Who demolish mazar of ashraf thanvee dajjal

295 views

Published on

Khawariji=wahabi=deobandi=ahle hadees=najdi=ghair muqaled=salafi=maududi=qadyani=tableeghi ,etc
Rawafiz=shia=asna ashari=zaidi=imamia=ismaeeli=jafari= ,etc

Published in: Spiritual
0 Comments
0 Likes
Statistics
Notes
  • Be the first to comment

  • Be the first to like this

No Downloads
Views
Total views
295
On SlideShare
0
From Embeds
0
Number of Embeds
3
Actions
Shares
0
Downloads
2
Comments
0
Likes
0
Embeds 0
No embeds

No notes for slide

Who demolish mazar of ashraf thanvee dajjal

  1. 1. ‫مزا ر ِ” بے چارہ و بے کار‬ ‫کا قصہ‬ ‫) مبصر: سید وجاہت رسول قادری(‬ ‫1 ۔ قبر پر گنبد ) عمارت( بنانا یا قبر کو پختہ کرکے مزار‬ ‫بنانا ناجائز ہے۔‬ ‫2 ۔ قبر پر فاتحہ/ میلد پڑھنا ناجائز ہے۔‬‫) مفتی کفایت اللہ دہلوی دیوبندی، کفایت المفتی، ج:1 ،‬ ‫ص:242 ، 632 ، دارالشاعت، کراچی 1002 ء(‬ ‫علمائے دیوبند بشمول جناب اشرفعلی تھانوی صاحب‬ ‫کا پختہ قبر کی تعمیر اور مزار پر حاضری اور ایصا ل ِ‬ ‫ثواب کے حوالے سے یہ متفقہ اور واضح فتو ی ٰ ہے لیکن‬ ‫اس واضح فتو ی ٰ کے باوجود دیوبندیوں کے شیخ مولوی‬ ‫اشرفعلی تھانوی صاحب کو خانقا ہ ِ امدادیہ اشرفیہ‬‫کی عمارت میں دفن کیا گیا اور اس پر “ پختہ مزار” اور‬ ‫ق ب ّہ بھی تعمیر کیا گیا جہاں دیوبندی حضرات بشمول‬ ‫مہتمم و مجاور مولوی نجم الحسن تھانوی صاحب،‬ ‫حدیث “ش د ّ رحال” کی مخالفت کرتے ہوئے معمول کے‬ ‫مطابق حصو ل ِ برکت کے لئے روزانہ حاضری دیتے تھے۔‬ ‫ایک اخباری اطلع ) روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ‬
  2. 2. ‫91 دسمبر 6002 ء/ روزنامہ امت کراچی، مورخہ‬‫02 دسمبر 6002 ء( کے مطابق کسی “ شرپسند” یا “ دہشت‬ ‫گرد” نے درج بال دیوبندی فتوی پر عمل کرتے ہوئے ان‬ ‫کی “ پختہ مزار” اور خانقاہ کے احاطے، ان کے بھائی‬‫مظہر علی “ خان بہادر” ) جو برطانوی دو ر ِ حکومت میں‬ ‫انگریزوں کے سی۔آئی۔ڈی ایجنٹ تھے( ، ان کی اہلیہ،‬ ‫ان کے “ خلیفہ” اور سابق مہتمم و مجاور خانقا ہ ِ‬ ‫امدادیہ اشرفیہ مولوی ظہور الحسن اور خاندان کے‬ ‫چند دیگر افراد کی قبروں کو مسمار کرکے زمین کے‬‫برابر کردیا اور قبروں کو بری طرح کھود ڈال اور وہاں‬ ‫سوائے گڑھے کے کچھ نہ چھوڑا، یعنی ہڈیاں تک بھی‬ ‫اٹھالے گئے۔ اس طرح مجاو ر ِ خانقا ہ ِ تھانویہ کی‬ ‫ذراسی کوتاہی نے جناب اشرفعلی تھانوی صاحب کی‬‫مٹی تو خراب کی ہی لیکن اس طرح وہ خود اپنی بھی‬ ‫مٹی خراب کر بیٹھے۔ جب مٹی کی بات چل نکلی ہے تو‬ ‫دیوبندیوں کے امام اسماعیل دہلوی صاحب کا فتو ی ٰ‬ ‫بھی ملحظہ ہوجائے۔ وہ فرماتے ہیں کہ معاذ اللہ‬ ‫انبیاءکرام بھی “ مر کر مٹی میں مل جاتے ہیں” ، تو اب‬ ‫سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اشرفعلی تھانوی صاحب‬ ‫معاذ اللہ ثم معاذ اللہ انبیاءکرام سے بڑھ کر تھے کہ‬ ‫ان کی قبر میں مٹی کے ڈھیر کے علوہ کچھ اور بھی‬ ‫بچا ہو۔ بہر حال اپنی جھینپ مٹانے کے لئے نجم الحسن‬ ‫تھانوی صاحب نے اس عمل کو “ مزار” کی بے حرمتی‬‫قرار دیتے ہوئے حکوم ت ِ ہند سے سخت احتجاج کیا ہے اور‬ ‫ہندو دہشت پسند تنظیم آر۔ایس۔ایس ) راشٹریا سیوک‬
  3. 3. ‫سنگھ( کو اس “ گھناؤنے” کام کا ذمہ دار ٹھہراکر‬ ‫مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔‬ ‫تعجب انگیز امر یہ ہے کہ جب 6291 ءمیں نجدیوں نے‬‫جنت المع ل ّی، جنت البقیع، شہدائے احد، اور طائف میں‬ ‫صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین، ائمہ کرام، اہ ل ِ بیت،‬‫جید ائمہ امت محمدیہ، محدثین، فقہا اور صلحائے امت‬ ‫کے مزارات تاخت و تاراج کئے اور ان پر گدھوں کے ہل‬ ‫چلوائے ) معاذ اللہ( اس وقت دیوبندی امت کے تمام‬‫علماءمہر لب تھے بلکہ انہوں نے نجدیوں کے بادشاہ کو‬ ‫فتح مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ پر مبارکباد کے خطوط‬ ‫اور تار روانہ کئے تھے۔ ) حوالہ کے لئے ملحظہ ہو:‬ ‫تبلیغی جماعت۔ مصنفہ علمہ ارشد القادری( ۔ امت‬‫محمدیہ کے ان نہایت مقدس بزرگ و برتر شخصیات کے‬ ‫ٔ‬ ‫مزارات کے انہدام سے دیوبندی حضرات کے جذبہ‬ ‫ایمانی کو کوئی ٹھیس نہ پہنچی تو آج “ غیر معروف‬ ‫مزارات” کے اکھاڑدینے پر واویل کیسا؟ بہت سے لوگوں‬ ‫کو تو یہ خبر پڑھ کر بھی حیرت ہوئی کہ ان حضرات‬ ‫کے بھی مزارات ہوسکتے ہیں کہ جنہوں نے زندگی بھر‬‫مزار تعمیر کرنے کو حرام اور مزارا ت ِ اولیاءپر حاضری‬‫دینے والوں کو “ مزار پرست” ، “ قبروں کے پجاری” کہہ کر‬ ‫مشرک ہونے کے فتوے جاری کئے۔‬ ‫ایں چہ شور بست کہ در دور قمر بینم!‬ ‫ادھر پاکستان میں تھانوی صاحب کے کچھ متبعین یہ‬ ‫شور مچارہے ہیں کہ تھانوی صاحب تحری ک ِ پاکستان‬
  4. 4. ‫کے عظیم رہنما تھے اس لئے حکوم ت ِ پاکستان کو اس‬‫واقعہ پر ہندوستان سے احتجاج کرنا چاہئے۔ اس سلسلے‬ ‫میں انہی کے ہم مسلک ڈاکٹر سلمان شاہجہانپوری کا‬ ‫حوالہ یہاں بطور گھر کی گواہی کافی ہوگا کہ ڈاکٹر‬ ‫سلمان شاہجہان پوری، دیوبند کے مہتمم قاری محمد‬ ‫احمد ابن قاسم نانوتوی کی طرف سے انگریز گورنر‬ ‫یوپی کے خطبہ استقبالیہ کے متن کا حوالہ دیتے ہوئے‬ ‫تحریر کرتے ہیں:‬ ‫“ غور فرمایئے یہ ) دیوبندی( حضرات نصیب کی یاوری پر‬ ‫فخر کررہے ہیں اور کس زندگی کو “ گم نامی اور‬ ‫تاریکی کی قعرمذلت” قرار دے رہے ہیں؟ علوم و فنو ن ِ‬ ‫اسلمی کی تعلیم و تدریس اور اس کی اشاعت کو؟‬ ‫صبح و شام “ قال اللہ و قال الرسول” ) عزوجل و صلی‬ ‫اللہ تعال ی ٰ علیہ وسلم( کے ورد کو اور اعما ل ِ اسلمی‬ ‫کو؟ اور کس چیز کو “ باع ث ِ ممنونیت و سعادت” قرار‬ ‫دے رہے ہیں؟ ) انگریزوں کی خوشامد اور غلمی کو؟(‬ ‫مزید حیرت اس بات پر ہے کہ ان کے اخلف کا دعو ی ٰ ہے‬ ‫کہ ملک کی آزادی کی جنگ میں ان کا حصہ ہے اور‬ ‫پاکستان کا قیام ان کی کوششوں کا رہی ن ِ م ن ّت ہے۔”‬ ‫) تحقیقی مقالہ “ مولنا عبید اللہ سندھی کا دیوبند سے‬ ‫اخراج۔۔۔ پس منظر کے واقعات پر ایک نظر” ماہنامہ‬‫الولی، حیدر آباد، سندھ۔ اگست 1991 ءتا نومبر 1991 ء(‬‫حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دیوبندی علماءو اسکالرز اپنے‬‫عظیم عالم اشرفعلی تھانوی صاحب کے بابائے قوم کے‬
  5. 5. ‫نام لکھے گئے جس خط کو علمائے دیوبند کی تحری ک ِ‬ ‫پاکستان میں مثبت کردار کے ثبوت کے لئے بطو ر ِ سند‬ ‫استعمال کرتے چلے آئے ہیں وہ بھی انہی کے ایک‬ ‫محقق جناب پروفیسر محمد شمیم غازی تھانوی،‬ ‫مقیم کراچی، کی تحقیق کے مطابق قطعی جعلی ہے۔‬ ‫) تفصیل کے لئے ملحظہ ہو اخبار روزنامہ جنگ،‬ ‫کراچی۔ مورخہ 42 اپریل 5002 ء، کالم “ روز ن ِ دیوار‬ ‫سے” ۔ کالم نگار: عطاءالحق قاسمی(‬ ‫“ مزار” تھانوی کے مجاور نے مزید ستم یہ ڈھایا ہے کہ‬ ‫اب جبکہ وہاں قبروں کی جگہ بقول ان کے صرف‬ ‫گڑھے رہ گئے ہیں تو وہ ان خالی گڑھوں پر دوبارہ‬ ‫جھوٹی اور جعلی قبریں اور مزارات بنارہے ہیں تو اب‬ ‫کیا فرماتے ہیں علمائے دیوبند اس سلسلہ میں؟‬‫حیرت کی بات یہ ہے کہ 71 دسمبر 6002 ء) ہفتہ اور اتوار‬ ‫کی شب( یہ چھ قبروں اور احاطہ کی مسماری اور‬‫باقاعدہ کھدائی کی کاروائی یقینا ایک درجن سے زائد‬ ‫تجربہ کار مزدوروں نے کی ہوگی لیکن اس کی کانوں‬‫کان خبر نہ پڑوس میں رہنے والے مجاور/ مہتمم صاحب‬ ‫کو ہوئی اور نہ اردگرد کے لوگوں کو ہوئی اور نہ ہی‬ ‫اتنی بڑی جماعت کو مع اوزار/ کدال/ بیلچہ وغیرہ آتے‬ ‫ہوئے اور بھاگتے ہوئے کسی نے دیکھا۔ اس سے یہ ظاہر‬ ‫ہوتا ہے کہ آنے والے “ شرپسند” گھر کے ہی بھیدی تھے‬ ‫اس لئے وہ پہچانے نہیں گئے اور وہ بڑے اطمینان سے‬
  6. 6. ‫اپنی کاروائی کرکے “ فاتحانہ” انداز میں چہل قدمی‬ ‫کرتے ہوئے اپنے اپنے “ حجروں” میں چلے گئے۔‬ ‫ہم اہ ل ِ سنت و جماعت تو ابتداءہی سے مومن‬‫کی عزت و حرمت اور مزارا ت ِ اولیاءاور مومن کی قبر‬‫کے تقدس کے قائل ہیں۔ ہمیں جناب نجم الحسن صاحب‬ ‫سے بھی ہمدردی ہے کہ ان کی خانقاہ کو ظلم و‬ ‫بربریت کے ساتھ اجاڑ کر ان کو بے روزگار کردیا گیا،‬ ‫لیکن اس کے علوہ اور ہم کہہ بھی کیا سکتے ہیں کہ‬ ‫ایں ہمہ آوردہ تست! اور پھر یہ کہ ع‬ ‫ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی!‬

×