Successfully reported this slideshow.
We use your LinkedIn profile and activity data to personalize ads and to show you more relevant ads. You can change your ad preferences anytime.

Shah waliullah

Shah Waliullah history in Urdu

  • Login to see the comments

Shah waliullah

  1. 1. محمد یوسف خان (B) کمپیوٹر سایئنس
  2. 2. شاہ ولی اللہ دہلی کے ایک قابل قدر خاندان میں 1703 ء کو پیدا ہو ئے ۔  آپ کا اصل نام قطب الدین احمد تھا ۔ لیکن اپنی نیک فطرت کی وجہ سے شاہ ولی اللہؒ کے نام سے مشھور ہو ئے۔  آپ کے والد شاہ عبدارحیم جید عالم صوفی اور مدرسہ رحیمیہ کے بانی تھے۔  ان کے والد کا سلسلہ نسب حضرت عمرؓ سے اور والدہ کا سلسلہ نسب امام موس ی کاظمؒ سے ملتا تھا ۔  حضرت شاہ ولی اللہ نے 1762 ء میں وفات ہو ئے ۔  2
  3. 3. شاہ ولی اللہ مجدد الف ثانی کے انتقال کے تقریبا 80 سال بعد دہلی میں پیدا ہو ئے۔ شاہ ولی اللہ نے ابتدائ تعلیم اپنے والد مدرسہ رحیمیہ سے حاصل کی ۔  اپنے بچپن میں انہوں نے قرآن کریم کے ساتھ ساتھ سیکھا حدیث اور تفسیر حفظ . انہوں نے قانونی، روحانی صوفیانہ، فلسفیانہ اور مذہبی نصوص کا مطالعہ کیا  اور پندرہ سال کی عمر میں انہوں نے گریجویشن کی اور اس ی مدرسہ رحیمیہ میں تعلیم شروع کردی۔ شاہ ولی کے دور میں شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کے انتقال کے بعد سے ھی مغلوں کی عظیم الشان سلطنتٹکڑے ٹکڑے ہونا شروع ہوگئی تھی۔ سارے ملک میں  بدامنی پھیل گئی تھی اور مرہٹےملک کے بہت بڑے حصے پر قابض ہو نے کے بعد دہلی پر قبضہ کر نے کا خواب دیکھنے لگے تھے۔ مسلمانوں کی نہ صرف سیاس ی حالت خرابی تھی بلکہ وہ اخلاقی حیثیت سے بھی زوال کی طرف جارہے تھے۔ شاہ ولی اللہ نے اپنی تصنیف و تالیف اور اصلاح کا کام اس ی نازک زمانے میں شروع کیا۔ ا ن کی کوشش تھی کہ ایک طرف مسلمانوں میں اتحاد پیدا ہو اور وہ پھر سے ایک مضبوط سلطنت قائم کرلی اور دوسری طرف اپنی اخلاقی خرابیوں کو دور کر کے اور غیر اسلامی طریقوں و رسوم و رواج کو چھوڑ کو دورِ اول کے مسلمانوں جیس ی زندگی اختیار کرلیں۔ 3
  4. 4. مذہبی خد مات  فقہی خد مات  شیعہ سنی اختلا فات کے خلاف مھم چلائی  سما جی و سیاس ی یکجھتی کےلیے کوشیشیں  معشیات میں توازن کے قیام میں بنیادی کردار  اسلا می معاشرے کے احیاء کی کوشیشیں  اسلام کی آفاقیت اورعلاقا ئی مسا ئل  مغلیہ حکومت کی بقا کےلیے کوشیشیں  4
  5. 5. 1( قرآن مجید کا فارس ی میں ترجمہ کیا ( شاہ ولی اللہ کی انتہائی اہم خدمت یہ ہے کہ آپ نے قرآن مجید کا فارس ی میں ترجمہ کیا۔ اس سے لوگوں کو قرآن مجید کو کو سمجھنے میں بہت مد د ملی۔ اور انکی اس خدمت سے دیگر زبانوں میں ترجموں کی را ہ ہموار ہوئ۔ان کے دو بیٹوں شاہ رفیع الدین اور شاہ عبدالقادر نے بعد ازاں قران کا اردو میں ترجمہ کیا۔ 2( حدیث، فقہ اور تفسیر پر کتب لکھیں ( شاہ ولی اللہ نے حدیث، فقہ اور تفسیر پر کتابیں لکھیں۔ ان کی کتابوں میں سب سے زیادہ مشہور و معروف کتاب "حجتہ اللہ البالغہ" ہے۔ ان کی تصانیف کا پیغام یہ ہے کہ اسلام ایک آفاقی مذہب ہے جو تمام انسانیت کے لئے ترقی اور خوشحالی کا ضامن ہے۔ 5
  6. 6. ایک انفرادی مفکر کی حیثیت سے شاہ ولی اللہ نے تمام فرقوں کے فقہ کا مطالعہ کیا۔  اجتہاد کر نے کو ناگزیر قرار دیا اور اس کے بنیادی اصول اور قواعد کی تشریح کی اور اجتہاد اور تقلید کے اصولوں  پر ایک کتابچہ بھی لکھا۔ شاہ ولی اللہ کی راۓ میں ایک مسلمان کے لیے بہترین راستہ یہ ہے کہ وہ چار مکاتب فکر خنفی،شافعی،مالکی اور  جنبلی میں سے کس ی ایک کی تقلید کر لے شاہ ولی اللہ اس بات پر بھی یقین رکھتے تھے کہ جو شخص خود اسلامی قانون سے اچھی طرح آگاہ ہوگا وہ قران  کی سنت کی روشنی میں خود اذادانہ فیصلہ کرسکتا ہے۔ انہوں نے لوگوں کو قران وسنت کی طرف رجوع کر نے کی تعلیم دی اور اسکو بنیاد بناتے ہوۓ ایکنئے قانونی نظام  کی تشکیل پر زور دیا۔ 6
  7. 7. شیعہ سنی فرقہ پرستی کے خلاف مہم چلائی ۔  شیعہ سنی اختلافات کے باعث ان دو فرقوں کے درمیان ایک بدترین خلیج پیدا ہوگیئ تھی جسکا اثر معصوم لوگوں پر ہورہا تھا۔  سے شاہ ولی اللہ نے ان فرقوں کے درمیان متضاد افکار میں ہم اہنگی پیدا کر نے کے لیے ایک اعتدال پسند درمیانی راہ تلاش کر نے کی کوشش کی۔  انہوں نے خلافت کے مسئلے پر سیر حاصل بحث کی جس میں انہوں نے اس پورے مسئلے پر مصالحانہ رویہ اختیار کیا۔  شاہ ولی اللہ نے اس بات پر زور دیا کہ شیعہ فرقہ کے لوگ خارج اسلام نہیں ہو تے اور دونوں فرقوں کے درمیان مصالحانہ راہ ہموار کی۔  7
  8. 8. شاہ ولی اللہ نے سیاس ی ومعاشرتی یکجہتی کیلئے ایک منطقی نظریہ پیش کیا۔  معاشرتی ارتقاء کی وضاحت کر تے ہوۓ ایک نظریہ ارتفات)انسانی ارتقاء کے  ادوار(پیش کیا۔ انہوں نے معاشرتی ڈھانچے کے ارتقاء کو چار ادوار میں تقسیم کیا جسے انہوں نے 1(خاندانٗ 2(دیہات 3(شہری سماج 4(خلافت عظمیٰ کا نام دیا۔ شاہ ولی اللہ کی راۓ میں خلافت کا قیام ایک سیاس ی معاشرے کی اعلی ترین  منزل ہے۔ شاہ ولی اللہ نے ابن خلدون کے نظریہ خلافت سے اختلاف کر تے ہ وۓ خلافت کی  تشکیل کو معاشرتی ارتقاء کا نقطہ عروج قرار دیا اور واضح کیا کہ خلافت شہری ریاست میں پیدا ہو نے والی لاقانونیت )حکومت کی عدم موجدگی ( کی 8 وجہ سے ظہور پزیر ہوتی ہے-
  9. 9. شاہ ولی اللہ نے عدل کے اصولوں کے وضاحت کر تے ہوۓ کہا کہ اسے تمام سیاس ی ومعاشرتی ادارو ں کے بنیاد بنانا  چاہیے۔ شاہ ولی اللہ کی راۓ کے مطابق آذادی حکومت اور ایک بہترین زندگی کا تمام تر دارو مدار معاش ی عدل پر ہو تا  ہے۔ انکی راۓ میں توازن کے قیام میں بنیادی کردار صحتمند معاش ی حالات کا ہوتا ہے۔  شاہ ولی اللہ کے مطابق جب کوئ گروہ ا س حد تک غربت میں جگڑ جاتا ہے کہ ا سے ا پنی ضروریات زندگی کے  حصول کے لے جانوروں کی طرح کام کرنا پڑتا ہے تو وہ سارے معاشرتی اقدار کھودیتا ہے۔ شاہ ولی اللہ نے ظلم اور معاش ی عدم انصاف کی صورتوں کو ختم کر نے کی ضرورت پر زور دیا اور آپکامیاب  بھی ہوۓ۔ 9
  10. 10. شاہ ولی اللہ نےاسلام کے مختلف فرقوں کے مابین اچھے تعلقات ا ستوار کر کے ہ ی مسلم معاشرے کی اصلاح کی۔  شاہ ولی اللہ کے دور میں معاش ی اور سیاس ی اختلافات بڑھ کر بہت سارے تنازعات کی شکل اختیار کر لی تھی  معاشرے کے مختلف۔ ا عضاء کے ما بین کس ی قسم کا ربط و تعاون نہیں پا یا جا تا تھا ۔ سماج کا وہ طبقہ جو سماج کی فلاح و بہبود کا ذمہ دار ہوتا ہے وہ اپنے فرائض سے غفلت بر تے ہ وۓ طفیلی کا  کردار ادا کر رہے تھے اور وہ معاشرے سے حاصل ہو نے و الے فوائد کے عوض معاشرے کی خدمت کر نے کے بجاۓ ا سکا ا ستحصال کر نے لگے تھے۔ شاہ ولی اللہ نے ا س تمام بگڑی ہوئی صورتحال کا گہرا مطالعہ کیا اور اسکے ھر جزکی نشاندہ ی کی عوامی  سرمایہ یا عوامی معشیت پر بوجھ بن گیا تھا۔ • شاہ ولی اللہ نے اپنے دور کے مسلم معاشرے کی اخلاقی اور دانشورانہ تر بیت کے سلسلہ میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ 10
  11. 11. قدامت پرست علماء کے بر عکس شاہ ولی اللہ اسلام کی آفاقیت پریقین رکھتےتھےاور اسلام کی تشریح وتوصیح  وقت اور مقام کو مدِنظر رکھتے ہوۓ کرنا چاہتے تھے۔ شاہ ولی اللہ کی راۓ میں اسلام کی اشاعت کا کام عربوں نے انجام دیا اسلیے عربوں کی روایات اسمیں بڑی حد تک  شامل ہوگئیں۔لیکن جب اسلامی حکومت کے حدود عربستان سے نکل کر دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلی تو اسکا سابقہ ان ممالک کی ثقافتوں سے پڑا جسکے زیر اثر اسمیں تبدیلیاں ہوئی جسے بعض قدامت پسند علماء نے پسند نہیں کیا۔ شاہ ولی اللہ نے حضور صلى الله عليه وسلم کی روایت کو پیشِ نظر رکھتے ہوۓروایات کو دو حصوں میں تقسیم کردیا 1 (شرعی  2(ثقافتی اور یہ استدلال پیش کیا کہ ایس ی بےشمار روایات اور مثالیں موجود ہیں جنکو شریعت نے کچھ مناسب تبدیلیوں کے بعد جاری رکھا۔ شاہ ولی اللہ نے اس بات کی نشاندہ ی کی کہ نبی کریمصلى الله عليه وسلم کے وضع کردہ قوانین وضوابط کو ہر جگہ کے لوگوں کی  ذہنی مطابقت سے ہم آہنگ ہونا چاہیئے اور مختلف النوع سماجی ڈھانچے اور عادات کے باوجود ان کیلیئے قابل قبول ہونا چاہیئے کیوں کہ یہ دینِ فطرت ہے۔ انہوں نے اسلام کے معاشرتی اقدار اور اسلامی قوانین کی جو وسیع النظری سے وضاحت کی اس سے استفادہ کر تے  ہوۓ مملکتِ خدادادپاکستان میں بنیادی اسلامی قوانین کو مقامی معاشرتی اقدار اور ثقافتی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ کرنا عین ممکن ہے۔ 11
  12. 12. شاہ ولی اللہ نے مغلیہ حکومت کے بقا کے لیے بہت کوشیشیں کی۔  اس وقت جب مغلیہ حکمرانوں کی تیزی سے رونما ہو نے والی تبدیلیوں کے نتیجہ میں مغلیہ سلطنت پارہ پارہ  ہورہ ی تھی۔ سارے ملک میں بدامنی پھیل گئی تھی مسلمانوں کی نہ صرف سیاس ی حالت خرابی تھی بلکہ وہ اخلاقی حیثیت سے بھی زوال کی طرف جارہے تھے۔ ٗ سکھٗ سادات خاندان آصف جاہ کی بغاوت اور نادر شاہ کے حملوں نے ملک کو سیاس ی  مرہٹےٗجاٹ بحران میں مبتلا کردیا تھا انہوں نے لوگوں کی مشکلات کو محسوس کر تے ہوۓ ان کی مدد کے لیے ہر ممکنہ ذریعہ کو کام میں لانے کےلیے اقدامات کر نے کا مصمم ارادہ کرلیا۔ ۔ شاہ ولی اللہ کی کوشیشوں سے ہ ی بالااخر احمد شاہ ابدالی اور نجیب الدلہ مرہٹوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کے لیے  تیار ہوگیےاور میں پانی پت کی تیسری جنگ میں مرہٹوں کو شکست فاش ہوئی۔ 1761 ٰ مغلیہ حکومت دوبارہ اپنے اصل اقدار میں اسکتی تھی لیکن نا اہل سلاطین مغلیہ نے اس فتح س ے کماحقہ فا  ئدہ نہیں اٹھایا اور اس کے ثمر کو کھو دیا )جو تاریخی المیہ ہے( ۔ 12
  13. 13. شاہ ولی اللہ نہ صرف ایک بہترین مصنف تھے بلکہ وہ ایک بہادر سپاہ ی،مجاہد،مجتہد،مصلح،عالم،ماہر  اقتصادیات،سوشلسٹ اور ہندہستانی مسلمانوں کے عظیم رہنما تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کو سیاس ی حیثیت سے مضبوط بنانے کے لئے بادشاہوں اور امراء سے خط و کتابت بھی کی۔  سما جی اصلاح کا بھی کام کیا اور مزہبی خدمات بھی انجام دی جس میں ان کا سب سے بڑا کارنامہ ق رآن مجید کا  فارس ی زبان میں ترجمہ ہے ۔ انہوں نے مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے اختلافات کو ختم کر نے کی کوشش کی اور اس پر زور دیا کہ اختلاف کی  صورت میں انتہا پسندی کی جگہ اعتدال سے کام لیا جائے۔ انہوں نے اسلام کے معاشرتی اقدار اور اسلامی قوانین کی جو وسیع النظری سے وضاحت کی اس سے استفادہ کر تے  ہوۓ مملکتِ خدادادپاکستان میں بنیادی اسلامی قوانین کو مقامی معاشرتی اقدار اور ثقافتی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ کرنا عین ممکن ہے۔ 13

×