم ًۃَدِئَمآ َناْیَلَع َلِّزَنُّی َاْن َکُّبَر ُعْیِطَت ْسَی َھْل َمْرَیَم َنْبا ی َسْیِعٰی َنْوُّی ِرَحَواْلا اَلَق ْذِا { َتَناْقَصَد ْدَق َاْن َمَلْعَن َو َناْوُبُقُل َّنِئَمْطَت َو َھاْنِم َلْاُکَّن َاْن ْیُدِرُن اْوُلاَق ۔ َنْیِمِنْؤُّم ْنُتْمُک ْنِا َہّٰللا واَّتُقا اَلَق ِئَمآ َّسال َنِّم ًۃَدِئَمآ َناْیَلَع ْلِزْنَا َنآَّبَر َّمُھّٰلال َمْرَیَم ْبُنا ی َسْیِع اَلَق ۔ َنْیِدِھ ّٰشال َنِم َھاْیَلَع َنْوُکَن َو ْمُکْیَلَع َھاُل ِّزَنُم ِّنْیِا ُہّٰللا اَلَق ۔ َنْیِقِزّٰرال َخْیُر َتْنَاَو َناْقُزَواْر َکْنِّم ًۃَیٰا َو اَنِرِخٰا َو َناِلَّوَاِّل اْیًدِع َناَل ُنْوُکَت } َنْیِمَل ٰعْلا َنِّم اًدَحَا ٓٗہُبِّذَعُا آَّل اًباَذَع ٗہُبِّذَعُا ْٓیِّنِاَف ْمُکْنِم ُدْعَب ْرُفْکَّی ْنَمَف تمہارا کیا ! مریم بن ٰیعیس اے ” تھا کہا نے حواریوں کہ تھا ہوا ایسا جب )(دیکھو اور ” غذا ہماری (یعنی “ ؟ دے اتار خوان ایک پر ہم سے آسمان کہ ہے کرسکتا ایسا پروردگار ایسی (اور ڈرو سے خدا ” کہا نے ٰیعیس )دے کر سامان غیبی سے آسمان لیے کے کا ہیٰلا قدرت سے اس ”(مقصود کہا نے انہوں “ ہو رکھتے ایمان تم اگر )کرو نہ فرمائشیں اور کھائیں سے میں اس )تو آئے میسر غذا (ہمیں کہ ہیں چاہتے ہم )بلکہ ہے نہیں امتحان ہوجائیں۔ گواہ ہم پر اس اور تھا بتایا سچ ہمیں تونے کہ لیں جان ہم اور پائیں آرام دل ہمارے سے آسمان پر ہم ! پروردگار ہمارے اے ! ہللا اے ” کی دعا نے مریم بن ٰیعیس پر اس “ لیے کے سب پچھلوں اور اگلوں ہمارے اور لیے ہمارے آنا کا اس کہ دے بھیج خوان ایک تو دے روزی ہمیں ہو۔ نشانی ایک )کی کرم و (فضل سے طرف تیری اور پائے قرار عید ‘ گا بھیجوں خوان لیے تمہارے میں ” فرمایا نے ہللا “ ہے واال دینے روزی بہتر سے سب )میں عمل (پاداش میں تو گا کرے انکار )سے حق (راہ بھی بعد کے اس شخص جو لیکن دیا نہیں عذاب ویسا بھی کو آدمی کسی میں دنیا تمام کہ عذاب ‘ایسا گا دوں عذاب “ گا۔ جائے نہ اور کی بیان نہیں تفصیل کوئی متعلق کے اس نے عزیز قرآن ؟ نہیں یا ہوا نازل مائدہ یہ میں وتابعین صحابہ آثار البتہ ‘ ہے جاتا پایا تذکرہ کوئی کا اس میں حدیث مرفوع کسی نہیں نزول کا مائدہ کہ ہیں فرماتے ) ;( بصری حسن اور مجاہد ہیں۔ مذکور تفصیالت ضرور طلب کردیا مشروط ساتھ کے شرط جس کو نزول کے اس نے ٰیتعال خدا کہ لیے اس ‘ ہوا مجسمہ کا کمزوریوں اور البنیان ضعیف انسان کہ ہوئے کرتے محسوس یہ نے والوں کرنے ناک درد اس بدولت کی ورزی خالف معمولی یا لغزش کسی کہ ہو نہ ایسا ‘کہیں ہے ہوتا ہوا نزول کا مائدہ اگر ازیں عالوہ لیا۔ لے واپس کو سوال اپنے ٹھہریں وار سزا کے عذاب تھا کم وہ کرتے فخر بھی قدر جس پر اس ٰینصار کہ تھا )(معجزہ ہیٰلا نشان ایسا وہ تو یہاں کے ان تاہم ہوتی نہیں بےجا وہ ہوتی شہرت بھی قدر جس کی اس یہاں کے ان اور ) ١ جاتا۔ پایا نہیں تذکرہ کوئی طرح اس کا مائدہ نزول اس واقعہ یہ کہ ہے منقول سے )(رض یاسر بن عمار حضرت اور عباس بن عبدہللا حضرت اور کی نزول کے اس البتہ ہے۔ جانب اسی رجحان کا جمہور ‘ ہوا نزول کا مائدہ اور آیا پیش تک روز چالیس یا ہوا نازل دن ایک صرف ًالہیں۔مث جاتے پائے اقوال مختلف میں تفصیالت لوگوں جن یا ‘ ہوا نہ نازل کہ ہوا یہی صرف اور ؟ کیوں تو ہوگیا بند اترنا پھر اور ؟ رہا ہوتا نازل نقول جو ؟ آپہنچا بھی عذاب کا قسم سخت پر ان ‘ ہوا بند سے وجہ کی ورزی خالف کی ‘وہ رہا جاری برابر تک دن چالیس بلکہ نہیں دن ایک صرف نزول کا مائدہ کہ ہیں کہتی یہ مسکین ‘ فقیر کو اس کہ ہوا یہ حکم پر مائدہ نزول کہ ہیں کرتی بیان یہ سبب کا ہونے بند لوگوں بعد کے تعمیل روز چند مگر ‘ کھائیں نہ چنگے بھلے اور تونگر ‘ کھائیں ہی مریض اور کھائیں کو اس کہ تھا مال حکم یہ ‘یا کردی شروع ورزی خالف کی اس آہستہ آہستہ نے ورزی خالف کی اس بعد کے عرصہ کچھ مگر ‘ کریں نہ ذخیرہ لیے کے روز اگلے مگر سب ورزی خالف بلکہ ہوگیا بند ہی نزول کا مائدہ صرف نہ کہ نکال یہ نتیجہ اور لگی ہونے اگرچہ سوال کا مائدہ نزول (٢ گئے۔ کردیئے مسخ میں شکل کی بندر اور خنزیر کرنیوالے نقول جن کہ رہے واضح یہ لیے اس سے۔ جانب کی سب تھا کیا مگر ‘ نے حواریوں تھا کیا سے میں حواریوں اشارہ کا ان ہے ذکر کا عذاب متعلق سے اس اور ورزی خالف میں ان بہرحال )ہے۔ خالف کے قرآنی نصوص بات یہ کیونکہ ہے نہیں مطلق جانب کی کسی ٰیعیس حضرت جب نے ٰیتعال ہللا کہ ہے یہ حاصل کا اس ہے مشترک قدر جو میں آثار چنانچہ ہو تیار مائدہ کہ ہوا حکم یہ کا باری مشیت تو فرمالی قبول دعا کی )السالم (علیہ
39.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 39/97 اترے کر لے کو اس سے آسمانی فضائے فرشتے کے خدا دیکھتے آنکھوں کی لوگوں (علیہ ٰیعیس حضرت ادھر اور تھے رہے اتر ہوئے لیے کو اس آہستہ آہستہ فرشتے ‘ادھر مائدہ کہ تھے بدعا دست میں ہیٰلا درگاہ ساتھ کے خضوع و خشوع انتہائی )السالم مائدہ پھر اور کی ادا شکر نماز رکعت دو اول نے )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت اور آپہنچا اور پائیں موجود روٹیاں اور پھل تازہ ترو اور مچھلیاں ہوئی تلی میں اس تو کھوال کو )(خوان کردیا۔ مست کو سب نے مہک کی اس کہ نکلی خوشبو نفیس ایسی ہی کھولتے خوان اصرار نے لوگوں مگر ‘ کھائیں وہ کہ دیا حکم کو لوگوں نے )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت نازل پر طلب تمہاری ‘ ہے نہیں لیے میرے یہ ‘ فرمایا ارشاد نے ‘آپ کریں آپ ابتداء کہ کیا نہ تو رسول کا خدا کہ ہو کیا نتیجہ اسکا معلوم نہ کہ گھبرائے سب کر سن ‘یہ ہے ہوا اور معذورین ‘ مساکین ‘ فقراء اچھا: فرمایا ارشاد کر دیکھ یہ نے آپ کھائیں ہم اور کھائے مگر ‘ کھایا کر ہو سیر شکم نے خدا بندگان ہزارہا تب ‘ ہے حق کا ان یہ بالؤ کو مریضوں کتب تمام ساتھ کے تفصیل بڑی واقعات (یہ١ آیا۔ نہیں فرق کوئی میں مقدار کی مائدہ اور مجاہد مرقدہ ہللا نور القادر عبد شاہ حضرت میں مسئلہ اس ) ہیں۔ موجود میں تفسیر جماعتوں دونوں ان متعلق سے مائدہ نزول اور ہیں ہوتے معلوم نوا ہم کے ; بصری حسن ” “ ُعْیِطَت ْسَی َھْل ” : ہے میں القرآن موضح ہیں۔ فرماتے ارشاد بات لطیف اور ایک الگ سے نہ یا کرے عادات خرق قدر اس سے دعا تمہاری واسطے ہمارے کہ معنی “یہ سکے ہو میرا کہ آزمائے نہ کو ہللا کہ چاہیے کو بندہ یعنی “ سے ہللا ڈرو ” َہّٰللا واَّتُقِا کہ فرمایا کرے َنِم َھاْیَلَع َنْوُکَنَو { کرے مہربانی بہتیری )ومالک (آقا خداوند اگرچہ نہیں یا ہے مانتا کہا ‘ رہے مشہور ہمیشہ معجزہ )(تاکہ اور ہیں مانگتے پر امید کی برکت یعنی } َنْیِدِھ ّٰشال یعنی کی ناشکری نے بعضوں پھر تک روز چالیس اترا خوان وہ ہیں۔ کہتے نہیں کو آزمانے قریب پھر کھانے لگے بھی چنگے اور )(تونگر محظوظ کھاویں مریض اور فقیر کہ تھا ہوا حکم کو کسی پیچھے تھا ہوا میں یہود پہلے عذاب (مگر)یہ ہوگئے بندر اور سور آدمی اسی کہتے بعضے اور )ہے۔ نہیں صحیح مسخ واقعہ کہ ہے یہ مسلک کا صاحب (شاہ ٢ہوا۔ نہیں دعا کی پیغمبر لیکن ‘ مانگا نہ گئے ڈر والے مانگنے کر سن تہدید ‘ اترا نہ )(مائدہ ہیں کہ ہے یہ اثر کا دعا اس ‘شاید نہیں بےحکمت کرنا نقل میں )(قرآن کالم اس اور نہیں عبث رہی ہمیشہ سے مال آسودگی میں ) ٰی(نصار امت کی )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت عبادت سے چین کے دل یعنی کرے ناشکری میں ان کوئی جو اور ) ْمُکْنِم ُدْعَب ْرُفْکَّی ْنَمَف( اس پاوے۔ عذاب زیادہ سے سب میں آخرت شاید تو کرے خرچ میں گناہ بلکہ لگے نہ میں کی اس پھر چاہے نہ سے راہ کی عادت خرق مدعا اپنا کہ ہے عبرت کو مسلمان میں بھی میں قصہ اس ہے بہتر تو کرے قناعت پر ظاہری اسباب ‘ ہے مشکل بہت شکرگزاری “ جاتی۔ نہیں پیش حمایت آگے کے ٰیتعال حق کہ ہوا ثابت بات خوب بہت متعلق سے بصیرت و موعظت نے ؓیاسر بن عمار حضرت میں سلسلہ اس : ہے فرمائی ارشاد ٰیتعال ہللا تو کی درخواست کی مائدہ نزول نے قوم کی ان سے )السالم (علیہ ٰیعیس ” ہے جاتی کی منظور ساتھ کے شرط اس درخواست تمہاری : مال جواب سے جانب کی بند یہ ورنہ کرنا ذخیرہ کو اس نہ اور رکھنا چھپائے کو اس نہ کرنا خیانت میں اس نہ کہ “ گا۔ جائے دیا نہ کو کسی جو گا دوں عذاب ناک عبرت ایسا کو تم اور گا جائے کردیا جنگلوں کر پکڑ دم کی بکریوں اور اونٹوں کہ کرو غور پر حالت اپنی تم ! عرب معشر اے ” سے ہی درمیان تمہارے سے رحمت اپنی نے ٰیتعال خدائے پھر ‘ تھے پھرتے چراتے میں واقف طرح اچھی تم سے نسب و حسب کے جس ‘ فرمایا مبعوث رسول برگزیدہ ایسا ایک جاؤ چھا پر اس اور گے جاؤ آ غالب پر عجم تم عنقریب کہ دی خبر یہ کو تم نے ‘اس ہو کر دیکھ فراوانی کی دولت و مال کہ فرمایا منع ساتھ کے سختی کو تم نے اس اور گے۔ نہ نہار و لیل زیادہ کہ بخدا قسم مگر کرنا نہ جمع خزانے کے سونے اور چاندی تم ہرگز کے برتر خدائے طرح اس اور گے کرو جمع خزانے کے چاندی سونے ضرور تم کہ گے گزریں “ گے۔ بنو مستحق کے عذاب ناک درد جانا لیا اٹھا پر آسمان زندہ یعنی “ السماء الی رفع ”
40.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 40/97 وہ بنایا۔ گھر لیے کے ماند و بود نہ اور کی شادی نہ نے )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت انجام فرض کا تبلیغ و دعوت کی حق دین اور سناتے پیغام کا خدا گاؤں گاؤں اور شہر شہر بسر شب بغیر کے راحت سامان و سر کسی وہیں آپہنچتی رات بھی جہاں اور دیتے دونوں روحانی و جسمانی خدا مخلوق سے اقدس ذات کی ان چونکہ اور تھے۔ کردیتے کا خلقت ہوجاتا گزر کا ان بھی جانب جس لیے اس ‘ تھی پاتی تسکین اور شفا کی طرح کو ہوجانے نثار پر ان ساتھ کے محبت والہانہ اور ہوجاتا جمع ساتھ کے عقیدت حسن انبوہ ہوئی بڑھتی اس نے اس ‘ تھا وعناد بغض جو ساتھ کے حق دعوت اس کو تھا۔یہود رہتا تیار مسخ کے ان جب اور دیکھا سے نگاہ کی خطرہ سخت اور حسد انتہائی کو مقبولیت ‘فریسیوں فقیہوں ‘ سرداروں کے ان تو کرسکے نہ برداشت کو اس طرح کسی قلوب شدہ ہستی اس کہ پایا یہ طے اور کی شروع سازش خالف کے اقدس ذات نے صدوقیوں اور بادشاہ کہ آتی نہیں نظر صورت کوئی کے اس بجز کی کرنے حاصل کامیابی خالف کے کے یہود سے صدیوں چند گزشتہ جائے۔ دیا چڑھا پر دار کو اس کرکے مشتعل کو وقت اپنے حکومت کی ہیرودیس بادشاہ کے یہودیہ میں زمانہ اس بدولت کی حاالت بہ ناگفتہ اصل اور نام برائے بھی وہ اور تھی۔ قائم پر چوتھائی ایک بمشکل میں عالقہ کے دادا باپ نیابت کی اس اور تھا حاصل کو روم قیصر شہنشاہ پرست بت کے وقت اقتدار و حکومت پرست بت اس اگرچہ یہود تھا۔ بادشاہ یا گورنر کا عالقہ اکثر کے یہودیہ پیالطس میں مسیح حضرت مگر تھے۔ متنفر سے اس کر سمجھ بدبختی اپنی کو اقتدار کے بادشاہ غالمی کی صدیوں اور نے آگ کی حسد مشتعل میں قلوب خالف کے )السالم (علیہ بےپرواہ سے فکر کی نتیجہ اور انجام کہ کردیا اندھا ایسا نے ذہنیت پست شدہ پیدا سے صرف نہ شخص یہ ! جاہ عالی ” : کیا عرض اور پہنچے جا میں دربار کے پیالطس کر ہو استیصال کا اس ہی ًافور اگر ‘ ہے رہا جا بنتا خطرہ بھی لیے کے حکومت بلکہ لیے ہمارے کہ ہے اندیشہ اور گا سکے رہ باقی میں حالت صحیح ہی دین ہمارا نہ تو گیا کردیا نہ نے شخص اس کہ لیے اس جائے۔ چال نہ بھی اقتدار کا حکومت سے ہاتھ کے آپ کہیں میں گھات اس وقت ہر اور ہے لیا بنا گرویدہ اپنا کو خلقت کر دکھا شعبدے غریب و عجیب بنی خود کر دے شکست کو آپ اور قیصر پر بل کے طاقت اس کی عوام کہ ہے لگا گمراہ ہی سے راہ دنیوی صرف کو لوگوں نے شخص اس جائے۔ بن بادشاہ کا اسرائیل میں بنانے دین بد کو لوگوں اور ڈاال بدل بھی کو تک دین ہمارے نے اس بلکہ کیا نہیں منزل ابتدائی فتنہ یہ ہوا بڑھتا تاکہ ہے ضروری بس از انسداد کا فتنہ اس پس ہے۔ منہمک “ جائے۔ ڈاال کچل میں ہی مسیح حضرت وہ کہ دی دے اجازت کو ان نے پیالطس بعد کے شنید و گفت کافی غرض ‘ کریں پیش سے حیثیت کی مجرم میں دربار شاہی اور کرلیں گرفتار کو )السالم (علیہ اور ہوئے مسرور بےحد کرکے حاصل فرمان یہ کاہن اور فقیہ اور سردار کے اسرائیل بنی کارگر سازش ہماری آخر کہ لگے دینے مبارکباد کو دوسرے ایک ساتھ کے ومباہات فخر امر اس ضرورت اب کہ لگے کہنے اور گیا بیٹھ پر نشانہ ٹھیک تیر کا تدبیر ہماری اور ہوئی طرح اس پر موقع کے تنہائی اور خلوت کسی اور جائے رہا منتظر کا موقع خاص کہ ہے کی پائے۔ ہونے نہ ہیجان میں عوام کہ جائے کیا گرفتار کو اس فریسیوں اور کاہنوں سردار پس ”: ہے گیا کہا یہ متعلق سے واقعہ اس میں یوحنا انجیل معجزے بہت تو آدمی یہ ؟ ہیں کیا کرتے ہم کہا کرکے جمع کو لوگوں کے عدالت صدر نے کر آ رومی اور گے آئیں لے ایمان پر اس سب تو دیں چھوڑ یونہی اسے ہم اگر ہے۔ دکھاتا جو نے شخص ایک ئفانام کا سے میں ان اور گے کرلیں قبضہ پر دونوں قوم اور جگہ ہماری تمہارے کہ ہو سوچتے نہ اور جانتے نہیں کچھ تم کہا سے ان ‘ تھا کاہن سردار سال اس اس یہ “ ہو۔ ہالک قوم ساری کہ نہ مرے واسطے کے امت آدمی ایک کہ ہے بہتر یہی لیے ظاہر خطرہ یہ اور ہوا میں آپس قبل سے جانے پاس کے بادشاہ جو ہے تذکرہ کا مشورہ کے سلطنت کہیں )(قیصر وقت بادشاہ تو گیا چھوڑدیا یونہی کو ہستی اس اگر کہ گیا کیا دے۔ کر نہ خاتمہ بھی کا یہود حکومت نام برائے سہی رہی کر سمجھ خطرہ لیے اور تھی والی ہونے فطیر عید اور فصح بعد کے دن دو ”: ہے میں انجیل کی مرقس اور کریں قتل کر پکڑ سے فریب کیونکر اسے کہ تھے رہے ڈھونڈ موقع فقیہ اور کاہن سردار
41.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 41/97 حضرت جانب دوسری “ ہوجائے۔ بلوہ کہ ہو نہ ایسا کہیں میں عید کہ تھے کہتے کیونکہ صف سورة اور عمران آل سورة کو مکالمہ کے حواریوں کے ان اور )السالم (علیہ ٰیعیس و کفر کے یہود نے )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت کہ ہے چکا جا کیا نقل سے حوالہ کے اور کیا جمع کو حواریوں اپنے جگہ ایک تو کیا محسوس کو دوانیوں ریشہ معاندانہ اور انکار سے تم سرگرمیاں معاندانہ کی کاہنوں اور سرداروں کے اسرائیل بنی کہ فرمایا سے ان قربت کی گھڑی کی امتحان و آزمائش کڑی اور نزاکت کی وقت اب ہیں۔ نہیں پوشیدہ و کفر اس جو ہیں افراد وہ کون میں تم کہ کروں سوال سے تم میں کہ ہے کرتی تقاضا گے۔ بنیں مددگار و ناصر کے دین کے خدا کر ہو سپر سینہ سامنے کے سیالب کے انکار اور خروش و جوش بڑے نے سب کر سن مبارک ارشاد یہ کا )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت آپ ‘ پرستار کے واحد خدائے ‘ مددگار کے ہللا ہیں ہم ” دیا جواب ساتھ کے ایمانی صداقت پر کوشی اطاعت اس اپنی میں باری درگاہ اور ہیں شعار وفا مسلم ہم کہ رہیں گواہ ایمان پر کتاب ہوئی اتاری تیری ہم ! پروردگار اے ‘ ہیں بدعا دست یوں لیے کے استقامت و صداقت کو ہم تو ! خدایا ہیں۔ پیرو کے پیغمبر تیرے ساتھ کے دل صدق اور آئے لے ان اور )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت “ لے۔ لکھ میں فہرست کی کاروں فدا کے حقانیت سے سرگرمیوں مخالفانہ کی اسرائیل بنی یہود خالف کے تبلیغ و دعوت فریضہ کے اس ًالاصو درمیان کے انجیل اور قرآن کہ ہے ایسا بیشتر و اکثر تو حصہ یہ کا حاالت متعلق ًاقطع کی دونوں میں بیان حصہ پورے کے مابعد کے اس لیکن ہے نہیں اختالف کوئی میں کو ایک بھی طرح کسی کہ ہے تضاد درجہ اس درمیان کے ان اور ہیں راہیں جدا جدا کا دونوں ٰینصار اور یہود کر پہنچ جگہ اس البتہ جاسکتا۔ الیا نہیں قریب کے راہ دوسری کرتے پیش عقیدہ ہی ایک متعلق سے واقعہ بیانات کے دونوں اور ہے ہوجاتا اتحاد باہمی ہیں سمجھتے فخر باعث لیے اپنے اور کارنامہ اپنا کو واقعہ اس یہود کہ یہ تو ہے ‘فرق ہیں ہیں۔ کرتے یقین جدوجہد لعنت قابل ایک کی اسرائیل بنی یہود کو اس ٰینصار اور اطالع یہ کو کاہنوں اور سرداروں کے یہود کہ ہے یہ بیان مشترک کا دونوں ٰینصار اور یہود کے شاگردوں اپنے الگ سے بھیڑ کی لوگوں )السالم (علیہ یسوع وقت اس کہ ملی جانے نہ سے ہاتھ کو اس ‘ ہے بہترین موقع یہ ‘ ہیں موجود میں مکان بند ایک ساتھ کرکے محاصرہ کا مکان سے طرف چاروں اور گئے پہنچ پر موقع لوگ یہ ہی ًافور دیجئے۔ میں دربار کے پیالطس ہوئے کرتے تذلیل و توہین اور کرلیا گرفتار کو )السالم (علیہ یسوع کو )السالم (علیہ ٰیعیس نے پیالطس اگرچہ اور لٹکائے پر سولی کو ان وہ تاکہ گئے لے کے سپاہیوں ًامجبور پر اشتعال کے اسرائیل بنی مگر ‘ چاہا دینا چھوڑ کر سمجھ بےقصور طرح ہر اور لگائے کوڑے ‘ تھوکا پر منہ ‘ پہنایا تاج کا کانٹوں کو ان نے سپاہیوں کردیا۔ حوالہ میں ہاتھوں دونوں اور دیا لٹکا پر سولی طرح کی مجرموں بعد کے کرنے تذلیل و توہین کی کی کسمپرسی اس اور دیا چھید سے انی کی برچھی کو سینہ ‘ دیں ٹھونک میخیں متی انجیل “ شبقتنی لما ایلی ایلی ” دی دے جان ہوئے کہتے یہ نے انہوں میں حالت اس نے کاہن سردار ” : ہے گیا کیا بیان ساتھ کے الفاظ ان کو تفصیالت کی واقعہ اس میں ہم تو ہے مسیح بیٹا کا خدا تو اگر کہ ہوں دیتا قسم کی خدا زندہ تجھے میں : کہا سے ہوں کہتا سچ سے تم میں بلکہ دیا کہہ خود تونے : کہا سے اس نے یسوع دے۔ کہہ سے پر بادلوں کے آسمان اور بیٹھے طرف داہنی کی مطلق قادر کو آدم ابن تم بعد کے اس کہ ہے۔ بکا کفر نے اس کہ پھاڑے کپڑے اپنے کر کہہ یہ نے کاہن سردار پر اس گے دیکھو آتا رائے کیا تمہاری ہے سنا کفر یہ ابھی نے تم دیکھو رہی۔ حاجت کیا کی گواہوں ہمیں اب اور تھوکا پر منہ کے اس نے انہوں پر اس ہے الئق کے قتل وہ کہا میں جواب نے انہوں ہے۔ کہ بتا سے نبوت ہمیں مسیح اے : کہا کے مار طمانچے نے بعض اور مارے مکہ کے اس یسوع نے بزرگوں کے قوم اور کاہنوں سردار سب تو ہوئی صبح جب مارا۔۔ تجھے نے کس کے حاکم پیالطس اور گئے کرلے باندھ اسے اور ڈالیں مار اسے کہ کیا مشورہ خالف کے قیدی ایک خاطر کی )اسرائیل (بنی لوگوں پر عید کہ تھا دستور کا حاکم اور کیا۔ حوالہ پس تھا۔ قیدی مشہور ایک کا ان نام برابا وقت اس تھا۔ دیتا چھوڑ تھے چاہتے وہ جسے خاطر تمہاری میں کہ ہو چاہتے کسے تم کہا سے ان نے پیالطیس تو ہوئے اکٹھے وہ جب ان نے پیالطس ‘ کو برابا بولے ؟۔وہ ہے کہالتا مسیح جو کو یسوع یا کو برابا ؟ دوں چھوڑ
42.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 42/97 دی صلیب کو اس کہا نے سب ‘ کروں کیا ‘ ہے کہالتا مسیح جو کو یسوع پھر کہا سے بولے کر چال چال بھی اور وہ مگر ؟ ہے کی برائی کیا نے اس ؟ کیوں کہ کہا نے اس جائے۔ جاتا ہوتا بلوہ الٹا پڑتا نہیں بن کچھ کہ دیکھا نے پیالطس جب جائے۔ دی صلیب کو اس کہ کے باز راست اس میں ” : کہا اور دھوئے ہاتھ اپنے روبرو کے لوگوں کر لے پانی تو ہے اور ہماری خون کا اس ” کہ کہا کر دے جواب نے لوگوں سب “ جانو۔ تم ہوں بری سے خون کوڑے کو یسوع اور دیا چھوڑ خاطر کی ان کو برابا نے اس پر اس “ پر گردن کی اوالد ہماری میں قلعہ کو یسوع نے سپاہیوں کے حاکم پر اس جائے۔ دی صلیب تاکہ کیا حوالے کر لگوا چوغہ قرمزی اسے کر اتار کپڑے کے اس اور کی جمع گرد کے اس پلٹن ساری کر جا لے میں ہاتھ داہنے کے اس سرکنڈا ایک اور رکھا پر سر کے اس کر بنا تاج کا کانٹوں اور پہنایا بادشاہ کے یہودیوں اے کہ لگے اڑانے میں ٹھٹھوں اسے ٹیک گھٹنے آگے کے اس اور دیا کا اس جب اور لگے مارنے پر سر کے اس کر لے سرکنڈا وہی اور تھوکا پر اس اور ! آداب صلیب اور پہنائے اسے کپڑے کے اس پھر کر اتار سے پر اس کو چوغے تو کرچکے ٹھٹھا اور داہنے ایک گئے۔ چڑھائے پر صلیب ڈاکو دو ساتھ کے اس وقت اس گئے۔ لے کو دینے اے تھے کہتے اور کرتے طعن لعن کو اس کر ہال ہال سر والے چلنے راہ اور بائیں ایک ہے بیٹا کا خدا تو اگر بچا۔ تئیں اپنے ! والے بنانے میں دن تین اور والے ڈھانے کے مقدس کر مل ساتھ کے بزرگوں اور فقیہوں بھی کاہن سردار طرح آ۔اسی اتر سے پر صلیب تو دوپہر اور “سکتا۔۔۔ بچا نہیں تئیں اپنے بچایا کو اوروں نے اس ” تھے کہتے ساتھ کے ٹھٹھے قریب کے پہر تیسرے اور رہا چھایا اندھیرا میں ملک تمام تک پہر تیسرے کر لے سے اے ! خدا میرے (اے “ شبقتنی لما ایلی ایلی ” : کہا کر چال سے آواز بڑی نے یسوع کر سن نے بعض سے میں ان تھے کھڑے وہاں جو )دیا چھوڑ کیوں کو مجھ تونے خدا میرے میں تفصیالت “ دی۔ دے جان اور چالیا سے آواز بڑی پھر یسوع ہے۔ پکارتا کو ایلیاہ یہ ‘ کہا ہے۔ مذکور بھی میں انجیلوں تینوں باقی داستان مفروضہ یہی ساتھ کے فرق بیش و کم پر طبیعت بعد کے کرنے مطالعہ کو داستان مفروضہ مگر متفقہ اس کی انجیلوں چاروں اور بےکسی انتہائی موت کی )السالم (علیہ مسیح حضرت کہ ہے پڑتا یہ اثر قدرتی مقدس اور پاک کے خدا اگرچہ اور ہوئی سے طریقہ ناک درد میں حالت کی بےبسی اس لیے کے صمدی بارگاہ مقربین بلکہ تھی نہ بات بھی اچن کوئی یہ لیے کے بندوں کے اس پہلو یہ کا واقعہ اس لیکن ہے رہا ہوتا اکثر مظاہرہ کا آزمائشوں کڑی کی قسم ایک نے یسوع حضرت کہ ہے شاہد طرح کی روشن روز پر ہونے ہوئے گھڑے اور مفروضہ انگیز ساتھ کے ہیٰلا رضائے و صبر کو واقعہ اس طرح کی صالح مرد بلکہ پیغمبر اولوالعزم دے جان کرتے کرتے شکوہ سے خدا طرح کی انسان مایوس انتہائی ایک بلکہ کیا نہیں وہ کی شکوہ اور مایوسی دینا دے جان ہوئے کہتے “ شبقتنی لما ایلی ایلی ” دی۔ نہیں شان شایان کے )السالم (علیہ مسیح حضرت بھی طرح کسی جو ہے حال صورت کے انجیل بقول کہ ہے نہیں زا حیرت کم بھی پہلو یہ کا واقعہ اس جاسکتی۔پھر کہی ” کی درخواست یہ سے ٰیتعال خدائے مرتبہ تین قبل سے حادثہ اس نے مسیح یسوع یہ جب اور ۔ “ جائے ٹل سے مجھ پیالہ )کا (موت یہ تو سکے ہو اگر ! باپ میرے اے بغیر پیئے میرے یہ اگر ” پڑا کہنا یہ کر ہو مایوس تو ہوئی نہ قبول طرح کسی درخواست “ ہو۔ پوری مرضی تیری تو سکتا ٹل نہیں )السالم (علیہ مسیح حضرت مطابق کے “ کفارہ عقیدہ ” جبکہ کہ ہے بات یہ حیرت باعث اس پھر تو تھا شدہ طے درمیان کے ) ہّٰللبا (العیاذ بیٹے کے اس اور خدا معاملہ یہ کا معلوم مرضی کی خدا تو تھا پر بنا کی بشریت لوازم اگر اور معنی کیا کے درخواست جان طرح کی انسانوں مایوس اور بےصبر یہ پھر بعد کے کرلینے قناعت پر اس اور ہوجانے تو کرلیا قبول نے ٰینصار چونکہ کو داستان اس ہوئی گھڑی کی یہود ؟ سبب کیا کا دینے ” اگر ناصری مسیح کہ ہیں کہتے اور ہیں مسرور بےحد پر اس غرور و فخر ازراہ یہود ہمارے کو اس ساتھ کے بےکسی اور بےبسی اس ٰیتعال خدائے تو ہوتا “ موعود مسیح خدا مگر بچائے کو اس کہ رہا کرتا شکوہ سے خدا تک وقت مرتے وہ کہ دیتا نہ میں ہاتھ دیتے اشتعال کافی بھی وقت اس دادا باپ ہمارے حاالنکہ کی۔ نہ مدد کوئی کی اس نے ہمارے نے خدا کو تجھ کیوں تو ہے “ موعود مسیح ” اور بیٹا کا خدا ًاحقیقت تو اگر کہ رہے
43.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 43/97 ہوئے چبھتے اس کہ جب پاس کے ٰینصار کہ ہے یہ واقعہ بچایا۔ نہ سے ذلت اس ہاتھوں کفارہ عقیدہ ” بعد کے لینے مان کو تفصیالت ان کی واقعہ اور تھا نہیں جواب کوئی کا الزام بعد کے تفصیالت ان کی واقعہ نے انہوں تب ‘ تھی جاتی رہ نہیں باقی قیمت کوئی کی “ کے یسوع نے انہوں جب لیکن ”: ہے میں انجیل کی یوحنا کیا۔ اضافہ اور کا بیان پارہ ایک ایک سے میں ان مگر دیں توڑ نہ ٹانگیں کی اس تو ہے مرچکا وہ کہ دیکھا کر آ پاس بہہ پانی اور خون سے اس الفور فی اور چھیدی پسلی کی اس سے بھالے نے سپاہی یہودیوں تھا شاگرد کا یسوع جو نے یوسف والے رہنے کے ارمتیہ بعد کے باتوں ان .نکال جائے۔ لے الش کی یسوع کہ چاہی اجازت سے پیالطس پر طور خفیہ سے خوف کے جو آیا بھی نیکدیمس اور گیا لے الش کی اس کر آ وہ پس دی۔ دے اجازت نے پیالطس پس الیا۔ ہوا مال عود اور مر قریب کے سیر پچاس اور تھا گیا کو رات پاس کے یسوع پہلے ساتھ کے چیزوں دار خوشبو میں کپڑے سوتی اسے کر لے الش کی یسوع نے انہوں دی صلیب اسے جگہ جس اور ہے دستور کا کرنے دفن میں یہودیوں کہ طرح جس کفنایا رکھا نہ کوئی کبھی میں جس تھی قبر نئی ایک میں باغ اس اور تھا باغ ایک وہاں ‘ گئی یہ کیونکہ دیا رکھ وہیں کو یسوع باعث کے دن کے تیاری کی یہودیوں نے انہوں تھا۔پس گیا ‘ تھا ہی اندھیرا ابھی کہ تڑکے ایسے مگدلینی مریم دن پہلے کے ہفتہ تھی۔ نزدیک قبر دوسرے کے اس اور پطرس شمعون وہ پس دیکھا ہوا ہٹا سے قبر کو پتھر اور آئی پر قبر خداوند کہ کہا سے ان اور گئی ہوئی دوڑی تھا رکھتا عزیز یسوع جسے پاس کے شاگرد قبر باہر مریم لیکن دیا۔ رکھ کہاں اسے کہ نہیں معلوم ہمیں اور گئے لے نکال سے قبر کو دو تو کی نظر اندر کے جھک طرف کی قبر روتے روتے جب اور رہی روتی کھڑی پاس کے ہوئے بیٹھے پائینتی کو دوسرے اور سرہانے کو ایک ہوئے پہنے پوشاک سپید کو فرشتوں ہے روتی کیوں تو ! عورت اے کہا سے اس نے تھی۔انہوں پڑی الش کی یسوع جہاں دیکھا کہ نہیں معلوم اور ہیں گئے اٹھالے کو خداوند میرے کہ لیے اس کہا سے ان نے اس ؟ کہ پہچانا نہ اور دیکھا کھڑے کو یسوع اور پھری پیچھے وہ کر کہہ یہ ہے رکھا کہاں اسے ہے۔ ڈھونڈتی کو کس اور روتی کیوں تو ! عورت اے کہا سے اس نے یسوع ہے۔ یسوع یہ تو ہو اٹھایا سے یہاں کو اس نے تو اگر میاں : کہا سے اس کر سمجھ باغبان نے اس ” : کہا سے اس نے یسوع جاؤں۔ لے اسے میں تاکہ ہے رکھا کہاں اسے کہ بتادے مجھے یسوع “ ! استاد ”اے یعنی “ ربونی ” بولی میں زبان عبرانی سے اس کر پھر وہ “ ! مریم لیکن گیا نہیں اوپر پاس کے باپ تک اب میں کیونکہ ‘ چھو نہ مجھے کہا سے اس نے خدا اپنے اور باپ تمہارے اور باپ اپنے میں کہ کہو سے ان کر جا پاس کے بھائیوں میرے کہ دی خبر کو شاگردوں کر آ نے مگدلینی مریم ‘ ہوں جاتا اوپر پاس کے خدا تمہارے اور پہال کا ہفتہ جو دن اسی کہیں۔پھر باتیں یہ سے مجھ نے اس اور دیکھا کو خداوند نے میں بند سے ڈر کے یہودیوں تھے شاگرد جہاں دروازے کے وہاں جب وقت کے شام ‘ تھا دن کر کہہ یہ اور ہو سالمتی تمہاری کہ کہا سے ان اور ہوا کھڑا میں بیچ کر آ یسوع ‘ تھے ہوئے خوش کر دیکھ کو خداوند شاگرد پس دکھائی۔ انہیں پسلی اور ہاتھ اپنے نے اس ہے بھیجا مجھے نے باپ طرح جس ہو سالمتی تمہاری کہ کہا سے ان پھر نے یسوع روح ” کہا سے ان اور پھونکا پر ان کر کہہ یہ اور ہوں بھیجتا تمہیں بھی میں طرح اسی کہ ہے سکتا سمجھ سہولت بہ بعد کے فکر و غور معمولی شخص ایک ہر “ لو۔ “ القدس لگانا اندازہ یہ بلکہ ہے بےجوڑ ًاقطع اور مربوط غیر ساتھ کے بیان حصہ پہلے بیان پارہ یہ پہال کیونکہ ہیں وابستہ سے شخص ہی ایک تفصیالت دونوں یہ کہ ہے ہوجاتا مشکل ہی سے خدا اور مایوس بےکس و بےبس جو ہے مرقع کا شخصیت ایسی ایک بیان پارہ جو ہے کرتی پیش روشن رخ کا ہستی ایسی بیان حصہ دوسرا اور ہے آتی نظر شاکی و مطمئن سے واقعات آمدہ پیش اور مقرب کی باری ذات ‘ متصف سے صفات خدائی جزو اہم ایک کا فرض اداء اپنے کو ان اور متمنی کی وقوع کے ان بلکہ ہے مسرور تھی دوسری چونکہ حقیقت بہرحال بکجا تا ست کجا از رہ تفاوت ببیں ع ہے۔ سمجھتی اس خالف کے اس کو ٰینصار نے بدعت کی “ کفارہ عقیدہ ” بعد کے دراز عرصہ ایک اور اور مریم حضرت نے عزیز قرآن لیے اس کردیا مجبور پر تصنیف کی افسانہ ہوئے گھڑے سے گوشہ اس طرح کی گوشوں دوسرے متعلق سے )السالم (علیہما ٰیعیس حضرت
44.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 44/97 ضروری کرنا آرا جلوہ کو روشن رخ کے حال حقیقت کر ہٹا پردہ کا تاریکی و جہالت بھی کی قرآن میں تاریخ کی عالم مذاہب کو جس دیا انجام فرض وہ اپنا نے اس اور سمجھا ہے۔ جاتا کہا اصالح و تجدید دعوت مریم بن ٰی(عیس خدا رسول اور حق پیغمبر اسرائیل بنی میں زمانہ جس کہ بتایا نے اس ‘ تھے نازاں پر ان اور مصروف میں سازشوں اور تدبیروں خفیہ خالف کے ) السالم علیہ طاقت کوئی کہ کردیا نافذ فیصلہ یہ نے قدر و قضا قانون کے برتر خدائے میں زمانہ اسی تدبیر محکم ہماری اور پاسکتی نہیں قابو پر السالم علیہ مریم بن ٰیعیس قوت مخالف اور بنی جب کہ نکال یہ نتیجہ اور گی رکھے محفوظ سے “ مکر ” ہر کے دشمنوں کو اس ہوسکی نہ حاصل دسترس طرح کسی پر خدا پیغمبر کو ان تو کیا نرغہ پر ان نے اسرائیل حال صورت تو گھسے میں مکان اسرائیل بنی جب اور گیا لیا اٹھا تمام بحفاظت کو ان اور اس اور رہے ناکام میں مقصد اپنے ساتھ کے رسوائی اور ذلت وہ اور ہوگئی مشتبہ پر ان حفاظت کی )السالم (علیہما مریم بن ٰیعیس جو دکھایا کر پورا وعدہ اپنا نے خدا طرح یہ نے )السالم (علیہ ٰیعیس جب کہ ہے یہ کی اجمال اس تفصیل تھا۔ گیا کیا لیے کے گئی بڑھ درجہ اس سرگرمیاں کی انکار و کفر کے اسرائیل بنی اب کہ فرمایا محسوس خاص نے انہوں تو ہیں سازش سرگرم لیے کے قتل بلکہ تذلیل و توہین میری وہ کہ ہیں نقشہ کا صورتحال سامنے کے ان اور کیا جمع کو حواریوں اپنے میں مکان ایک سے طور حق ‘ ہے وقت کا آزمائش ‘کڑی ہے پر سر گھڑی کی امتحان ” : فرمایا ارشاد کر فرما پیش گا۔ رہوں نہیں زیادہ درمیان تمہارے میں اب ‘ ہیں پر شباب پورے سازشیں کی مٹانے کو کا نصرت و یاوری اور اشاعت و نشر کی ‘اس استقامت پر حق دین بعد میرے لیے اس راہ کی خدا کہ بتاؤ مجھے لیے اس ہے۔ واال ہوجانے وابستہ ساتھ تمہارے صرف معاملہ خدا ہی سب ہم ” : کہا کر سن حق کالم یہ نے حواریوں “ ہے۔ کون کون مددگار سچا میں صداقت اپنی اور ہیں الئے ایمان پر خدا سے دل سچے ہم ‘ ہیں مددگار کے دین کے نظر پیش کے کمزوریوں انسانی بعد کے کہنے یہ اور ہیں بناتے گواہ کو ہی آپ کا ایمانی کچھ جو کہ ہوگئے بدعا دست میں ہیٰلا درگاہ بلکہ کردی نہیں ختم بات ہی پر ٰیدعو اپنے کی مددگاروں کے دین اپنے کو ہم اور فرما عطا استقامت کو ہم پر اس تو ہیں رہے کہہ ہم اپنے )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت اب کر ہو مطمئن سے جانب اس لے۔ لکھ میں فہرست کیا سرگرمیاں کی معاندین دیکھئے کہ رہے منتظر ساتھ ساتھ کے ارشاد و دعوت فریضہ اس نے ٰیتعال ؟ہللا ہے ہوتا صادر کیا فیصلہ کا برحق خدائے اور ہیں کرتی اختیار رخ علم ” خالف کے فاسدہ اوہام و ظنون کے ٰینصار و یہود ذریعہ کے عزیز قرآن میں سلسلہ تدبیروں خفیہ اپنی معاندین وقت جس کہ بتایا بھی یہ ہوئے بخشتے “ روشنی کی الیقین کے تدبیر مخفی کی کاملہ قدرت اپنی بھی نے ہم وقت تھے۔اسی عمل سرگرم میں کی حق معاندین متعلق کے )السالم (علیہما مریم بن ٰیعیس کہ کرلیا فیصلہ یہ ذریعہ قدرت کی ٰیتعال ہللا بالشبہ گا۔اور جائے دیا ہونے نہیں کامیاب بھی گوشہ کوئی کا تدبیر کہ لیے اس گی۔ جاسکے نہیں پیش کی کسی میں مقابلہ کے تدابیر پوشیدہ کی کاملہ : سکتی نہیں ہی ہو تدبیر کوئی بہتر سے تدبیر کی اس )السالم (علیہ ٰیعیس نے (یہود نے انہوں اور ” } َنْیِرِک ٰمْلا َخْیُر ُہّٰللا َو ُہّٰللا َرَکَم َو اُرْوَکَم َو { ہللا اور کی تدبیر خفیہ )خالف کے مکر کے (یہود نے ہللا اور کی تدبیر خفیہ )خالف کے “ ہے۔ مالک کا تدبیر خفیہ بہتر سے سب کے معانی علم اور ہیں کے )کرنے دھوکا (اور تدبیر خفیہ معنی کے “ مکر ” میں عرب لغت ) DEFENCE( دفاع یا جواب کے کسی شخص کوئی جب مطابق کے “ مشاکلہ ” قاعدہ نہ کیوں تدبیر عمدہ ہی کتنی میں نگاہ کی مذہب اور اخالق وہ تو ہے کرتا تدبیر خفیہ میں میں محاورہ کے زبان ایک ہر کہ ہے۔جیسا جاتا کیا تعبیر سے ہی “ مکر ” بھی کو اس ہو کرنے برائی کہ ہے رکھتا یقین یہ شخص ہر حاالنکہ “ ہے برائی بدلہ کا برائی ” ہے بوالجاتا ” میں نگاہ کی دونوں مذہب اور اخالق دینا جواب کا مقابلہ قدر اسی میں جواب کے والے ” کو اسی اور ہے جاتا کردیا ظاہر شکل ہم کو دونوں میں تعبیر تاہم ہے۔ نہیں “ برائی تدبیر خفیہ غرض ہے۔ جاتا سمجھا جزء اہم کا بالغت و فصاحت یہ اور ہیں کہتے “ مشاکلہ برتر خدائے جانب دوسری اور تدبیر بری کی بندوں برے جانب ایک تھی۔ سے جانب دونوں
45.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 45/97 خامی و نقص میں جس تھی کامل تدبیر کی مطلق قادر جانب ایک نیز ‘ تدبیر بہترین کی ہو عنکبوت تار جو تھیں کاریاں خام کی فریب اور دھوکے جانب دوسری اور نہیں امکان کا گئیں۔ رہ کر ٰیعیس حضرت نے فقیہوں اور کاہنوں ‘ سرداروں کے اسرائیل بنی کہ آپہنچا وقت وہ آخر بند اندر کے مکان حواری اور اقدس ذات کرلیا۔ محاصرہ میں مکان بند ایک کا )السالم (علیہ سوال یہ پر طور قدرتی اب ذا لٰہ ہیں۔ ہوئے کئے محاصرہ سے طرف چاروں دشمن اور ہیں (علیہ ٰیعیس حضرت اور رہے ناکام دشمن سے جس کہ ہو صورت کیا وہ کہ ہوا پیدا اور حفاظت وعدہ کا قادر خدائے تاکہ ‘ سکے پہنچا نہ گزند بھی کا طرح کسی کو )السالم اور ہوا پورا وعدہ کا خدا بیشک کہ بتایا نے قرآن متعلق کے اس تو ہو پورا خیر تدبیر ٰیدعو طرح ہر سے ہاتھوں کے دشمنوں کو )السالم (علیہ ٰیعیس نے محکم تدبیر کی اس )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت میں گھڑی نازک اس کہ آئی پیش یہ صورت اور رکھا محفوظ جائے کی پوری مدت تیری کر نہ خوف ! ٰیعیس : سنائی بشارت یہ نے ہیٰلا وحی کو ہو دوچار سے موت وقت اس تم نہ اور گے کرسکیں نہیں قتل دشمن کو تم (یعنی گی ان اور گا اٹھالوں )جانب کی ٰیاعل (مالئے جانب اپنی کو تجھ میں کہ یہ ہوگا اور )گے پاسکیں نہ قابو کا قسم کسی پر تجھ یہ (یعنی گا رکھوں پاک کو تجھ طرح ہر سے کافروں کے اسرائیل بنی (یعنی گا رکھوں غالب ہمیشہ پر کافروں ان کو پیرؤوں تیرے اور )گے پر دونوں ان کبھی کو ان اور گے رہیں غالب مسلمان اور عیسائی تک قیامت میں مقابلہ پس ہے۔ آنا لوٹ )بعد کے (موت جانب میری کار انجام پھر )ہوگا نہیں نصیب اقتدار حاکمانہ : ہو رہے کر اختالف میں آپس تم متعلق کے ‘جن گا دوں حق فیصلہ پر باتوں ان میں َنْیِذَّلا ُلِعَجا َو اَفُرْوَک َنْیِذَّلا َنِم َکُرِّھَطُم َو َّیَلِا َکُعِفَرا َو َکْیِّفَتَوُم ِّنْیِا ی ٰٓسْیِعٰی ُہّٰللا اَلَق ْذِا { ِہْیِف ْنُتْمُک َماْیِف ْمُکَنْیَب ُمُکْحَفَا ْمُکُعِجَمْر َّیَلِا َّمُث ِۃَمِقٰیْلا ِمْوَی یٰلِا آْوَفُرَک َنْیِذَّلا َقْوَف َکْوُعَبَّتا اے ” : کہا سے ٰیعیس نے ٰیتعال ہللا جب )ہے الئق کے ذکر وقت (وہ ” } َنْوُفِلَتْخَت ہوں واال اٹھالینے جانب اپنی کو تجھ اور گا کروں پورا کو مدت تیری میں بےشبہ ! ٰیعیس ان ‘ گے کریں پیروی تیری جو ہوں واال رکھنے پاک سے )اسرائیل (بنی کافروں کو تجھ اور ‘ ہے لوٹنا ہی جانب میری پھر ہوں۔ واال رکھنے غالب لیے کے تک قیامت پر منکروں تیرے کو “ ہو۔ رہے جھگڑ تم )(آج میں بارے کے جن گا کروں فیصلہ کا باتوں ان میں پھر ٌرْحِس اَّلِا آَذ ٰھ ْنِا ْمْنُھِم اَفُرْوَک َنْیِذَّلا اَلَقَف ِت ٰنِّیَبْلاِب ْمُھَتْئِج ْذِا َکْنَع َلْیِئَرآ ْسِا ْٓیِنَب ُتْفَفَک ْذِا َو { ہوئے کراتے شمار احسانات اپنے کو ٰیعیس حضرت ٰیتعال ہللا دن کے (قیامت ” }ْیٌنِبُّم وہ (یعنی دیا روک سے تجھ کو اسرائیل بنی نے میں جب ‘ کرو یاد وقت وہ اور )گا فرمائے میں ان اور آیا کر لے معجزات پاس کے ان تو جبکہ )سکے پا نہ قابو پر تجھ طرح کسی “ ہے۔ نہیں کچھ اور ماسوا کے جادو تو یہ ” : دیا کہہ نے کافروں سے محاصرہ سخت اس کہ گیا دیا دال اطمینان یہ کو )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت جبکہ اب تو جانب کی ٰیاعل مالئے ہاتھ غیبی کو تم اور گے کرسکیں نہ قتل کو تم دشمن باوجود کے کردیئے محفوظ طرح ہر آپ سے ہاتھوں ناپاک کے دین دشمنان طرح اس اور گا اٹھالے نے واقعہ اور ہوا طرح کس یہ کہ ہوا پیدا سوال دوسرا ایک کر پہنچ جگہ اس تو ‘ گے جائیں کو )السالم (علیہ مسیح کہ ہیں کہتے تو ٰینصار و یہود کیونکہ ؟ لی اختیارکر صورت کیا ) السالم (علیہ مریم بن مسیح کہ بتایا نے قرآن تب ڈاال۔ بھی مار اور لٹکایا بھی پر سولی ہے یہ معاملہ اصل بلکہ ہے جھوٹ اور غلط سر تا سر داستان پوری کی صلیب و قتل کے کے اس اور گیا لیا اٹھا جانب کی ٰیاعل مالئے حیات بقید کو )السالم (علیہ مسیح جب کہ کسی وہ اور گئی کردی مشتبہ حال صورت پر ان تو پڑے گھس اندر کے مکان دشمن بعد : گیا چال کہاں )السالم (علیہ مسیح سے میں مکان اس آخر کہ سکے جان نہ طرح َہِّب ُش ْنِکٰل َو ُہُبْوَلَص َما َو ُہْوُلَتَق َما َو ِہّٰللا َلْو ُسَر َمْرَیَم َنْبا ی َسْیِع ْیَحِسَمْلا َناْلَتَق اَّنِا ْمِھِلْوَق َو { اْیًنِقَی ُہْوُلَتَق َما َو ِّن َّظال َعَباِّتا اَّلِا ٍمْلِع ْنِم ٖہِب ْمُھَل َما ُہْنِّم ٍّک َش ِفْیَل ِہْیِف اْوُفَلَتْخا َنْیِذَّلا َّنِا َو ْمُھَل اس اپنے )گئے دیئے قرار ملعون (یہود اور ” } ۔ اْیًمِکَح اْیًزِزَع ُہّٰللا َناَک َو ِہْیَلِا ُہّٰللا ُہَعَفَّر ْلَب ۔ اس نہ نے انہوں حاالنکہ کردیا قتل کو خدا پیغمبر مریم بن ٰیعیس مسیح نے ہم کہ پر قول پر ان معاملہ اصل )بدولت کی تدبیر خفیہ کی (خدا بلکہ چڑھایا پر سولی نہ اور کیا قتل کو اس وہ بالشبہ ہیں رہے جھگڑ میں بارے )کے (قتل کے اس لوگ جو اور گیا رہ کر ہو مشتبہ
46.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 46/97 حقیقت پاس کے ان ہیں ہوئے پڑے میں شک سے جانب کی ))السالم (علیہ ٰی(عیس انہوں اور ہے نہیں )روشنی (کی علم سوا کے پیروی کی )(اٹکل ظن میں بارے کے حال )جانب کی ٰیاعل (مالئے جانب اپنی نے ہللا کو ان بلکہ کیا نہیں قتل ًایقین کو ٰیعیس نے “ ہے۔ واال حکمت غالب ہللا اور لیا اٹھا نے اس خالف کے افسانہ اختراعی کے ٰینصار و یہود جو ہے بیان وہ یہ کا عزیز قرآن کے آپ بیانات دونوں اب ہے۔ دیا متعلق کے )السالم (علیہما مریم بن مسیح حضرت )السالم (علیہ مسیح حضرت پہلے میں۔ ہاتھ کے آپ ترازو کا انصاف و عدل اور ہیں سامنے میں روشنی کی حقائق تاریخی کو مشن کے ارشاد و دعوت کے ان اور شخصیت کی اولو ایک جو ڈالئے نظر پر واقعات تفصیلی ان پھر مرتبہ ایک بعد کے اس اور کیجئے معلوم کو بیٹے کے خدا مطابق کے باطل عقیدہ کے ٰینصار اور ہیٰلا بارگاہ مقرب ‘ پیغمبر العزم ظاہر شاکی سے خدا اور مددگار بےیارو ‘ مضطرب ‘ مایوس سامنے کے فیصلہ کے خدا کی کفارہ عقیدہ جانب ایک کہ فرمایئے غور بھی پر بیان تضاد اس ہی ساتھ اور ہیں کرتے اس ہی آیا کر بن بیٹا کا خدا )السالم (علیہ مسیح حضرت کہ ہے قائم پر اس صرف بنیاد صلیب جانب دوسری اور ہوجائے کفارہ کا گناہوں کے دنیا کر ہو مصلوب کہ تھا سے غرض وہ جب کہ ہے گئی کی کھڑی پر اساس اس داستان کی )السالم (علیہ مسیح قتل اور کو پذیری وجود میں دنیا اور حقیقت اپنی بیٹا فرضی یہ کا خدا تو ہے پہنچتا آ موعود وقت اور کہتا سے زبان جملہ ناک حسرت “کا شبقتنی لما ایلی ایلی ” کرکے فراموش یکسر سوال یہ کو شخص کسی ہے۔کیا آیا نظر ہوا کرتا اظہار کا ناخوشی اپنی پر ہیٰلا مرضی اور صحیح حصے دونوں کے واقعات کردہ بیان کے ٰینصار اگر کہ ہے نہیں حق کا کرنے ؟ معنی کیا کے مطابقت عدم اس اور کیسا تضاد یہ باہم کے دونوں ان تو ہیں درست و واقعات اور کر رکھ سامنے کو پہلوؤں تمام ان نگاہ رس دور اور بیں حقیقت ایک اگر پس کے حق تصدیق وہ تو کرے مطالعہ کا مسئلہ اس کر جوڑ باہم کو کڑیوں تمام ان کی حاالت گھڑی اور حامل کی تضاد داستان یہ کی بائبل کہ گی کرے فیصلہ یہ تامل بال نظر پیش بر مبنی اور حق وہی ہے دیا فیصلہ جو میں سلسلہ اس نے قرآن اور ہے داستان ہوئی سے پال سینٹ سے بعد کے )السالم (علیہ مسیح حضرت کہ ہے شاہد تاریخ ہے۔ صداقت سینٹ جب لیکن تھے بےتعلق ًاقطع سے داستان خرافی اس کی “ یہود ” ٰینصار تک قبل کے کفارہ تو رکھی بنیاد کی عیسائیت جدید پر کفارہ اور تثلیث نے )رسول (پولوس پال لیا بنا جزء کا مذہب بھی کو داستان خرافی اس کی یہود لیے کے استواری کی عقیدہ صدیوں چودہ کہ جب کہ ہے یہ پہلو افسوسناک درجہ حد متعلق سے واقعہ لیکن گیا۔ ہوئے کرتے اعالن کا قدر جاللت و عظمت کی )السالم (علیہ ٰیعیس نے حکیم قرآن سے خالف کے داستان خرافی کی ٰینصار و یہود کو حقیقت کی “ ِئَما َّسال یٰلِا َعَفَر ” کے ان الجواب ذریعہ کے وبراہین دالئل کو ٰینصار و یہود اور نمایاں میں روشنی کی یقین و علم مسیحیت و نبوت ٰیدعو اسالم ٔیمدع ایک آج میں مقابلہ کے اس تو تھا کردیا سرنگوں اور و یہود میں خوشامد غرضانہ خود کی حکومت عیسائی مسلط پر ہندوستان یا شوق کے بنیاد کی “ نبوت عقیدہ باطل ” اپنے پر اس اور کرنا زندہ دوبارہ کو عقیدہ اسی کے ٰینصار کر ہو بےنیاز سے تصریحات کی عزیز قرآن متنبی یہ کا )(قادیان پنجاب اور ہے چاہتا رکھنا و یہود میں سلسلہ اس جو ہے کرتا تصدیق کی واقعات تمام ان ساتھ کے جسارت نہایت ہے کہتا وہ ‘ ہیں کئے اختراع لیے کے تکمیل کی عقائد مزعومہ باطل اپنے اپنے نے ٰینصار کے ان ‘ اڑایا ٹھٹھا کا ان ‘ کیا اسیر نے یہود کو )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت بالشبہ کہ عالوہ کے ان اور پہنایا بھی تاج کا کانٹوں کو ان ‘ لگائے بھی طمانچے کے ان ‘ تھوکا پر منہ اپنے اور چڑھایا بھی پر صلیب کو ان بعد کے کرنے سلوک کا تذلیل و توہین کی قسم ہر بغیر بعد کے تصدیق بحرف حرف کی ٰینصار و یہود البتہ ڈاال کر بھی قتل کو ان میں زعم کرتا اضافہ یہ سے جانب اپنی کے شہادت تاریخی اور روایت حدیثی ‘ نص قرآنی کسی تکفین و تجہیز وہ اور گئی کردی حوالہ کے ان نعش پر مطالبہ کے شاگردوں جب کہ ہے ایک پر طور خفیہ نے انہوں تب ہے باقی جان میں جسم کہ دیکھا تو ہوئے آمادہ لیے کے کر رہ پوشیدہ تو ہوگئے چنگے وہ جب اور کیا عالج کا زخموں کے ان ذریعہ کے مرہم خاص اور رکھا چھپائے کو خود تک لمحوں آخری کے حیات بھی وہاں اور گئے چلے کو کشمیر
47.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 47/97 میں داستان مفروضہ کی ٰینصار و یہود کہ کہئے یوں گئے۔گویا پا انتقال وہیں میں گمنامی وہ تھے پہلو بھی قدر جس کے تذلیل و توہین متعلق سے )السالم (علیہ مسیح حضرت سے مرتبت جاللت اور شان عظمت کی ان باقی لیے کر قبول نے کاذب متنبی تو سب دیا جوڑ حصہ فرضی ایسا ایک ساتھ کے اس کرکے خارج سے داستان کو پہلو متعلق اور سکے ہو مہیا سامان کا کرنے مائل جانب اپنی کو پرستوں نیچر جانب ایک سے جس ساتھ کے گمنامی کو مبارک زندگی باقی کی )السالم (علیہ ٰیعیس جانب دوسری تکمیل کی اس تھا گیا رہ سامان تشنہ جو گوشہ ایک کا تذلیل و توہین کے کر وابستہ ن)۔ْوُعِجَرا ِہْیَلِا اَّنِا َو ِہّٰلِل َّانِا( ہوجائے۔ ابھی جانب کی اس ؟ آئی پیش ضرورت کیوں کی کرنے کچھ سب یہ کو پنجاب نبی مت ” کتاب کی برنی الیاس پروفیسر لیے کے تفصیل کی اس اور ہے چکا جا کیا اشارہ کو حقیقت اس ہفوات تصنیفی کی کاذب متنبی خود یا ‘ ہے مطالعہ الئق “ مذہب قادیانی ہیں۔ دیتی مدد میں کرنے عریاں نصوص کی حکیم قرآن طرح کس نے پنجاب متنبی کہ ہے مسئلہ یہ تو نظر پیش ہمارے (علیہ ٰیعیس قتل اور “ تصلیب ” “ توہین ” عقیدہ کے ٰینصار و یہود خالف کے قطعیہ بھی میں اس کیا اختالف تک حد جس اور کیا اقدام کا جسارت بےجا پر تائید کی )السالم کی کرنے ثابت گمنام اور ناکام و نامراد کو طیبہ حیات کی ان خالف کے قرآنی ٰیدعو میں مقابلہ کے اسرائیل بنی نے عزیز قرآن کہ ہیں چکے سن ابھی کی۔آپ الحاصل سعی نمایاں ساتھ کے بیان قوت کس کو برتری و حفاظت ٰیدعو سے نجات کی ٰیتعال خدائے َّیَلِا َکُعِفَوَرا َکْیِّفَتَوُم ِّنْیِا ی ٰسْیِعَی ُہّٰللا اَلَق ْذِا َنْیِرِکَماْلا َخْیُر َوُہّٰللا َہّٰللا َرَکَوَم اُرْوَکَوَم : ہے کیا اپنے نے ٰیتعال ہللا کہ کیا اعالن یہ ساتھ کے زور کس پھر اور اَفُرْوَک َنْیِذَّلا َنِم َکُرِّھَطُمَو مسیح بھی سے حیثیت کسی دشمن کہ کیا پورا ساتھ کے شان اس کو حفاظت دعوائے : سکے لگا نہ تک ہاتھ اور سکے پا نہ قابو پر )السالم (علیہما مریم بن َنْیِذَّلا َّنِا َو ْمُھَل َہِّب ُش ْنِکٰل َو ُہُبْوَلَص َما َو ُہْوُلَتَق َما َو { } َکْنَع َلْیِئَرآ ْسِا ْٓیِنَب ُتْفَفَک ْذِا َو { ُہّٰللا ُہَعَفَّر ْلَب ۔ اْیًنِقَی ُہْوُلَتَق َما َو ِّن َّظال َعَباِّتا اَّلِا ٍمْلِع ْنِم ٖہِب ْمُھَل َما ُہْنِّم ٍّک َش ِفْیَل ِہْیِف اْوُفَلَتْخا کہ ہیں رہتے کرتے مشاہدہ یہ شب و روز میں دنیا ہم کہ بات یہ ہے غور قابل تواب } ِہْیَلِا دشمن کا ان خالف کے مصاحب یا دوست عزیز کے ہستی اقتدار و قوت صاحب کسی اگر اعانت کی ہستی اقتدار صاحب ہم کہ کر سمجھ یہ اور ہے ہوتا درپے کے قتل یا آزار درپے رجوع جانب کی اقتدار ‘صاحب ہوسکتے نہیں برآ عہدہ میں مقابلہ کے دشمن بغیر کے طرح کسی کو ان دشمن کہ ہے دالتی اطمینان طرح پوری کو ان ہستی یہ اور ہیں کرتے ہر تو گی جائے دی ہونے نہیں ہی دسترس کی اس تک ان بلکہ سکتا پہنچا نہیں نقصان کا دشمن کو ان میں حالت بھی کسی اب کہ ہے لیتا مطلب یہی کا اس عقل اہل ایک جھوٹا اور کرے نہ ایفا کا وعدہ اپنے یا ہستی اقتدار صاحب کہ یہ مگر رہا نہیں باقی خطرہ میں نصرت و حمایت اس بھی خود وہ کہ ہو زیادہ اتنی طاقت کی دشمن یا اور ہو ثابت اقتدار صاحب کہ ہو موصول اطالع یہ میں دنیا انسانی جب جائے۔پس رہ کر ہو مغلوب پر منہ ‘ پیٹا مارا ‘ کرلیا گرفتار نے دشمن کے اس کو مصاحب یا دوست عزیز کے ہستی نعش کر سمجھ مردہ اور ڈاال بھی مار میں گمان اپنے کرکے رسوا و ذلیل طرح ہر اور تھوکا کہیں کہ ہوا معلوم سے دیکھنے نبض اتفاق حسب مگر کردی سپرد کے عزیزوں کے اس انسانی دنیائے تو ہوگیا بصحت رو وہ اور گیا کیا معالجہ عالج ذا لٰہ ہے گئی رہ اٹکی جان کی مظلوم اس نے جس گی کرے قائم رائے کیا متعلق کے ہستی اقتدار صاحب اس کہ ہے ظاہر ؟ کیا نہیں یا کیا پورا وعدہ اپنا نے اس کہ یہ ؟ تھا کیا وعدہ کا نصرت و حمایت کے انسانی دنیائے اگر پس رہا۔ مجبور وہ کہ لیے اس یا کیا نہیں ًاقصد خواہ کیا نہیں قادر نے دماغ و عقل کے پنجاب متنبی کہ نہیں معلوم تو ہے یہ صورتحال میں معامالت مریم بن ٰیعیس نے خدا کہ کیا فیصلہ یہ ماتحت کے ذہنیت کس متعلق کے خدا مطلق کے دشمن باوجود کے وعدہ کے صیانت و حفاظت کی قسم ہر کو )السالم (علیہما پنجاب متنبی میں تقلید اندھی کی ٰینصار و یہود کو ‘جس دیا ہونے کچھ سب وہ ہاتھوں نے یہود اگرچہ کہ کردیا اضافہ قدر اس صرف لیے کے شوئی اشک اور کرلیا تسلیم نے ًاحقیقت ‘مگر ہے چکی نکل سے عنصری قفس روح کہ تھا لیا سمجھ بعد کے قتل و صلیب
48.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 48/97 اسی لیے اس ‘ تھی باقی پر طور محسوس غیر ابھی جان رمق بلکہ تھا ہوا نہیں ایسا جیلوں قبل سال چند سے اب میں زمانہ موجودہ طرح جس ‘ گئی بچ جان کی ان طرح بعد کے پانے پھانسی کبھی سے وجہ کی ‘اس تھا رائج طریقہ جو کا دینے پھانسی میں اچھا وہ سے معالجہ عالج بعد کے سپردگی کی نعش اور تھی جاتی رہ باقی جان رمق تھا۔ ہوجاتا بھی کبھی جب نے جس ہیں رکھتے ایمان پر خدا مطلق قادر ‘ واحد ذات اس تو ہم بہرحال تو ہے کیا صیانت و حفاظت وعدہ کا قسم اس سے )رسولوں اور (نبیوں بندوں خاص اپنے اور شایان لیے کے ہستی مطلق قادر جو ہے کیا سے شان ایسی بھی پورا کو اس پھر نمل سورة معاملہ کا حق منکرین کے قوم کی ان اور )السالم (علیہ صالح ہے۔حضرت الئق َناَکَو { : ہے باری ارشاد فرمایئے۔ غور پر اس ہوا بیان ساتھ کے شان معجزانہ جس میں َّمُث ُہَلْہَاَو ُہَّنَتِّیَبُنَل ِہّٰللاِب اُمْو اَسَقَت اْوُلاَق ۔ َنْوُحِلُیْص اَلَو ِضْرَاْلا یِف َنْوُدِسْفُّی ٍطْہَر ُۃَع ْسِت ِۃَنْیِدَمْلا یِف ۔ َنُرْوُع ْشَی اَل ُہْمَّو ًراْکَم اْرَنَکَمَّو ًراْکَم اُرْوَکَوَم ۔َنْوُقِدَصاَل اَّنِاَو ٖہِلْہَا َکِلْہَم اَنْدِہ َش َما ِہِّیِلَوِل َّنَلْوُقَنَل َّنِا اُمْوَظَل َماِب مًۃَیِواَخ ْمُہُتُبُیْو َکْلِتَف ۔ َنْیِعَمْجَا ْمُہَمْوَقَو ُہْماْرَنَّمَد اَّنَا ْمِہِرْکَم ُۃاِقَبَع َناَک ْیَفَک ْرُظْناَف شخص نو میں شہر اور ” } ۔ َنْوُقَّتَی اْوُناَکَو اُنْوَمٰا َنْیِذَّلا َناْینَجَاَو ۔ َنُمْوَلَّیْع ٍمْوَقِّل ًۃَیٰاَل َکِل ٰذ ِفْی آپس نے انہوں ‘ تھے کرتے نہیں کا کاری صالح کام کوئی اور تھے مفسد )(بہت جو تھے ماریں خون شب پر والوں گھر کے اس اور صالح ضرور ہم کہ کھاؤ قسمیں باہم ” کہا میں وقت کے ہالکت کی خاندان کے اس ہم کہ گے دیں کہہ سے وارثوں کے اس پھر اور گے (صالح نے انہوں اور “ ہیں۔ سچے ضرور ہم بخدا قسم اور تھے نہیں ہی موجود پر موقع )خالف کے سازش کی (ان بھی نے ہم اور کی سازش خفیہ )خالف کے )السالم (علیہ ) ! محمد (اے پس تھے سمجھتے نہیں )کو تدبیر مخفی (ہماری وہ اور کی تدبیر خفیہ )کو (مفسدوں کو ان نے ہم کہ ؟یہ ہوا حشر کیا کا تدبیر سازشی خفیہ کی ان کہ ! دیکھو ان ہیں )ہی (قریب یہ دیکھو )کر اٹھا (نگاہ کردیا ہالک کو سب قوم )(سرکش کی ان اور میں واقعہ اس بیشک ‘ سے وجہ کی ظلم کے ان ہیں ویران ‘ کھنڈر کے گھروں کے تھے۔ پرہیزگار کہ جو کو والوں ایمان دی نجات نے ہم اور لیے کے والوں سمجھ ہے نشانی “ علیہ ہللا (صلی االنبیاء خاتم ہجرت جو کا واقعہ الشان عظیم اس کیجئے مطالعہ پھر اور کا رسوائی و ذلت کی حق دشمنان میں انفال سورة اور ہے رکھتا تعلق سے )وسلم وآلہ خفیہ کی دشمنوں ‘ معرکوں کے باطل و حق میں واقعات دونوں ہے۔ان اعالن ابدی و بےغل کے اس اور ہیٰلا وعدہ لیے کے حفاظت کی )السالم (علیہما انبیاء اور سازشوں غور پر اس سے نگاہ تاریخی ہے کیا پیش نے عزیز قرآن نقشہ جو کا ہونے پورا غش محمد االنبیاء خاتم اور )السالم (علیہ صالح نے خدا جس کہ کیجئے فیصلہ اور فرمایئے پورا ساتھ کے رفیع شان اس کو حفاظت وعدہ اپنے ساتھ کے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی ٰیعیس وہ ساتھ کے معجزانہ شان اسی مطابق کے عقیدہ کے پنجاب متنبی کیا ‘ ہو کیا ان کہ ہیں شاہد قرآنی آیات حاالنکہ ‘ نہیں ہرگز نہیں ؟ ہوا پورا میں حق کے )السالم (علیہ وعدے گئے کئے سے )السالم (علیہما مریم بن ٰیعیس میں مقابلہ کے واقعات دونوں مخفی بہترین کے خدا کہ ہے گیا کہا صاف میں ان اور ہیں رکھتے تفصیالت واضح زیادہ سکیں لگا نہ تک ہاتھ کو ان دشمن کے )السالم (علیہ مسیح حضرت مطابق کے فیصلہ ان گا کرائے شمار کو انعامات و احسانات جن اپنے ٰیتعال ہللا روز کے قیامت تو ہی تب گے : ہوگا بھی یہ احسان و انعام بڑا ایک سے میں دیا روک سے تجھ کو اسرائیل بنی نے ہم جبکہ اور ” } َکْنَع َلْیِئَرآ ْسِا ْٓیِنَب ُتْفَفَک ْذِا َو { کرنے مضبوط کو ڈھونگ اور افترا کے مسیحیت اور نبوت اپنی اگر کو پنجاب نبی مت “ تھا۔ اس خالف کے جانے اٹھائے پر آسمان زندہ کے )السالم (علیہ مسیح حضرت لیے کے یہود بھی تب ہے ہوتا معلوم سے تصنیفات کی کاذب متنبی کہ جیسا تھی ناگواری درجہ “تک بواح کفر ” خالف کے قرآنی نصوص جو میں مقابلہ کے تقلید اندھی اس کی ٰینصار و تذلیل و توہین باعث میں حق کے رفیع شان کی )السالم (علیہ مسیح حضرت اور پہنچاتی پردہ کے ؎ ١ باطل تاویل کہ تھا نہیں کافی یہ کیا ‘ ہے کرتی تکذیب کی ہیٰلا وعدہ اور ٰیتعال ہللا مگر گئے اٹھائے نہیں پر آسمان حیات بقید اگرچہ وہ کہ جاتا دیا کہہ ہی اتنا میں
49.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 49/97 اور کردیا محفوظ کر نکال سے نرغے کے دشمنوں کو ان پر طریق کسی سے مکان بند نے سچے کے خدا کہ قادیان متنبی برحال وائے ‘لیکن سکے پا نہ کو ان طرح کسی دشمن و الدنیا خسر ” نے وعناد بغض ساتھ کے )السالم (علیہما مریم بن ٰیعیس حضرت پیغمبر (علیہ ٰیعیس حیات کہ لیے اس باطل تاویل ؎ ١ چھوڑا۔ ہی کر بنا مصداق کا “ اآلخرہ پر مقام اس نظر پیش کے امت اجماع اور ‘حدیثی قرآنی نصوص دیگر متعلق سے )السالم کی )السالم (علیہ مسیح حضرت کم از کم سے اس مگر ہے “ باطل ” بالشبہ تاویل یہ نکلتا۔ نہیں پہلو کا تکذیب کی ہیٰلا وعدہ اور توہین جواب کا اس اور تلبیس قادیانی اور عظمت کی ان جو ” میں مسئلہ آراء معرکہ اس کے )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت ذکری ترتیب اور ربط باہمی کا آیات کی عمران آل سورة “ ہے نشان زبردست کا جاللت ِلِطَباْلاِب ِّقَحْلا ْیُسِبْلَت بھی میں اس نے کاذب متنبی کہ ہے توجہ قابل ساتھ کے خصوصیت عمران آل سورة ‘ عزیز ہے۔قرآن کی کوشش کی کرنے گمراہ کو ناواقف کر دے ثبوت کا جانے گھر میں نرغہ کے دشمنوں کے )السالم (علیہ مسیح حضرت نے ٰیتعال ہللا میں شکل فطری کہ ہے ہوتا معلوم سے اس ہے کیا ذکر کا وعدہ اور تسلی جس متعلق سے بند ایک کا )السالم (علیہ مسیح حضرت نے دین دشمنان جب کہ آئی پیش یہ صورت و جو کا تقرب درمیان کے برحق خدائے اور پیغمبر العزم اولوا ایک تو کرلیا محاصرہ میں مکان اب کہ ہوا پیدا خیال یہ کو ٰیعیس حضرت پر طور قدرتی نظر پیش کے اس ہے قائم رشتہ اور ؟ کرشمہ اور کوئی کا ہیٰلا قدرت یا سپاری جاں میں حق راہ ؟ ہے واال آنے پیش کیا شکل کیا کی اس تو ہے واال آنے پیش کرشمہ کوئی لیے کے تحفظ سے دشمنوں اگر و مصائب کچھ کیا تو بھی ہوا تحفظ اگر اور ؟ آتا نہیں نظر سامان کوئی بظاہر کیونکہ ہوگی ؟ گے پاسکیں نہ قابو میں صورت بھی کسی دشمن یا ہوگا جان تحفظ بعد کے اٹھانے آالم ٰیعیس حضرت ہوئے کرتے مخاطب کو )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت نے ٰیتعال ہللا تب طرح اس وار ترتیب کا سواالت والے ہونے پیدا پر طور فطری میں قلب کے )السالم (علیہ گا کروں پوری حیات مدت مقررہ تیری میں کہ ہے داری ذمہ یہ میری ! ٰیعیس ” : دیا جواب یہ صورت اور ” ) َکْیِّفَتَوُم ِّنْیِا( “ گے پائیں کر نہ قتل دشمن کو تجھ کہ رہو مطمئن یعنی گا اٹھالوں جانب کی ٰیاعل مالئے یعنی جانب اپنی کو تجھ میں وقت اس کہ ہوگی پھر اور گے گزریں ہو مصائب کچھ سب پہلے کہ نہیں طرح اس بھی یہ اور ” ) َّیَلِا َکُعِف(َوَرا کے دشمن تو کہ ہوگا یوں بلکہ نہیں گے اٹھائیں کر کرا معالجہ عالج میں آخر کو تجھ ہم گا سکے لگا نہ تک ہاتھ کو تجھ دشمن کوئی اور گا رہے محفوظ طرح ہر سے ہاتھوں ناپاک بھی سے اس لیکن ہوا جواب کا سواالت فطری تمہارے تو یہ )اَفُرْوَک َنْیِذَّلا َنِم َکُرِّھَطُم(َو “ خواہ اور ٰینصار کہ جیسا ہوں کار غلط (خواہ ہیں پیرو تیرے جو کہ گے کریں یہ ہم زیادہ تاقیام اور گے رکھیں غالب پر یہود تک قیامت کو ان )مسلمان کہ جیسا ہوں العقیدہ صحیح سو فیصلہ کا معامالت تمام رہا باقی ‘ ہوگا نہیں نصیب اقتدار حاکمانہ کو ان کبھی قیامت و حق اور گے ہوجائیں ختم اختالفات سب روز اس ہے مقرر دن )کا (قیامت لیے کے اس صالحین سلف طرح جس تفسیر یہ کی آیات بحث گا۔زیر جائے کردیا فیصلہ ٹوک دو کا باطل کی وعدوں متعدد گئے کئے میں آیات میں اس طرح اسی ہے مطابق کے امت اجماع اور کی کرنے مقدم کو مؤخر اور مؤخر کو مقدم اور پڑتا نہیں فرق کوئی بھی میں ترتیب کرنے قائم کو نبوت و مسیحیت مسند اپنی نے قادیانی مرزائے مگر آتی نہیں پیش ضرورت حضرت کہ کیا ٰیدعو یہ جبکہ خالف کے امت اجماع اور صحیحہ ‘احادیث قرآن لیے کے کی معنوی تحریف میں آیات کی سلسلہ اس تو ہوچکی موت کی )السالم (علیہ ٰیعیس موت کی )السالم (علیہ مسیح اگر کہ کیا ٰیدعو اور سمجھا ضروری بھی کو سعی ناکام قبل سے َنْیِرِفاَکْلا یٰلَع َنْیِعْیِطُمْلا ُّوُقَتَف اور رْیِہ ْطَت اور ِئَما َّسال یٰلِا َعَفَر کو وقوع کے کو مؤخر اور مؤخر کو مقدم اور گا آجائے فرق میں ذکری ترتیب تو گا جائے کیا نہ تسلیم کہ چاہیے ماننا یہ ذا لٰہ ہے خالف کے بالغت شان کی عزیز قرآن یہ اور گا پڑے ماننا مقدم آچکی۔ موت پر )السالم (علیہ ٰیعیس اور ہوچکا وقوع کا وعدہ کے َکْیِّفَتَوُم ِّنْیِا
50.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 50/97 جو سکتی رہ نہیں پوشیدہ تو سے حضرات ان اگرچہ “ تلبیس ” یہ کی قادیانی مرزائے سکتی ڈال میں مغالطہ کو عوام لیکن ہیں رکھتے ذوق کا بیان اسلوب کے قرآن اور عربیت کہ گیا کردیا بیان طرح اس کو تفسیر کی آیات میں ہی شروع کے عنوان اس لیے اس ہے تشریح مزید تاہم ہوجائے زائل بخود خود وہ ہے گئی کی تلبیس جو سے جانب کی مرزا باتیں چند اگر میں کالم کہ ہے ہوتا یہ مطلب کا ذکری ترتیب کہ ہے اضافہ اور یہ لیے کے کردہ ذکر میں کالم اس کہ چاہیے ہونا طرح اس بھی وقوع کا ان تو ہیں گئی کی وار ترتیب ضروری جب یہ اور پڑے نہ کرنا مقدم کو مؤخر اور مؤخر کو مقدم اور پائے نہ بگڑنے ترتیب پائے آنے نہ فرق میں ذکری ترتیب کہ ہو یہ ہی تقاضا کا بالغت و فصاحت کی کالم کہ ہے یہ اور ہے جاتا سمجھا جان کی فصاحت بھی کو تاخیر و تقدیم پر مقامات بعض تو ورنہ ‘ کی اسالم اہل جمہور میں آیات ان کی قرآن پس ہے۔ مسئلہ مشہور کا معانی علم وعدہ پہال سے جانب کی خدا کہ لیے اس ہے قائم بحالہ ذکری ترتیب مطابق کے تفسیر ان موت تمہاری یعنی ) َکْیِّفَتَوُم ِّنْیِا( گا کروں پوری مدت مقررہ تمہاری میں کہ ہے یہ پہلے اس مگر گے مرو سے موت طبعی اپنی تم بلکہ ہوگی نہیں سے ہاتھ کے دشمنوں سے باہر پر دشمنوں کہ یہ: تھیں ہوسکتی صورتیں متعدد لیے کے کرنے پورا کو وعدہ (علیہ مسیح حضرت اور رہیں کھیت وہیں سب یا ہوجائیں فرار وہ اور ہوجائے حملہ اچانک سے آسمان یا زمین طرح کی وثمود عاد قوم کہ یہ یا جائیں بچ سے زد کی ان )السالم کسی )السالم (علیہ مسیح حضرت کہ یہ یا دے کر ہالک کو سب ان کر آ عذاب قدرتی باہر سے دسترس کی ان اور جائیں نکل محفوظ سے میں نرغہ کے ان سے ترکیب بند مکان کو )السالم (علیہ ٰیعیس سے قدرت کرشمہ اپنے ٰیتعال ہللا کہ یہ یا ہوجائیں نے ٰیتعال ہللا کہ بتایا نے قرآن تو وغیرہ۔ وغیرہ اٹھالے جانب کی ٰیاعل مالء ہوئے رہتے شکل آخری باال مسطورہ ایفاء کا وعدہ پہلے کہ دی خبر کو )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت اس کہ ہاتھوں کے کاملہ قدرت ایسی بھی ہوگا اور ہوگا میں شکل کی َّیَلِا َکُعِفَوَرا یعنی کافروں ان میں اور گے سکیں لگا نہیں کو تجھ ہاتھ ناپاک اپنے دشمن باوجود کے محاصرہ عالوہ کے باتوں ان اور } اَفُرْوَک َنْیِذَّلا َنِم َکُرِّھَطُمَو { : گا رکھوں پاک کو تجھ سے ہاتھ کے بعد بہرحال گا رکھوں غالب تک قیامت پر منکروں تیرے کو پیرؤوں تیرے میں کہ ہوگا بھی یہ پذیر وقوع اول وعدہ پہلے کہ گے آئیں میں عمل ہی جب بالترتیب وعدے تینوں یہ کے موت طبعی کر پہنچ پر مدت مقررہ اپنی بلکہ ہو نہ ہاتھوں کے ان موت تیری یعنی ہوجائے اور گا ماروں کو تجھ اول میں کہ گیا کہا نہیں یہ متعلق کے وعدہ پہلے میں آیات ان آئے لیکن ہے سکتا کہہ ہی جاہل صرف قول یہ کیونکہ گا دوں انجام امور سب یہ بالترتیب پھر گا کرے نہیں جرأت کی کہنے ایسا ہرگز وہ ہے سلیقہ بھی معمولی کا گفتگو کو جس نہ صورت ایسی میں وقوع کے امور ان کہ چاہیے ہونا تو یہ لیے کے ذکری ترتیب کیونکہ اگر لیکن پڑے کرنا جراحی عمل کا تاخیر و تقدیم کر ال فرق میں ترتیب کہ ہوجائے پیدا امور تمام ان وقوع حصہ آخری کا اس اور ہے چاہتی طوالت اور امتداد کا زمانہ شئے کوئی فرق کوئی مطلق میں ذکری ترتیب مگر تھے مذکور بعد کے اس جو ہے آتا پیش بعد کے نزدیک کے عالم کسی سے ہوجانے متاخر کے وقوع اس میں شکل ایسی تو آتا نہیں ترتیبی وقوع کے قسم اس نہ اور ہوتا نہیں واقع نقص میں بالغت و فصاحت کی کالم بھی ہے۔ ہوتا تعلق کوئی ساتھ کے ذکری ترتیب کا کبھی وقوع کا موت طبعی کی )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت میں بحث زیر مسئلہ پس کہہ َکْیِّفَتَوُم ِّنْیِا تو یہاں ہے نہیں عالقہ کوئی مطلق سے ذکری ترتیب کا اس ہو ہوا بھی ہے حاصل کو وعدہ اس اولیت اور پہل میں وعدوں متعدد گئے دیئے کہ ہے گیا بتایا یہ کر مدت مقررہ یہ بھی جب بلکہ گے ہوں نہیں اسرائیل بنی یہود یہ سبب کا موت تمہاری کہ ہے جاتی کی منسوب جانب میری سے طور عام جو ہوگی پر طریق اس ہوگی پوری یہ تو ہی تب رہا ہی پہلے سے وعدوں تین باقی بہرحال وعدہ یہ اور )موت طبعی (یعنی موت کی )السالم (علیہ مسیح حضرت دشمن کہیں اگر اور آسکے میں وقوع وعدے تینوں جاتی رہ نہ ہی صورت کوئی لیے کے “ رْیِہ ْطَت ” اور “ ْعَفَر ” پھر تو ہوتے گئے بن سبب کا ” کی بحث زیر آیات اور پڑتی لینی آڑ کی تاویالت رکیک اور باطل طرح کی قادیانی مرزا اور سے “ یرِہ ْطَت ” اور روحانی رفع سے “ ْعَفَر ” اگر کہ لیے اس یہ اور جاتی۔ رہ کر ہو فنا “ روح
51.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 51/97 ارشاد کے قرآن کیونکہ ہوگا بےموقع اور بےمحل ًاقطع یہ تو جائیں لیے مراد کی پا روحانی یہ کو ٰیعیس حضرت تو ہیں رہے جا دیئے کو )السالم (علیہ ٰیعیس وعدے یہ مطابق کے مطمئن تم اور ہے غلط ہو ملعون اور کاذب تم کہ اعتقاد یہ کا یہود متعلق تمہارے کہ بتانا پیغمبر ٰیعیس حضرت کیونکہ تھا عبث ًاقطع ہوں واال کرنے روحانی رفع تمہارا میں کہ رہو مسیح حضرت کو یہود نیز ہے رکھتا حقیقت کیا افتراء کا یہود کہ ہیں جانتے اور ہیں خدا سے غیب عالم معاملہ یہ کیونکہ ہوسکتا نہیں پتہ کا روحانی رفع کے )السالم (علیہ تسلی برمحل کی )السالم (علیہ مسیح حضرت نہ ارشاد یہ کا برتر خدائے تو ہے متعلق ہے کا تطہیر وعدہ دوسرے حال یہی اور مند سود لیے کے یہود نہ اور تھا۔ ہوسکتا باعث کا دیئے چڑھا پر صلیب )السالم (علیہ مسیح حضرت ہاتھوں کے یہود قادیانی بقول جب بلکہ چنگا کر لگا کو )السالم (علیہ ٰیعیس مرہم کا شاگردوں بعد کے پالینے نعش تو گئے سے ان تھے گئے کئے مامور لیے کے ارشاد و ہدایت کی جن ہللا منجانب پھر اور کرلینے { بعد کے رہنے کرتے بسر زندگی میں گمنامی بھر زندگی اور جانے بھاگ کر بچا جان متعلق عقیدہ کے یہود نہ سے دینے کہہ } اَفُرْوَک َنْیِذَّلا َنِم َکُرِّھَطُمَو اور َّیَلِا َکُعِفَوَرا سمجھ یہ ہی انسان جانبدار غیر ایک نہ اور ہوگی تردید ہی کی )السالم (علیہ مسیح اور ہیں میں نرغے کے دشمنوں )السالم (علیہ ٰیعیس جبکہ پر موقع ایسے کہ گا سکے تطہیر اور روحانی رفع بعد کے موت اور ہوں پیغمبر کا خدا میں کہ ہے یقین یہ کو ان جبکہ دشمن ساتھ کے ان جبکہ ًاخصوص ہے فائدہ کیا کا وعدوں اور تسلیوں ان ہے شئے الزم مطابق کے تفسیر کی حق اہل جمہور تھا۔البتہ چاہتا کرنا وہ جو کرلیا کچھ سب وہ نے وعدے یہ کہ ہے ناطق طرح پوری ساتھ کے بالغت معجزانہ اپنی روح کی قرآنی آیات بالشبہ لیے کے اضطراب فطری اور برمحل وہ گئے کئے طرح جس سے مسیح حضرت و یہود کے وقت کا معرفت کی )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی اکرم نبی اور ہیں تسکین باعث یہ کی حق اہل جمہور مدلل۔ اور کافی لیے کے تردید کی باطلہ عقائد وراثتی کے ٰینصار کا جس ہے گئی کی کرکے اختیار “ کرنا پوری مدت مقررہ ” معنی کے “ یِّفْوُت ” تفسیر بطور بلکہ ہیں نہیں معنی حقیقی یہ کے یِّفْوُت لیکن ہے نکلتا موت بمعنی یِّفْوُت حاصل ‘ یفی ‘ ٰیوف ) MATTER( مادہ کا اس میں عرب لغت کیونکہ ہیں ہوئے مستعمل کے کنایہ جا لے میں لُّعتف باب جب کو اس اور ہیں آتے کے “ کرنے پورا ” معنی کے جس ہے ًئَاَوف شے کسی ” یا “ لینا پورا پورا کو شے کسی ” معنی کے اس تو ہیں بناتے “ توفی ” کر ِلْی َما ٍن اَلُف ْنِم ُتْیَّفَوَت ” ُلاَقَی اَّماَت اًیِفَوا ٗہَذَخَا یّٰفَوَت ” ہیں آتے “ کرلینا میں قبضہ سالم کو ہے۔ جاتا لیا لے پورا کو روح مطابق کے عقیدہ اسالمی بھی میں موت چونکہ اور “ ِہْیَلَع “ یِّفْوُت ” ہیں کرتے رہا محفوظ بحالہ معنی حقیقی میں جس کہ پر طور کے کنایہ لیے اس دوسرے پر موقع اگر لیکن ٗہَتَماَا ْیَا ٗہّٰللا ٗہاَّفَوَت ہیں کہتے اور ہے ہوتا مستعمل موت بمعنی یا ہوں جاسکتے لیے معنی حقیقی کے یِّفْوُت نظر پیش کے جن ہوں موجود ایسے دالئل ہللا ” فاعل خواہ پر مقام اس تو ہوں سکتے نہ ہی بن معنی دوسرے ماسوا کے حقیقی “ لینا لے پورا ” معنی حقیقی وہاں ہو نہ کیوں ہی “ انسان روح ذی ” مفعول اور “ ٰیتعال :آیت ًالمث گے ہوں مراد ہی جانوں ہے لیتا لے پورا تو ہللا ” } َہاِمَمَنا ِفْی ُمْتَت ْمَل ِتْیَّلَوا َہاِتْوَم َنْیِح َسْنُفَاْلا یَّفَیَتَو ُہّٰللَا { ہے لیتا لے پورا ہے آئی نہیں موت ابھی کو جن کو جانوں ان اور وقت کے موت کی ان کو صراحت یہ جانب ایک یعنی گیا بوال “ یِّفْوُت ” لفظ بھی لیے کے ُمْتَت ْمَل ِتْیَّلَوا “ میں نیند یہ جانب دوسری اور آئی نہیں موت کو جن ہیں )(نفوس جانیں وہ یہ کہ ہے رہی جا کی کا “ یِّفْوُت ” ساتھ کے ان میں حالت کی نیند ٰیتعال ہللا کہ ہے رہا جا کہا بصراحت بھی ہے مفعول انسانی نفس اور “ ِّفْیَتَوُم ” ہے فاعل ٰیتعال ہللا یہاں تو ہے کرتا معاملہ تو ورنہ ہیں نہیں صحیح “ موت بمعنی “ َیِّفْوُت ” سے صورت کسی بھی پھر مگر “ ّٰیَفَتَوُم” ْیِذَّلا َوُھ َو { :ًالمث یا گا جائے رہ کر ہو مہمل باہلل العیاذ ُمْتَت ْمَل ِتْیَّلَوا جملہ کا قرآن میں قبضہ یا لیتا لے پورا جو ہے )(ہللا وہی اور ” } ِرَھاَّنالِب ُتْمْحَرَج َما ُمَلْعَی َو ِلْیَّلاِب ْمُکّٰفَیَتَو “ میں۔ دن ہو کماتے تم جو ہے جانتا اور میں رات کو تم ہے کرلیتا ہللا فاعل کا توفی حاالنکہ سکتے بن نہیں موت بمعنی توفی طرح کسی بھی میں اس یہاں ” } َناُل ُسُر ُہْتَّفَوَت ُتْوَمْلا ُمُکَحَدَا َئَجآ اَذِا یّٰٓتَح { ًالمث یا ہیں نفوس انسانی مفعول اور
52.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 52/97 لیتے لے پورا یا ہیں کرلیتے قبض ‘ موت کو ایک کسی سے میں تم ہے آتی جب کہ تک بھی پھر لیکن ہے رہا ہو کا ہی موت ذکر میں “ )(فرشتے ہوئے بھیجے ہمارے کو اس ہیں یعنی گا آئے الزم تکرار بےفائدہ ورنہ سکتے بن نہیں کے موت معنی کے توفی میں ُہْتَّفَوَت معنی کے توفی اگر بھی میں ُہْتَّفَوَت اب تو آچکا ذکر کا “ موت ” لفظ جب میں ُتْوَمْلا ُمُکَحَدَا کسی سے میں تم ہے آتی جب کہ تک ”یہاں ہوگا یہ ترجمہ تو جائیں لیے کے ہی موت صورت اس ہے ظاہر اور “ )(فرشتے ہوئے بھیجے ہمارے ہیں آتے لے موت ‘ موت کو ایک کے روزمرہ کیا تو معجز اور وبلیغ فصیح کالم اور ہے بےفائدہ ذکر کا موت لفظ دوبارہ میں “ توفی ” اگر البتہ ہے ہوجاتا الطائل اور پست بھی سے لحاظ کے چال بول عام اور محاورہ قرآن تو جائیں لیے مراد لینا لے پورا کو اس یا کرنا قبضہ پر شے کسی معنی حقیقی کے ایک ہر اب گا۔ رہے قائم پر اعجاز حد اپنے بھی کالم اور ہوگا ادا ٹھیک ٹھیک مقصد کا عزیز ‘ ہیں کے موت معنی حقیقی کے “ توفی ” کہ کرنا ٰیدعو یہ کہ ہے کرسکتا غور عاقل اس ہے۔بہرحال درست اور صحیح تک کہاں روح ذی مفعول اور ہو خدا فاعل جبکہ ًاخصوص معمول ہی ایک کا دونوں اور ہونا بیان ساتھ ساتھ کا دونوں “ توفی ” اور “ موت ” پر موقع یہ کہ ہے دلیل واضح لیے کے بات اس تفاوت و فرق میں معنی کے دونوں پھر اور ہونا (بمعنی جمل و ابل )شیر (بمعنی اسد و لیث طرح جس اور ہیں نہیں الفاظ مرادف دونوں جمع (بمعنی ‘کسب شمل ‘ جمع اور کا اسماء وغیرہ )مچھلی (بمعنی حوت و نون )اونٹ سغب ‘ جوع اور )پیاس (بمعنی ظماء ‘ عطش اور )ٹھہرنا (بمعنی مکث لبث اور )ہونا ان بلکہ ہے نہیں معاملہ وہ درمیان کے توفی اور موت ‘ ہے حال کا مصادر ) بھوک (بمعنی :آیت ًالمث اور ہے فرق نمایاں میں معانی حقیقی کے گھروں کو )(عورتوں ان رکھو روکے پس ” } ُتْوَمْلا َّنُھّٰفَیَتَو یّٰتَح ِتُبُیْوْلا یِف َّنُھْوُکِسْمَفَا { ہے گیا دیا قرار فاعل کا توفی اور فعل کو موت میں “ موت کو ان لے لے کہ تک یہاں میں کیونکہ ہوتے نہیں ایک فعل اور فاعل کہ ہے مسئلہ یہ کا )(گرامر نحو کی زبان ایک ہر اور واضح بخوبی یہ سے اس تو کرتا ہوا نہیں فاعل ذات عین ہے ہوتا صادر سے فاعل فعل جائز اطالق کا اس ورنہ ہیں نہیں ہرگز ہرگز “ موت ” معنی حقیقی کے توفی کہ ہے ہوجاتا : آیت کی بقرہ سورة عالوہ کے مقامات تین ان ہوسکتا۔ نہیں “ ہے۔ کمایا نے اس جو کو نفس ہر گا جائے دیا پورا پھر ” } ْتَب َسَک اَّم ٍسْفَن ُکُّل یّٰفَوُت َّمُث { جو کو نفس ہر گا جائے دیا پورا اور ” } ْتَلِمَع اَّم ٍسْفَن ُکُّل یّٰفَوُت َو { آیت کی نحل سورة اور “ ہے۔ کمایا نے اس کچھ بمعنی توفی یہاں تاہم ہے انسانی نفس مفعول اور ٰیتعال ہللا فاعل کا توفی بھی میں امر اس باوجود میں آیات ان غرض ہے۔ بات صاف اور واضح بہت یہ اور سکتے بن نہیں موت پھر ہے “ انسانی نفس یا انسان ” مفعول کا اس اور ٰیتعال ہللا فاعل کا “ توفی ” کہ کے دلیل کہ لیے اس خواہ ہوسکتے نہیں “ معنی کے موت ” تفسیر و لغت اہل باجماع بھی معنی حقیقی کے توفی پر مقام اس کہ لیے اس یا اور ہے خالف کے معنی اس قرینہ اور نہیں ہی بن طرح کسی “ معنی کے موت ” ماسوا کے )کرلینا قبض یا لینا لے (پورا کہ یہ یا ہیں الفاظ مرادف “ موت ” اور “ توفی ” کہ ٰیدعو یہ کا قادیانی مرزائے تو سکتے۔ موت صرف جگہ اس تو ہو انسانی نفس یا انسان مفعول اور ٰیتعال ہللا اگر فاعل کا توفی ہیں۔ خالف ًاقطع کے قرآنی نصوص اور باطل دعوے دونوں گے ہوں معنی کے ہی توفی اور ہیں نہیں الفاظ مرادف ًایقین موت اور توفی } َنْیِدِق ٰص ْنُتْمُک ْنِا ْمُکَناْرَھُب اْوُتاَھ ْلُق { سے عزیز قرآن ہیں۔ “ کرلینا قبض یا لینا لے پورا ” بلکہ نہیں “ موت ” معنی حقیقی کے ہللا فاعل کا موت بھی جگہ ایک کسی میں قرآن پورے کہ ہے یہ دلیل واضح ایک کی اس متعدد فاعل کا توفی برعکس کے اس مگر گیا دیا نہیں قرار کو کسی اور سوا کے ٰیتعال ُمُھّٰفَوَت َنْیِذَّلا َّنِا { : ہے میں نساء سورة ًالمث ہے ٹھہرایا کو )(فرشتوں مالئکہ پر مقامات سورة اور “ لیا۔ لے پورا پورا یا کرلیا قبض نے فرشتوں کو جن لوگ وہ بیشک ” } ُۃَکِئ ٰٓل َمْلا ہوئے بھیجے ہمارے کو اس لیا لے پورا یا کرلیا قبض ” } َناُل ُسُر ُہْتَّفَوَت { : ہے میں انعام کہہ )محمد (اے ” } ِتْوَمْلا ُکَلَّم ْمُکّٰفَیَتَو ْلُق { : ہے میں سجدہ سورة اور “ نے )(فرشتوں یَّفَیَتَو ْذِا یٰٓرَت ْوَل َو { : ہے میں انفال سورة اور “ فرشتہ کا موت کو تم گا کرے قبض دیجئے ان فرشتے ہیں کرتے قبض کہ وقت جس دیکھے تو کہ کاش اور ” } ُۃَکِئ ٰٓل َمْلا واَفُرَک َنْیِذَّلا
53.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 53/97 “ ہے۔ کیا کفر نے جنہوں کو )روحوں (کی لوگوں بھی پھر لیکن ہے ہوا استعمال موت بمعنی “ ًاکنایت ” توفی اگرچہ پر مقامات تمام ان تھی رہی ہو جانب کی الموت ملک اور مالئکہ بجائے کی ٰیتعال ہللا نسبت کی اس چونکہ صرف یہ اور گیا کیا نہیں استعمال “ موت ” لفظ اور گیا کیا اطالق کا “ توفی ” لفظ لیے اس قبض کا انسانی روح یعنی کا انسان وقت کے موت اور ہے فعل کا ہللا تو موت کہ لیے اس مقصود بتانا یہ میں مقامات جن تو ہے عمل کا فرشتوں یہ لینا لے پورا پورا کا اس اور کرنا کی اس تو ہے فرماتا صادر حکم کا موت اور کردیتا پوری اجل کی کسی خدا جب کہ ہے ” بلکہ تھا نہیں موزوں ہرگز اطالق کا موت میں مقامات ان ہے آتی پیش کیا عمل صورت قرآنی درمیان کے توفی اور موت تھا۔ کرسکتا ادا کو حقیقت اس ہی لفظ کا “ توفی “ موت ” جگہ جگہ نے عزیز قرآن کہ ہے بھی یہ فرق بڑا بہت ایک نظر پیش کے اطالقات “ حیات ” بھی پر مقام ایک کسی کو “ توفی ” لیکن ہے ٹھہرایا مقابل تو کو “ حیات ” اور } َۃَحَیاْلَوا ْوَتَمْلا َقَلَخ ْیِذَّلا { : ہے میں ملک سورة ًالمث دیا۔ نہیں قرار مقابل کا { : ہے میں فرقان سورة اور “ کو زندگی اور کو موت کیا پیدا نے جس ہے ذات وہ ہی خدا ” } ًۃوٰیَح اَل َّو اًتْوَم َنْوُکِلْمَی اَلَو مشتقات کے دونوں ان طرح اسی اور “ کے حیات نہ اور کے موت ہیں مالک نہیں وہ اور ” } یٰتْوَمْلا ِیْحُت ْیَفَک { - ًالمث ہے ٹھہرایا مقابل کو } َھاِتْوَم َدْعَب ْرَضَاْلا ِیُیْح َو { - } َھاِتْوَم َدْعَب ْرَضَاْلا ِہِب َیاْحَفَا { - } ِہّٰللا ِنْذِاِب یٰتْوَمْلا ِیْحُا َو { - } یٰتْوَمْلا ِیُیْح َوُہَو { - کہ ہے موجود وسعت یہ چونکہ میں معنی حقیقی کے توفی البتہ )ًراْیِثَک َکِلاَذ َرْیِغ(َو موقع حسب بھی پر اس کنایہ بطریق ہے حقیقت جو کی موت سے نظر نقطہ کے اسالم کو کسی میں اس اور ٹھہرا جائز بھی اطالق اور استعمال یہ تو ہے ہوسکتا اطالق کا اس کہ ہوا یہ حاصل کا توضیح و تشریح مفصل اس کی معنی کے “ توفی ” نہیں۔ اختالف بھی حقیقی کے دونوں موت اور توفی کہ ہیں شاہد کے اس دونوں اطالقات قرآنی اور عرب لغت الفاظ مرادف دونوں اور ہے فرق واضح بھی میں اطالقات کے دونوں اور بھی میں معنی ‘ ہو نہ کیوں ہی انسانی روح اور انسان مفعول اور ٰیتعال ہللا فاعل کا توفی خواہ ہیں نہیں ” بطریق پر جس ہے نام کا حقیقت ایسی ایک موت چونکہ سے نظر نقطہ اسالمی مگر محل اور قرینہ پر مقام جس پس ہے جاسکتا کیا اطالق کا توفی “ کنایہ ” اور “ توسع تو چاہئیں جانے لیے معنی کے موت ًاکنایت کر بول توفی وہاں کہ ہوگا یہ تقاضا کا استعمال محل اور قرینہ ‘ دلیل اگر برعکس کے اس لیکن گے ہوں مراد معنی کے “ موت ” جگہ اس کو ہی ان اور گے ہوں مراد معنی وہی جگہ اس تو ہے متقاضی کا معنی حقیقی استعمال سکتے بن خواہ اور ہوں سکتے بن نہ ًاقطع وہاں معنی کنائی خواہ گا جائے سمجھا مقدم وہ یہی ہوں۔ دیتے قرار ممنوع یا مرجوح کو اس دالئل دوسرے اور استعمال محل مگر ہوں یہ نے ابوالبقاء امام مشہور کے لغت بعد کے کرنے مطالعہ غائر نظر بہ کو جس ہے حقیقت مگر ہیں جاتے سمجھے کے موت اگرچہ معنی کے توفی میں عوام کہ ہے کی تصریح ( : ہیں فرماتے ‘ ہیں “ کرنا قبض ” اور “ لینا لے پورا ” معنی کے اس نزدیک کے خواص ُلَماْعِت ْسِا ِہْیَلَعَو ِّقَحْلا ُذَخَاَو ُئاْیَفِت ْسَواِاْل ِۃَّماَعْلا ُلَماْعِت ْسِا ِہْیَلَعَو ِحْوُّرال ُضْبَقَو ُۃَتِاْلَماَا ِّفْیَوَّتلَا( ہوں مراد معنی حقیقی اگر میں َکْیِّفَتَوُم ِّنْیِا آیت کی مائدہ سورة الحاصل )) ِئاَغَلُبْلا قادیانی مرزائے بھی تب ہیں کئے اختیار نے لغت و تفسیر علمائے القدر جلیل کہ جیسا حضرت سے جانب کی ٰیتعال ہللا کہ ہوگا مطلب یہ کا بحث زیر آیات الرغم علی کے لینے لے پورا پورا کو تجھ میں ! ٰیعیس اے ” گئی دی تسلی یہ کو )السالم (علیہ ٰیعیس (مالء جانب اپنی کو تجھ میں کہ ہوگی یہ صورت اور ہوں واال کرنے قبض کو تجھ یا ہوں واال رکھنے پاک سے ہاتھوں ناپاک کے دشمنوں کو تجھ اور ہوں واال اٹھالینے )جانب کی ٰیاعل لیا لے پورا یا گا جائے کرلیا قبض کو تجھ کہ بتایا یہ میں شروع جب “یعنی الخ ہوں واال مختلف کی لینے لے پورا اور کرنے قبض کہ ہوا پیدا سوال یہ پر طور قدرتی تو گا جائے اور جائے لیا لے پورا اور جائے کرلیا قبض کو روح اور آجائے موت کہ یہ ایک ًالمث ہیں شکلیں
54.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 54/97 کونسی یہاں تو جائے لیا اٹھا )جانب (اپنی جانب کی ٰیاعل مالئے زندہ کہ یہ دوسری شکل دوسری کہ گیا کہا لیے کے کرنے واضح اور صاف کو اس پس گی آئے پیش صورت ذریعہ کے تدبیر معجزانہ میں مقابلہ کے سازشوں کی دشمنوں تاکہ گی جائے کی اختیار َلْیِئَرآ ْسِا ْٓیِنَب ُتْفَفَک ْذِا َو { اور ہو پورا } َنْیِرِک ٰمْلا َخْیُر ُہّٰللا َو ُہّٰللا َرَکَم َو اُرْوَکَم َو { ہیٰلا وعدہ نکلے یہ نتیجہ پر ہوجانے “ رفع ” اور “ توفی ” اور ہوجائے مظاہرہ الشان عظیم کا } َکْنَع َو { ربانی وعدہ طرح اس اور ہوجائے محفوظ طرح ہر سے ہاتھ کے کافروں اقدس ذات کہ } اَفُرْوَک َنْیِذَّلا َنِم َکُرِّھَطُم حال حقیقت ترددیا اور شک ذریعہ کے باطل تاویل اور ہوجائے صحیح کے تاویل کسی بغیر بجائے کے کرنے حاصل علم سے قرآن جو جائے رہ حصہ کا قلوب ہی ان صرف انکار سے خالف کے مفہوم و منطوق کے قرآن پھر اور بناتے راہنما کو ظنون و اوہام ذاتی اپنے اول وہ جو ہیں چاہتے کہالنا وہ سے اس اور ہیں چاہتے دینا رکھ زبان اپنی میں منہ کے اس ِہْیِتْاَی اَل { : ہیں رہتے غافل سے صفت اس کی عزیز قرآن وہ مگر چاہتا نہیں کہنا خود نہ اور سے آگے کے قرآن اس ” } ٍدْیِمَح ٍمْیِکَح ْنِّم ْیٌلِزَتْن ٖہِفْلَخ ْنِم اَلَو ِہْیَیَد ِنْیَب مْنِم ُلِطَباْلا ہے ہوا اتارا یہ سکتا پھٹک نہیں باطل )بھی سے جانب (کسی سے پیچھے کے اس کو پنجاب نبی مت “ ہے۔ والی خوبیوں ‘ والی حکمت جو سے جانب کی ہستی ایسی کے خسران اور ہوئی ناکامی میں معنوی تحریف متعلق سے نصوص ان کی عزیز قرآن جب اطالعات کی صحیحہ احادیث ‘ اطالقات کے عزیز قرآن کر ہو مجبور تو آیا نہ ہاتھ کچھ سوا کا لینے پناہ میں آغوش کی “ فلسفہ ” کر ڈال پشت پس کو فیصلہ کے امت اجماع اور )السالم (علیہ مسیح حضرت اگر کہ کی سرائی ہرزہ یہ میں تصانیف اپنی اور کیا ارادہ جسم مادی کوئی کہ لیے اس ہے خالف کے عقل یہ تو گئے لیے اٹھا زندہ پر آسمان رہے زندہ کیسے مدت طویل اتنی تو جاتا بھی کر اور کرسکتا نہیں پرواز تک ٰیاعل مالئے قدرت ؟ ہے آسکتی میں عمل کیسے صورت کی کرنے حاجت رفع اور پینے کھانے وہاں اور کی قادیانی شاید تو ہوسکتی ختم اگر بات کر کہہ عقل خالف کو افعال معجزانہ کے ہیٰلا شکل بہ جدید فلسفہ آج لیکن ‘ جاسکتی سمجھی اعتناء درخود موشگافی فلسفیانہ یہ بلکہ نہیں ) THEORIES( نظریات وہاں ہے چکا پہنچ تک حد جس کرکے ترقی سائنس کو موانعات کے فضا کہ ہیں رہے کر ثابت کو بات اس ) PRACTICLES( عملیات اور مشاہدات جسم مادی تو جائے آیا لے میں ) CONTROL( ضبط کو ان یا جائے دیا ہٹا آہستہ آہستہ اگر جدوجہد جو لیے کے اس اور گا ہوجائے العمل ممکن پہنچنا تک بلندی معلوم غیر لیے کے ) SCIENTIFIC( سائنٹفک اور ہیں رہے کر ہی کر سمجھ العمل ممکن وہ ہیں رہے کر وہ اور ہے جاسکتا ذریعہ کے جہاز ہوائی اوپر میلوں انسان کا آج اگر پس ہیں رہے کر پر طریقہ جسم کے اس وقت کرتے باتیں سے انسان مادی سے میل ہزاروں ذریعہ کے ویژن ٹیلی ہزاروں کرکے کنٹرول پر شعاعوں اور لہروں کی آفتاب اور ہوا اور ہے سکتا لے تصویر کی واقعات ہوئے گزرے کے برس ہزاروں اور ہے کرسکتا نشر ریڈیو بذریعہ کو آواز اپنی تک میل تو ہے رہا ہو وقت اس کچھ سب وہ گویا ہے سکتا سنا طرح اس آج کرکے نظم میں فضا کو مادی وہ کہ کہنا یہ تفلسف ازراہ متعلق کے کائنات خالق بلکہ خالق کے انسان اس کیا اور تو نہیں کرنا مہر پر غباوت اپنی ہے جاسکتا لے کیسے تک ٰیاعل مالئے کو جسم کو طبعی عمر سے طریقوں مختلف کے صحت حفظان اور غذاؤں اور ادویات اگر اور ؟ ہے نتائج و اثرات کے غذاؤں مختلف اگر نیز ہے رہا جا کیا اور ہے جاسکتا کیا گنا تین اور دوگنا بہت سے کسی اور بنے زیادہ فضلہ سے کسی کہ ہے ہوتا اور ہے ہوسکتا فرق یہ میں اور ہوجائے تحلیل میں شکل کی خون خالص وہ بلکہ بنے نہ ًاقطع سے کسی اور بنے کم ہفتوں میں دنیا اس آج بڑھاکر قوت روحانی ذریعہ کے مجاہدوں اور ریاضتوں اپنی انسان اگر کوششوں کامیاب ان کی انسانوں مجبور تو ہے سکتا رہ زندہ ونوش خور بغیر مہینوں بلکہ (علیہ مسیح حضرت جانب کی سماوات و ارض خالق باوجود کے سمجھنے صحیح کو کے ان نظر پیش کے ان یا کرنا پیش شکوک باال مسطورہ پر آسمانی رفعت کی )السالم تو نہیں جہالت اگر کرنا انکار کا رہنے زندہ وہاں اور پہنچنے تک ٰیاعل مالئے عنصری بجسد سے قرآن علوم اور ناآشنا سے حقائق علمی شخص جو کہ ہے یہ حقیقت ؟ ہے کیا اور کرنے فرق درمیان کے باتوں دونوں ان “ عقل ماورائے ” اور “ عقل خالف ” وہ ہے محروم
55.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 55/97 ہے۔ رہتا کرتا پیش کر کہہ عقل خالف کو عقل ماورائے ہمیشہ لیے اس اور ہے عاجز سے ” انسان کہ یہ ایک ہیں باتیں ہی دو صرف سرچشمہ کا گمراہیوں فکری کی انسان دراصل اور لے مان بوجھے بےسمجھے بات ایک ہر کہ ہوجائے بےبہرہ درجہ اس سے “ عقل سے عقل بھی حقیقت جو کہ یہ بات دوسری لگے چلنے پر راہ ایک ہر طرح کی اندھوں یا سمجھ کی اس کو شئے جس کہ کرلے یقین یہ اور دے جھٹال ًافور کو اس آئے نظر باالتر اور رکھتی نہیں وجود ًاحقیقت شئے وہ کرسکتی نہیں ادراک سمجھ کی انسانوں چند نزدیک کے عقالء تمام کے دور ایک جو ہیں وہ باتیں سی بہت حاالنکہ ہے الئق کے تکذیب سے کرنے ادراک کا باتوں ان عقلیں کی ان کہ لیے اس ہیں جاتی سمجھی عقل ماورائے الوقوع ممکن صرف نہ کر جا میں دور دوسرے کے ترقی علمی باتیں وہی مگر رہیں عاجز ایک کسی جو شئے وہ ایک ہر اگر پس ہیں آجاتی میں تجربہ اور مشاہدہ بلکہ پاتی قرار خالف ” تھی عقل ماورائے نزدیک کے عقل اہل تمام کے دور کے اس یا جماعت یا انسان ہوئی ممکن لیے کے عقل کیوں میں دور دوسرے وہ تو تھی مستحق کی کہالنے “ عقل ‘ ظن ‘ جہل ” کو حالت پہلی اس کی گمراہی نے عزیز قرآن آگئی۔ میں مشاہدہ بلکہ حالتیں دونوں یہ اور ہے کہا “ الحاد ” کو حالت دوسری اور ہے کیا تعبیر سے “ اٹکل ‘ خرص درمیان کے عقل ماورائے اور عقل خالف ہیں ہوتی نتیجہ کا محرومی سے “ عرفان و علم ” و علم متعلق کے ہوسکنے نہ کے جس ہے ہوسکتی وہ بات عقل خالف کہ ہے فرق یہ یقین علم اور وبرہان دلیل ‘ عقل اور ہوں موجود وبراہین دالئل مثبت میں روشنی کی یقین کو بات اس عقل ماورائے اور ہے ذاتی محال اور ناممکن ہونا ایسا کہ ہو کرتی ثابت یہ سے کا عقل انسانی چونکہ کہ ہے فیصلہ یہ کا ہی عقل متعلق کے باتوں بعض کہ ہیں کہتے ذا لٰہ ہوجاتی نہیں ختم پر حد اسی حقیقت اور بڑھتا نہیں آگے سے حد خاص ایک ادراک ذریعہ کے یقین و علم پر انکار کے اس مگر ہو آسکتی نہ میں احاطہ کے عقل جو بات وہ ہر عقل ماورائے بلکہ نہیں عقل خالف کو بات ایسی تو ہو جاسکتی دی بھی دلیل و برہان چیزوں جن کہ ہے نتیجہ یہ کا ہی امتیاز درمیان کے عقل ماورائے اور عقل خالف گے۔ کہیں خالف نے بینش و دانش اہل کو ان رہا جاتا کہا عقل خالف پر طور عام میں دنیا کی کل کو عقل یہی کل اور دکھایا کر موجود بلکہ ممکن میں دور موجودہ ہوئے سمجھتے نہ عقل نہ اور گی السکے میں عقل احاطہ کو باتوں عقل ماورائے سی بہت کی آج ترقی کی )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت شخص جو پس گا۔ رہے جاری تک کب سلسلہ یہ معلوم انکار کا اس فلسفہ عقلی کہ ہے منکر لیے اس کا السماء الی رفع عنصری بجسد کے اٹکل ‘ ظن ‘ جہل محض جگہ کی یقین و علم اور دلیل و برہان ٰیدعو یہ کا اس تو ہے کرتا ًالمث باتوں عقل ماورائے تمام کی غیب عالم پھر لیے کے حضرات ایسے اور ہے ماتحت کے کر کہہ عقل خالف کو باتوں تمام وغیرہ معجزہ ‘ معاد ‘ حشر ‘ جہنم ‘ جنت ‘ فرشتہ ‘ وحی مکذبین صاف صاف متعلق کے حق منکرین جیسے ہی ان نے عزیز قرآن چاہیے۔ دینا جھٹال : ہے کردیا تجویز لقب کا ْیَفَک ْرُظْناَف ْمِھِلْبَق ْنِم َنْیِذَّلا َبَّذَک َکِل ٰذَک ٗہ ُلْیِو ْاَت ْمِھِتْاَی اَّمَل َو ٖہِمْلِعِب اْوُطْیِحُی ْمَل َماِب اُبْوَّذَک ْلَب { ہے یہ حقیقت اصل )ہیں کہتے کفار (جیسا ہے نہیں بات یہ نہیں ” } َنْیِلِمّٰظال ُۃاِقَبَع َناَک پیش ابھی نتیجہ کا بات جس اور کرسکے نہ احاطہ سے علم اپنے یہ پر بات جس کہ جو تھا جھٹالیا بھی نے انہوں طرح اسی ٹھیک ہوگئے آمادہ پر جھٹالنے کے اس آیا نہیں َماِب اُبْوَّذَک { میں آیت “ ہے۔ ہوچکا انجام کیسا کا ظلم دیکھو تو ہیں چکے گزر پہلے سے ان انسان یعنی ہے گیا کیا اعالن کا حقیقت جس کر کہہ )١٠/٣٩ (یونس } ٖہِمْلِعِب اْوُطْیِحُی ْمَل ہی بغیر کے یقین علم اور وبرہان دلیل کو اس کرسکے نہ ادراک کا بات جس عقل کی کی اس ہے باالتر سے سمجھ ہماری بات یہ کہ کردینا انکار پر بنا اس صرف اور دینا جھٹال الی رفع ” کے )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت جو ہے انکار وہ کا قادیانی مرزائے نظیر ایک بھی موشگافیاں فلسفیانہ کی الہوری مسٹر خلیفہ کے اس اور ہے متعلق سے “ السماء متنبی کر سمجھ کمزور بھی کو حربہ اس ہیں۔ شعبہ کا جحود و انکار بےدلیل اسی سے مقام کسی کے قرآن عالوہ کے موقع اس کہ کیا ٰیدعو یہ اور بدال رخ پھر نے پنجاب لیے معنی کوئی ماسوا کے “ روحانی رفع ” سے “ رفع ” کہ جاسکتا کیا نہیں ثابت یہ بھی پر مقام اس ذا لٰہ ہو گئی کی نسبت کی رفع جانب کی شئے مادی یعنی ہیں گئے
56.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 56/97 متنبی مگر ہے۔ خالف کے استعمال و اطالق کے قرآن لینا معنی عالوہ کے روحانی رفع سے استعمال محل کے لفظ کسی اگر کیونکہ ہے غلط ہی ًابنیاد تو اول ٰیدعو یہ کا کاذب ” کہ کرنا پیدا سوال یہ تب ہیں متعین معنی ایک سے نصوص دوسری کی ہی قرآن یا حد “ نہیں تسلیم قابل ہوگا نہیں ثابت تک جب پر مقام کسی دوسرے استعمال یہی لفظ اس میں عرب لغت کہ جائے کردیا نہ ثابت یہ سے دلیل تاوقتیکہ ہے نادانی کی درجہ کے قسم اس پر طور کے حجت اتمام اگر اور نہیں ہی جائز استعمال میں معنی اس کا یہ کی النازعات سورة تو جائے ہی سمجھا رد الئق یا جواب قابل کو دعوے یا سوال لچر افراد (اے ” } َہاَکْم َس َعَفَر ۔ َبَناَہا ُئَمآ َّسال ِمَا اًقْلَخ ُّد َشَا ُتْمْنَا َئ { : ہے وافی و کافی آیت آسمان یا ہو بوجھل اور بھاری زیادہ تم کیا سے لحاظ کے پیدائش اور خلقت )انسانی نسل “ کیا۔ بلند کو جسم بوجھل کے اس اور بنایا نے خدا کو جس سورج میں فضا دور میل کروڑوں اور الکھوں سے ہم یہ ہے موقوف کیا ہی پر آسمان ایک اور سب کے سب یہ کیا ہے کی عطا رفعت اور بلندی جو نے برتر خدائے کو ستاروں چاند ان نے سماوات و ارض خالق جس تو ہیں ًایقین اور ہیں اگر اور ؟ ہیں نہیں اجسام مادی تو دے کر آسمانی رفع کا مخلوق انسانی ایک اگر وہ ہے کیا آسمانی رفع کا اجسام مادی ہے کیا اور تو نہیں جہالت اور غباوت کہنا خالف کے استعمال و اطالق کے قرآن کو اس امت اجماع اور احادیث صحیح ‘ نصوص کی عزیز قرآن لیے کے اس تو ہے درکار ثبوت البتہ ؟ ہے ہوسکتا کیا اور ثبوت موثق زیادہ سے باتیں جذباتی چند اور سماوی رفع کا )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت میں پیروی کی ٰینصار و یہود خالف کے جمہور میں مسئلہ اس اگرچہ نے قادیانی مرزائے میں قرآن تفسیر بھی نے الہوری مسٹر اور ہے کی ناکام ٔیسع کافی کی مطالب تحریف نہیں مطمئن کو ان چور کا دل تاہم کی مدد کی مقتداء اپنے ذریعہ کے معنوی تحریف تو کبھی اور بنایا راہ دلیل کو جذبات جگہ کی وبراہین دالئل نے انہوں لیے اس اور کرسکا ان وہ ہیں کرتے تسلیم زندہ پر آسمان کو )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت لوگ جو کہ کہا یہ ہللا (صلی آپ کہ ہیں دیتے فضیلت پر )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی محمد االنبیاء خاتم کو سخت تو یہ ‘ پر آسمان )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت اور ہوں پر زمین )وسلم وآلہ علیہ قیمت و قدر کیا کی جذبہ لوچ اور لچر اس میں حلقوں علمی لیکن ہے۔ بات کی توہین فرشتے اگرچہ کہ ہے آشنا بخوبی سے حقیقت اس انسان مذہبی ہر جبکہ ہے ہوسکتی مقابلہ کے سب ان تاہم ہیں پذیر سکونت اور موجود میں ٰیاعل مالء حیات بقید ہمیشہ مقابلہ کے )السالم (علیہما میکائیل و جبرائیل ًالمث ہستیوں القدر جلیل کی ان بلکہ میں نبی وہ حاالنکہ ہے عالی اور بلند بہت رتبہ کا نبی مفضول سے مفضول ایک بھی میں مقام تر بلند بھی کے ٰیاعل مالئے قیام کا )السالم (علیہ جبرائیل اور ہے رہا مقیم پر زمین کی جس کہ جلیل مرتبہ کا )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی االنبیاء خاتم جائیکہ چہ ہے رہتا پر (صلی اکرم نبی ازیں عالوہ ہے مضمر میں “ مختصر قصہ توئی بزرگ خدا از بعد ” عظمت وہ ہے پایا تقرب جو کا } یٰنْدَا ْوَا ِنْی َسْوَق اَبَق { میں معراج شب نے )وسلم وآلہ علیہ ہللا حضرت لیے اس ‘ کو رسول اور نبی کسی نہ اور ہوا حاصل کو فرشتہ اور ملک کسی نہ ٰیاسر جو سکتا نہیں ہی پہنچ کو “ رفعت ” اس آسمانی رفع کا )السالم (علیہ مسیح درمیان کے مفضول و فاضل بہرحال ہوئی۔ حاصل کو )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی آپ میں افضل ” اس ًاخصوص ہے نہیں فضیلت معیار قیام کا ٰیاعل مالئے تنہا لیے کے مراتب فرق کی جس اور ہو باجود وجود کا اس خود معیار کا فضیلت کی جس میں مقابلہ کے “ ہستی مقام ” تو سے ہستی ایسی ‘ ہو کماالت مرجع اور فضائل منبع ہی خود صفات قدسی ذات : گرامی ذات وہ کہ نہ ہے پاتا مرتبہ و عزت “ داری بیضا ید ٰیعیس دم یوسف حسن داری تنہا تو دارند ہمہ خوباں آنچہ العیاذ ” وہ ہے کرتا تسلیم زندہ کو )السالم (علیہ ٰیعیس شخص جو کہ کہا یہ کبھی اور حیات بقید وہ کہ ہے کرتا توہین لیے اس کی )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی اکرم نبی “ باہلل
57.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 57/97 حاصل برتری پر اقدس ذات پھر کو )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت طرح اس اور رہے نہیں پر بنیاد غلط سر سرتا بلکہ ہے بےمعنی اور بےکیف زیادہ بھی سے پہلے مقولہ یہ ہوگئی۔ و فاضل بھی “ زندگی ” کہ ہے سکتا کہہ ہوش ذی اور عقل اہل کون کہ لیے اس ‘ قائم فضائل و کماالت ذاتی قیمت کی زندگی کہ لیے اس ہے فضیلت معیار درمیان کے مفضول نظر قطع سے بحث اس کی “ فضیلت معیار ” پھر ہے زندگی وہ کہ لیے اس نہ ہے سے النا میں درمیان کو فضیلت مسئلہ کے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی اکرم نبی پر موقع اس آپ پر کائنات تمام نے نصوص کی عزیز قرآن جبکہ کہ ہے بےمحل ًاقطع بھی لیے اس )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی آپ اور کردیا ثابت کو برتری کی )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی کی انسان بھی کسی تو کردی تصدیق کی نصوص ان کر بن شہادت زندہ نے سیرت کی الئی نہیں میں مقابلہ کے اس “ فضیلت وجہ ” کوئی اور یا “ آسمانی رفع ” یا “ زندگی ” کو ہستی کماالت جامع اسی “ کلی فضل ” میں صورت و حالت ایک ہر اور ‘ جاسکتی گا۔ رہے حاصل تفسیر کی } ْمُھَل َہِّب ُش ْنِکٰلَو { کی نساء سورة کہ ہے جاتی رہ باقی بات ایک اب پہلے سے کرنے ختم کو مسئلہ اس جو تھا اشتباہ کیا وہ یعنی ؟ ہے تفسیر کیا کی } ْمُھَل َہّْب ُش ْنِکٰلَو { میں آیت باال مسطورہ میں عمران آل اور بھی پر مقام اس جواب کا اس عزیز قرآن تو گیا کردیا طاری پر یہودیوں وعدہ کو اس میں عمران آل سورة ہے “ ِئَما َّسال یَلِا َعَفَر ” وہ اور ہے دیتا ہی ایک بھی میں صورت کی وعدہ ایفائے میں نساء سورة اور “ َّیَلِا َکُعِفَوَرا ” کیا ظاہر میں شکل کی منکرین جب وقت کے محاصرہ کہ ہے نکلتا یہ حاصل کا جس “ ِہْیَلِا ُہّٰللا ُہَعَفَّر ْلَب ” یعنی تو دیکھا یہ پایا نہ کو )السالم (علیہ ٰیعیس وہاں تو گھسے اندر لیے کے گرفتاری حق اس اور آئی پیش کیا حال صورت کہ سکے لگا نہ اندازہ طرح کسی اور ہوئے حیران سخت َنْیِذَّلا َّنِا { : ہے کہتا قرآن بعد کے اس گئے رہ کر بن مصداق کا “ ْمُھَل َہِّب ُش ْنِکٰلَو ” طرح اشتباہ یہ تو } اْیًنِقَی ُہْوُلَتَق َما َو ِّن َّظال َعَباِّتا اَّلِا ٍمْلِع ْنِم ٖہِب ْمُھَل َما ُہْنِّم ٍّک َش ِفْیَل ِہْیِف اْوُفَلَتْخا باتیں دو سے اس اور ہے گیا کیا بیان نقشہ کا اس آئی پیش حال صورت جو بعد کے تھے پڑگئے میں شک طرح اس میں سلسلہ اس یہود کہ یہ ایک : ہیں ہوتی ظاہر بصراحت گئی رہ نہیں باقی صورت کوئی کی یقین و علم پاس کے ان ماسوا کے اٹکل اور گمان کہ ” نے انہوں کہ کیا مشہور یہ کرکے قتل کو کسی نے انہوں کہ یہ بات دوسری اور تھی بیان حال کا یہود کے محمدی نبوت زمانہ آیت پھر یا کردیا قتل کو “ )السالم (علیہ مسیح )السالم (علیہ مسیح حضرت جو بعد کے اعالنات واضح ان کے عزیز قرآن پس ہے۔ رہی کر سطور ساتھ کے تفصیل کو جن اور ہیں گئے کئے میں سلسلہ کے صیانت و حفاظت کی و )(رض صحابہ آثار تعلق کا تفصیالت جزئی کی باتوں دونوں ان ہے گیا کردیا بیان میں باال کو آثار و روایات ہی ان صرف میں سلسلہ اس اور ہے جاتا رہ پر روایات تاریخی اور عنہ رضوا تصریحات بنیادی ان ساتھ ساتھ کے روایت صحت اپنی جو گا جائے سمجھا تسلیم قابل ُنْرآُقْلَا اور ہے کردیا بصراحت نے عزیز قرآن پر مقامات متعدد ذکر کا جن ہوں ٹکراتی نہ سے کے “ ہے کردیتا تفسیر ہی خود کی حصہ دوسرے حصہ ایک کا قرآن ” اًضْعَب ٗہُضْعَب ُرِّسَفُی نہ تک ہاتھ دشمن کو )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت کہ ہے ہوتا ثابت یہ سے جن پر اصول ٰیعیس حیات کہ جیسا اور گئے اٹھالیے جانب کی ٰیاعل مالئے محفوظ وہ اور سکے لگا کے قیامت وقوع وہ کہ ہوگا ثابت سے قرآنی نصوص ابھی میں بحث کی )السالم (علیہ انجام خدمت مفوضہ کر آ واپس میں ارضی کائنات دوبارہ لیے اس اور ‘ ہیں “ نشان ” لیے کی تاریخ و آثار متعلق سے مصلوب و مقتول ِصشخ گے۔ ہوں چار دو سے موت پھر کر دے ٰیعیس حضرت میں “ شب کی سبت ” کہ ہے یہ حاصل کا ان ہیں روایات جلی ملی جو تھے موجود ساتھ کے حواریوں اپنے میں مکان بند ایک کے المقدس بیت )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت نے بادشاہ پرست بت کے دمشق سے سازش کی اسرائیل بنی کہ اسی کرلیا محاصرہ کر آ نے اس بھیجا دستہ ایک لیے کے گرفتاری کی )السالم (علیہ جب لیا اٹھا جانب کی ٰیاعل مالئے کو )السالم (علیہ ٰیعیس نے ٰیتعال ہللا میں اثناء
58.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 58/97 ٰیعیس حضرت کو شخص ایک ہی سے میں حواریوں نے انہوں تو ہوئے داخل اندر سپاہی وہ ساتھ کے اس پھر اور گئے لے کرکے گرفتار کو اس اور ‘ پایا شبیہ ہم کے )السالم (علیہ نام کا اس بعض میں روایات ہی ان ہے ہوچکا میں سطور گزشتہ ذکر کا جس ہوا کچھ سب پھر ہیں۔ کہتے لوزا بن داؤد دوسرے اور جرجس بعض اور ہیں کرتے بیان یایوطا کر بن یودس مسیح حضرت میں ہی خلقت اپنی مقتول شخص یہ کہ ہے میں بعض سے میں روایات ان حضرت کہ ہے میں انجیلی اسرائیلیات ‘ تھا ثانی نقش کا ان اور مشابہ کا )السالم (علیہ (علیہ ٰیعیس حضرت اسکرلوتی یہوداہ سے میں حواریوں کے )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت تو آپہنچی گھڑی نازک یہ جب کہ ہے میں روایات بعض اور تھا شبیہ ہم کا )السالم کے ہدایات و تلقین متعلق سے حق تبلیغ و دعوت کو حواریوں نے )السالم (علیہ ٰیعیس کے تک مدت ایک میں کہ ہے کردیا مطلع کو مجھ وحی بذریعہ نے ٰیتعال ہللا کہ فرمایا بعد کے دونوں متبعین اور مخالفین واقعہ یہ اور گا جاؤں لیا اٹھا جانب کی ٰیاعل مالئے لیے آمادہ پر اس شخص جو سے میں تم ذا لٰہ ہے۔ واال جانے میں امتحان و آزمائش سخت لیے اس پیئے شہادت جام میں راہ کی خدا وہ اور دے بنا شبیہ ہم میرا کو اس ٰیتعال ہللا کہ ہو اور کیا پیش لیے کے اس کو خود اور کی پہل نے حواری ایک تب ہے بشارت کی جنت کو کو اس نے سپاہیوں اور ہوگیا شکل ہم کا )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت وہ ہللا منجانب وہ لیے اس میں مرفوعہ احادیث نہ اور ہیں مذکور میں قرآن نہ تفصیالت یہ کرلیا۔ گرفتار اس ‘ منصوص میں آیات کی قرآن اور ہے اٹل جگہ اپنی مسئلہ نفس ‘ غلط یا ہوں صحیح کہ کریں قناعت ہی پر اجمال اس کے قرآن صرف وہ کہ ہے اختیار کو ذوق اصحاب لیے یہود نیز تحفظ سے دشمنوں طرح ہر اور السماء الی رفع کا )السالم (علیہ مسیح حضرت اس پاس کے ٰینصار و یہود ‘ کرنا قتل کو دوسرے کسی کر ہو مشتبہ کا معاملہ پر ہوجانا مبتال میں شبہ و شک اور وتخمین ظن کر ہو محروم سے یقین و علم میں سلسلہ ثابتہ حقائق سب یہ کردینا ظاہر میں روشنی کی یقین و علم کو واقعہ حقیقت کا قرآن اور ان میں تفسیر کی } ُہْنِّم ٍّک َش ِفْیَل ِہْیِف اْوُفَلَتْخا َنْیِذَّلا َّنِاَو { اور } ْمُھَل َہِّب ُش ْنِکٰلَو { ہیں آیات بحث زیر کہ کریں تسلیم کر سمجھ یہ اور کرلیں قبول بھی کو تفصیالت کی روایات صحیح تفسیر کی آیات جو ہے زائد امر یہ بلکہ ہے نہیں موقوف پر تفصیالت ان تفسیر کی ہے۔ مؤید لیے کے )السالم (علیہ ٰیعیس حیات حضرت کہ ہے ہوچکا ثابت یہ سے آیات بحث زیر کی نساء اور مائدہ ‘ عمران آل سورة حیات بقید کو ان کہ ہوا صادر فیصلہ یہ کا ہیٰلا حکمت متعلق کے )السالم (علیہ ٰیعیس لیے اٹھا محفوظ سے کافروں اور دشمنوں وہ اور جائے لیا اٹھا جانب کی ٰیاعل مالئے ان موقع حسب بلکہ کیا نہیں اکتفا پر اسی صرف میں مسئلہ اس نے قرآن لیکن گئے۔ مقامات ان اور ہے ڈالی روشنی جگہ متعدد ذریعہ کے قطعیہ نصوص پر امروز حیات کی اور طویل حیات کی )السالم (علیہ مسیح حضرت کہ ہیں کئے اشارات بھی جانب اس میں سے ایمان تازگی قلوب کے حق اہل تاکہ تھی مستور حکمت کیا میں السماء الی رفع شرمائیں۔ پر باطنی کور اپنی کوش باطل اور ہوجائیں شگفتہ ٖہِتْوَم ْبَلَق ِبٖہ َّنَنِمْؤُیَل کوئی اور ” } اْیًدِھ َش ْمِھْیَلَع ُنْوُکَی ِۃَمِقٰیْلا َمْوَی َو ٖہِتْوَم ْبَلَق ٖہِب َّنَنِمْؤُیَل اَّلِا ِب ٰتِکْلا ِلْھَا ْنِّم ْنِا َو { اس پر ) ٰی(عیس گا الئے ایمان ضرور وہ کہ یہ مگر گا رہے نہ باقی سے میں کتاب اہل گواہ )پر کتاب (اہل پر ان دن کے قیامت ) ٰی(عیس وہ اور پہلے سے موت کی ) ٰی(عیس (علیہ ٰیعیس کہ ہے مذکور واقعہ باال مسطورہ وہی میں آیات قبل سے آیت اس “ گا۔ بنے لیا۔ اٹھا جانب اپنی نے ٰیتعال ہللا بلکہ گیا کیا قتل نہ اور گیا چڑھایا پر صلیب نہ کو )السالم سے اٹکل اور زعم باطل اپنے نے انہوں جو ہے تردید کی عقیدہ اس کے ٰینصار و یہود یہ پر صلیب متعلق کے )السالم (علیہ مسیح حضرت کہ ہے رہا جا کہا سے ان تھا کرلیا قائم
59.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 59/97 ہیں ْمَاَتْو لعنت اور بہتان کیونکہ ہے لعنت قابل ٰیدعو کا جانے کئے قتل اور جانے چڑھائے کہ ہے رہی جا دالئی توجہ جانب اس میں تصدیق کی اول امر میں آیت اس بعد کے اس بن ٰیعیس جب ہے واال آنے بھی وقت وہ تو ہو رہے کر فخر پر عقیدہ ملعون اس اگر آج کائنات لیے کے کرنے پورا کو مصلحت و حکمت کی برتر خدائے )السالم (علیہما مریم ٰینصار و (یہود کتاب اہل وقت کے مشاہدہ عینی اس اور گے الئیں تشریف واپس پر ارضی پر )السالم (علیہ ٰیعیس مطابق کے فیصلہ کے قرآن کو ہستی موجود ایک ہر سے میں ) حیات مدت اپنی وہ جب پھر اور ‘ گا رہے نہ باقی کار چارہ کوئی سوا کے آنے لے ایمان (اہل امت اپنی دن کے قیامت تو گے ہوجائیں چار دو سے آغوش کی موت کرکے ختم شاہد پر امتوں اپنی اپنی ومرسلین انبیاء تمام طرح جس گے ہوں گواہ طرح اسی پر )کتاب اگرچہ متعلق کے )السالم (علیہ ٰیعیس کہ ہے نہیں مخفی کچھ حقیقت یہ گے۔ بنیں کے دونوں میں سلسلہ اس لیکن ہیں متفق پر قتل و صلیب واقعہ دونوں ٰینصار و یہود کو )السالم (علیہ مسیح حضرت یہود ‘ ہے قائم پر اصول متضاد ًاقطع بنیاد کی عقائد “ فریب ” معنی کے جس ہے ماخوذ سے دجل ۔(دجال١ دجال اور کہتے کاذب اور مفتری (علیہ مسیح یسوع نے انہوں کہ ہیں کرتے فخر لیے اس اور ہیں سمجھتے )ہیں۔ کے برعکس کے اس ڈاال۔ بھی مار میں حالت اس پھر اور چڑھایا بھی پر صلیب کو )السالم دنیا ساری اور تھا گار گناہ )السالم (علیہ آدم انسان پہال کا دنیا کہ ہے یہ عقیدہ کا ٰینصار نجات سے گناہوں کو دنیا کہ کیا ارادہ نے “ رحمت ” صفت کی خدا لیے اس تھی۔ گار گناہ اس اور کی اختیار شکل کی )ہونا (بیٹا ابنیت نے “ رحمت ” صفت کی اس لیے اس دالئے طرح اس اور جائے مارا اور چڑھے پر سولی ہاتھوں کے یہود وہ تاکہ بھیجا میں دنیا کو بنے۔ باعث کا نجات کی دنیا کر بن “ کفارہ ” کا گناہوں کے مستقبل و ماضی کائنات ساری (علیہ مسیح حضرت کہ دیا کہہ صاف صاف نے عزیز قرآن میں آیات کی نساء سورة باعث اور لعنت الئق ہو مبنی پر عقیدہ بھی کسی بنیاد کی ٰیدعو کے قتل کے )السالم لعنت بھی رکھنا عقیدہ یہ کر سمجھ مفتری کو پیغمبر سچے کے خدا ہے۔ خسران و ذلت کا خدا کو انسان پیدا سے بطن کے )السالم (علیہا مریم اور بندے کے خدا اور موجب کا مقتول و مصلوب کو )السالم (علیہ مسیح کر تراش عقیدہ باطل کا “ کفارہ ” اور کر بنا بیٹا میں سلسلہ اس اور ہے تیر کا اٹکل خالف کے حقیقت و علم اور گمراہی بھی کرنا تسلیم و علم ” بنیاد کی جس اور ہے کیا نے قرآن جو ہے وہی فیصلہ برحقیقت مبنی اور صحیح فیصلہ کے اختالف اس سامنے تمہارے جبکہ آج پس ہے۔ قائم پر “ ہیٰلا وحی اور یقین آچکی روشنی کی یقین و علم تھا قائم پر بنیادوں شکستہ کی ظن و شک جو لیے کے مسیح حضرت اور ہو رہے کر اصرار پر فاسدہ اوہام اور سدہ کا ظنون اپنے تم بھی پھر ہے قرآن تو ‘ ہو ہوتے نہیں تیار لیے کے کرنے ترک کو عقیدہ باطل متعلق سے )السالم (علیہ وقت وہ پر نسلوں تمہاری کہ لو سن بھی اعالن یہ کا ہیٰلا وحی اور فیصلہ دوسرا ایک کا مسیح حضرت مطابق کے حق اعالن اور فیصلہ صحیح اس کے قرآن جب ہے واال آنے بھی ایسی آمد یہ کی ان اور گے ہوں واپس کو ارضی کائنات سے ٰیاعل مالئے )السالم (علیہ یا خواستہ بادل جو گا رہے نہ ایسا بھی فرد ایک سے میں ٰینصار و یہود کہ ہوگی مشاہد رسول سچے کے خدا وہ بالشبہ کہ آئے لے نہ ایمان یہ پر گرامی ذات اس ناخواستہ بادل حیات بقید تھے ہوئے نہیں مقتول و مصلوب ‘ ہیں انسان برگزیدہ نہیں بیٹے کے خدا ‘ ہیں بات یہ } ٖہِتْوَم ْبَلَق ٖہِب َّنَنِمْؤُیَل اَّلِا ِب ٰتِکْلا ِلْھَا ْنِّم ْنِا َو { ہیں۔ سامنے کے آنکھوں ہماری حضرت جگہ اس طرح کی مائدہ سورة اور عمران آل سورة کہ ہے توجہ قابل پر طور خاص “ موت ” لفظ بصراحت بلکہ گیا بوال نہیں “ توفی ” لفظ لیے کے )السالم (علیہ ٰیعیس کا حقیقت جس پر مقامات دونوں ان کہ لیے اس صرف ؟ کیوں یہ ہے گیا کیا استعمال سے عمران آل سورة کہ جیسا ہے مناسب ہی “ توفی ” لیے کے اس ہے مقصود اظہار تفسیر کی آیت متعلق سے مائدہ سورة اور چکا گزر میں تفسیر و تشریح کی آیات متعلق اور ہے مطلوب تذکرہ کا ہی “ موت ” راست براہ چونکہ جگہ اس اور ہوگا بیان عنقریب میں َقُۃِئاَذ ٍسْفَن ُکُّل { بھی )السالم (علیہ مسیح حضرت بعد کے ہے۔جس ذکر کا حالت اس بس از ہی النا بصراحت کو “ موت ” یہاں لیے اس ہیں والے بننے مصداق کا } ِتْوَمْلا موت ” لفظ میں مائدہ اور عمران آل کہ لیے کے ٰیدعو اس ہے برہان مزید یہ اور تھا ضروری
60.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 60/97 دونوں ان طرح جس ورنہ ہے رکھتا مقصد خاص بالشبہ اطالق کا “ توفی ” جگہ کی “ اس طرح جس یا جاتا کیا بھی یہاں طرح اسی تھا گیا کیا اطالق کا “ توفی ” پر مقامات ہی موت لفظ بھی پر مقامات دونوں ان طرح اسی ہے گیا کیا اطالق کا “ موت ” لفظ جگہ ‘ فہم کا فرق کے بیان اسالیب دقیق ان کے عزیز قرآن مگر تھا چاہیے ہونا استعمال کا کا زیغ اصحاب جیسے الہوری مسٹر اور قادیانی مرزائے کہ نہ ہے حصہ ہی کا حق طالبین ازاں بعد اور ہیں کرلیتے ایجاد نظریہ ایک پہلے نظر پیش کے ذاتی اغراض خاص اپنی جو تفسیر ” نام کا اس کر ڈھال میں سانچہ کے اسی کو قرآنی آیات تمام کی سلسلہ اس سپرد جو ہے یہی تفسیر کی عنوان زیر آیت نزدیک کے جمہور بہرحال ہیں۔ رکھتے “ قرآن ابن الدین عماد مورخ اسالمی اور مفسر القدر جلیل ‘ محدث مشہور ‘ چکی جا کی قلم نقل صحیح بسند سے ؒبصری حسن اور ؓعباس بن عبدہللا حضرت کو تفسیر اس ؒکثیر : ہیں فرماتے تحریر بعد کے کرنے جیسا ہے حق قول یہی اور ہے قول یہی کا مفسروں سے بہت اور الرحمن عبد ‘ قتادہ ” تاج سر اور “ ٰیتعال ہللا شاء ان ‘ گے کریں ثابت کو اس سے قاطع دلیل ہم عنقریب کہ : ہیں فرماتے ہوئے کرتے تائید کی اسی بھی عسقالنی حجر ابن محدثین تفسیر اس کی ؓعباس ابن اور ہے کیا یقین نے ؓعباس بن عبدہللا حضرت پر تفسیر اسی ” صحیح بسند سے ؒحسن بھی نے رجاء ابو اور جبیر بن سعید بروایت نے جریر ابن کو )السالم (علیہ ٰیعیس موت قبل یعنی “ ٖہِتْوَم ْبَلَق ” فرمایا نے ؓعباس ابن کہ ہے کیا روایت اتریں سے آسمان وہ جب اور ہیں حیات بقید ٰیعیس حضرت وشبہ بیشک بخدا قسم ۔ اہل اکثر کو تفسیر اسی نے ؒجریر ابن اور گے آئیں لے ایمان پر ان کتاب اہل سب تو گے اس مگر “ ہے۔ دی ترجیح کو تفسیر اسی نے وغیرہ ؒجریر ابن اور ہے کیا نقل سے علم منقول بھی اور قول دو پر طور کے عقلی احتمال میں تفسیر کتب عالوہ کے تفسیر صحیح آیت (یعنی وسباق سیاق بلحاظ اور اعتماد ناقابل اور ضعیف سند بلحاظ دونوں وہ مگر ہیں۔ ایسے یعنی ہیں۔ التفات ناقابل اور غلط )سے لحاظ کے آیات کی بعد اور قبل سے بحث زیر دو ہر ان ہیں۔ خالف کے ترتیب و نظم باہمی کے آیات اور نقل جو ہیں عقلی احتماالت ٰیعیس حضرت کو اس ہے ضمیر جو میں “ ٖہِتْوَم ” کہ ہے یہ معنی ایک سے میں معنی ” جائے کیا یوں ترجمہ کا آیت اور جائے لوٹایا جانب کی کتاب اہل بجائے کے )السالم (علیہ (علیہ ٰیعیس پہلے سے موت اپنی جو ہے نہیں ایسا فرد کوئی سے میں کتاب اہل اور ٰیعیس حضرت میں زندگی اپنی ٰینصار و یہود اگرچہ یعنی “ ہو آتا لے نہ ایمان پر )السالم اپنے اپنے اور التے نہیں ایمان پر عقیدہ ہوئے بتائے کے قرآن متعلق سے )السالم (علیہ ” میں حالت آخری اس وہ تو ہے دباتی آ “ موت ” کو ان جب لیکن ہیں رہتے قائم پر عقیدہ ہر کے کتاب اہل اور ہیں آتے لے ایمان مطابق کے عقیدہ صحیح “ ہے کہالتا وقت کا نزع جو ہر کا کتاب اہل ” کہ ہیں یہ معنی دوسرے اور ہے گزرتی حالت یہی استثناء بال پر فرد ایک “ ہے آتا لے ایمان پر )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی محمد پہلے سے موت اپنی فرد ایک وقت اس ہے ہوتا رہا ہو وابستہ سے غیب عالم کر ہو منقطع سے دنیا عالم وہ جب یعنی خدا بیشک )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی محمد کہ ہے ہوجاتی منکشف حقیقت اصل پر اس کے روایت نقل تفسیریں دونوں یہ کہ نظر قطع سے بات اس پس تھے۔ پیغمبر سچے کے عقلی ہیں خالف کے وسباق سیاق کے آیات اور صحیح غیر اور اعتماد ناقابل سے اعتبار میں باال سطور جو ہیں یہ معنی کے آیت اگر کہ لیے اس ہیں۔ غلط بھی سے نظر نقطہ ہے۔ ہوجاتی بےنتیجہ اور بےمعنی خالف کے بیان مقصد اپنے آیت یہ تب گئے کئے نقل عالم انسان جب کہ ہے چکا کہہ صاف پر مقامات دوسرے عزیز قرآن کیونکہ )باہلل (العیاذ طاری پر اس کیفیت یہ کی نزع اور ہے ہوجاتا وابستہ سے غیب عالم کر کٹ سے دنیا تھے معامالت کے غیب لیے کے اس تک قبل سے ساعت اس معامالت جو کہ ہے ہوجاتی لپیٹ صحیفہ کا کردار و اعمال کے اس وقت اس تو ہیں ہوجاتے شروع آنے میں مشاہدہ وہ نہ کا وقت اس یعنی ملتا نہیں ثمرہ اور نتیجہ کوئی کا اعتقاد تبدیلی اب اور ہے جاتا دیا مستند۔ انکار نہ اور معتبر اعتراف اور اقرار ۔ ْوُئ ِزْہَت ْسَی ٖہِب اْوُناَک اَّم ْمِہِب َقَوَحا ِمْلِعْلا َنِم ُہْمَدْنِع َماِب اْوُحِرَف ِتَناِّیَبْلاِب ْمُہُل ُسُر ْمْتُہَئَجا اَّمَفَل { اَّمَل ْمُہُنَماْیِا ْمُہُعَیْنَف ُکَی ْمَفَل ۔َنْیِکِر ُمْش ٖہِب اَّنُک َماِب اَفْرَنَکَو ٗہَدْحَو ِہّٰللاِب اَّنَمٰا اْوُلاَق َنا َسْاَب اْوَاَر اَّمَفَل
61.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 61/97 } َنُرْوِف ٰکْلا َکِلَناُہ ِسَرَخَو ِدٖہَباِع ِفْی ْتَلَخ ْدَق ِتْیَّلا ِہّٰللا َۃَّن ُس َنا َسْاَب اْوَاَر ان جو ہوئے خوش سے چیز اس تو کر لے دالئل واضح پیغمبر پاس کے ان آئے جب پس ” پس تھے بناتے مذاق وہ کو جس نے چیز اس کو ان لیا گھیر اور تھی سے علم پاس کے جن اور آئے لے ایمان پر واحد خدائے ہم کہا نے انہوں تو دیکھا عذاب ہمارا نے انہوں جب )(یہ کا ان ہوا نافع نہیں پس ہوئے منکر سے ان تھے بناتے شرک کا اس ہم کو چیزوں بندوں کے اس جو ہے سنت کی ہللا یہ ‘ کرلیا مشاہدہ کا عذاب ہمارے نے انہوں جب ایمان َنْیِذَّلِل ُۃَبْوَّتال ِت َسْیَل َو { “ پایا۔ زیاں نے کافروں پر موقع اس اور رہی جاری ہمیشہ میں ْمُھ َو َنْوُتُمْوَی َنْیِذَّلا اَل َو َن ٰئْلا ُتْبُت ِّنْیِا اَلَق ُتْوَمْلا ُمُھَحَدَا َرَضَح اَذِا یّٰٓتَح ِتٰاِّی َّسال َنْوُلَمْعَی عمر (ساری جو ہے نہیں توبہ توبہ کی لوگوں ان لیکن ” } اْیًمِلَا اًباَذَع ْمُھَل اَنْدَت ْعَا َکِئ ٰٓل وُا ٌراَّفُک کہنے تو ہوئی آکھڑی موت آگے کے کسی سے میں ان جب لیکن رہے کرتے برائیاں )تو ان طرح اسی )ہوئی نہیں توبہ سچی توبہ ایسی کہ ہے (ظاہر ہوں کرتا توبہ میں اب لگا لوگوں تمام ان ہیں جاتے میں حالت کی کفر سے دنیا جو نہیں توبہ بھی توبہ کی لوگوں ٰیعیس حضرت میں صورت ایسی تو “ ہے۔ رکھا کر تیار عذاب ناک درد نے ہم لیے کے معنی کیا ذکر ساتھ کے خصوصیت کا )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی محمد یا )السالم (علیہ پردے کے غیب سے سامنے کے اس تو ہے جاتا پہنچ پر حالت اس جب انسان ہے رکھتا کی حق دین غرض ‘ جہنم و جنت ‘ راحت یا عذاب ‘ ہللا مالئکۃ برزخ اور ہیں جاتے ہٹ و یہود میں اس اور ہیں ہوجاتی منکشف پر اس حقیقتیں ساری کی غیب کردہ تعلیم اس جب نیز ہے والی گزرنے پر آدم ابن ایک ہر تو حالت یہ ہے کیا خصوصیت ہی کی ٰینصار جو تھا چاہیے ہونا ساتھ کے اسلوب اسی ذکر کا اس تو ہے نہیں ہی قبول ایمان کا قسم میں جس اور گیا کیا اختیار لیے کے اقرار و اعتراف ایمانی کے فرعون وقت کے فرعون غرق کے بیان اسلوب ایسے کہ نہ ہے گئی کی ظاہر بےوقعتی کی پکار ایمانی کی وقت اس جا دی خبر کی واقعہ الشان عظیم ایسے کسی والے ہونے میں مستقبل گویا ‘ ساتھ (علیہ ٰیعیس حضرت خالف کے عزائم و عقائد کے ) ٰینصار و (یہود مخاطبین جو ہے رہی پیش کر بن شہادت زندہ کی فیصلہ اٹل کے اس اور تصدیق کی قرآن متعلق سے )السالم عزیز جان وقت کے آجانے میں موت پنجہ یہودی اور عیسائی ایک تو ورنہ ہے واال آنے تب الیا نہ اور کیا تب الیا ایمان پر )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت پہلے سے کردینے سپرد خدا اور کے اس صرف باہر سے ادراک و علم کے انسانی کائنات تصدیق یہ کی اس کیا ًاقطع کرنا تذکرہ پر موقع ایسے کا بات ایسی کہ ہے ظاہر اور ہے رکھتی تعلق درمیان کے لیے کے بنانے مجرم و ملزم پر عقیدہ خاص ایک کے اس کو قوم ایک جہاں ہے بےمحل والے آنے پیش پر ارضی کائنات میں مستقبل اور ماضی لیے کے تائید کی حق فیصلہ عالوہ ہے رہا ہو واضح سے وسباق سیاق کے آیت کہ جیسا ہے رہا جا کیا پیش کو واقعات حضرت وقت کے غرغرہ کہ ہے نہیں گنجائش بھی لیے اس یہاں کی احتماالت ان ازیں ہر تو ایمان کا قسم اس پر )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی محمد یا )السالم (علیہ ٰیعیس گزر قبل صدیوں یا قبل دن کچھ سے نزول کے آیت اس جو ہے متعلق سے کتاب اہل اس کے اس تو تھا مقصود کرنا بیان مضمون یہ میں آیت اگر ذا لٰہ ہیں چکے مرکھپ اور چکے اس ہے خالف بالکل کے کالم بالغت و فصاحت “ َّنَنِمْؤُیِل ” تعبیر یہ کی مستقبل مؤکد لیے پر زمانوں تینوں استقبال اور حال ‘ ماضی جو تھی ضرورت کی تعبیر ایسی تو لیے کے ہوتا۔ ادا طرح پوری سے لحاظ کے توسع اپنے مفہوم کا قرآن تاکہ ہوتی حاوی اور قبل سے آیت اس کہ ہیں بےمحل اور غلط ًاقطع بھی لیے اس تو معنی دوسرے نیز وآلہ علیہ ہللا (صلی محمد االنبیاء خاتم میں وسباق سیاق یعنی میں آیات کی بعد کا )السالم (علیہ مسیح حضرت صرف میں آیات شروع کیونکہ ہے نہیں ہی ذکر کا )وسلم : ہے ہوا ارشاد یہ میں آخر کے آیت اس اور ہے رہا ہو ذکر حضرت سے شاہد جگہ اس کہ بات یہ ہے واضح اور } اْیًدِھ َش ْمِھْیَلَع ُنْوُکَی ِۃَمِقٰیْلا َمْوَی َو { اکرم نبی پھر تو امت کی ان سے ضمیر کی ْمِھْیَلَع اور ہیں مراد )السالم (علیہ ٰیعیس اقدس ذات مرجع کا ضمیر کسی کی درمیان بغیر کئے ذکر کا )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی ہے منافی کے بالغت و فصاحت کہ یہ صرف نہ دینا قرار کو )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی غش و بےغل غرض ہے۔ موجب کا ضمائر انتشار اور خالف ًاقطع کے عربیت قاعدہ بلکہ
62.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 62/97 احتماالت ساختہ خود دونوں یہ اور ہیں کئے اختیار نے جمہور جو ہیں وہی معنی صحیح مقام اس (؎ ١ ہیں۔ نہیں مستحق بھی کے کہالنے احتمال صحیح کیا تو تفسیر کی آیت اور ُل ُسُّرال ِہِلْبَق ْنِم ْتَلَخ ْدَق ْوٌل ُسَر اَّلِا َمْرَیَم ْبُن ُحْیِسَمْلا َما آیت کی مائدہ سورة عالوہ کے یہ ہیں رکھتی تعلق سے نجران وفد جو تک آیات بیاسی سے ابتداء کی عمران آل سورة کی )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت میں شکل کی النص اشارۃ یا النص داللۃ مقامات سب پاس میرے استشہاد وجوہ اور تفصیالت کی ان اگرچہ اور ہیں وبرہان دلیل لیے کے حیات گیا کردیا انداز نظر کو ان جگہ اس سے خوف کے طوالت کی کتاب تاہم ہیں مرتب و مدون پھر یا اور ‘ ہوگا ناظرین ہدیہ میں صورت کی مضمون مستقل ہللا شاء ان فرصت بوقت ‘ ہے االسالم عقیدۃ ” کتاب کی مرقدہ ہللا نور کشمیری شاہ انور محمد عالمہ االسالم حجۃ ) ہے۔ مراجعت قابل لیے کے مقصد اس “ )السالم (علیہ ٰیعیس وۃحٰی فی صحیحہ احادیث اور )السالم (علیہ ٰیعیس نزول و حیات رفع کے )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت ساتھ کے اختصار معجزانہ جس نے عزیز قرآن کی تصریحات متعلق کے السماء من نزول کر بن قیامت عالمت اور امروز حیات ‘ سماوی کو حقائق ان کرکے بیان تفصیالت کی ہی آیات ان میں نبوی احادیث ذخیرہ صحیح ہیں ؓابوہریرہ حضرت میں صحیحین نے مسلم اور بخاری حدیث امام چنانچہ ہے گیا کیا روشن علیہ ہللا (صلی ہّٰللا رسول اَلَق(( : ہے کی نقل سے سند ہائے طریق متعدد روایت یہ سے َبْیِلَّصال ِّسَرَکُیَف اًلْدَع اًمَکَح َمْرَیَم ْبُنِا ْمُکْیِف َلِزْنَّی َاْن َّنَکِشُیْوَل ِدِہَیِب ِسْیْفَن ْیِذَّلَوا )وسلم وآلہ ُۃَدِحَواْلا ُۃَدْج َّسال َنْوُکَت یّٰتَوَح ٌدَحَا ٗہ ُلَبْقَی اَل یّٰتَح َماَلْلا َضْیِفُیَو َۃَیْزِجْلا َعَضَوَی َرْیِزْنِخْلا َلُتْقَوَی ) ) ُتْمْئِش ْنِا اْوُئَرْقِا َۃَرْیَرُھُبْوَا اَلَق َّمُث َھاْیِف َوَما َیاْنُّدال َنِم ٗہَل ًراَخْی رسول ” } اْیًدِھ َش ْمِھْیَلَع ُنْوُکَی ِۃَیاَمِقْلا َمْوَوَی ٖہِتْوَم ْبَلَق ٖہِب َّنَنِمْؤُیَل اَّلِا ِبَتاِکْلا ِلْھَا ْنِّم ْنِاَو { میں قبضہ کے جس قسم کی ذات اس فرمایا ارشاد نے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی ہللا حاکم )السالم (علیہ مریم بن ٰیعیس میں تم کہ ہے واال آنے وقت وہ ضرور ہے جان میری موجودہ (یعنی گے کریں قتل کو خنزیر اور گے توڑیں کو صلیب وہ گے اتریں کر بن عادل و بعد کے مشاہدہ کے ہیٰلا نشان (یعنی گے دیں اٹھا جزیہ اور )گے مٹائیں کو عیسائیت (صلی ہللا رسول بارشاد میں احکام اسالمی اور ہوگا نہیں قبول بھی کچھ سوا کے اسالم درجہ اس کی مال اور )ہے لیے کے تک وقت اسی حکم کا جزیہ )وسلم وآلہ علیہ ہللا سجدہ ایک سامنے کے خدا اور گا ملے نہیں واال کرنے قبول کو اس کوئی کہ ہوگی کثرت صدقات و خیرات سے وجہ کی کثرت مالی (یعنی گا رکھے قیمت زیادہ سے ومافیہا دنیا (قرآن تم اگر فرمایا نے ؓابوہریرہ پھر )گی جائے بڑھ اہمیت کی نافلہ عبادت میں مقابلہ کے َو ٖہِتْوَم ْبَلَق ٖہِب َّنَنِمْؤُیَل اَّلِا ِب ٰتِکْلا ِلْھَا ْنِّم ْنِا َو { پڑھو آیت یہ تو چاہو )استشہاد کا اس سے )کی ٰی(عیس مگر ہوگا نہ سے میں کتاب اہل کوئی اور ” } اْیًدِھ َش ْمِھْیَلَع ُنْوُکَی ِۃَمِقٰیْلا َمْوَی دن کے قیامت ) ٰی(عیس وہ اور گا آئے لے ایمان ضرور )پر ٰی(عیس پر اس پہلے سے موت حضرت، ؓانصاری ابوقتادہ ٰیمول نافع بسند میں مسلم اور بخاری 1 “ ہوگا۔ گواہ پر ان )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی ہّٰللا رسول اَلَق( ( : ہے منقول بھی روایت یہ سے ؓابوہریرہ )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی ہللا رسول ” )) ْمُکْنِم ْمُکُمَماِاَو ْمُکْیِف َمْرَیَم ْبُنا َزَلَن اَذَا ُتْمْنَا ْیَفَک حالت اس اور گے اتریں مریم ابن میں تم جب ہوگا حال کیا تمہارا وقت اس ” : فرمایا نے دونوں ان 2 “ ہوگا۔ رہا کر امامت تمہاری شخص ایک سے میں ہی تم کہ گے اتریں میں بھی روایات اور سے سند ہائے طریق متعدد سے ؓابوہریرہ حضرت عالوہ کے روایات ہیں کرتی ادا معنی و مفہوم یہی جو ہیں درج میں ؎ ١ سنن اور احمد مسند ‘ صحیحین بھی کو پہلوؤں دوسرے بعض کے بحث زیر مسئلہ اور ہے مفصل زیادہ ایک سے میں ان ‘ : ہے میں احمد مسند ہے کرتی نمایاں ْمْیُنُہِدَو یّٰت َش ْمُھُتَھاَّمُا ٍت اَّلَعِل ٌۃَوْخِا ُئَیاِبْنَاْلَا ” اَلَق )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی َّیِبَّنال َّنَا( ( ٗہْیُتُمْوَأَر ْذِاَف ٌلِزاَن ٗہَّنِاَو ٗہَنْیَوَب یِنْیَب ٌّیِبَن ْنُکَی ْمَل ٗہَّنَاِل َمْرَیَم ِنْب ی َسْیِعِب ِساَّنال یَلْوَا یِّنِاَو ٌدِحَوا ٗہْبِصُی ْمَل ْنِا ُرُطْقَی ٗہ أَسَر َّنَأَک ِنَراَّصَمُم ِنَباْوَث ِہْیَلَع ِضَبَیاْلَوا َرِۃْمُحْلا یَلِا ٌعُبْوَمْر ٌلُجَر ٗہْوُف ِر ْعاَف ِفْی ُہّٰللا ُکِلُیْھَو ِم اَل ْساِاْل یَلِا اَسَّنال اْوُعْدَوَی َۃَیْزِجْلا َضُعَوَی َرْیِزْنِخْلا ُتُلْقَوَی َبْیِلَّصال ُّقُدَیَف ٌلَلَب
63.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 63/97 ِرَقَبْلا َعَم ُرَماِّنَوال ِلِباِاْل َعَم ْوُد ُسُاْلا َتْرَتَع یَّتَح ِضْرَاْلا یَلَع ُۃَنَماَاْلا َقُعَت َّمُث اَلَّدَّجال ْیَحِسَمْلا ِہِنَزَما یِّلَصُیَو یّٰفَتَوُی َّمُث ًۃَن َس َنْیِعْرَبَا ُثُکْمَیَف ْمُھُضُّرَت اَل ِتاَّیَحْلاِب ُنْبَیاِّصال ُبَعْلَوَی ِمَنَغْلا َعَم ُباَئِّذَوال )) َنُمْوِل ُمْسْلا ِہْیَلَع عالتی میں دین اصول انبیاء تمام ” : فرمایا نے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی اکرم نبی ” کے انبیاء دوسرے میں اور مختلف دین فروع اور ایک کا سب دین ہیں طرح کی بھائیوں میرے اور کے ان کہ لیے اس ہوں قریب زیادہ سے )(رض مریم بن ٰیعیس میں مقابلہ ان تم جب پس گے اتریں پر ارضی کائنات وہ بالشبہ اور ہوا نہیں مبعوث نبی کوئی درمیان پر جسم کے ان ‘ ہوگا رنگ سپید و سرخ ‘ قد میانہ : لینا پہچان سے حلیہ اس تو دیکھو کو آ کرکے غسل الحال فی گویا ہوگا معلوم ایسا گی ہوں چادریں کی رنگ مائل سرخی دو کو صلیب وہ ہیں۔ والے پڑنے ٹپک طرح کی موتی قطرے کے پانی سے سر اور ہیں رہے اٹھا جزیہ اور )گے کردیں خاتمہ کا عیسائیت (موجودہ گے کریں قتل کو خنزیر اور گے توڑیں تمام میں زمانہ کے ان ٰیتعال ہللا اور گے دیں دعوت کی “ اسالم ” کو لوگوں اور گے دیں ہللا اور گا جائے رہ باقی “ اسالم دین ” دین ہی ایک صرف اور گا دے مٹا کو ملل و ادیان (امر “ امانت ” میں کائنات پھر گا کرے ہالک کو دجال مسیح میں زمانہ کے ہی ان ٰیتعال بھیڑیے ‘ ساتھ کے بیلوں گائے چیتے ‘ ساتھ کے اونٹوں شیر کہ ٰیحت گی کرلے جگہ )خیر کو ان اور گے کھیلیں ساتھ کے سانپوں بچے اور گے آئیں نظر چرتے ساتھ کے بکریوں زندہ پر زمین اس سال چالیس )السالم (علیہ ٰیعیس پس ‘ گا پہنچے نہیں گزند کوئی اور 3 “ گے۔ کریں ادا نماز کی جنازہ کے ان مسلمان اور گے پاجائیں وفات پھر گے رہیں میں اس ہے گئی کی روایت حدیث طویل ایک سے ؓابوہریرہ حضرت میں مسلم صحیح مبارک ارشاد یہ کا )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی اکرم نبی ہوئے کرتے ذکر کا دجال خروج ِتَمْیِقُا ْذِا َفْوَّصُفال َنْوُّر َسُی ِلَتاِقْلِل َنْوُّدِعُی ْمُھَناْیَبَف َجَرَخ اَم َّشال اْوُئَجا اَذِاَف( ( : ہے مذکور دجال تو گے پہنچیں شام ملک مسلمان جب پس ” ))الخ َمْرَیَم۔۔ ِنْب ی َسْیِع ُلِزْنَیَف ُۃوَّصٰلال صفیں ‘ گے ہوں رہے کر تیاریاں کی جنگ میں مقابلہ کے اس مسلمان ابھی ہوگا خروج کا بن ٰیعیس میں درمیان اس گی۔ لگے ہونے اقامت لیے کے نماز کہ گے ہوں کرتے درست “ گے۔ دیں انجام فرض کا امامت کی مسلمانوں وہ اور ہوگا نزول کا مریم ہے منقول روایت طویل ایک سے )(رض سمعان بن نواس حضرت میں مسلم صحیح اور 4 َرِۃَمَناْلا َدْنِع ُلَزْنَیَف )السالم (علیہ َمْرَیَم َنْب ْیَحِسَمْلا ُہّٰللا َثَعَب اَذِا( ( : ہے مذکور یہ میں جس َرَقَط ٗہ َسْاَر أَطأَط اَذِا ِنْیَلَکَم ِۃَحِنْجَا یٰلَع ِہْیَکَّف اَعِضَوا ِنَتْیَدُرْوْھَم َنْیَب َق ْشَمِد ِقْیْر َش ِئاَضْیَبْلا شیطانی اپنے پر مسلمان ایک دجال (ابھی ” ))الخ ؤ۔۔ُلْوْلُل اَک ٌنَماُج ٗہْنِم َرَّدَحَت ٗہَعَفَر اَذِاَو کو )السالم (علیہما مریم بن مسیح ٰیتعال ہللا )کہ ہوگا رہا ہی کر آزمائش کی کرشموں جانب مشرقی کے دمشق مسجد جامع تو گے اتریں پر ارضی کائنات جب وہ گا دے بھیج دو کی رنگ زرد گہری )مائل (سرخی پر بدن کے ان اور گے اتریں پر منارہ سپید کے لپٹی پر بدن حصہ زیریں دوسری اور پر حصہ کے اوپر کے بدن ایک (یعنی گی ہوں چادریں سر تو گے سرجھکائیں جب گے ہوں لیے سہارا پر بازؤوں کے فرشتوں دو اور )گی ہوں طرح کی موتیوں قطرے کے پانی تو گے اٹھائیں سر جب اور گا لگے پڑنے ٹپک پانی سے امام سے سند ہائے طریق مختلف اور 5 “ )گے ہوں رہے آ کئے غسل (یعنی گے ٹپکیں بسند سے ؓحارثہ بن مجمع حضرت میں سنن نے )(رح ترمذی اور میں مسند نے احمد ( : ہے فرمایا ارشاد نے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی اکرم نبی کہ ہے کیا روایت یہ صحیح ” )ہے۔ دروازہ ایک کا پناہ شہر کی دمشق ؎(شہر ١ )) ٍّدُل ِبَباِب اَلَّدَّجال َمْرَیَم ْبُنِا ُتُلْق(َی فرماتے کرکے نقل کو روایت اس ترمذی امام “ گے۔ کریں قتل پر لد باب کو دجال ‘ مریم ابن شمار فہرست کی عنہ رضوا و ؓصحابہ حضرات ان بعد کے اس اور ٌحْیِحَص ٌثْیِدَح اَذَھ ہیں دجال قتل ہاتھوں کے ان اور )السالم (علیہ مریم بن ٰیعیس نزول سے جن ہیں کراتے : ہیں فرماتے ہیں۔ منقول میں حدیث کتب روایات متعلق سے بن حذیفہ ‘ اسلمی ابوبرزہ ‘ عیینہ بن نافع ‘ حصین بن عمران حضرت میں باب اس اور ” ابن ‘ باہلی امامہ ابو ‘ عبدہللا بن جابر ‘ العاص ابی بن عثمان ‘ کیسان ‘ ابوہریرہ ‘ اسید ‘ عوف بن عمرو ‘ سمعان بن نواس ‘ جندب بن سمرہ ‘ العاص بن عمرو بن عبدہللا ‘ مسعود امام ‘ میں مسند نے احمد امام اور 6 “ ہیں۔ منقول روایات بھی سے الیمان بن حذیفہ
64.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 64/97 االسیدی بن حذیفہ حضرت بروایت میں سنن نے سنن اصحاب اور میں صحیح نے ; مسلم َناْیَلَع َفَر ْشَا اَلَق( ( : ہے کی نقل روایت یہ سے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی اکرم نبی ‘ : ٍتَیاٰا َر ْشَع اْوَرَت یّٰتَح ُۃَعا َّسال ْوُمُقَت اَل : اَلَقَف َۃَعا َّسال ُرَّکَذَتَن ُنَنْحَو ٍۃَفْرُغ ْنِم ۔ ِہّٰللا ْوُل ُسَر َمْرَیَم ِنْب ی ٰسْیِع ُزْوُلُنَو ْوَجُجَوَما ْوَجُجَیا ُجُرْوُخَو ُۃاَبَّدَوال ُناَخُّدَوال َھاِبِرْغَم ْنِم ِسْم َّشال ُعْوُطُل ُجُرْخَت ٌراَنَو َرِبَعْلا َرِۃْیِزَجِب ٌف َخْسَو ِبِرْغَمْلاِب ٌف َخْسَو ِقِر ْشَمْلاِب ٌف َخْس ٍفْو ُسُخ َثُۃٰلَثَو ُلاَّدَّجَوال ا))۔اسْوُلاَق ُثْیَح ْمُھَعَم ْیُلِقَتَو اْوُتَبا ُثْیَح ْمُھَعَم ُتْیِبَت اَسَّنال ُر ُشَتْحَو ُقْو ُسَت ِنْدَع ِرْعَق ْنِم تشریحات کی ان یہاں مگر ہیں طلب تشریح سب وہ ہے ذکر کا عالمات جن میں حدیث شاہ میں حدیث و تفسیر کتب تشریحات عام ‘ گئیں کردی انداز نظر لیے اس ہیں بےمحل ہیں۔ مطالعہ قابل میں “ قیامت ِتعالما ” رسالہ کے مرقدہ ہللا نور دہلوی الدین رفیع قیامت ہوئے بیٹھے میں مجلس ایک ) عنہ رضوا و ؓ(صحابہ ہم ہیں فرماتے حذیفہ حضرت ” باالخانہ نے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی اکرم نبی کہ تھے رہے کر چیت بات متعلق کے نشان دس تم تک جب ہوگی نہیں قائم تک وقت اس قیامت ” فرمایا ارشاد اور جھانکا سے و یاجوج خروج ‘ االرض دابۃ ‘ )(دھواں دخان ‘ طلوع سے مغرب کا آفتاب گے لو دیکھ نہ آنا پیش کا خسوف میں مقامات تین ‘ خروج کا دجال ‘ نزول کا مریم بن ٰیعیس ‘ ماجوج عدن قعر کا آگ میں العرب جزیرۃ اور میں مغرب ‘ میں مشرق )جانا دھنس میں (زمین وہ تو گے کریں آرام لوگ کو رات جب اور گی جائے لے سمیٹ کو لوگوں جو نکلنا سے بن عطاء ‘ عمرہ ابو ‘ سلمہ ابو ‘ آدم بن الرحمن عبد ‘ االسلمی اور گی جائے ٹھہر بھی مسعود بن عروہ ‘ نضیر بن جبیر ‘ عمرو ابی بن ٰییحی ‘ غفارہ بن موثر ‘ سہیل ابو ‘ بشار (رحمہم الطفیل ابو ‘ نضرہ ابو ‘ عامر بن یعقوب ‘ ابوزرعہ ‘ انصاری زید بن عبدہللا ‘ ثقفی ابی ابن محدث اور ' “ گی۔ رہے ٹھہری وہ بھی تب گے کریں قیلولہ کو دوپہر ہللا)۔جب بسند ؒبصری حسن بروایت نے ؒطبری جریر ابن مفسر و محدث القدر جلیل اور نے ؒحاتم ( : ہے میں اس ہے کی نقل روایت ایک متعلق سے مریم بن ٰیعیس نزول و حیات صحیح ْبَلَق ْمُکْیَلِا ٌعِجَرا ٗہَّنِاَو ُمْتَی ْمَل ی ٰسْیِع َّنِا ِدْوُھَیْلِل )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی ہّٰللا رسول اَلَق( ٰیعیس ” : فرمایا سے یہود نے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی ہللا رسول ” )) ِۃَمِقٰیْلا َمْوَی گے۔ آئیں کر لوٹ جانب تمہاری پہلے سے قیامت وہ بالشبہ اور نہیں مرے )السالم (علیہ کی نجران وفد متعلقہ آیات کی نساء سورة نے ; جریر ابن اور حاتم ابی ابن طرح اسی ( “ بن ربیع روایت طویل ایک حسن بسند سے نظر نقطہ کے حدیث اصول ہوئے کرتے تفسیر (صلی ُّیِبَّنال ْمُھَل اَلَقَف( ( : ہے مذکور یہ بصراحت بھی میں اس ہے کی نقل سے ؓانس ” )) ُئَناَفْلا ِہْیَلَع ِتْیَیا ی ٰسْیِع َّنَاَو ُتُمْوَی اَل ٌّیَح َناَّبَر َّنَا َنُمْوَلْعَت ُتْم ْسَاَل )وسلم وآلہ علیہ ہللا بالشبہ کہ جانتے نہیں تم کیا : فرمایا سے وفد نے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی اکرم نبی کو )السالم (علیہ ٰیعیس بالشبہ اور ہے نہیں موت لیے کے جس ہے زندہ پروردگار ہمارا لفظ جگہ اس نے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی اکرم نبی “ ہوگا۔ ہونا چار دو سے )(موت فنا ماضی جو فرمایا نہیں “ اتی ” لفظ ہے جاتا بوال لیے کے مستقبل جو ہے فرمایا “ یاتی ” علی محدث اور میں الصفات و االسماء کتاب نے ؒبیہقی امام اور ) ہے۔ مخصوص لیے کے روایات جو میں سلسلہ اس صحیح و حسن باسناد میں العمال کنز نے ؒگجراتی متقی کا “ السماء من ” ساتھ کے ذکر کے )السالم (علیہ ٰیعیس نزول میں ان ہیں فرمائی نقل نزول و حیات جو ہے حدیث ذخیرہ کثیر کا قسم اسی اور یہ ہے۔ موجود بصراحت لفظ اور ہے منقول میں تفسیر و حدیث کتب متعلق سے اسرائیل بنی پیغمبر مریم بن ٰیعیس و شہرت باعتبار اور رکھتا نہیں رتبہ کم سے حسن اور صحیح سے لحاظ کے سند قوت جو ابن الدین عماد حدیث حافظ ‘ ترمذی امام تصریح حسب کہ ہے حال یہ کا جن روایات تواتر و ؓصحابہ القدر جلیل سولہ حدیث ائمہ دیگر اور عسقالنی حجر ابن حدیث حافظ ‘ کثیر ہے ٰیدعو یہ کا عنہ رضوا و ؓصحابہ بعض سے میں جن ہے کیا روایت کو ان نے عنہ رضوا کے عنہ رضوا و ؓصحابہ سیکڑوں تصریحات یہ نے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی اکرم نبی کہ ان کے اجنبیت و انکار کسی بغیر ؓکرام صحابہ یہ اور فرمائیں کر دے خطبہ میں مجمع ان چنانچہ تھے سناتے االشہاد رؤس ٰیعل میں خالفت دور کے راشدین خلفائے کو روایات عظیم یہ سے میں ان سنا نے شاگردوں ہزارہا جن سے عنہ رضوا و ؓصحابہ القدر جلیل ثقاہت ‘ حفظ و ضبط میں حدیث روایت فرد ہر میں جن ہیں ذکر قابل ہستیاں المرتبت
65.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 65/97 ‘ مسیب بن سعید ًالمث ہے رکھتا درجہ کا قیادت و امامت نظر پیش کے تجربے وعلمی جن سے اعالم محدثین اور کبار علمائے ان پھر علی بن حنظلہ ‘ ابوقتادہ ٰیمول نافع علوم اور حدیث کو جن میں طبقہ کے حدیث راویان سے میں ان سنا نے تالمذہ بیشمار فی المومنین امیر اور الحدیث امام کے وقت اپنے اپنے جو اور ہے حاصل بلند رتبہ کا قرآن سفیان ‘ زہری شہاب ابن : ہیں یہ گرامی اسمائے کے بعض ہیں گئے کئے تسلیم الحدیث جبلہ ‘ سہیل ‘ عمرہ ابی بن عبدالرحمن ‘ قتادہ ‘ اوزاعی ‘ ذئب ابی ابن ‘ لیث ‘ عیینہ بن عبدہللا ‘ معمر ‘ سالم بن نعمان ‘ جبیر بن الرحمن عبد ‘ رافع ابو ‘ زید بن علی ‘ سہیم بن ہللا)۔ (رحمہم ہللا عبید بن یعنی تابعین تبع ‘ تابعین ‘ عنہ رضوا و ؓصحابہ کا صحیحہ احادیث و روایات ان غرض درجہ اس کے انکار کسی بغیر وہ اور تھا ہوچکا شیوع درجہ اس میں طبقات کے خیرالقرون حیات کی )السالم (علیہ مسیح حضرت نزدیک کے حدیث ائمہ کہ تھیں ہوچکی قبول الئق تھا حاصل “ تواتر ” درجہ سے لحاظ کے معنی و مفہوم کو احادیث ان متعلق سے نزول و کہتے مسلم اور ثابت سے متواترہ احادیث کو مسئلہ اس بےجھجک وہ لیے اسی اور ” کو روایات ان میں درجات و طبقات تمام کے حدیث روایت کہ ہے یہ بھی حقیقت اور تھے “ حدیث ائمہ ” میں روات کے اس میں دور ہر کہ ہے رہا حاصل درجہ یہ کا “ بالقبول تلقی ؓصحابہ بر موقوف و مرفوع ان کہ ہے وجہ یہی ہیں آتے نظر “ مدار ” کے حدیث روایت اور ‘ ؒمسلم امام ‘ بخاری امام ‘ احمد امام میں ناقلین کے روایات اور احادیث عنہ رضوا و عنم کے حدیث ائمہ ‘ سنن و صحیح اصحاب جیسے ؒہماج ابن ‘ ؒترمذی ‘ ؒنسائی ‘ ؒابوداؤد ‘ ہیں قائل کے حسن و صحت کی روایات ان باتفاق وہ اور ہیں شامل گرامی اسمائے مفسر و محدث مشہور ہوئے کرتے ذکر کا صحیحہ احادیث کی قسم اسی اور یہ چنانچہ : ہیں کرتے قائم عنوان یہ اول میں تفسیر اپنی ؒکثیر ابن َنِم ِضْرَاْلا یَلِا ُم اَل َّسَوال ُۃوَّصٰلال َماْیُھَلَع َمْرَیَم ِنْب ی َسْیِع ِلُزْوُن ِفْی ِۃَدِرَواْلا ِثْیِدَحاَاْلا ُرْکِذ( ( مریم بن ٰیعیس حضرت جو ذکر کا احادیث ان ” )) ِۃَمِقٰیْلا َمْوَی ْبَلَق ِنَماَّزال ِرِخآ ِفْی ِئَما َّسال “ ہیں۔ ہوئی نازل میں بارے کے اترنے پر زمین سے آسمان کے )السالم (علیہما : ہیں فرماتے تحریر یہ میں آخر بعد کے کرنے نقل کو احادیث کی سلسلہ بعد کے اس اور َۃَرْیَرُھ یِبَا ِۃَواَیِر ْنِم )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی ہّٰللا رسول ْنَع ٌۃاِتَرَتَوُم ُثْیِدَحاَا ِذِہ ٰھَف( ( ِنْب وِرْمَع ِنْب ِہّٰللاِدْبَعَو َناَعْم َس ِنْب ِسَواَّنَوال َۃَماَمُا یِبَاَو ِصاَعْلا یِبَا ِنْب َنَماْثُعَو ٍدْوُع ْسَم ِنْبَوا َو ِہِلُزْوُن ِۃَفِص یٰلَع ٌۃَل اَلَد َھاْیِفَو ْیًد َسُا ِنْب ْیَفَۃَذُحَو َۃَحْیَر ُش یِبَاَو َۃَثِرَحا ِنْب ِعَّمَجُمَو ِصاَعْلا تواتر سے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی ہللا رسول جو احادیث وہ ہیں یہ پس ” ))الخ ۔۔ِہِناَکَم کے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی (آپ روایت نقل یہ اور ہیں ہوئی منقول تک درجہ کے عبدہللا ‘ سمعان بن نواس ‘ ابوامامہ ‘ العاص ابی بن عثمان ‘ مسعود ابن ‘ ابوہریرہ )صحابہ ان اور ہے ثابت سے اسید بن حذیفہ ‘ شریحہ ابی ‘ حارثہ بن مجمع ‘ العاص بن عمرو بن متعلق سے نزول مکان اور نزول طریقہ کے )السالم (علیہ مریم بن ٰیعیس میں روایات ابو عالمہ )مرقدہ ہللا (نور عسقالنی حجر ابن حدیث حافظ اور “ ہے۔ موجود رہنمائی بھی فتح کو تواتر کے احادیث متعلق سے )السالم (علیہ ٰیعیس نزول سے ؒآبری الحسن َّنَاِب ُّی ِرْبَاْلا ُّیِع َخْسْلا ِن َحَسْلا ُبْوَا اَلَق( ( : ہیں کرتے نقل ساتھ کے الفاظ ان میں الباری سے آبری خسعی الحسن ابو ” ))الخ ۔۔ ٗہَفْلَخ ِّلْیَصُی ی ٰسْیِع َّنَاَو ِۃَّمُاْلا ِذٖہ ٰھ ْنِم ِدِّیْھَمْلا امت اسی مہدی کہ ہیں چکی پہنچ کو تواتر میں بارہ اس رسول احادیث کہ ہے منقول الحبیر تلخیص اور “ گے۔ پڑھیں نماز پیچھے کے ان )السالم (علیہ ٰیعیس اور گے ہوں میں ِرَباْخَاْلا ُبَحاْصَا َفَقَّتاَف ی ٰسْیِع ُعْفَر اَّمَا(َو ( ہیں فرماتے تحریر یہ میں ضمن کے الطالق کتاب تمام تو معاملہ کا )السالم (علیہ ٰیعیس رفع لیکن ” ))الخ اًّیَح ٖہَبِدِنِب ٗہَّنَا یٰلَع ِرْیِسْفَّتَوال زندہ ہنوز ساتھ کے عنصری جسد اپنے وہ کہ ہے اجماع پر اس کا تفسیر و حدیث علمائے محمد سید عالمہ وقت محقق عصر محدث اور “ )گے ہوں نازل قیامت قرب وہی (اور ہیں : ہیں فرماتے تحریر یہ میں تائید کی “ تواتر ” اس میں “ االسالم عقیدۃ ” انورشاہ ِرَظَتُمْنْلا یِف َئَجا َما ِرُتَواَت یِف ُحْیِضْوَّتلَا اَھاَّم َس ٌۃَلا َسِر ِّیِناَکْو َّشال ِۃَم اَّلَعْلا ِّدِثَحُمْلِل(َو ( ٍحْیِحَص َنْیَب َما السالم علیہ ٖہِلُزْوُن یِف اًثْیِدَح َنْیِر ْشِعَو ًۃَع ْسِت َھاْیِف َرَکَذ ِحْیِسَمْلَوا ِلاَّدَّجَوال عالمہ محدث اور ” ))الخ ُئَصاْحاِاْل ُتْوُفَتَف ُراَث آْلا اَّمَاَو ٌعْوُفَمْر ٗہْنِم ُدَیْزَاَو اَذَھ ٍحِلَوَصا ٍن َوَحَس
66.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 66/97 َئَماَجا ِرُتَواَت ِفْی ُحْیِضْوَّتال ” ہے رکھا یہ نام کا جس ہے کیا تصنیف رسالہ ایک نے شوکانی ٰیعیس حضرت احادیث انتیس نے انہوں میں رسالہ اس “ ِحْیِسَمْلا َو ِلاَّدَّجَوال ِرَظَتُمْنْلا یِف ‘ صحیح سے لحاظ کے حدیث اصول جو ہیں کی نقل متعلق سے نزول کے )السالم (علیہ زیادہ بھی سے تعداد اس احادیث مرفوع اور ہیں شامل کو درجات تینوں صالح ‘ ؒحسن ٰیعیس حضرت کہ ہے وجہ یہی اور “ ہیں۔ بیشمار تو عنہ رضوا و ؓصحابہ آثار اور ہیں موجود اجماع کا محمدیہ امت پر السماء من نزول و حیات اور سماوی رفع کے )السالم (علیہ سفارینی عقیدہ کتاب مستند و مشہور کی کالم و عقائد علم چنانچہ ہے ہوچکا منعقد : ہے موجود تصریح کی اجماع اس کے امت میں ُدِّی َس ِئَما َّسال َنِم َلِزْنَی َاْن َثُۃِلاَّثال ُۃَم اَلَعْلَا ی ٰمْظُعْلا ِۃَعا َّسال ِتَما اَلَع ْنِم ْیَا َھاْنِم(َو ( اَّمَاَو ِۃَّمُاْلا ِعَماْجِاَو ِۃَن ُّسَوال ِبَتاِکْلاِب ٌتِباَث ٗہ ُلُزْوُنَو )السالم (علیہ َمْرَیَم ْبُن ی ٰسْیِع ) ُحْیِسَمْلَا( َکِل ٰذ َرَکْنَا َماَّنِاَو ِۃْیَعِر َّشال ِلْھَا ْنِّم ٌدَحَا ٖہْیِف ْفِلاَخُی ْمَلَو ٖہِلُزْوُن یٰلَع َّمُۃُاْلا ِتْعَمْجَا ْدَقَف ُعَماْجاِاْل یہ عالمت تیسری سے میں قیامت عالمات اور ” )) ِہِف اَلِخِب ُّدَتُیْع اَل اَّمِم ُۃَدِح اَلَمْلَوا ُۃَفِس اَلَفْلا سے آسمان کا ان اور گے اتریں سے آسمان ) ؓمریم بن ٰی(عیس مسیح حضرت کہ ہے سے حدیث و (قرآن ہے ثابت ًاقطع سے امت اجماع اور )(حدیث سنت ‘ )(قرآن کتاب اترنا ذرا میں اس تو ہے تعلق کا امت اجماع تک جہاں )ہیں فرماتے بعد کے کرنے ثابت نزول اجماع کا امت پر ہونے نازل سے آسمان کے )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت کہ نہیں شبہ موجود خالف بھی کا ایک کسی سے میں اسالمی شریعت پیروان میں بارے اس اور ہے اسالم اور ہے کیا انکار کا )السالم (علیہ ٰیعیس نزول نے ملحدوں اور فلسفیوں البتہ نہیں “ ہے۔ بےوقعت ًاقطع انکار کا ان میں حکمت کی )السالم (علیہ مسیح ونزول حیات میں روشنی کی وبراہین دالئل کو )السالم (علیہ مسیح نزول و حیات میں سطور گزشتہ طمانیت مزید اب ہیں کرتے عطا یقین علم کو حق طالب اور منصف ایک جو ہے گیا کیا بیان نے حق علمائے کو جن ہے ہوتا معلوم مناسب بھی ذکر کا حکمتوں چند ان لیے کے قلب پیش بہرحال حقیقت یہ قبل سے مطالعہ کے اس لیکن ہے فرمایا بیان میں سلسلہ اس احاطہ کا مصلحتوں کی مشیت کی اس اور حکمتوں کی ٰیتعال ہللا کہ چاہیے رکھنی نظر بھی عبور پر حکم و اسرار کے کائنات خالق مخلوق اور ہے ناممکن لیے کے انسانی عقل دین سے راہ کی حق علم اور مومن فراست ‘ امت علمائے تاہم ؟ ہے کرسکتی کیسے کے دسترس محدود اپنی اور کرتے فرسائی قلم پر مصالح و اسرار کے دین احکام اور تاریخ علمی کی دور اسالمی ہیں۔ آئے کرتے اظہار کا حقائق علمی پر موضوع اس مطابق علی ‘ خطاب بن عمر شرف کا امامت کی االسرار علم میں اول دور کہ ہے چلتا پتہ سے دو میں صدی ایک ہر اگرچہ بعد کے اس اور تھا حاصل کو ؓعائشہ صدیقہ اور طالب ابی بن اموی خلیفہ ساتھ کے خصوصیت لیکن ہیں رہے محقق و ماہر کے اس ربانی علمائے چار تیمیہ ابن حافظ ‘ مصری السالم عبد بن الدین عز عالمہ ‘ ؒہابوحنیف امام ‘ ؒالعزیز عبد بن عمر خاص سے علم اس کو دہلوی ہللا ولی شاہ اور زبیدی ٰیمرتض سید ‘ روحی ‘ غزالی امام ‘ تھا۔ فرمایا عطا ملکہ فطری کو ان میں سلسلہ اس نے ٰیتعال ہللا اور تھی مناسبت کا امامت کی االسرار علم میں اول دور کہ ہے چلتا پتہ سے تاریخ علمی کی دور اسالمی بعد کے اس اور تھا حاصل کو ؓعائشہ صدیقہ اور طالب ابی بن علی ‘ خطاب بن عمر شرف لیکن ہیں رہے محقق و ماہر کے اس ربانی علمائے چار دو میں صدی ایک ہر اگرچہ بن الدین عز عالمہ ‘ ابوحنیفہ امام ‘ العزیز عبد بن عمر اموی خلیفہ ساتھ کے خصوصیت شاہ اور زبیدی ٰیمرتض سید ‘ روحی ‘ ؒیغزال امام ‘ ؒہتیمی ابن حافظ ‘ ؒمصری السالم عبد میں سلسلہ اس نے ٰیتعال ہللا اور تھی مناسبت خاص سے علم اس دہلویؒ کو ہللا ولی ہے ہوتی کی نکات و لطائف حیثیت کی حکمت بہرحال تھا۔ فرمایا عطا ملکہ فطری کو ان ” بھی میں مسئلہ بحث زیر لیے اس جاسکتا دیا نہیں مرتبہ کا حجت و دلیل کو اس اور ِّل ُکِلَو ِبَواَّصالِب ُمَل ْعَا َوُہّٰللا چاہیے۔ سمجھنا سے نظر نقطہ اسی ذکر کا “ مصلحت و حکمت ۔ ِباَطِخْلا ْصُلَف ٗہَدْنِع ٍئْی َش
67.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 67/97 چکے پڑھ یہ میں بشارتوں اور گوئیوں پیشین کی کتابوں مذہبی اپنی اسرائیل بنی یہود گا پڑے سابقہ سے “ ضاللت مسیح ” اور “ ہدایت مسیح ” شخصیتوں دو کو ان کہ تھے کب ظہور کا “ ہدایت مسیح ” بعد کے )السالم (علیہ ٰیموس کہ تھے منتظر وہ لیے اس حسد و بغض نے انہوں تو ہوا ظہور کا ہدایت مسیح جب کہ قسمت شومی لیکن ہے ہوتا قتل آمادہ بلکہ نہیں یہی صرف اور کردیا رد کر کہہ “ ضاللت مسیح ” کو اس سے راہ کی تھے رہتے جری وقت ہر پر اس وہ لیے اس تھا رہا دستور انکا انبیاء قتل چونکہ اور ہوگئے تو ہوگئے قائل بھی کے قتل کے ان طرح کی )السالم (علیہم انبیاء دوسرے وہ جبکہ پس مسیح کو اس یہود تو ہو خروج کا )(دجال ضاللت مسیح جب کہ ہوئی نہ بات خیز تعجب یہ نظر پیش کے تعلیم مذہبی کیونکہ ہوجائیں پیرو کے اس سے حیثیت قومی کر کہہ ہدایت کر کہہ ضاللت مسیح کو ہدایت مسیح وہ جب اور تھا ضروری اتباع کا ہدایت مسیح پر ان تسلیم ہدایت مسیح مطابق کے دعوے کے اس ہی کو ضاللت مسیح اب تو کرچکے قتل کی ضاللت مسیح کہ تھی کرچکی فیصلہ ہیٰلا مشیت مگر گے ہوجائیں آمادہ پر کرنے کے اس اور گا کرے ٰیدعو کا خدائی اول وہ اور ہوگا الشان عظیم چونکہ فتنہ کا گمراہی فتن دور جو چاہیے ہونا ہی قریب کے قیامت خروج کا اس لیے اس گا بنے ہدایت مسیح بعد ہدایت مسیح ” کہ ہوا منشا بھی یہ کا ہیٰلا حکمت لیے اس ہوگا آماجگاہ کی فتنوں یعنی جب اور لگاسکیں نہ بھی ہاتھ کو اس وہ کہ جائے لیا بچا طرح اس سے فتنہ کے یہود کو “ مالئے ہدایت مسیح تو کرے بلند علم کا گمراہی اپنی ضاللت مسیح کہ آپہنچے وقت وہ ضاللت مسیح کثیر تعداد بہ کہ جو اسرائیل بنی یہود اور اترے پر ارضی کائنات سے ٰیاعل مسیح جب اور کرلیں مشاہدہ کا باطل و حق سے آنکھوں اپنی گے ہوں رہے ہو پیرو کے َھَقَز َو ُّقَحْلا َئَجا { تو ہوجائے خاتمہ کا ضاللت مسیح سے ہاتھوں مقدس کے ہدایت } اًقْوُھَز َناَک َلِطَباْلا َّنِا ُلِطَباْلا ان ماسوا کے حق قبول طرح اس اور آجائے سامنے کے نگاہوں کی ان کر بن الیقین حق فی ” ساتھ کے ضاللت مسیح بھی وہ پھر یا اور رہے نہ ہی باقی کار چارہ دوسرا لیے کے میں تاریخ کی ملل و ادیان کہ رہے نظر پیش بھی حقیقت یہ نیز جائیں۔ کردیئے “ النار قتل بھی کو )السالم (علیہم انبیاء اپنے نے جس ہے جماعت ایسی ایک ہی یہود صرف انبیاء جن نے یہود بعد کے )السالم (علیہ ٰیموس حضرت لیکن روکا نہیں ہاتھ سے کرنے کانبیاء امتی علماء ” جو تھے ہی “ نبی ” صرف وہ تھے رنگے ہاتھ سے ناحق خون کے کا ناحق قتل اس کے ان رسول شریعت صاحب کوئی مگر تھے مصداق کا “ اسرائیل بنی ٰی(عیس رسول القدر جلیل ایک نے انہوں کہ تھا موقع پہال یہ لیے اس تھا بنا نہیں مظلوم تیاری مکمل سے لحاظ کے اسباب دنیوی بلکہ کیا ارادہ صرف نہ کا کرنے قتل کو ؓمریم بن کہ جائے لیا بچا طرح اس کو ہدایت مسیح کہ کیا فیصلہ یہ نے حق مشیت تب تھی کرلی نہ دسترس پر )السالم (علیہما مریم بن مسیح وہ کہ ہوجائے محسوس بھی کو یہود خود ٰیاعل مالئے کو )السالم (علیہ مسیح حضرت اور آیا کار بروئے مشیت فیصلہ ذا لٰہ سکے پا کے احساس اس لیکن گئے رہ کر ہو ہیچ اسباب دنیوی تمام اور گیا لیا اٹھا جانب کی گو رہے پڑے میں قعر کے ہی گمان و ظن اور سکے پہنچ نہ تک حال حقیقت چونکہ باوجود کردیا۔ قتل کو مریم بن مسیح نے ہم کہ رہے کرتے یہی مشہور لیے کے رکھنے بات اپنی پولوس بعد کے عرصہ کچھ کہ دیکھئے بدبختی کی ) ٰی(نصار ہدایت مسیح متبعین ادھر افسانہ ہوئے گھڑے کے یہود کرکے پیدا بدعت کی کفارہ و تثلیث عقیدہ میں ان نے رسول میں گمراہی اس جماعتیں دونوں ٰینصار و یہود اب اور کردیا عقیدہ داخل بھی کو صلیب تب گئے کردیئے قتل کر پرچڑھا صلیب )السالم (علیہما مریم بن ٰیعیس کہ ہوگئیں مبتال (علیہ مسیح حضرت اور سنایا فیصلہ درمیان کے باطل و حق کر ہو نازل نے عزیز قرآن ایک پھر اور تھے کئے اختیار رخ الگ الگ دو جو نے جماعتوں دونوں متعلق کے )السالم حقیقت ذریعہ کے یقین علم متعلق کے سب ان تھا ہوگیا بھی اتفاق کا دونوں میں مسئلہ مگر دی دعوت لیے کے حق قبول کرکے واضح کو گمراہی کی دونوں اور واشگاف کو حال متعلق سے )السالم (علیہ مسیح حضرت اور کردیا انکار نے دونوں سے حیثیت جماعتی ان کا حقائق ان چونکہ الشہادہ و الغیب عالم مگر رہے قائم پر عقیدہ کن گمراہ اپنے اپنے مسیح کہ ہوا تقاضا یہ کا حکمت کی اس لیے اس ‘ تھا دانا و عالم قبل سے وقوع کے
68.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 68/97 خروج بھی کا ضاللت مسیح جب جائے بھیجا دوبارہ وقت اس پر ارضی کائنات کو ہدایت ہوجائے روشن میں درجہ کے مشاہدہ حال حقیقت سامنے کے ٰینصار و یہود تاکہ ہوچکے کرشمے کے ہیٰلا قدرت تھے مدعی وہ کے قتل کے جس کہ لیں دیکھ سے آنکھوں یہود )السالم (علیہ مسیح حضرت کہ ہوں نادم ٰینصار اور ہے موجود حیات بقید وہ بدولت کی تھا ہیچ اور باطل پا سرتا وہ تھا کیا اختیار عقیدہ کن گمراہ جو کر چھوڑ پیروی سچی کی پستی کی باطل اور بلندی سر کی حق میں معرکہ کے ضاللت و ہدایت طرح اس اور ایمان ” جماعتیں دونوں اور ہوجائیں مجبور پر تصدیق کی عزیز قرآن کرکے مشاہدہ کا دونوں اور ہوجائیں سرنگوں و شرمسار پر عقائد باطل اپنے اور کرلیں اختیار ورغبت برضا کو “ حق اہل دوسرے مظاہرہ و مشاہدہ یہ کا ضاللت و ہدایت عالوہ کے جماعتوں دونوں ان چونکہ احادیث طرح اس اور گے ہوجائیں اسالم بگوش حلقہ بھی وہ لیے اس گے کریں بھی باطل ” وہ اور ہوگا مذہب ہی ایک صرف کا ارضی کائنات میں زمانہ اس مطابق کے صحیحہ ی ٰفَکَو ٖہِّلُک ِنْیِّدال یَلَع ٗہَرِہ ْظُیِل ِّقَحْلا ِنْیِدَو ی ٰدُہْلاِب ٗہَلْو ُسَر َل ْرَسَا ْٓیِذَّلا َوُہ { ہوگا۔ “ اسالم اور )السالم (علیہم انبیاء کہ ہے ہوتا معلوم یہ سے تاریخ کی ملل و ادیان 1 } اْیًدِہ َش ِہّٰللاِب نوح حضرت دور پہال ہیں۔ رہے دور مستقل دو کے “ ہللا سنت ” درمیان کے حق معاندین میں دور اس ‘ ہے ہوتا ختم پر )السالم (علیہ لوط حضرت کر ہو شروع سے )السالم (علیہ بلکہ دھرا نہ کان پر حق صدائے کی پیغمبروں اپنے نے قوموں جب کہ رہی یہ ہللا سنت کے ٰیتعال ہللا تب ‘ رہیں آتی آڑے کے حق پیغام کے اس اور کرتی تمسخر کا اس برابر اور بنادیا۔ بصیرت و عبرت باعث کو ان لیے کے دوسروں اور کردیا ہالک کو ان نے عذاب ہللا (صلی محمد االنبیاء خاتم کر ہو شروع سے )السالم (علیہ ابراہیم حضرت دور دوسرا جب کہ ہے رہی یہ خصوصیت کی ہللا سنت میں دور اس ہے۔ پہنچا تک )وسلم وآلہ علیہ اپنے اور کیا اصرار پر مخالفت کی حق کلمہ نے قویم دین دشمنان اور حق اعدائے ان نے ٰیتعال ہللا تو لیا بنا العین نصب اپنا کو تمسخر ساتھ کے ان اور دہی ایذا کو پیغمبروں وطن میں راہ کی خدا وہ کہ دیا حکم یہ کو پیغمبروں اپنے بجائے کے کرنے ہالک کو قوموں جنہوں ہیں پیغمبر پہلے )السالم (علیہ ابراہیم حضرت چنانچہ جائیں کر ہجرت اور دیں چھوڑ یہ کہ لیے اس تھی نہیں قوم اپنی کی )السالم (علیہ ابراہیم حضرت ؎(یہ ١ قوم نے کے ) تھے۔ )(حامی حام بنی قوم کی ان اور عراق نماردہ اور تھے )(سامی سام بنی : کیا اعالن یہ سامنے فرما ہجرت جانب کی شام سے عراق اور } ْیُمِکَحْلا ْیُزِزَعْلا َوُھ ٗہَّنِا ْیِّبَر یٰلِا ٌرِجَھاُم ِّنْیِا { کو اسرائیل بنی وہ اور آئی پیش کو )السالم (علیہ ٰیموس حضرت صورت یہی پھر گئے۔ چونکہ نے لشکریوں کے اس اور فرعون مگر کرگئے ہجرت کو شام سے مصر کر لے ساتھ اور گئے۔ کردیئے غرق میں قلزم بحر وہ لیے اس آئے آڑے بھی کے ہجرت اور کی مزاحمت مکہ قریش جب کہ آئی پیش کو )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی محمد اکرم نبی صورت یہی کوئی میں مزاحمت کی دین اعمال اور تصادم ساتھ کے حق دین ‘ تمسخر ‘ اذیت نے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی آپ کہ ہوا فیصلہ کا ہیٰلا مشیت تب کیا نہ فروگذاشت دقیقہ طرف ہر کے مکان اور نگرانی کی قسم ہر چنانچہ جائیں کر ہجرت کو مدینہ سے مکہ مامون و محفوظ )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی آپ سے قدرت کرشمہ باوجود کے محاصرہ گئے۔ کر ہجرت مدینہ کی ان اور ہوئی بعثت کی )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت میں دور اسی کے “ ہللا سنت ” کیا کچھ سب وہ بھی ساتھ کے حق دعوت کی ان اور ساتھ کے ان نے اسرائیل بنی قوم ایک میں ان اور تھے رہے کرتے ساتھ کے پیغمبروں اپنے دین دشمنان اور حق معاندین جو قتل کو انبیاء چند قبل سے )السالم (علیہ مسیح حضرت وہ کہ تھی زیادہ خصوصیت یہ کے اسی تھے درپے کے قتل کے )السالم (علیہ مسیح حضرت اب اور تھے کرچکے تک اور ہدایت مسیح یہود کہ چاہیے رہنی نہیں فراموش بھی حقیقت باال مسطورہ یہ ساتھ قرار ضاللت مسیح کو ؓمریم بن ٰیعیس حضرت اور تھے منتظر کے دومسیح ضاللت مسیح یہ کا بالغہ حکمت کی ٰیتعال ہللا لیے اس ہیں منتظر کے ہدایت مسیح بھی آج کر دے مالئے بجائے کے ارضی کائنات ہجرت کی )السالم (علیہ مسیح حضرت کہ ہوا فیصلہ درمیان کے ضاللت مسیح اور ہدایت مسیح وہ پر آنے وقت مقررہ تاکہ ہو جانب کی ٰیاعل
69.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 69/97 تو سمجھیں ہدایت مسیح کو ہدایت مسیح اگر جانب ایک اور کرسکیں امتیاز سے مشاہدہ “ اسالم ” حق دین کر دیکھ کو حقانیت و صداقت کی حق فیصلہ کے قرآن جانب دوسری کی یہود اور جہالت اپنی بھی کو ٰینصار ہی ساتھ اور کردیں خم تسلیم سر سامنے کے ساتھ کے اعتقاد و یقین پر صداقت کی قرآن تعلیم بھی وہ اور ہو ندامت پر تقلید رانہ کو (علیہ مسیح حضرت کہ ہے حال صورت عجیب کچھ ہوجائیں۔ آمادہ پر دینے شہادت حق تبلیغ و دعوت درمیان کے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی محمد االنبیاء خاتم اور )السالم میں وثمرات نتائج کے اس پھر اور مخالفت و معاندت کی حق سے جانب کی معاندین اور دونوں جھٹالیا کو دونوں نے قوم اپنی کی دونوں ہے جاتی پائی مشابہت زیادہ ہی بہت نے اعجاز کرشمہ کے حق قدرت کیا محاصرہ کا مکانوں بعد کے قتل سازش نے قوموں کی معاملہ کا ہجرت لیے کے دونوں رکھا محفوظ طرح ہر سے دسترس کی دشمنوں کو دونوں اور تھی عامہ بعثت چونکہ بعثت کی )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی اکرم نبی البتہ آیا پیش پر ارضی کرہ کا )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی اقدس ذات لیے کے تبلیغ و دعوت کی اس ابن ٰیعیس اور ہوا حکم کا ہجرت مدینہ سے مکہ لیے اس ‘ تھا ضروری مسلسل قیام مقصد خاص ایک اور تھے چکے پہنچا حق دعوت کو قوم چونکہ )السالم (علیہما مریم اس تھا ضروری ہونا موجود پر ارضی کائنات بعد کے مدید مدت کا ان نظر پیش کے عظیم (صلی اکرم نبی طرح جس پھر آئی پیش سماوی ہجرت بجائے کے ارضی ہجرت کو ان لیے قتل سے حربہ اپنے کو خلف بن امیہ ضاللت قائد کے زمانہ اپنے نے )وسلم وآلہ علیہ ہللا گے کریں قتل کو دجال ضاللت مسیح کے قوم بھی )السالم (علیہما مریم بن ٰیعیس کیا پر مکہ وطن کے آپ بعد کے ہجرت کو )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی اکرم نبی طرح جس اور شام بھی نزول کا )السالم (علیہما مریم بن ٰیعیس ‘ دیا فرما عطا اقتدار نے حق قدرت پر بنا کی سازشوں معاندانہ کی قوم اپنی سے جس ہوگا میں شہر مشہور اس کے ہی پورے کے شام اور دمشق ‘ المقدس بیت اور تھی آئی پیش ہجرت جانب کی ٰیاعل مالئے ہوگی۔ حکومت کی ان الرغم علی کے یہود پر ملک درجہ اس کو یہود نے )السالم (علیہم انبیاء قتل پہلے سے )السالم (علیہ مسیح حضرت فیصلہ یہ متعلق کے ہستی کسی کہ بیٹھے سمجھ یہ وہ کہ تھا بنادیا بےباک اور گستاخ فقیہ ہمارے اور ہم کو جس اور ہے میں ہاتھ ہمارے کاذب متنبی یا ہے صادق نبی وہ کہ بن ٰیعیس نے انہوں میں باطل زعم اسی چنانچہ ہے القتل واجب وہ دیدیں قرار کاذب کردیا صادر ٰیفتو کا قتل نے فقیہوں کے ان اور کہا ضاللت مسیح کو )السالم (علیہما مریم میں اسرائیل بنی بعد کے )السالم (علیہ ٰیموس کہ تھی ہستی القدر جلیل وہ یہ حاالنکہ کے )(انجیل حق پیغام جدید نے اس اور تھا ہوا نہیں ہی مبعوث پیغمبر کوئی کا پایہ اس مشیت کی ٰیتعال ہللا تب تھی دی ڈال جان دوبارہ میں کھیتی مردہ کی روحانیت ذریعہ جائے کردیا پاش پاش کو باطل زعم اس کے اسرائیل بنی لیے کے ہمیشہ کہ ہوا فیصلہ کا کائنات کرلے وعدہ کا حفاظت کی جس کائنات خالق العالمین رب کہ جائے دیا دکھا اور قدرت ید چنانچہ پاسکتی نہیں دسترس پر اس بھی کائنات مجموعہ یا ہستی کوئی کی اٹھا جانب کی ٰیاعل مالئے ساتھ کے عنصری جسد کو ہستی مقدس اس وقت اس نے وسائل تمام کے جان حفاظت کی اس نے دشمنوں ساتھ کے محاصرہ کے مکان جبکہ لیا مذاہب کہ یہ وہ کردی پیدا صورت نئی ایک نے واقعہ اس پھر تھے۔ کردیئے مسدود دنیوی کے جن ہے ایسی شخصیت کی ہی )السالم (علیہ مسیح حضرت صرف میں تاریخ کی ٰینصار و یہود اور ہوا پیدا اختالف سخت درمیان کے باطل و حق متعلق کے قتل عدم و قتل کشمکش کی عقائد متضاد اور باطل دو باوجود کے اتفاق پر قتل و صلیب واقعہ باہم کے مسیح ” وہ نزدیک کے ان کہ ہیں کرتے ظاہر یہ وجہ کی صلیب و قتل یہود لگی۔ آنے نظر کے کائنات جو تھے بیٹے کے خدا وہ کہ ہیں بتاتے یہ صلیب وجہ ٰینصار اور تھے “ ضاللت اور ہوجائے پاک سے پاپ دنیا پاپی تاکہ تھے گئے بھیجے لیے کے بننے کفارہ کا گناہوں سے )السالم (علیہما مریم بن مسیح اور واضح کو “ حق امر ” نے قرآن جب بعد صدیوں اس سے حیثیت جماعتی نے جماعتوں دونوں بھی تب کیا روشن کو حال حقیقت متعلق (علیہما مریم بن مسیح خود کہ ہوا فیصلہ کا حق قدرت ذا لٰہ کردیا انکار سے کرنے قبول کو ٰینصار و یہود اور کردیں تصدیق کی فیصلہ کے قرآن کر ہو نازل پر موعود وقت ہی )السالم
70.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 70/97 کو کتاب اہل مدعیان بعد کے اس اور ہوجائے خاتمہ طرح اس بخود خود کا عقائد باطل کے پر ان حجت کی خدا اور رہے نہ باقی گنجائش کوئی لیے کے پیروی کی باطل و شرک کہ ہے کردیا فیصلہ یہ لیے کے بود و ہست کائنات نے ٰیتعال ہللا جبکہ نیز ہوجائے۔ تمام : ہے موت اور فنا کو وجود ایک ہر ماسوا کے ہستی کی خدا } ِتْوَمْلا َقُۃِئآَذ ٍسْفَن ُکُّل { } ٗہَھْجَو اَّلِا ٌکِلاَھ ٍئْی َش ُکُّل { اس ہے حیات مقام بلکہ ہے نہیں موت مقام قدس عالم اور ٰیاعل مالئے کہ ہے ظاہر یہ اور اور چکھیں ذائقہ کا موت بھی )السالم (علیہما مریم بن ٰیعیس کہ ہے ضروری بس از لیے ” لیے اس ہو سپرد کے ہی زمین امانت کی زمین تاکہ اتریں پر ارضی کائنات لیے کے اس (علیہ ٰیعیس نزول و حیات نے حق علمائے ہوا۔ مقدر “ ارضی نزول ” بعد کے “ ورفع حیات نہیں مقصود احاطہ کا ان یہاں ہیں فرمائے بیان “ حکم و اسرار ” جو متعلق سے )السالم انور محمد سید عالمہ عصر محدث ورنہ گیا کردیا ذکر کا حکمتوں چند مختصر لیے اس ہے سپرد میں “ االسالم عقیدۃ ” مقالہ طویل ایک میں سلسلہ اس نے مرقدہ ہللا نور شاہ میں بیان پیرایہ دقیق مگر لطیف نہایت نے استاذ حضرت ہے مطالعہ الئق جو ہے فرمایا قلم کی عالم دو ہر ان کر دے قرار “ صغیر عالم ” کو انسان اور “ کبیر انسان ” کو عالم کائنات اور رفع کے )السالم (علیہ مسیح حضرت سے اس ہے فرمائی بحث جو پر موت و حیات ہوجاتی واضح طرح اچھی بہت حکمت کی رجوع جانب کی ارضی کائنات میں قیامت قرب قابل جگہ اپنی لیے اس ہے نہیں متحمل کی بحث دقیق اس چونکہ کتاب یہ لیکن ہے اس کرکے اضافہ میں سلسلہ اس جملے چند سے جانب اپنی اب میں آخر ہے۔ مراجعت متعلق سے “ انبیاء میثاق ” میں عزیز قرآن 3 : ہے ہوتا معلوم مناسب کرنا ختم کو مبحث ْمُکَئَجآ َّمُث ٍۃَمْکِح َّو ٍب ٰتِک ْنِّم ْمُکْیُتَتٰا َمآَل َنّٖیِبَّنال َقاَثْیِم ُہّٰللا َذَخَا ْذِا َو { : ہے باری ارشاد یہ آْوُلاَق ْیِرْصِا ْمُکِل ٰذ یٰلَع ْمُتْذَخَا َو ْمُتْرَرْقَئَا اَلَق ٗہَّنُرْنُصَتَل َو ٖہِب َّنُنِمْؤُتَل ْمُکَعَم َماِّل ٌقِّدَصُّم ْوٌل ُسَر نے ہللا کہ جب ہے ذکر قابل وقت وہ اور ” } َنْیِدِھ ّٰشال َنِّم ْمُکَعَم اَنَا َو اْوُدَھ ْشاَف اَلَق اْرَنَرْقَا آئے حکمت اور کتاب )سے جانب کی (خدا پاس تمہارے جب کہ لیا عہد )(یہ سے نبیوں ) )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی (محمد رسول ایک میں موجودگی تمہاری کہ ہو ایسا پھر اور النا ایمان پر اس تم ضرور ہیں پاس تمہارے جو کی کتابوں ان ہو کرتا تصدیق جو آئے ہم ‘ ہاں : دیا جواب نے انہوں ؟ کیا اقرار نے تم کیا : کہا نے ہللا ‘ کرنا مدد کی اس ضرور ساتھ تمہارے بھی میں اور رہو گواہ پر عہد اس اپنے تم پس : کہا نے ہللا ‘ کیا اقرار نے و عہد اس ؎ ١ ؓعباس ابن حضرت تفسیر حسب میں آیات ان کی عمران آل “ ہوں۔ گواہ وآلہ علیہ ہللا (صلی محمد االنبیاء خاتم میں ازل نے ٰیتعال ہللا جو ہے تذکرہ کا پیمان مطابق کے بیان اسلوب کے قرآن ‘ لیا سے السالم رسلعلیہم و انبیاء متعلق کے )وسلم امتیں جو سے میں ان کہ تھا سے امتوں کی ان معرفت کی رسل و انبیاء خطاب یہ اگرچہ اور الئیں ایمان پر ان تو پائیں مبارک زمانہ کا )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی االنبیاء خاتم میں دور اپنے اپنے نے پیغمبر ایک ہر چنانچہ کریں یاوری و نصرت کی ان میں حق دعوت حق اہل سے میں ان اور دالیا یاد بھی کو وعدہ اس کے خدا ساتھ ساتھ کے حق تعلیم مدد کی ان میں حق پیغام اور گے الئیں ایمان پر ان ضرور کہ کیا اقرار اور کیا وعدہ نے َذَخَا اَّلِا ِئَیاِبْنَاْلا َنِم اًّیِبَن ُہّٰللا َثَعَب َما ٍۃَیٰاِرْیِسْفَت یِف ٍساَّبَع ِنْبَوا ٍّیِلَع ْنَع( ( ؎ ١ گے۔ کریں یٰلَع َقاَثْیِمْلا َذُخْاَی َاْن ٗہَرَمَاَو ٗہَّنُرْنُصَیَل َو َّنَنِمْؤُیَل ٌّیَوَحُھ َو اًدَّمَحُم ُہّٰللا َثَعَب ْنِئَل َقاَثْیِمْلا ِہْیَلَع سے میں انبیاء نے ٰیتعال ہللا ” )) ٗہَّنُرْنُصَیَلَو ِہِب َّنُنِمْؤُیَل ٌئَیاْحَا ْمُھَو ٌدَّمَحُم َثِعُب ْنِئَل ِہِتَّمُا عہد یہ سے اس تو فرمایا مبعوث لیے کے ہدایت و رشد کی قوم کسی بھی کو نبی جس وآلہ علیہ ہللا (صلی محمد جبکہ ہو زندہ وقت اس کوئی سے میں تم اگر کہ ہے لیا ضرور سے ان اور کرنا مدد کی اس ضرور اور النا ایمان پر اس ضرور تم تو ہوگی بعثت کی )وسلم جو سے میں ان کہ لیں پیمان و عہد یہی بھی سے امتوں اپنی اپنی وہ کہ کہا بھی یہ “ بیینّنال میثاق ” یہ تو “ کریں۔ مدد کی اس اور الئیں ایمان پر اس وہ ہوں موجود وقت اس حضرات مخاطب اول کے ومیثاق عہد اس چونکہ میں ازل تاہم رہا ہوتا پورا طرح اس اگرچہ رسل و انبیاء خود کہ تھا تقاضا کا حیثیت عملی کی میثاق اس لیے اس تھے رسل و انبیاء تاکہ دکھائے کرکے مظاہرہ عملی کا میثاق و عہد اس رسول یا نبی کوئی بھی سے میں
71.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 71/97 خطاب عربیت بقاعدہ “ْوٌل ُسَر ْمُکَئَجا َّمُث ” مگر ہو ثابت موثر بھی راست براہ اولین خطاب یہ اس پہلے سے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی اقدس ذات جو سے رسل و انبیاء تمام ان تھا وآلہ علیہ ہللا (صلی محمد میں ہی ازل کیونکہ تھے والے ہونے مبعوث میں ارضی کائنات ہللا (صلی محمد پس “ َنْیِبِّیَّنال َمَتاَخَو ِہّٰللا َلْو ُسَر َّنِکٰلَو تھا ہوچکا مقرر یہ لیے کے )وسلم اجتماع کا “ بیینّنال میثاق ” مقدر سے ازل اور “ بیینّنال خاتم ” صفت کی )وسلم وآلہ علیہ بعثت پیغمبر ایک کوئی میں سابقین انبیائے کہ تھا ممکن میں شکل ایک اسی صرف دنیائے امت کی ان اور وہ اور فرمائیں نزول بعد کے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی محمد حق دین ” اور الئیں ایمان پر )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی االنبیاء خاتم سامنے کے انسانی ہو۔ پورا حق وعدہ کا “ ٗہَّنُرْنُصَتَلَو ٖہِب َّنُنِمْؤُتَل ” تاکہ کریں مظاہرہ کا نصرت و مدد کی “ اپنے رسل و انبیاء تمام اگرچہ کہ ہے ہوچکی عیاں بخوبی حقیقت یہ میں صفحات گزشتہ لیکن تھے آتے چلے دیتے بشارات کی )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی محمد میں زمانہ اپنے اقدس ذات وہ کہ آئی میں حصہ کے ہی )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت خصوصیت یہ اور بنے ومبشر مناد راست براہ اور تمہید لیے کے بعثت کی )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی َماِّل اًقِّدَصُم ْمُکْیَلِا ِہّٰللا ْوُل ُسَر یِّنِا { : فرمایا ارشاد یہ ہوئے دیتے حق تعلیم کو اسرائیل بنی کہ ہے یہ حقیقت اور } ُدَمْحَا ٗہُم ْسا یِدْعَب مْنِم ِتْیْاَّی ٍلْو ُسَرِب ًرامَبِّشُمَو ِۃَراْوَّتال َنِم َّیَیَد َنْیَب علیہ ہللا (صلی والرسل االنبیاء خاتم وہ کہ تھا حق یہ کا ہی اسرائیل بنی انبیائے خاتم کہ ہوا فیصلہ یہ کا ربانی حکمت لیے اس ہو “ مبشر ” اور “ مناد ” کا بعثت کی )وسلم وآلہ تمام وہی میں معاملہ اس اور جائے کیا منتخب کو ہی ان لیے کے وقار کے بیینّنال میثاق راست براہ بلکہ نہیں ہی سے جانب کی امتوں تاکہ کریں نمائندگی کی رسل و انبیاء کے حقیقت اسی ‘ سکے ہو مظاہرہ عملی کا عہد وفائے سے جانب کی رسل و انبیاء ِساَّنال یَلْوَا اَنَا( ( : فرمایا ارشاد یہ نے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی اکرم نبی نظر پیش کا خدا چونکہ قرآن مگر ) )ٌّیِبَن ٗہَنْیَوَب ِنْیْیَب َسْیَل ٍت اَّلَع ُد اَلْوَا ُئَیاِبْنَاْلَوا َمْرَیَم ِنْبا ی َسْیِعِب سے تحریف کو اس تک دنیا رہتی نے ہیٰلا وعدہ کے َنْوُظِف ٰحَل ٗہَل اَّنِا اور ہے پیغام آخری (علیہم انبیاء دوسرے ثمرات کے تعلیم کی اس پر طور قدرتی لیے اس ہے کردیا محفوظ کی اس اور گے رہیں کرتے کام اپنا تک طویل مدت میں مقابلہ کے تعلیمات کی )السالم علمائے ” لیے کے کرنے مشتعل لیے کے ربانی طاعت اور گرمانے کو قلوب سے روشنی بعثت جب لیکن گے۔ رہیں دیتے انجام حق خدمت طرح کی اسرائیل بنی انبیائے “ امت امت اور گا ہوجائے عرصہ طویل ہی بہت ہوئے گزرے کو )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی محمد کیفیت یہ کر ہو پیدا اضمحالل انتہائی میں اعضاء اجتماعی اور ٰیقو عملی کے مرحومہ ہی روحانیت کی حق علمائے صرف لیے کے روی تیز اور بیداری کی ان کہ گی ہوجائے کو ان “ بالحجہ قائم ” کوئی کہ ہوگا متقاضی کا اس وقت وہ ہوگی نہیں ثابت کافی و انبیاء ؓمریم بن ٰی(عیس ہستی جو کہ کیا مقدر نے ہیٰلا مشیت لیے اس اور سنبھالے اور ہو نزول وقت ہی ایسے کا اس ہے مامور لیے کے نمائندگی کی ازل میثاق کے رسل امت اور نیابت کی اقدس ذات کر رہ درمیان کے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی محمد امت وہ دکھائے۔ کرکے مظاہرہ عملی کا “ ٗہَّنُرْنُصَتَلَو ٖہِب َّنُنِمْؤُتَل اور دے انجام فرض کا امامت کی رکھتے تعلق سے ٰیاعل مالئے کہ جو نے مقدرات ان کے ازل کہ دیکھئے قدرت کرشمہ اب القدر جلیل اپنے اسرائیل بنی ؟ بچھائی بساط اپنی طرح کس میں ارضی کائنات تھے مکان سے جانب چہار دستہ شاہی ‘ ہیں کرچکے مکمل سازش لیے کے قتل کے پیغمبر کرشمہ معجزانہ کہ کرتی نہیں طرح اس کام اپنا حق قدرت مگر ‘ ہے ہوئے کئے محصور کو ” میں حصہ دوسرے کے زمین وسیع کی خدا کر نکال سے وہاں محفوظ کو ان ذریعہ کے و محفوظ لیے کے ہجرت کی ٰیاعل مالئے کو ان کہ یہ ہوا بلکہ نہیں ‘ دیتی کرا “ ہجرت کر پھنسا میں دلدل کی ریب و ظن کو والوں کرنے محصور و سازش اور لیا اٹھا زندہ مامون احکام ارضی کے انسان ارضی پھر اور کردیا عطا نشان کا “ َۃِخَر آْلا َو َیاْنُّدال ِسَرَخ ” کو ان یہی ‘ تھا موزوں لیے کے نمائندگی کی “ بیینّنال میثاق ” جو کردیا مقرر وقت وہ لیے کے : فرمایا ظاہر طرح اس نے ترجمان وحی زبان کو جس ہے حقیقت وہ قرآن نص کو اسی اور ) ) اًلْدَع اًمَکَح َمْرَیَم َنْبِا ْمُکْیِف َلِزْنَّی َاْن َّنَکِشُیْوَل ِدٖہَیِب ِسْیْفَن ْیِذَّل(َوا ( نمائندگی کی رسل و انبیاء میثاق ہستی یہ پھر } ِۃَعا َّسلِّل ٌمْلِعَل ٗہَّنِاَو { : کیا واضح یوں نے
72.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 72/97 کر دیکھ کو قدرت کرشمہ اس تو ہوگا نزول کا اس جب کہ گی کرے ادا حق طرح اس کا حق وہ اور گے ہوجائیں روشن سے ایمان تازگی اور قرآن تصدیق قلوب کے مسلمانوں اور ‘ ہے ہی “ اسالم ” صرف مستقیم راہ بالشبہ کہ گے کریں یقین میں درجہ کے الیقین تمام کی اس متعلق سے غیب عالم نکلی صادق “ خبر ” یہ طرح جس کی صادق مخبر ” عقیدہ باطل اپنے قوم بحیثیت ٰینصار اور ‘ ہیں حق بالشبہ اور حق طرح اسی خبریں وآلہ علیہ ہللا (صلی محمد اور قرآن اور گے ہوں شرمسار و نادم پر “ کفارہ ” و “ تثلیث جب یہود اور گے کریں یقین سعادت راہ اور نجات راہ لیے اپنے کو النے ایمان پر )وسلم مسیح اور گے کرلیں مشاہدہ کا باطل و حق معرکہ کے ضاللت مسیح اور ہدایت مسیح اب تو گے پالیں باطل کو عقیدہ ملعون کے صلیب و قتل دعوائے اپنے سے نزول کے ہدایت کے ضاللت مسیح اور گا رہے نہیں کار چارہ کوئی سوا کے “ بالحق ایمان ” بھی کو ان { : صادق خبر وہ کی قرآن ہے یہی گے جائیں بن “ مسلم ” ہی سب وہ عالوہ کے رفقاء شگفتگی و تازگی کی ایمان میں مسلمانوں } ٖہِتْوَم ْبَلَق ٖہِب َّنَنِمْؤُیَل اَّلِا ِب ٰتِکْلا ِلْھَا ْنِّم ْنِا َو پر جماعتوں مشرک اب کر دیکھ انقالب انگیز حیرت کا عقائد تبدیلی میں یہود اور ٰینصار ‘ کار اثرات روحانی زبردست کے پیغمبر مقدس کے خدا ہی ساتھ اور گا پڑے اثر قدرتی بھی طرح اس اور گے ہوجائیں اسالم بگوش حلقہ بھی وہ کہ ہوگا یہ نتیجہ اور گے ہوں فرما کو صداقت اپنی ارشاد یہ کا )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی محمد ‘ قرآن حامل ‘ ترجمان وحی : گا کرے نمایاں ِفْی ُہّٰللا َکِلُیْھَو َم اَل ْساِاْل اَّلِا َھاَّلُک َلَلِمْلا ٖہِنَزَما ِفْی ُہّٰللا َکِلُیْھَو ِم اَل ْساِاْل یَلِا اَسَّنال ْوُعْد(َوَی ( تصریحات کی احادیث اور قرآن کہ ہوگیا روشن بھی یہ سے تفصیل اس )) اَلَّدَّجال ٖہِنَزَما تو ہوتا مبعوث نبی جدید کوئی لیے کے دہی انجام کی فرض اس اگر کہ ہیں رہی کر ثابت باقی “ بیینّنال خاتم ” شرف خصوصی کا )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی اکرم نبی جانب ایک وجود عالم مظاہرہ عملی کا اولین خطاب کے “ بیینّنال میثاق ” طرف دوسری اور رہتا نہ میں ہی امت کی )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی محمد بہرحال ہستی وہ کیونکہ ‘ آتا نہ میں ” خصوصی شرف سے حیثیت دونوں ًالعق اور ًالنق آمد کی نبی سابقہ البتہ ہوتی۔ سے ہے۔ کرتی پورا بھی کو بیینّنال میثاق اور ہے نہیں قادح بھی لیے کے “ بیینّنال خاتم میں روشنی کی احادیث صحیح نزول واقعات کی ذکر احادیث صحیح جو متعلق سے )السالم (علیہ ٰیعیس نزول میں صفحات گزشتہ کو ان ہیں ہوتی ظاہر تفصیالت جو سے احادیث صحیح دوسری بعض اور سے ان اور گئیں کے باری ذات مگر ہے معین اگرچہ دن کا قیامت : ہے جاسکتا کیا بیان یوں ساتھ کے ترتیب : ہوگا اچانک وقوع کا اس اور ہے نہیں علم کا اس کو کسی سوا ما ُۃَعا َّسال ُمْتُھ َئَجآ اَذِا یّٰٓتَح { “ ہے کو ہی خدا علم کا قیامت اور ” } ِۃَعا َّسال ُمْلِع ٗہَدْنِعَو { قیامت ” } ًۃَتْغَب اَّلِا ْمُکْیِتْاَت اَل { “ گی آجائے گھڑی کی قیامت اچانک پر ان کہ ٰیحت ” } ًۃَتْغَب “ اچانک مگر گی آئے نہیں پر تم علیہ ہللا (صلی (حضور ” “ ِلِئا َّسال َنِم َمَل ْعَاِب َھاْنَع ْوُلُئ ْسَمْلَماا ” ہے میں جبرائیل حدیث اور سے آپ میں بارہ کے قیامت )کہا سے )السالم (علیہ جبرائیل حضرت نے )وسلم وآلہ اور “ ہے۔ بھی کو مجھ قدر اسی ہے کو آپ علم اجمالی جو ‘ نہیں علم بھی مجھے زیادہ : ہے میں حدیث اور ایک ِنَع َنْوُلَأ َتْس : ٍرْھ َشِب ْوَتُمَّی َاْن ْبَلَق ْوُلُقَی )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی ہّٰللا رسول ُتْعِم (َس ( کا اس تو ہو کرتے سوال متعلق کے قیامت سے مجھ تم ” )) ِہّٰللا َدْنِع َھاُمْلِع َماَّنِاَو ِۃَعا َّسال کی بیان عالمات ایسی چند نے صحیحہ احادیث اور عزیز قرآن البتہ “ ہے کو ہی ہللا تو علم چل پتہ کا ہوجانے نزدیک کے اس صرف سے ان اور گی آئیں پیش قریب کے قیامت جو ہیں )السالم (علیہ مسیح حضرت عالمت بڑی ایک سے میں “ ساعت اشراط ” ان ‘ ہے سکتا کے عیسائیوں اور مسلمانوں ” : ہیں یہ تفصیالت کی جس ہے نزول سے ٰیاعل مالئے کا رسول ساللہ امامت و قیادت کی مسلمانوں اور ہوگا رہا ہو بپا جنگ معرکہ سخت درمیان کا جس ہوگی میں ہاتھ کے شخص ایسے ایک سے میں )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی ہللا
73.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 73/97 خروج کا “ دجال ” ضاللت مسیح میں ہی درمیان کے آرائی معرکہ اس ہوگا۔ “ مہدی ” لقب ف ‘ ا ‘ (ک پر پیشانی کی اس نے قدرت کرشمہ ‘ ہوگا چشم یک اور یہودی ًالنس یہ ‘ ہوگا اس اور گے سکیں پڑھ سے ایمانی فراست ایمان اہل کو جس ہوگا دیا لکھ “ کافر ” )ر ‘ کی بازوں شعبدہ اور گا کرے ٰیدعو کا خدائی اول یہ گے۔ رہیں جدا سے فریب و دجل کے نہ کامیاب کو سلسلہ اس مگر ‘ گا دالئے توجہ جانب اپنی کو لوگوں کر دکھا شعبدے طرح بکثرت یہود دیکھ یہ ‘ ہوگا مدعی کا ہونے “ ہدایت مسیح ” بعد کے عرصہ کچھ کر دیکھ مسیح یہود کہ ہوگا لیے اس یہ اور ‘ گے ہوجائیں پیرو کے اس سے حیثیت قومی بلکہ تک آج کے آمد کی ہدایت مسیح اور ہیں کرچکے ادعا کا قتل کے ان کرکے انکار کا ہدایت منہ مسلمان میں مسجد جامع کی )(شام دمشق روز ایک میں حالت اسی ‘ ہیں منتظر موعود مہدی اور ہوگی رہی ہو اقامت لیے کے نماز ‘ گے ہوں جمع لیے کے نماز اندھیرے جانب اپنی کو سب آواز ایک اچانک کہ ‘ گے ہوں چکے پہنچ پر ٰیمصل لیے کے امامت اور گا آئے نظر ہوا چھایا بادل سپید تو گے دیکھیں کر اٹھا آنکھ مسلمان ‘ گی کرلے متوجہ چادروں حسین زرد دو )السالم (علیہ ٰیعیس کہ ہوگا مشاہدہ یہ میں عرصہ سے تھوڑے ہیں رہے اتر سے ٰیاعل مالئے ہوئے دیئے سہارا پر وں بازو کے فرشتوں اور ہوئے لپٹے میں اب ‘ گے جائیں چلے واپس اور گے دیں اتار پر شرقی منارہ کے مسجد کو ان فرشتے ‘ گا ہوجائے وابستہ دوبارہ ساتھ کے ارضی کائنات تعلق کا )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت طالب کے سیڑھی لیے کے اترنے میں مسجد صحن مطابق کے فطرت قانون عام وہ اور ہوں کھڑے آ میں صفوں کی نماز ساتھ کے مسلمانوں وہ اور ہوگی تعمیل ًافور ‘ گے ہوں (علیہ ٰیعیس حضرت کر ہٹ پیچھے تعظیم ازراہ )موعود (مہدی امام کا مسلمانوں ‘ گے لیے تمہارے اقامت یہ کہ گے فرمائیں آپ ‘ گا کرے درخواست کی امامت سے )السالم امامت کی مسلمانوں اب بعد کے نماز فراغت ‘ پڑھاؤ نماز ہی تم لیے اس ہے گئی کہی ضاللت مسیح کر لے حربہ وہ اور گی آجائے میں ہاتھوں کے )السالم (علیہ مسیح حضرت مقابل پر لد باب کو اس باہر سے پناہ شہر اور گے ہوجائیں روانہ لیے کے قتل کے )(دجال ‘ آپہنچا وقت کا خاتمہ کے زندگی اور دجل کے اس کہ گا جائے سمجھ دجال ‘ گے پائیں (علیہ ٰیعیس حضرت اور گا لگے پگھلنے طرح کی رانگ سے وجہ کی خوف لیے اس قتل میں رفاقت کی دجال یہود جو پھر اور گے کردیں قتل کو اس کر بڑھ آگے )السالم کی ہدایت مسیح اور گے کرلیں قبول “ اسالم ” سب عیسائی اور وہ گے جائیں بچ سے مشرک اثر کا اس ‘ گے آئیں نظر کھڑے بشانہ شانہ کے مسلمانوں لیے کے پیروی سچی باقی مذہب کوئی ماسوا کے اسالم میں زمانہ اس طرح اس اور گا پڑے بھی پر جماعتوں گا۔ رہے نہیں کے ہدایت کی ٰیتعال ہللا اور ہوگا خروج کا ماجوج و یاجوج بعد عرصہ کچھ کے واقعات ان حضرت ‘ گے رکھیں محفوظ سے فتنہ اس کو مسلمانوں )السالم (علیہ ٰیعیس مطابق وہ میں درمیان اس اور گا رہے ؎ ١ سال چالیس حکومت دور کا )السالم (علیہ مسیح برکت و خیر اور انصاف و عدل میں حکومت دور کے ان اور گے کریں بسر زندگی ازدواجی عناصر کے شرارت اور بدی اور گے پئیں پانی گھاٹ ایک شیر اور بکری کہ ہوگا عالم یہ کا “ گے۔ جائیں رہ کر دب )السالم (علیہ مسیح وفات نبی وہ اور گا ہوجائے انتقال کا )السالم (علیہ ٰیعیس بعد کے حکومت دور سالہ چالیس طویل کی ؓابوہریرہ حضرت گے۔ ہوں دفن میں پہلو کے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی اکرم ٢ )) ٗہْوَنُنُفْدَوَی َنُمْوِل ُمْسْلا ِہْیَلَع ِّلْیَصُی َو یّٰفَتَوُی َّمُث ًۃَن َس َنْیِعْرَبَا ُثُکْمَیَف( ( : ہے میں حدیث وفات بعد کے اس اور گے کریں قیام سال چالیس کر اتر پر ارضی کائنات وہ پھر ” ؎ ؎ ١ “ گے۔ کریں دفن کو ان اور گے پڑھیں نماز کی جنازہ کے ان مسلمان اور گے پاجائیں کہ ہیں فرماتے کثیر ابن حافظ گا۔ رہے سال سات حکومت دور کہ ہے میں مسلم صحیح اور کی ان وقت اس ہوا سماوی رفع کا )السالم (علیہ مسیح جب کہ ہے یہ صورت کی تطبیق طرح اس ‘ گے رہیں حیات بقید مزید سال سات بعد کے نزول اور تھی سال تینتیس عمر
74.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 74/97 حدیث یہ قبل سے اس ؎ ٢ گی۔ ہوجائے سال چالیس حیات مدت کل میں ارضی کائنات میں مسند نے احمد امام ‘ میں مصنف نے شیبہ ابی ابن کو اس ہے۔ گئی کی نقل مکمل حضرت میں صحیح نے حبان ابن اور میں تفسیر نے جریر ابن ‘ میں سنن نے ابوداؤد ‘ عبدہللا بن یوسف بن محمد ‘ حسن بسند نے ترمذی امام اور ہے۔ کیا نقل سے ؓابوہریرہ : ہے کی نقل روایت یہ سے ؓسالم بن عبدہللا حضرت سے سلسلہ کے سالم بن سالم بن عبدہللا ” )) ٗہَعَم ُنَفُیْد َمْرَیَم ِنْبا ی ٰسْیِعَّو ٍدَّمَحُم ُۃَفِص ِۃَراْوَّتال یِف ُتْوٌبْکَم اَلَق( ( )سیرت و (حلیہ صفت کی )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی محمد میں تورات ‘ فرمایا نے )(رض مریم بن ٰیعیس کہ ہے مسطور بھی یہ اور ہے مذکور مائدہ سورة اْیًدِھ َش ْمِھْیَلَع ُنْوُکَی ِۃَمِقٰیْلا َمْوَی َو “ گے۔ ہوں دفن )میں (پہلو ساتھ کے ان i سورة آخر پھر ہے گیا کیا تذکرہ کا حاالت مختلف کے )السالم (علیہ مسیح حضرت میں اس کے قیامت اول نے ٰیتعال ہللا پر مقام اس ہے ہوتی ختم پر تذکرہ کے ہی ان بھی سوال متعلق کے امتوں کی ان سے )السالم (علیہم انبیاء جب ہے کھینچا نقشہ کا واقعہ آج ! خدایا گے کریں عرض اور گے کریں اظہار کا علمی ال اپنی سے ادب غایت وہ اور ہوگا فیصلہ نظر پیش کے امور حقائق میں معاملہ ہر کہ ہے فرمایا مقرر لیے اسی تونے دن کا کا حقائق اور قلوب اور ہیں سکتے لگا حکم کوئی پر ہی ظواہر صرف چونکہ ہم اور سنائے یہی صرف ہیں سکتے دے شہادت کیا ہم آج لیے اس نہیں کوئی سوا تیرے واال دیکھنے کچھ سب ہی تو لیے اس ہے الغیوب عالم تو نہیں معلوم کچھ ہمیں کہ ہیں سکتے کہہ } ِبُیْوُغْلا ُم اَّلَع َتْنَا َکَّنِا َناَل َمْلِع اَل اْوُلاَق ُتْمْبِجُا آَذ َما ْوُلُقَیَف َل ُسُّرال ُہّٰللا ُعَمْجَی َمْوَی { : ہے جانتا (اپنی تم گا کہے پھر گا کرے جمع کو پیغمبروں ٰیتعال ہللا جبکہ )ہے ذکر (قابل دن وہ ” کے علم (تیرے گے کہیں )(پیغمبر وہ ؟ گئے دیئے جواب کیا )سے جانب کی امتوں اپنی “ ہے۔ واال جاننے خوب کا باتوں کی غیب ہی تو بالشبہ جانتے نہیں کچھ ہم )سامنے ہی پر نفی کی حقیقی علم فرمانا “ َناَل َمْلِع اَل ” کا )السالم (علیہم انبیاء کہ ہے ظاہر کہ ہیں علم ال سے جواب کے امتوں اپنی درحقیقت وہ کہ ہوگا نہیں مطلب یہ ہوگا مبنی صریح یہ تو ہو یہ اگر مقصد کا جواب کیونکہ کیا انکار نے کس اور کیا قبول کو ایمان نے کس نسبت کی بد عمل اس جانب کی )السالم (علیہم انبیاء اور ہے بیانی کذب اور جھوٹ پیش ہی کے حقیقت باال مسطورہ جواب یہ کا )السالم (علیہم انبیاء لیے اس ہے ناممکن ہی عزیز قرآن خود لیے کے اس ہوگا نہیں مبنی پر انکار سے علم کے حاالت ظاہر ہوگا نظر )السالم (علیہم انبیاء دن کے قیامت کہ ہے کہتا یہ جگہ متعدد وہ کیونکہ ہے عدل شاہد کہ یہ اور تھا دیا پہنچا پیغام کا خدا تک ان نے ہم کہ گے دیں شہادت پر امتوں اپنی اپنی بعد کے رکھنے نظر پر مقامات دو ہر ان تو کردیا رد یا کیا قبول کو دعوت ہماری نے انہوں ہوگا جواب یہی کا )السالم (علیہم انبیاء اول پر طریقہ کے ادب پاس کہ گا جائے کہا یوں صرف وہ کہ ہوگا حکم یہ کا برتر خدائے کو ان جب لیکن ہے مذکور میں مائدہ سورة جو : گے دیں شہادت وہ تب دیں شہادت مطابق کے علم اپنے ) ! پیغمبر (اے پھر ” } اْیًدِھ َش ِئ آَلُؤٰٓھ یٰلَع َکِب َناْئِج َّو ٍدْیِھ َشِب ٍۃَّمُا ِّل ُک ْنِم َناْئِجاَذِا ْیَفَفَک { کریں طلب گواہ ایک سے امت ایک ہر ہم جب )دن کے قیامت (یعنی دن اس ہوگا حال کیا )ہوگا گواہ پر احوال و اعمال کے امت اپنی جو گے کریں طلب کو پیغمبر کے اس (یعنی گے َنْیِبِّیَّنالِب َئْٓیاِجَو { “ گے۔ کریں طلب لیے کے دینے گواہی پر لوگوں ان بھی تمہیں ہم اور اور شہداء اور انبیاء )دن کے (قیامت گے جائیں الئے اور ” } ِّقَحْلاِب ْمُہَنْیَب َیِضُقَو ِئَہَدا ُّشَوال حضرت “ ساتھ۔ کے حق کا برائی اور اچھائی درمیان کے لوگوں ان گا جائے کیا فیصلہ ابن (عن ( : ہے فرمائی بیان تفسیر یہی کی “ َناَل َمْلِع اَل ” بھی نے ؓعباس بن عبدہللا ” ))اَّنِم ٖہِب ُمَل ْعَا َتْنَا َمْلِع اَّلِا َناَل َمْلِع اَل َّلَج َو َّزَع ِلَرِّبا ْوُلْوُقَی )(االیۃ ُہّٰللا ُعَمْجَی َمْوَی عباس فرماتے میں تفسیر کی )(اآلیہ ُل ُسُّرال ُہّٰللا ُعَمْجَی َمْوَی آیت )(رض عباس بن عبدہللا حضرت ہے نہیں علم کوئی کو ہم گے کریں عرض سے عزوجل رب )السالم (علیہم انبیاء : ہیں “ ہے۔ جانتا بہتر سے ہم تو متعلق کے جس کہ علم ایسا مگر انکار کے حقیقی علم کو “ َناَل َمْلِع اَل ” جملہ کے آیت ؒانورشاہ عالمہ المحققین شیخ اور : ہیں فرماتے ارشاد ہوئے کرتے محمول پر
75.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 75/97 انسان دوسرے ہو کا رتبہ اور درجہ کسی وہ خواہ کو انسان ایک کہ ہے مسلم بات یہ ” درجہ کے “ ظن ” سے لحاظ کے حقیقی علم وہ ہے ہوتا معلوم بھی کچھ جو متعلق کے نے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی اکرم نبی پر بنا اسی پہنچتا نہیں تک “ علم ” آگے سے لگاتے حکم پر معامالت ظاہر ہم ” “ ِرِئَرا َّسال یَّلَتَوُم َوُہّٰللا ِرِھَواَّظالِب ُمُکَنْح ُنَنْح ” فرمایا ارشاد حدیث دوسری ایک نیز “ ہے حاصل قابو ہی کو خدا صرف تو پر حقیقتوں اور بھیدوں اور ہیں اپنے پاس میرے تم فرمایا ارشاد نے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی اقدس ذات ہے میں نہیں غیب علم کو مجھ اور ہیں ہوتے زبان چرب زیادہ سے میں تم بعض اور ہو التے جھگڑے دیتا ہی پر حاالت ظاہر ہوں دیتا فیصلہ بھی جو لیے اس کروں ہوجایا آگاہ سے حقیقت کہ ٹکڑا سا ٰیادن کا بھائی کسی سے زبانی چرب اپنی بھی شخص جو کہ رہے یاد تو ہوں ‘ عزیز قرآن بہرحال “ گا۔ کرلے حاصل ٹکڑا کا جہنم بالشبہ وہ گا کرے حاصل ناحق بھی ظاہر یہی سب علماء اقوال اور صحابہ آثار ‘ )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی رسول احادیث کرتا نہیں ظاہر کو “ علم عدم ” جواب کا )السالم (علیہم انبیاء پر موقع اس کہ ہیں کرتے اصل کہ تھا یہ ذکر غرض ہے۔ کرتا واضح کو “ انکار پر علم حقیقی ” ادب پاس ازراہ بلکہ قیامت جو ہے رہا ہو کا واقعہ اس کے )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت تذکرہ اصل پر مقام کی ان سے ان بعد کے کرانے شمار انعامات اپنے پر ان ٰیتعال ہللا جبکہ گا آئے پیش میں آیات سابق مگر گے کریں پیش جوابات حال حسب وہ اور گا کرے سوال متعلق کے امت لیے کے کرنے پیدا امتیاز سے ان لیے اس تھے ہوئے ذکر مطالب دوسرے چونکہ میں انبیاء پر طور عام جو ہوا ضروری ذکر کا جواب و سوال ان والے ہونے میں قیامت ًاتمہید تذکرہ یہ بھی لیے اس اور گے جائیں کئے متعلق کے امتوں کی ان سے )السالم (علیہم کا اس ہے گیا کیا ذکر جو کا )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت میں آیات اگلی کہ تھا ضروری : ہے رکھتا مطابقت ساتھ کے جواب کے )السالم (علیہم انبیاء بھی بیان یہ پیرا اَلَق ِہّٰللا ِنُدْو ْنِم ِنْیَھٰلِا َیِّمُا َو ِنْیْوُذِخَّتا ِساَّنلِل َتُقْل َتْنَئَا َمْرَیَم َنْبا ی َسْیِعٰی ُہّٰللا اَلَق ْذِا َو { ِسْیْفَن ِفْی َما ُمَلْعَت ٗہَتْمِلَع ْدَقَف ٗہُتُقْل ُتْنُک ْنِا ٍّقَحِب ِلْی َسْیَل َما َلْوُقَا َاْن ْٓیِل ُنْوُکَماَی َنَک ٰحْب ُس َہّٰللا واُدُب ْعا ِنَا ٖٓہِب ِنْیْرَتَمَا َمآ اَّلِا ْمُھَل ُتُقْل َما ۔ ِبُیْوُغْلا ُم اَّلَع َتْنَا َکَّنِا َکِسْفَن ِفْی َما ُمَل ْعَا آَل َو َو ْمِھْیَلَع َبْیِقَّرال َتْنَا ْنَتُک ِنْیَتْیَّفَوَت اَّمَفَل ْمِھْیِف ُتُدْم اَّم اْیًدِھ َش ْمِھْیَلَع ُتْنُک َو ْمُکَّبَر َو ْیِّبَر ْیُمِکَحْلا ْیُزِزَعْلا َتْنَا َکَّنِاَف ْمُھَلْرِفْغَت ْنِا َو َکُدَباِع ْمُھَّنِاَف ْمْبُھِّذَعُت ْنِا ۔ ْیٌدِھ َش ٍئْی َش ِّل ُک یٰلَع َتْنَا کیا ” گا کہے سے مریم بن ٰیعیس ٰیتعال ہللا جب )ہے ذکر قابل بھی وقت (وہ اور ” } کے ہللا کو دونوں کو ماں میری اور کو مجھ کہ تھا دیا کہہ سے )اسرائیل (بنی لوگوں تونے کیسے لیے میرے ہے زیبا ہی کو تجھ پاکی ” گے کہیں ٰیعیس “ ؟ لینا بنا خدا ماسوا کہی سے ان بات یہ نے میں اگر نہیں۔ الئق کے کہنے جو کہتا بات وہ میں کہ تھا ممکن جی میرے جو ہے جانتا کچھ سب وہ تو )کہ لیے (اس ہوتی میں علم تیرے ًایقین تو ہوتی ہے واال جاننے خوب کا باتوں کی غیب تو بالشبہ پاسکتا نہیں بھید تیرا میں اور ہے میں وہ ‘ کہا نہیں کچھ اور سے ان دیا حکم کو مجھ تونے کا جس ماسوا کے بات اس نے میں وقت اس پر ان میں اور ہے رب کا سب تمہارا اور میرا جو کرو پوجا کی ہی ہللا صرف کہ یہ ہی تو تب کرلیا قبض کو مجھ تونے جب پھر رہا درمیان کے ان میں تک جب ہوں گواہ کا تک بندے تیرے یہ تو چکھائے عذاب کو سب ان تو اگر ہے گواہ پر چیز ہر تو اور تھا نگہبان پر ان ٰیعیس حضرت “ ہے۔ واال حکمت غالب بالشبہ ہی تو پس دے بخش کو ان اگر اور ہیں : گا فرمائے ارشاد یہ ٰیتعال ہللا تب گے چکیں دے جواب اپنا جب )السالم (علیہ اًدَبَا َھآْیِف َنْیِلِد ٰخ ُر ٰھْنَاْلا َھاِتَتْح ْنِم ْیِرَتْج ٌتّٰنَج ْمُھَل ْمُھُقْدِص َنْیِدِقّٰصال ُعَیْنَف ْوُمَی اَذ ٰھ ُہّٰللا اَلَق { کہ ہے دن ایسا یہ گا فرمائے ٰیتعال ہللا ” } ْیُمِظَعْلا ْوُزَفْلا َکِل ٰذ ُہْنَع اْوُضَر َو ْمْنُھَع ُہّٰللا َیَرِض ہے بہشت لیے کے ہی ان ہے آسکتی کام ہی بازی راست کی بازوں راست میں جس سے خدا وہ اور گے رہیں ہمیشہ ہمیشہ وہ میں جن اور ہیں بہتی نہریں نیچے کے جن “ ہے۔ کامیابی بڑی ہی بہت یہ )گے پائیں ٰیاعل مقام (کا راضی سے ان خدا اور راضی ارشاد یہ ٰیتعال ہللا تب گے چکیں دے جواب اپنا جب )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت ُر ٰھْنَاْلا َھاِتَتْح ْنِم ْیِرَتْج ٌتّٰنَج ْمُھَل ْمُھُقْدِص َنْیِدِقّٰصال ُعَیْنَف ْوُمَی اَذ ٰھ ُہّٰللا اَلَق { : گا فرمائے یہ گا فرمائے ٰیتعال ہللا ” } ْیُمِظَعْلا ْوُزَفْلا َکِل ٰذ ُہْنَع اْوُضَر َو ْمْنُھَع ُہّٰللا َیَرِض اًدَبَا َھآْیِف َنْیِلِد ٰخ کے ہی ان ہے آسکتی کام ہی بازی راست کی بازوں راست میں جس کہ ہے دن ایسا
76.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 76/97 اور گے رہیں ہمیشہ ہمیشہ وہ میں جن اور ہیں بہتی نہریں نیچے کے جن ہے بہشت لیے بڑی ہی بہت یہ )گے پائیں ٰیاعل مقام (کا راضی سے ان خدا اور راضی سے خدا وہ عظمت کی پیغمبر القدر جلیل ایک جواب کا )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت “ ہے۔ کامیابی کیسے یہ کہ گے ہوں خواہ عذر میں العزت رب بارگاہ پہلے وہ ہے مطابق عین کے شان َما َنَک ٰحْب ُس { : ہے خالف کے حق ًاقطع جو کہتا بات نامناسب ایسی میں کہ تھا ممکن کے حقیقی علم کے خدا پر طور کے ادب پاس پھر } ٍّقَحِب ِلْی َسْیَل َما َلْوُقَا َاْن ْٓیِل ُنْوُکَی ْدَقَف ٗہُتُقْل ُتْنُک ْنِا { : گے کریں ظاہر مرادف کے بےعلمی اور ہیچ کو علم اپنے سامنے کے اس اور } ِبُیْوُغْلا ُم اَّلَع َتْنَا َکَّنِا طَکِسْفَن ِفْی َما ُمَل ْعَا آَل َو ِسْیْفَن ِفْی َما ُمَلْعَت ط ٗہَتْمِلَع : گے کریں گزارش حال کا دہی انجام کی فرض اپنے بعد حق دعوت اس نے امت پھر اور } ْمُکَّبَر َو ْیِّبَر َہّٰللا واُدُب ْعا ِنَا ٖٓہِب ِنْیْرَتَمَا َمآ اَّلِا ْمُھَل ُتُقْل َما { ذکر ساتھ کے اسلوب اس بھی کا شہادت کی امور ظاہر متعلق کے اس ؟ دیا کیا جواب کا { : آئے نظر بےوقعت میں مقابلہ کے شہادت کی خدا شہادت کی ان میں جس گے کریں ِّل ُک یٰلَع َتْنَا َو ْمِھْیَلَع َبْیِقَّرال َتْنَا ْنَتُک ِنْیَتْیَّفَوَت اَّمَفَل ْمِھْیِف ُتُدْم اَّم اْیًدِھ َش ْمِھْیَلَع ُتْنُک َو اور ہیں بھی قانتین مومنین میں امت کہ ہوئے جانتے یہ بعد کے اس اور }ْیٌدِھ َش ٍئْی َش جس گے کریں ذکر میں انداز اس کا مغفرت طلب اور عذاب وقوع ‘ بھی جاحدین منکرین نہ مترشح بھی ورزی خالف کی قانون کے عمل پاداش کردہ مقرر کے خدا جانب ایک سے پورا وہ ہے تقاضا جو کا جذبہ کے شفقت و رحمت ساتھ کے امت جانب دوسری اور ہو حضرت جب } ْیُمِکَحْلا ْیُزِزَعْلا َتْنَا َکَّنِاَف ْمُھَلْرِفْغَت ْنِا َو َکُدَباِع ْمُھَّنِاَف ْمْبُھِّذَعُت ْنِا { : ہوجائے العالمین رب تو کرچکے ختم کو مضمون کے جواب یا عرضداشت )السالم (علیہ ٰیعیس پیدا نہ مایوسی کو مغفرت و رحمت مستحق تاکہ دیا سنا فیصلہ یہ کا عدل قانون اپنے نے غلط عذاب مستحق اور ہوجائیں روشن قلوب کے ان سے شادمانی و مسرت بلکہ ہو : کرسکیں نہ قائم توقعات زیر آیات کہ ہے یہ حاصل کا تفصیالت تمام ان } ْمُھُقْدِص َنْیِدِقّٰصال ُعَیْنَف ْوُمَی اَذ ٰھ ُہّٰللا اَلَق { حضرت اور گا آئے پیش روز کے قیامت واقعہ یہ کہ ہے کرتا صراحت وسباق سیاق کا بحث لیے اس آیا نہیں پیش وقت کے جانے لیے اٹھا پر ٰیاعل مالئے کے )السالم (علیہ ٰیعیس اور کرنا سے } َل ُسُّرال ُہّٰللا ُعَمْجَی َمْوَی { ابتداء کی واقعہ کے )السالم (علیہ ٰیعیس کہ کسی اور ماسوا کے قیامت روز ہونا پر } ْمُھُقْدِص َنْیِدِقاَّصال ُعَیْنَف ْوُمَی اَذ ٰھ { واقعہ انتہائے کی احتمال کسی دوسرے عالوہ کے بات قطعی ایک اس اور آسکتا نہیں صادق پر دن (علیہ ٰیعیس حضرت کہ ہیں کرتی واضح تفصیالت یہ نیز ہے۔ نہیں گنجائش مطلق مائدہ سورة آیات باوجود کے آگاہی سے حاالت کے انکار و قبول کے امت اپنی )السالم السالم رسلعلیہم و انبیاء دوسرے کہ گے فرمائیں اختیار لیے اس بیان اسلوب مذکور میں یہی لیے کے ادب پاس غایت میں دربار کے العزت رب اور حال نزاکت کی مقام بھی (علیہم انبیاء اور کے )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت اور گے۔ فرمائیں اختیار بیان اسلوب فرق کا تفصیل و اجمال باوجود کے یکسانیت کی بیان اسلوب میں جوابات کے )السالم ان اور )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت مقصود اصل میں آیات بحث زیر کہ ہے لیے اس صرف کا )السالم (علیہم انبیاء اور ہے تذکرہ کا وثمرات نتائج کے ان اور انکار و قبول کے امت کی اب بعد کے انکشاف اس کے حال حقیقت ہے۔ پر طور کے تمہید کی واقعہ صرف ذکر تحریف کی الہوری علی محمد مسٹر ‘ قادیانی خلیفہ خالف کے مسلمہ امت جمہور (علیہ ٰیعیس حضرت مذکور میں مائدہ سورة کہ ہیں کہتے ہے مطالعہ قابل بھی معنوی ٰیعیس حضرت جب آچکا پیش وقت اس جواب و سوال یہ کا عالم پروردگار اور )السالم وہ پھر اور کرلیا چنگا کرکے عالج کا ان نے شاگردوں پر ملنے نعش کی )السالم (علیہ انتقال میں حالت کی گمنامی اور پہنچے کشمیر سے مصر اور مصر کر ہو فرار سے شام کے عربیت کہ یہ ایک ہیں کئے پیش دالئل دو میں دعوے اپنے نے الہوری مسٹر گئے فرما دوسری اور لیے کے مستقبل کہ نہ ہے مستعمل لیے کے ماضی “ اذ ” لفظ سے قاعدے نہیں انتقال کا )السالم (علیہ مسیح حضرت مطابق کے عقیدہ کے جمہور اگر کہ یہ دلیل کے ) ٰی(نصار امت اپنی کو ان کہ ہے ضروری تو گے ہوں نازل قریب کے قیامت وہ اور ہوا کے ان نے ٰینصار کیونکہ گا ہو ہوچکا علم کا تثلیث اور )السالم (علیہ مسیح الوہیت عقیدہ
77.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 77/97 )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت تو ہوتا ایسا اگر اور تھا اپنایا نہیں کو تثلیث تک زمانہ کے رفع ہے۔ ہوتی ظاہر العلمی کی ان سے جس ہوتا نہ پر اسلوب ایسے جواب کا مرشد اپنے کہ کیا لیے اس تو یا اقدام یہ پر معنوی تحریف کی قرآن نے الہوری مسٹر اور مغالطہ اور پہنچائیں قوت کو مسیحیت ٰیدعو کے )علیہ ما (علیہ قادیان متنبی عربیت قواعد وہ پھر یا اور کریں مہیا سامان کا “ مبین خسران ” کر لے کام سے سفسطہ نہ اور ہے علم کا ہی استعماالت معمولی کے نحو کو ان نہ کہ ہیں ناواقف درجہ اس سے پر دعاوی جاہالنہ صرف اور ہیں رکھتے درک کچھ ہی کا وسباق سیاق کے قرآنی آیات وہ گیا کیا بیان فرق یہ درمیان کے “ اذا ” اور “ اذ ” میں عربیت قوانین جن ہیں۔ آتے نظر دلیر ” اور ہے دیتا معنی کے “ ماضی ” بھی تب ہو داخل بھی پر مستقبل فعل اگر “ اذ ” کہ ہے ہی ان ہے کرتا دیا معنی کے مستقبل بھی تب ہو داخل بھی پر ماضی فعل اگرچہ “ اذا ہے ہوتا ایسا اوقات بسا کہ ہیں کرتے تصریح بھی یہ بالغت و معانی علمائے میں قوانین آ پیش میں حال زمانہ وہ گویا لیے کے کرنے پیش طرح اس کو واقعہ ہوئے گزرے کسی کہ استعمال کا “ اذ ” لیے کے اس یعنی ہیں کرتے کرلیا تعبیر سے مستقبل صیغہ ہے رہا “ الحال حکایۃ ” اور “ استحضار ” کو اس اور ہیں سمجھتے مستحسن بلکہ رکھتے جائز سے وقوع کے جس کو واقعہ ایسے والے ہونے میں مستقبل طرح اسی اور ہیں کہتے سکے ہو خالف کے اس کہ ہے ناممکن اور گا رہے کر ہو ضرور وہ کہ ہو دالنا یقین یہ متعلق لحاظ کے تعبیر بالغت بلکہ سمجھتے مستحسن کرنا تعبیر سے صیغہ کے ماضی اکثر ہونے سامنے کے سامع اور مخاطب طرح اس کیونکہ ہیں کرتے یقین مفید اور ضروری سے کی ہی “ استحضار ” بھی یہ اور ہے گزرا ہو وہ گویا ہے آجاتا طرح اس نقشہ کا واقعہ والے لیے کے مستقبل استعمال کا “ اذ ” لفظ جایئے کیوں دور ہے جاتی سمجھی صورت ایک کی مجرموں دن کے قیامت میں انعام سورة ہے۔ ثابت پر مقامات متعدد میں عزیز قرآن خود ِراَّنال یَلَع اْوُفِقُو ْذِا یٰٓرَت ْوَل َو { : ہے گیا کہا ہوئے کھینچتے نقشہ کا اس ہوگی کیفیت کیا جس دیکھے تو کہ کاش اور ” } َنْیِمِنْؤُمْلا َنِم َنْوُکَن َو َناِّبَر ِتٰیٰاِب َبِّذَکُن اَل َو ُّدَرُن َتَناْیَلٰی اْوُلاَقَف لوٹا ہم کہ کاش اے گے کہیں پس اوپر کے )(جہنم آگ گے جائیں کئے کھڑے وہ کہ وقت ایمان ہم ہوجائیں اور کو نشانیوں کی رب اپنے ہم جھٹالئیں نہ اور میں دنیا جائیں دیئے ذکر طرح اس کا حالت کی مجرموں قیامت روز میں انعام سورة اسی اور “ سے۔ میں والوں واُقْوَفُذ اَلَق َناِّبَر َو یٰلَب اْوُلاَق ِّقَحْلاِب اَذ ٰھ َسْیَاَل اَلَق ْمِھِّبَر یٰلَع اْوُفِقُو ْذِا یٰٓرَت ْوَل َو { : ہے گیا کیا سامنے کے پروردگار اپنے وہ جب ‘ دیکھے تو کہ کاش اور ” } َنُرْوُفْکَت ْنُتْمُک َماِب اَبَذَعْلا ہے قسم گے کہیں وہ ؟ ہے نہیں حق یہ کیا گا کہے )(پروردگار تو گے جائیں کئے کھڑے بدلہ کے اس چکھو تو گا کہے پروردگار پس ہے سچ اور حق )حشر (روز یہ کی پروردگار نقشہ کا حالت قیامت روز کی مجرمین ہی ان اور “ تھے۔ کرتے کیا کفر تم جو عذاب میں : ہے گیا کیا بیان طرح اس میں سبا سورة تو کہ کاش اور ” } ٖہِب اَّناَم آْوُلاَق َّو ۔ ٍبْیِرَق ٍناَکَّم ْنِم اْوُذِخُا َو ْوَتَف َفاَل اْوُعِزَف ْذِا یٰٓرَت ْوَل َو { گے جائیں پکڑے اور گے سکیں بھاگ نہیں پس گے گھبرائیں )(منکرین وہ جبکہ دیکھے حقیقت اس میں سجدہ سورة اور “ آئے۔ لے ایمان پر اس )(اب ہم گے کہیں اور سے قریب ” } ْمِھِّبَر َدْنِع ْمِھِسْوُئُر اْو ُسِکاَن َنُمْوِرُمْجْلا ِاِذ یٰٓرَت ْوَل َو { : ہے کیا بیان ساتھ کے الفاظ ان کو سامنے۔ کے رب اپنے گے ہوں ہوئے ڈالے نیچے سر اپنا مجرم جبکہ دیکھے تو کہ کاش اور کے ماضی کو واقعات کے مستقبل میں جن ہیں مقامات متعدد کے قسم اسی اور یہ “ طرح جس پس گیا سمجھا مفید استعمال کا “ اذ ” لفظ لیے کے اس اور گیا کیا تعبیر ساتھ افعال تمام ‘ اْو ُسِکاَن َنُمْوِرُمْجْلا ِاِذ ‘ اْوُذِخُاَو ‘ اْوُعِزَف ْذِا ‘ اْوُلاَق ‘ اَلَق ‘ اْوُفِقُو ْذِا میں مقامات ان کے ی ٰسْیِعٰی ُہّٰللا اَلَق ْذِا طرح اسی ہیں رہے دے معنی کے مستقبل باوجود کے “ اذ ” لفظ سیاق کے مقامات تمام ان طرح جس اور سمجھئے لیے کے مستقبل کو استعمال سورة آیات ٹھیک ہے سے قیامت روز تعلق کا واقعات ان کہ ہیں رہے کر داللت وسباق قیامت تعلق کا واقعہ اس کہ ہے رہا کر صراحت وسباق سیاق کا آیات بحث زیر کی مائدہ کی الہوری مسٹر بعد کے تحقیق افروز حقیقت اس کی عربیت قاعدہ ہے۔ سے دن کے گزشتہ کہ لیے اس گی آئے نظر لچر زیادہ بھی سے اس وہ تو ڈالئے نظر پر دلیل دوسری (علیہ ٰیعیس حضرت میں بحث زیر آیات کی مائدہ سورة کہ ہوچکا واضح یہ سے تحقیق
78.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 78/97 علم کا گمراہی کی امت اپنی کو ان کہ ہے نہیں مبنی پر بات اس ہرگز جواب کا )السالم صاف تو گے کرو غور پھر پر آیات ان مرتبہ ایک گے کریں ظاہر علمی ال اپنی وہ اور ہوگا نہیں اَّلِا ْمُھَل ُتُقْل َما { ہے یہ صرف جواب اصل کا )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت کہ گا آئے نظر مناسب کے جواب یا میں آیات باقی آخر و اول اور } ْمُکَّبَر َو ْیِّبَر َہّٰللا واُدُب ْعا ِنَا ٖٓہِب ِنْیْرَتَمَا َمآ بلکہ درماندگی و بیچارگی اپنی اور جبروت و جاللت کی ٰیتعال ہللا یا اور ہے تمہید حال القدس حضرۃ مناسب کے شان کی پیغمبر القدر جلیل ایک میں جس ہے اظہار کا عبودیت مان صحیح قول یہ کا الہوری مسٹر اگر ازیں عالوہ ہے گئی کی پیش شہادت سامنے کے کا تثلیث چونکہ نے ٰینصار تک سماوی رفع کے )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت کہ لیں ہللا میں صورت اس تو کیا اظہار کا علمی ال نے انہوں لیے اس تھا کیا اختیار نہیں عقیدہ : ہے رکھتا معنی کیا سوال یہ کا ٰیتعال مطلب یہ کا اس باہلل العیاذ کیا } ِہّٰللا ِنُدْو ْنِم ِنْیَھٰلِا َیِّمُا َو ِنْیْوُذِخَّتا ِساَّنلِل َتُقْل َتْنَا َئ { کم کیا یہ پھر ؟ لگایا الزام جھوٹا پر امت کی )السالم (علیہ ٰیعیس نے خدا کہ ہوا نہ ًاقطع کے اس مگر ہیں رہے کہہ یہ تو جانب ایک الہوری اور قادیانی کہ ہے بات کی حیرت روح کی )السالم (علیہ ٰیعیس جب کہ ہے کہا یہ نے قادیانی میں “ کماالت آئینہ ” متضاد تب ہوگئی مبتال میں شرک طرح کس امت کی اس کہ گیا بتایا کو اس اور ہوا معلوم یہ کو کہ فرماتا نازل مثیل میرا تو ! خدایا ” کی دعا یہ سے ٰیتعال ہللا نے )السالم (علیہ ٰیعیس از رہ تفاوت ببیں ع “ بنے پرستار سچی تیری اور پائے نجات سے شرک اس امت میری کہ ہے نہیں یہ معیار کا تفسیر کی الہوری اور قادیانی کہ ہے یہ حقیقت بکجا تا کجاست ایک سے پہلے بلکہ ہیں چاہتے سننا سے زبان کی قرآن مطالب کے آیات کی قرآن وہ اور ہیں چاہتے ڈھالنا کو قرآن میں سانچہ کے اس پھر اور ہیں بتاتے عقیدہ کو عقیدہ باطل زبردستی سے حربہ کے تحریف تو ہے کرتا انکار سے ڈھلنے میں سانچہ اس قرآن جب ہیں کردیتے فراموش حقیقت یہ وقت کرتے ایسا وہ مگر ہیں چاہتے کرنا ستم مشق پر اس و ملحد ” کوئی لیے اس ‘ ہے ٰیالہد امام تک دنیا رہتی لیے کے ہدایت کی امت قرآن کہ اور گا رہے خاسر اور ناکام ہمیشہ کرے کوشش کی معنوی تحریف ہی کتنی خواہ “ زندیق بہ بلکہ گے ہوں ناطق لیے کے بطالن کے فکر و عقیدہ کے اس ہی اطالقات قرآنی خود میں بھلیاں بھول کی اقوال متضاد ہی اپنے اکثر وہ “ نباشد حافظہ را گو دروغ ” مصداق ابھی شہادت تازہ کی جس ہے لیتا لگا مہر پر افترا تفسیری اور بیانی کذب اپنی کر پھنس مسیح ورفع حیات ْمِھْیَلَع َبْیِقَّرال َتْنَا ْنَتُک ِنْیَتْیَّفَوَت اَّمَفَل ہے۔ ہوچکی نقل میں باال سطور روشنی کافی پر حقیقت کی “ توفی ” میں مباحث گزشتہ متعلق سے )السالم (علیہ واضح پہلو تمام بھی کے تفسیر کی باال مسطورہ آیات کی مائدہ سورة اور ہے پڑچکی کے ہونے مستفید سے لطافت کی بیان اسلوب اور بالغت اعجاز کے قرآن تاہم ہیں ہوچکے نے قرآن پر مقام اس کہ ہے مناسب کردینا قلم سپرد بھی پر مسئلہ اس سطور چند لیے سے ارضی کائنات اور سے ْمِھْیِف ُتُدْم َما کو ارضی قیام کے )السالم (علیہ ٰیعیس کے معانی اور لغت میں سطور گزشتہ کیا۔ تعبیر کیوں سے ِنْیَتْیَّفَوَت کو تعلقات انقطاع اور لینے (لے “ٌلَناَوَت َو ٌذْخَا ” معنی حقیقی کے “ توفی ” کہ ہوچکا ثابت تو یہ سے حوالوں اور ہے ہوتا استعمال کا اس کنایہ بطور میں معنی کے موت اور ہیں کے )کرلینے میں قبضہ کہ ہوتا نہیں یہ طرح کی مجاز ہیں رہتے ساتھ ساتھ برابر معنی حقیقی میں کنایہ کہ یہ حضرت اگر پس لگے ہونے استعمال میں لہ موضوع غیر لفظ کر ہو جدا سے معنی حقیقی و سوال اور آچکی موت کو ان کہ ہوتا یہ عقیدہ کا قرآن متعلق کے )السالم (علیہ ٰیعیس پھر تو سے دن کے قیامت کہ نہ ہے متعلق سے وقت اسی کے موت سلسلہ یہ کا جواب کے دوسرے ایک “ موت ” اور “ حیات ” پر موقع اس کہ تھا یہ تقاضا کا معانی و بالغت کا جواب و سوال کہ ہوسکتی واضح حیثیت یہ تاکہ جاتا کیا استعمال کو الفاظ متضاد حیات ” لفظ مقابل اپنے صراحت کی “ موت ” لفظ پھر اور ہے قرین ہم کے “ موت ” معاملہ کی “ حیات ” کو ْمِھْیِف ُتُدْم َما بجائے کے الفاظ دونوں ان نے قرآن مگر ہوتی طالب کی “ یا سے مقصد کس اور لیے کس یہ تو ہے کیا استعمال جگہ کی “ موت ” کو “ توفی ” اور ہی ایک کا اس تو امت جمہور ؟ کرلیا اختیار اسلوب یہ کے مصلحت و حکمت کسی بغیر و اعجاز بھی پر مقام اس طرح کی مقامات دوسرے نے قرآن کہ یہ وہ اور ہے رکھتی جواب
79.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 79/97 ‘ زندگی کی )السالم (علیہ مسیح حضرت وہ میں لفظوں دو ان اور ہے لیا کام سے ایجاز میں ” “ ُتْیَحَی َما ” کہتا یہ اگر وہ ہے چاہتا دینا سمو کو مراحل تمام موت اور نزول ‘ رفع کا اس تو “ دی دے موت کو مجھ تونے جب پس ” “ ِنْیَّتَمَا اَّمَفَل ” اور “ رہا زندہ تک جب ہی دو مطابق کے حاالت عام بھی کو )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت کہ ہوتا یہ مطلب خاص کوئی درمیان کے مراحل دونوں ان “ موت ” اور “ زندگی ” ہیں آئے پیش مراحل کے موت اور زندگی کی ان اور تھا واقعہ خالف یہ جبکہ لیکن ‘ آئی نہیں پیش حال صورت اور رفع حیات بقید جانب کی ٰیاعل مالئے ایک گے ہوں چکے آ پیش مراحل اہم دو درمیان موت اور حیات کہ ہوا ضروری ازبس لیے اس )(نزول رجوع دوبارہ پر ارضی کائنات دوسرے جبکہ اور آسکیں صادق پر مراحل چاروں ان جو جائیں کئے اختیار الفاظ ایسے دو جگہ کی کا بالغت اعجاز تو ہے ہوچکی بیان تفصیل کی مراحل ان حال حسب پر مقامات متعدد یہی کا حال صورت جائے۔ کیا بیان ساتھ کے اختصار و ایجاز کو ان اب کہ ہے تقاضا یہی استعمال “ ْمِھْیِف ُتُدْم َما ” جگہ کی “ ُتْیَحَی َما ” نے عزیز قرآن لیے کے جس تھا نقشہ دونوں کے زندگی کی )السالم (علیہ مسیح حضرت ساتھ کے اختصار جملہ یہ تاکہ کیا الی رفع ” کر ہو شروع سے زندگی ابتدائے جو بھی پر حصہ اس ہوجائے حاوی پر حصوں موت ” کر ہو شروع سے “ ارضی نزول ” جو بھی پر حصہ اس اور ہے ہوتا ختم پر “ السماء تاکہ کیا اختیار بیان اسلوب کا ِنْیَّتَمَا اَّمَفَل نے قرآن طرح اسی اور ہے ہوجاتا ختم کر جا پر “ کو مرحلہ اس لے سمو اندر اپنے کو مرحلوں دونوں باقی طرح کی پہلے بھی جملہ یہ کے نزول جو بھی کو مرحلہ اس اور آیا پیش میں صورت کی “ السماء الی رفع ” جو بھی ظاہر حقیقت ہی ایک صرف تو سے موت کیونکہ ہوگا نمودار میں صورت کی “ موت ” بعد معنی حقیقی تھیں موجود حقیقتیں دونوں وقت بیک میں “ توفی ” مگر تھی ہوسکتی ” ساتھ ساتھ کے ُوْلَناَت َو ْذَخَا سے اعتبار کے کنایہ اور “ لُوَناَت َوْذَخَا ” صرف سے لحاظ کے ہوچکا معلوم سے فرق باہمی کے “ مجاز ” اور “ کنایہ ” میں باال سطور کہ جیسا “ موت میں وقت جو ! خدایا گے کریں عرض )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت کہ ہے یہ مطلب ہے۔ اوقات کے “ توفی ” لیکن ہوں شاہد میں بیشک تو لیے کے اس گزارا درمیان کے ان نے پر شئے ہر وقت ہر میں حالت ہر تو شہادت تیری باقی رہا۔ نگہبان ہی تو فقط پر ان میں ہللا (صلی اکرم نبی کہ نظر قطع سے اس بحث پوری یہ کی متعلقہ مسئلہ ہے۔ حاوی کے بالغت اور معانی ‘ لغت ہے فرمایا ارشاد کیا میں تفسیر کی آیات نے )وسلم وآلہ علیہ مرفوع صحیح وہ تو لیے کے صادق مومن ایک میں تفسیر کی آیات ان ورنہ تھی نظر پیش حافظ محدث مشہور ًالمث ہے کیا روایت صحیح بسند نے محدثین کو جن ہیں کافی احادیث جو سے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی اکرم نبی ؓاشعری ٰیابوموس بروایت نے ؒعساکر ابن (علیہم انبیاء تمام تو ہوگا دن کا قیامت جب ” : ہے یہ ترجمہ کا اس ہے کی نقل حدیث جائیں بالئے بھی )السالم (علیہ ٰیعیس اور گا جائے بالیا کو امتوں کی ان اور کو )السالم پر ان میں دنیا جو گا کرائے شمار کو نعمتوں ان اپنی سامنے کے ان اول ٰیتعال ہللا گے ہللا بعد کے اس گے کریں اعتراف کا سب ان )السالم (علیہ ٰیعیس اور رہیں ہوتی نازل حضرت تو } ِہّٰللا ِنُدْو ْنِم ِنْیَھٰلِا َیِّمُا َو ِنْیْوُذِخَّتا ِساَّنلِل َتُقْل َتْنَئَا { : گا فرمائے ارشاد ٰیتعال کیا سوال سے ان اور گے جائیں بالئے ٰینصار پھر گے فرمائیں انکار )السالم (علیہ ٰیعیس کو ہم نے )السالم (علیہ ٰیعیس ہاں کہ گے کہیں ہوئے کرتے بیانی دروغ وہ تو گا جائے طاری خوف سخت پر )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت کر سن یہ تھی دی تعلیم یہی بارگاہ رواں رواں کا ان سے ہیٰلا خشیت اور گے ہوجائیں کھڑے بال کے بدن گا ہوجائے ہللا کہ ٰیحت ہوگی معلوم سال ہزار ایک مدت یہ اور گا ہوجائے ریز سجدہ میں صمدی خود کی ان اور گی جائے کردی قائم حجت خالف کے ٰینصار سے جانب کی ٰیتعال دیئے جھونک میں جہنم کو ان پھر اور گا جائے کردیا فاش راز کا پرستی صلیب ساختہ صحیح بسند سے ؓابوہریرہ حضرت نے حاتم ابی ابن محدث اور “ گا۔ ہوجائے حکم کا جانے دن کے قیامت جب ٰیتعال ہللا ” کہ ہیں فرماتے ؓابوہریرہ حضرت ” : ہے کی نقل روایت یہ سے جانب اپنی تو گا کرے سوال متعلق کے امت کی ان سے )السالم (علیہ ٰیعیس اکرم نبی متعلق کے القاء اس اور “ گا دے کر القاء بھی جواب پر )السالم (علیہ ٰیعیس ٰیعیس حضرت سے جانب کی ٰیتعال ہللا کہ ہے فرمایا یہ نے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی
80.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 80/97 َسْیَل َما َلْوُقَا َاْن ْٓیِل ُنْوُکَی َما َنَک ٰحْب ُس { : دیں جواب یہ وہ کہ ہوگا القاء پر )السالم (علیہ و منقول شفاعت حدیث جو میں سنن اور )مسلم و (بخاری صحیحین اور ؎ ١ } ٍّقَحِب ِلْی (علیہم انبیاء تمام میں قیامت طرح جس کہ ہے ہوتا ثابت یہی بھی سے اس ہے مشہور معاملہ اور گے ہوں جوابدہ سامنے کے ٰیتعال ہللا متعلق سے امتوں اپنی اپنی )السالم ان بھی )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت گے ہوں ہراساں و خائف قبل سے آنے پیش کے کی امت سے ان جب کہ ہوگا رہا ہو طاری خوف یہ پر ان اور گے ہوں ایک سے میں ہو برآ عہدہ سے اس طرح کس میں صمدی درگاہ وہ تو ہوگا سوال پر بدعت مشرکانہ امت جمہور جو ہے صحیح وہی تفسیر کی آیات ان کی مائدہ سورة الحاصل ؟ گے سکیں سے وزندقہ الحاد بالرائے تفسیر کی الہوری اور قادیانی اور ہے منقول سے جانب کی رکھتی۔ نہیں وقعت کوئی زیادہ کے اسرائیل بنی اور اصالح دعوت کی )السالم (علیہ مسیح حضرت فرقے انجیل کو )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت نے ٰیتعال ہللا کہ ہو چکے پڑھ میں مباحث گزشتہ (علیہ مسیح حضرت یعنی تھی تکملہ کا تورات دراصل کتاب الہامی یہ اور تھی کی عطا مذہبی ‘ گمراہیوں کی یہود مگر تھی قائم پر ہی تورات اگرچہ اساس تعلیمی کی )السالم حضرت نے ٰیتعال ہللا تھی ضرورت کی اصالحات جن سے وجہ کی سرکشیوں اور بغاوتوں تھا کردیا پیش سامنے کے ان میں شکل کی انجیل معرفت کی )السالم (علیہ مسیح گمراہیاں عملی اور اعتقادی کی یہود پہلے سے بعثت کی )السالم (علیہ مسیح حضرت کر ہو مبعوث نے )السالم (علیہ مسیح حضرت اور تھیں چکی پہنچ تک حد بیشمار اگرچہ قابل ساتھ کے خصوصیت باتیں بنیادی اہم چند تاہم اٹھایا قدم لیے کے اصالح کی سب ان عمل سرگرم زیادہ بہت )السالم (علیہ مسیح حضرت لیے کے اصالح کی جن تھیں اصالح : رہے میں دنیا اسی سزا کی بد و نیک اعمال کے انسان کہ تھی کہتی جماعت ایک کی یہود غلط باتیں سب یہ نشر و حشر ‘ سزا و جزا میں آخرت ‘ آخرت ‘ قیامت باقی ہے جاتی مل تھے۔ “ صدوقی ” یہ ہیں یقین یہ ہی ساتھ مگر تھی سمجھتی حق کو چیزوں تمام ان اگرچہ جماعت دوسری سے دنیا اہل اور دنیا لذات کہ ہے ضروری بس از لیے کے ہللا الی وصول کہ تھی رکھتی الگ سے بستیوں وہ چنانچہ جائے کی اختیار زندگی کی “ زہادت ” کر ہو کش کنارہ (علیہ مسیح حضرت جماعت یہ مگر تھے کرتے پسند رہنا میں جھونپڑیوں اور خانقاہوں دنیا ترک اب اور تھی چکی کھو بھی حیثیت یہ اپنی پہلے کچھ سے بعثت کی )السالم طریق و رسم ظاہر ‘ تھی آتی نظر آلودہ میں گندگی کی قسم ہر کی دنیا میں پردہ کے بھی خوار بادہ رندان سے جن آتا نظر کچھ سب وہ میں کدوں خلوت مگر ہوتا سا کا زاہدوں تھے۔ کہالتے “ فریسی ” یہ کرلیں بند آنکھیں سے حیا مرتبہ ایک حال یہ بھی کا ان لیکن تھی متعلق سے ہیکل خدمت اور رسوم مذہبی جماعت تیسری 2 نتائج نیک کے اعمال جن اور تھا چاہیے کرنا ہللا لوجہ کو خدمات اور رسوم جن کہ تھا خدمت اور رسم ایک ہر تک جب اور تھا لیا بنا کاروبار تجارتی کو ان تھے مبنی پر خلوص انہوں لیے کے کاروبار مقدس اس کہ ٰیحت اٹھائیں نہ قدم لیں لے نہ نذر اور بھینٹ پر ہیکل تھے۔ “ کاہن ” یہ تھی کردی تحریف میں تک احکام کے تورات نے عوام نے جماعت اس تھی دار اجارہ کی مذہب اور حاوی پر سب ان جماعت چوتھی 3 نہیں کچھ اعتقادات و اصول کے دین اور مذہب کہ تھا کردیا پیدا عقیدہ یہ آہستہ آہستہ میں اور حرام کو حالل وہ کہ ہے حاصل اختیار یہ کو ان کردیں صاد وہ پر جن “ وہ ” مگر ہیں پروانہ کا جنت چاہیں کو جس کردیں کمی یا اضافہ میں دین احکام ‘ بنادیں حالل کو حرام اور اٹل فیصلہ کا ان یہاں کے خدا ‘ کردیں تحریر سند کی جہنم چاہیں کو جس اور دیں لکھ کی تورات اور تھے ہوئے بنے “ ِہّٰللا ِنُدْو ْنِم اًبْرَباَا ” کے اسرائیل بنی غرض ‘ ہے مٹ ان کا طلبی دنیا کو اس کہ تھے جری درجہ اس میں تحریف کی قسم ہر معنوی اور لفظی
81.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 81/97 قیمت ہوئی ٹھہرائی لیے کے خوشنودی کی خواص و عوام اور تھا لیا بنا سرمایہ مستقل تھے۔ “ فقیہ ” یا “ احبار ” یہ تھا دینی مشغلہ کا ان ڈالنا بدل کو دین احکام پر (علیہ مسیح حضرت درمیان کے جن اعمال و عقائد کے ان تھے یہ اور جماعتیں وہ تھیں یہ ہر نے انہوں ہوئی بعثت کی ان لیے کے حال اصالح کی جن اور ہوئے مبعوث )السالم و عیوب کے ان ساتھ کے شفقت و رحم لیا جائزہ کا اعمال و عقائد فاسد کے جماعت افکار و عقائد کے ان اور دی ترغیب لیے کے حال اصالح کو ان ‘ کی چینی نکتہ پر نقائص واحد ذات اور کائنات خالق رشتہ کا ان کرکے دور کو نجاستوں کی کردار و اعمال کے ان اور کی سیاہ اعمال اپنے نے بدبختوں ان مگر کی۔ سعی کی کرنے قائم دوبارہ ساتھ کے کی ان کر کہہ “ ضاللت مسیح ” کو ان بلکہ یہ صرف نہ اور کردیا انکار یکسر سے اصالح درپے کے جان کی ان کرکے سازشیں خالف کے ان اور دشمن کے ارشاد و حق دعوت ہوگئے۔ اربعہ اناجیل وہی انجیلیں چاروں موجودہ کیا تھی ہوئی نازل انجیل جو پر )السالم (علیہ مسیح حضرت اہل تمام متعلق کے اس ؟ ہیں تصانیف کی بعد کے )السالم (علیہ مسیح حضرت یہ یا ہیں حضرت بھی ایک کوئی سے میں ان کہ ہے اتفاق ہیں شامل بھی ٰینصار میں جن کا علم موجودہ ان پھر لیکن ہے ترجمہ کا اس نہ اور ہے نہیں انجیل کی )السالم (علیہ مسیح تفصیل مسئلہ یہ ہے کیا رائے کی ناقدین اور ہیں کہتے کیا عیسائی متعلق کے انجیلوں : ہے طلب پاس کے ٰینصار متعلق کے انجیلوں چاروں موجودہ کہ ہے شدہ تسلیم بہرحال بات یہ کا روایات کی ان کہ سکیں کہہ یہ وہ پر بناء کی جس نہیں موجود سند ایسی کوئی شاگردوں کے ان یا )السالم (علیہ مسیح حضرت زمانہ کا تالیف و ترتیب کی ان یا سلسلہ اس بلکہ تاریخی نہ اور ہے سند مذہبی کوئی لیے کے اس نہ ہے پہنچتا تک )(حواریوں عیسوی صدی پہلی کہ ہے شاہد کی امر اس تاریخ مذہبی کی عیسائیت خود خالف کے انجیلیں زیادہ سے اکیس میں عیسائیوں تک اوائل کے عیسوی صدی چوتھی سے نے کونسل کی نائسیا میں ء ٣٢٥ لیکن تھیں بہا معمول و رائج اور جاتی کی یقین الہامی کا حیرت سخت اور دیدیا قرار متروک کو باقی کرکے منتخب کو چار صرف سے میں ان طرح ایک بلکہ ہوا نہیں پر بنیاد علمی اور تاریخی کسی انتخاب یہ کا کونسل کہ ہے مقام زائد سے اکیس ان چنانچہ گیا کرلیا تسلیم اشارہ الہامی کو اس اور گئی نکالی فال کی صدی انیسویں ًالمث ہیں گئی پائی میں خانوں کتب قدیم کے یورپ بعض سے میں انجیلوں جس تھا ہوا برآمد نسخہ ایک کا اناجیل متروک سے خانہ مشہورکتب کے ویٹیکان میں سے میں نسخوں موجودہ ہے موجود زائد کچھ بہت سے انجیلوں چاروں موجودہ میں پیدائش کی )السالم (علیہ مسیح حضرت ساتھ کے خصوصیت میں انجیل کی لوقا سینٹ طرح جس کو واقعہ اس نے عزیز قرآن میں مریم سورة لیکن ہے درج سے تفصیل واقعہ کا ہے کیا شروع سے ذکر کے تربیت میں ہیکل اور پیدائش کی )السالم (علیہا مریم حضرت اس کے ویٹیکان ‘ میں انجیلوں تینوں باقی نہ اور ہے ذکر کا اس میں انجیل کی لوقا نہ ہے۔ درج طرح کی واقعہ مذکور میں مریم سورة ٹھیک واقعہ یہ میں نسخہ کتب قدیم کے ) Sixtus( سکٹس پوپ مشہور کے روما میں صدی سولھویں طرح اسی نسخہ یہ ہے برناباس انجیل نام کا جس ہوا برآمد نسخہ کا انجیل متروک اور ایک میں خانہ چرا سے خانہ کتب بغیر کے اجازت کی پوپ اور پڑھا نے فرامرینو پادری الٹ مقرب کے پوپ سے کثرت متعلق سے )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی محمد االنبیاء خاتم میں اس چونکہ الیا الوہیت نیز ‘ تھا مذکور تک نام “ احمد ” کہ ٰیحت تھیں موجود بشارتیں صاف اور واضح پادری الٹ وہ لیے اس تھی جاتی پائی تعلیم کی عقیدہ خالف کے )السالم (علیہ مسیح مرحوم رضا رشید سید عالمہ میں مصر ترجمہ عربی کا اس میں ہی حال ہوگیا مسلمان اس نے مصری سعادہ خلیل ڈاکٹر ہے مطالعہ قابل جو ہے کیا شائع سے پریس المنار نے پتہ کا انجیل اس کہ ہے میں اس ہے کی پیش تحقیق علمی قدر قابل جو میں مقدمہ کے
82.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 82/97 جو ہے چلتا سے )نامہ (حکم منشور تاریخی اس میں اواخر کے عیسوی صدی پانچویں پوپ کے عیسائیوں پہلے سے بعثت کی )وسلم وآلہ علیہ ہللا (صلی محمد االنبیاء خاتم ان میں جس اور تھا گیا بھیجا نام کے کلیساؤں سے جانب کی )(جیالشش گلیسیوس میں ہی ان تھا گیا کیا حرام پر عیسائیوں پڑھانا پڑھنا کا جن تھے درج نام کے کتابوں تسلیم کو اس آج بھی یورپ محققین ازیں عالوہ تھا۔ شامل بھی نام کا برناباس انجیل سے سو ایک میں صدیوں تین ابتدائی بعد کے )السالم (علیہ مسیح حضرت کہ ہیں کرتے اور گئیں کردی متروک باقی کر چھوڑ کو چار میں بعد جو تھیں جاتی پائی انجیلیں زائد سب وہ آہستہ آہستہ لیے اس گیا کردیا حرام پڑھنا کا ان مطابق کے فیصلہ کے کلیسا انجیل ‘ انجیل مشہور ایک میں نسخوں مفقود ان کہ ہیں کہتے اور گئیں چلی ہوتی مفقود ساتھ کے خصوصیت بھی بات یہ نیز ہے۔ ناپید اب جو تھی بھی )اغنطسی (انجیل ایگنٹس موجودہ پر جن اور ہیں خطوط جو کے )رسول (پولوس پال سینٹ کہ ہے توجہ قابل لوگوں وہ کہ ہے چلتا پتہ یہ جگہ جگہ سے مطالعہ کے ان ہیں قائم بنیادیں کی عیسائیت (علیہ مسیح جو دیں نہ توجہ جانب کی انجیلوں ان وہ کہ ہے ڈراتا اور کرتا خبردار کو القدس روح کو مجھ کیونکہ ہیں منسوب سے ناموں دوسرے بجائے کے نام کے )السالم کروں حمایت کی )السالم (علیہ مسیح انجیل میں کہ ہے کیا مامور لیے کے اسی نے حسب چنانچہ پھیالؤں میں دنیا عیسائی تمام کو تعلیم کی اس اور بناؤں اسوہ کو اسی انجیل کی )السالم (علیہ مسیح نزدیک کے اس کہ ہیں کرتے صراحت کی اس جملے ذیل اور تھا ہوگیا رواج عام کا انجیلوں بےسند کی بعد اور تھی ہوچکی متروک میں عیسائیوں ذریعہ کے فال کے سند کسی بغیر نے کونسل کی نائسیا جو ہیں چار یہ سے میں ہی ان کرلیں۔ تسلیم صحیح کی تسلیم انجیل کی متی قدیم سے سب سے میں ان سنئے بھی حال کا چار ان اب علماء اور باالتفاق تو میں متقد علماء سے میں ٰینصار متعلق کے اس ہمہ بایں ہے جاتی کا اس بلکہ ہے نہیں اصل متی انجیل موجودہ کہ ہیں قائل کے اس اکثر سے میں موجودہ لیکن ہوگئی ضائع اور ہے ناپید اب جو تھی میں عبرانی کتاب اصل کہ لیے اس ہے ترجمہ سند تاریخی کوئی متعلق کے اس ہے ہوئی تحریف بھی میں اس یا ہے ترجمہ کا اصل یہ یہ میں زمانہ کس کہ ہے پتہ یہ نہ اور نہیں معلوم تک نام کا مترجم کہ ٰیحت نہیں موجود میں کتاب اپنی نے لبنانی الفتوحی زوین جرجیس عالم عیسائی مشہور اور ہوا ترجمہ میں عبرانی میں ء ٣٩ کر بیٹھ میں المقدس بیت انجیل اپنی نے متی کہ ہے کی تصریح تاریخ اپنی نے اوسیبیوس کہ ہے کہا نے ایرونیموس مقدس کہ جیسا تھی کی تصنیف یہ نے باتنیوس جب اور ہے نہیں اصل ترجمہ یونانی کا انجیل کی متی کہ ہے کیا بیان میں کو انجیل کی متی نے اس تو کرے تبلیغ کی عیسائیت کر جا ہندوستان وہ کہ تھا کیا ارادہ نسخہ وہ مگر تھا دیکھا محفوظ میں قیصر خانہ کتب کے اسکندریہ مکتوب میں عبرانی میں زبان یونانی نے شخص کس میں زمانہ کس کہ جاسکتا کہا نہیں اور ہوگیا مفقود مشہور متعلق کے اس ہے کی مرقس انجیل دوسری کرایا۔ روشناس کو ترجمہ موجودہ (مطبوع االبرار تراجم فی االخبار مروج کتاب اپنی )(قرماج گواماگ پطرس عالم عیسائی یہودی ًالنس یہ کہ ہے کہتا ہوئے لکھتے پر حیات سوانح کی مرقس میں )بیروت ء ١٨٨٠ عیسائیت جب نے رومیوں تھا شاگرد کا )السالم (علیہ ٰیعیس حواری پطرس اور الوی کا )السالم (علیہ مسیح الوہیت یہ کی تصنیف انجیل یہ پر مطالبہ کے ان تو کرلی اختیار مسیح حضرت میں جس لیا نہیں بھی کو حصہ اس میں انجیل اپنی نے اس اور تھا منکر ہوا قتل میں خانہ قید کے اسکندریہ میں ء ٦٨ یہ ہیں کرتے مدح کی پطرس )السالم (علیہ کہ ہے اختالف میں بارے اس کو دنیا عیسائی اور ؎ ١ کردیا قتل کو اس نے پرستوں بت ١٧٠ صفحہ الطالبین مرشد مصنف کے الفارق چنانچہ ہوئی تصنیف کب انجیل کی مرقس نگرانی کی پطرس یہ کہ ہے یہ خیال کا ٰینصار علماء کہ ہیں کرتے نقل سے حوالہ کے ہوئی۔ تصنیف میں ء ٦١ میں کی متی میں ٰینصار علماء اختالف قدر جس ہے انجیل کی لوقا سینٹ انجیل تیسری کے صحت عدم و صحت کی انجیل کی لوقا زیادہ بھی سے اس ہے متعلق سے انجیل کے ٰینصار علماء خود میں سلسلہ اس نے مصنف کے الفارق چنانچہ ہے اختالف متعلق
83.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 83/97 کہ ہیں فرماتے وہ ہے نہیں کتاب الہامی یہ کہ ہے کیا ثابت یہ اور ہیں کئے نقل اقوال ہی نہیں الہامی انجیل کی لوقا کہ ہے کرتا ٰیدعو میں “ الہام ” رسالہ اپنے )(کدل گڈل مسٹر اس )(انجیل یہ کہ ہے لکھا یہ میں ابتداء کی انجیل اپنی خود نے لوقا کہ ہے یہ وجہ ہے مخاطب کو اس وہ ہے لکھی پر بناء کی کتابت و خط ساتھ کے )(تھیوفیلوس فیلس ثاو نے دیکھی سے آنکھوں نے لوگوں جن باتیں کی )السالم (علیہ مسیح کہ ہے لکھتا کرکے رہے کر نقل سے ہم لوگ سے بہت کو ان ہیں پہنچائی طرح جس تک ہم نے انہوں تھیں دوں کر جمع پر طریقہ صحیح ہی خود کو ان کہ ہوں سمجھتا ضروری میں لیے اس ہیں حضرت نے اس کہ ہے ہوتا معلوم صاف سے اس ہوجائے معلوم حقیقت صحیح کو تم تاکہ کہ ہیں کرتے تصریح بھی یہ ٰینصار محققین اور پایا نہیں زمانہ کا )السالم (علیہ مسیح کے پولوس اور پطرس اور ہے آئی میں وجود بعد کے انجیل کی مرقس انجیل کی لوقا ہے۔ گئی کی تصنیف بعد کے مرنے نہیں کو )السالم (علیہ مسیح نے اس تھا کرتا طبابت میں انطاکیہ لوقا کہ ہے یہ بات اصل بات یہ متعلق کے پولوس اور ہے سیکھا سے )(پولوس پال سینٹ کو مسیحیت اور دیکھا دشمن بدترین کا عیسائیت اور یہودی متعصب دراصل وہ کہ ہے چکی پہنچ کو تحقیق پایہ یہ نے اس جب مگر تھا رکھتا جاری جدوجہد اپنی االعالن علی خالف کے ٰینصار اور تھا ترقی کی مسیحیت باوجود کے رکاوٹوں اور مخالفتوں کی قسم ہمہ کی اس کہ دیکھا اور لیا کام سے فریب و مکر یہودیانہ نے اس تب رکتی نہیں روکے اور ہے رہی جا ہوتی گرا پر زمین طرح اس دم ایک کہ تھا صحت بحالت میں ‘ ہوا معجزہ عجب کہ کیا اعالن )السالم (علیہ مسیح حضرت میں حالت اس ہے دیتا پچھاڑ میں کشتی کوئی کہ جیسا خالف کے پیرؤوں میرے ہرگز تو آئندہ کہ کی توبیخ زجرو سخت پھر اور چھوا کو مجھ نے اور آیا لے ایمان پر )السالم (علیہ مسیح حضرت وقت اسی میں پس کرنا نہ اقدام کوئی لیے کے خدمت کی دنیا مسیحی میں سے حکم کے )السالم (علیہ مسیح حضرت پھر کی انجیل کی )السالم (علیہ مسیح کو لوگوں میں کہ فرمایا کو مجھ نے انہوں ہوگیا مامور “ کلیسا ” آہستہ آہستہ نے اس چنانچہ دوں ترغیب کی اتباع کے اس اور دوں سنا بشارت کا برائیوں اور بدعتوں کر مٹا کو صداقتوں اصل کی عیسوی دین کہ کیا قبضہ ایسا پر ایجاد بدعت کی کفارہ اور ابنیت و تثلیث ‘ )السالم (علیہ مسیح الوہیت اور بنادیا مجموعہ بنادیا۔ حالل کو سب خنزیر اور مردار ‘ شراب اور کردیا تبدیل میں وثنیت کو مسیحیت کرکے بعد کے اس ہے روشناس دنیا آج سے جس میں صدقہ کے پولوس ہے مسیحیت وہ یہی کہتا جیروم اور ہے انجیل الہامی انجیل کی لوقا شاگرد کے پولوس کہ ہے سکتا کہہ کون دوباب ابتدائی کے انجیل کی لوقا کہ ہیں قائل کے اس ٰینصار علماء قدیم بعض کہ ہے کے فرقہ مارسیون جو ہیں نہیں موجود میں نسخہ اس یہ کیونکہ ہیں الحاقی نہیں الہامی ٢٢ باب کے انجیل کی لوقا کہ ہے لکھتا اکہارن عالم نصرانی مشہور اور ہے میں ہاتھوں اس ہے بیان جو متعلق سے معجزات کہ ہے کہتا بھی یہ وہ ‘ ہیں الحاقی ٤٧ ۔٤٣ آیات سے جانب کی کاتب ًاغالب جو ہے گیا لیا کام سے مبالغہ شاعرانہ اور بیانی کذب میں شیس۔۔ می کلی اور ہے دشوار حددرجہ امتیاز سے کذب کا صدق اب لیکن ہیں اضافہ کی واقعات متضاد اور مخالف میں آپس جگہ بہت انجیلیں کی مرقس اور متی کہ ہے لکھتا پر بیان کے انجیل کی لوقا کو اس ہو اتفاق کا دونوں میں معاملہ جس لیکن ہیں حامل متی پر مواقع زیادہ سے بیس میں انجیل کی لوقا کہ رہے واضح یہ اور ہے حاصل ترجیح پس ۔ زیادہ کہیں بھی سے اس تو سے انجیل کی مرقس اور ہے اضافہ سے انجیل کی نہ اور ہے نہیں الہامی ہرگز انجیل کی لوقا کہ ہے نکلتا یہی نتیجہ سے دالئل تمام ان ہے۔ تصنیف کی حواری کسی حضرت یہ کہ ہے یہ عقیدہ عام کا ٰینصار متعلق کے اس ہے کی یوحنا انجیل چوتھی والد کے یوحنا ‘ صیاد زبدی ہے۔ کی زبدی یوحنا شاگرد محبوب کے )السالم (علیہ مسیح شرف کا )السالم (علیہ ٰیعیس حواری اور ہوئی والدت میں صیدا بیت کے گلیل تھا نام کا تقدیس کو ہی ان زیادہ سے سب سے میں حواریوں بارہ مشہور میں ٰینصار اور ہوا حاصل اور شیرینطوس میں زمانہ جس کہ ہے لکھتا لبنانی الفتوحی زوین جرجیس ہے حاصل (علیہ مسیح الوہیت کہ تھی رہی کر تشہیر کی عقیدہ اپنے جماعت انکی اور ابیسون
84.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 84/97 سے بطن کے )السالم (علیہا مریم حضرت اور تھے بشر وہ ہے باطل عقیدہ کا )السالم زمانہ اس تھے نہیں میں وجود عالم وہ قبل سے )السالم (علیہا مریم حضرت اور ہوئے پیدا کی یوحنا نے انہوں اور ہوئی مشاورت مجلس کی پادریوں الٹ ‘ پادریوں میں ء ٩٦ میں باتیں کی )السالم (علیہ مسیح حضرت وہ کہ کی پیش درخواست کر ہو حاضر میں خدمت کچھ جو ماسوا کے ان ہیں۔ جاتی پائی میں انجیلوں دوسری باتیں جو اور کریں تحریر شیرینطوس تاکہ لکھیں ضرور مسئلہ کا مسیح الوہیت سے خصوصیت لکھیں وہ ہو معلوم اور سکے ٹال نہ بات کی ان یوحنا تب ہوں مضبوط ہاتھ ہمارے خالف کے جماعت کی وغیرہ تعیین کی تصنیف زمانہ علماء مسیحی باوجود کے اس مگر ہوئے مجبور پر لکھنے انجیل یہ بعض اور ء ٩٦ بعض اور ہوئی تالیف میں ء ٦٥ ہیں کہتے بعض ‘ ہیں آتے نظر مختلف میں ہیں۔ کرتے بیان ہونا تصنیف میں ء ٩٨ ہیں کرتے ٰیدعو یہ جو ہے نہیں کم تعداد کی علماء مسیحی ان میں مقابلہ کے ان مگر جلد ہیرالڈ کیتھولک چنانچہ ہے۔ نہیں ہرگز تصنیف کی یوحنا حواری ‘ انجیل کی یوحنا کہ اسکندریہ مدرسہ انتہاء تا ابتداء از یوحنا انجیل کہ ہے منقول سے لن پروفیسر میں ٧ نمبر یوحنا رسائل اور یوحنا انجیل کہ ہے لکھتا برٹشنیدر اور ہے تصنیف کی علم طالب ایک کے تصنیف کی یوحنا شاگرد کے )السالم (علیہ مسیح حضرت بھی ایک کوئی سے میں ان اس کرکے تصنیف کو اس میں اوائل کے صدی دوسری نے شخص کسی بلکہ ہے نہیں صاحب اور جائے بن مشہور و مقبول میں لوگوں تاکہ کردیا منسوب جانب کی یوحنا لیے میں شروع انجیل یہ کہ ہے بیان کا کروٹیس عالم مسیحی مشہور کہ ہیں کہتے الفارق کا باب اکیسویں میں اس نے کنیسہ کے اس اف میں بعد تھی مشتمل پر ابواب بیس کہ ہے ہوتا آشکارا بخوبی یہ سے جات حوالہ ان تھا۔ ہوچکا انتقال یوحناکا جبکہ کردیا اضافہ کی یوحنا کرکے تصنیف سے مقصد اس صرف اور ہے نہیں انجیل کی حواری یوحنا بالشبہ قوت کو کنیسہ عقیدہ کے )السالم (علیہ مسیح الوہیت کہ گئی کی منسوب جانب تھی اٹھتی میں دنیا مسیحی کبھی کبھی آواز جو کی عقیدہ اصالح اور جائے پہنچائی ان عالوہ کے تنقیدات مختصر باال مذکورہ متعلق کے اناجیل چہارگانہ جائے۔ دبایا کو اس حضرت میں انجیلوں چاروں ان کہ ہیں بھی یہ دالئل واضح دو کے ہونے نہ الہامی کے گرفتاری کی ان مطابق کے زعم کے ٰینصار کہ ٰیحت ہیں درج وقائع کے زندگی کی مسیح موجود بھی حاالت کے تک وغیرہ ہونے ظاہر پر حواریوں اور اٹھنے جی کر مر ‘ قتل ‘ صلیب ‘ میں ان تو ہوتیں حصہ کوئی کا اس یا )السالم (علیہ مسیح انجیل اناجیل یہ اگر پس ہیں ان بعد کے )السالم (علیہ مسیح تو واقعات وہ تھا چاہیے ہونا نہیں تذکرہ ًاقطع کا باتوں ان کہالنے ہللا کتاب وہ کہ نہ ہوتی حاصل حیثیت تاریخی ایک کو ان اور کرتے جمع شاگرد کے ہے اختالف میں بارے کے فینّنمص کے انجیلوں ان طرح جس کہ یہ اور ہوتے مستحق کے ہے جاتا پایا اختالف سخت اور تناقض بھی میں واقعات باہم کے تصنیفات ان طرح اسی اور ہیں جاتے پائے میں انجیل ایک جو ہیں ایسے واقعات عجیب و معجزات بعض یعنی ہے مذکور طرح جس واقعہ ایک میں بعض یا ہے نہیں تک اشارہ کا ان میں انجیل دوسری انجیل پہلی کہ ہے ہوا بیان پر طریقہ ایسے ساتھ کے کمی یا زیادتی کچھ میں دوسری (علیہ مسیح صلیب ًالمث ہے آتا نظر خالف اور تضاد صریح میں اس اور میں بیان کے ہے۔ منقول ساتھ کے بیان تضاد میں اناجیل واقعہ کا )السالم منقول میں زبانوں جن جن اربعہ اناجیل یہ کہ ہے نہیں الئق کے حیرت کم بھی بات یہ ایک بلکہ گئی کی نہیں پرواہ کبھی کی تحفظ و بقا کے کلمات و عبارات کی ان ہیں ہوئی ‘ تبدیلی کی جملوں اور الفاظ بکثرت میں اشاعتوں اور ایڈیشنوں مختلف کے زبان ہی کے اسالم علماء اور ٰینصار علماء پر مقامات جن ًاخصوص ہے موجود بیشی اور کمی (صلی االنبیاء خاتم مصداق کا ان کہ ہے آگئی بحث یہ میں سلسلہ کے بشارات درمیان مقامات جن نیز نبی اور کوئی یا )السالم (علیہ مسیح حضرت یا ہیں )وسلم وآلہ علیہ ہللا تختہ کافی کو ان ہو آتا نظر پڑتا فرق میں صراحت کی )السالم (علیہ مسیح الوہیت پر و تفصیالت کی بیان تضاد اور معنوی و لفظی تحریفات اگر ہے۔ رہا جاتا بنایا مشق کی کیرانوی ہللا رحمت موالنا لیے کے اس تو ہو کرنا مطالعہ وسیع نظر بہ کو تشریحات و المخلوق بین الفارق کی زادہ جی باجہ ‘ ٰیالحیار ہدایۃ کی قیم ابن حافظ ‘ الحق اظہار
85.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 85/97 ہیں۔ کتابیں دید الئق حق اظہار کا امروہی نبی آل موالنا اور الخالق روایتی کی ہونے الہامی کے ان نہ ہیں نہیں انجیلیں الہامی انجیلیں چاروں موجودہ غرض اور ہے حاصل علم یقینی اور قطعی متعلق کے فینّنمص کے ان نہ ‘ تاریخی نہ اور ہے سند کی کتابوں ان ‘ بیانات کے پولوس خالف کے اس بلکہ ہیں متعین ہی تصانیف زمانہائے نہ ہرگز یہ کہ ہیں شاہد پر اسی تغیر و تضاد باہمی کا مطالب و مضامین ‘ حیثیت تاریخی (علیہ مسیح انجیل کہ یہ اور ہیں نہیں حصہ کا اس یا )السالم (علیہ مسیح انجیل بعد کے اس اور ہوئی شکار کا معنوی و لفظی تحریف اول ہاتھوں ہی کے ٰینصار )السالم یونانی بلکہ ہے نہیں اصل بھی کوئی سے میں انجیلوں گانہ چہار اس بلکہ ہوگئی مفقود کا ازدیاد و نقص اور تغیر و تبدیلی جو ہیں تراجم کے زبانوں دوسری منقول سے اس اور (علیہ مسیح انجیل اربعہ اناجیل یہ کہ نہیں یہی صرف اور ہیں رہے ہوتے شکار برابر مسیح شاگردان کا ان سے سند مذہبی اور تاریخی علمی کسی بلکہ ہیں نہیں )السالم ہیں تصانیف کی فینّنمص کے بعد بلکہ ہے نہیں ثابت بھی ہونا تصنیف کی )السالم (علیہ ایسا حصہ ایک میں سلسلہ کے حکمت مقامات اور نصائح و مواعظ میں تراجم ان البتہ لیے اس ہے ماخوذ سے عالیہ ارشادات کے )السالم (علیہ مسیح حضرت جو ہے ضرور ہے۔ آجاتی نظر جھلک کی اصل کہیں کہیں میں نقل انجیل اور قرآن صداقت کی اس طرح اسی ہے ایک خدا طرح جس کہ ہے یہ تعلیم بنیادی کی عزیز قرآن وراثت کی گروہ خاص اور جماعت خاص ‘ قوم خاص کسی کبھی وہ اور ہے ہی ایک بھی و احساس ہی ایک پیغام کا ہدایت و رشد کی خدا میں ملک ہر اور قوم ہر بلکہ رہی نہیں دنیا ہمیشہ ذریعے کے نائبوں کے ان یا پیغمبروں سچے کے اس ہوئے رہتے قائم پر بنیاد ” اور “ مستقیم صراط ” نام کا اسی اور ہے رہا مناد اور داعی کا مستقیم راہ لیے کے پیغام آخری وہ یہی اور ہے آیا دالنے یاد کو سبق ہوئے بھولے اسی قرآن اور ہے “ اسالم کی ارضی کائنات کر سمو اندر اپنے کو صداقتوں کی ماضیہ مذاہب تمام نے جس ہے ہے انکار کا صداقتوں تمام کی خدا گویا انکار کا اس اب لیے اس اور ہے اٹھایا بیڑا کا ہدایت شان عظمت کی )السالم (علیہ مسیح حضرت نے اس نظر پیش کے تعلیم بنیادی اسی ساتھ لیکن ہے کتاب کی خدا اور کتاب الہامی انجیل بالشبہ کہ کیا اعتراف یہ اور سراہا کو مٹا کو تعلیم سچی کی اس نے کتاب اہل علماء کہ بتالیا دالئل بہ بھی یہ جگہ جگہ ہی بنادیا تعلیم کی کفر و شرک کو تعلیم کی اس کرکے تحریف کی قسم ہر اور ڈاال بدل ‘ ڈاال ہوئے بناتے ملزم پر عمل خالف کے انجیل و تورات کو کتاب اہل پر مقامات بعض مگر کے قرآن نزول کہ ہے ہوتا معلوم سے جس ہے دیتا بھی حوالے کے انجیل و تورات موجودہ بہرحال تھے جاتے پائے ‘ ہوں نہ کیوں ہی میں شکل محرف اگرچہ بھی نسخے اصل وقت درجہ اس سے تحریفات کی قسم دونوں معنوی اور لفظی کتابیں دونوں یہ بھی وقت اس رہی نہ مستحق کی کہالنے مسیح انجیل اور ٰیموس تورات وہ کہ تھیں ہوچکی مسخ اور تحریف کی ان ہاتھوں کے کتاب اہل اور عظمت کی کتابوں اصل نے قرآن چنانچہ تھیں۔ : ہے کیا بیان پر طور واضح کو دونوں مسخ کا ان ِساَّنلِّل یًدُھ ُلْبَق ْنِم َل۔ْیِجْناِاْل َو َۃ ٰرْوَّتال َزَلْنَا َو ِہْیَیَد َنْیَب َماِّل اًقِّدَصُم ِّقَحْلاِب َب ٰتِکْلا َکْیَلَع َلَّزَن { کرنے تصدیق جو ساتھ کے حق اتارا کو کتاب پر تجھ نے ہللا ! محمد اے ” } َناَقْرُفْلا َزَلْنَا َو (قرآن کو انجیل اور تورات نے اس اتارا اور ہیں سامنے کے اس جو کی کتابوں ان ہے والی )والی کرنے فرق میں باطل و (حق فرقان اتارا اور لیے کے لوگوں ہیں ہدایت جو پہلے )سے “ ‘ کو حکمت ‘ کو کتاب وہ ہے سکھاتا اور ” } َلْیِجْناِاْل َو َۃ ٰرْوَّتال َو َۃَمْکِحْلا َو َب ٰتِکْلا ُہُمِّلَعُی َو { اَّلِا ْیُلِجْناِاْل َو ُۃ ٰرْوَّتال ِتَلِزْنُا َمآ َو َمْیِھ ٰرْبِا ْٓیِف َنْوُّجَحآُت َمِل ِب ٰتِکْلا َلْھَآٰی { “ کو۔ انجیل ‘ کو تورات میں بارے کے )السالم (علیہ ابراہیم لیے کس تم ! کتاب اہل اے ” } َنْوُلِقْعَت اَلـَاَف ِدٖہْعَب مْنِم )السالم (علیہ ابراہیم مگر ہوا نہیں نزول کا انجیل اور تورات کہ ہے یہ حال اور ہو جھگڑتے َمْرَیَم ِنْبا ی َسْیِعِب ْمِھِراَثٰا ی ٰٓلَع َناْیَقَّف َو { “ سمجھتے۔ نہیں بھی اتنا تم کیا پس بعد کے
86.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 86/97 َنِم ِہْیَیَد َنْیَب َماِّل اًقِّدَصُم َّو ْوٌرُن َّو یًدُھ ِہْیِف َلْیِجْناِاْل ُہ ٰنَتْیٰا َو ِۃ ٰرْوَّتال َنِم ِہْیَیَد َنْیَب َماِّل اًقِّدَصُم َمآِب ْمُکْحَی ْمَّل ْنَم َو ِہْیِف ُہّٰللا َزَلْنَا َمآِب ِلْیِجْناِاْل ُلْھَا ْمُکْحَیْلَو ۔ َنْیِقَّتُمْلِّل ًۃَظِعْوَم َّو یًدُھ َو ِۃ ٰرْوَّتال (علیہما مریم ابن ٰیعیس نے ہم بھیجا پیچھے اور ” } ۔ َنْوُقِس ٰفْلا ُمُھ َکِئ ٰٓل وُاَف ُہّٰللا َزَلْنَا نے ہم دی اور تورات ہے سامنے جو کی کتاب اس ہے واال کرنے تصدیق جو کو )السالم تصدیق کی تورات کتاب پہلی سے اپنے جو اور ہے نور اور ہدایت میں جس انجیل کو اس انجیل اہل کہ چاہیے اور لیے کے پرہیزگاروں ہے نصیحت اور ہدایت سر تا سر اور ہے کرتی ہوئے اتارے کے ہللا جو اور ہے دیا اتار میں انجیل نے ہم جو دیں فیصلہ مطابق کے اس “ ہیں۔ فاسق لوگ یہی پس دیتا نہیں فیصلہ موافق کے قانون ِتَتْح ْنِم َو ْمِھِقْوَف ْنِم اْوُلَاَلَک ْمِھِّبَّر ْنِّم ْمِھْیَلِا َلِزْنُا َمآ َو َلْیِجْناِاْل َو َۃ ٰرْوَّتال واُماَاَق ْمُھَّنَا ْوَل َو { کو انجیل اور تورات وہ اگر اور ” } َنْوُلَمْعَی َما َئآ َس ْمْنُھِّم ْیٌرِثَک َو ٌۃَدِصَتْقُّم َّمٌۃُا ْمْنُھِم ْمِھِلُجْرَا کی ان جو رکھتے قائم کو اس اور )ڈالتے کر نہ مسخ کو ان کرکے (تحریف رکھتے قائم کھاتے )ساتھ کے البالی (فارغ وہ البتہ تو ہے ہوا سے جانب کی پروردگار کے ان جانب بد کے ان اکثر اور ہیں کار صالح رو میانہ میں ان بعض ‘ سے نیچے اپنے اور سے اوپر اپنے َلِزْنُا َمآ َو َلْیِجْناِاْل َو َۃ ٰرْوَّتال واْیُمِقُت یّٰتَح ٍئْی َش یٰلَع ُتْم ْسَل ِب ٰتِکْلا َلْھَاــٰٓی ْلُق { “ ہیں۔ عمل کوئی کی ٹکنے لیے تمہارے کتاب اہل اے ‘ دیجئے کہہ ! محمد اے ” } ْمُکِّبَّر ْنِّم ْمُکْیَلِا پر تم نے پروردگار تمہارے کو جس کو شے اس اور انجیل اور تورات تک جب ہے نہیں جگہ َو َب ٰتِکْلا َکُتْمَّلَع ْذِا َو { “ )نکلے تصدیق کی قرآن نتیجہ کا اس (تاکہ کرو نہ قائم کیا نازل ‘ کتاب سکھائی ) ! ٰیعیس (اے کو تجھ نے میں جب اور ” } َلْیِجْنَواِاْل َۃ ٰرْوَّتال َو َۃَمْکِحْلا ْمُھَدْنِع اُتْوًبْکَم ٗہْوَنُدِجَی ْیِذَّلا َّیِّمُاْلا َّیِبَّنال َلْو َّرُسال َنْوُعِبَّتَی َنْیِذَّلَا { “ انجیل۔ اور تورات ‘ حکمت نبی جو کی رسول ہیں کرتے پیروی جو ہیں شخص وہ )(نیکوکار ” } ِلْیِجْناِاْل َو ِۃ ٰرْوَّتال یِف ی ٰرَت ْشا َہّٰللا َّنِا { “ ہیں۔ پاتے لکھا میں انجیل اور تورات پاس اپنے ذکر کا جس اور ہے امی َنْوُلَتْقُی َو َنْوُلُتْقَیَف ِہّٰللا ِلْیِب َس ِفْی َنْوُلِتاُیَق َۃَّنَجْلا ُمُھَل َّنَاِب ْمُھَلَواْمَا َو ْمُھ َسْنُفَا َنْیِمِنْؤُمْلا َنِم کی ان سے مومنوں ہے لیا خرید نے ہللا بالشبہ ” } ِلْیِجْناِاْل َو ِۃ ٰرْوَّتال یِف اًّقَح ِہْیَلَع اًد ْعَو جنگ میں راستہ کے ہللا وہ ہے جنت لیے کے ان کہ پر بات اس کو مالوں کے ان اور جانوں تورات جو ہے سچا وعدہ کا ہللا لیے کے ان ہیں ہوتے قتل اور ہیں کرتے قتل پس ہیں کرتے “ ہے۔ گیا کیا میں انجیل اور ٰیعیس انجیل اور ٰیموس تورات جو کی انجیل اور تورات اس ہے منقبت و مدح یہ غرض کتابوں الہامی ان نے ٰینصار و یہود لیکن تھیں ہللا کتاب درحقیقت اور مستحق کی کہالنے َنْوُعَمْطَتَاَف { : سنئے سے زبان کی ہی قرآن بھی حال کا اس ؟ کیا معاملہ کیا ساتھ کے ْمُھ َو ُہْوُلَقَع َما ِدْعَب مْنِم ٗہْوَنُف ِّرَحُی َّمُث ِہّٰللا َمَکٰل َنْوُعَم ْسَی ْمْنُھِّم ٌقْیِرَف َناَک ْدَق َو ْمُکَل اُنْوِمْؤُّی َاْن گروہ ایک میں ان حاالنکہ گے لیں مان بات تمہاری وہ کہ ہو رکھتے توقع تم کیا ” } َنُمْوَلْعَی اس وہ کہ کے بات اس باوجود تھا ڈالتا بدل کو اس پھر تھا سنتا کالم کا ہللا جو تھا ایسا َنُتُبْوْکَی َنْیِذَّلِّل ْیٌلَوَف { “ تھے۔ کرتے تحریف دانستہ و دیدہ اور تھا سمجھتا کو مطالب کے ْمِھْیِدْیَا ْتَبَتَک اَّمِّم ْمُھَّل ٌلَویَف اًلـْیِلَق اًنَمَث ٖہِب اُرْوَت ْشَیِل ِہّٰللا ِدْنِع ْنِم اَذ ٰھ َنْوُلْوُقَی َّمُث ْمِھْیِدْیَاِب َب ٰتِکْلا خود کہ ہے یہ شیوہ کا جن پر )علم (مدعیان ان افسوس پس ” } َنُبْوِسْکَی اَّمِّم ْمُھَّل ْیٌلَو َو یہ اور ہے سے طرف کی ہللا یہ ہیں کہتے سے لوگوں پھر ہیں لکھتے کتاب سے ہاتھ اپنے فائدہ دنیوی قیمت سی حقیر ایک میں معاوضہ کے اس تاکہ ہیں کرتے لیے اس کچھ سب کچھ جو پر اس افسوس اور ہیں لکھتے وہ کچھ جو پر اس افسوس پس کریں حاصل کی ان کو کلمات کے )انجیل و (تورات ہللا کتاب ‘ کتاب اہل وہ ہیں کماتے سے ذریعہ اس وہ “ )ہیں کرتے دونوں معنوی اور لفظی تحریف (یعنی ہیں ڈالتے بدل سے مقام و محل کے متعلق کے کرنے فروخت کی ہللا آیات عوض کے )پونجی (معمولی قلیل ثمن عالوہ کے ان و یہود کہ ہے یہ حاصل کا جن ہیں موجود آیات متعدد میں توبہ ‘ نساء ‘ عمران آل ‘ بقرہ تو اور بھی ذریعہ کے لفظی تحریف تھے کرتے کیا طرح دونوں بیع کی انجیل و تورات ٰینصار خواہشات کی عوام سے اللچ کے زر و سیم گویا ‘ بھی سے سلسلہ کے معنوی تحریف کی کرنے فروخت کے ان تحریف معنوی و لفظی میں آیات کی ہللا کتاب مطابق کے جو اور نہیں عمل کوئی دوسرا کا بدبختی و شقاوت کر بڑھ سے جس ہے رکھتی حیثیت ہے۔ لعنت موجب میں حالت ہر
87.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 87/97 مسیحیت موجودہ اور )السالم (علیہ مسیح حضرت قلم سپرد میں بیانات گزشتہ خالصہ کا حق تعلیم کی )السالم (علیہ ٰیعیس حضرت مبلغ و ہادی کے مبین دین ‘ داعی کے صداقت و حق ‘ پیغمبر سچے کے خدا وہ ہے ہوچکا کی صداقتوں پہلی بھی تعلیم کی ان طرح کی پیغمبروں سچے تمام کے خدا اور تھے حال مناسب کے حوادث و انقالبات کے ضروریات اجتماعی اور انفرادی کی وقت اور موید کے کردگار معرفت ‘ خالص توحید تھی مناد لیے کے انقالب و اصالح میں شکل کی انجیل برتری اخالقی کی عفو و رحمت ‘ شفقت و محبت ‘ تقرب وسیلہ بال ہی سے کردگار لیے زیادہ سے اس میں تاریخ ذہنی کی انقالبات انسانی لیکن تھا نچوڑ کا تعلیم پاک کی ان مقدس کی )السالم (علیہ مسیح حضرت کہ ہو نہ بات کوئی ًاغالب کی تعجب اور حیرت لیے کے حق معرفت ‘ تثلیث جگہ کی توحید ‘ مسیحیت موجودہ پر نام کے ہی تعلیم ایمان پر کفارہ جگہ کی درستکاری کی عمل و علم لیے کے نجات ‘ عقیدہ کا ابنیت ہے۔ عمل سرگرم میں اشاعت و نشر اور تبلیغ کی بدعات جاہالنہ اور مشرکانہ جیسی ؟ تثلیث نظر نقطہ مسیحی پر مسئلہ اس میں ) ENCYCLOPAEDIA( المعارف دائرۃ نے بستانی سے سب نے مذہب عیسائی کہ ہے یہ خالصہ کا جس ہے کی بحث حاصل سیر سے سے عقیدہ اس مسیحیت قبل سے اس سنا میں “ عہد کے رسولوں ” نام کا تثلیث پہلے یہ ہے ہوتا شروع سے )رسول (پولوس پال سینٹ عہد کا رسولوں اور تھی ناآشنا ًاقطع ازراہ نے یہودیت کی جن اور لیا جنم نیا نے مسیحی دین بدولت کی جن ہیں حضرت وہی کامیابی کرکے آلودہ سے شرک اور وثنیت کو عقیدہ کے توحید و صداقت مسیحی تعصب اور پیداوار کی موشگافیوں کی فلسفہ )پرستانہ (بت وثنی دراصل عقیدہ یہ لیا سانس کا ذات کہ ہے مبنی پر حقیقت اس اور ہے گشت باز صدائے کی “ اوتار ” عقیدہ پرستانہ صنم عقیدہ یہ گویا ہے ہوسکتی پذیر وجود میں ارضی کائنات انسانی بشکل خداوندی صفات یا تاریخ چنانچہ ہے مرکب معجون ایک کا فلسفیانہ عقائد کے غنونیین اور ہیالنییسن فالسفہ ) BISHAP( بشپ کے انطاکیہ میں عیسوی صدی دوسری کہ ہے چلتا پتہ سے قدیم استعمال “ ثریاس ” کلمہ یونانی ایک میں سلسلہ اس پہلے سے سب نے تھیوفیلوس اس ترینیت لفظ ایک قریب قریب کے اس نے ترتلیانوس بشپ دوسرے ایک بعد کے اس کیا کے )(تثلیث “ ثالوث ” عقیدہ مسیحی موجودہ جو ہے لفظ یونانی وہ یہی ‘ کیا ایجاد کی دیکھنے سے نظر گہری اور ذرا کو حقیقت کی مسئلہ اس اگر ہے معنی ہم اور مرادف عقیدہ کا ثالوث کہ گی آئے نظر نمایاں بات یہ سے حقائق تاریخی تو جائے کی کوشش وثنیت اور غلبہ کے مسیحیت جو ہے نتیجہ کا آمیزش اس کی وثنیت اور مسیحیت دراصل کو مذہب اس نے پرستوں بت مصری جب ًاخصوص ‘ آیا پیش سے وجہ کی مغلوبیت کی ساتھ کے سنجیوں دقیقہ فلسفیانہ اور دی ترقی بہت کو عقیدہ اس نے انہوں تو کیا قبول ہوا عمل رد جو پر پرستوں بعدبت کے کرلینے قبول مسیحیت بنادیا۔ بحث علمی کو اس وہ کہ رہی یہ ہمیشہ خواہش کی ان کہ تھی یہ بات اہم ایک سے میں نتیجہ کے اس اس تاکہ ؟ کریں پیدا مطابقت ساتھ کے مسیحیت موجودہ کی ثنیت و گزشتہ طرح کس ابوالکالم موالنا بقول چنانچہ سکے رہ قائم ربط ساتھ کے ادیان دونوں جدید و قدیم طرح وحدت تثلیثی سے ) SERAPIS( سیراپیز تخیل اصنامی آمیز فلسفہ کے اسکندریہ ” آزاد ہورس اور کو )السالم (علیہا مریم حضرت جگہ کی ) ISIS( ایزیز اور گئی لی اصل کی مصری اور یونانی اس اور “ گئی دی کو )السالم (علیہ مسیح حضرت جگہ کی ) HORS( اور )السالم (علیہ مسیح الوہیت میں مسیحیت موجودہ بدولت کی ثنیت و فلسفیانہ گیا۔ بن عقیدہ مقبول کا “ کلیسا ” تثلیث پر قبول و رد کے اس میں ٰینصار علماء کہ تھا میں ہی طفولیت سن ابھی تثلیث عقیدہ یہ اور میں گرجاؤں مشرقی میں کونسل کی “ نیقیہ ” ہوگئیں شروع بحثیں آراء معرکہ کہ دیا فیصلہ نے کلیسا تو کھینچا طول نے بحث جب میں مجالس عمومی اور خصوصی
88.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 88/97 فرقوں اور جماعتوں ملحد ان ہے “ الحاد ” خالف کے اس اور حق )(تثلیث ثالوث مسئلہ ” دوسرا تھے محض انسان مسیح حضرت کہ ہے کہتا جو ہے “ ابیونیین ” فرقہ نمایاں میں مختلف یہ ‘ القدس روح ‘ ابن ‘ اب اور ہے واحد ذات خدا کہ ہے خیال کا جس ہے “ سابلیین ” فرقہ تیسرا ہے ہوتا پر ہی واحد ذات سے حیثیتوں مختلف اطالق کا جن ہیں صورتیں ہیں “ ہللا ابن ” اگرچہ )السالم (علیہ مسیح حضرت کہ ہے یہ عقیدہ کا اس ہے “ آریوسیین تخلیق کی “ اب ” قبل سے پست بلندو کائنات بلکہ ہیں نہیں ازلی طرح کی “ اب ” مگر سامنے کے قدرت کی اس اور نیچے سے “ اب ” وہ لیے اس اور ہے ہوا مخلوق سے دو “ ابن ” اور “ اب ” کہ ہے کہنا کا ان ہے “ مقدونیین ” فرقہ چوتھا اور ہے خاضع و مغلوب اسی اور کو ان نے کلیسا ہے۔ مخلوق بلکہ ہے نہیں اقنوم “ القدس روح ” ہیں اقنوم ہی اور ء ٣٢٥ منعقدہ کونسل نیقاوی کر دے قرار “ ملحد ” کو فرقوں دوسرے کے قسم کی عقیدہ مسیحی کو )(تثلیث ثالوث مطابق کے ء ٣٨١ منعقدہ کونسل کی قسطنطنیہ مستقل جدا جدا تینوں “ القدس روح ” اور “ ابن ” “ اب ” کہ دیا فیصلہ اور کیا تسلیم بنیاد اور ریاضی طرح اس گویا ہے خدا ہی وحدت کی تینوں میں الہوت عالم اور ہیں )(اصل اقنوم عقل ًۃبداہ کہ کہئے یوں یا خالف کے مسئلہ بدیہی انکار ناقابل اور اصل کے ہندسہ علم ازل “ ابن ” کہ کہا بھی یہ اور ایک “ تین ” اور ہے تین “ ایک ” کہ کرلیا تسلیم یہ خالف کے کرلی منظور ترمیم یہ نے کونسل طلیطلہ میں ء ٥٨٩ پھر اور ہے ہوا سے “ اب ” میں ہی الطینی ” کو ترمیم اس ہے ہوا سے دونوں “ ابن ” اور “ اب ” صدور کا “ القدس روح ” کہ ” لیکن لیا بنا عقیدہ کا کلیسا کو اس اور کرلیا تسلیم چرا و چون بغیر تو نے “ کلیسا بدعت کو ترمیم اس بعد کے عرصہ کچھ کے اس مگر رہا خاموش تو اول “ کلیسا یونانی صورت شدید قدر اس نے اختالف باہمی اس اور کردیا انکار سے کرنے تسلیم کر دے قرار اتفاق کبھی درمیان کے “ کلیسا الطینی کیتھولک ” اور “ کلیسا یونانی ” کہ کرلی اختیار ہوسکا۔ نہ پیدا اتحاد و کر سرایت ایسا طرح کی خون میں پے و رگ کے مسیحی دین عقیدہ یہ کا تثلیث یا ثالوث بنیادی سخت درمیان کے پروٹسٹنٹ اور کیتھولک رومن فرقوں بڑے کے مسیحی کہ گیا اس بلکہ نہیں یہی صرف اور رہا ہی اتفاق میں اس پر طور بنیادی باوجود کے اختالفات نے کلیساؤں پسند اصالح اور جماعت کی لوتھر کہ ہے بات یہ حیرت قابل زیادہ بھی سے عقیدہ کے ترمیم و اصالح کسی بغیر ہی کو عقیدہ کیتھولک اس تک دراز عرصہ ایک بھی فرقوں جدید اور نے اکثریت کی الہوتی فرقہ میں عیسوی صدی تیرھویں البتہ کرلیا تسلیم کے عقل و نقل کو عقیدہ اس نے وغیرہم عمومیین اور موحدین ‘ جرمانی ‘ سوسینیائی کردیا۔ انکار سے کرنے تسلیم کر کہہ خالف بخوبی حقیقت یہ سے جس تاریخ مختصر وہ کی تثلیث عقیدہ میں مسیحیت ہے یہ اور الحاد اسی راز کا تباہی کی صداقت حقیقی کی مسیحی دین کہ ہے ہوجاتی آشکارا ثالوث عقیدہ ہے۔ منت رہین کا تخیل پرستانہ صنم جو ہے پوشیدہ اندر کے بدعت مشرکانہ مسئلہ یہ ہے کیا حقیقت کی تعبیرات کی “ القدس روح ” “ ابن ” “ اب ” اور ہے شے کیا اور سکا مل نہ کبھی جواب کن فیصلہ کا جن ہے سے میں مباحث ان کے مسیحیت بھی پیچیدگی اور الجھاؤ میں اس گئی کی کوشش کی کرنے واضح اور صاف کو اس قدر جس اور اساسی میں مسیحیت کو عقیدہ جس کہ نکال یہ نتیجہ اور گیا ہوتا ہی اضافہ کا یہ کو ٰینصار علماء جدید و قدیم اور گیا رہ کر بن “ معمہ ” وہی تھی حاصل حیثیت بنیادی دنیا جو ہے مسئلہ ایسا کا مذہب یہ تثلیث میں توحید اور ہے توحید میں تثلیث کہ پڑا کہنا یہاں لیے اس ہوگا۔ حل عقدہ یہ ہی کر پہنچ میں عالم دوسرے اور ہوسکتا نہیں حل میں ساتھ کے عقیدگی خوش بلکہ ہے فضول کرنا کوشش کی سمجھنے سے عقل کو اس عالم عیسائی مشہور کے صدی انیسویں اواخر چنانچہ ہے راہ کی نجات ہی کرلینا قبول ہے۔ کی کوشش کی کرنے ثابت بات یہی میں “ الحق میزان ” نے فنڈر پادری یوں پر طور مختصر کو ان ہیں گئی کی تشریحات جو کی فلسفہ پرستانہ صنم اس تاہم “ ناسوت عالم ” ہیں رہے بس ہم میں جس کو وبود ہست کائنات اس کہ چاہیے سمجھنا ماوراء سے اس اور وہ ہے سے غیب عالم تعلق کا جس کہ ٰیاعل مالء اور ہے جاتا کہا سے مادیت لیکن ہے کچھ سب جہاں ‘ کا مکاں و مکین نہ اور گزر کا زماں و زمین نہ جہاں
89.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 89/97 کچھ پست بلندو اور باال زیرو جب تو ہے “ الہوت عالم ” نام کا اس ہے الوراء وراء اور باالتر وقت اس تھا لفظ بےمعنی ایک “ وقت ” میں وسعت محدود غیر کی ازل اور تھا نہ بھی حقیقت مجموعی کی اقانیم تین ہی ان اور “ القدس روح ” “ بیٹا ” “ باپ ” تھے اقنوم تین تینوں شرقی کلیسا جدا سے دونوں ان اور پروٹسٹنٹ ‘ کیتھولک رومن ہے “ خدا ” نام کا جسارت بڑی اور ہیں کرتے یقین روح کی مسیحیت دین کو اسی اور ہیں متفق پر اس ہی اس ہیں کرتی اعالن کا اسی تصریحات کی مقدس کتاب کہ ہیں کرتے ٰیدعو ساتھ کے کا ان کیے پیدا افکار و مباحث نئے نئے جو کر پہنچ پر حد اس نے عقیدہ روزگار عجوبہ ‘ ہے ہوجاتا مہیا سامان سا بہت لیے کے عبرت چشم اور حیرت دیدہ سے کرنے مطالعہ کی عقیدہ اس نے پاپاؤں اور بشپوں کے کلیساؤں بڑے بڑے ‘ کونسلوں مذہبی بڑی بڑی اقنوم طرح کس سے باپ “ اول اقنوم ” کہ کئے پیدا مباحث غریب و عجیب یہ میں تشریح اقنوم طرح کس سے دونوں بیٹے اور باپ یا سے باپ پھر اور ہوئی والدت کی بیٹے ثانی باہم کے ان کہ یہ اور ہوا صدور کا اس طرح کس یا نکلی کر پھوٹ “ القدس روح ” ثالث میں آپس کو دوسرے ایک جو ہیں وصفات القاب کیا جدا جدا کے ان اور ہے کیا نسبت کی القاب و صفات کی اس تو ہے جاتی بن توحید تثلیث یہ جب پھر اور ہیں کرتے متمائز برابر اقانیم تینوں میں اس ہیں کہتے خدا ہم کو جس کہ یہ نیز ‘ ہے ہوسکتی صورت کیا ہے شرکت جزوی اور ہیں دار حصہ جزوی دو دوسرے اور پورا ایک کوئی یا ہیں شریک کے معاذ کو ہستی پاک اور مقدس کی برتر خدائے غرض ؟ ہے سے تعلق اور نسبت کس تو اور ہے کیا تیار اور بنایا کو اس طرح جس کرکے فرض برتن ہوا رکھا پر چاک کے کمہار ہللا دنیائے ہے ڈھاال سانچہ نیا کا ترکیب و شرک طرح جس کرکے برباد و تباہ کو خالص توحید نہ دیکھا کبھی نہ نے فلک چشم انقالب و تغیر مذہبی ایسا میں تاریخ کی وادیان مذاہب و تفصیالت جدا جدا کی “ القدس روح ” “ بیٹا ” “ باپ ” بہرحال ٌبَجاُع ْیٌئ َشَل اَذ ٰھ َّنِا سنا ایک کی تعبیرات زا عجوبہ کی وحدت سے ترکیب اور ترکیب سے وحدت پھر اور تشریحات تعبیرات لفظی ہی واال کہنے جب اور آتا نہیں نظر چھور اور کہیں کا جس ہیں بھلیاں بھول ہے۔ سکتا سمجھ خاک کیا واال سننے تو ہے عاری سے سمجھنے “ حقیقت ” عالوہ کے باپ عالم ” اور ہوئی والدت کی ثانی اقنوم سے اسی ہے۔ اقنوم پہال “ باپ ” میں ثالثہ اقانیم مسیحی مگر ہوتا۔ نہیں جدا سے اقانیم تیسرے اور دوسرے بھی کبھی یہ میں “ الہوت میں الہوت وحدت کہ ہیں کہتے یہ فرقے اکثر مطابق کے تعلیم کی کنیسہ میں فرقوں کہتے آریوسی اور ہے نہیں حاصل برتری پر کسی کو کسی اور ہے مساوی درجہ کا تینوں عالم البتہ ہے نہیں ازلی طرح کی اول اقنوم “ بیٹا ” اقنوم دوسرا بلکہ نہیں ایسا کہ ہیں ” درجہ کا اس لیے اس ہے ہوا پیدا سے اول اقنوم پہلے مدت معلوم غیر سے وپست باال ” ہیں اقنوم ہی دو صرف کہ ہے کہتا فرقہ مقدونی اور ہے کم سے اس اور بعد کے “ باپ جس ہے فرشتہ ایک سے میں فرشتوں اور ہے مخلوق “ القدس روح ” اور “ بیٹا ” اور “ باپ روح کہ ہے یہ فیصلہ کا کونسل کی طلیطلہ اور ہے بلند سے ہللا مالئکۃ تمام پایہ کا صدور کا اس ہی سے دونوں یا ہے نکلی کر پھوٹ سے دونوں “ بیٹا ” اور “ باپ ” القدس ہے بتالتی ہونا صادر سے ہی باپ صرف کو القدس روح کونسل کی قسطنطنیہ مگر ہے ہوا کو )السالم (علیہا مریم ثالث اقنوم جماعت بڑی ایک سے میں فرقوں جدید و قدیم اور ہے۔ کرتی انکار کا ہونے اقنوم کے القدس روح اور کرتی تسلیم بیٹا “ بیٹا ” میں اردو اور ) SON( “ سن ” میں انگریزی اور “ فی ” میں فرنچ “ ابن ” میں عربی و مرد مطابق کے قدرت قانون عام جو ہے جاتا بوال پر انسانی شکل اس یہ ‘ ہیں کہتے الہوت عالم وہ مطابق کے ثالوث عقیدہ مگر ہے ہوتا نتیجہ کا تعلقات جنسی کے عورت پیدائش کی اس نزدیک کے بعض پھر اور ہے بھی پیدا اور نہیں بھی جدا سے “ باپ ” میں
90.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 90/97 مشیت کی “ باپ ” جب کہ ہیں کہتے کر چل آگے ‘ ازلی غیر نزدیک کے بعض اور ہے ازلی بطن کے مریم میں )بود و ہست (کائنات ناسوت عالم “ بیٹا ” ثانی اقنوم تو ہوا فیصلہ کا ناسوت عالم ہی باپ خود کہ ہے ٰیدعو یہ تو کا بعض اور کہالیا “ مسیح ” کر ہو پیدا سے اور ہوا روشناس میں شکل کی مسیح اور ہوا تولد سے بطن کے مریم کر بن بیٹا میں اور برتری پر “ اب ” اول اقنوم کو “ ابن ” ثانی اقنوم تو نزدیک کے بعض کہ یہ تماشا طرفہ ہے۔ حاصل تفوق القدس روح اقنوم وہ کہ ہے کہتا کوئی ہے۔ اختالف سخت بھی متعلق کے “ القدس روح ” طرح اسی اور مکدونی چنانچہ ہے نہیں حاصل الوہیت کو اس میں الہوت عالم لیے اس ہے نہیں ہی ہے بلند و برتر سے سب میں ان اور ہے سے میں ہللا مالئکۃ وہ کہ ہیں کہتے سی آریو ًامجاز پر افعال کے ٰیتعال ہللا اور ہے مجاز تعبیر کی القدس روح کہ ہے کہتا ماراتونیوس اور کے قول اس پر بنا اس ‘ ہے نہیں حقیقت کوئی سے الگ ورنہ ہے جاتا کیا اطالق کا اس کتابوں الہامی کہ ہے کہتا کالرک میں جدید علماء اور ہے جاتا کہا “ مجازئین ” کو قائلین نہیں درجہ کا “ الوہیت ” کو القدس روح بھی جگہ ایک کسی میں جدید و قدیم نامہ عہد ہے کہا یہ سے مد شدو ہوئے کرتے انکار کا القدس روح الوہیت نے مکدونی فرقہ ‘ گیا دیا اگر ‘ مولود غیر ‘ ہوتی مولود وہ یا تو ہوتا دخل بھی کو القدس روح میں الوہیت جوہر اگر کہ اور کے اس تو ہے مولود غیر اگر اور رہا فرق کیا درمیان کے “ ابن ” اور کے اس تو ہے مولود روح ” کہ ہیں کہتی جماعتیں دوسری میں مقابلے کے ان ہے۔ امتیاز کیا درمیان کے “ اب ” “ اب ” صدور کا القدس روح کہ ہے کہتا بوسیورومانی ہے حاصل الوہیت بھی کو “ القدس وحدت ساتھ کے دونوں اور ہے سے نفس جوہر کے ان وہ اور ہوا سے دونوں “ ابن ” اور اور ہے انکار ناقابل الوہیت کی القدس روح کہ ہے کہتا اثناسیوس اور ہے “ ہٰلا ” میں الہوت اس اور ہے مسلم و ثابت اطالق کا “ روح ” پر “ ہٰلا ” اور کا “ ہٰلا ” پر روح میں سماویہ کتب کسی اور ماسوا کے خدا ذات تعلق کا جن ہے گئی کی نسبت کی امور ہی ان جانب کی چال سے قدیم عقیدہ یہ اور وغیرہ حقائق جمیع معرفت ‘ ذات تقدیس ًالمث ہے نہیں سے نزدیک کے سب تالیف قدامت کی جس ہے ثابت سے دسولجیا نظم کہ جیسا ہے آتا انکار نے لفیلوپیٹرس مولٹ اور ہے موجود اعتراف کا القدس روح الوہیت میں اس ہے مسلم کا توحید کی حقیقی خدائے نزدیک کے ٰینصار کہ ہے کہا ہوئے کرتے تنقید پر روح الوہیت کوئی کرنا خارج سے الوہیت کو روح پھر ہے حقیقت مسلم ایک ہونا مضمر میں تثلیث ہے کہتا ستینیانوس مار ہوئے دیتے جواب کا اعتراض کے مکدونیوں اور رکھتا نہیں معنی پائے اطالقات کے االبن روح اور االب روح بلکہ گیا کہا نہیں ابن کو روح میں سماوی کتب کہ کر نکال سے الوہیت کو اس نہ اور نہیں صحیح کہنا “ اب ” یا “ ابن ” کو اس ذا لٰہ ہیں جاتے ” سے بحثوں فلسفیانہ ان کہ ہے عاجز ٰیبشر ادراک اور ہے ہوسکتا درست کہنا مخلوق (پیدا تولید فقط کہ ہیں سکتے کہہ یہ ہم البتہ سکے پہنچ تک حقیقت کی “ القدس روح پھوٹ یا (صدور انبثاق بلکہ ہو قائم ساتھ کے “ اب ” جو نہیں واسطہ ایسا تنہا ہی )ہونا فرق درمیان کے انبثاق و تولید میں دنیا اس ہم مگر ہے ہوسکتی شکل ایک بھی )نکلنا “ اب ” کا دونوں انبثاق و تولید کہ ہیں سکتے کہہ ضرور یہ البتہ ہیں نہیں قادر پر کرنے ظاہر کہ ہے نہیں مناسب ہرگز یہ لیے ہمارے پس ہے تعلق کا تالزم اور ابدی و ازلی ساتھ کے فلسفیانہ درمیان کے “ اب ” اور “ القدس روح ” طرح کی )یونان (فالسفہ قدیم فالسفہ کے ارواح صدور سے خدا نے انہوں جو کرلیں قبول اعتقادات وہ ذریعہ کے موشگافیوں ہیں۔ لیے کر پیدا متعلق بیان میں سطور گزشتہ جو چاہئیں رہنے نظر پیش بھی اختالفات وہ ساتھ ساتھ کے اسی مانتے ہونا صادر سے )(باپ اول اقنوم فقط کا “ القدس روح ” کلیسا بعض کہ ہیں ہوچکے اختالف یہ ‘ ہے ہوا صدور کا اس سے دونوں “ بیٹا ” اور “ باپ ” کہ ہیں کہتے بعض اور ہیں میں ء ٣٨١ کیونکہ ہے رہا سبب کا کشاکش سخت درمیان کے فرقوں عیسائی بھی کا القدس روح کہ تھا کردیا واضح یہ میں “ ایمانی منشور ” نے قسطنطنیہ کونسل منعقدہ
91.
1/5/23, 1:15 AM
معلومات تفصیلی مکمل میں بارے کے مریم ابن عیسی - YariBook.com https://yaribook.com/ur/_علیہ_السالم ٰیعیس 91/97 لیکن رہا نافذ میں دنیا مسیحی عقیدہ یہی تک عرصہ اور ہے ہوا سے ہی “ باپ ” صدور تمام بعد کے اس اور نے کلیسا کے فرانس پھر نے کلیسا کے ہسپانیہ اول میں ء ٤٤٧ اقنوم صدور کا “ القدس روح ” کہ بنایا عقیدہ جزء کو ترمیم اس نے کلیساؤں رومن الطینی یہ دراصل کہ ہیں کہتے علماء عیسائی ہے ہوا سے دونوں “ بیٹا ” ثانی اقنوم اور “ باپ اول اس کہ کی پیدا لیے اس نے فوتیوس بطریق کے شرق پہلے سے سب میں ء ٨٦٦ بحث کو کلیسا کے )(یونان شرق طرح کسی کہ تھی خواہش یہ کی جماعت کی اس اور کی اتحاد کا کلیساؤں کے مغرب و مشرق اور جائے کردیا جدا سے کلیسا کے )(روم غرب میخائیل بطریق میں ء ١٠٤٣
Download