کرہ ارض کا مرکز

441 views

Published on

0 Comments
0 Likes
Statistics
Notes
  • Be the first to comment

  • Be the first to like this

No Downloads
Views
Total views
441
On SlideShare
0
From Embeds
0
Number of Embeds
4
Actions
Shares
0
Downloads
3
Comments
0
Likes
0
Embeds 0
No embeds

No notes for slide

کرہ ارض کا مرکز

  1. 1. ‫کرہ ارض کا مرکز ‘ گرین چ’ یا ‘ مک ة المکرم ہ’ ؟‬‫قرآن مجید میں واردہے : بلشبہ سب سے پہل گھر جو لوگوں کے‬‫لیے تعمیر کیا گیا وہی ہے جو مکہ میں واقع ہے۔ا س گھر کو برکت‬‫دی گئی اور تمام جہان والوں کیے لییے مرکیز ہداییت بناییا گییا۔ )آل‬‫عمران : 69( سیب سیے پہل گھیر جیو منجانیب اللہ لوگوں کیے لییے‬‫مقیر ر کییا گییا ہے وہ ہے جیو مکیہ مییں ہے، اس کیا مطلب ییہ ہے کیہ‬‫دنییا مییں سیب سیے پہل عبادت خانیہ کعبیہ ہے، اس کیی ییہ صیورت‬‫بھی ہوسکتی ہے کہ دنیا کے سب گھروں میں پہل گھر عبادت ہی‬‫کے لیے بنایا گیا ہو، اس سے پہلے نہ کوئی عبادت خانہ ہو نہ دولت‬‫خانیہ، حضرت آدم علییہ السیلم اللہ تعالیی کیے نبیی ہییں، ان کیی‬ ‫ٰ‬‫شان سیے کچیھ بعیید نہییں کیہ انھوں نیے زمیین پیر آنیے کیے بعید اپنیا‬‫گھیر بنانیے سیے پہلے اللہ کیا گھیر یعنیی عبادت کیی جگیہ بنائی ہو،‬‫اسییی لیییے حضرت عبداللہ بیین عمییر، مجاہد، قتادہ، سییدی وغیرہ‬‫صحابہ وتابعیین اسی کیے قائل ہییں کہ کعبہ دنیا کا سب سے پہل‬‫گھر ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ لوگوں کے ر ہنے سہنے کے مکانات‬‫پہلے بھیی بین چکیے ہوں مگیر عبادت کیے لییے ییہ پہل گھیر بنیا ہو،‬‫حضرت علی سییے یہی منقول ہے۔ بعییض روایات میییں ہے کییہ آدم‬‫علییہ السیلم کیی ییہ تعمییر کعبیہ نوح علییہ السیلم کیے زمانیے تیک‬‫باقی تھی، طوفان ِنوح میں منہدم ہوئی اور اس کے نشانات مٹ‬‫گئے، اس کیے بعید حضرت ابراہییم علییہ السیلم نیے انہی بنیادوں پیر‬
  2. 2. ‫دوبارہ تعمی ییییییییییییییییر کی ییییییییییییییییا ”۔) معارف القرآن، 69(‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫سیائنسی حقائق ییہ بتاتیے ہییں کیہ مکیہ جسیے قرآن مییں بکیہ بھیی‬‫کہا گییا ہے اور جہاں مسیلمان عمرہ وحیج ادا کرتیے ہییں، زمیین پیر‬‫معرض وجود مییں آنیے وال خشکیی کیا پہل ٹکڑا تھیا۔ سیائنسی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫طور پییر ثابییت شدہ حقیقییت یہی ہے کییہ زمییین کییی پیدائش کییے‬‫ابتدائی ایام میں تمام کرہ زمین پانی میں ڈوباہوا تھا یعنی ایک‬‫بہت بڑا سیمندر تھیا۔ بعدازاں اس کیی تہہ سیے آتیش فشاں پھٹیے‬‫اورانہوں نیے زمینیی پرت کیے نیچیے پگھلے ہوئے چٹانیی مواد اور لوے‬‫کو بڑی مقدار میں اوپر دھکیل دیا جس سے ایک پہاڑی معرض‬‫وجود مییں آئی اوریہی وہ پہاڑی تھیی کیہ جیس پیر اللہ تعالی ٰی نیے‬‫اپنا گھر )قبلہ( بنانے کا حکم دیا۔ مکہ کی سیاہ بسالٹ چٹانوں پر‬‫کی گئی سائنسی تحقیق سے یہ ثابت ہوچکاہے کہ یہ ہماری زمین‬‫کے قدیم ترین پتھر ہیں۔ اگر یہ بات ایسے ہی ہے تو اس کا مطلب‬‫ہے کہ اسی مکہ سے ہی پھر بقیہ زمین کو پھیلیا گیا اور دنیا کے‬‫دوسیرے خطیے معرض وجود مییں آئے۔ سیوال پیدا ہوتاہے کیہ ہمارے‬‫اس دعوٰ ی کیی تائیید مییں کوئی حدییث مصیطفٰے بھیی موجود ہے۔‬‫اس کیییییییییییییییییییییییییییا جواب ہاں مییییییییییییییییییییییییییییں ہے۔‬‫ڈاکٹر ذغلول النجار نے درج ذیل 2 احادیث کو پیش کیا ہے۔ جن کو‬‫میں انہی کے حوالے سے نقل کررہا ہوں کہ نبی کریم نے فرمایا کہ‬‫کعبہ پانی کے اوپر زمین کا ایک ٹکڑا تھا اسی سے ہی بقیہ زمین‬
  3. 3. ‫کیو پھیلییا گییا۔)الفائق فیی غرییب الحدییث للز مخشری: 173/1(۔‬‫اسیی طرح الطیبرانی اور البیہقیی نیے شعیب الیمان مییں ابین عمیر‬‫سے یہ حدیث نقل کی ہے کہ جب زمین وآسمان بنائے جارہے تھے‬‫تیو پانیی کیی سیطح مییں سیے سیب سیے پہل نکلنیے وال خشکیی کیا‬‫ٹکڑا یہی تھاکہ جس پر یہ )متبرک گھر( واقع ہے، پھر اسی کے‬‫نیچیے سیے ہی بقییہ زمیین کیو پھیل ییا گییا۔علوہ ازییں درج ذییل‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی ی‬ ‫ی ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫احادییث سیے بھیی مندرجیہ بال احادییث کوتقوییت ملتیی ہے۔ امام‬‫بخاری نے حضرت عبداللہ بن عباس سے ایک حدیث روایت کی ہے،‬‫اس لمب یی حدی یث می یں س یے ای یک ٹکڑا می یں یہاں نق یل کرتاہوں۔‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫نبیﷺ فرماتے ہیں کہ “)مکہ( وہ شہر ہے کہ جس دن سے اللہ‬‫نے آسمانوں اورزمین کو پید اکیا۔اسی دن سے اس کو حرمت دی‬‫اور اللہ کیی ییہ حرمیت قیامیت تیک قائم رہے گیی ”۔)بخاری ابواب‬‫العمرہ، باب لیحییییییییییییییییییییییل القتال بمکییییییییییییییییییییییہ(۔‬‫اس کیے علوہ امام ابین کثییر نیے بھیی اییک حدییث مسینداحمد،‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫ترمذی اور نسیائی سیے نقیل کیی ہے، اس کیو امام ترمذی نیے حسین‬‫صیحیح کہا ہے کیہ نبیی نیے مکیہ کیے بازار حرورہ مییں کھڑے ہوکیر‬‫فرمایا کہ“اے مکہ تو اللہ تعالی کو ساری زمین سے بہتراور پیا را‬‫ہے۔ اگیر مییں زبردسیتی تجیھ سیے نیہ نکال جاتیا توہرگیز تجھیے نیہ‬‫چھوڑتیا”۔)تفسییر ابین کثییر، آل عمران ، آییت 69(۔ چناچیہ رسیول‬‫اللہ کیا فرمیا ن جہاں مندرجیہ بال تحقییق کیی حماییت کرتاہے وہاں‬
  4. 4. ‫آپ کیی صیداقت کیو بھیی عیاں کرتاہے۔ حضور کیو کیس نیے بتاییا کیہ‬‫زمانہ قدیم میں پوری زمین پانی میں ڈوبی ہوئی تھی اور پھر‬‫اسی خشکی کے ٹکڑے پر اللہ کا گھر بنایا گیا تھا، جیسا کہ مکہ‬‫کی بسالٹ چٹانو ں پر کی گئی تحقیق سے یہ امر ثابت ہوچکاہے‬‫کییییییییہ یییییییییہ قدیییییییییم ترییییییییین چٹانیییییییییں ہیییییییییں۔‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫پروفیس ییرحسین کمال الدی یین ریاض یونیورس یییٹی می ییں شعب ییہ‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫انجنیرنیگ مییں پروفیسیر تھیے۔ انہوں نیے اپنیی بیے مثال تحقییق کیے‬‫بعید اس امیر کیا انکشاف کیاتھیا کیہ مکیہ زمیین کیا مرکیز ہے۔انہییں‬‫اس حقیقت کا علم اس وقت ہوا جب وہ دنیا کے بڑے شہروں سے‬‫قبلہ )مکیہ( کیی سیمت معلوم کرنیے کیے کام پیر مامور تھیے۔ اس‬‫مقصد کو حاصل کرنے کے لیے انہوں نے ایک چارٹ بنایا۔ اس چارٹ‬‫مییں سیاتوں براعظموں کیو مکیہ المکرمیہ سیے فاصیلے اورمحیل‬‫وقوع کیی بنیاد پیر ترتییب دییا۔ پھراپنیے کام کیو مزیید آسیان بنانیے کیے‬‫لیے انہوں نے اس چارٹ کو طول بلد اور عرض بلد کے حساب سے‬‫تقسییم کرنیے کیے لییے یکسیاں خطوط کھینچیے۔ پھیر ان فاصیلوں،‬‫مقداروں اور دوسری کئی ضروری چیزوں کو معلوم کرنے کیے لیے‬‫انہوں ن ییے انتہائی جدی یید اور پیچیدہ کمپیوٹ ییر س ییافٹ وئیرز ک ییو‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫اسیتعمال کییا اور آخرکار دوسیالہ انتھیک محنیت کیے بعید اپنیی نئی‬‫دریافیت کیا انتہائی خوشیی سیے اعلن کرتیے ہوئے کہا کیہ ‘مکہ’ہی‬‫زمین کامرکز ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک ایسا‬
  5. 5. ‫دائرہ بنایا جائے کہ اگر اس کا مرکز مکہ ہوتواس دائرے کے بارڈرز‬‫تمیا م براعظموں سے باہر واقیع ہوں گے اور اسیی طرح اس دائرے‬‫ک یا محی یط تمام براعظموں ک یے محیطوں کییا احاط یہ کررہا ہوگییا۔‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫)المجلہ العربیییییییییییی۔نمیییییییییییبر 732،اگسیییییییییییت 8791(۔‬‫بعدازاں 02 صدی کی آخری دہائی میں زمین اور زمین کی تہوں‬‫کی جغرافیائی خصوصیات کو جاننے اور نقشہ نویسی کی غرض‬‫سیے حاصیل کیی گئییں سییٹلئٹ تصیاویر سیے بھیی اس تحقییق‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی ی‬ ‫ی‬‫کوتقویت ملتیی ہے کہ مکہ زمیین کے مرکز مییں واقیع ہے۔ سائنسی‬‫طور پری یہ ام یر ثاب یت شدہ ہے ک یہ زمی ین ک یی پلیٹی یں )‪Tectonics‬‬ ‫ی‬ ‫ی ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫‪ (Plates‬اپنیی لمبیی جغرافیائی عمیر کیے وقیت سیے باقاعدگیی کیے‬‫ساتھ عربین پلیٹ کے گرد گھوم رہی ہیں۔ یہ پلیٹیں باقاعدگی کے‬‫ساتھ عربین پلیٹ کی طرف اس طر ح مرتکز ہورہی ہیں کہ گویا‬‫ییہ ان کیا مرکیز ہدف ہے۔ اس سیائنسی تحقییق کیا مقصید ہرگیز ییہ‬‫معلوم کرنا نہیں تھاکہ زمین کا مرکز مکہ ہے یا نہیں بلکہ کچھ‬‫اور مقاصید تھیے۔ تاہم اس کیے باوجود ییہ تحقییق مغرب کیے کئی‬‫سیائنسی میگزینوں مییں شائع ہوئی مگیر اس طورپیر کیہ اس سیے‬‫کوئی نتیجیہ اخذنیہ کییا جاسیکے۔ سیید ڈاکٹیر عبدالباسیط مصیر کیے‬‫نیشن یل ریس یرچ س ینٹر ک یے ممتاز رک ین ہی یں۔ انہوں ن یے 61 جنوری‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫5002 مییں سعودی عرب مییں المجید ٹیی وی کو انٹروییو دییا تھیا۔‬‫اس میییں مکییہ المکرمییہ کییے متعلق کئی حیرت انگیییز سییائنسی‬
  6. 6. ‫انکشافات کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی بنیادوں پر مکہ دنیا‬‫کا مرکز اس طرح ثابت ہوتا ہے کہ جب نیل آرم اسٹرانگ زمین سے‬‫اوپیر خل کیی طرف جیا رہے تھیے تیو انہوں نیے زمیین کیی تصیویریں‬‫کھینچی یں۔ انہوں ن یے دیکھ یا ک یہ زمی ین خل می یں معلق ای یک کال‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫ک±رّہ ہے۔ نیل آرم سٹرانگ نے اپنے آپ سے سوال کیا کہ اسے کس‬‫نیے لٹکیا یاہے؟ پھیر خود ہی جواب دیاکیہ ! اسیے خدانیے ہی معلق‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫کرکیے تھامیا ہوا ہے۔ علوہ ازییں انہوں نیے مشاہدہ کییا کیہ زمیین کیے‬‫کسیی خاص مقام سیے کچیھ خاص قسیم کیی شعاعییں نکیل رہی‬‫ہیں جو کم طول موج کی تھیں۔ انہوں نے اس چیزکو معلوم کرنے‬‫کیے لییے اپنیے کیمروں کیو اس مقام پیر فوکیس کرنیا شروع کییا کیہ‬‫جہاں سییے یییہ شعاعیییں نکییل رہی تھیییں۔ آخرکار وہ اپنییی اس‬‫کوش یش می یں کامیاب ہوئے اور انہوں ن یے ی یہ معلوم کرلی یا ک یہ وہ‬ ‫ی ی‬ ‫ی ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫مقام کیہ جہاں سیے شعاعییں خارج ہورہی ہییں وہ مکیہ ہے۔ بلکیہ‬‫بالکیل اگیر صیحیح طور پیر کہا جائے تیو وہ کعبیہ ہے۔ جیب نییل آرم‬‫اسیٹرانگ نیے ییہ منظیر دیکھیا تیو اس کیے منیہ سیے نکل۔ اوہ !میرے‬‫خدا! جب وہ مریخ کے قریب پہنچے تو دوبارہ انہوں نے زمین کی‬‫تصویریں کھینچیں تو انہیں معلوم ہواکہ مکہ سے نکلنے والی یہ‬‫شعاعییں مسیلسل آگیے جارہی تھییں۔ ناسیا نیے ییہ تمام معلومات‬‫اپنیی وییب سیائٹ پیر پییش کردی تھییں مگیر صیرف 12 دن کیے بعید‬‫ان کو ویب سائٹ سے ہٹا دیاگیا تھا۔ شاید اس لیے کہ یہ معلومات‬
  7. 7. ‫بڑی اہم اور حسییییییییییییییییییییییییییاس تھیییییییییییییییییییییییییییں۔‬‫ڈاکٹرعبدالباسط نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ یہ‬‫شعاعیں جو کعبہ سے خارج ہورہی ہیں ل محدود ہیں۔ زیادہ طول‬‫موج ییا کیم طول موج والی شعاعوں کیی خصیوصیات سیے بالکیل‬‫برعکس، میرے خیال میں اس کی وجہ فقط یہ ہے کہ ان کامنبع‬‫اور مآخید زمیین کیا کعبیہ ہے جیو آسیمانی کعبیہ سیے وابسیتہ ہے‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی ی‬ ‫ی‬‫اورمجھ یے یقی ین ہے ک یہ ی یہ شعائی یں زمین یی کعب یة اللہ س یے بی یت‬ ‫ی ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫المعمور )آسمانی کعبة اللہ( تک جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کعبہ‬‫زمیین کیے اس مقام پیر ہے کیہ جہاں زمینیی مقناطیسیی قوتوں کیا‬‫اثرصفر ہے۔ یہ زمینی مقناطیس کے شمالی اورجنوبی قطبوں کے‬‫بالکل درمیان میں ہے ، اگریہاں قطب نمارکھ دیا جائے تو اس کی‬‫سیوئی حرکیت نہییں کرے گیی۔ اس لییے کیہ اس مقام پیر شمالی‬‫قطب اور جنوبی قطب کی کششیں ایک دوسرے کے اثر کو زائل‬‫کردیتیی ہییں۔ چناچیہ یہی وجیہ ہے کیہ میک? المکرمیہ اس زمینیی‬‫مقناطیسی قوت کے اثر سے باہر ہے اور مکہ کے رہنے والوں پر اس‬‫کا کوئی اثر نہیں ہوتا، نتیجتا جو کوئی مکہ کی طرف سفر کرتاہے‬‫ییییا اس مییییں رہتاہے وہ صیییحت منییید اورلمبیییی عمیییر پاتاہے۔‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫اسیی طرح جیب آپ کعبیہ کیا طواف کرتیے ہییں تیو آپ اپنیے اندر اییک‬‫توانائی داخل ہوتے ہوئے محسوس کرتے ہیں ایسا اس لیے ہوتاہے کہ‬‫آپ زمیین کیے مقناطیسیی میدان کیی قوت کیے اثرسیے باہر ہوتیے ہییں‬
  8. 8. ‫اورسائنسی بنیادوں پر یہ بات ثابت شدہ ہے۔علوہ ازیں مکہ کی‬‫کالی بسیالٹ چٹانوں کیے ٹکڑو ں کیو لیبارٹری مییں لے جاکیر چییک‬‫کیاگییا ہے اور ییہ بات معلوم کیر لی گئی ہے کیہ ییہ زمیین کیی سیب‬‫سے قدیم ترین چٹانیں ہیں۔ مصر کے ڈاکٹر عبدالباسط کی گفتگو‬‫سے ثابت ہوتا ہے کہ کعبہ ناصرف زمین کا مرکز ہے بلکہ یہ پوری‬‫کائنات کیا مرکیز بھیی ہے کیونکیہ اس کیی سییدھ مییں بالکیل اوپیر‬‫آسمانی کعبہ یعنی بیت المعمور ہے۔ مختلف روایات و احادیث سے‬‫بھیی ییہ بات معلوم ہوتیی ہے کیہ بییت المعمور، زمینیی کعبیہ کیی‬‫سیدھ میں بالکل اوپر ہے۔ اگر وہ اوندھے منہ گرے تو سیدھا اس‬‫کے اوپر گرے۔ ہرروز 07 ہزار فرشتے اس میں آتے ہیں جب وہ وہاں‬‫سیے جاتیے ہییں تیو پھیر ان کیی باری نہییں آتیی۔ علوہ ازییں قرآن‬‫مجیید مییں بھیی مکیہ کیو “ام القری” کہا گییا ہے جیس کیا مطلب ہے‬‫کہ مکہ ان شہروں کی ماں ہے جو سب اس کے اردگرد ہیں۔ اس‬‫آییت سیے بھیی ییہ معلوم ہوتاہے کیہ مکیہ تمام شہروں کیے درمیان‬‫میں ہے۔اسلمی معاشرے میں ماں کے لفظ کی ایک خا ص اہمیت‬‫ہے۔ آل و اولد کییا سییلسلہ ماں سییے ہی چلتاہے۔ چناچییہ مکییہ کییو‬‫شہروں کی ماں کانام دینے سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ زمین‬‫کے بقیہ حصے بھی اسی سے پھیلے یا اس کے بعد وجود میں آئے‬‫اوریہی بات سیائنسی طور پیر بھیی ثابیت ہوچکیی ہے۔ مکیہ اییک‬‫محفوظ اور پیییییییییییییییییییییییییر امییییییییییییییییییییییییین شہر ہے۔‬
  9. 9. ‫قرآن مییں اس کیو “بلد المیین” بھیی کہا گییا ہے۔ یہاں کسیی چرنید‬‫پرند کوبھی نقصان پہنچانا ممنوع ہے۔ یہ تمام اطراف سے اونچے‬‫پہاڑوں مییں گھراہوا ہے ،یہی وجیہ ہے کیہ یہاں کبھیی کبھار کیم‬‫درجیے کیے زلزلے ہی آتیے ہییں۔ مزیید برآں چونکیہ اس شہر کیا درجیہ‬‫حرارت عموما زیادہ رہتاہے اسییی وجییہ سییے یہاں زمینییی پرت )‬‫‪(Crust‬کیے نیچیے چٹانییں چپکنیے والی اور لییس دار ہییں، اس وجیہ‬‫سے بھی مستقبل میں اگر کبھی یہاں زلزلہ آیا تو اس کی شدت‬‫کیم ہی رہے گیی۔ کعبیہ کیی اییک اور اہم خصیوصیت ییہ بھیی ہے کیہ‬‫مسلمان اس کے گرد طواف کرتے ہیں۔ طواف کا آغاز حجر اسود‬‫والی جگییہ سییے کیییا جاتاہے۔ حاجییی یییہ طواف اینٹییی کلک وائز‬‫)مخالف گھڑی وار( کرتاہے اورییہ بات قابیل ذکیر ہے کیہ اس کائنات‬‫مییں ایٹم سے لے کر کہکشاوں تک ہر چییز اینٹیی کلک وائز حرکت‬‫کررہی ہے۔ ایٹم کے اندر الیکٹرونز، نیوکلئس کے گرد اینٹی کلک وائز‬‫گردش کرتے ہیں۔ زمین کی تمام پلیٹیں عربین پلیٹ کے گرد اینٹی‬‫کلک وائز حرکیت کرتیی ہییں۔ انسیانی جسیم کیے اندر سیائیٹوپلزم،‬‫سییل کیے نیوکلئس کیے گرد اینٹیی کلک وائز حرکیت کرتاہے۔ پروٹیین‬‫مالیکیولز بھیی بائییں سیے دائییں طرف اینٹیی کلک وائز ہی حرکیت‬‫کرتیے ہوئے ترتییب پاتیے ہییں۔ ماں کیے رحیم کیے اندر بیضی ٰی انثی ٰی بھیی‬‫اپنیے ہی گرد حرکیت اینٹیی کلک وائز ہی کرتاہے۔ مرد کیی منیی کیے‬‫اندرجرثومیہ بھیی اپنیے ہی گرد اینٹیی کلک وائز حرکیت کرتیے ہوئے‬
  10. 10. ‫بیضیی انثیی تیک پہنچتاہے۔ انسیانی خون کیی گردش بھیی اینٹیی‬ ‫ٰ‬‫کلک وائز ہی شروع ہوتیی ہے۔ زمیین اپنیے گرد اور سیورج کیے گرد‬‫بھ یی انیٹ یی کلک وائز ہی حرک یت کرت یی ہے۔ س یورج اپن یے ہی گرد‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫اینٹیی کلک وائز حرکیت کرتاہے۔ سیورج اپنیے تمیا م نظام شمسیی‬‫سییمیت ملکییی وے کہکشاں کییے مرکییز کییے گرد اینٹییی کلک وائز‬‫گردش کرتاہے۔ کہکشاں خود اپنیے ہی گرد اینٹیی کلک وائز گردش‬‫کرتیی ہے۔ چناچیہ ان تفصییلت سیے معلوم ہوتاہے کیہ اییک مسیلمان‬‫جیب کعبیہ کیا طواف کرتیا ہے تووہ اسیی طرح اپنیے رب کیی طرف‬‫سیے عائد کیی گئی ڈیوٹیی کیو نبھاتیا ہے کیہ جیس طرح ایٹیم سیے لے‬‫کر کہکشاو¿ں تک، سب اپنے رب کے حکم کے آگے سراطاعت خم‬‫کیے ہوئے ایک ہی سمت میں محو گردش ہیں۔ اس سے اسلم کا‬‫امیتاز اوربرتری دوسیرے مذاہب کیی نسیبت نکھیر کیر سیامنے آجاتیی‬ ‫ہے۔‬‫گزشتہ سال قطر میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی تھی ،جس کا‬‫عنوان ‘مکییہ مرکییز عالم ،علم وعمییل ’ تھییا۔ اس میییں کچییھ‬‫مسلمان علمائے دین اور سائنسدانوں نے مطالبہ کیا تھا کہ گرینچ‬‫کیے معیاری وقیت کیی بجائے مکیہ مکرمیہ کیے وقیت کومعیار کیے‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫طورپیر اپنانیا چاہییے کیونکیہ بقول ان کیے مکیہ مکرمیہ ہی دنییا کیا‬‫مرکز ہے۔ اس کانفرنس میں شریک ایک ماہر ارضیات کا کہنا تھا‬‫کیہ جغرافیائی لحاظ سیے مکیہ مکرمیہ قطیب شمالی سیے دیگیر‬
  11. 11. ‫طول بلد ک ییییے مقابلے می ییییں بہتری یییین مطابق ییییت رکھت ییییا ہے۔‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫شرکاءکانفرنس کا کہنا تھا کہ انگریزوں نے برطانوی راج کے دور‬‫میں دیگر ممالک پر قبضہ کرکے، باقی دنیا پر زبردستی گرنیچ کا‬‫وقت مسلط کردیاتھا۔ اب اس صورت حال کو بدلنے کا وقت آگیا‬ ‫ہے۔‬‫معروف عالم دیین شییخ یوسیف القرضاوی نیے اس کانفرنیس مییں‬‫کہا کہ جدید سائنسی طریقوں سے اب یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ‬‫مکہ مکرمہ کرہ ارض کا اصل مرکز ہے۔ جس سے قبلے کی اہمیت‬‫بھی واضح ہوتی ہے۔ اس کانفرنس میں مکہ واچ، نامی منصوبے‬‫کیا بھیی جائزہ لییا گییا۔ ییہ اییک فرانسییسی سیائنسدان کیی ایجاد‬‫کردہ گھڑی ہے ج یو الٹ یی طرف چلت یی ہے اور اس س یے دنی یا می یں‬ ‫ی ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫کہیں بھی موجود مسلمانوں کو قبلے کے رخ کا پتہ چل سکتا ہے۔‬‫اب جیب کیہ سیائنسی تحقیقات اور سییٹلئٹ تصیاویر نیے بھیی اس‬‫تحقیق کی حمایت کردی ہے کہ مکہ ہی زمین کا مرکز ہے تو کئی‬‫دہائیوں سیے جاری اس تنازع اور بحیث و مباحثیہ کیو ختیم کرنیے کیے‬‫لییے ضروری ہے کیہ بیین القوامیی طور پیر وقیت کیے معیار کیے لییے‬‫گرینیچ کیی بجائے ‘مکیہ ’ ہی کیو مرکزقراردیاجائے۔ اب اگیر مکیہ کیے‬‫وقیت کیو بیین القوامیی طورپیر نافیذ کردیاجائے تیو ہر اییک کیے لییے‬‫نمازوں کے اوقات کا معلوم کرنا بالکل آسان ہوجائے گا۔ لہذا مکة‬
  12. 12. ‫المکرمہ جو کہ ایک مبارک شہر ہے، کو دنیا کے دیگر شہر وں پر‬ ‫فضیلت کا حق ملنا چاہیے۔‬

×