Your SlideShare is downloading. ×
وھابی تاریخ wahabi history
Upcoming SlideShare
Loading in...5
×

Thanks for flagging this SlideShare!

Oops! An error has occurred.

×
Saving this for later? Get the SlideShare app to save on your phone or tablet. Read anywhere, anytime – even offline.
Text the download link to your phone
Standard text messaging rates apply

وھابی تاریخ wahabi history

547
views

Published on

Khawariji=wahabi=deobandi=ahle hadees=najdi=ghair muqaled=salafi=maududi=qadyani=tableeghi ,etc …

Khawariji=wahabi=deobandi=ahle hadees=najdi=ghair muqaled=salafi=maududi=qadyani=tableeghi ,etc
Rawafiz=shia=asna ashari=zaidi=imamia=ismaeeli=jafari= ,etc

Published in: Spiritual, Education

0 Comments
0 Likes
Statistics
Notes
  • Be the first to comment

  • Be the first to like this

No Downloads
Views
Total Views
547
On Slideshare
0
From Embeds
0
Number of Embeds
0
Actions
Shares
0
Downloads
16
Comments
0
Likes
0
Embeds 0
No embeds

Report content
Flagged as inappropriate Flag as inappropriate
Flag as inappropriate

Select your reason for flagging this presentation as inappropriate.

Cancel
No notes for slide

Transcript

  • 1. ‫اللھم انی اسا لک و اتوجہ الیک بمحمد نبی الرحمۃ‬ ‫یا محمد انی قد توجھت بک الی ربی فی حاجتی‬ ‫ھذہ لتقضی اللھم فشفعہ فی ۔‬ ‫ابن ماجہ،ترمذی،احمد ،حاکم ،امام بہیقی،امام نسائی۔‬ ‫وھابیت/دیوبندیت :مسلمان علماء کی نظر میں‬ ‫بِسمِ اِ الرّ حمٰنِ الرّ حِیِم‬ ‫“ واذ اقیل لھم اتبعو اما انزل ا، قالو ا: بل نتّبع ما وجدنا علیہ آبائنا،،‬ ‫“لقد کنتم انتم وآباو کم فی ضلل مبین ،، ( القر آن الحکیم(‬ ‫“ اور جب ان سے کھا گیا کہ خدا نے جو )دین ( نازل کیا ھے اس کی پیروی کرو ) تو ( اُن لوگوں نے‬ ‫جواب دیا کہ ) نھیں ( بلکہ ھم اس ) دین ( کی پےروی کر تے ھیں جس پر ھم نے اپنے بزرگوں کو‬ ‫پایا ھے ،، “ یقینا تم لوگ کھلی ھوئی گمراھی میں ھو اور تمھارے بزرگ بھی کھلی ھوئی‬ ‫گمراھی میں تھے ،، )قرآن کریم )‬ ‫مسلمان بھائیوں‬ ‫کیا آپ وھابیت کی حقیقت سے آگاہ ھیں ؟‬ ‫اور کیا آپ جانتے ھیں کہ وھابی مسلک کو محمد ابن عبدالوھاب نجدی متوفی ۶۰ ۲۱ئہ نے ایجاد کیا‬ ‫ھے ۔ اور اس نے اپنے تمام اصول احمد ابن تیمیہ حرانی کے افکار سے حاصل کئے ھیں ۔؟‬ ‫اور کیا آپ یہ بھی جانتے ھیں کہ یہ مذ ھب مسلمانوں کے چاروں مذاھب کے خلف ھے ؟‬ ‫اور کیا اس سے بھی با خبر ھیں کہ چاروں مذاھب وھابی مسلک کے قائدین اور اس کے پیرو کاروں‬ ‫کو گمراہ اور راہ ایمان سے خارج بتاتے ھیں ؟‬ ‫خدا وند عالم نے فرمایا :‬
  • 2. ‫“ومن یشاقق الرّسول من بعد ما تبیّن لہ الھدیٰ ویتبع غیر سبیل المو منین نولّہ ماتولّیٰ ، ونصلہ‬ ‫جھنّم وسائت مصیرا۔ ،، صدق ا العظیم‬‫“ اور جو شخص راہ ھدایت روشن ھو جانے کے بعد رسول خدا کی مخالفت کرے اور اھل ایمان کے‬ ‫راستہ کو چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرے تو ھم اسے اس کے باطل راستہ پر چھوڑ دیں گے اور‬ ‫جھنم میں جلئیں گے اور یہ کتنا برا ٹھکانا ھے ،،۔‬ ‫اور کیا آپ لوگ جانتے ھیں کہ ھمارے اھل سنّت علماء کی ایک بڑی جماعت نے آپس میں اختلف‬‫مذاھب کے با وجود وھابی مسلک کے مو جد اور اس کے استاد اور امام ، ابن تیمیہ کی رد میں بھت‬ ‫سی کتابیں لکھی ھیں ۔اور وھابی مسلک کو باطل قرار دیا ھے ۔؟‬ ‫محمد ابن عبدالوھاب نجدی اور اس کے عقائد‬‫کیا آپ جانتے ھیں ؟کہ علماء مکہ نے محمد ابن عبد الوھاب کے ملحد ھو نے کا فتویٰ دیا ھے اور اسے‬ ‫خبیث ،بے شرم ،بے بصیرت اور گمراہ بتایا ھے۔ اور بتایا ھے کہ یہ شخص جھوٹا تھا ،قرآن و حدیث‬ ‫کے معنی میں تحریف کیا کرتا تھا خدا پر بھتان باندھتا تھااور قرآن کا منکر تھا اُنھوں نے اس پر‬ ‫بارھا لعنت کی ھے ۔‬‫ھاں!یہ تمام باتیں حق کے حامی شاہ فضل رسول قادری نے اپنی کتاب “سیف الجبار المسلوک علیٰ‬ ‫اعداء البرار ،،میں لکھی ھے ۔یہ کتاب ۹۷۹۱ءء میں ایک غیرت مند مسلمان حسین حلمی‬ ‫استانبولی نے تر کیہ میں شائع کی تھی ۔‬ ‫عراق کی ایک مسلّم ومتفق علیہ عظیم علمی شخصیت شیخ جمیل آفندی زھاوی نے اپنی کتاب‬ ‫“الفجر الصادق ،،میں صفحھ،۷۱پر محمد ابن عبدالوھاب کے حالت مینتحریر فرمایا ھے :یہ محمد‬‫ابن عبد الوھاب شروع میں ایک طالب علم تھا ،،علماء سے علم حاصل کرنے کی خاطر مکہ ،مدینہ‬‫آتا جاتا رھتا تھا۔مدینہ مینجن علماء سے اس نے تحصیل علم کیاوہ یہ ھیں :شیخ محمد ابن سلیمان‬ ‫کردی ،شیخ محمد حیاةسندی ،یہ دونوں استاد اور دوسرے جن علماء سے یہ پڑھتا تھا،وہ حضرات‬‫اس کے اندر گمراھی و الحاد کو بھانپ گئے تھے اور کھتے تھے کہ خدا عنقریب اسے گمراہ کرے گا اور‬ ‫اس کے ذریعہ دوسرے بدنصیب بندے بھی گمراہ ھونگے چنانچہ ایسا ھی ھوا۔اور اسکے باپ عبد‬ ‫الوھاب جو علماء صالحین میں تھے،انھوننے بھی اس کی بے دینی کا اندازہ لگا لیا تھا اور لوگونکو‬‫اس سے دور رھنے کا حکم دیتے تھے۔اسی طرح اس کے بھائی شیخ سلیمان بھی اس کے خلف تھے‬‫بلکہ انھوں نے تو محمدابن عبدالوھاب کی ایجاد کردہ بدعتوں اور منحرف عقیدوں کی رد میں ایک‬ ‫کتاب بھی لکھی ۔وہ اسی کتاب کے صفحھ ۸۱میں لکھتے ھیں کہ اس)محمد ابن عبدالوھاب (پر‬ ‫خدا کی لعنت ھو یہ اکثر پیغمبر اسلم کی مختلف الفاظ میں توھین کرتا تھا ،ً آپ کو پیغمبر کے‬ ‫بجائے “طارش،،کھتا تھا جس کا مطلب عوام کی زبان میں وہ شخص ھے جسے کوئی کسی کے‬‫پاس بھیجے۔ حالنکہ عوام بھی صاحب عزت وقابل احترام شخصیت کے لئے یہ کلمہ نھیں استعمال‬
  • 3. ‫کرتے ۔یھاں تک کہ اس کے بعض پیرو پیغمبر کی شان میں کھتے ھیں :“میرا یہ عصا محمد سے بھتر‬ ‫ھے ۔کیونکہ میں اس سے کام لیتا ھوناور محمد مر گئے ھیں۔اب ان سے کوئی فائدہ حاصل نھیں‬ ‫ھوسکتا۔ محمد ابن عبد الوھاب یہ سب سن کر خاموش رھتا تھا اور اپنی رضا ظاھر کرتا تھا آپ‬ ‫جانتے ھیں یہ بات مذاھب اربعہ میں کفر مانی جاتی ھے۔‬‫اسی طرح یہ پیغمبر اسلم پر درود بھیجنے کو برا سمجھتا اور شب جمعہ میں رسول ا صلی ا‬ ‫علیہ و آلہ و سلّم پر درود پڑھنے سے روکتا تھا ۔منبروں پر بلند آواز سے درود پڑھنے سے منع کرتا اور‬ ‫اگر کوئی شخص ایسا کر تا تو اسے سخت سزا دیتا تھا یھاں تک اس نے ایک نابینا موذن کواسی‬ ‫بات پر قتل کردیا تھا کہ اسے اذان کے بعد درود پڑھنے سے منع کیا تھا لیکن وہ باز نھیں آیا تھا ۔‬‫آپ کو جان کر بھی حیرت ھوگی اسماعیل پاشا بغدادی نے “ھدیةالعا رفین ،،میں جو پھلے استانبول‬‫،ترکیہ میں ۱۵۹۱ئئمیں طبع ھوئی پھر دوبارہ بیروت میں ۲۰۴۱ھئمیں آفسیٹ سے طبع ھوئی ،کی ج‬‫۲صفحہ ۰۵۳پرذکر کیا ھے :محمد ابن عبدالوھاب نے ایک کتاب ان مسائل سے متعلق لکھی ھے جس‬‫میں اس نے پیغمبر کی مخالفت کی تھی ،اور پیغمبر کی مخالفت کا مطلب آپ سے دشمنی کرنا ھے‬ ‫جس کے متعلق خدا نے فرمایا ھے :“ومن یشاقق الرّسول من بعد ما تبیّن لہ الھدیٰ ویتبع غیر سبیل‬ ‫المو منین نولّہ ماتولّیٰ ، ونصلہ جھنّم وسائت مصیرا۔‬ ‫جوراہ ھدایت روشن ھوجانے کے بعد پیغمبرکی مخالفت کرے اس کا ٹھکانا جھنّم ھے۔‬ ‫محمد ابن عبدالوھاب کی رد میں لکھی گئی کتابیں‬‫قارئین کرام جانتے ھیں کہ شیخ سلیمان ابن عبدالوھاب ،محمد ابن عبدالوھاب کے حقیقی بھائی نے‬ ‫سب سے پھلے اس بد عت ایجاد کرنے والے کی رد میں کتاب لکھی جس کا نام “ فصل الخطاب فی‬‫الرد علیٰ محمد ابن عبدالوھاب ،، رکھا تھا ۔ اس کا اسماعیل پاشا نے “ ایضاح المکنون ج ۲ ص ۰۹۱‬ ‫طبع بیروت دار الفکر ۲۰۴۱ ئ‬ ‫اور عمر رضا کحالہ نے “ معجم المو لفین ،، ج ۴ ص ۹۶۲ طبع بیروت “ دارا حیاء الترات العربی ،،‬ ‫میں ذکر کیا ھے‬ ‫اور محمد ابن عبدالوھاب کی رد میں لکھنے والوں میں سے ایک شیخ عبدا بن عیسیٰ صغانی‬ ‫ھیں ۔ انھوں نے جو کتاب لکھی اس کا نام “ السیف الھندی فی ابانة طریقةالشیخ النجدی ،، ھے۔‬ ‫اس کا ذکر بھی اسماعیل پاشا نے “ ھدیة العارفین ،، ج ۱ ص ۸۸۴ میں کیا ھے‬ ‫اس کی رد میں لکھنے والوں میں سے ایک سید علوی ابن حداد بھی ھیں جنھوں نے کتاب “مصباح‬ ‫النام ،،و “جلء الظلم فی رد شبہ البدعی النجدی التی اضلّ بھا العوام،،یہ کتاب مطبع عامر کے‬ ‫توسط سے ۵۲۳۱ھئمیں طبع ھوئی ۔اس کا ابو حامد ابن مرزوق نے اپنی کتاب “التوسل بالنبی‬ ‫وبالصالحین ،،مینکیا ھے۔ یہ کتاب بھی ابن عبد الوھاب کے عقائد کی رد میں لکھی گئی ھے ۔‬ ‫موصوف نے ایک اور کتاب بھی بنام “السیف الباتر لعنق المنکر علی الکابر ،،لکھی ھے اس کا ذکر‬
  • 4. ‫بھی کتاب “التوسل بالنبی وبالصالحین ،،صفحھ ۰۵۲پر ھے ۔‬ ‫محمد ابن عبد الوھاب کی رد میں لکھنے والوں مینسے ایک احمد ابن علی البصری ھیں جو قبائی‬ ‫کے نام سے مشھورتھے۔ انھوں نے اس کے ایک رسالہ کی رد میں “فصل الخطاب فی رد ضل لت‬ ‫ابن عبد الوھاب ،،کے نام سے ایک کتاب لکھی ھے۔ اس کا تذکرہ بھی ابو حامد مرزوق نے“ التوسل‬ ‫بالنبی وبالصالحین،،میں صفحھ ۰۵۲پرکیا ھے اور اسماعیل پاشا بغدادی نے “ایضاح المکنون،،میں ج‬ ‫۲صفحھ ۰۹۱پراس کتاب کا نام “فصل الخطاب،، ذکر کیا ھے۔‬ ‫محمد ابن عبد الوھاب کی رد میں لکھنے والوں میں سے ایک بزر گوار سید احمد ابن زینی دحلن ،‬‫مفتی مکہ مکرّمہ بھی ھیں۔ انھوں نے “فتوحات اسلمیھ،،کی ج ۲طبع مصر ۴۵۳۱ھئمطبع مصطفی‬ ‫محمد میں اس کی رد کی ھے اوراس پر طعن کیا ھے )صفحھ ۱۵۲سے ۹۶۲تک دیکھئے (‬ ‫مر حوم زینی دحلن نے لکھا ھے کہ محمد ابن عبد الوھاب کی رد میں بھت سی کتابیں اوررسالے‬ ‫لکھے گئے ھیں لیکن موصوف نے ان کتابوں کے نام نھیں ذکر کئے ۔‬‫شیخ یوسف نبھانی نے بھی اس کی رد میں “شواھدالحق فی التوسل بسید الخلق،،کے نام سے ایک‬ ‫کتاب لکھی ھے جوایک جلد میں طبع ھوئی ھے ۔اس کا ذکر بھی “التوسل بالنبی وبالصالحین،،‬ ‫صفحھ ۲۵۲پر ھے۔ اس کتاب کے ص ۱۵۱پر سید احمد ابن دحلن کی کتاب “خلصةالکلم فی امراء‬ ‫البلد الحرام ،،سے نقل ھے۔‬ ‫ان شبھات کا ذکر جن سے وھابیت نے تمسک کیا‬ ‫مناسب یہ ھے کہ پھلے ان شبھات کا ذکر کرینجن سے محمد ابن عبد الوھاب نے لوگوں کو گمراہ‬ ‫کرنے کی خاطر تمسک کیا۔‬ ‫پھر ان کی رد پیش کریں گے اور یہ بیان کریں گے کہ جن باتوں کو اس نے دلیل بنایا ھے وہ سب‬ ‫جھوٹ ،افتراء اور عوام فریبی ھے ۔‬ ‫پھر “شواھد الحق،،کے ص ۶۷۱میں لکھاھے۔‬ ‫محمد ابن عبدالوھاب کے پاس اس کے استاد کردی کا خط‬‫محمد ابن عبدالوھاب کی رد کر نے والوں میں سے ایک اس کے استاد شیخ محمد ابن سلیمان کردی‬ ‫شافعی ھیں انھوں نے منجملہ ان باتوں کے جو خط میں اس کی رد کرتے ھوئے لکھا تھا یہ باتیں‬ ‫بھی لکھی تھیں :‬ ‫عبدالوھاب کے بیٹے !سلم ھو اس پر جس نے راہ راست کی پیروی کی، میں تمھیں ا کے لئے‬ ‫نصیحت کرتا ھوں کہ اپنی زبان کو مسلمانوں کی ایذا رسانی سے باز رکھو !‬ ‫چنانچہ اگر کسی شخص کے بارے میں سنو کہ وہ غیر خدا جس سے مدد مانگی جائے اس کے موثر‬ ‫ھونے کا عقیدہ رکھتا ھے تو اسے حق پھچنواو اور دلیل پیش کرو کہ غیر خدا میں تاثیر نھیں ھے ۔‬
  • 5. ‫اب اگر وہ انکار کرے تو صرف اسے کافر قرار دو ۔ تمھیں مسلمانوں کے سواد اعظم کو کافر قرار‬ ‫دینے کا کوئی حق نھیں ھے جبکہ تم خود سواد اعظم سے منحرف ھو اور جو شخص سواد اعظم‬ ‫سے منحرف ھو اس طرف کفر کی نسبت دینا زیادہ مناسب ھے ،کیوں کہ اس نے اھل ایمان کے‬ ‫راستہ کو چھوڑ کر دوسرے راستہ کی پیروی کی ھے خدا وند عالم نے فرمایا ھے :‬ ‫“ ومن یشاقق الرّسول من بعد ما تبیّن لہ الھدی ویتّبع غیر سبیل المو منین نولّہ ما تولّیٰ و نصلّہ‬ ‫ّ‬ ‫جھنّم و سائت مصیرا ،،‬ ‫“ کہ جو شخص راہ ھدایت روشن ھو جانے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور اھل ایمان کے‬ ‫راستہ کو چھوڑ کر دوسرے راستہ کی پیروی کرے تو ھم اسے اس کے باطل راستہ پر چھوڑ دیں گے‬‫اور اسے جھنم میں جلئیں گے اور یہ برا ٹھکانا ھوگا ،، اور بھیڑ یا گلہ سے الگ ھو جانے والی بکری‬ ‫کو ھی کھاتا ھے ۔ انتھیٰ۔‬ ‫اس کے بعد لکھتے ھیں کہ : مذا ھب اربعہ میں سے جن لوگوں نے اس کی رد کی ھے ۔ خواہ‬ ‫مشرق کے رھنے والے ھوں یا مغرب کے ، بے شمار ھیں ۔ کسی نے مبسوط کتاب کی صورت میں رد‬‫لکھی اور کسی نے مختصر اور بعض نے صرف امام احمد ابن جنبل کے نصوص سے اس کی رد کی‬ ‫ھے تاکہ یہ واضح ھو جائے کہ وہ جھوٹا ھے ، اپنے کو امام احمد بن جنبل کے مذ ھب کی طرف‬‫نسبت دینے میں فریب دھی سے کام لے رھا ھے اور اپنے کلم کو اس طرح تمام کیا ھے کھ“ھم نے جو‬ ‫کچہ ذکر کیا اس سے وہ تمام باتیں باطل ھو جاتی ھیں جو محمد ابن عبدالوھاب نے گڑھی ھیں‬ ‫اور جن کے ذریعہ مومنین کو دھوکہ دے رھا ھے اور خود اس نے اور اس کے پیرووننے ان کی جان‬ ‫ومال کو مباح قرار دے رکھا ھے ،،۔ )خلصہ کلم سید احمد دحلن (‬ ‫کچہ اور افراد جنھوں نے اس کی رد میں کتابیں لکھیں‬ ‫محمد ابن عبدالوھاب کی رد میں لکھنے والوں میں شیخ عطاء مکی بھی ھیں ، انھوں نے “ انصار‬ ‫الھند ی فی عنق النجدی ،، نام کی کتاب لکھی ۔ اس کا تذ کرہ “ التوصل بالنبی و بالصا لحین ،،‬ ‫مینص ۰۵۲ پر ھے ۔‬ ‫اسی طرح اس کی رد میں لکھنے والوں میں بیت المقدس کے ایک عالم ھیں جنھوں نے “ السیوف‬ ‫الصقال فی اعناق من انکر علی الو لیا ، بعد ال نتقال ،، لکھی اس کا تذ کرہ بھی “التوسل بالنّبی‬ ‫و با لصالحین ،،میں ص ۰۵۲ پر ھے ۔ ایک اور بزرگ شیخ ابراھیم حلمی قادری اسکندری نے بھی‬‫اس کی رد کی ھے ، انھوں نے جو کتاب لکھی ھے اس کا نام “ جلل الحق فی کشف احوال اشرار‬ ‫لخلق ،، ھے۔ یہ کتاب اسکندریہ میں ۵۵ ۳۱ء ہ میں طبع ھوئی ھے اس کا تذ کرہ “ التوسل بالنبی‬ ‫وبالصالحین ،،میں ص ۳۵۲ پر ھے ۔‬ ‫شیخ مالکی جزائری نے بھی اس کی رد کی ھے۔ انھوں نے “ اظھار العقوب ممن منع التو سلّ با‬‫لنّبی والو لی الصدوق ،، نام کی کتاب لکھی ھے۔ اسے صاحب کتاب “ التوسلّ با لنّبی و با لصالحین ،،‬
  • 6. ‫نے ص ۲۵۲ پر ذکر کیا ھے ۔شیخ عفیف الدین عبدا ابن داود جنبلی نے بھی اس کی رد میں “‬‫الصّواعق والر عود ،، نام کی کتاب لکھی۔ اس کا ذکر “ التوسلّ با لنّبی و با لصالحین ،، کے ص ۹۴۲‬ ‫پر ھے اور سید علوی ابن احمد حداد کا قول نقل کیا ھے کہ ‘ بصرہ ، بغداد ، حلب ، اور احساء کے‬ ‫بزرگ علماء نے بھی اس کتاب کی تائید کی ھے اور اپنی تفریظوں میں بھی اس کی تعریف کی‬ ‫ھے ۔اور اس کی رد لکھنے والوں میں ایک شیخ عبدا ابن عبد اللطیف شافعی ھیں ۔ انھوں نے “‬ ‫تجرید الجھاد لمدی ال جتھاد ،، ص ۹۴۲ پر ھے ۔‬ ‫اس کی رد کرنے والوں میں شیخ محقق محمد ابن الرحمن بن عفالق الحنبلی ھیں انھوں نے کتاب‬‫تحکم المقلدین بمن ادّعی تجدید الدین ،،لکھی ۔اس کا ذکر“ التوسلّ با لنّبی و با لصالحین،،می نص‬‫۹۴۲پرھے اور یہ بھی ذکر ھے کہ انھوں نے ھر اس مسئلہ کی جسے محمد ابن عبد الوھاب نے گڑھا‬ ‫ھے خوب رد کی ھے۔‬‫اسی طرح طائف کے ایک عالم شیخ عبد ا ابن ابراھیم میر غینی ھیں انھوں نے “تحریض الغبیاء‬ ‫علی الستغاثہ بالنبیاء والولیاء ،،نامی کتاب لکھی ھے اس کا ذکر“ التوسلّ با لنّبی و با لصالحین،،‬ ‫مینصفحھ ۰۵۲ پرھے ۔‬‫شیخ طاھر سنبل حنفی انھوننے “النقصار للولیاء البرار ،،نام کی کتاب لکھی اس کا ذکر “ التوسلّ‬ ‫با لنّبی و با لصالحین،،مینصفحھ ۰۵۲ پرھے ۔‬ ‫شیخ مصطفی حمامی مصری نے بھی اس کی رد میں “غوث العباد ببیان الرشاد ،،نام کی کتاب‬ ‫لکھی جو طبع ھو چکی ھے اس کا ذکر“ التوسلّ با لنّبی و با لصالحین،،مینصفحھ ۳۵۲ پرھے ۔‬ ‫اس کی رد لکھنے والوں میں علمہ محقق شیخ صالح کواشی تونسی بھی ھینانھوں نے اس کی‬ ‫ردمیں “رسالہ مسجعہ محکمة،،لکھا اس کا ذکر “ التوسلّ با لنّبی و با لصالحین،،مینصفحھ ۱۵۲‬‫پرھے اور لکھا ھے کہ علمہ موصوف نے اس رسالہ کے ذریعہ ابن عبدالوھاب کے ایک رسالہ کی رد‬ ‫کی ھے ۔علمہ مذکور کا یہ رسالہ “سعادة الدار ین فی الرد علی الفریقین ،،کے ضمن میں طبع‬‫ھواھے نیز اس کی رد تونس کے شیخ السلم اسماعیل تمیمی مالکی نے بھی لکھی ھے ۔انھوں نے‬ ‫رد علی محمد ابن عبدالوھاب کے نام سے ایک کتاب لکھی جس کا ذکر “ التوسلّ با لنّبی و با‬ ‫لصالحین،،صفحھ ۱۵۲ پرھے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ذکر کیا ھے کہ مذکورہ کتاب کافی‬ ‫محققانہ اور ٹھوس ھے اس کے ذریعہ ابن عبدالوھاب کے ایک رسالہ کی ردکی گئی ھے یہ کتاب‬ ‫تونس میں شائع ھوئی ھے ۔‬ ‫علمہ مفتی فاس الشیخ مھدی وزّانی نے بھی اس کی رد کی ھے انھوں نے جواز توسل کے بارے‬ ‫میں ایک رسالہ لکھا ھے،اس کاذکر“ التوسلّ با لنّبی و با لصالحین،،مینصفحھ ۲۵۲ پرھے ۔‬ ‫اور ابو حامد ابن مرزوق نے “ التوسلّ با لنّبی و با لصالحین،،کے صفحھ ۱ پرذکر کیا ھے جس کے‬ ‫الفاظ یہ ھیں:ائمہ اربعہ کے بعض پیرووں نے اس کی اور اس کے مقلدین کی بھت سی عمدہ‬
  • 7. ‫تالیفات کے ذریعہ ردکی ھے۔‬ ‫اور حنبلوں میں اس کی رد کرنے والوں مینسے اس کے بھائی سلیمان ابن عبدالوھاب ھیں اور شام‬ ‫کے حنبلیوں میں سے آل شطیٰ اور شیخ عبداللهقدومی نابلسی ھیں جنھوں نے اپنے سفرنامہ میں‬‫اس کی رد لکھی اوریہ سب کتابیں“زیارةالنبّی صلی ا تعالی علیہ وسلم والتوسل بہ وبالصا لحین‬ ‫من امتھ،،کے حاشیہ پر شائع ھوئی ھیں اور کھا کہ محمد ابن عبدالوھاب اپنے مقلدین سمیت‬‫خوارج میں سے ھے ۔ جن لوگوں نے اس مطلب پہ نص کی ھے ان میں سے علمہ محقق سیّد محمد‬ ‫امین بن عابدین بھی ھیں جنھوں نے اپنے حاشیہ “ ردالمختار علیٰ الدر المختار ،، میں باغیوں کے‬‫باب میں اور شیخ صاوی مصری نے جللین کے حاشیہ میں صریحا لکھا ھے کہ یہ اور اس کے مقلدین‬ ‫خوارج میں سے ھیں کیوں کہ یہ “ لالہ ال اللہ محمدرسول اللہ ،،کھنے والوں کو اپنی رائے سے کافر‬ ‫ّ‬ ‫کھتے ھیں اور اس میں کوئی شک نھیں ھے کہ مسلمانوں کو کافر کھنا خوارج اور دوسرے بدعت‬ ‫کاروں کی علمت ھے جو اھل قبلہ میں سے اپنے مخالفین کو کافر قرار دیتے ھیں ۔‬ ‫محمد ابن عبدالوھاب اور اس کے ماننے والوں کی بنیادی عقائد فقط چار ھیں ۔ خدا وند عالم کو‬‫اس کی مخلوق کے مشابہ قرار دینا ، الوھابیت اور ربوبیت دونوں کی توحید کو ایک ماننا ، نبی صلیٰ‬ ‫ا علیہ وآلہ وسلّم ،کی عزت نہ کرنا ، اور مسلمانوں کو کافر قرار دینا ، اور یہ ان تمام عقائد میں‬‫احمد ابن تیمیہ کا مقلد ھے اور احمد ابن تیمیہ پھلے عقیدہ میں کرامیہ اور مجسمیہ جنبلیہ ) جو خدا‬ ‫کے لئے ھاتہ پاوں وغیرہ اعضائے جسم کے قائل ھیں ( کا مقلّد ھے اور چوتھے عقیدہ میں ان دونوں‬ ‫فرقوں اور فرقئہ خوارج کا پیرو ھے ۔‬ ‫اور وھابیوں کے نزدیک نقل دین کے سلسلہ میں بھی ثقہ اور قابل اعتماد افراد ابن تیمیھ، اس کے‬ ‫شاگرد ابن قیم اور محمد ابن عبدالوھاب ھی ھیں ۔ چنانچہ علماء مسلمین میں سے کسی عالم پر‬ ‫وہ اعتماد نھیں کرتے اور اس کی کوئی قدر نھیں جانتے جب تک کہ اس کے کلم میں کوئی ایسا‬ ‫شبہ نہ پایا جاتا ھو جو ان کی رائے اور خواھش کی تائید کرے چنانچہ یہ وسیع دین اسلم ان کے‬‫نزدیک تین مذکورہ بال افراد میں محصور ھے ۔نیز کتاب التوسل النبّی ص ۹۴۲ پراس عنوان کے تحت‬ ‫“محمد ابن عبدالوھاب کی رد کر نے والے علماء خواہ اس کے ھم عصر ھوں یا اس کے بعد میں آنے‬ ‫والے ان کی ایک جماعت کا تذکرہ کیا ھے جن مینمندرجہ ذیل نام گنائے ھیں :علمہ عبدالوھاب ابن‬ ‫احمد برکات شافعی احمدی مکّی ،علمہ سید منعمی ،جب محمد ابن عبدالوھاب نے ایک ایسی‬‫جماعت کو جنھوں نے اپنے سر نھیں منڈائے تھے قتل کردیا تو موصوف نے ایک قصیدہ کے ذریعہ اس‬ ‫کی رد کی تھی ۔‬‫علمہ سید عبدالرحمن جو احساء کے بزرگ ترین علماء میں سے ھیں ،انھوں نے ایک زور دار قصیدہ‬ ‫کے ذریعہ اس کی رد کی اس قصیدہ میں سرسٹہ )۷۶(اشعار ھینجس کا مطلع یہ ھے :‬ ‫بدت فتنة اللیل قدغطّت الفق وشاعت فکادت تبلغ الغرب والشرقا‬
  • 8. ‫)فتنہ شب ظاھر ھوا جس نے افق کو اپنی لپیٹ میں لے لیااور پھیلتو مغرب اور مشرق تک پھونچ‬ ‫گیا۔(‬ ‫شیخ عبد ا ابن عیسیٰ مویسی ،شیخ احمد مصری احسائی ،شیخ محمد ابن شیخ احمد ابن عبد‬‫الطیف احسائی اور ص ۵۰۱پر اس عنوان کے تحت کھ“ محمد ابن عبدالوھاب پیغمبر پر درود بھیجنے‬ ‫سے منع کرتا تھا ،،لکھا ھے جس کے الفاظ یہ ھیں اور “صاحب کتاب “مصباح النام وجلء الظلم‬ ‫فی رد شبہ البدعی النجدی التی اضلّ بِھَا الْعَوام ،،سید علوی ابن احمد ابن حسین ابن سید عارف‬ ‫بالله عبد ا ابن علوی حداد نے اپنی کتاب میں اس کا ذکرکیا ھے ،پھرسید احمد بن زینی دحلن نے‬ ‫اپنے رسالہ “الدررالسنیةفی الرد علی الوھابیة،،میں لکھا ھے کہ محمد ابن عبدالوھاب پیغمبراسلم‬‫صلی ا علیہ وآلہ وسلم پرصلوات پڑھنے سے روکتا تھا اور منبروں پر بلند آواز سے صلوات پڑھنے کو‬ ‫روکتا تھا اور ایسا کرنے والے کو اذیّت اور سخت سزا دیتا تھا حتی کہ اس نے ایک نابینا کو جو ایک‬ ‫صالح اور خوش آوازموذن تھا قتل کردیا ۔اسے اذان کے بعد منارہ پر صلوات پڑھنے سے روکا تھا‬ ‫لیکن وہ باز نھیں آیا نتیجہ میناسے جان سے مار ڈال اور کھا کہ طوائف کے گھر باجہ بجانے والے کا‬ ‫گناہ اس شخص کی بہ نسبت کم ھے جو منارہ پر پیغمبر اسلم پر درود پڑھے۔‬‫اورصفحھ ۰۵۲پر لکھا ھے کہ سید علوی ابن احمد حداد نے فرمایا میں نے مذاھب اربعہ کے بے شمار‬ ‫بڑے بڑے علماء کے جوابات دیکھے ھیں یہ علماء حرمین شریفین ،احساء ،بصرہ بغداد ،حلب ،یمن‬‫اور دوسرے اسلمی شھروں کے رھنے والے تھے جنھوں نے نثر ونظم دونوں میں جوابات لکھے ۔میرے‬ ‫پاس ابن عبدالرّزاق حنبلی کی اولد میں سے ایک شخص کا مجموعہ لیا گیا اس میں بھت سے‬ ‫علماء کی جانب سے لکھی گئی رد موجود تھیں ۔‬ ‫اس کے بعد لکھا ھے :اور میرے پاس شیخ محدث صالح فلنی مغربی ضخیم کتاب لئے جس میں‬ ‫علماء مذاھب اربعہ حنفیہ ،مالکیہ ،شافعیہ ،اور حنبلیہ کے خطوط اور جوابات تھے جو محمد ابن‬ ‫عبدالوھاب کے جواب میں لکھے گئے تھے ۔اورص ۸۴۲پر ھے۔ محمد ابن عبدالوھاب کی رد بھت سے‬ ‫علماء نے کی ھے ۔اس کے ھم عصر علماء نے بھی اور بعد میں آنے والے علماء نے بھی اور اب تک‬ ‫علماء اسلم کے اعتراضوں کے تیر اس کو نشانہ بناتے رھتے ھیں ۔‬‫اس کے ھم عصر رد کر نے والوں میں پیش پیش احساء کے حنبلی تھے اور درحقیقت تمام اعتراضات‬ ‫ابن تیمیہ کو نشانہ بنارھے تھے ۔‬‫مولف کھتا ھے :ابوالفضل قاسم محجوب مالکی نے بھی ایک رسالہ کے ذریعہ جس کا تذکرہ احمد‬‫ابن ضیاف کی کتاب “اتحاف اھل الزمان باخبار ملوک تونس وعھد المان ،،میں ملتا ھے ،محمد ابن‬ ‫عبدالوھاب کی رد کی ھے اور اس کے آراء اور فتاوی کو باطل قرار دیا ھے ۔‬ ‫اس رسالہ کا ایک حصّہ حاج مالک داود کی کتاب “الحقائق السلمیةفی الرد علی المز اعم‬ ‫الوھابیةبادلّةالکتاب والسنة النبویة ،،سے ملحق کرکے ۳۰۴۱ ئمیں طبع ھوا تھا اور دوبارہ آفسٹ سے‬
  • 9. ‫ترکیہ میں ۵۰۴۱ ئمیں طبع ھوا ۔‬‫جھانمیری واقفیت میں علماء مذاھب اربعہ کی جانب سے رد اور طعن محمد ابن عبدالوھاب پرکی‬ ‫گئیں وہ میں نے درج کردیں ۔‬ ‫احمد ابن تیمیہ حرانی اور اس پر کئے گئے اعتراضات‬ ‫محمد ابن عبد الوھاب کے امام ، احمد ابن تیمیہ جس کے آراء و افکار کی اس نے تقلید کی ھے اور‬‫جس کے عقائد کو اس نے اخذ کیا اور جس پر اپنے دین کی بنیاد رکھی اور نتیجہ میں صراط مستقیم‬‫سے نہ صرف خود بھٹکا بلکہ اور بھت سے مسلمانوں کو بھی گمراہ کیا ھے اس کے بارے میں علماء‬ ‫کے اقوال نقل کئے جاتے ھیں ۔‬ ‫چنانچہ علماء مکہ کے بقول جیسا کہ کتاب “ سیف الجبار المسلول علی اعداء ال برار،، طبع ترکیہ‬‫۹۷۹۱ءء کے ص ۴۲ پر ھے کہ : بدبخت ابن تیمیہ کے دور کے علما نے اس کی گمراھی اور اس کے قید‬ ‫کر نے پر اجماع کیا ھے اور اعلن کیا گیا ھے کہ جو شخص ابن تیمیہ کے عقیدوں پر ھو گا اس کا‬ ‫مال اور خون مباح ھے ۔“کشف الظنون ،،ج ۱ ص ۰۲۲ پر ھے کہ علماء نے اس کی رد میں بھت‬‫مبالغہ کیا ھے یھاں تک کہ تصریح کی ھے کہ یہ شخص )ابن تیمیہ ( جسے شیخ السلم کھا گیا ھے‬ ‫، کافر ھے ، اس کی کتاب کی جلد ۲ ص ۸۳۴۱ پر ھے :ابن تیمیہ نے اپنی کتاب “ العرش وصفتہ ،،‬‫میں ذکر کیا ھے کہ خداوند عالم کرسی پر بیٹھتا ھے اور ایک جگہ خالی چھوڑ کر رکھی ھے جھاں‬‫رسول صلی ا علیہ و آلہ وسلم بیٹھیں گے۔ اس کو ابو حیان نے کتاب “ النھر،، میں قول خدا “وسع‬‫کرسیہ السمٰوات والرض ،،کے ذیل میں لکھا ھے : میں نے احمد ابن تیمیہ کی کتاب “ العرش ،، میں‬ ‫اسی طرح پڑھاھے ۔ انتھی‬ ‫اور اسی کتاب کے ص ۸۷۰۱ پر احمد ابن تیمیہ جنبلی کی ایک کتاب بنام “الصراط المستقیم والرد‬ ‫علی اھل الجحیم ،، کا ذکر کیا ھے اور اسی میں ایسی باتیں لکھی ھیں جن کا تذکرہ کرنا مناسب‬‫نھیں ھے مثل عبد ا ابن عباس کو کافر قرار دینا ۔حصینی نے اپنی کتاب میں اس کی رد لکھی ھے‬‫۔ جامعہ ا زھر کے ایک عالم شیخ محمد نجیت مطیعی حنفی نے اپنی کتاب “ تطھیر الفواد من دنس‬ ‫ال عتقاد ،،مینص ۹ پر ابن تیمیہ کے بارے میں لکھا ھے کہ اس نے اپنی کتاب “الواسطہ ،، وغیرہ کی‬ ‫تالیف کی تو ایسی باتیں گڑھیں جن سے مسلمانوں کے اجماع کو پارہ کر دیا ۔اس نے کتاب خدا ،‬ ‫صریح سنت اور سلف صالح کی مخالفت کی ھے۔ اپنی فاسد عقل کا مطیع ھوا ھے اور جان بوجہ‬ ‫کر گمراہ ھواھے ۔اس کا معبود اس کی ھوائے نفس ھے۔ اسے یہ گمان ھوا ھے کہ جو کچہ اس نے‬‫بیان کیا ھے حق ھے حالنکہ وہ حق نھیں ھے بلکہ یہ جھوٹ اور قول منکر ھے ،اور اسی کتاب کے‬ ‫ص ۳۱پر ھے :یہ کتاب ابن تیمیہ کی بھت سی من گڑھت باتوں پر مشتمل ھے جوکتاب و سنّت اور‬ ‫جماعت مسلمین کے مخالف ھے ۔‬ ‫اور صفحھ ۰۱ /۱۱پر ھے:وہ برابر اکابر کے پیچھے پڑا رھا یھاں تک کہ اس کے زمانے والے اس کے‬
  • 10. ‫خلف مجتمع ھوئے اسے فاسق قرار دیا اور بدعتی ٹھھرایا بلکہ ان میں سے زیا دہ لوگوں نے اسے‬ ‫کافر قرار دیا ۔‬‫اور صفحہ ۷۱پر ھے :اپنے زمانے میں ابن تیمیہ کا وتیرہ ادب اورھر زمانے میں اس کے پیرووں کا یھی‬ ‫طریقہ رھا ھے کھ:‬‫“یقولون آمنّا بالله و بالیوم الخروما ھم بمومنین ،یخادعون اللهوالذین آمنوا وما یخدعون الانفسھم‬ ‫وما یشعرون ،،یہ لوگ کھتے ھیں کہ ھم ا اور روز قیامت پر ایمان لئے ھیں حالنکہ یہ مومن‬ ‫نھیں ھیں ۔یہ ا کو اور ایمان والوں کو دھوکہ دیتے ھیں حالنکہ یہ خود اپنے کو دھوکہ دے رھے‬ ‫ھیں اور انھیں اس کا احساس نھیں ھے ۔،،‬ ‫مولف کھتا ھے :یہ منافقیں کی صفت ھے جسے خدا وند عالم نے اپنی کتاب قرآن کریم میں بیان کیا‬ ‫ھے ۔‬ ‫اور یافعی نے “مرآةالجنان ،،ج ۴/ص ۰۴۲طبع حیدرآباد دکن ۹۳۳۱ھئمطبع دائرةالمعارف النظامیہ‬ ‫میں ابن تیمیہ کے بعض مھمل اقوال کا ذکر کیا ھے مثل ًلکھا ھے:خدا حقیقتاعرش پر بیٹھا ھے اور‬ ‫الفاظ وآواز سے گفتگو کرتا ھے پھرلکھا ھے کہ دمشق مینیہ اعل ن کردیا گیا کہ جو شخص ابن‬ ‫تیمیہ کے عقیدہ پر ھوگا اس کی جان اور اس کا مال مباح ھے ۔‬ ‫اور صفحھ ۸۷۲پر ۸۲۷ ئکے واقعات کے سلسلہ میں ھے :اس )ابن تیمیہ (کے عجیب وغریب مسائل‬‫ھیں جن کے بارے میں اس پر طعن وتشنیع کی گئی ھے اورجن کے سبب مذھب اھل سنّت ترک کرنے‬ ‫کی خاطر اسے قید کیا گیا ۔پھر اس کی بھت سی برائیوں کو شمار کراتے ھوئے لکھا ھے کھ:اس‬‫کی قبیح ترین برائی یہ تھی کہ اس نے پیغبر اسلم صلّی ا علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے منع کر‬‫دیا تھا ۔آپ پر اور دوسرے اولیاء خدا اور اس کے برگزیدہ بندوں پر طعن و تشنیع کی تھی اور اسی‬ ‫طرح مسٴلہ طلق وغیرہ کے سلسلہ میں اس کا مسلک اور جھت کے بارے میں اس کا عقیدہ اور‬‫اس بارے میں جوباطل اقوال اس سے نقل ھوئے ھیں یہ سب اور اس کے علوہ اور بھی بھت سی‬ ‫باتیں اس کے قبائح میں سے ھیں ۔‬ ‫شیخ ابن حجر ھیتمی نے “تحفہ ،،میں لکھا ھے :خدا کی جسمیت یا اس کے جھت میں ھونے کا‬ ‫دعویٰ ایساھے کہ اگر کوئی اس کا عقیدہ رکھے تو کافر ھے ۔سفینةالراغب ص ۴۴ طبع بولق مصر‬ ‫۵۵۲۱ ئ‬ ‫شیخ یوسف نبھانی نے اپنی کتاب “شواھدالحق ،،کے صفحہ ۷۷۱پر لکھا ھے :چوتھا باب ،ابن تیمیہ‬ ‫کے اوپرعلماء مذاھب اربعہ کے اعتراضات کی عبارتیں اور اس کی کتابوں پر کئے گئے ایرادات اور‬ ‫بعض اھم مسائل جیسے خدا وندعالم کا ایک خاص جھت وسمت میں ھونا ،کے بارے میں اھل‬‫سنّت کی مخالفت کے بیان میں ۔پھر ایک جماعت کا ذکر کیا ھے جنھوں نے اس پر طعن کیاھے لکھا‬ ‫ھے :‬
  • 11. ‫“انھیں طعن کرنے والوں میں سے امام ابوحیان ھینجو ابن تیمیہ کے دوست تھے ۔جب اس کی‬‫بدعتوں سے با خبر ھوئے تو اس کو بالکل چھوڑ دیا اور لوگوں کو اس سے دور رھنے کی تاکید کی ۔‬ ‫اور انھیں میں سے امام عزالدین ابن جماعةھیں انھوں نے اس کی رد کی ھے اور اسے برا کھا‬ ‫ھے ۔،،‬‫انھیں میں سے مل علی قاری حنفی ھیں انھوں نے شفاء کی شرح میں لکھا ھے : حنبلیوں میں سے‬ ‫ابن تیمیہ نے افراط سے کام لیا چنانچہ اس نے زیارت نبی کے لئے سفر کرنے کو حرام قرار دیا ھے ۔‬ ‫اسی طرح اس کے مقابل والے نے بھی افراط سے کام لیا ھے چنانچہ کھا ھے :زیارت کا باعث تقرب‬ ‫خدا ھونا ضرویات دین میں سے ھے اور اس کا انکار کرنے وال کافر ھے ۔اور شاید یہ دوسرا قول‬ ‫حق سے قریب ھے کیونکہ جس کے مستحب ھونے پر اجماع ھو اس کا حرام قراردینا کفر‬ ‫ھوگاکیونکہ یہ مباح متفق علیہ کے حرام قرار دینے سے بڑہ کر ھے۔‬‫اور انھیں میں سے شباب الدین خفاجی حنفی ھیں جن کے کلم کو اس طرح ذکر کیا ھے :ابن تیمیہ‬ ‫نے ایسی خرافات باتیں لکھی ھیں جن کا ذکر کرنا مناسب نھیں کیونکہ یہ باتیں کسی عقلمند‬‫انسان کی ھو ھی نھیں سکتینچہ جائیکہ ایک پڑھے لکھے آدمی کی زبان اورقلم سے صادر ھو ں ۔‬ ‫چنانچہ ابن تیمیہ کا یہ کھنا کہ “قبر پیغمبر اسلم کی زیارت حرام کام ھے ،،کذب محض،لغو ھے‬ ‫اوربکواس ھے ۔ اس کا یہ کھنا “اس کے بارے مےں کوئی نقل موجود نھیں ھے ،،باطل ھے کیونکہ‬ ‫امام مالک ،امام احمد ،اور امام شافعی رضی اللهعنھم کا مذھب یہ ھے کہ سلم ودعا مینقبر‬ ‫شریف کی طرف رخ کرنا مستحب ھے اور یہ بات ان بزرگوں کی کتابونمیں درج ھے۔‬ ‫اور انھینمیں سے امام محمدزرقانی مالکی ھیں ۔)بنھانی نے ان کے کچہ کلم کو مواھب لدنیہ کی‬ ‫شرح میں نقل کیا ھے جسے ھم یھانپیش کررھے ھیں:‬ ‫“لیکن ابن تیمیہ نے اپنے لئے ایک جدید مذھب ایجاد کیا ھے اور وہ ھے قبروں کی تعظیم نہ کرنا ۰۰۰‬‫کیا یہ شخص جس بات کا علم نھیں رکھتا اس کے جھٹلنے سے شرماتاھے ؟اور ابن تیمیہ کی طعن‬ ‫وتشنیع کے سلسلے میں اپنی پھلی والی بات دھرائی ھے ۔‬ ‫اور انھیں میں سے امام کمال الدین ز ملکانی شافعی متوفی ۷۲۷ھئنے کشف الظنون میں ان کی‬ ‫ایک کتاب“الذرةالمضیہ فی الرد علی ابن تیمیہ ،،کا ذکر کیا ھے انھوں نے ان مسائل میں اس سے‬ ‫مناظرہ کیا ھے جن میں وہ مذاھب اربعہ سے منحرف ھوگیا ھے اور ان میں قبیح ترین مسئلہ اس‬ ‫کا انبیاء وصالحین خصوصاسیدالمرسلین کی قبروں کی زیارت اور آپ کے وسیلہ سے خدا سے مانگنے‬ ‫کو منع کرنا ھے ۔‬‫اور انھیں میں سے امام کبیرشھیر تقی الدین سبکی شافعی ھیں)ابن تیمیہ پر اعتراضات کو ان کی‬‫کتاب شفاء السقام فی زیارت خیر النام علیہ السل م سے نقل کیا ھے( اس کتاب میں انھوں نے اسے‬ ‫بدعتی کھا ھے ۔ اور انھیں میں سے حافظ ابن حجر عسقلنی شافعی ھیں)انھوں نے اپنی کتاب‬
  • 12. ‫فتح الباری فی شرح البخاری میں اس پر رد کی ھے (اور انھیں میں سے امام عبد الرووف منادی‬ ‫شافعی ھیں انھوں نے شرح شمائل میں کھا ھے :اور ابن قیّم کا اپنے شیخ ابن تیمیہ کے حوالے سے‬‫یہ کھناکہ “مصطفی صلّی ا علیہ وآلہ وسلم نے جب اپنے پرور دگارکو اپنے دونوں شانوں کے درمیان‬‫اپنے ھاتہ رکہ کر دکھائے تو خدااس جگہ کو بالوں کو نوازا ۔اس کی ردشارح یعنی ابن حجرمکّی نے‬‫اس طرح کی بات ان دو نوں )ابن تیمیہ وابن قیم(کی بد ترین گمراھی ھے اور یہ ان دونوں کے اس‬‫عقیدہ پر مبنی ھے کہ خدا جھت اور جسم رکھتا ھے۔خدا وند عالم ظالموں کے اس قول سے کھیں‬ ‫بزرگ وبرتر ھے اس کے بعد منادی نے لکھا ھے :اب میں کھتا ھوں ان دونونکا بدعتیوں میں سے‬ ‫ھونا مسلّم ھے۔‬ ‫اور انھیں میں سے ھمارے دوست عالم با عمل ،فاضل کامل ، شیخ مصطفی ابن احمد سطی‬‫جنبلی دمشقی حفظ ا وجزا ہ ا احسن الجزا ء ھیں ۔ مو صوف نے ایک مخصوص رسالہ تالیف‬‫کیا ھے جس کا نام ) النقول الشرعیہ فی الرد علی الو ھابیة ( ھے۔انھیں میں سے امام شھاب الدین‬ ‫احمد بن حجر ھیثمی مکی شافعی ھیں انھوں نے ابن تیمیہ پر بھت سخت ردو تنقید کی ھے ۔‬ ‫اور نبھانی نے شواھدالحق کے ص ۱۹۱ پر پھلے تو ان لوگوں کے نام نقل کئے ھیں جنھوں نے ابن‬ ‫تیمہ کو طعن و تشنیع کی اور جن کا ذکر ابھی گزرا ھے ۔ اس کے بعد کھتے ھیں : لھذا ثابت ھوا‬‫اور آفتاب نصف النھار کی طرح روشن ھوا کہ علماء مذ ھب اربعہ نے ابن تیمیہ کی بد عتوں کے رد‬‫کرنے پر اتفاق کیا ھے اور کچہ علماء نے اس کی نقل کی صحت پر طعن کیا ھے تو بھل جن مسائل‬ ‫میں دین سے انحراف کیا ھے اور اجماع مسلمین کی مخالفت کی ھے خاص کر ان مسائل میں جو‬‫سید المر سلین سے متعلق ھیں اس کی کھلی ھوئی غلطی پر سخت طعن وتشنیع کیوں نہ کرتے ۔‬ ‫حنفیوں میں سے جنھوں نے اس کی نقل کے صحیح ھونے پر طعن کیا ھے شھاب الدین خفاجی‬ ‫شارح الشفا ء ھیں جن کا ذکر گزر چکا ھے ۔ اور مالکیوں میں سے امام زرقانی ھیں شرح مواھب‬ ‫میں ، یہ تذ کرہ بھی گزر چکا ھے ۔ اور شافیوں میں سے امام سبکی ھیں جیسا کہ ان کی کتاب‬ ‫شفاء السقام میں مذ کور ھے اس میں انھوں نے یہ واضح کیا ھے کہ نہ صرف یہ کہ ابن تیمیہ کی‬ ‫رائے غلط ھے بلکہ اس کے نقل کئے ھوئے وہ احکام شرعیہ بھی صحیح نھیں ھیں جس کے ذریعہ‬ ‫اس نے اپنی بدعت کی تقویت پر استدلل کیا ھے اور انھیں مذاھب اربعہ کی طرف منسوب کیا ھے‬ ‫حالنکہ ائمہ مذا ھب اربعہ نے وہ احکام نھیں بیان کئے ھیں ۔اسی طرح اس کے نقل کی عدم‬ ‫صحت کا ذکر امام ابن حجر ھیثمی نے بھی اس کے اوپر اپنے اعترا ضات میں کیا ھے اور یہ بات پو‬ ‫شیدہ نھیں ھے کہ یہ چیز ایک عالم کے اندر بھت بڑاعیب اور بھت بڑا اخلقی جرم ھے جو اس پر‬ ‫اعتماد کو ضعیف کر دیتا ھے اور اس کے منقولت کے اعتبار کو ساقط کر دیتا ھے چاھے وہ احفظ‬‫حفاظ اورا علم علماء میں سے ھو اور ابن تیمیہ کے منقو لت کے معتبر نہ ھونے کی تقویت اس قول‬ ‫سے بھی ھوتی ھے جو اس کے بارے میں حافظ عراقی نے کھا ھے۔ کلم نھبانی تمام ھوا ۔شواھد‬
  • 13. ‫الحق ص ۷۷۱تا ۱۹۱‬ ‫ابن تیمیہ کا ذکر ڈاکٹر حامد حفنی داوود حنفی نے بھی اپنی کتاب ) نظرات فی الکتب الخالدة( ص‬‫۱۳ مطبوعہ مصر ۹۹۳۱ء دارالمعلم للطباعة میں کیا ھے اور اسے بدعتی قرار دیا ھے اور حاشیہ میں‬ ‫اس کلمہ پر نوٹ لگایا ھے کہ : اکثر علماء اھل سنّت نے اس کے بد عتی ھونے کا قول اختیار کیا ھے‬ ‫رہ گئے صوفیہ تو انھوں نے اس پر اجماع کیا ھے ، امام تقی الدین سبکی اور ابن تیمیہ کے درمیان‬ ‫فقہ وعقیدہ کے اکثر گوشوں کے بارے میں خط وکتابت ھوتی ھے ۔دیکھئے ھماری کتاب )التشریع ال‬ ‫سلمی فی مصر ( انتھی ۔‬ ‫عبدالغنی حمادہ اپنی کتاب ) فضل الذاکرین والرد علی المنکر ین ( طبع سوریہ اَدْلبْ ۱۹ ۳۱ء ص‬ ‫َ‬ ‫۳۲ پر اس طرح وھابیت پر طعن کر تے ھیں :‬ ‫شیخ وھابیت ابن تیمیہ کے بارے میں علمہ مصر علء الدین بخاری نے لکھاھے کہ : ابن تیمیہ کافر‬‫ھے جیسا کہ اس کے زمانے کے بزر گ عالم زین الدین حنبلی نے کھا ھے کہ میرا اعتقاد یہ ھے کہ ابن‬ ‫تیمیہ کافر ھے اور کھتے تھے کہ امام سبکی رضی ا عنہ ابن تیمیہ کی تکفیر سے معذور ھیں‬ ‫کیونکہ اس نے امت اسلمیہ کو کافرقرار دیا ھے اور اسے قول خدا :“اتخذ وااحبار ھم ورھبانھم ار‬ ‫بابا من دون ا ،،کی تفسیر کر تے ھوئے یھودو نصاریٰ سے تشبیہ دی ھے۔ علماء مذاھب نے لکھا‬ ‫ھے کہ : ابن تیمیہ زندیق ھے کیونکہ وہ پیغمبر اسلم اور آپ کے دونوں ساتھیوں کی توھین کرتا‬ ‫تھا اور اس کی کتابیں خدا وند عالم کی تشبیہ اور اسے صاحب جسم قرار دینے سے بھری ھوئی‬ ‫ھیں ۔‬ ‫اور اس کے زمانے کے علمہ ابن حجر رضی ا عنہ نے کھا ھے ۔ ابن تیمیہ ایک ایسا بندہ ھے جسے‬ ‫خدا نے رسوا ، گمراھ، اندھا ، بھرا اور ذلیل کیا ھے ۔اس کے خلف مذاھب اربعہ میں سے اس کے‬ ‫دور کے علماء اٹہ کھڑے ھوئے اور اکثر نے اس کو فاسق اور کافر قرار دیا ھے ۔علماء نے کھا ھے کہ‬‫ابن تیمیہ نے صحابہ کرام رضی ا عنھم کو کافر قرار دینے میں خوارج کے مذ ھب کا اتباع کیا ھے ۔‬ ‫اور ائمہ حفاظ نے کھا ھے کہ ابن تیمیہ خوارج میں سے ھے ،جھوٹا ھے ، شریر ھے ، افترا پر داز‬ ‫ھے ۔“فضل الذا کرین ،،میں لفظ بہ لفظ مو جود ھے ۔‬‫اور ابو حامد مرزوق شامی نے اپنی کتاب ۔“ التوسل بالنّبی وبا لصالحین ،،مطبوعہ تر کیہ طبع آفسٹ‬ ‫۴۸ ۹۱ ءء کے ص ۴ پر لکھا ھے:‬‫“ ایک بار ابن تیمیہ نے دمشق کے ممبر پر جانے کے بعد کھا : “ خدا وند عالم اسی طرح عرش سے اتر‬‫تا ھے جیسے میں ممبر سے اتر رھا ھوں اور ایک زینہ نیچے اتر کر دکھایا ھے ، ، اس کے بعد ابو حامد‬ ‫نے لکھا ھے کہ اس واقعہ کو دیکھنے والوں میں فقیہ سیاح ابن بطوطہ مغری بھی ھیں اور “‬‫التوسل بالنّبی وبالصالحین ،،کے ص ۶ پر ابن تیمیہ سے نقل کیا ھے کہ ابن تیمیہ نے لکھا ھے کھ“ خدا‬‫حق تعالیٰ عرش کے اوپر ھے ،، اور اسی کتاب کے ص ۶۱۲ پر کتاب “ دفع شبہ من شبّہ وتمرّد ،،طبع‬
  • 14. ‫مصر ۰۵ ۳۱ء ہ مطبع عیسیٰ حلبی ، تصنیف ابو بکر حصنی دمشقی متوفی ۹۲۸ ء سے نقل کر تے‬ ‫ھوئے لکھا ھے کہ مصنف مذکور نے ابن تیمیہ کے بارے میں کھا ھے :“ میں نے اس خبیث )ابن تیمیہ (‬ ‫کے کلم کو دیکھا جس کے دل میں انحراف کا مرض ھے جو فتنہ پیدا کر نے کے لئے متشابہ آیات و‬ ‫احادیث کا اتباع کر تا ھے اور عوام و غیر عوام میں سے ان لوگوں نے اس کی پیروی کی جس کے‬ ‫ھلک کر نے کا خدا نے ارادہ کیا تھا ، میں نے اس میں ایسی باتیں پائیں جن کو ادا کر نے کی مجھ‬‫میں قدرت نھیں ھے اور نہ میری انگلیوں اورقلم میں انھیں تحریر کر نے کی جرات ھے کیو نکہ اس‬‫نے پر وردگار عالم کی اس بات پر تکذیب کی ھے کہ اس نے کتاب مبین میں اپنے کو منزہ قرار دیا ھے‬ ‫۔اسی طرح اس کے بر گزیدہ اور منتخب افراد خلفاء راشدین اور ان کے صالح پیروکاروں کی توھین‬ ‫اور عیب جوئی کی ھے لھذا میں نے ان کا ذکر کرنا مناسب نہ جانا اور صرف ان باتوں کو ذکر کیا‬ ‫جنھیں ائمہ متقین نے ذکر کیا تھا اور جن پر ان کا اتفاق ھے وہ یہ کی ابن تیمیہ بد عتی اور دین‬ ‫سے خارج ھے ۔‬‫حافظ ابن حجر نے “ الفتاوی الحدیثیہ ،، ص ۶۸ پر لکھا ھے کہ “ ابن تیمیہ ایسا بندہ ھے جسے خدا نے‬ ‫رسوا ، گمراہ ، اندھا ، بھرہ ، اور ذلیل بنا دیا ھے اور اسی بات کی تصریح ان اماموں نے بھی کی‬‫ھے جنھوں نے اس کے فاسد ھونے اور اس کی باتوں کو جھوٹ ھونے کا بیان کیا ھے اور جو شخص‬ ‫اسے جاننا چاھتا ھو وہ امام مجتھد ابوالحسن سبکی جن کی ،امامت ، جللت ، شان اور مرتبہ‬‫اجتھاد تک پھنچنے پر اتفاق ھے ان کے اور ان کے فرزند تاج اور شیخ امام عزّ بن جماعہ اور شافعیہ‬ ‫، مالکیہ ، حنفیہ ، میں سے ان کے ھم عصر علماء کے کلم کو مل حظہ کریں ، ابن تیمیہ نے صرف‬‫متاخرین صوفیہ کے اوپر اعتراض کرنے پر اکتفاء نھیں کی ھے بلکہ عمر ابن خطاب اور علی ابن ابی‬ ‫طالب رضی ا عنھما ،، جیسے حضرات پر بھی اعتراض کیا ھے۔‬‫خلصہ یہ کہ اس کے کلم کی کوئی قدرو قیمت نھیں ھے اور چاھئے کہ اس کے بارے میں یہ عقیدہ‬ ‫رکھا جائے کہ وہ بد عتی گمراہ ،گمراہ کن ، جاھل اور غلو کر نے وال ھے ، خدا اس کے ساتھ اپنے‬ ‫عدل سے معاملہ کرے اور ھمیں اس کے طریقہ ، عقیدہ ، اور عمل سے محفوظ رکھے ۔ آمین ۔‬ ‫کلم ابن حجر تمام ھوا اسے ھم نے تطھیر الفواد من دنس ال عتقاد ص ۹ طبع مصر ۸۱۳۱ ء ہ‬ ‫تصنیف شیخ محمد نجیت مطیعی حنفی سے نقل کیا ھے۔‬ ‫اس کے بعد کھا کہ وہ خدا کے لئے سمت کا قائل ھے جس کا لزمی نتیجہ یہ ھے کہ وہ خدا کے لئے‬ ‫جسمیت ، محاذات ،اور استقرار کا قائل ھے ۔‬ ‫کتاب “التوسل با لنّبی وبا لصالحین ،، میں ابن تیمیہ پر اور بھی بھت سے طعن ھیں جن کو چند‬ ‫عناوین کے تحت ذکر کیا ھے ، جو حسب ذیل ھیں ۔‬ ‫۰ علمہ شھاب الدین احمد بن یحییٰ حلبی کی جھت کے بارے میں ابن تیمیہ پر رد۔‬ ‫ّ‬ ‫۰ ابن تیمیہ کے اس زعم کا ابطال کہ خدا حق تعالیٰ عرش کے اوپر ھے ۔‬
  • 15. ‫۰ عقیدہ ابن تیمیہ جس کے سبب اس نے جماعت مسلمین سے مخالفت کی ھے اور انھیں برا کھا‬ ‫ھے جسے قر آن میں طعن کر نے والے او باش ملحدین سے حاصل کیا ھے ۔‬ ‫۰ ابن تیمیہ کی تمام علماء اسلم سے مخالفت ۔‬ ‫ابن تیمیہ کے فتووں کے نمو نے‬ ‫عالم کبیر شیخ محمد بخیت حنفی عالم جامعہ ا زھرنے اپنی کتاب “تطھر الفواد من دنس ال‬ ‫عتقاد ،،طبع مصر مطبو عہ ۸۱۳۱ئکے ص ۲۱ پر اس شخص کے کچہ فتووں کا ذکر کیا ھے جن میں‬ ‫سے بعض نمو نے ھم یھاں پر پیش کر رھے ھیں تا کہ ایک غیر جانبدارقاری کو اس کے انحراف ،‬‫فاسد عقیدے اور منحرف فتووں میں علماء اسلم سے اس کی مخالفت کا زیا دہ سے زیا دہ علم ھو‬ ‫سکے ۔‬ ‫)۰( “ اگر کو ئی شخص جان بو جہ کر نماز تر ک کر دے تو اس کی قضا وا جب نھیں ھے۔“‬ ‫)۰( “ حیض والی عورت کے لئے خانہ ء کعبہ کا طواف کرنا جائز ھے اور اس پر کوئی کفارہ نھیں‬ ‫ھے۔“‬ ‫)۰(“ تین طلق ایک طلق کی طرف پلٹایا جائے گا“ اور اس بات کا دعویٰ کر نے سے پھلے خود اسی‬ ‫نے نقل کیا ھے کہ اجماع مسلمین اس کے بر خلف ھے ۔‬ ‫)۰( “ جس اونٹ کے پیر کی موٹی والی نسیں کاٹ دی گئی ھوں وہ کاٹنے والے کے لئے حلل ھے اور‬‫وہ جب تاجروں سے لے لیا جائے تو زکوٰة کے عوض کافی ھے اگر چہ زکوٰة کے نام سے نہ لیا گیا ھو ۔،،‬ ‫)۰(“ بھنے والی چیزوں میں اگر جاندار مثل چوھا مر جائے تو یہ چیزیں نجس نھیں ھو تیں“‬‫)۰(“ جنب کو چاھئے کہ حالت جنا بت میں نافلہ شب پڑھے اور تا خیر نہ کرے کہ فجر سے پھلے غسل‬ ‫کر کے پڑھے گا اگر چہ اپنے ھی شھر میں ھو ۔“‬‫)۰( “ وقف کرنے والے کی شرط کا کوئی اعتبار نھیں ھے بلکہ اگر اس نے شا فعیہ پر وقف کیا ھے تو‬ ‫حنفیہ پر صرف کیا جائے گا اور بر عکس ،اور قاضیوں پر وقف کیا ھے تو صو فیہ پر صرف کیا جائے‬ ‫گا ۔،،‬ ‫اسی طرح عقائد اور اصول دین کے مسائل میں بھی انحراف کا مر تکب ھوا ھے۔‬ ‫)۰(“ ْ خدا وند عالم محل حوا دث ھے“تعالیٰ عن ذالک علوا کبیرا‬‫)۰(“خدا مرکب ھے اس کی ذات ویسے ھی محتاج ھے جیسے کل اپنے جزء کا محتاج ھوتا ھے “تَعَا لیٰ‬ ‫عَنْ ذَالِکَ،،‬ ‫)۰(“خدا جسم رکھتا ھے،وہ خاص سمت میں ھے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ھوتا ھے ،وہ‬ ‫ٹھیک عرش کے برابر ھے نہ چھوٹا نہ بڑا“)خدا وندعالم اس قبح وبد ترین افترا ء اور صریحی کفر‬‫سے کھیں بال تر ھے ۔خدا اس کے پیرووں کو رسوا کرے اور اس کے معتقدین کا شیرازہ منتشر کرے (‬
  • 16. ‫)۰(“جھنم فنا ھوجائے گی ،انبیاء معصوم نھیں ھیں۔“‬ ‫)۰(“رسول اللهصلّی ا علیہ وآلہ وسلّم کی کوئی وقعت نھیں ھے ۔ان سے توسل نہ کیا جائے۔“‬ ‫)۰(“پیغمبر اسلم کی زیا رت کے لئے سفر کرنا معصیت ھے اس سفر میں نمازقصر نھیں ھوگی۔“‬ ‫غیر مقلدوں کا اصلی نام وہابی ہے‬ ‫لقب نجدی ،‬‫کیونکہ ان کا مورث اعلٰی محمد ابن عبدالوہاب ہے جو نجد کا رہنے وال تھا، اگر‬‫انہیں مورث اعلٰی کی طرف نسبت کیا جاوے تو وہابی کہا جاتا ہے اور اگر جائے‬‫پیدائش کی طرف نسبت دے جائے تو نجدی جیسے مرزا غلم احمد قادیانی کی‬‫امت کو مرزائی بھی کہتے ہیں اور قادیانی بھی پہلی نسبت مورث کی طرف‬‫ہے، دوسری نسبت جائے پیدائش کی طرف اسی جماعت کی پیشن گوئی خود‬‫حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کی تھی کہ نجد کے متعلق ارشاد فرمایا‬‫تھا۔‬ ‫ھناک الزلزل والفتن ویخرج منھا قرن الشیطان۔‬ ‫نجد میں زلزلے اور فتنے میں ہوں گے، اور وہاں سے ایک شیطانی “‬ ‫“فرقہ نکلے گا۔‬
  • 17. ‫غرض کہ اس جماعت کا بانی محمد ابن عبد الوہاب نجدی ہے اور اس‬ ‫کا ہندوستان میں پرورش کرنے وال اسماعیل دہلوی ہے، اس فرقہ کے‬ ‫حالت ہماری کتاب جاءالحق حصہ اول میں ملحظہ فرماو یہ لوگ‬‫عام مسلمانوں کو مشرک اور صرف اپنی جماعت کو موحد کہتے ہیں،‬‫مقلدوں کے جانی دشمن اور ائمہ اربعہ حضرت امام ابو حنیفہ، امام‬ ‫شافعی، امام مالک، امما احمد بن حنبل رضی اللہ تعالٰی عنہم‬ ‫اجمعین کی شان اقدس میں تبرے کرتے ہیں۔‬‫یہ لوگ اپنے آپ کو اہل حدیث یا عامل بالحدیث کہتے ہیں، پہلے تو اپنے کو‬‫فخریہ طور پر وہابی کہتے تھے، چنانچہ ان کی بہت کتب کے نام تحفہ‬‫وہابیہ وغیرہ ہیں، مگر اب وہابی کے نام سے چڑتے ہیں، ان کے عقائد و‬‫اعمال نہایت ہی گندے اسلم اور مسلمانوں کے دامن پر بدنما داغ ہیں،‬‫ہم یہاں اہل حدیث نام پر مختصر تبصرہ کرتے ہیں، تا کہ معلوم ہو کہ‬ ‫ان کا نام بھی درست نہیں، مسلمانوں سے امید انصاف ہے اور اللہ‬ ‫تعالٰی اور اس کے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے امید قبول‬ ‫ہے۔‬‫خیال رہے کہ دنیا کا کوئی شخص اہل حدیث یا عامل بالحدیث ہو سکتا‬
  • 18. ‫ہی نہیں، کسی کا اہل حدیث یا عامل الحدیث ہونا ایسا ہی ناممکن ہے،‬‫جیسے دو تقیضین یا دو ضدیں کا جمع ہونا غیر ممکن کیونکہ حدیث کے‬ ‫لغوی معنی ہیں بات، گفتگو یا کلم رب فرماتا ہے۔‬ ‫فبای حدیث بعدہ یومنون۔‬ ‫“قرآن کے بعد کونسی بار پر ایمان لئیں گے۔ “‬ ‫اللہ نزل احسن الحدیث ۔‬ ‫“اللہ تعالٰی نے سب سے اچھا کلم نازل فرمایا۔ “‬ ‫ومن الناس من یشتری لھو الحدیث لیضل عن سبیل اللہ‬ ‫بعض لوگ وہ ہیں، جو کھیل کی باتیں و ناول، قصے خریدتے ہیں، “‬ ‫“تاکہ اللہ کی راہ سے بہکا دیں۔‬ ‫اس تیسری آیت میں ناول قصے کہانیوں کو حدیث فرمایا گیا۔‬ ‫اصطلح شریعت میں حدیث اس کلم و عبارت کا نام ہے، جس میں‬‫حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اقوال یا اعمال اسی‬ ‫طرح صحابہ کرام کے اقوال و اعمال بیان کئے جاویں، اس عامل‬‫بالحدیث فرقے سے سوال ہے کہ تم کونسی حدیث پر عامل ہو، لغویپر یا‬‫اصطلحی پر ہو اگر لغوی حدیث ہو تو چاہئے کہ ہر ناول گو قصہ خوان‬
  • 19. ‫اہل حدیث ہو کہ وہ حدیث یعنی باتیں کرتا ہے ہر سچی جھوٹی بات پر‬‫عمل کرتا ہے، اگر اصطلحی حدیث پر عامل ہو تو پھر سوال یہ ہو گا‬‫کہ ہر حدیث پر عامل ہو یا بعض پر دوسری بات غلط ہے کیونکہ حضور‬‫کے کسی نہ کسی فرمان پر ہر شخص ہی عامل ہے۔ حضور صلی اللہ‬ ‫تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ سچ نجات دیتا ہے جھوٹ ہلک کرتا‬‫ہے، ہر مشرک و کافر اس کا قائل ہے، وہ سب ہی اہل حدیث ہو گئے، تم‬ ‫حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی مسلمانوں کو اہل حدیث کیوں نہیں‬ ‫مانتے یہ تو ہزارہا حدیثوں پر عمل کرتے ہیں، اگر حدیث کے معنی ہیں‬‫حضور کی ساری حدیثوں پر عمل کرنے والے تو یہ نہ ممکن ہے کیونکہ‬‫حضور کی بعض حدیثیں منسوخ ہیں، بعض حدیثوں میں حضور کے وہ‬ ‫خصوصی اعمال شریف ہیں جو حضور کے لئے مباح یا فرض تھے،‬ ‫ہمارے لئے حرام ہے جیسے منبر پر نماز پڑھنا اونٹ پر طواف فرمایا،‬‫حضرت حسین سیدالشہداء خاتم آل عبار رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لئے‬‫سجدہ دراز فرمایا، حضرت امامہ بنت ابی العاص کو کندھے پر لے کر‬ ‫نماز پڑھنا، نو بیویاں نکاح میں رکھنا، بغیر مہر نکاح ہونا ازواج میں‬‫عدل و مہر واجب نہ ہونا۔ بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ‬ ‫،تعالٰی علیہ وسلم کلمہ یوں پڑھتے تھے‬
  • 20. ‫لالہ ال اللہ وانی رسول للہ۔ الخ‬ ‫“اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ “‬ ‫یہ حضرات اسی حدیث پر عمل کرکے اس طرح کلمہ کا ورد نہیں کر‬‫سکتے، غرضکہ حدیث میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ایسے‬ ‫اقوال و اعمال بھی ذکر ہیں جو حضور کے لئے کمال ہیں، ہمارے لئے‬ ‫کفر۔‬ ‫اسی طرح حضور علیہ السلم کے وہ افعال کریمہ جو نسیان یا‬ ‫اجتہادی خطاء سے سرزد ہوئے حدیث میں مذکور ہیں، عامل الحدیث‬‫صاحبان کو چاہیئے کہ ان پر بھی عمل کیا کریں۔ ہر حدیث پر جو عامل‬ ‫ہوئے بہرحال کوئی شخص ہر حدیث پر عمل نہیں کر سکتا، جو اس‬‫معنی سے اپنے کو اہل حدیث یا عامل بالحدیث کہے، وہ غلب کہتا ہے جب‬‫ہی نام جھوٹ ہے، تو اللہ کے فضل سے کام بھی سارے کھوٹے ہی ہوں‬ ‫گے، اسی لئے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔‬ ‫علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین‬ ‫“لزم پکڑو میری اور خلفاءراشدین کی سنت کو۔ “‬
  • 21. ‫یہ نہ فرمایا کہ میری حدیث کو لزم پکڑو، کیونکہ ہر حدیث لئق عمل‬‫نہیں ہر سنت لئق عمل ہے، حضور کے وہ اعمال طیبہ جو منسوخ بھی‬ ‫نہ ہوئے ہوں، حضور سے خاص بھی نہ ہوں خطاء انسیانا بھی درزد‬‫نہ ہوں، بلکہ امت کے لئے لئق عمل ہوں، انہیں سنت کہا جاتا ہے، لٰہذا‬‫ہمارا نام اہل سنت بالکل حق و درست ہے، کہ ہم بفضلہ تعالٰی حضور‬‫صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ہر سنت پر عامل ہیں، مگر وہابیوں کا‬ ‫نام اہل حدیث بالکل غلط ہے کہ ہر حدیث پر عمل نا ممکن۔‬ ‫اب حدیثوں کی یہ چھانٹ کہ کون سی حدیث منسوخ ہے کون حکم‬‫کون حدیث حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خصائص میں سے‬ ‫ہے، کون سب کی اتباع کے لئے کون فعل شریف اقتداء کے لئے یے، کون‬ ‫نہیں کس فرمان کا کیا منشاء ہے، کس حدیث سے کہا مسئلہ صراحۃً‬ ‫ثابت ہے اور کون مسئلہ اشارۃً کون دللۃً کون اقتضاء یہ سب کچھ‬ ‫امام مجتہد ہی بتا سکتے ہیں، ہم جیسے عوام وہاں تک نہیں پہنچ‬‫سکتے، جیسے قرآن عمل کرانا حدیث کا کام ہے، ایسے ہی حدیث پر عمل‬‫کرانا امام مجتہد کا کام یوں سمجھو کہ حدیث شریف رب تک پہنچنے‬
  • 22. ‫کا راستہ ہے اور امام مجتہد اس راستہ کا نور جیسے بغیر روشنی راہ‬ ‫طے نہیں ہوتا، بغیر امام و مجتہد حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم‬ ‫کی سنتوں پر عمل کرنا نا ممکن ہے، اسی لئے علماء فرماتے ہیں۔‬ ‫القراٰن والحدیث یضلن ال بالمجتھد۔‬ ‫“بغیر مجتہد قرآن و حدیث گمراہی کا باعث ہیں۔ “‬ ‫رب تعالٰی قرآن کریم کے متعلق فرماتا ہے۔‬ ‫یضل نہ کثیرا و یھدی نہ کثیرا ۔‬‫اللہ تعالٰی قرآن کے ذریعے بہت کو ہدایت کرتا ہے اور بہت کو گمراہ کر “‬ ‫“دیتا ہے۔‬‫چکڑالوی اسی لئے گمراہ ہیں کہ وہ قرآن شریف بغیر حدیث کے نور کے‬ ‫سمجھنا چاہتے ہیں، براہ راست رب تک پہنچنا چاہتے ہیں، وہابی غیر‬ ‫مقلد اسی لئے راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں کہ یہ حدیث کو بغیر علم کی‬ ‫روشنی اور بغیر مجتہد کے نور کے سمجھنا چاہتے ہیں، مقلدین اہل‬ ‫سنت کا انشاءاللہ بیڑا پار ہے، کہ ان کے پاس کتاب اللہ بھی ہے سنت‬ ‫رسول اللہ بھی اور سراج امت امام مجتہد کا نور بھی۔‬
  • 23. ‫یوم ندعوا کل اۃ ناس باما مھم۔‬ ‫“اس دن ہم ہر شخص کو اس کے امام کیساتھ بلئیں گے۔ “‬‫خیال رکھو کہ قرآن و سنت کا سمندر ہم مقلد بھی عبور کرتے ہیں،‬‫اور غیر مقلد وہابی بھی، لیکن ہم تقلید کے جہاز کے ذریعہ جس کے‬‫ناخذ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں ان کی‬‫ذمہ داری پر سفر کر رہے ہیں، غیر مقلد وہابی خود اپنی ذمہ داری پر‬ ‫اس سمندر میں چھلنگ لگا رہے ہیں۔‬ ‫انشاءاللہ مقلدوں کا بیڑا پار ہے، اور وہابیوں کا انجام غرقابی ہے۔‬‫آخر میں ہم اہل حدیث حضرات سے پوچھتے ہیں کہ‬ ‫اسلم کی پہلی عبادت نماز ہے، براہ مہربانی آپ‬‫احادیث صحیحہ کی روشنی میں بتا دیں کہ فرض،‬
  • 24. ‫واجب، سنت، مستحب، مکروہ تحریمی اور حرام‬ ‫میں کیا فرق ہے، اور نماز میں کتنے فرض ہیں، کتنے‬ ‫واجب، کتنی سنتیں، کتنے مستحبات، کتنے مکروہ‬ ‫تنزیہی، کتنے مکروہ تحریمی اور کتنے حرام،‬‫انشاءاللہ تاقیامت یہ تمام مسائل یہ حضرات حدیث‬‫سے نہیں بتا سکتے، حالنکہ دن رات ان مسائل سے‬ ‫واسطہ ہوتا ہے تو دوستو ضد کیوں کرتے ہو، تقلید‬ ‫اختیار کرو، جس میں دین و دنیا کی بھلئی ہے۔‬‫خدا کا شکر ہے کہ یہ کتاب یکم رمضان سنہ 6731 ھ اپریل 7591ء‬‫روز و شبنہ کو شروع ہو کر 3ذی الحجہ سنہ 6731ء بروز شبنہ یعنی‬‫دو ماہ دو دن میں اختتام کو پہنچی۔ رب تعالٰی اپنے حبیب صلی اللہ‬‫تعالٰی علیہ وسلم کے صدقے اسے قبول فرمائے، میرے لئے کفارہ سیات‬‫اور صدقہ جاریہ بنائے، مسلمانوں کے لئے اسے نافع بنائے جو کوئی اس‬
  • 25. ‫کتاب سے فائدہ اٹھائے وہ مجھ بے کس گنہگار کے لئے حسن خاتمہ اور‬ ‫معافی سیات کی دعا کرے کہ اس ہی للچ میں میں نے یہ محنت کی‬ ‫ہے۔‬‫احمد ابن تیمیہ حرانی اور اس پر اعتراضات‬ ‫احمد ابن تیمیہ حرانی اور اس پر اعتراضات‬ ‫محمد ابن عبد الوھاب کے امام ، احمد ابن تیمیہ جس کے آراء و افکار کی اس نے تقلید کی ھے‬ ‫اور جس کے عقائد کو اس نے اخذ کیا اور جس پر اپنے دین کی بنیاد رکھی اور نتیجہ میں صراط‬ ‫مستقیم سے نہ صرف خود بھٹک ا بلک ہ اور بھت سے مسلمانوں کو بھی گمراہ کیا ھے اس کے‬ ‫بارے میں علماء کے اقوال نقل کئے جاتے ھیں ۔‬ ‫چنانچہ علماء مکہ کے بقول جیسا کہ کتاب “ سیف الجبار المسلول علی اعداء ال برار،، طبع‬ ‫ترکیہ ۹۷۹۱ ءء کے ص ۴۲ پر ھے کہ : بدبخت ابن تیمیہ کے دور کے علما نے اس کی گمراھی اور‬ ‫اس کے قید کر نے پر اجماع کیا ھے اور اعلن کیا گیا ھے کہ جو شخص ابن تیمیہ کے عقیدوں پر‬ ‫ھو گا اس کا مال اور خون مباح ھے ۔“کش ف الظنون ،،ج ۱ ص ۰۲۲ پر ھے کہ علماء نے اس کی‬ ‫رد میں بھت مبالغہ کیا ھے یھا ں تک کہ تصریح کی ھے کہ یہ شخص ) اب ن تیمیہ ( جسے شیخ‬ ‫السلم کھا گیا ھے ، کافر ھے ، اس کی کتاب کی جلد ۲ ص ۸۳۴۱ پر ھے : اب ن تیمیہ نے اپنی‬ ‫کتاب “ العرش وصفتہ ،، میں ذکر کیا ھے کہ خداوند عالم کرسی پر بیٹھت ا ھے اور ایک جگہ‬ ‫خالی چھوڑ کر رکھی ھے جھاں رسول صلی ا علیہ و آلہ وسلم بیٹھیں گے۔ اس کو ابو حیان‬ ‫نے کتاب “ النھر،، میں قول خدا “وس ع کرسیہ الس م ٰوات والرض ،،کے ذی ل میں لکھا ھے : میں نے‬ ‫احمد ابن تیمیہ کی کتاب “ العرش ،، میں اسی طرح پڑھاھ ے ۔ انتھی‬ ‫احمد ابن تیمیہ حرانی اور اس پر کئے گئے اعتراضات‬ ‫محمد ابن عبد الوھاب کے امام ، احمد ابن تیمیہ جس کے آراء و افکار کی اس نے تقلید کی ھے‬ ‫اور جس کے عقائد کو اس نے اخذ کیا اور جس پر اپنے دین کی بنیاد رکھی اور نتیجہ میں صراط‬ ‫مستقیم سے نہ صرف خود بھٹک ا بلک ہ اور بھت سے مسلمانوں کو بھی گمراہ کیا ھے اس کے‬ ‫بارے میں علماء کے اقوال نقل کئے جاتے ھیں ۔‬ ‫چنانچہ علماء مکہ کے بقول جیسا کہ کتاب “ سیف الجبار المسلول علی اعداء ال برار،، طبع‬ ‫ترکیہ ۹۷۹۱ ءء کے ص ۴۲ پر ھے کہ : بدبخت ابن تیمیہ کے دور کے علما نے اس کی گمراھی اور‬ ‫اس کے قید کر نے پر اجماع کیا ھے اور اعلن کیا گیا ھے کہ جو شخص ابن تیمیہ کے عقیدوں پر‬ ‫ھو گا اس کا مال اور خون مباح ھے ۔“کش ف الظنون ،،ج ۱ ص ۰۲۲ پر ھے کہ علماء نے اس کی‬ ‫رد میں بھت مبالغہ کیا ھے یھا ں تک کہ تصریح کی ھے کہ یہ شخص ) اب ن تیمیہ ( جسے شیخ‬ ‫السلم کھا گیا ھے ، کافر ھے ، اس کی کتاب کی جلد ۲ ص ۸۳۴۱ پر ھے : اب ن تیمیہ نے اپنی‬
  • 26. ‫کتاب “ العرش وصفتہ ،، میں ذکر کیا ھے کہ خداوند عالم کرسی پر بیٹھت ا ھے اور ایک جگہ‬ ‫خالی چھوڑ کر رکھی ھے جھاں رسول صلی ا علیہ و آلہ وسلم بیٹھیں گے۔‬ ‫اس کو ابو حیان نے کتاب “ النھر،، میں قول خدا “ وس ع کرسیہ الس م ٰوات والرض ،،کے ذی ل میں‬ ‫لکھا ھے : میں نے احمد ابن تیمیہ کی کتاب “ العرش ،، میں اسی طرح پڑھاھے ۔ انتھی اور‬ ‫اسی کتاب کے ص ۸۷۰۱ پر احمد ابن تیمیہ جنبلی کی ایک کتاب بنام “ الصرا ط المستقیم والرد‬ ‫علی اھل الجحیم ،، کا ذکر کیا ھے اور اسی میں ایسی باتیں لکھی ھیں جن کا تذکرہ کرنا‬‫مناسب نھیں ھے مثل عبد ا ابن عباس کو کافر قرار دینا ۔حصینی نے اپنی کتاب میں اس کی رد‬ ‫لکھی ھے ۔ جامعہ ا زھ ر کے ایک عالم شیخ محمد نجیت مطیعی حنفی نے اپنی کتاب “ تطھیر‬ ‫الفواد من دنس ال عتقاد ،،مینص ۹ پر ابن تیمیہ کے بارے میں لکھا ھے کہ اس نے اپنی کتاب‬‫“ الواسط ہ ،، وغیرہ کی تالیف کی تو ایسی باتیں گڑھیں جن سے مسلمانوں کے اجماع کو پارہ کر‬ ‫دیا ۔اس نے کتاب خدا ، صریح سنت اور سلف صالح کی مخالفت کی ھے۔‬ ‫اپنی فاسد عقل کا مطیع ھوا ھے اور جان بوج ہ کر گمراہ ھواھ ے ۔اس کا معبود اس کی ھوائے‬ ‫نفس ھے۔ اسے یہ گمان ھوا ھے کہ جو کچہ اس نے بیان کیا ھے حق ھے حالنک ہ وہ حق نھیں‬ ‫ھے بلکہ یہ جھو ٹ اور قول منکر ھے ،اور اسی کتاب کے ص ۳۱ پر ھے : ی ہ کتاب ابن تیمیہ کی‬ ‫بھت سی من گڑھت باتوں پر مشتمل ھے جوکتاب و س ن ّت اور جماعت مسلمین کے مخالف ھے ۔‬‫اور صفحھ ۰۱ /۱۱ پر ھ ے: و ہ براب ر اکابر کے پیچھے پڑا رھا یھاں تک کہ اس کے زمان ے والے اس کے‬ ‫خلف مجتمع ھوئے اسے فاسق قرار دیا اور بدعتی ٹھھرایا بلکہ ان میں سے زیا دہ لوگوں نے‬ ‫اسے کافر قرار دیا ۔‬ ‫اور صفحہ ۷۱ پر ھے : اپن ے زمانے میں ابن تیمیہ کا وتیرہ ادب اورھر زمانے میں اس کے پیرووں کا‬ ‫: یھی طریقہ رھ ا ھے کھ‬ ‫یخدعون“‬ ‫یقولو ن آم ن ّا بالله و بالیوم الخروما ھم بمومنین ،یخادعو ن اللهوالذین آمنوا وما‬ ‫الانفسھم وما یشعرون ،،یہ لوگ کھتے ھیں کہ ھم ا اور روز قیامت پر ایمان لئے ھیں حالنکہ‬‫یہ مومن نھیں ھیں ۔یہ ا کو اور ایمان والوں کو دھوک ہ دیتے ھیں حالنکہ یہ خود اپنے کو دھوکہ‬ ‫،،دے رھے ھیں اور انھیں اس کا احساس نھیں ھے ۔‬ ‫مولف کھتا ھے : یہ منافقیں کی صفت ھے جسے خدا وند عالم نے اپنی کتاب قرآن کریم میں بیان کیا‬ ‫ھے ۔‬ ‫اور یافعی نے “ مرآةالجنان ،،ج ۴/ ص ۰۴۲ طبع حیدرآباد دکن ۹۳۳۱ ھئمطبع دائرةالمعارف النظامیہ‬ ‫میں ابن تیمیہ کے بعض مھمل اقوال کا ذکر کیا ھے مث ل ًلکھ ا ھے: خدا حقیقتاعرش پر بیٹھ ا ھے اور‬ ‫الفاظ وآواز سے گفتگو کرتا ھے پھرلکھا ھے کہ دمشق مینیہ اعل ن کردیا گیا کہ جو شخص ابن‬ ‫تیمیہ کے عقیدہ پر ھوگا اس کی جان اور اس کا مال مباح ھے ۔‬‫اور صفحھ ۸۷۲ پر ۸۲۷ ئکے واقعات کے سلسلہ میں ھے : اس ) ابن تیمیہ ( کے عجیب وغریب مسائل ھیں‬ ‫جن کے بارے میں اس پر طعن وتشنیع کی گئی ھے اورجن کے سبب مذھ ب اھل س ن ّت ترک کرنے کی‬ ‫خاطر اسے قید کیا گیا ۔پھ ر اس کی بھت سی برائیوں کو شمار کراتے ھوئے لکھا ھے کھ: اس کی‬
  • 27. ‫قبیح ترین برائی یہ تھی کہ اس نے پیغبر اسلم ص ل ّی ا علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے منع کر دیا‬ ‫تھا ۔آپ پر اور دوسرے اولیاء خدا اور اس کے برگزیدہ بندوں پر طعن و تشنیع کی تھی اور اسی‬ ‫طرح م س ٴلہ طلق وغیرہ کے سلسلہ میں اس کا مسلک اور جھت کے بارے میں اس کا عقیدہ اور‬ ‫اس بارے میں جوباطل اقوال اس سے نقل ھوئے ھیں یہ سب اور اس کے علوہ اور بھی بھت سی‬ ‫باتیں اس کے قبائح میں سے ھیں ۔‬ ‫شیخ ابن حجر ھیتمی نے “ تحف ہ ،،میں لکھ ا ھے : خدا کی جسمیت یا اس کے جھت میں ھونے کا‬ ‫دعو ی ٰ ایساھے کہ اگر کوئی اس کا عقیدہ رکھے تو کافر ھے ۔سفینةالراغب ص ۴۴ طبع بولق مصر‬ ‫۵۵۲۱ ئ‬ ‫شیخ یوسف نبھانی نے اپنی کتاب “ شواھدالحق ،،کے صفحہ ۷۷۱ پر لکھ ا ھے : چوتھ ا باب ،ابن تیمیہ‬ ‫کے اوپرعلماء مذاھب اربعہ کے اعتراضات کی عبارتیں اور اس کی کتابوں پر کئے گئے ایرادات اور‬‫بعض اھم مسائل جیسے خدا وندعالم کا ایک خاص جھت وسمت میں ھون ا ،کے بارے میں اھل س ن ّت‬ ‫کی مخالفت کے بیان میں ۔پھر ایک جماعت کا ذکر کیا ھے جنھوں نے اس پر طعن کیاھے لکھ ا ھے‬ ‫:‬ ‫کی“‬ ‫انھیں طعن کرنے والوں میں سے امام ابوحیا ن ھینجو ابن تیمیہ کے دوست تھے ۔جب اس‬ ‫بدعتوں سے با خبر ھوئ ے تو اس کو بالکل چھوڑ دیا اور لوگوں کو اس سے دور رھنے کی تاکید کی ۔‬ ‫اور انھیں میں سے امام عزالدین ابن جماعةھی ں انھوں نے اس کی رد کی ھے اور اسے برا کھا‬ ‫،،ھے ۔‬ ‫انھیں میں سے مل علی قاری حنفی ھیں انھو ں نے شفاء کی شرح میں لکھ ا ھے‬ ‫:‬‫حنبلیوں میں سے ابن تیمیہ نے افراط سے کام لیا چنانچہ اس نے زیار ت نبی کے لئے سفر کرنے کو حرام‬‫قرار دی ا ھے ۔اسی طرح اس کے مقابل والے نے بھی افراط سے کام لیا ھے چنانچہ کھا ھے : زیارت کا‬ ‫باعث تقرب خدا ھونا ضرویات دین میں سے ھے اور اس کا انکار کرنے وال کافر ھے ۔اور شاید یہ‬ ‫دوسرا قول حق سے قریب ھے کیونکہ جس کے مستحب ھونے پر اجماع ھو اس کا حرام قراردینا‬ ‫کفر ھوگاکیونکہ یہ مباح متفق علیہ کے حرام قرار دینے سے بڑہ کر ھے۔‬ ‫اور انھیں میں سے شباب الدین خفاجی حنفی ھیں جن کے کلم کو اس طرح ذکر کیا ھے : ابن تیمیہ‬ ‫نے ایسی خرافات باتیں لکھی ھیں جن کا ذکر کرنا مناسب نھیں کیونکہ یہ باتیں کسی عقلمند‬‫انسان کی ھو ھی نھیں سکتینچہ جائیک ہ ایک پڑھے لکھے آدمی کی زبان اورقلم سے صادر ھو ں ۔‬ ‫چنانچہ ابن تیمیہ کا یہ کھنا کہ “ قبر پیغمبر اسلم کی زیار ت حرام کام ھے ،،کذب محض،لغو ھے‬ ‫اوربکواس ھے ۔ اس کا یہ کھنا “ اس کے بارے مےں کوئی نقل موجود نھیں ھے ،،باطل ھے کیونکہ‬ ‫امام مالک ،امام احمد ،اور امام شافعی رضی اللهعنھم کا مذھب یہ ھے کہ سلم ودعا مینقبر‬ ‫شریف کی طرف رخ کرنا مستحب ھے اور یہ بات ان بزرگوں کی کتابونمیں درج ھے۔‬‫اور انھیں میں سے امام محمدزرقانی مالکی ھیں ۔) بنھانی نے ان کے کچہ کلم کو مواھب لدنی ہ کی‬ ‫: شرح میں نقل کیا ھے جسے ھم یھانپیش کررھے ھیں‬ ‫۰۰۰“‬ ‫لیکن ابن تیمیہ نے اپنے لئے ایک جدید مذھ ب ایجاد کیا ھے اور وہ ھے قبروں کی تعظیم نہ کرنا‬‫کیا یہ شخص جس بات کا علم نھیں رکھتا اس کے جھٹلنے سے شرماتاھے؟ اور ابن تیمیہ کی طعن‬
  • 28. ‫وتشنیع کے سلسلے میں اپنی پھلی والی بات دھرائی ھے ۔‬ ‫اور انھیں میں سے امام کمال الدین ز ملکانی شافعی متوفی ۷۲۷ ھئنے کشف الظنون میں ان کی‬ ‫ایک کتاب“ الذرةالمضیہ فی الرد علی ابن تیمیہ ،،کا ذکر کیا ھے انھوں نے ان مسائل میں اس سے‬ ‫مناظرہ کیا ھے جن میں وہ مذاھب اربعہ سے منحرف ھوگیا ھے اور ان میں قبیح ترین مسئلہ اس‬‫کا انبیاء وصالحین خصوصاسیدالمرسلین کی قبروں کی زیارت اور آپ کے وسیلہ سے خدا سے مانگنے‬ ‫کو منع کرنا ھے ۔‬‫اور انھیں میں سے امام کبیرشھیر تقی الدین سبکی شافعی ھیں) ابن تیمیہ پر اعتراضات کو ان کی‬‫کتاب شفاء السقام فی زیارت خیر النام علیہ السل م سے نقل کیا ھے( اس کتاب میں انھوں نے اسے‬ ‫بدعتی کھا ھے ۔ اور انھیں میں سے حافظ ابن حجر عسقلنی شافعی ھیں) انھوں نے اپنی کتاب‬ ‫فتح الباری فی شرح البخاری میں اس پر رد کی ھے ( اور انھیں میں سے امام عبد الرووف منادی‬ ‫شافعی ھیں انھوں نے شرح شمائل میں کھا ھے : اور ابن ق ی ّم کا اپنے شیخ ابن تیمیہ کے حوالے سے‬ ‫یہ کھناکہ “ مصطفی ص ل ّی ا علیہ وآلہ وسلم نے جب اپنے پرور دگارکو اپنے دونوں شانوں کے‬ ‫درمیان اپنے ھاتہ رکہ کر دکھائ ے تو خدااس جگہ کو بالو ں کو نوازا ۔اس کی ردشارح یعنی ابن‬ ‫حجرم ک ّ ی نے اس طرح کی بات ان دو نوں ) ابن تیمیہ وابن قیم( کی بد ترین گمراھی ھے اور یہ ان‬ ‫دونوں کے اس عقیدہ پر مبنی ھے کہ خدا جھت اور جسم رکھتا ھے۔خدا وند عالم ظالموں کے اس‬ ‫قول سے کھیں بزرگ وبرت ر ھے اس کے بعد منادی نے لکھا ھے : اب میں کھتا ھوں ان دونونک ا‬ ‫بدعتیو ں میں سے ھونا مس ل ّم ھے۔‬‫اور انھیں میں سے ھمارے دوست عالم با عمل ،فاضل کامل ، شیخ مصطفی ابن احمد سطی جنبلی‬ ‫دمشقی حفظ ا وجزا ہ ا احسن الجزا ء ھیں ۔ مو صوف نے ایک مخصوص رسالہ تالیف کیا ھے‬ ‫جس کا نام ) النقول الشرعیہ فی الرد علی الو ھابیة ( ھے۔انھیں میں سے امام شھاب الدین احمد‬ ‫بن حجر ھیثمی مکی شافعی ھیں انھوں نے ابن تیمیہ پر بھت سخت ردو تنقید کی ھے ۔‬ ‫اور نبھانی نے شواھدالحق کے ص ۱۹۱ پر پھلے تو ان لوگوں کے نام نقل کئے ھیں جنھوں نے ابن‬ ‫تیمہ کو طعن و تشنیع کی اور جن کا ذکر ابھی گزرا ھے ۔ اس کے بعد کھتے ھیں : لھذ ا ثابت ھوا‬‫اور آفتاب نصف النھار کی طرح روشن ھوا کہ علماء مذ ھب اربعہ نے ابن تیمیہ کی بد عتوں کے رد‬ ‫کرنے پر اتفاق کیا ھے اور کچہ علماء نے اس کی نقل کی صحت پر طعن کیا ھے تو بھل جن مسائل‬ ‫میں دین سے انحراف کیا ھے اور اجماع مسلمین کی مخالفت کی ھے خاص کر ان مسائل میں جو‬ ‫سید المر سلین سے متعلق ھیں اس کی کھلی ھوئی غلطی پر سخت طعن وتشنیع کیوں نہ کرتے ۔‬ ‫حنفیوں میں سے جنھوں نے اس کی نقل کے صحیح ھونے پر طعن کیا ھے شھاب الدین خفاجی‬ ‫شارح الشفا ء ھیں جن کا ذکر گزر چکا ھے ۔ اور مالکیو ں میں سے امام زرقانی ھیں شرح مواھب‬ ‫میں ، یہ تذ کرہ بھی گزر چکا ھے ۔ اور شافیوں میں سے امام سبکی ھیں جیسا کہ ان کی کتاب‬ ‫شفاء السقام میں مذ کور ھے اس میں انھو ں نے یہ واضح کیا ھے کہ نہ صرف یہ کہ ابن تیمیہ کی‬ ‫رائے غلط ھے بلکہ اس کے نقل کئے ھوئے وہ احکام شرعیہ بھی صحیح نھیں ھیں جس کے ذریع ہ‬ ‫اس نے اپنی بدع ت کی تقویت پر استدلل کیا ھے اور انھیں مذاھب اربعہ کی طرف منسوب کیا ھے‬
  • 29. ‫حالنکہ ائمہ مذا ھب اربعہ نے وہ احکام نھیں بیان کئے ھیں ۔اسی طرح اس کے نقل کی عدم‬ ‫صحت کا ذکر امام ابن حجر ھیثمی نے بھی اس کے اوپر اپنے اعترا ضات میں کیا ھے اور یہ بات پو‬ ‫شیدہ نھیں ھے کہ یہ چیز ایک عالم کے اندر بھت بڑاعیب اور بھت بڑا اخلقی جرم ھے جو اس پر‬ ‫اعتماد کو ضعیف کر دیتا ھے اور اس کے منقولت کے اعتبار کو ساقط کر دیتا ھے چاھے وہ احفظ‬‫حفاظ اورا علم علماء میں سے ھو اور ابن تیمیہ کے منقو لت کے معتبر نہ ھون ے کی تقویت اس قول‬ ‫سے بھی ھوتی ھے جو اس کے بارے میں حافظ عراقی نے کھا ھے۔ کلم نھبانی تمام ھوا ۔شواھد‬ ‫الحق ص ۷۷۱ تا ۱۹۱‬ ‫ابن تیمیہ کا ذکر ڈاکٹر حامد حفنی داوود حنفی نے بھی اپنی کتاب ) نظرات فی الکتب الخالدة( ص‬‫۱۳ مطبوعہ مصر ۹۹۳۱ ء دارالمعلم للطباعة میں کیا ھے اور اسے بدعتی قرار دیا ھے اور حاشیہ میں‬ ‫اس کلمہ پر نوٹ لگایا ھے کہ : اکثر علماء اھل س ن ّت نے اس کے بد عتی ھون ے کا قول اختیار کیا ھے‬ ‫رہ گئے صوفیہ تو انھو ں نے اس پر اجماع کیا ھے ، امام تقی الدین سبکی اور ابن تیمیہ کے درمیان‬ ‫فقہ وعقیدہ کے اکثر گوشوں کے بارے میں خط وکتابت ھوتی ھے ۔دیکھئے ھماری کتاب ) التشریع ال‬ ‫سلمی فی مصر ( انتھی ۔‬ ‫عبدالغنی حمادہ اپنی کتاب ) فضل الذاکرین والرد علی المنکر ین ( طبع سوری ہ ا َ د ْ ل َ ب ْ ۱۹ ۳۱ ء ص‬ ‫۳۲ پر اس طرح وھابیت پر طعن کر تے ھیں‬ ‫:‬ ‫شیخ وھابیت ابن تیمیہ کے بارے میں علم ہ مصر علء الدین بخاری نے لکھاھ ے کہ : ابن تیمیہ کافر‬‫ھے جیسا کہ اس کے زمانے کے بزر گ عالم زین الدین حنبلی نے کھا ھے کہ میرا اعتقاد یہ ھے کہ ابن‬ ‫تیمیہ کافر ھے اور کھتے تھے کہ امام سبکی رضی ا عنہ ابن تیمیہ کی تکفیر سے معذور ھیں‬ ‫کیونک ہ اس نے امت اسلمیہ کو کافرقرار دیا ھے اور اسے قول خدا :“ اتخذ وااحبار ھم ورھبانھم ار‬ ‫بابا من دون ا ،،کی تفسیر کر تے ھوئے یھود و نصار ی ٰ سے تشبیہ دی ھے۔ علماء مذاھب نے لکھ ا‬ ‫ھے کہ : ابن تیمیہ زندیق ھے کیونکہ وہ پیغمبر اسلم اور آپ کے دونوں ساتھیوں کی توھی ن کرتا‬ ‫تھا اور اس کی کتابیں خدا وند عالم کی تشبیہ اور اسے صاحب جسم قرار دینے سے بھری ھوئی‬ ‫ھیں ۔‬ ‫اور اس کے زمانے کے علمہ ابن حجر رضی ا عنہ نے کھا ھے ۔ ابن تیمیہ ایک ایسا بندہ ھے جسے‬ ‫خدا نے رسوا ، گمراھ، اندھ ا ، بھرا اور ذلیل کیا ھے ۔اس کے خلف مذاھ ب اربعہ میں سے اس کے‬‫دور کے علماء اٹہ کھڑے ھوئے اور اکثر نے اس کو فاسق اور کافر قرار دیا ھے ۔علماء نے کھا ھے کہ‬‫ابن تیمیہ نے صحابہ کرام رضی ا عنھم کو کافر قرار دینے میں خوارج کے مذ ھب کا اتباع کیا ھے ۔‬ ‫اور ائمہ حفاظ نے کھا ھے کہ ابن تیمیہ خوارج میں سے ھے ،جھوٹ ا ھے ، شریر ھے ، افترا پر داز‬ ‫ھے ۔“ فضل الذا کرین ،،میں لفظ بہ لفظ مو جود ھے ۔‬ ‫اور ابو حامد مرزوق شامی نے اپنی کتاب ۔“ التوسل بال ن ّبی وبا لصالحین ،،مطبوعہ تر کیہ طبع‬ ‫: آفسٹ ۴۸ ۹۱ ءء کے ص ۴ پر لکھا ھے‬‫اتر “‬ ‫ایک بار ابن تیمیہ نے دمشق کے ممبر پر جانے کے بعد کھا : “ خدا وند عالم اسی طرح عرش سے‬ ‫تا ھے جیسے میں ممبر سے اتر رھ ا ھو ں اور ایک زینہ نیچے اتر کر دکھای ا ھے ، ، اس کے بعد ابو‬
  • 30. ‫حامد نے لکھا ھے کہ اس واقعہ کو دیکھنے والوں میں فقیہ سیاح ابن بطوطہ مغری بھی ھیں اور‬ ‫“ التوسل بال ن ّبی وبالصالحین ،،کے ص ۶ پر ابن تیمیہ سے نقل کیا ھے کہ ابن تیمیہ نے لکھا ھے کھ“‬‫خدا حق تعال ی ٰ عرش کے اوپر ھے ،، اور اسی کتاب کے ص ۶۱۲ پر کتاب “ دفع شبہ من ش ب ّہ وتم ر ّد ،،‬ ‫طبع مصر ۰۵ ۳۱ ء ہ مطبع عیس ی ٰ حلبی ، تصنیف ابو بکر حصنی دمشقی متوفی ۹۲۸ ء سے نقل کر‬ ‫تے ھوئے لکھا ھے کہ مصنف مذکور نے ابن تیمیہ کے بارے میں کھا ھے :“ میں نے اس خبیث ) ابن‬ ‫تیمیہ ( کے کلم کو دیکھ ا جس کے دل میں انحراف کا مرض ھے جو فتنہ پیدا کر نے کے لئے متشابہ‬‫آیات و احادیث کا اتباع کر تا ھے اور عوام و غیر عوام میں سے ان لوگوں نے اس کی پیروی کی جس‬ ‫کے ھلک کر نے کا خدا نے ارادہ کیا تھا ، میں نے اس میں ایسی باتیں پائیں جن کو ادا کر نے کی‬ ‫مجھ میں قدر ت نھیں ھے اور نہ میری انگلیوں اورقلم میں انھیں تحریر کر نے کی جرات ھے کیو‬ ‫نکہ اس نے پر وردگار عالم کی اس بات پر تکذی ب کی ھے کہ اس نے کتاب مبین میں اپنے کو منزہ‬ ‫قرار دی ا ھے ۔اسی طرح اس کے بر گزیدہ اور منتخب افراد خلفاء راشدین اور ان کے صالح‬ ‫پیروکاروں کی توھین اور عیب جوئی کی ھے لھذ ا میں نے ان کا ذکر کرنا مناسب نہ جانا اور صرف‬ ‫ان باتوں کو ذکر کیا جنھیں ائمہ متقین نے ذکر کیا تھ ا اور جن پر ان کا اتفاق ھے وہ یہ کی ابن‬ ‫تیمیہ بد عتی اور دین سے خارج ھے ۔‬ ‫حافظ ابن حجر نے “ الفتاوی الحدیثیہ ،، ص ۶۸ پر لکھا ھے کہ “ ابن تیمیہ ایسا بندہ ھے جسے خدا‬ ‫نے رسوا ، گمراہ ، اندھ ا ، بھرہ ، اور ذلیل بنا دیا ھے اور اسی بات کی تصریح ان اماموں نے بھی‬ ‫کی ھے جنھوں نے اس کے فاسد ھونے اور اس کی باتو ں کو جھوٹ ھونے کا بیان کیا ھے اور جو‬ ‫شخص اسے جاننا چاھتا ھو وہ امام مجتھد ابوالحسن سبکی جن کی ،امامت ، جللت ، شان اور‬ ‫مرتبہ اجتھاد تک پھنچنے پر اتفاق ھے ان کے اور ان کے فرزند تاج اور شیخ امام ع ز ّ بن جماعہ اور‬ ‫شافعیہ ، مالکیہ ، حنفیہ ، میں سے ان کے ھم عصر علماء کے کلم کو مل حظہ کریں ، ابن تیمیہ نے‬ ‫صرف متاخرین صوفیہ کے اوپر اعتراض کرنے پر اکتفاء نھیں کی ھے بلکہ عمر ابن خطاب اور علی‬ ‫ابن ابی طالب رضی ا عنھما ،، جیسے حضرات پر بھی اعتراض کیا ھے۔‬ ‫خلصہ یہ کہ اس کے کلم کی کوئی قدرو قیمت نھیں ھے اور چاھئے کہ اس کے بارے میں یہ عقیدہ‬ ‫رکھا جائے کہ وہ بد عتی گمراہ ،گمراہ کن ، جاھل اور غلو کر نے وال ھے ، خدا اس کے ساتھ اپنے‬ ‫عدل سے معاملہ کرے اور ھمیں اس کے طریقہ ، عقیدہ ، اور عمل سے محفوظ رکھے ۔ آمین ۔‬ ‫کلم ابن حجر تمام ھوا اسے ھم نے تطھیر الفواد من دنس ال عتقاد ص ۹ طبع مصر ۸۱۳۱ ء ہ‬ ‫تصنیف شیخ محمد نجیت مطیعی حنفی سے نقل کیا ھے۔‬ ‫اس کے بعد کھا کہ وہ خدا کے لئے سمت کا قائل ھے جس کا لزمی نتیجہ یہ ھے کہ وہ خدا کے لئے‬ ‫جسمیت ، محاذات ،اور استقرار کا قائل ھے ۔‬ ‫کتاب “ التوسل با ل ن ّبی وبا لصالحین ،، میں ابن تیمیہ پر اور بھی بھت سے طعن ھیں جن کو چند‬ ‫عناوین کے تحت ذکر کیا ھے ، جو حسب ذیل ھیں ۔‬ ‫ع لمہ شھاب الدین احمد بن یحی ی ٰ حلبی کی جھت کے بارے میں ابن تیمیہ پر رد۔ ۰‬ ‫ّ‬ ‫ابن تیمیہ کے اس زعم کا ابطال کہ خدا حق تعالی ٰ عرش کے اوپر ھے ۔ ۰‬
  • 31. ‫عقیدہ ابن تیمیہ جس کے سبب اس نے جماعت مسلمین سے مخالفت کی ھے اور انھیں برا کھا ھے ۰‬ ‫جسے قر آن میں طعن کر نے والے او باش ملحدین سے حاصل کیا ھے ۔‬ ‫ابن تیمیہ کی تمام علماء اسلم سے مخالفت ۔ ۰‬ ‫ابن تیمیہ کے فتووں کے نمو نے‬ ‫عالم کبیر شیخ محمد بخیت حنفی عالم جامعہ ا زھرنے اپنی کتاب “ تطھر الفواد من دنس ال‬ ‫عتقاد ،،طبع مصر مطبو عہ ۸۱۳۱ ئکے ص ۲۱ پر اس شخص کے کچہ فتووں کا ذکر کیا ھے جن میں‬ ‫سے بعض نمو نے ھم یھاں پر پیش کر رھے ھیں تا کہ ایک غیر جانبدارقاری کو اس کے انحراف ،‬‫فاسد عقیدے اور منحرف فتووں میں علماء اسلم سے اس کی مخالفت کا زی ا دہ سے زیا دہ علم ھو‬ ‫سکے ۔‬ ‫ھے۔ “‬ ‫“اگر کو ئی شخص جان بو جہ کر نماز تر ک کر دے تو اس کی قضا وا جب نھیں‬ ‫ھے۔ “‬ ‫“حیض والی عور ت کے لئے خانہ ء کعبہ کا طواف کرنا جائ ز ھے اور اس پر کوئی کفارہ نھیں‬ ‫نے “‬ ‫تین طلق ایک طلق کی طرف پلٹای ا جائے گا“ اور اس بات کا دعوی ٰ کر نے سے پھلے خود اسی‬ ‫نقل کیا ھے کہ اجماع مسلمین اس کے بر خلف ھے ۔‬ ‫وہ “‬ ‫جس اونٹ کے پیر کی موٹی والی نسیں کاٹ دی گئی ھوں وہ کاٹنے والے کے لئے حلل ھے اور‬ ‫،،جب تاجروں سے لے لیا جائے تو زک و ٰة کے عوض کافی ھے اگر چہ زک و ٰة کے نام سے نہ لیا گیا ھو ۔‬ ‫“بھنے والی چیزوں میں اگر جاندار مثل چوھا مر جائے تو یہ چیزیں نجس نھیں ھو تیں‬ ‫جنب کو چاھئے کہ حالت جنا بت میں نافلہ شب پڑھے اور تا خیر نہ کرے کہ فجر سے پھلے غسل کر‬ ‫“کے پڑھ ے گا اگر چہ اپنے ھی شھر میں ھو ۔‬ ‫تو “‬ ‫وقف کرنے والے کی شرط کا کوئی اعتبار نھیں ھے بلکہ اگر اس نے شا فعیہ پر وقف کیا ھے‬ ‫حنفیہ پر صرف کیا جائے گا اور بر عکس ،اور قاضیوں پر وقف کیا ھے تو صو فیہ پر صرف کیا جائے‬ ‫،،گا ۔‬ ‫اسی طرح عقائد اور اصول دین کے مسائل میں بھی انحراف کا مر تکب ھوا ھے۔‬ ‫خدا وند عالم محل حوا دث ھے“ تعال ی ٰ عن ذالک علوا کبیرا ْ‬‫خدا مرکب ھے اس کی ذات ویسے ھی محتاج ھے جیسے کل اپنے جزء کا محتاج ھوتا ھے “ ت َ ع َ ا ل ی ٰ ع َ ن ْ‬ ‫،، ذ َا ل ِ ک َ‬‫خدا جسم رکھتا ھے،وہ خاص سمت میں ھے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ھوتا ھے ،وہ ٹھیک‬ ‫عرش کے برابر ھے نہ چھوٹا نہ بڑا“) خد ا وندعالم اس قبح وبد ترین افترا ء اور صریحی کفر سے‬ ‫کھیں بال تر ھے ۔خدا اس کے پیرووں کو رسوا کرے اور اس کے معتقدین کا شیرازہ منتشر کرے‬ ‫)‬ ‫“جھنم فنا ھوجائے گی ،انبیاء معصوم نھیں ھیں۔‬ ‫“رسول ا ص ل ّی ا علیہ وآلہ وس ل ّم کی کوئی وقعت نھیں ھے ۔ان سے توسل نہ کیا جائے۔‬ ‫“پیغمبر اسلم کی زیا رت کے لئے سفر کرنا معصیت ھے اس سفر میں نمازقصر نھیں ھوگی۔‬

×