More Related Content
DOCX
Long Question Answer based on BS PAK STD 9374 CHAP 8 TOPIC 8.,4 IN URDUdocx.... PDF
اسلامی اقتصادی نظام کے بارے میں مکمل تفصیلی معلومات PPTX
سہارا ویلفٸیرٹرسٹ بازار.pptx DOC
DOCX
Long Question Answer based on.BS.PAK.STD 9374 CHAPTER 8(8.3) COMPLETE ANSWER ... DOCX
پاکستان کے معاشی چیلنجز.docxپاکستان کے معاشی چیلنجز: قرض، مہنگائی، کرنسی کی ق... DOC
PPTX
Re defining islamic economics Similar to 9335-2.docx
PPTX
Governance and it's essentials in Urdu DOCX
Ms.SajjdaLodhi Notes B.Ed 4 Years TEACHING OF PAKISTAN STUDIES Course Code 8640 DOCX
MS.SajjdaLodhiNotes Based on Teaching Of Pak.Std Chapter 2 complete in Urdu.... PPTX
Child Labour Training Materials for Pakistani Industry PPTX
Pakistan_Federal_Government_Presentation.pptx PPT
Roleofteacher 091006012056-phpapp02 DOCX
Long Question Answer based on PAK STD 9374 CHAP 8 TOPIC 8.6 IN URDU.docx DOC
DOCX
DOCX
LONG QUESTION ANSWER BASED ON PAK STD 9374 CHAP 9 TOPIC 9.2 IN URDU.docx DOCX
Long Question Answer based on PAK STD 9374 CHAP 9 TOPIC 9.2 UJRDU DOCUMENT.docx DOCX
Long Question Answer based on Bs PAK.STD 9374 chap 8 topic 8.5 in urdu docu... DOCX
long question answer based on bs pak std 9374 chap 9 topic 9.3.docx DOCX
long question answer based on bs pak std 9374 chap 9 topic 9.3.docx DOCX
پاکستان میں توانائی کی ترقی کے لیے سیاسی ترجیحات ..docx PPTX
Culture and Politics.pptx DOC
DOC
PPTX
Introduction of islamic economics after correction PPTX
Cost of medical procedures in islamic teachings More from Noaman Akbar
PDF
Pakistani Madrasa Education Reforms Viewpoint DOCX
DOCX
DOCX
DOCX
Judicial Delays in Appeals of Death Row Prisoners.docx DOCX
DOCX
DOCX
DOCX
DOCX
Article-Judicial Delays in Appeals of Death Row Prisoners.docx DOC
DOC
DOCX
DOCX
DOCX
DOCX
DOCX
DOC
PPT
PPT
9335-2.docx
- 1.
ANS 01
پسٓا یہاور ، اقتصادی اور اخالقی نفیساتی ، سیاسی ، معاشرتی ً مثال ، ہیں پہلو کئی کے زندگی انسانی تو یوں
کے زندگی تعلق کا معاشیات علم لیکن ۔ ہیں ہوتے انداز اثر پر دوسرے ایک ، ہیں بوط مر پر طور گہرے میں
سے طرزعمل ایسے کے انسان یعنی سے پہلو اقتصادی
تے کر پوری خواہشات کثیر سے ذرائع محدود جو
کرتے پوری انہیں لیکن ۔ ہین شمار بے تو خواہشات کی انسان کہ ہے گیا بتایا پیچھے ہے جاتا کیا اختیار وقت
کے کرنے پورا انہیں لیکن ۔ ہیں شمار توبے خواہشات کی انسان کہ گیا بتایا پیچھے ۔ ہے جانا کیا اختیار وقت
د (یعنی وسائل
طرف ایک سے جس ، ہے پڑتا کرنا اختیار رویہ ایسا اسے ذاٰلہ ۔ ہیں کم ) وغیرہ اشیاء اور ولت
طرح اس کو ذرائع طرف دوسری اور ہوں ضرروی بہت جو ۔ ہے لیتا کر منتخب خواہشات ایسی طرف و
طو بنیادی ۔ سکے اٹھا فائدہ زیادہ سے زیادہ اور ہوسکے کفایت میں ان کہ ہے تا کر استعمال
کا انسان پر ر
ہیں رہتی لیتی جنم خواہشات نئی نئی کی اس کیونکہ ہے بحث موضوع کا معاشیات ہی عمل طرز کا کفایت و یہی
معاشی اپنی کو انسان لئے کے کرنے پورا انہیں لئے اس ۔ ہیں رہتی ہوتی پیدا ر با بار خواہشات پرانی اور
جدوجہد (Economic Activity ) ج پر طور مستقبل بھی
سے باقاعدگی دمیٓا ہر یعنی ، ہے پڑتی رکھنا اری
حصہ بیشتر کا توجہ اور قوت وقت اپنے شخص ہر کہ ہوگا معلوم سے کرنے غور ۔ ہے کرتا کام کوئی نہ کوئی
محرک اقتصادی یوں اور ہے گھومتی گرد کے محور معاشی روزمرہ گویا ہے۔ کرتا خرچ مینہی جدوجہد معاشی
پوری جدوجہد معاشی اور
حد کافی بھی راہیں کی عمل و فکر کے انسان کہ ٰ
حتی ۔ ہے تیٓا نظر غالب پر زندگی
سرگرمیاں علمی ، روایات ثقافتی یا ہوں تعلقات سماجی ۔ ہیں ہوتی متعین ہی سے مسائل و حاالت اقتصادی تک
مسائ معاشی سبھی ، طریقے پر طور کے تفریح یا ہو تمدن و تہذیب ، مشاغل ، ادبی یا ، ہوں
جد معاشی اور ل
۔ ہے اہم بڑا )جدوجہد معاشی (یعنی بحث موضوع کا معاشیات لہذا ہیں ہوتے متاثر سے وجہد
۔:مسائل معاشی انفرادی یا مسائل معاشی اجتماعی
- 2.
رہنے میں معاشرہاور ۔ ہے علم معاشرتی ایک یہ بلکہ نہینلیتا جائزہ کا مسائل کے افراد الگ الگ معاشیات
اج کے افراد والے
جس قوم ایک کہ ہے کرتا تجزیہ کا چیز اس یعنی ۔ ہے تا کر مطالعہ کا مسائل معاشی تماعی
ضروریات محدود ال سے ذرائع محدود ان ۔ ہیں کم ذرائع کے کرنے انہینپورا ہینلیکن شمار بے ضروریات کی
اجت کے افراد کہ ہے یہ وجہ کی اس ۔ ہے کرتی اختیار عمل طرز کیسا لئے کے نے کر پوری
عمل طرز ماعی
ثابت مفید لئے کے کرنے حل کو مسائل انہی ئندہٓا جو ہیں سکتے کر معلوم نتائج کچھ ہم سے مطالعہ کے
تو لے جائزہ کا عمل طرز کے اس اور مسائل کے فرد ایک ایک معاشیات اگر برعکس کے اس ۔ ہیں ہوسکتے
لئے اس ۔ گا ئےٓا میننہیں وجود علم مفید کوئی میں نتیجہ کے اس
عمل طرز انفرادی کے انسان ، میں معاشیات
۔ ہے جاتا کیا مطالعہ کا مسائل اجتماعی اور عمل طرز اجتماعی بجائے کے
۔: یافن ہے علم معاشیات کیا
کی علم ایک یہ کیا یعنی ہے بھی پہلو عملی یا ہے پہلو نظریاتی صرف کا اس کیا کہ ہے ضروری جاننا یہ
سب کے حاالت بعض صرف سے حیثیت
ایک یا ہے سمجھتا کافی کو نے کر قائم رشتہ درمیان کے نتیجہ اور ب
ضروری لئے کے کرنے دور کو ابیوں خر معاشی جو ۔ ہے تا کر وضع بھی تدابیر ایسی سے حیثیت کی فن
۔ لیں سمجھ مفہوم کا فن اور علم ہم کہ ہے الزم یہ بیشتر سے کرنے فیصلہ کا بات اس ؟ ہیں ہوتی
۔:علم
سائن یعنی
لفظ کے زبان الطینی ایک س Scientia ۔ ہے مطلب کا جس ہے بنا سے Knowledge گاہیٓا یعنی
جنہیں ،مجموعہ باقاعدہ کا معلومات متعلق سے شعبے کسی کے ئنات کا ۔ ہے مراد سے علم گویا ۔ علم یا
نتی و سبب میں ان اور ، ہو گیا کیا مرتب کے کر مطالعہ جانبدارانہ غیر کا حقائق ضروری
کیا قائم رشتہ کا جہ
وغیرہ قوت اور حرارت روشنی ، مادہ ًالمث شعبوں چند کے کائنات میں شکل کی کی طبیعیات علم مثال ، ہو گیا
کائنات میں شکل کی کیمیا یاعلم ہے گیا ہو فراہم مجموعہ باضابطہ اور مفید ایک کا معلومات میں بارے کے
کیم اور مرکبات ،مفردات مثال شعبوں بعض کے
ذخیرہ ایک کا معلومات باقاعدہ مین بارے کے وغیرہ یاویات
غرض ۔ ہے ہوگیا جمع
’’
حقائق بعض :ہیں خصوصیات یہ کی سائنس ایک (Facts) متعلقہ پھر کرنا مشاہدہ کا
کے بنیاد کیلئے کرنے قائم اصول عام ایک یعنی تعمیم کو حقائق ان پھر اور ، بندی جماعت اور انتخاب کا مواد
پر طور
۔ کرنا استعمال
و حاالت والے ہونے ظاہر کے کائنات میں جس ہے علم وہ مراد سے اس ) علم اثباتی (یا الحقیقت علم )(الف
بات یہ سے مشاہدات ً مثال ۔ دیاجائے کر بیان توں کا ں جو انہیں کے کر تجزیہ اور مشاہدہ کا حقائق اور واقعات
محو اپنے زمین کہ ہے چکی پہنچ کو ثبوت پایہ
شے سہارا بے ہر باعث کے ثقل قانون ۔ ہے گھومتی گرد کے ر
کی جوں حقیقتیں تمام یہ وغیرہ وغیرہ ۔ ہے تیٓا واپس کر ٹکرار سے دیوار گیند ۔ ہے گرتی طرف کی زمین
۔ وغیرہ کیمیا علم طبیعیات علم ۔ ہیں یہ مثالیں کی علوم کے قسم اس ہیں گئی دی کر بیان توں
لہدایت (ب)علم (Normative Science) خاص ایک کو واقعات و حاالت میں جس ہے علم وہ مراد سے اس
بجائے کے مریتٓا مثال ۔ چاہیے ہونا یوں انہیں کہ جائے کیا فیصلہ یہ اور جائے کھا پر سے نگاہ زاویہ
ہونے حالی خوش بجائے کے غربت ۔ چاہیے ہونی شرافت بجائے کے گردی غنڈو ۔ چاہئے ہونی جمہوریت
چاہیے
۔ وغیرہ معاشیات اور اخالقیات سیاسیات ۔:ہیں یہ مثالیں کی علوم کے قسم اس ۔
اول ہیں۔ شاخیں دو کی اس چنانچہ ۔ بھی علم ہدایتی اور ہے بھی علم اثباتی یہ ہے تعلق کا معاشیات تک جہاں
کہ ہیں تے کر بیان بش ڈارن اور فشر فیسر و پر ۔ معاشیات ہدایتی دوم اور معاشیات اثباتی:
’’ معیشت یا نظام معاشی کسی تعلق کا معاشیات اثباتی ( Economy ) فعلیت کی ( Working) غیر کی
قدری ذاتی لئے کے معیشت کسی معاشیات ہدایتی کہ جب ، ہے سے تشریحات سائنٹیفک اور نہ جانبدار
۔ ہے کرتا تجویز جات نسخہ ، مبنی پر فیصلوں
- 3.
۔:فن
مخصوص جو ہےجدوجہد وہ مراد سے
ہم ذریعے کے علم ۔ ئےٓا میں عمل لئے کے نے کر حاصل کو مقاصد
کر پورا کو مقاصد اپنے کر دے شکل عملی کو اصولوں ان ذریعے کے فن اور ہیں کرتے معلوم اصول بعض
ڈاکٹری علم طالب کا طب جب لیجئے مثال کی ڈاکٹری یعنی طب لئے کے سمجھنے فرق کا فن اور علم ۔ ہیں تے
کا اصولوں کے
کا طب وہ کہ ہیں کہتے ہم تو ہے ہوتا مشغول میں تجزیہ و تحقیق اور ہے تا کر مطالعہ
’’
علم
‘‘
عملی کو نتائج شدہ تحقیق اور ہے تا کر عالج کا مریضوں کر بن ڈاکٹر وہ جب لیکن ۔ ہے رہا کر حاصل
۔ ہے دیتا دے حیثیت کی فن کو علم اپنے گویا وہ تو ہے دیتا شکل
مذک کی فن و علم
بھی علم ایک یہ کہ ہوگا معلوم تو جائے کھا پر کو معاشیات اگر میں روشنی کی تعریف ورہ
ہے ملتا سے دالئل ذیل مندرجہ ثبوت کا ہونے علم کے اس ۔ بھی فن اور ہے :
۔: اول
والے نے ہو پیدا سے وجہ کی قلت کی ذرائع اور کثرت کی خواہشات (یعنی شعبہ خاص ایک کے کائنات یہ
)مسائل
۔ ہے دیتا ترتیب اور کرتا جمع حقائق ضروری متعلق کے اس اور ہے کرتا بحث سے
۔:دوم
غیر کا ان ۔ ہے جاتی کی بحث میں رنگ تحقیقی اور علمی خالص پر واقعات و حاالت متعلقہ میں معاشیات
ق کر دے ترتیب باقاعدہ انہیں اور ۔ ہے جاتا کیا مشاہدہ سے انداز جذباتی غیر اور جانبداری
کئے اخذ وانین
۔ ہیں جاتے
۔:سوم
ہیں تے کر وضاحت کی حقائق متعلق سے مضمون نفس کے معاشیات جو ہیں جاچکے کئے اخذ قوانین ایسے
قابل بھی بات یہ لیکن ۔ وغیرہ قوانین کے طلب و رسد قوانین کے دولت ئش پیدا قوانین کے دولت صرف ً مثال
۔ ہے علم معاشرتی ایک معاشیات کہ ہے غور
لئے اس ہے جاتی کی بحث پر مسائل سماجی کے انسان میں اس
اصل کر اٹھا فائدہ سے مطالعہ اس کہ ہے ضروری بھی یہ بلکہ ، نہیں کافی ہی مطالعہ صرف کا مسائل ان
ماہرین گویا ۔ بنانا سائشٓا پر اور حال خوش کو زندگی انسانی ہے مقصد اصل وہ اور جائے کیا حاصل کو مقصد
کا معاشیات
مسائل ان کہ ہے بھی فرج یہ کا ان بلکہ ہیں کیا مسائل معاشی کہ نہیں ہی کرنا مطالعہ یہ صرف کام
نا پہنا جامہ عملی کو تدابیر ان چہ اگر ۔ بتائیں تجاویز لئے کے کرنے حل انہیں اور کریں معلوم اسباب کے
کی کرنے پیش تدابیر اور دینے مشورہ میں سلسلہ اس لیکن ہے کاکام حکومت
پر معاشیات ماہرین داری ذمہ
کی ہونے الحقیقت علم بھی فن اور ہے بھی علم معاشیات کہ ہے ہوجاتی واضح بات یہ گویا ، ہے ہوتی عائد
سے حیثیت
’’
معاشیات اثباتی
‘‘
کیسے یہ کہ ہے پہنچتا پر نتیجہ اس اور ہے لیتا جائزہ کا واقعات و حاالت
ہونے الہدایت علم اور ہوئے پذیر وقوع
سے حیثیت کی
’’
معاشیات ہدایتی
‘‘
کی معاشرہ کہ ہے کھتا پر یہ
، روزگاری بے ، غڑبت ًالمث مسائل و حاالت معاشی یہ پہلے گویا ۔ چاہئیں ہونے کیسے حاالت یہ لئے کے فالح
یہ کہ ہے دیتا فیصلہ یہ اور ہے کرتا معلوم وجوہات کی مساوات عدم معاشی اور زر افراط ، قلت کی اشیاء
معاشیات سے حیثیت کی ہونے فن بعد کے اس ۔ چاہیے نا کر حل انہیں اور ہیں مضر لئے کے معاشرہ مسائل
ترقی اور حال خوش ایک کیسے اور ہے سکتا جا کیا حل طرح کس کو مسائل ان کہ ہے کرتا رہنمائی ہماری
۔ ہے سکتآا میں وجود معاشرہ پذیر
۔:سوال کا ناپسند و پسند کی خواہشات
قدی
جس ، نہیں تعلق کوئی سے نوعیت کی خواہشات کا معاشیات کہ تھا کیا پیش نظریہ یہ نے معاشیات ماہرین م
طرح جس وہ کہ ہیں دیتے دے اختیار یہ اسے اور ہیں کرتے مہیا قوتیں بعض کو انسان علوم طبعی طرح
ش کی )انرجی اٹامک (یعنی توانائی ی جوہر ًالمث ، ے کر استعمال انہیں چاہیے
قوت پناہ بے کو انسان میں کل
- 4.
حالی خوش مادیکر ال انقالب ایک میں صنعت و زراعت تو چاہے وہ سے مدد کی جس ۔ ہے گیا مل وسیلہ کا
سا گا نا اور شیما و (ہیر شہروں کے جاپان کر بنا بم ایٹم تو چاہیے اور ۔ ہے سکتا کر حاصل معیار ترین بلند کا
سکتا بنا ڈھیر کا راکھ کو ) کی
کے کرنے پوری خواہشات اپنی کو انسان بھی معاشیات طرح اسی بالکل ۔ ہے
خواہشات یعنی ، چاہئیں ہونی کسی خواہشات وہ کہ ہے جانبدار غیر سے چیز اس لیکن ۔ ہے سکھاتا طریقے
عمار ۔ َ مے جام یا ہے کرتا پسند گالس کا دودھ وہ کہ ہے قوف مو پر انسان خود یہ بلکہ بری یا ہوں اچھی
تی
ایک جو ہیں ملتی سے دولت چیزیں دونون یہ البتہ ، گاہ قص یار تاہے کر تعمیر یونیورسٹی سے سامان
ان کو معاشیات ماہر ایک ، بری یا ہوں اچھی خواہشات سے رو کی ماہرین ان کے رفتہ عہد ۔ ہے ذریعہ معاشی
مفکر قدیم نے معاشین کالسیکی نو لیکن ۔ نہیں واسطہ کوئی سے نوعیت کی
کیا اختالف سے نظریہ اس کے ین
ان کی انسان یہ بلکہ ، ہے نہیں جانبدار غیر میں بارے کے خواہشات ، معاشیات کہ کی پیش رائے یہ اور
طرح کس لئے کے کرنے بسر زندگی حال خوش کہ ہے سے بات اس تعلق کا جن ہے تا کر بحث سے کوششوں
ان اگر چنانچہ ۔ ہیں جاسکتے کئے حاصل وسائل مادی
جو ، ہو رہا کر خرچ پر کاموں ایسے کو دولت اپنی سان
ہو ضائع طرح اس کے دولت وہ کہ ہے الزم پر معاشیات ماہر تو بنیں باعث کا تباہی یا ۔ ہوں مضر لئے کے اس
میں بہبود و فالح انسانی مطالعہ کا معاشیات کہ دیا زور پر چیز اس نے انہوں گویا ۔ اٹھائے وازٓا خالف کے نے
اضافہ
ا ہو مقبول خاصا نظریہ یہ کا مفکرین خیال ہم کے ان اور مارشل پروفیسر چہ اگر ۔ چاہیے بننا باعث کا
غیر میں سلسلے کے نوعیت کی مقاصد و خواہشات معاشیات کہ اٹھایا سوال یہ دوبارہ رابنزنے فیسر پرو لیکن
مقا انسانی بھی سائنس کوئی اور ہے سائنس ایک یہ کیونکہ ہے جانبدار
محض بلکہ کرتی نہیں متعین کو صد
اور قوموں نے مسائل معاشی میں حاضر عہد لیکن ۔ ہے دیتی انداز کا فکر و غور اور ہے کرتی مہیا وسائل
ہیں جدوجہد مصروف لئے کے نپٹنے سے مسائل ان وہ ۔ ہے رکھی کھینچ طرف اپنی سے توجہ کی حکومتوں
پ بات اس کا ماہرین میں دور موجود لئے اس ۔
تعلق کا اس ۔ ہے علم معاشرتی ایک معاشیات کہ ہے اتفاق ر
مقصد بڑا سے سب اس اور بھی سے کرنے حل انہیں اور ہے بھی سے کرنے فکر و غور پر مسائل معاشی
، لگیں ہونے استعمال لئے کے مقصد اسی صرف وسائل اور ذرائع معاشی تمام ذاٰلہ ۔ حالی خوش کی قوم : ہے
کے ہونے ضائع وہ تو
محض مطالعہ کا معاشیات کہ ہو ثابت چنانچہ ۔ ہیں بر برا
’’
علم برائے علم
‘‘
خاطر کی
۔ جاتاہے کیا خاطر کی کرنے پیش تجاویز عملی لئے کے ترقی و تعمیر اقتصادی کی معاشرہ بلکہ جاتا کیا نہیں
۔:مضمون نفس کا معاشیات
اپنے طرح کس انسان کہ ہے یہ مضمون نفس مرکزی کا معاشیات
پورا کو حاجات المحدود سے ذرائع محدود
تفصیل ۔ ہے مضمون نفس کا معاشیات حقیقت در ہی مسئلہ معاشی یعنی ۔ ہے کرتا وجہد جد لئے کے نے کر
تے کر خوض و غور پر مسائل زیل مندرجہ پر طور بنیادی اقتصادیات ماہرین میں معیشت ہر کہ ہے یہ کی اس
تد لئے کے کرنے حل انہیں اور ہیں
ہیں سوچتے ابیر :
۱
۔: ستعمال پورا بھر کا ذرائع پیدواری ۔
والے نے کر پیدا اشیاء کہ ہے ضروری لئے اس محدود وسائل اور ، ہیں محدود ال ت حاجا کی انسان چونکہ
کانیں ، زمین مثال ذرائع قدرتی :اول ہیں کے طرح تین ذرائع یہ ۔ جائے اٹھایا فائدہ پور بھر سے ذرائع تمام
جنگالت
ذرائع انسانی :سوم ۔ وغیرہ یں نہر سٹرکیں مشینیں خانے ر کا مثال ذرائع مصنوعی : دوم ۔ وغیرہ دریا
ہوتی کوشش یہ کی نظام معاشی ہر ۔ وغیرہ ماہرین اور ٹیکنیشن ، مزدور ، افراد مختلف والے نے کر کام یعنی
فائ پورا را پو سے ئش پیدا عاملین یا ذرائع واری پیدا تمام کہ ہے
پڑا نہ کار بے ذریعہ کوئی ،جائے اٹھایا دہ
۔ جائے کیا ختم سے طریقے ممکن ہر کو وزگاری بیر اور رہے
۲
۔:جائیں کی پیدا میں مقدار کتنی اشیاء سی کون ۔
اور جائے کیا استعمال لئے کے پیداوار کی اشیاء سی کون کو ئش پیدا ذرائع کہ ہے یہ مسئلہ طلب حل دوسرا
- 5.
کتن کتنی اشیاءوہ
ہیں محدود ذرائع مینپیداواری مقابلہ کے حاجات انسانی چونکہ ۔ جائیں کی پیدا میں مقدار ی
؟ ضروری کم کی کس اور ہے ضروری زیادہ نسبتا پیداوار کی شے کس کہ ہے پڑتا کرنا فیصلہ یہ لئے اس
ہے تیٓا پیش ضرورت کی کرنے مختص لئے کے پیداوار کی اشیاء مختلف کو ذرائع ملکی گویا
مسئلہ یہ ۔
چیزوں یعنی ۔ ہے جاتا کیا مطالعہ کا قیمت نظریہ میں معاشیات چنانچہ ۔ ہے ہوجاتا حل سے نظام کے قیمتوں
۔ ہے ہوتی ر مقر مطابق کے قائدہ اور اصول کس قیمت و قدر کی
۳:۔:جائیں کئے اختیار طریقے سے کون لئے کے نے کر پیدا اشیاء ۔
پیدا اشیاء کہ ہے یہ مسئلہ اگال
شے ہی ایک کیونکہ جائیں کئے اختیار طریقے سے کون لئے کے کرنے
لئے کے اگانے گندم مثال ، ہیں جاسکتے کئے استعمال طریقے مختلف لئے کے کرنے تیار میں مقدار یکساں
مایہ سر اور مزدور بیج ، کھاد پر اس لیکن جائے کی استعمال مقدار کم زمین کہ ہے ہوسکتا یہ طریقہ ایک
م زیادہ
لیکن جائے الئی کاشت زیر میں مقدار زمین کہ ۔ ہے سکتا ہو یہ طریقہ دوسرا اور جائے یا لگا میں قدار
)ئش پیدا عاملین (یعنی ئش پیدا صنعتی حال یہی ۔ جائین کرلی استعمال کم مشینیں اور پانی بیج کھاد ، سرمایہ
ہ استعمال میں مقدار زیادہ باقی اور کم ذریعہ ایک کوئی سے میں
سے مین طریقوں مختلف ان کہ ہیں وسکتے
۔ ہے جاتا کیا مطالعہ کا وار پیدا نظریہ میں معاشیات ۔ ہے رہتا موزوں اور مفید طریقہ سا کون
جائے کیا تقسیم سے طریقے کس افرادمیں کے معاشرہ کو اشیاء ہ شد پیدا :
م اور سرمائے زمین یعنی ئش پیدا عاملین مختلف کہ ہے یہ مسئلہ چوتھا
دولت قومی جو کر مل نے زدوروں (
National Wealth) کیا غور پر بات اس نیز ، جائے کی تقسیم تحت کے اصول کس کی ان وہ ، ہے کی پیدا
اغریب دوسر اور ہوجائے مند دولت زیادہ طبقہ ایک یعنی ہوجائے خراب نظام کا دولت تقسیم اگر کہ ہے جاتا
میں نظام کے تقسیم کی دولت تو ہوجائے
ثابت ثر مو تک حد کس مداخلت کی حکومت کیلئے کرنے پیدا تبدیلی
۔ ہیں تےٓا بحث زیر میں دولت تقسیم یہ نظر مسائل یہ ۔ ہے ہوسکتی
۔: ہے ترقی روبہ صالحیت کی کرنے پیدا اشیاء کیا
سال صالحیت کی کرنے پیدا اشیاء کی ملک کسی کیا کہ ہے تآا بحث زیر یہ سوال اہم ایک میں خرٓا
بڑھ سال بہ
کا لوگوں تو جائے بڑھتی مسلسل صالحیت یہ تو اگر ؟ ہے گئی رک پر مقام ایک یا ہے رہی
’’
زندگی معیار
‘‘
بادیٓا ، رفتار کی بڑھنے مدنیٓا قومی وہاں کیونکہ ،) ہے ہوا میں ممالک مغربی کہ (جیسا ہے جاتا ہوتا بلند
پید اگر اور ۔ ہے رہی تیز سے رفتار کی اضافہ میں
ہو گئی ٹھہر پر مقام یا ، ہو نہ اضافہ میں صالحیت کی اوار
ترقی معاشی کی ممالک بعض کہ ہے جاتی کی بحث پر مسئلہ اس غرض ۔ ہوسکتے نہیں حال خوش لوگ تو ،
نظریہ لئے کے نے کر بحث میں مسائل ان ہے گئی رک کیوں کی بعض اور ؟ ہے کیوں تیز زیادہ رفتار کی
ن (معاشی ترقی معاشی
۔ ہے گیا کیا قائم )مو
پہلو کے معاشیات
یا معاشیات پالیسی : دوم اور معاشیات نظریات یا تجریات ، اول : پہلوہیں دو کے ت معاشیا پر طور بنیادی
ہیں کرتے وضاحت کی ان ہم یہاں معاشیات اطالقی یا معاشیات پالیسی :دوم اور معاشیات اطالقی:
۔: تجزیہ معاشی یا معاشیات تجزیاتی
کیا کیا خصوصیات نمایاں کی اس اور ہے چلتا طرح کس نظام معاشی ایک کہ ہے جاتی کی وضاحت یہ میں اس
ب اسبا شمار بے اور ، ہے ہوتا انحصار گہرا پر دوسرے ایک کا ومسائل واقعات میں دنیا حقیقی چونکہ ، ہیں
جو ، نظریہ معاشی ایسا لئے اس ہیں دیتے کر پیچیدہ کو حاالت عوامل و
قائم کر رکھ سامنے کو گیوں پیچید ان
ایسا صرف لہذا ۔ نہیں ممکن ، جائے کیا
’’
نظریہ معاشی
‘‘
صرف کی معیشت جدید ایک جو ، ہے جاتا کیا پیش
لیکن ، ہو بھی حقیقی غیر حدتک کچھ ازیں عالوہ ہو مجرو ًانسبت اور ، ہو رکھتا سامنے کو خصوصیات نمایاں
فہ قابل باعث کے ہونے سادہ
۔ ہے ہوتی قائم پر باتوں دو بنیاد کی تجزیہ معاشی ۔ ہو ضرور سانٓا اور م
- 6.
۔: اول
کرئے قائمضات و مفر ضروری میں بارے کے خصوصیات کی اس ہو درکار کرنا تجزیہ کا نظام معاشی جس
تع کا ان اور ، ہے ہوتی عمومی نوعیت کی جن ہیں جاتی لی کر فرض باتیں بنیادی کچھ یعنی ہیں جاتے
زیادہ لق
؟ ہیں تے کر اختیار عمل طرز کا قسم کس پر طور عام لوگ : اول ۔ ہے ہوتا سے باتوں تین ذیل مندرجہ تر
؟ ہیں کے قسم کس ادارے اقتصادی اور معاشرتی ، سماجی : سوم ؟ ہے کیسا ماحول مادی اور طبعی :دوم
۔:اقسام کی وضات مفر
س کے کرنے قائم نظریہ معاشی یا تجزیہ معاشی
ً عموما کی ان ہیں جاتے کئے قائم ضات و مفر جو میں لسلہ
۔ ہیں ہوتی قسمیں تین
۔: ہیں وہ وضات مفر کے قسم پہلی
گر دو سے سانیٓا کو اد افر کے معاشرہ ایک ہم ۔ ہو سے عمل طرز اور رویہ ادی انفر کے انسان تعلق کا جن
دولت یعنی ہ گرو کا صارفین ایک ہیں سکتے بانٹ میں وہوں
اور والے خریدنے چیزیں اور کرنے صرف
۔ لوگ والے نے کر پیدا چیزیں یعنی وہ گر کا جرینٓا یا کاروں پیدا دوسرا
۔:رویہ کا صارفین
ہوتا مبنی پر شعور و عقل رویہ کا ان کہ ہے جاتا لیا کر فرض یہ تو ، ہیں تےٓا بحث زیر افعال کے صارفین جب
پر طور کے مثال ، ہے :
صارفین )(الف
نظر مد کو ذرائع اپنے طرف دوسری اور ضرورت اپنی طرف ایک وقت کرتے طلب اشیاء
ہیں۔ رکھتے
میں اس اور ، ہے رہتا سا ایک عموما رجحان اور ذوق ، پسند کی ان میں سلسلہ کے نے کر صرف اشیاء )(ب
یع افادہ زیادہ سے زیادہ سے رقم اپنی صارفین )(ج ۔ تیٓا نہیں تبدیلی نمایاں کوئی
نا کر حاصل تسکین نی
۔ ہیں چاہتے
۔ ہوتی نہیں ضرورت انہیں حقیقت در کی جن خریدتے نہیں اشیاء ایسی وہ )(د
۔: رویہ کا جرینٓا
جاتا لیا کر قائم وضہ مفر یہ تو ہین تےٓا بحث زیر افعال کے جرینٓا وقت تے کر تجزیہ معاشی جب طرح اسی
ہ تے کر اختیار عمل طرز ایسا بھی وہ کہ ہے
یہ وضہ مفر بنیادی ایک ً مثال ہو مبنی پر شعور و عقل جو ،یں
۔ کمائیں منافع زیادہ سے زیادہ میں کاروبار اپنے وہ کہ ہے تی ہو کوشش یہ کی جرینٓا تمام کہ ہے
۲:۔: ہیں وہ وضات مفر کے قسم دوسری ۔
ہوتا سے مسائل و حاالت موسمی اور حیواناتی جغرافیاتئی ، مادی ، تعلق کا جن
بعض میں سلسلہ اس اور ہے
مثال ، ہے جاتا رکھا سامنے کو حقائق تی قدر :
یا ، ہیں جاتی کاٹی میں موسم خاص اور ہیں جاتی بوئی میں موسم خاص ایک فصلیں زرعی ٭
یا سکتا ہو نہیں اضافہ محدود ال میں وار پیدا صنعتی باعث کے حاالت مادی اور فنی بعض ٭
کر کام میں خانوں ر کا ٭
سے سب ۔ سکتے کر نہیں کام پر مشینوں مسلسل بغیر کے وقفہ مزدور والے نے
کہ ہے یہ وہ ، ہیں رکھتے سامنے ، وقت کرتے تخلیق نظریہ معاشی ، معاشیات ین ماہر جس حقیقت بڑی
اشیاء اگر کیونکہ ، ہیں محدود وسائل والے کرنے پیدا چیزیں کی ضرورت انسانی یعنی ، ہیں کمیاب اشیاء
کمی
۔ تآا نظر وجود کا معاشیات نہ اور ہوتا مسئلہ معاشی کوئی نہ تو ہوتیں نہ اب
۳:۔: ضات مفرو کے قسم تیسری ۔
پر طور عام میں سلسلے اس ۔ ہے سے اداروں اقتصادی اور معاشرتی تعلق کا ہے مبنی نظریہ معاشی پر جن
۔ ہیں جاتے کئے قائم وضات مفر یہ
- 7.
قائم ریاست باقاعدہایک )(الف
۔ ہے
۔ دہے موجو نظام سیاسی مستحکم میں اس )(ب
کی پیسے روپے یعنی زر بجائے کے چیزیں بدلے کے چیزوں یعنی ہونے راست براہ ، تبادلہ کا اشیاء )(ج
۔ ہے ہوتا معرفت
۔ ہیں تے ہو مادہٓا لئے کے کرنے کام پر ں تو اجر لوگ )(د
کر رہ اندر کے حدود کی قانون ملکی ، ی شہر سب )(ہ
۔ ہیں کماتے روزی اپنی
میں پسٓا ، والے بیچنے اور نے خرید کو شے ایک معرفت کی جس نظام ایسا یعنی ۔ ہے منڈی ادارہ اہم ایک
۔ ہیں لیتے حصہ میں نے کر مقرر قیمت کی شے کر رکھ رابطہ قریبی
۔ ہے ہوتی قائم پر دوباتوں بنیاد کی معاشیات نظریاتی کہ ہے بتایا نے ہم اوپر
:اول
اور کرنا قائم ضات مفرو بنیادی میں بارے کے نظام معاشی ۔
۔ رکرنا اخذ نتائج سے وضات مفر ان ۔:دوم
کے قسم کس کہ ہے بتایا بالتفصیل نے ہم ہے تعلق کا کرنے قائم ضات و مفر یعنی حلہ مر پہلے تک جہاں
ت جہاں اور ہے کیا واضح انہیں سے مثالوں نیز ہیں جاتے کئے قائم ضات مفرو
مفر (یعنی مرحلہ دوسرے ک
سے ضات مفرو بنیادی کہ ہے غور قابل بات یہ میں سلسلے اس ہے تعلق کا ) کرنے اخذ نتائج سے وضات
طو کے مثال ، ہے جاتا کیا اختیار ر کا طریقہ کا استدالل لئے کے کرنے اخذ )قوانین معاشی (یا نظریات معاشی
۔: رپر
مفروض چار ذیل مندرجہ پاس ہمارے اگر
ہوں ات :
۔ ہیں سے بہت افراد والے خریدنے کو شے (الف)کسی
۔ ہے زیادہ بہت بھی تعداد کی والوں بیچنے شے وہ )(ب
ًانسبت جو گے خریدیں شے سے دکاندار اس کہ ہیں چاہتے یہ ہوئے تے کر اختیار رویہ معقول گاہک تمام )(ج
۔ ہو لیتا قیمت کم
باہمی کا دکانداروں اور گاہکوں تمام )(د
رائج پر دکانوں مختلف میں بازار سب وہ اور ہو قریبی بہت رابطہ
ہوں۔ گاہٓا سے قیمت
ہم طرح اس ۔ گی ہو ایک میں وقت ایک میں منڈی پوری قیمت کی شے اس کہ گا نکلے یہ نتیجہ الزمی تو
غرضیکہ ہے کرتا رہنمائی ہماری معاشیات یات نظر اور ہین پہنچاتے تک تکمیل کو تجزیہ معاشی
نظریاتی
۔ ہے جاتی کی یوں تعریف کی معاشیات
کے نظام اس یعنی ، سمجھنا کو ر کا طریقہ اور عملیت کی نظام معاشی : ہے مراد سے معاشیات نظریاتی
۔ کرنا اخذ نتائج سے ان کرکے قائم ضات مفرو بنیادی میں سلسلے
۲:معاشیات اطالقی یا معاشیات پالیسی ۔
ہے مراد سے معاشیات پالیسی
’’
بدولت کی ) معاشیات نظریاتی (یا نظریے معاشی
‘‘
مسائل اور نظام اقتصادی
و حاالت معاشی مخصوص کے کر استعمال اسے ۔ ہے گیا کیا پیش دھانچہ عمومی ایک جو کا تجزیہ کے
مثال ۔ کرنا تجویز اقدامات عملی اور ڈالنا روشنی پر اہمیت و نوعیت کی ان نا کر واضح اسباب کے واقعات
کے
نے معاشیات نظریات تو ، ہے رہا جا ہوتا کو اوپر رجحان کا قیمتوں میں پاکستان کہ ہیں دیکھتے ہم پر طور
اس سے حوالہ کے پاکستان ہم سے رو کی اس ، ہے رکھا کر پیش ڈھانچہ جو کا رسد و طلب سامنے ہمارے
ہیں کیا ہات وجو رجحان کے بلندی میں قیمتوں کہ گے یں کر غور پر چیز
ہورہے تب مر ات اثر کیا کے اس ،
کے ) نظریے معاشی (یا معاشیات نظریاتی ؟ ہیں جاسکتے کئے اقدامات کیا لئے کے احوال اصالح اور ، ہین
گئی گھٹ رسد یا ۔ ہے گئی بڑھ طلب کی اشیاء تو یا کہ ہوگا معلوم یہ میں روشنی کی ڈھانچہ ہوئے کئے پیش
- 8.
توازن عدم میںطلب و رسد یعنی ۔ ہے
ہیں سکتے ہو اسباب کئی گےٓا کے بڑھنے کے طلب اب ہے ہوگیا پیدا
مثال :
یا ، ہو گئی برھ بادیٓا )(الف
یا ، ہو گئی ہو زیادہ مقدار کی زر )(ب
)ہوں گئے لگ کرنے خرچ حصہ زیادہ سے پہلے کا مدنیٓا اپنی لوگ (یعنی ہو گیا بڑھ صرف ِ رجحان )(ج
یا ہو ہوگئی کمی میں ٹیکسوں )(د
مقدار کی زر (یعنی ہو گیا ہوتا اضافہ میں کاری سرمایہ زری بعد کے نےٓا استعمال زیر ئش پیدا ذرائع تمام )(ہ
جائے۔ لگایا روپیہ مینہی باروں ر کا انے پر بجائے کے کرنے قائم رخانے کا یا کاروبار نئے اور ہو گئی بڑھ
بڑھتی)یا نہیں رسد لیکن ہے جاتی بڑھ طلب سے جس
عامل )(و
۔ ہیں رہتے ہو دستیاب کے صالحیت کمتر وغیرہ مزدور اور زمین یعنی ائش پید ین
یا ہوں گئی ہو کم واریں پیدا زرعی باعث کے حاالت موسمی ناموزوں )(الف
یا ہو گئی گھٹ وار پیدا کی خانوں کار باعث کے چینی بے کی مزدوروں یا قلت کی مال خام )(ب
ہو گئی بڑھ مدٓا بر کی اشیاء )(ج
یا ہو ہوگئی کم مدٓا در سے ملک بیروں یا
گئی ہو کم قیمت و قدر کی روپے سے حوالے کے نسیوں کر بیرونی یعنی ۔ ہو ہوگئی تخفیف میں قدر کی زر )(د
میں قیمتوں مثال ہیں تےٓا بحث زیر ات اثر کے ان ، ہیں ہوتے رونما واقعات جو سے وجوہات ان پھر ۔ ہو
طب مختلف کے ملک سے اضافہ
پر حالت معاشی کی قوم پوری پر طور اجتماعی اور ئے ہو متاثر طرح کس قے
؟ پڑا اثر کیا
ہو پیدا مسئلہ کا دولت ارتکاز یا ۔ ہے گئی ہو مساوی غیر تقسیم کی مدنیٓا میں پاکستان کہ دیکھیں ہم طرح اسی
عا گاری وز بیر یا ۔ ہے ہوگئی جمع پاس کے امراء چند دولت بیشتر یعنی ہے چکا
کی ترقی معاشی یا ہے م
کی حاالت سے مدد کی معاشیات مینپالیسی رہنمائی کی معاشیات نظریاتی میں سلسلہ اس تو ہے سست رفتار
۔ گی جائے کی کوشش کی نے کر درست
ہیں ہوتے مقاصد تین کے پالیسی تو جائے کیا بیان سے طریقے سادہ:
د اضافہ میں استعداد پیدواری ہے مقصد بنیادی :پہال
ہے کرنا معلوم طریقے ایسے مقصد کا معاشیات حقیقت ر
ایسے وہ کہ ہے یہ کام پہال سے سب کا معاشیات ماہر ذاٰلہ ، سکے جا پایا قابو پر قلت کی اشیاء سے جن
۔ سکیں ہو استعمال سے طریقے بہترین وسائل کے قوم سے مدد کی جن ے کر دریافت طریقے
مقصد دوسرا کا پالیسی معاشی :دوسرا
باری کارو یعنی جائے کیا پیدا استحکام میں زندگی معاشی کہ ہے یہ
صالحیت پیداواری اور ہو نہ چڑھائو اتار میں قیمتوں اور پیداوار ، ہو نہ پیدا روزگاری بے اور بحران مندا
۔ ہو نہ ضائع
کی سائشاتٓا اور ضروریات مادی کی زندگی کہ ہے یہ مقصد کا پالیسی معاشی جدید : تیسرا
میں عوام تک حد
۔ پائے ہونے نہ زیادہ ق فر طبقاتی سے لحاظ اقتصادی اور جائے اکی پید مساوات
معاشیات بیانیہ
جسے ہے پہلو تیسرا ایک کا معاشیات
’’
بیانیہ معاشیات
‘‘
ضوع مو یا مسئلہ کسی ہم میں اس ۔ ہے جاتا کہا
تے کر اکٹھا کو حقائق اور معلومات متعلقہ تمام میں بارے کے
کے واقعات و حقائق مخصوص انہی اور ہیں
غور پر نتائج و اسباب میں روشنی کی تجزیہ دہ کر فراہم کے معاشیات نظریاتی ، معاشیات پالیسی میں بارے
جو ، ہے جاتی کی بچار سوچ پر اسباب کے واقعات و حاالت انہی میں معاشیات پالیسی گویا ۔ ہے تا کر
ک پیش معرفت کی بیانیہ معاشیات
غور پر نتائج و اسباب کے قلت کی گھی میں پاکستان ہم مثال ہیں جاتے ئے
کیے اکٹھے حقائق تمام متعلق سے پیدوار و صنعت کی گھی سے رو کی بیانیہ معاشیات پہلے تو چاہیں کرنا
- 9.
ہوتا دستیاب لما خام قدر کس اندر کے ملک ؟ ہیں خانے کار کتنے کل کے گھی پر طور کے مثال ۔ گے جائیں
۔ وغیرہ ہ وغیر ؟ ہے رہا جا کیا مدٓا در گھی قدر کس سے ممالک غیر ؟ ہے کتنی ضرورت قومی کی گھی ؟ ہے
، گے دیں کام کا ) مواد کا سوچنے (یا بنیاد لئے کے فکر غور کے معاشیات اطالقی ، معلومات یہی پھر اور
۔ گے سکیں پہنچ پر نتیجہ صحیح ہم اور
تینو مذکورہ معاشیات ماہرین
ہیں کرتے یوں تعریف کی معاشیات کی قسم ں :
ہیں کیا خصوصیات اہم کی اس اور ، ہے چلتا طرح کس نظام معاشی ایک کہ ہے تا کر وضاحت یہ تجزیہ معاشی
اسباب کے معامالت و واقعات کر لے کو ڈھانچہ تجزیاتی دہ کر مہیا کے معاشیات نظریاتی معاشیات پالیسی ۔
کرتا وضاحت کی اہمیت اور
کیا کہ ے کر معلوم تاکہ ہے کرتا کوشش کی کھنے پر کو نظریہ معاشی پھر یا ہے
ہمارے متعلق کے دنیا حقیقی جو ۔ ہے ہوتی تصدیق سے شمار و اعداد اور شواہد ان کی نظریات معاشی
کیا جمع کو حقائق متعلقہ تمام میں بارے کے ضوعات مو خاص خاص میں معاشیات بیانیہ ؟ ہیں تےٓا سامنے
۔ ہے جاتا
ANS 02
تمام سمیت ٹیکنالوجی و سائنس اور معیشت ، تجارت و صنعت تعلیمات اسالمی اور سنت و قرآن بالشبہ
ہے کرتیاعتراف کا افادیت کی اصولوں ان صرف نہ دنیا مغربی ، ہیں کرتی احاطہ کا زندگی ہائے شعبہ
بینک اسالمی مثال سی چھوٹی ایک کی جس ہے رہی بھی اپنا سے تیزی بڑی انہیں بلکہ
، ہے نظام اری
میں یورپ آج بلکہ نہیں ہی دنیا اسالمی صرف یہ سے وجہ کی اہمیت پناہ بے اپنی سے حوالے معاشی
پوری یہ ہی جلد لیکن نہیں عام زیادہ بہت تصور یہ وہاں اگرچہ ہے۔ پارہی فروغ سے تیزی انتہائی یہ بھی
یافتہ ترقی جیسے امریکہ کیونکہ گی لے جما قدماپنے وہاں طرح
مسلم اور بینکنگ اسالمی بھی میں ملک
تک ممالک اسالمی صرف اب فوائد اسکے یوں ،ہے رہی جا کی کوشش کی کروانے متعارف نظام فنانسنگ
اسالمی یورپی میں یورپ براں مزید ،ہیں جارہے کئے تسلیم میں بھر دنیا بلکہ ہیں رہے نہیں محدود
جیسے بینک اسالمی برطانوی اور بینک کار سرمایہ
سامنے کر ابھر ادارے مالیاتی اسالمی بڑے کئی
اور کانگ ہانگ میں اورایشیاء ہیں رہے بڑھ گےٓا پر خطوط انہی بھی سنگاپور اور لینڈ تھائی ،ہیں رہےٓا
کئی کی برطانیہ وقت ہیں۔اس رہے کر اختیار شکل کی مارکیٹ فنانس اسالمی پرکشش سے سب سنگاپور
بینکنگ اسالمی میں یونیورسٹیوں
کہ ہیں گئے کئے شروع سے وجہ اس پروگرام ڈگری ماسٹر متعلق سے
وہ چنانچہ ،جائے چلی نہ میں بینکوں اسالمی کی ممالک مسلمان کر نکل رقم بڑی ایک سے بینکوں کی نْا
دے فروغ کو نظام بینکاری اسالمی یہاں اپنے کیلئے رکھنے محفوظ میں بینکوں اپنی کو سرمائے اس
اسال جٓاہیں۔ رہے
ایک اسالم کہ ہے کیا ثابت پر دنیا نے اس کہ ہے یہ فائدہ بڑا سے سب کا فنانس می
محدود تک مسلمانوں صرف بینکنگ اسالمی جٓا کہ ہے وجہ یہی ،ہے دین مبنی پر مساوات اور پرسکون
کیلئے غیرمسلموں اسے نے اقدار مشترکہ کی بینکنگ اور مالیات اسالمی موجود میں اس بلکہ ہے نہیں
بھ
قرض میں نقصان و نفع کر دے اہمیت کو اصول کے مساوات نے فنانس اسالمی ،ہے دیا بنا قبول ِ قابل ی
طرح اس ،ہیں کئے فراہم مواقع عام کے کاری سرمایہ ذریعے کے شراکت برابر کی خواہ قرض اور دار
پوری ساتھ کے اصولوں جمہوری اور نظریات اقتصادی کرنا کام پر بنیاد کی اصولوں کے
مطابقت طرح
کرسکتے دور تنہائی اقتصادی اپنی ممالک اسالمی کے کر عمل پر جن ہیں اصول وہ یہی ، ہے رکھتا
جبکہ،ہے دینا فروغ کو ذرائع کاروباری اور دین لین کا قرض پر سود مطلب کابینکنگ میں جدید ہیں۔دور
ک ممانعت اور نفی بالکل کی دین لین کے قرض پر بنیاد کی سود اسالم
کا قرض کر رکھ رہن لیکن ،ہے رتا
- 10.
باہمی کو دونوںہنر ارباب و مال ارباب اور دینا فروغ کو کاروبار پر بنیادوں کی مضاربہ اور دین لین
پر بنیاد کی اصولوں اور تعلیمات اسالمی ان اگر ،ہے کرتا فراہم ضرور مواقع کے کرنے ترقی سے اشتراک
جائی کئے اختیار طریقے کے کاری سرمایہ
اسے تو ں
’’
بینکنگ اسالمی
‘‘
عام میں پاکستان ہے۔ جاسکتا کہا
سے بینکاری اور تجارت سودی وہ کہ رہی خواہش یہ کی تعداد خواہ خاطر کی تاجروں اور مسلمانوں
اقتصادی میں یورپ اور امریکا میں قریب ماضی ،کریں تجارت پر اصولوں اسالمی کے کر حاصل نجات
کی اداروں مالیاتی ،بحران
بڑے اتنے ،ہونا دیوالیہ کا بینکوں سودی میں دبئی پھر ،تباہی پر پیمانے بڑے
کےبینکاری و معیشت سودی نے واقعات ان ،جاسکتا کیانہیں نظرانداز بھی کبھی جنہیں تھے واقعات
’’
پن بلبلے
‘‘
بینکنگ اسالمی میں مسلمانوں کے بھر دنیا سے وجہ کی جس کردیا شکارٓا طرحپوری کو
جا کی
کے دن گزرتے ہر مطالبہ یہ بھی میں پاکستان اور ہے پارہا فروغ سے تیزی رجحان کا رجوع نب
گزرا نہیں عرصہ زیادہ ہوئے متعارف کو نظام بینکاری اسالمی میں پاکستان ہے۔ جارہا پکڑتا زور ساتھ
سط ایڈوانس ایک اپنی اور ہے موجود سے صدیوں کئی سسٹم بینکنگ کا پہلے سے اس جبکہ ہے
پر ح
ہر اور ہے رہی کر طے سفر اپنا سے تیزی بہت بھی بینکاری اسالمی میں مقابلے اسکے ،ہے چکا پہنچ
صورتحال ہے۔اس رہا جا چال بڑھتا شیئر مارکیٹ کا بینکاری اسالمی میں پاکستان ساتھ کے دن والے نےٓا
وہ کہ ہے فرض یہ کا الناس عوام اور کاروں صنعت ،تاجروں تمام کے ملک میں
کی بینکاری سودی غیر
حبیب اسکے اور ہللا سود کیونکہ ،کریں افزائی حوصلہ
ﷺ
سود میں جنگ اس ،ہے جنگ کھلی سے
دینی توجہ جانب اس بھی کو حکومت لیکن ہے تویقینی ناکامی کی کرنیوالوں کاروبار سودی اور خوروں
اسک یہ کرے حاصل چھٹکارا جلد جتنا سے معیشت سودی ملک کیونکہ چاہیے
استحکام اور سالمیت ی
کے بھر دنیا ہے۔ مفید ہی اتنا کیلئے
51
میں ممالک اسالمی
500
مالیاتی اور بینک اسالمی زائد سے
سے اداروں ان ،ہیں ہورہے مستفید لوگ کروڑوں سے جس ہیں رہے دے سرانجام خدمات اپنی ادارے
ہی شامل بھی مسلم غیر عالوہ کے مسلمانوں میں کرنیوالوں استفادہ
زیادہ کو بینکاری سودی غیر جٓا جو ں
مالیاتی اور بینکنگ عالمی اثاثے کے اداروں مالیاتی اسالمی وقت اس اگرچہ ،ہیں کرتے تصور محفوظ
بڑھ یہ کہ ہے جارہی کی توقع میں عشرے ایک ئندہٓا لیکن ،ہیں فیصد ایک صرف کا مارکیٹ کل کی اداروں
کر
8
سے
10
بینکن ہوجائینگے۔اسالمی فیصد
کا اس ہے مختلف طرح کس سے بینکنگ کی اقسام دیگر گ
،ہیں دیتے قرضے پر ریٹ انٹرسٹ فلوٹنگ کو کمپنیوں بینک اسالمی کہ ہے ہوتا سے مثال اس اندازہ
ایک کی منافع کے کمپنی نفع کا بینک چنانچہ ،ہے ہوتا پر نمو شرح کی کمپنی انحصار کا ریٹ فلوٹنگ
،ہے ملتا میں صورت کی شرح خاص
یہ کا شراکت میں نفع تو جائے دی کر واپس رقم اصل کی قرض جب
افرادی کرنیواال کاروبار ،ہے کاری سرمایہ میں کاروبار مثال اور ایک کی نظام اس ،ہے ہوجاتا ختم معاہدہ
ہو شرکت میں دونوں نقصان اور نفع طرح اس ،ہے لگاتا سرمایہ میں اس بنک جبکہ ہے کرتا فراہم قوت
سر ،ہے جاتی
نشاندہی کی اصول اس کے اسالم انتظام شراکتی کا طرح اس درمیان کے مزدور اور مائے
طرف دوسری ،پڑے اٹھانا نہ ہی کو دار قرض صرف بوجھ سارا کا ناکامی کسی میں کاروبار کہ ہے کرتا
بھی کا تسلط کے والے دینے قرض پر معیشت اور ہے جاتی ہو تقسیم پر طور متوازن بھی مدنٓا سے اس
بینک میں نظام اس ،ہیں کرتے عمل پر اصول اسالمی بینک بھی میں معاملے کے رہن ،ہے جاتا ہو ِباب ّدس
رکھ منافع اپنا پھر اور ہے لیتا خرید خود شئے مطلوبہ بلکہ کرتا نہیں فراہم رقم کیلئے خریدنے چیز کوئی
کی شے اس کو صارف بینک ،ہے دیتا کر فروخت دوبارہ کو صارف چیز کروہ
کرنے ادا میں قسطوں قیمت
نہیں ادا بھی جرمانہ یا رقم اضافی کوئی میں صورت کی ادائیگی سے تاخیر اور ہے دیتا بھی سہولت کی
جاتی رکھی شرائط سخت درمیان کے فریقین کیلئے بچنے سے نادہندگی میں مثالتیسری اس ،پڑتا کرنا
- 11.
اسالمی بقاء کیمعیشت میں مستقبل کہ یہ مختصر ہیں۔قصہ
پاکستان لہذا ہوگی مشروط ہی سے بینکاری
بینکاری اسالمی میں پاکستان ہوگا۔ کرنا کام کیلئے دینے فروغ کو بینکاری اسالمی سے تیزی انتہائی کو
اشد کی دینے وسعت کو کار دائرہ کیلئے کرنے فراہم تعلیم کی ماسٹرز اور ڈپلومہ گریجویٹ پوسٹ میں
ب اسالمی وقت اس کیونکہ ہے ضرورت
اور ہے ضرورت شدید کیبینکاروں اسالمی یافتہ تربیت کو ینکوں
چاہیے۔ دینی توجہ جانب اس کو حکومت،ہیں درکار افراد حامل کےتربیت و تعلیم معیاری انہیں
ANS 03
اسالمی
ہواشروع سے نصف تقریبا کے صدی بیسویں کام کا نو تشکیل کی ڈھانچے کے معیشت ِنظام
علکی دہائیوں چند ۔
بعد کے کاوش می
1970
میں دہائی ءکی
آغاز کا کوششوں کی اطالق عملی کے اس
بڑے بڑے بلکہ ہوئیں شروع آنا میں وجود منڈیاں اور ادارے، وثائق مالیاتی نئے نت صرف نہ ہوا
کے صدی کیے۔بیسوی شروع پرکاروبار بنیادوںسودی غیر نےاداروں مالیاتی عالمی
اختتام
تک
بینکاریاسالمی
پورے چرچا کا نظام ومالکاری
کاروبار اور مالیات ۔اسالمی گیا پھیل میں عالم
میں وسنت قرآن اصول بنیادی کے
اور ہیں۔ گئے کردیے بیان
میں روشنی کی وحدیث قرآن
علمائے
نے امت
حل جو سے کاوشوں اجتماعی
کیے تجویز
ہیں
لیے کے سب وہ
قبول قابل
ہونے
قر چاہئیں۔کیونکہ
کریم آن
رسول سنت اور
ﷺ
میں معامالت ہوئے رکھتے مدنظر کو مآخذ بنیادی کے
دور جدید ہیسوچ اجتماعی کی وفقہاء علماء سےے کےحوالے مسائل اختالفی
مسائل نئے نت کے
لیے کے برآہونے عہدہ سے
کرسکتی فراہم کلید کامیاب ایک
۔زیر ہے
کتاب نظر
’’
مالیات اسالمی
‘‘
معروف
بینکا
اور ر
جدید
کی ایوب محمد کےماہرمحترم معیشت اسالمی اور بینکاریاسالمی
تصنیف
ہے
موصوف
کے اکنامس اے ایم
عالوہ
سے یونیورسٹی پنجاب
اے ایم
اسٹدیز اسالمک
کے
ایک ساتھ
سے مدرسے دینی
بھی
۔ ہیں التحصیل فارغ
کے مہارت میں زبان انگریزی آپ لیے اس
ساتھ ساتھ
زبان عربی
بھی
شناساں سے
تبصرہ زیر ۔ ہیں
کتاب
کی موصوف
معیشت اسالمی
کے
حوالے
کتاب انگریزی سے
اردو کا
ترجمہ
اور مقبولیت کی اس پر اشاعت کی کتاب ۔انگریزی ہے
نظر پیش کے افادیت
نے فموصو
اردوترجمے کے اس ہیخود
انجام فرائض کے
دئیے
۔یہ
کتاب
اپنے
جامع انتہائی میں موضوع
حوالہ رمستند او
کتاب ۔یہ ہے مزین سے جات
نظام ومالکاری بینکاریاسالمی
کے
بارے کے شکل عملی اور اصولوں، فلسفہ
علماء طلباء میں
میں آگاہی مؤثر کی الناس عوام ر او طبقے کاروباری
معاون
۔ ہوگی ثابت
' کی تعلیم ع۔۔۔ام کی 'فہمی 'قران القابات کے وغیرہ ''قرانی ، 'رسول 'تارک ، 'حدیث تارک
،جاسکے کیا دفاع کا نظام سیاسی کے ''مولویت تاکہ ہیں عام لئے کے والوں کرنے اشارہ طرف
کے 'برصغیر ہے۔ چکی ہو ختم سے بعد کے 1857 کم از کم میں صغیر ِبر ضرورت کی جس
کے ''مولویت تاکہ تھا جاتا کیا ہتھیار بطور استعمال کا القابات ہی ان میں 'مولویت دور تاریک
'تارک میں نتیجے اس جو کی لوگوں ایسے َاعموم جائے۔ کی حفاظت کی تنظیم یا ٹیوشن انسٹی
لئے کے کرنے سپورٹ کو مولویت ،''ملوکیت ،تھے جاتے پائے قرار 'رسول 'تارک یا 'حدیث
ہے یہ بات کی مزے تھی۔ دیتی سزا ضرورت حسب کرکے تبدیل سے مرتد کو الزامات ان َاعموم
بھی لئے کے اجماع طریقہ یہی تھا۔ جاتا دیا نہیں الزام کا 'قرآن 'تارک کو کسی کبھی کہ
- 12.
میں سمجھ سےوجہ کی کمی کی تعلیم تو یا ،فتوی یا خطبہ کا مفتی یا مولوی ،تھا مخصوص
،) کریں کوشش کی سمجھنے کو خظبہ میں مسجد کی محلے اپنے کو جمعہ آئندہ ( ،تھا آتا نہیں
کرنا چیلنج کو قیادت دینی موجودہ مقصد کا جن ،تھے ہوتے ہی چند والے کرنے مخالفت لہذا
،تھا ہوتا کارندہ کا مخالف سیاسی کسی جو ،شخص ایسا کوئی یا مخالف سیاسی یا تھا ہوتا
اس ،تھا جاتا کردیا ہی جلد فیصلہ َاعموم اور تھا جاتا لیا الگ انٹرویو کا شخص مخالف ایسے
سوال چار دو آپ ،ہے آرہی چلی بھی آج روایت یہی تھا۔ ہوجاتا غائب سے شہر شخص وہ طرح
کا 'رسول 'تارک ،'حدیث 'تارک میں فرصت پہلی پر آپ سے۔ لوگوں شکار کے مولویت کیجئے
ہیں۔ میراث کی مسملمانوں اعالم و علم یہ پر طور دینی و علمی جبکہ گا۔ جائے دیا تھوپ فتوی
کردار کی والے کرنے سوال ،جواب کا سوالوں مشکل کہ ہیں۔ الگ کے ان مقصد سیاسی بس
تعلیم کی فہمی قراں قدم یہ َاعموم جائے۔ دیا بدل میں فتنہ کو سوالوں اور جائے دیا سے کشی
کی ''مولویت ،رہے قائم نظام سیاسی کا ''مولویت تاکہ ہے جاتا اٹھایا لئے کے والے کرنے عام
متوازی ایک کا ''مولویت طرح اس اور رہے۔ قائم یکساں میں عوام اور ''ملوکیت ،ضرورت
و سیاسی کا انتظامیہ متوازی اور عدلیہ متوازی ،سازی قانون متوازی ،ٹیکسیشن )(پیرالیل
نظام کے اس ہے۔ رہا چل اور ہے رہا چلتا جوکہ ،رہے چلتا ساتھ ساتھ کے حکومت نظام معاشی
کی مولویت رہے۔ جاتے نوازے سے القابات کے 'حدیث 'تارک اور 'رسول 'تارک مخالف کے
جو ،ہے کا خان احمد سرسید نام بڑا سے سب میں والوں پانے القابات ناجائز ایسے ،سے طرف
ہے۔ خالق کا کرنے بیدار سوچ سیاسی اور پیامبر کا علم میں مسلمانوں کئ برصغیر
ANS 04
میں کوعربی رَ
ز
دْقَن
راو ہیں کہےت
لغترمشہو
’’
الوسیط المعجم
‘‘
:ےہ لکھاںیو معنی کانقد میں
’’
من نقود۔والعملة )(ج فیه زیف ال جید :نقد درهم :ویقال النسیئة خالف )البیع (في :النقد
من وصحیحه،ردیئه من الکالم جید تمییز وفن به یتعامل مما وغیرهما الفضة ٔوا الذهب
فاسده
‘‘
۔
[2]
’’
کھوٹمیں جسہمرد کاقسم عمدہنیز،ہونہدھار
ُ
اجوشے وہ:ےہ ہوتامعنی کانقد میں ختوفروخرید
کواس ،ہو نہ
’’
نقد ہمرد
‘‘
کی ےہ۔اس جاتا کہا
جس ہیں کہےتکوی کرنساس نقد راو ےہ۔ تی
ٓ
ا نقود جمع
سے۔چیزیدوسر ی کسعالوہ کے ںدونو یاان کی چاندییاہوبنی کینے سو خواہ ،ہو ہوتادین لینیعےرذ کے
بھیکوفن کے نے کرامتیاز مابین کے کالمفاسد راو صحیح،ی ّدرراو عمدہ
’’
نقد
‘‘
ہیں کہےت
‘‘
۔
—
دھاتیں کیچاندینے سو
چنانچہ۔ میں ترصوکیںسکو ئے ہوڈھلے یا ںہومیںشکل کیڈلی وہ خواہ
لئے کے چاندینے سو میں اترعبا کیفقہاء
’’
النقدان
‘‘
۔ ےہ ہوا استعمال بکثرت لفظکا
- 13.
—
یدوسری کسعالوہ کےچاندینے سو عمدہ۔غیریا ںہوعمدہوہچاےہلئےکے ںسکو کے چاندینے سو
کںسکو ئے ہوبےن سے دھات
و
’’
س ْوُلُف
‘‘
۔ نہیں شامل میں نقد فلوس مطابق کے معنی ۔اس ہیں کہےت
—
کاغذراو پیتل،چمڑے ،چاندی یا ہوکی نے سو وہ چاےہ ،ہو استعمال تبادلہ ٔلہ
ٓ
ا ِربطو جوچیزوہہر
تیسرے اس لفظکانقد میںحاضر۔عصرہوحاصلِعامہکوقبولیتاس بشرطیکہ ،میں شکلکیوغیرہ
کے معنی
۔ ےہ ہوتا استعمال ی ہ لئے
’’
ا ًنقد املادة هذهاعتبرت ،اَّم مادة فيتوفرت متی خصائصثالث للنقدإن
اًعمستود یکون ٔنا :الثالثة ،للقیم مقیاسا یکون ٔنا :الثانیة ،للتبادل وسیطا یکون ٔنا : ٰ
ٔولیالا
للثروة
‘‘
۔
[4]
’’
:گاہوشمار رزوہ،جائیںپائی وہ بھی میں مادہ جسہیں خصوصیاتتین کیرز
ہومبادلہ ٔیعہرذ
ہو پیمانہ کاںقیمتو
دول
ہویعہرذ کا رکھےن محفوظ ت
تھا ہوتا ی ہ یعےرذ کے ںسکو کے چاندی ،نے سو دین لین مالیاتی میں ادوار ابتدائی کے اسالم بالشبہ
ںسکو کے چاندی،نے سولئے کے رزنے شریعت لیکن،ےہ مہ
ّ
مسل بھی صالحیتی رزکی چاندی،نے سوراو
رکھیوسعت یبڑ میں معاملے اس بلکہ لگائی نہیں شرط کی
کے یبالذر ٰ
یحیی بن احمد خرٔمو رےہ۔مشہو
اسمگر تھا لیاکر ادہرا کابنانے ہمرد سے کھال کیںاونٹو میں ردو اپےن نے عنہ ہللا ی ضرعمر سیدنا لبقو
لقو یہ کاان نے یبالذر کہ جیسا گے۔ جائیںہو ختمی ہ اونٹتوطرح اس کہدیاکرترک ادہرِا سے خدشے
:کیاےہنقل
’’
ٔنا هممت
ٔمسکاف البعیر إذا له فقیل اإلبل جلود من الدراهم ٔجعلا
‘‘
۔
[5]
’’
کے ںاونٹو نے میں
ان کیا۔ ادہرا کابنانے ہمرد سے ںوچمڑ
اپنا نے ںنہو
ُ
ارپ استو گے ہوجائیں ختم اونٹتو تب :گیا کہاسے
دیاکرترک ادہرا
‘‘
۔
:ہیں فرماتے ہللا حمہرمالک امام
’’
بالذهب باعُت ٔنا لکرهتها وعین سکة لها تکون یّٰتح الجلود بینهم ٔجازواا الناس ٔنا لو
نظرة والورق
‘‘
[6]
’’
سکہ راو ثمن چمڑےوہ کہتک یہاں دیںکرائجرکوختووفرخریدیعےرذ کے ںوچمڑمیانرداپےن لوگاگر
متوجائیںکراختیارحیثیتکی
ںوکرنہیں پسندکرناختوفردھار
ُ
اکوںوچمڑان بدلے کے چاندینے سو یں
گا
‘‘
۔
- 14.
تے ہوپرودینار ہمردجوگے ںہویجاراحکام ی وہ بھیپر استو جائےہو ائجر رزبحیثیت اڑچماگر یعنی
منسوب طرف کیکندیعطاء بنغطریفامیر کے اسانرخ حنفی نجیم ابن عالمہ ۔ ہیں
’’
فۃرغطا
‘‘
ن
امی
:ہیںازرطقمرمیں بحث کی،تھی ہوتی کمچاندیراو یادہزمالوٹ میں جن اہمرد
’’
الناس دراهم من الیوم ٔنهاال مائتین؛ کانت إذا الغطارفۃ في تجب الزکاة َٔنا الولوالجي وذکر
ذلک ٔهلا عادة زمان کل في یعتبر وإنما االول منّزال في اسّنال دراهم من تکن لم وإن
الزمان
‘‘
.
[7]
’’
مانےز پہلے اگرچہ کیونکہ،گیہو واجب ۃ ٰزکومیںانتو ںہوسودو جبفہرغطا کہےہ کیاذکرنے ولوالجی
ںلوگویہ میں
ےہ ہوتامعتبر اجورکامانےزاس میں ردوہر۔ ہیں یہی کلج
ٓ
امگر تھے نہیں ہمرد کے
‘
‘
۔
پابندی کی چاندینے سو میں انتخاب کے رزسے لحاظشرعی کہ ےہ جاتا پہنچکوثبوت ٔپایہامر یہ سے اس
بشرطیکہ ےہ سکتا جا بنایامعیارکوچیز بھی ی کسلئے کے چانچےنکو ںقیمتو ،ےہ نہیں
ا
میں معاشرہ سے
ہو۔ حاصل قبولیت
صرفاختیارکانے کریجاررزلیکن،لگائینہیںپابندیکیقسم ی کسمیں انتخاب کے رزنے شریعت اگرچہ
اگرہرکس راو ےہ دواںاںوری ہپراساس کیرزنظام مکمل کادین لینمالیاتی کیونکہےہ دیاکو حکومت
کی نے کر یجار رز ِمنشاحسبکو ناکسو
راو اقتصادی خطرناک نہایت سے استو جائے دی دے تزاجا
:ےہ میں انسائیکلوپیڈیا فقہی کے کویت گے۔چنانچہ جائیںہو پیدا حاالتی معاش
’’
منهوفيما عليه افتات منتعزير لإلمامويحقعليه افتياتا ذلک في ن
ٔ
الالنقود ضرب اإلماملغیر زيجووال
ً
مخالف ضربهماکان ًوسواء ،حقوقه
حتیالجودۃ وفيالغشونسبۃنزالو فيله موافقاو
ٔ
االسلطان لضرب ا
اهمرالد ضرب يصلح ال :محمد بنجعفر ايۃور في حمد
ٔ
ا اإلمام قال ،الخالصین والفضۃ الذهب من کانلو
العظائم رکبوا لهم رخص إن الناس ٔنال ،السلطان بـإذن الضرب دار في إال
‘‘
[8]
’’
پہنچتا حق یہکوامام راو ےہ۔ ظلمپر اس یہ کیونکہ، نہیں تزاجا کیبنانے ی کوکرنسی کسعالوہ کے امام
اسےوہ ،کرےسلب حقیہ کااس جوشخصکہےہ
نے سو خالصی کرنس ہوئیبنائی کیاس خواہدے ازس
سے تزاجا کیوقت حاکم صرف ہمرد کہ ےہ لقو کا ہللا حمہر احمد امام ہو۔ نہ ںکیو ی ہ کی چاندی
مصائب بڑے وہتو جائےدی دے تزاجا کی اسکو ںلوگواگر کیونکہ، ہیں سکےت جا بنائے ی ہ میں ٹکسال
گے جائیںہومبتال میں
‘‘
۔
ونو امام
:ہیں فرماتے ہللا حمہری
- 15.
’’
ٔنهالو اإلمام ٔناشمن ٔنهال خالصۃ کانت وإن والدنانیر الدراهم ضرب اإلمام لغیر ٔیضاا ویکره
واالفساد لغش فیه من ٔیو ال
‘‘
[9]
’’
کاامام یہ کیونکہ، ںہوی ہ خالصوہ چاےہ نہیں تزاجا کیبنانےدینار راو ہمردکو ی کسعالوہ کے امام
ےہ اندیشہ کابگاڑ راو یساز جعلمیں اس کہنہیں تزاجا بھی لئےاسکودوسرے اس راو ےہ حق
‘‘
۔
ِوحکومت سےنظر نقطہ اسالمی کہ ہوا ثابت
نہیںاختیار کا نے کر یجار ی کوکرنس ی کس عالوہ کے قت
ےہ۔ ِفسادجوموجبےہ کاخدشہنے
ٓ
ا میں وجودی کرنسجعلیطرحاس کیونکہ،
ممنوعکومعامالتاننے شریعت کہےہ وجہیہی،ےہپرقائم عدل ڈھانچہ مکمل کامعیشت ِ
نظاماسالمی
تمام چونکہ،ہیں منافی کے عدلجودیاےہاررق
ی کسراوہیں گھومےتگردکے ی ہرز حقیقتدر معامالت مالی
حق ِصاحبسے کمی معمولیغیر میں خرید ِ
قوت کی رزمیانرد کے ادائیگیوقتراو وقوع کے معاہدے مالی
کو رز ِ
اطراف مفکرین مسلم بعضبناپر ی اس ،ےہ خالف کے عدل تقاضائے جو ےہ یقینی ہوناثر
ٔ
متا کا
م مالوٹراو تطفیف،بخس
ےہ شامل بھی یہ میںائضرف کے حکومتاسالمی چنانچہ۔ ہیں تے کرشمار یں
تک حدمناسب وہ کہ
چنانچہرکھے۔ قدرکومستحکم کیی کرنس
الفقهیۃ الموسوعۃ
:ےہ مرقوم میں
’’
ٔسعارا استقرار علی المحافظۃ رعایتها اإلمام علی یجب التي للمسلمین العامۃ المصالح من
،االنخفاض من النقود
ٔنینۃاالطم ولتحصل الفقر وینتشر والسلع ٔقواتالا غالء بذلک یحصل لئال
هدرا تذهب لئال،واکتسابهم وسعیهم بجهدهم النقود من حصلوه ما قیم بثبات بالتمتع للناس
والفساد الخلل ویقع
.‘‘
[10]
’’
کی رز وہ کہ ےہ یہ ایک سے میں ان ،ےہ یدار ذمہ کی امام تحفظ کا جن عامہ ِ
مفادات کے ںمسلمانو
نہ اضافہ میں غربت راو بڑھیں نہ قیمتیں کی اشیا راو اکرخوسے اس تاکہ کرے پیدا ثبات میں ںقیمتو
لوگراو ہو۔
وہ تاکہ ںہومطمئن متعلق کے ٹھانے
ُ
ا فائدہ سے رز گے کئےحاصلسے کوششراو محنتاپنی
ہونہ واقعفساد راو خلل راو جائےنہ ائیگاںر رز
‘‘
۔
:ہیں فرماتے ہللا حمہرقیم ابن امام محدث رمشہو
’’
اًطمضبو ًادمحدو یکون ٔنا فیجب ٔموالالا تقویم یعرف به الذي المعیار هو والثمن
الیرتفع
بل المبـیعات به نعتبر ثمن لنا یکن لم کالسلع وینخفض یرتفع الثمن کان لو إذ والینخفض
ال وذلک عامـۃ ضروریۃ حاجــۃ المبیعات به یعتبرون ثمــن إلی الناس وحاجۃ سلع الجمیع
حالۃ علی ویستمر ٔشیاءالا به تقوم بثمن إال یکون ال وذلک القیمۃ به تعرف بسعر إال یمکن
- 16.
الخلف ویقع الناسمعامالت فتفسد وینخفض یرتفع سلعۃ یصیر إذ بغیره هو یقوم وال واحدة
الضرر ویشتد
‘‘
[11]
’’
معیا وہی ہ رز
کہےہ یروضریہ ذاٰلہےہ ہوتیپہچان کی ںقیمتو کی اموال یعےرذ کے جسےہر
رَ
زطرحکی ترتجا ِ
ساماناگر کیونکہ،ہونہ ٔچڑھاوتار
ُ
ا میں مالیت کیاس ،ہومیں کنٹرولراو متعین یہ
ےہر نہیں )رَ
(ز ثمن کوئیلئے کے لگانے قیمت کیاشیاء پاس ےرہماتوہو ٔچڑھاوتار
ُ
ا بھی میں
گ
سب بلکہ ا
یعےرذ کے نرخ ایسے یہ ر۔او ہیں محتاج کے ثمن لوگلئے کے لگانے قیمت اشیاءکی حاالنکہ،گاہوی ہ سامان
کے لگانے قیمت کیاشیاء جب ےہ ہوسکتای ہ تب یہ رہواو حاصلمعرفت کی قیمت سے جس ےہ ممکن
مع کا قیمت کیاس راو ےہ۔رپر حالتی ہ ایکوہراوہورزایک لئے
اس کیونکہ،ہونہچیزیدوسر کوئییار
(سامان خودوہمیں ترصو
Commodity
ںلوگو
ً
نتیجتا ،ےہ ہوتی کمراوبڑھتی قیمت کی جسگاجائےبن)
گاہو الحق رشدیدضر راو ہوگاپیدا اختالف ،گے جائیںہو ابرخمعامالت کے
‘‘
۔
کیاشیاء عام میں مالیت کی جس چاہےی ہونیی ایس ی کرنسیعنی
بلکہ ہو نہ واقع کمی معمولیغیر طرح
گے۔ ںہوشکار کارضر لوگ نہروہوحامل قدرکی مستحکم تک حد لمعقو
ےہ ہار
ٓ
ا چال جحانرکا کمیمسلسل میںقدر کیی کرنسکاغذی کہ سکتا جا کیا نہیںانکار سے حقیقتاس
چا نے سو برعکس کے اس ،ےہ ی ہرگر سے یتیز بہتقدر کی استو کل ج
ٓ
ا راو
ی خاص خرید ِ
قوت کی ندی
ی کساگر ،ہوئی نہیں واقع تبدیلی معمولیغیر کوئی میں خرید ِ
قوت کینے سو بالخصوص ،ےہ مستحکم
مستقل سلسلہ یہ کا کمیتو بھی ہواایساپر بنا کیقلت کی وخدماتاشیاء میں مقابلہ کے نے سو یا انربح
ترصو بعد کے نے ہو ردو اسباب کے اس راو ہارنہیں یجار
میں سالترِعہداگر گئی۔ہوبرعکس کے اس
ئے
ٓ
ا نہیںنظر قفر خاص توکوئی جائے کیا تقابل سے خرید ِ
قوت موجودہ کی کااس خرید ِ
قوت کی نے سو
: ںہو مالحظہ مثالیںدو نمونہ ِرگا۔بطو
صلی پ
ٓ
اجو دےکرادا قیمت کیان وہتو ںہو نہ اونٹ پاس کے ی کساگر ،ےہ اونٹسو دیت کیقتل
ہللا
: تھی رمقردینارسو ٹھ
ٓ
ا میں ردو کے وسلمعلیہ
’’
ا رسول عهد علی الدیۃ قیمۃ کانت
ﷲ
دینار مائۃ ثمان سلم و علیہ ﷲ صلی
‘‘
[12]
’’
تھیدینارسو ٹھ
ٓ
ا قیمت کیدیت میں ردو کے وسلم علیہ ہللا صلی ہللا لسور
‘‘
۔
کی اونٹ ایک میں سالترِعہد کہ ےہ مطلب کا اس
شرعی مطابق کے تحقیق جدید تھی۔دینار ٹھ
ٓ
ا قیمت
نزو کا دینار
25.4
۔ ےہ امرگ
[13]
کی اونٹ ایک میں ردو کے وسلم علیہ ہللا صلی پ
ٓ
ا طرح اس
- 17.
قیمت
34
جاسکتاخریدااونٹ ایک عوضکے نے سو اتےن بھی ج
ٓ
ا،بنی سوناامرگ
ہللای ضرعمر اگرچہ ےہ۔
سو ایک کلج
ٓ
امگر ،تھی دیکردینارارزہکربڑھا سے سو ٹھ
ٓ
ا قیمت کی دیتپر نے ہو اںرگاونٹ نے عنہ
یعنیدینارسو ٹھ
ٓ
ا لئےکے خریدنےاونٹ
3400
۔ ےہ کافیسونا امرگ
: ہیں کہتے عنہ ہللا رضی بارقی عروہ حضرت
’’
ﷲ صلی ُّيِبَّنال ُهاَطْعَٔا
َعاَبَف ِینَتَاش ی ٰ
رَتْشاَف ًةَاش َْٔوا ًۃی ِحْضُٔا ِهب ي ِ
رَتْشی اًراَنیِد وسلم علیہ
ارَنیِدَو َاةشِب ُهاَتَٔاَف ارَنیِدِب اهماَدْحِإ
.‘‘
[14]
’’
ایک یا قربانی ایک سے اس وہ کہ تا دیا دینار ایک کو ان نے وسلم علیہ ہللا صلی نبی
بیچ میں دینار ایک کو ایک سے میں ان پھر، لیں خرید بکریاں دو نے نہوںُا خریدے۔ بکری
ٓا لے پاس کے وسلم علیہ ہللا صلی پٓا دینار ایک اور بکری ایک اور دیا
ئے
‘‘
۔
میں رسالت ِ عہد یعنی
25.4
جٓا ،تھی سکتی جا خریدی بکری ایک عوض کے سونے گرام
ہے۔ یہی خرید ِتقو کی سونے بھی
میں قدر کی سونے تک اب کر لے سے ِرسالت عہد کہ ہے ہوتا ثابت یہ سے مثالوں دو ان
میں بعد تو بھی ہوا ایسا میں دور کسی اگر ،ہوئی نہیں کمی معمولی غیر
گ ہو لٹُا معاملہ
یا
:ہے ئیٓا کمی کافی میں خرید ِتقو کی چاندی نسبت کی سونے دوران کے عرصہ اس ۔البتہ
دس میں وسلم علیہ ہللا صلی ِنبوی عہد
بکری ایک سے چاندی )گرام تیس ًا(تقریب درہم
میں ضمن کے ۃ ٰ
زکو کی اونٹوں میں جس ہے روایت وہ دلیل کی اس ،تھی سکتی جا خریدی
بی یہ
: ہواہے ان
’’
،ٌۃَّق ِح دہْنِع َو ٌۃَعَذَج دہْنِع ْتَسیَلَو ،ِۃَعَذَجْلا ُۃَقَدَص ِلِب ِاإل َنِم ُہَدْنِع ْتَغَلَب ْنَم
ماَهِرد َنی ِ
ْرشِع َْٔوا ُهل اَتَرَسیَتْسا ِنِإ ِینَتَاش َاهعَم ُلَعْجی َو ُۃَّق ِحْلا ُهن ِم ُلَبْقُت َاهَّنِإَف
.‘‘
[15]
’’
جذعہ پاس کے اس اور ہو فرض )اونٹ سالہ (چار جذعہ میں ۃ ٰ
زکو کی اونٹوں کے جس
ساتھ وہ گااور جائے لیا کر قبول اونٹ سالہ تین سے اس تو ہو نہ
سانیٓا اگر بکریاں دو
درہم بیس یا گا دے ہوں میسر سے
‘‘
درہم۔ دس بدلے کے بکری ایک ۔یعنی
قسم اس سے کمی اس تاہم جاسکتی۔ خریدی نہیں بکری ایک میں چاندی اتنی کل جٓا لیکن
سے وجہ کی کرنسی کاغذی لوگ سے جن رہے ہوتے نہیں پیدا حاالت معاشی کن تباہ کے
ما لئے اس ۔ ہیں دوچار
تغیر ربا ہوش میں قدر کی کرنسی کاغذی میں رائے کی معیشت ِہرین
مالیاتی کہ ہے حل ہی ایک کا طوفانوں کے مہنگائی والے ہونے پیدا میں نتیجے کے اس اور
حلقوں مختلف میں دنیا پوری کل جٓا چنانچہ جائے۔ بنایا کو چاندی، سونے بنیاد کی دین لین
رہا جا کیا مطالبہ یہ سے جانب کی
رائج نظام کا سکوں کے چاندی،سونے دوبارہ کہ ہے
کیاجائے۔
- 18.
ازسرنو کہ ہےیہی حل کا اضافے تحاشہ بے میں نرخوں بھی نزدیک کے مقریزی ابن
’’
( رَز قاعدہ معیاری
Gold Specie Standard
‘‘)
فقہی کے کویت چنانچہ جائے۔ کیا ِجراا کا
:ہے درج یوں رائے کی ان میں ئیکلوپیڈیا انسا
’’
ن
کا موجوں کی مہنگائی والی ہونے پیدا میں نتیجے کے اس اور افراتفری میں رخوں
جائے لوٹا طرف کی استعمال کے زر کے چاندی اور سونے کہ ہے یہ صرف عالج
‘‘
۔
سونے سبب ایک کا اس میں نظر کی ان ،تھا ہوا پیدا بحران جو کا زر ِافراط میں دور کے ان
ت دین لین سے سکوں معدنی جگہ کی
وہ چنانچہ ۔ گئیں بڑھ زیادہ بہت قیمتیں سے ھاجس
: ہیں فرماتے بعد کے ڈالنے روشنی پر اس
’’
مورُا کے بندوں اپنے نے اس سپرد کے جن دیں دے توفیق کو لوگوں ان ٰ
تعالی ہللا اگر
قیمتوں کی سامان اور جائیں لے طرف کی سونے کو دین لین وہ کہ تک یہاں ہیں رکھے کر
ک جرتوںُا اور
کی مورُا اور بھال کا متُا سے اس تو دیں کر وابستہ سے درہم اور دینار و
گی ہو ِصالحا
‘‘
۔
[16]
کے معیشت ِجدیدماہرین جبکہ
نوٹ کرکے انداز نظر کو پیداوار حقیقی کا حکومت نزدیک
میں تاجروں،تبذیر و ِسرافا،توازن ِعدم درمیان کے رسد و طلب کی خدمات و اشیاء ،چھاپنا
جو ہیں عوامل وہ اضافہ میں الگت پیداواری کی اوراشیاء رجحان کا خوری منافع ناجائز
ہیں کرتے پیدا استحکام ِعدم میں قدر کی کرنسی
قدر کی کرنسی کے کر حل کو مسائل ان ۔
ہے۔ سکتا جا کیا پیدا استحکام میں
چاندی ،سونے ازیں عالوہ ، نہیں تقاضا شرعی الزمی سکے کے چاندی، سونے کہ رہے یاد
،ہے سکتی بن بھی موجب کا زحمت ضروری غیر لئے کے ریاست پابندی کی سکوں کے
موجود ذخائر وسیع کے چاندی سونے لئے کے بنانے سکے پاس کے ریاست ہے ممکن
سنگین کامسئلہ زر افراط جب البتہ ۔ ہوں نہ
کوئی کا اس وقت اس تو کرجائے اختیار صورت
کہ جیسا چاہئے ہونا حل معقول
۔ ہیں چکی گزر راءٓا فقہی کی علما
ANS 05
1
پاکستان کہ کہا ہوئے کرتے خطاب سے سیمینار نے امور اقتصادی برائے وزیر وفاقی
ترقی کی پاکستان ہم اور ہے ایک سے میں ممبروں بانی کے بینک ترقیاتی اسالمی
میں
کہ کہا مزید نے انہوں ہیں۔ مشکور کے ان پر کرنے تعاون سے دلی فراخ کی بی ڈی آئی
پاکستان IDB بڑا تیسرا واال اٹھانے فائدہ سے اعانت مالی کی بینک ترقیاتی اسالمی کی
- 19.
لئے کے پاکستانسے بعد کے قیام اپنے نے بی ڈی آئی کہ بتایا نے انہوں ہے۔ ملک
12.43
ف کی ڈالر بلین
ہے۔ کی نانسنگ
کے خاتمے کے پولیو خصوصا شعبوں کے تعلیم اور صحت میں پاکستان نے وزیر وفاقی
سراہا۔ کو امداد کی بینک ترقیاتی اسالمی میں منصوبے
میں زندگی کی لوگوں ذریعے کے دینے فروغ کو تجارت میں ممالک مسلم نے اظہر حماد
ک کوششوں کی سی ایف ٹی آئی لئے کے النے تبدیلی
سراہا۔ بھی و
نے انہوں دوران کے سیمینار
“
سی ایف ٹی آئی :تجارت سے حیثیت کی ترقی اسٹریٹجک
کردار کے داروں شراکت کے اس اور
”
اور لیا حصہ بھی میں بحث پینل پر موضوع کے
کے اہداف ترقیاتی پائیدار تجارت االقوامی بین کہ بتایا نے انہوں کیا۔ اظہار کا خیاالت اپنے
میں حصول
کے ترقی پائیدار ہے۔ ڈالتی اثر مثبت پر زندگیوں کی لوگوں اور ہے معاون
بنانے بہتر کو زندگیوں کی آدمی عام اور النے تبدیلی مثبت اور کرنے حاصل کو مقاصد
ہے۔ ضرورت کی بڑھانے تجارت مابین کے ممالک مسلم لئے کے
میں بینکاری اسالمی کہ دی تجویز کو سی ایف ٹی آئی نے انہوں
کریں تیار کورسز تربیتی
وزیر وفاقی میں جواب کے سوالوں ہے۔ رہی پنپ بینکاری اسالمی میں پاکستان کیونکہ
کی پاکستان کہ کہا نے
40
ہم اور ہے مبنی پر یونٹس صنعتی چھوٹے معیشت فیصد
مسلم اور خطے قریبی کہ بتایا نے انہوں ہیں۔ رہے جا جانب کی معیشت مبنی پر برآمدات
ممالک
ہے۔ ضرورت کی کرنے تالش کی مواقع اور دینے توجہ پر تجارت درمیان کے
کو ممالک تمام یہ اور ہے کردار اہم میں ترقی کی پاکستان کا پیک سی کہ بتایا نے انہوں
ہے۔ کرتا فراہم مواقع کے کاری سرمایہ
کارپوریشن مالیاتی تجارتی اسالمی االقوامی بین (ITFC) ک بینک ترقیاتی اسالمی
ے
تحت
کو حالت معاشی کی لوگوں کے ممالک مسلم مقصد کا جس ہے ادارہ خودمختار ایک
ہے۔ دینا فروغ کو تجارت لئے کے بنانے بہتر
فروغ کے مالیات تجارتی مطابق کے شریعت
اور کاروبار میں ممالک ممبر اپنے سے فنڈز اور مہارت اپنی سی ایف ٹی آئی ،کیلئے
ہے۔ کرتی مدد کی حکومتوں
2
محمد حضرت سونے میں دور کے مّلوس علیہ ﷲ صلی چاندی اور ساسانی کے یونانی اور ّےکس
وزن کا ّےکس کے چاندی ،تهے کرتے ہوا استعمال
3
کر لے سے گرام
5
۔
3
جبکہ تها۔ کرتا ہوا گرام
وزن کا ّےکس کے سونے
4.44
کر لے سے گرام
4.5
وزن کاتبادلہ اس عرب اہل تها۔ کرتا ہوا گرام
محمدصلی لیکن تهے کیاکرتے سے حساب کے مثقال ایک وزن کا دینار ایک نے مّلوس علیہ ﷲ قرار
- 20.
جو 72 جو،)جو(دیا کا اس مطابق کے وزن معیار جدید اور ہوتاہے۔ برابر کے وزن کے دانوں کے
عمر حضرت ہوتاہے۔ گرام 4.25 تقریبا وزن وزن کے اس اور گیا کاٹها کو ّوںکس ان میں دور کے
مثقال کوایک سات کہ کیا قائم معیار ایک نے وسلم آلہ و علیہ ﷲ صلی رسول کیونکہ الیاگیا۔ تک
درہم ایک لہذا ہو۔ برابر کے دراہم دس وزن کا دینار )گرام 3 (تقریبا گرام 2.975 تقریبا وزن کا
عمر حضرت اور ہوتاہے۔ علی حضرت گیا۔ لکها ﷲ بسم پر اس میں ہی دور کے عبدﷲ حضرت اور
زبیر بن معاویہ امیر حضرت اور بن عبدالملک میں بعد کیے۔ جاری ّےکس اپنے مرتبہ پہلی نے
مروان احتیاط نہایت کاوزن جس کیے۔ شروع ڈهالنے ّےکس اپنے طورسے باقائده میں مسلمانوں نے
گیا۔ رکها )گرام 3 (تقریبا گرام 2.975 ساته کے[1]
دینار طالئی جدید درہم نقرئی اور مثقال ایک بھی اوزان کے مثقال ایک ہیں۔ گئی پررکھی بنیاد کی کا
جو 72 )جو(وزن لیے اس ہوتاہے۔ برابر کے گرام 4 ۔25 جو ،ہوتاہے برابر کے وزن کے دانوں کے
دینار طالئی جدید 91 ۔7 (یعنی قیرات 22 ازکم کم خالصیت کی اس اور ہے۔ ہوتا گرام 4 ۔25 وزن کا
محمد حضرت پر بنا کی ِرسول قول چاہئیے۔ ہونی)فیصد کردہ قائم وسلمکے آلہ و علیہ ہللاصلی
درہم ایک تو ،ہو برابر کے دراہم دس وزن کا دینار سات مطابق معیارکے گرام 2.975 تقریبا وزن کا
دینار طالئی جدید لیے اس ہوتاہے۔ )گرام 3 (تقریبا درہم نقرئی و عالمی ًالمث اکثرکمپنیاں والی بنانے
کرتی استعمال کو معیار اسی وغیرہ تّنس اسعار خانہ ضراب ،نوسنتارہ انڈیوک وکالہ ،ٹکسالاسالمی
ہیں۔[2]
کو شے بهی کسی وه کہ ہے گیا دیا اختیار کهال یہ کو حکومت میں معیشت ِنظام مغربی
‘‘
زر
’’
قرار
نوٹ کاغذی کہ کہے اگر حکومت ًالمث ہے سکتی دے
‘‘
زر ’’(Money) گا پڑے ماننا کو سب تو ہے
کارڈ بنے سے پالسٹک کہ کہے اگر اور
‘‘
زر
’’
ممالک تمام کے دنیا ذا ٰلہ گا۔ پڑے ماننا کو سب تو ہے
والے چهاپنے ِسےا اور ‘‘زر’’ہے نوٹ کاغذی کہ ہے درج بات یہ میں دستور اور آئین کے
بینک مرکزی صرف ِ
‘‘زر سےُا ہو کارفرما قانون کا حکومت پیچهے ‘‘زر’’کے جس تو گے ہوں
سےُا میں انگریزی اور ہیں قانونی’’کہاجاتا “LegalTender” کو اس یا ہے۔ جاتا کہا
‘‘
کرنسی ’’(Currency) کی افغانستان ،ہے روپیہ نام کا کرنسی کی پاکستان ًالمث ہے۔ جاتا کہا بهی
کوئی اگر ذا ٰلہ وغیره۔ وغیره ہے ڈالر نام کا کرنسی کی امریکا اور افغانی نام کا کرنسی
روپیہ پاکستانی شخص سکتی دے سزا کر دے قرار مجرم سےُا حکومت تو کرے انکار سے لینے
کوئی میں اسالم لیکن ہے
‘‘
قانونی ِ
زر
’’
کوئی بزور پر عوام حکومت اسالمی بهی کوئی ہے۔ نہیں
‘‘
زر
’’
مبادلہ آلہ چیز بهی کوئی وه کہ ہے جاتا دیا چهوڑ پر منشا کی عوام یہ بلکہ سکتی کر نہیں نافذ
ہے۔ سکتی کر استعمال پر طور کے
ؒ مالک امام
نے
‘‘
زر
’’
ہےکی طرح اس کچھ تعریف کی
‘‘
طور کے مبادلہ آلہ عوام جو جنس وہ ہر کہ
سےُا کرے قبول کرنا استعمال پر
‘‘
زر
’’
پیسہ یعنی (Money)معیشت ِنظام مغربی اب گا۔ جائے کہا
سونے ًالمث بھی نہیں اور ہےسکتی ہو بھی اندر کے اس قیمت ‘‘زر’’کی میں چاندی اور ںّسکو کے
کا پالسٹک ،نوٹ کاغذی عالوہ کے اس ہے سکتا جا کیا استعمال زر ِ
بطوربھی کو
بھی وغیرہ رڈ
‘‘
زر ’’(Money) میں معیشت ِنظاماسالمی لیکن ہے۔ سکتا جا کیا استعمال پر طور کے
‘‘
زر
’’
قدر کی
وغیرہ۔ کھجور ،گندم ،چاندی ،سونا ًالمث ہو جنس بھیکوئی وہ چاہے ،چاہیے ہونی اندر کے اس
ِ
بطور کو رسیدوں
‘‘
زر
’’
نظا معاشی اسالمی ذا ٰلہ سکتا۔ جا کیا نہیں استعمال
،کرنسی کاغذی میں م
- 21.
کرنسی برقی،کرنسی پالسٹک(Digital Currency) کے اس کیونکہ ہے۔ حرام پر طور مکمل
نجی درمیان کے بندوںدو اگر رسید ہیں۔ ممانعت میں اسالم کی جس ،ہیں آتا الزمی غرر سے استعمال
ن بیچ پر بندے چوتھے اور تیسرے کو اس لیکن ہیں حالل تو وہاں تو ہو معاملہ
تک جب ہیں سکتے ہیں
کیجئے۔ مالحظہ کو حدیث اس اب ہے۔کرتی نمائندگی رسید یہ کی جس جائے کیا نہ قبضہ پر مال اس
حکم بن مروان کہ پہنچاکو مالک "امام ےّغل کے )نام کا (بازار کوجار لوگوں میں مت حکو عہد کے
غلہ کہ کے بات اس قبل ہاتھ کے دوسرے ایک بیچا کو رسیدوں نے لوگوں ملیں۔ )(سندیں رسیدیں کی
،کہا اور گئے پاس کے مروان )ہریرہ (ابو صحابی اور ایک اور ثابت بن زید تو الئے میں قبضہ اپنے
در کو ربا تو کیا
کہ کہا نے انہوں تو ہو۔ کہتے کیا معاذہللا ،کہا نے مروان !مروان اے ہے جانتا ست
چوکیداروں نے مروان کے۔ لینے ہّغل قبل بیچا دوبارہ کر خرید پھر، خریدا نے لوگوں کو جن رسیدیں
دیں۔ کر حوالے کے )(مالکان والوں رسید کر چھین سے لوگوں رسیدیںوہ کہ بھیجا کو "[3][4]
ر صحابہ کہ ہوا معلوم سے حدیث باال مندرجہ یعنی
تھے۔ سمجھتے حرام کو تجارت میں سیدوں
1840عثمانیہ خالفت میں ء وقت اس خالف کے جس ،ہوئی ابتدا کی نوٹوں کاغذی پہلے سے سب میں
پھر پر اس لیکن ابھری پھر بعدیہ وقت کچھ گئی۔ لگائی پابندی پر اس ذا ٰلہ دیا۔ فتوی نے علما سب کے
ا مفتی کے وقت اس اور گئی۔ لگائی پابندی
دیا۔ قرار حرام کو استعمال کے اس نے علیش شیخ عظم
پسند تّدج نئے رے ہما بعد کے خالفت سقوط میں بعد لیکن (modernist) ک اس علماءنے
استعمال ے
نےآمد کی اس یوں اور دیا۔ قرار جائز کو لی۔ لے جگہ کی زرشرعی
حسین نزار ڈاکٹرعمران مفتی کی کرنسی کاغذی زر’’میں کا مستقبل کی ‘‘اسالم کتاب اپنی نے صاحب
خلیفہ میں نظاممعاشی اسالمی ذا ٰلہ ہے۔ دیا ٰ
فتوی کا حرمت کہ سکتا کر نہیں مجبور کو عوامبھی وقت
چیز فالں
‘‘
قانونی ِ
زر
’’
او ہے
میں نظام ہمارے ذا ٰلہ نہیں۔ چیز فالں ر
‘‘
قانونی ِ
زر
’’
جگہ کوئی لیے کے
کاغذی چونکہ اور نہیں رسید ہے مال "یہ کہ ہے رائے یہکی علما بعض میں دور موجودہ لیکن نہیں۔
کا اس اور ہے جاتی ہو ادا ۃ ٰ
زکو سے نے ہو ادا کے اس ذا ٰلہ ،ہے عرفی ثمن بلکہ نہیں خلقی ثمن نوٹ
حکم وہی
ہے۔ کا فلوس جو ہے "
سونے یہ پہلے کہ میں روشنیکی تاریخ کی کرنسی کاغذی موجودہ تو ،لے جائزہ بغور کا اس آپ اگر
کے کرنسی کاغذی کے دنیا سارے میں ء1945 سن تھیں۔ کرتی ہوا رسیدیں کے چاندی اور
ڈالر پیچھے بھی سے پیچھے کے ڈالر میں ء1971 اور گیا۔ رکھا سونا پیچھے کے ڈالر اور گیا رکھا
نا ہے کرتی نمائنگی کی معیشت ساری کی ملک اس کرنسی کاغذی کی ملک کسی اب اور گیا ہٹایا سونا
م کی ملک کے آپ ہیںرسیدیں کرنسی کاغذی موجودہ بھی اب ذا ٰلہکی۔ سونے صرف کہ
اشیاء ختلف
پاکستان نوٹ کا ہزار ایک آپ اگر ذا ٰلہ کی۔ خدمات اور آپ وہ تو جائے لے پاس کے بینک مرکزی کے
کہ گی کہے سے آپ بلکہ گی کرے نہیں فراہم سونا راست براہ کو
مختلف پڑے میں ملک ہماری یہ
دوسری کوئی کی ضرورت یا خریدے سونا سے اس کر جا بازار آپ ذا ٰلہ ہے رہی کر نمائندگی کی اشیاء
گے ہوں جاری کے رسیدوں احکام پر اس سے وجہ اس نہیں۔ مال ہیں ہی رسیدیں یہ بھی اب ذا ٰلہ شے۔
زیادہ ملک ہر تو ہوتا مال یہ اگر کیونکہ کے۔ مال کہ نا
لیکن ہوتا مالدار زیادہ سے چھانپنے کرنسی
کی خدمات اور اشیاء پیداواریموجود میں ملک اپنی حکومت کوئی اگر ہے۔ برعکس کے اس حقیقت
جس ،گی ہو کمی بجائے کی اضافے میں قدر کی کرنسی کی اس تو گا چھاپے نوٹ کرنسی زیادہ بنسبت
ہیںرسیدیں ،نہیں مال یہ کہ ہے ہوتا ثابت یہ سے
۔
- 22.
احکام پر اسبلکہ گے ہوں نہیں جاری کے عرف احکام پر اس تو ہیں تعلق کا عرفی مال تک جہاں اور
عرف اور ہے ہللا عبد نام کا شخص کسی اگر ًالمث کے۔ رسید یعنی گے ہوں جاری کے حقیقت کی اس
جا احکام والے انسانوں پر اس تو کرے چوری شخص یہ اگر اب ہے۔ کہاجاتا شیر کو اس میں
ہو ری
کہ نا نگے کا اس کہ کے اس باجود ،کے جانوروں بات رہی اور کا۔ انسان کہ نا ہے کا جانور عرف
دینا ۃ ٰ
زکو بطور کو فلوس کہ ہے متفق علما سارے ًاتقریب پر بات اس ،کے ہونے فلوس احکام کے اس
ہ رسید کے ّےصح سے چھوٹے ایک کے درہم ایک فلوس ،حقیقت در کیونکہ نہیں۔ جائز
تھے۔ کرتے وا
ریزگی صرف استعمال کا اس اور (small change) ایک وقت اس نکہکیو تھا کرتا ہوا پر طور کے
ذا ٰلہ تھا مشکل کرنا استعمال ہّکس بطور کو اس پھر اور کرنا ّےصح چھوٹے چھوٹے سے بہت کی درہم
درہ و دینار بھیکبھی یہ لیکن گئی۔ دی اجازت کی اس لیے کے خریداری چھوٹی
اس اور خاتمے کے م
اور دینار کے سونے نے نوٹوںکاغذی موجودہ جبکہ ہوئے۔ نہیںاستعمال لیے کے لینے جگہ کی
نہیں۔ ہی تھے وہ جیسے دیا مٹا ایسے سے ہستی صفحہ کو دراہم کے چاندی
دینار کے سونے اگر لیےاسی کی۔ مال ہے رسید بلکہ نہیں مال ہرگز گز ہر نوٹ کاغذی موجودہ ذا ٰلہ
ایک تو کی کرنے ادا ۃ ٰ
زکو میں کرنسی کاغذی مجبورا تو ہو نہموجود میں بازار درہم کے چاندی اور
کرنسی کاغذی توہوموجود درہم کے چاندی اور دینار کے سونے میں بازار اگر لیکن ہے بنتی صورت
شفیع محمد مفتی حضرت عالوہ عمرکے شیخ اور عمران مفتی اور نہیں۔ جائز دینا ۃ ٰ
زکو میں صاحب
کہ ہے یہ باتکی خوشی اور مال۔ کہ نا ہے کہا رسید کو اس میں 'دیوبند العلوم دار 'فتاویبھی نے
د نے صاحب عمرشیخ بانی کے تحریک دینار میں ہی حال
زرشرعی میں پاکستان،کراچی العلوم ار
پچاس ًاتقریب کے پاکستان اور کی۔ آمدید خوش نے طلبہ اور علما کے وہاں کی جس ،کروایا متعارف
خیبر صوبہ وہ کل آج اور کی۔ ظاہر آمادگی پر دینے فتوے میں حق کے دینار کے سونے نے مفتیوں
اور دینار کے سونے ساتھ کے حکومت کے خواہ پختون
میں کرانے متعارف دراہم کے چاندی
ہے۔مصروف