http://www.fatigueimairment.ca http://www.driverfatiguekills.com
 
 
XX  کے لیے حادثے کے اعداد و شمار  ( ملک / مقامی کمپنی /  تجارتی ادارے (BU)  کا نام شامل کریں ) 366 374 740 19 16 35 5 6 11...
 
 
 
غور کریں :  آپ کتنے عرصے تک زندہ رہ سکتے ہیں …
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
خلاصہ
 
 
 
 
مشترک ذمہ داریاں
نیند سے متعلق حادثات کب واقع ہوتے ہیں؟
ڈرائیور کی تھکن سے متعلق غلط تصورات
رات میں خطرہ بہت زیادہ  ہو جاتا ہے
Upcoming SlideShare
Loading in …5
×

Drivers Fatigue training Urdu

660 views
605 views

Published on

Published in: Automotive
0 Comments
0 Likes
Statistics
Notes
  • Be the first to comment

  • Be the first to like this

No Downloads
Views
Total views
660
On SlideShare
0
From Embeds
0
Number of Embeds
4
Actions
Shares
0
Downloads
36
Comments
0
Likes
0
Embeds 0
No embeds

No notes for slide
  • خیر مقدم اور تعارف پیش کنندہ شرکت کنندگان کا استقبال کرتے ہوئے اس نشست بیداری کے موضوع ‘تھکن’ کا تعارف کرائے گا۔ پیش کنندہ سامعین سے یہ دریافت کرتے ہوئے آغاز کرے گا : کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ تھکن کیا ہے؟ ( سامعین میں شامل افراد کو جواب دینے کا موقع دیں ) – 3-4 منٹ کی گفتگو جواب : تھکن ایک ایسی عام اصطلاح ہے جس کا استعمال عموما ً ‘’نیند میں ہونے’’، ‘’تھکے ہونے،’’ ‘’غنودگی آنے،’’ یا کلی طور پر تھک جانے’’ کا تجربہ بیان کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ان میں سے تمام اصطلاحات تحقیق اور طب کے حوالوں سے مختلف معنی رکھتی ہیں، انھیں گاڑی چلانے سے متعلق حفاظت کے سلسلے میں ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ( اور اس لیے دونوں اصطلاحات اس پیشکش میں استعمال کی جا رہی ہیں ) ۔ بیشتر افراد شراب پی کر گاڑی چلانے کے خطرات سے واقف ہوتے ہیں لیکن انھیں یہ احساس نہیں رہتا کہ غنودگی کی حالت میں گاڑی چلانا بھی اتنا ہی مہلک ہے۔ شراب کی طرح تھکن سے پیدا ہونے والی خرابی رد عمل کے وقت کو سست کرتی ہے، بیداری میں کمی لاتی ہے، قوت فیصلہ کو متاثر کرتی ہے اور حادثہ ہونے کے خطرے میں اضافہ کرتی ہے۔ پیش کنندہ سامعین کے جواب کے لیے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یہ دریافت کرے گا کہ وہ یہ کیوں محسوس کرتے ہیں کہ تھکن ڈرائیوروں کے لیے ایک اہم موضوع سمجھی جاتی ہے؟ 3-4 منٹ کی گفتگو جواب : واماندہ یا تھکے ہوئے ڈرائیوروں کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آجانے کا زیادہ خطرہ رہتا ہے کیونکہ وہ توجہ کے ارتکاز کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں۔ اس لیے یہ ‘ہمارے’ لیے بہت اہم موضوع ہے۔ اس کا تعلق ‘ہماری’ حفاظت سے ہے، اس کا تعلق یہ یقینی بنانے سے ہے کہ ‘ہم’ سب ہر رات اپنے عزیزوں کے پاس گھر پہنچ جائیں گے۔ پیش کنندہ سامعین سے دریافت کرے گا : میں اس مسئلے کی سطح پر نمایاں طور پر روشنی ڈالنا چاہوں گا۔ کیا کوئی جانتا ہے کہ ہر سال سڑک پر گاڑیوں کے حادثے میں دنیا بھر میں کتنے لوگ مرتے ہیں؟ ( اس کا جواب اگلی سائڈ پر دیا گیا ہے )
  • اگرچہ اعداد و شمار میں مختلف ممالک میں اختیار کردہ طریقۂ تحقیق کے مطابق اختلاف پایا جاتا ہے – اندازہ یہ لگایا گیا ہے کہ سڑک پر ہونے والے کل مہلک حادثات میں 20% اموات کا سبب ڈرائیور کی تھکن ہوتی ہے ( مآخذ میں شامل ہیں : یوکے ڈپارٹمنٹ برائے نقل و حمل (UK Department for transport) : http://www.dft.gov.uk/pgr/roadsafety/research/rsrr/theme3/ اور آسٹریلیا http://www.driverfatiguekills.com/statistics.html) جواب : یہ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ 12 لاکھ افراد ہر سال سڑک پر گاڑیوں کے حادثات میں ہلاک ہو جاتے ہیں ( مآخذ : عالمی ادارۂ صحت ‘’سڑک پر حفاظت سے متعلق صورت حال کی عالمی رپورٹ : اقدام کا وقت’’ ) اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے تقریبا ً 250,000 افراد ہیں جو ہماری سڑکوں پر ہر سال، تھکن کی وجہ سے مرجاتےہیں۔ پیش کنندہ ( مقصد : گفتگو کے سلسلے میں دلچسپی پیدا کرنا ): سامعین سے یہ پوچھیں کہ کیا کسی کے پاس اس کی کوئی ذاتی مثال ہے کہ گاڑی چلانے کے دوران تھکن نے انھیں ( یا دوستوں / افراد خاندان کو ) کسی طرح متاثر کیا ہے۔ 3-4 منٹ کی گفتگو
  • پیش کنندہ کو مقامی اعداد و شمار کے ذریعے بات کرنی ہے۔
  • پس – آج ہم یہاں کس لیے ہیں : یہ نشست ہمیں ڈرائیوروں میں تھکن کے خطرات سے متعلق یاد دہانی کرائے گی • ہم مر سکتے ہیں • ہم دوسرے لوگوں کو مار سکتے ہیں یہ ہمیں تھکن اور واماندگی کی علامات کی یاد دہانی کرائے گی • لوگوں کا رویہ کیسا رہتا ہے • ہم کیسا محسوس کرتے ہیں یہ ہمیں تھکن کی وجہ سے ہونے والے حادثات سے بچنے میں Shell ، ڈرائیوروں کے سپروائزروں اور ڈرائیوروں کے کردار کی یاد دہانی کرائے گی یہ ہمیں مشورہ دے گی اگر گاڑی چلانے کے دوران ہم تھکن یا واماندگی محسوس کریں تو ہمیں کیا کرنا چاہیے
  • آغاز کرنے سے پہلے ایسے چار سوالات ہیں جن پر میں ایک ٹیم کی حیثیت سے گفتگو کرنا چاہوں گا۔ پیش کنندہ کو جوابات تختہ سفید / باری باری پلٹنے والے مجلد اوراق پر درج کرنا ہے ( ان کو بطور دو طرفہ حوالہ درج کرنے کے لیے ،کیونکہ جوابات آئندہ سلائڈوں میں فراہم کیے گئے ہیں ) ۔ سپروائزر اور گروپ مذکورہ بالا تمام سوالات پر گفتگو کریں گے۔ 5 منٹ کی گفتگو اس کے بعد جوابات پیش کش کی آئندہ سلائڈوں پر فراہم کیے گئے ہیں۔
  • اگر آپ گاڑی چلاتے ہوئے سو جائیں تو آپ کے ساتھ حادثہ ہونے میں کتنا وقت لگے گا؟ زندہ بچ جانے والے حادثوں کی سلائڈ دکھائیں اور اہم نکات پڑھ کر سنائیں۔ یہ وضاحت کریں کہ یہ باتیں گاڑی چلاتے ہوئے ہمیشہ چوکنا رہنے کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں۔ شرکت کنندگان سے اس بارے میں تبصرہ کرنے کے لیے کہیں کہ اگر Shell ٹینکر چلاتے ہوئے انھیں 4 سیکنڈ کے لیے ہلکی نیند آ جائے تو کیا ہوگا ( حادثے کے مقام کی پیشکش شامل کریں جو دی گئی ہیں ) ؟ اس سوال کے ساتھ اختتام کریں : تو آپ کے تھکے ہونے پر گاڑی چلانے میں کس طرح کا خطرہ ہے؟ مطلوبہ جوابات ( براہ کرم زور دے کر کہیں ) ہیں : ہم مر سکتے ہیں ہم دوسروں کو مار سکتے ہیں۔
  • تو ہمیں سب سے زیادہ خطرہ کب رہتا ہے؟ رات کو گاڑی چلاتے وقت آپ کو مہلک حادثہ پیش آنے کا 4 گنا زیادہ امکان رہتا ہے۔ - آپ کا جسم آپ کو سونے کے لیے مجبور کرتا ہے - ایسا ڈاکٹروں کی اصطلاح میں ‘یومیہ 24 گھنٹوں میں بلا ناغہ جسمانی افعال کی باقاعدگی’ (‘Circadian Rhythms’) کی وجہ سے ہوتا ہے - ایسی صرف ایک ہی چیز ہے جو آپ اسے روکنے کے لیے کر سکتے ہیں۔ وہ ہے آرام۔ اگر آپ ان علامات کو نظر انداز کرتے ہیں اور گاڑی چلاتے رہتے ہیں تو ‘جھپکی’ کے امکانات بہت تیزی سے بڑھ جاتے ہیں ( ‘ جھپکی’ چند سیکنڈ کے لیے سو جانا ہے – جب کہ آپ کو جاگتے رہنا ہے ) پس منظر : ہمارے جسم اور ذہن رات کو اسی طرح کام نہیں کرتے جس طرح وہ دن میں کرتے ہیں۔ جسم کے تمام اہم اعضا کا دن کے دوران بہترین طور پر کام کرنے کا ایک وقت ہوتا ہے اور دن کا ایک وقت ایسا بھی ہوتا ہے جب وہ کم ترین کام کرتے ہیں۔ اسے ‘یومیہ 24 گھنٹوں میں بلا ناغہ جسمانی افعال کی باقاعدگی’ (circadian rhythms) کہتے ہیں۔ دماغ کے اندر ایک گھڑی کا نظام ہے جو ہمیں رات کے وقت سونے اور دن کے دوران فعال اور جاگتے رہنے کے لیے منظم کرتا ہے، جو اس جسمانی افعال کی باقاعدگی کو اپنے قابو میں رکھتا ہے۔   جسم کی گھڑی کی یومیہ گردش میں اس کی بتدریج نشاندہی ناممکن ہے۔ اس کے بجائے اس گھڑی کی بالواسطہ پہچان عام طور پر جسم کے درجۂ حرارت کے یومیہ آہنگ کی پیمائش کر کے کی جاتی ہے جو رات 2 بجے سے صبح 6 بجے کے قریب سب سے کم سطح پر ہوتا ہے اور دوپہر بعد کے اوقات میں عروج پر ہوتا ہے۔ ان کاموں کو انجام دینے کی ہماری صلاحیت میں، جو جسمانی اعضاء کی ہم آہنگی کا تقاضا کرتے ہیں، درجۂ حرارت کے آہنگ کے متوازی اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ زیادہ تر کاموں میں جسم کے درجۂ حرارت کی کم سطح کے اوقات میں ہماری کارکردگی کی سطح سب سب کم ہوتی ہے ( رات 2 بجے سے صبح 6 بجے تک ) ۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب آپ کے غلطیاں کرنے کا خطرہ سب سے زیادہ ہے۔ کوئی بھی شخص، جس نے پوری رات جاگنے کی کوشش کی ہو ،جانتا ہے کہ صبح سویرے سستی آجاتی ہے، اور جب آپ واقعی جدو جہد کرتے ہیں، تبھی معاملہ آسان تر ہوتا نظر آتا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ آپ کے جسم کی گھڑی ‘’بیداری’’ کی وضع میں واپس جانے لگتی ہے۔   نیند کی حالت دوبارہ دوپہر بعد کے درمیان ( قیلولے کے وقت ) میں بڑھ جاتی ہے۔ ایسے کاموں کے دوران جو آپ سے مستقل چوکنا اور ہوشیار رہنے کا مطالبہ کرتے ہیں ( مثلا ً گاڑی چلانا ) اسی وقت آپ دوبارہ سستی کی علامات ظاہر کرتے ہیں۔
  • بہت سے ڈرائیور لمبے یا اکتانے والے کار کے سفر میں بیدار رہنے / چوکنا رہنے کے لیے اپنی ذاتی تدابیر اختیار کرتے ہیں۔ محقیقین نے یہ جاننے کے لیے ان متبادل طریقوں کی جانچ کی ہے کہ کیا وہ کارآمد ہیں۔   تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ مندرجہ ذیل طریقوں کا بہت ہی محدود اثر پڑتا ہے – زیادہ سے زیادہ ایسا صرف ایک مختصر وقفہ ہوتا ہے جب آپ کچھ زیادہ تازہ دم محسوس کرتے ہیں لیکن چند منٹ کے اندر آپ پر نیند طاری ہونے لگے گی۔ خود کو بیدار رکھنے کے لیے ان طریقوں پر اعتبار نہیں کیا جانا چاہیے :   ٹھنڈی ہوا – ڈرائیور اکثر بتاتے ہیں کہ وہ چوکنا رہنے کے لیے کھڑکی کھول دیتے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ان طریقوں کے اثرات بہت کم ہوتے ہیں اور بہت مختصر وقفے کے لیے باقی رہتے ہیں۔   ریڈیو – نیند سے متاثر ڈرائیوروں نے عام طور پر یہ بھی بتایا ہے کہ وہ کار میں لگے ریڈیو یا اسٹیریو کو کھول دیتے ہیں۔ اس بارے میں بھی تحقیق سے یہی پتہ چلا ہے کہ اس کے فوائد معمولی اور محدود وقفے تک ہی باقی رہتے ہیں۔ جب آپ سست پڑ گئے ہوں تو باہر نکل کر اپنی بانہوں اور ٹانگوں کو تاننا درست ہے لیکن اس وقت نہیں جب آپ تھک گئے ہوں۔ جب آپ تھکے ہوئے ہیں تو تیر بہدف علاج تھوڑی دیر کے لیے سونا ہے۔ آپ بیدار رہنے کے لیے ‘قوت ارادی’ پر بھروسہ نہیں ‘کر سکتے’۔
  • آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ کوئی شخص تھک گیا ہے؟ وہ ‘بد مزاجی’ کا مظاہرہ کرتے ہیں • من موجی، منفی، بد مزاج، غیر مددگار وہ مختصر طریقے اختیار کرتے ہیں • وہ کاموں کو پورا نہیں کرتے • وہ کاموں کو بھول جاتے ہیں • وہ کہتے ہیں کہ کام بہت زیادہ مشکل ہیں وہ کم فعال ہوتے ہیں • کم رفتار، آلسی وہ کم نگہداشت اور توجہ کا مظاہرہ کرتے ہیں • انھیں خطرات نظر نہیں آتے • وہ کم پروا کرتے ہیں • وہ وقت کی پابندی نہیں کرتے • وہ غلطیاں کرتے ہیں • انھیں حادثات پیش آتے ہیں دیگر؟ اس کا استعمال اپنے سامعین سے بحث کا آغاز کرنے کے موقع کے طور پر کریں۔
  • پیش کنندہ : میں نامکمل نیند کے بارے میں بات کرنے کے لیے ایک لمحہ لینا چاہوں گا۔ یہ بتائیں کہ یو ایس اے، انگلینڈ اور جاپان میں تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ عام آدمی کو ہر رات 7 – 8 گھنٹے کی نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بتائیں کہ نیند کے دوران، انسانی جسم بعض تبدیلیوں سے گزرتا ہے۔ ان تبدیلیوں میں جسم کے اندر آکسیجن اور ہارمونوں کی از سرنو بھرپائی بھی شامل ہے۔ اگر آپ اپنے جسم کو تازہ دم ہونے کا موقع نہیں دیتے ہیں تو آپ کو نیند کا فائدہ حاصل نہیں ہوگا ! انسانوں میں نیند کی کمی میں برابر اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اگر نیند کا اوسط وقفہ 7-8 گھنٹے ہے اور آپ کو صرف 5 گھنٹے سونے کا موقع ملتا ہے تو آپ کے جسم میں 2-3 گھنٹوں کی نیند کی کمی ہو جاتی ہے۔ یہ ‘’کمی’’ اس وقت تک باقی رہے گی جب تک کہ آپ اپنی نیند مکمل نہ کر لیں۔ مختصرا ً یہ کہ : نیند بہت اہم ہے۔ . ناکافی نیند مندرجہ ذیل خرابیوں کا سبب بنتی ہے : زیادہ اونگھنا، توجہ مرکوز کرنے میں زیادہ مشکل ہونا جسمانی اعضاء کا سست رد عمل، کم ترین ہم آہنگی سست تر، یک رخ، بے ہنگم خیالات بحالی کے لیے لگاتار دو راتوں کی نیند کی ضرورت پڑ سکتی ہے
  • پیش کنندہ سلائڈ پر دیے گئے نکات کی مدد سے بات کرے گا۔ وضاحت : ‘ ریوائو’ کو ‘تازہ دم’ ہونے کے طور پر بہتر سمجھا جا سکتا ہے
  • پیش کنندہ : تو رات کو اچھی طرح سونے کی کوشش کرتے ہوئے ہمیں کس بات کا خیال رکھنا چاہیے؟ سلائڈ پر دیے گئے نکات کا احاطہ کریں۔ بتائیں کہ اپنے نیند کے معمول پر نظر ڈالتے ہوئے اچھی عادات اختیار کرنا ضروری ہے۔ یہ یقینی بنانا ایک ڈرائیور کا قانونی فرض ہے کہ یہ وہ گاڑی چلانے کے لیے موزوں ہے۔ اس کے بعد، یہ یقینی بنانے کے علاوہ کہ انھوں نے معقول طور پر آرام کر لیا ہے، ڈرائیوروں کو اپنی عام صحت اور بہبود کی طرف سے بھی خبر دار رہنے کی ضرورت ہے۔ ذریعۂ معاش کے طور پر گاڑی چلانے کے مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ وقت کے دباؤ، ناموزوں اوقات، اور محدود انتخاب کی وجہ سے ڈرا‏ئیور بار بار غیر صحت مند غذا اور اکثر ناموزوں وقفے سے کھاتے ہیں۔ جب ہمارے خون میں شکر کی سطح کم ہوتی ہے تو ہم متوازن غذا کھانے کے بجائے جو کچھ بھی ہاتھ آ جائے اس پر گزارہ کر لیتے ہیں۔ رات کو کام کرنے والے ڈرائیوروں کے لیے ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ دن کے اس وقت میں غذا کم موثر انداز میں ہضم ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں ہاضمے کے مسائل اور شکایات پیدا ہو سکتی ہیں مثلا ً معدے میں پھوڑے۔ ان اسباب اور ڈرائیونگ میں لمبے وقفے تک بیٹھے رہنے کے نتیجے میں موٹا پا جیسے مسائل صحت پیدا ہو سکتے ہیں۔ ڈرائیوروں اور شفٹوں میں کام کرنے والے دیگر لوگوں کو یہ یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں کہ کوئی شفٹ شروع کرنے سے پہلے انھوں نے اچھی طرح کھانا کھا لیا ہے، اور یہ کہ اپنی شفٹ کے دوران انھیں معقول خوراک حاصل ہو سکتی ہے – چاہے وہ کام کی جگہ پر ہوں یا باہر راستے میں ہوں۔ شکر دار غذاؤں اور مشروبات یا زیادہ چکنائی والے اسنیکس ( مثلا ً خستہ چیزیں اور چاکلیٹ ) کیونکہ اس سے آپ کے جسم میں عارضی شکر کی توانائی آئے گی اور اس کے بعد یہ آپ کو سست بنا دے گی۔ غذائی اشیاء جسے کیلا یا مرکب کاربوہائڈریٹس مثلا ً اجناس سے بنی اشیاء سے توانائی کا بہتر ذریعہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اچھی نیند کے لیے بعض مختصر اشارے : تاریک کمرہ - نقاب / گہرے پردے پرسکون کمرہ - فون بند کر دیں (e.gn) کم درجۂ حرارت - تقریبا ً 18 ڈگری سینٹی گریڈ آرام دہ بستر - سخت، آرام دہ، اچھی حالت کی جانچ کر لیں
  • پیشد کنندہ : گاڑی چلانے کے دوران اگر آپ تھکن محسوس کرتے ہیں تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟ جواب : رکیں اور بحال ہوں (‘ تازہ دم ہوں’ ) خطرے کو کم سے کم کرنے میں آپ کی مدد کے لیے مشورہ کسی جگہ رک کر آرام کا موقع نکالنے کے لیے اپنے سفر کی اچھی طرح منصوبہ بندی کریں۔ روانہ ہونے سے پہلے اپنے سفر کے انتظامی منصوبے کی جانچ کریں۔ • اگر آپ گاڑی چلاتے ہوئے تھکن محسوس کرنے لگیں – یہاں تک کہ اگر آپ اپنی منزل سے قریب ہی ہیں – تو بھی آگے نہ بڑھیں – رک جائیں۔ • کسی محفوظ جگہ پر رکیں۔ اگر آپ شاہراہ پر ہیں تو یہاں سے اخراج کی اگلی جگہ اختیار کر کے گاڑی کھڑی کرنے کی کوئی جگہ تلاش کریں یا اگلی موٹر وے سروس کی جگہ پر رکیں۔ • ایک یا دو کپ تیز کافی پیئیں • کیفین کا اثر تقریبا ً 20 منٹ میں شروع ہوتا ہے۔ اس لیے زیادہ سے زیادہ 15-20 منٹ کی مختصر جھپکی لینے کے لیے اس ‘’وقفے کے موقع’’ کا استعمال کریں۔ اس سے زیادہ ہو جانے پر آپ شاید بیدار ہونے پر خود کو حواس باختہ محسوس کریں۔ ( اہم وضاحت – یہ یقینی بنائیں کہ جھپکی لینے کی تیاری سے پہلے آپ نے دروازے بند کر لیے ہیں ) ۔ اگرچہ یہ مستعدی میں عارضی بہتری لانے کا ایک اچھا طریقہ ہے، اگر کیفین شفٹ کے خاتمے سے ذرا پہلے لی جائے تو وہ اگلی شفٹ کے بعد کی نیند میں مخل ہو سکتی ہے، اور نتیجتا ً نامکمل نیند اور بھی زیادہ نامکمل رہ جائے گی۔ کیفین کے مستعد رکھنے والے اثرات ایک کپ معیاری کافی کے بعد 6-8 گھنٹے تک باقی رہ سکتے ہیں۔ سستی دور کرنے کے طریقے کے طور پر اس کا استعمال کر تے ہوئے کیفین کے فائدے اور نقصان پر غور کر لینا چاہیے، کیونکہ اس کے لیے وقت کا انتخاب بہت ضروری ہے۔ تاہم، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ کیفین کا استعمال صرف ایک ہنگامی طریقے اور گاڑی چلانے میں وقفہ لینے کے طور پر کیا جاتا ہے۔ ان تدارکی طریقوں کو حل نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ معقول نیند لینے، اپنے سفر کی منصوبہ بندی کرنے اور گاڑی چلانے کے دوران وقفے وقفے سے آرام کرنے کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ یاد رکھیں : • یہ وہ ‘ہنگامی’ طریقے ہیں جن کا استعمال صرف آخری چارۂ کار کے طور پر کیا جانا چاہیے – • جہاں پر نیند کے لیے رکنے کی کوئی جگہ نہیں ہے • اصل مقصد اس حالت کا سامنا نہیں کرنا ہے
  • یہ بتائیں کہ ہماری گفتگو میں تھکن اور سستی کے کئی اسباب کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ایسی دو اہم تدابیر ہیں جن پر ہمیں عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں سے پہلی تدبیر خود کو تھکنے اور سست پڑنے سے روکنا ہے۔ سلائڈوں پر دکھائے گئے یہ نکتے ایسی باتیں ہیں جن کو ہمیں اپنی زندگی میں شامل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم سستی کے شکار نہ ہو جائیں
  • پیش کنندہ : خلاصہ یہ ہے کہ میں اس پر زور دینا چاہوں گا کہ ہم سب کو سستی کے اسباب و علامات کی نشاندہی کرنے اور تھکنے اور سست پڑنے پر گاڑی چلانے کے ممکنہ نتائج کو پہچاننے کے قابل ہو نا چاہیے۔ یہ یقینی بنانا ہم سب کا کام ہے کہ ہم اپنے سستی کے خطرات پر قابو پائیں ! اپنی حفاظت کی ذمہ داری ذاتی طور پر قبول کریں۔ اگر آپ اپنے رفقاء کار کی طرف سے فکرمند ہیں تو مداخلت کریں۔ وضاحت : ‘ شفٹ شروع ہونے سے کم از کم 2 گھنٹے پہلے ختم ہونے’ کا مطلب یہ ہے کہ بیدار ہو جانے سے کم از کم 2 گھنٹے بعد کام شروع کیا جائے گا۔
  • اس تصویر میں ایک پیٹرول ٹینکر دکھایا گیا ہے جو اس وجہ سے پلٹ گیا کہ ڈرائیور کو نیند آگئی تھی۔ حادثے کے بعد انٹرویو میں اس نے کہا ‘’مجھے یاد نہیں کہ کیا ہوا تھا۔ جونہی میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ پیڑ گر رہے ہیں’’۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ بغیر کسی معقول آرام یا کام میں وقفہ دیے 18 گھنٹے سے کام کر رہا تھا اور گاڑی چلا رہا تھا۔ سلائڈ پر دی گئی تصویر کو ایک انتباہ کے طور پر استعمال کریں کہ سستی لوگوں کی جان لے سکتی ہے اور لے لیتی ہے۔
  • ختم کرنے سے پہلے – بحیثیت ٹیم جواب دینے کے قابل بعض سوالات۔
  • ڈرائیور کی تھکن سے پیدا ہونے والے مسائل پر قابو پانا مشترک ذمہ داریوں کا تقاضا کرتا ہے : کمپنی آپ کی صحت اور حفاظت کے لیے ذمہ دار ہے۔ یہ یقینی بنانا کمپنی کا کام ہے کہ آپ پر کام کا بوجھ زیادہ نہیں ہے اور یہ کہ آرام کے معقول وقفوں کے لیے آپ کو کافی وقت دیا جاتا ہے۔ آپ کی شفٹ کا وقفہ اور ہر روز اور ہر ہفتے جتنا وقت گاڑی چلانے میں خرچ کرتے ہیں اس کا تعین بھی قانونا ً کیا گیا ہے۔ لیکن گاڑی چلانے کے لیے موزوں حالت میں کام پر آنے کی قانونی ذمہ داری بھی آپ کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں آپ اچھی طرح سوئے ہیں، اس طرح کہ آپ نے مکمل آرام کیا ہوا ہے۔ اگر آپ کسی بیماری میں مبتلا ہیں یا آپ کوئی دوا استعمال کر رہے ہیں تو اس کی اطلاع بھی آپ کو اپنے سپروائزر کو دینی چاہیے۔ بد قسمتی سے، انسانی حیاتیاتی نظام کی وجہ سے تھکن ہمیشہ کسی بھی 24 گھنٹے کے عمل کا ایک حصہ بنی رہے گی۔ اسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس پر اچھی طرح قابو پانے سے آپ کی صحت اور حفاظت میں بہتری آئے گی، اور کمپنی کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا۔ واضح طور پر تھکن کے بعض اسباب کی زیادہ ذمہ داری کمپنی پر ہے اور بعض اسباب ایسے ہے جن کی زیادہ ذمہ داری انفرادی طور پر ہر ڈرائیور پر ہے۔ یہ تربیتی کورس تھکن پر قابو پانے کے ایک مجموعی پروگرام کا ایک حصہ ہے۔
  • ’ لوگ اکثر شاہراہ پر بیرونی ایما یا ترغیب پر نیند کی سی غفلت طاری ہونے کی بات کرتے ہیں۔ یہ ایک عام غلط تصور ہے کہ سڑک پر لگائی گئی رکاوٹوں پر سفید لکیریں کسی بھی طور پر ہمیں ‘’لبھاتی’’ اور ہماری توجہ کو بھٹکا سکتی ہیں۔ ظاہر ہے عام حالات میں سڑک کے کنارے بنی یہ علامات ایسا کوئی اثر نہیں رکھتیں – ورنہ ہم سب پر ان کے لبھا نے کا اثر ہونا چاہیے ! حقیقت یہ ہے کہ جب ہم بہت تھکے ہوتے ہیں ہماری آنکھوں میں اشیاء پر ‘نظر جمانے’ کا میلان پیدا ہو جاتا ہے۔ جب آپ تھکے ہوئے ہوں تو خود آپ کو اس کا تجربہ ہوا ہوگا – آپ یہ دیکھیں گے کہ آپ خاص طور پر کسی چیز کو گھور نہیں رہے ہوتے ہیں۔ یہ تھکن کی علامت ہے – اس کی علامت نہیں کہ ہم پر لبھائے جانے کا تنو یمی عمل کیا جا رہا ہے۔
  • Drivers Fatigue training Urdu

    1. 1. http://www.fatigueimairment.ca http://www.driverfatiguekills.com
    2. 4. XX کے لیے حادثے کے اعداد و شمار ( ملک / مقامی کمپنی / تجارتی ادارے (BU) کا نام شامل کریں ) 366 374 740 19 16 35 5 6 11 7 18 25 40 34 74 43 37 80 20 21 41 48 35 83 81 54 135 103 153 256 740 100 10 1 41 6 63 9 72 10 271 37 283 38
    3. 8. غور کریں : آپ کتنے عرصے تک زندہ رہ سکتے ہیں …
    4. 21. خلاصہ
    5. 26. مشترک ذمہ داریاں
    6. 27. نیند سے متعلق حادثات کب واقع ہوتے ہیں؟
    7. 28. ڈرائیور کی تھکن سے متعلق غلط تصورات
    8. 29. رات میں خطرہ بہت زیادہ ہو جاتا ہے

    ×