اشرف تھانوی کے لطیفے
Upcoming SlideShare
Loading in...5
×
 

اشرف تھانوی کے لطیفے

on

  • 8,079 views

Ahle sunnat aur ahle bidat ki pehchan,...

Ahle sunnat aur ahle bidat ki pehchan,
Imam e Ahle Bidat ( Yazeed,Ibn e Tayymia,Ibn e Abd alwahab,ismaeel dehlvi,nazir dehlvi,qasim natotvi,rasheed gangohee,ashraf thavi,khaleel ambethvi,hussain tandvi,mehmood ul hassan gandhvi,anwar kashmiri,shafee yazeedi,ahmad ali lahori,nafees hussaini,ilyas mevati,zakri kandhlvi,kafayat ulla dehvli etc.

Statistics

Views

Total Views
8,079
Views on SlideShare
8,079
Embed Views
0

Actions

Likes
0
Downloads
30
Comments
0

0 Embeds 0

No embeds

Accessibility

Upload Details

Uploaded via as Microsoft Word

Usage Rights

© All Rights Reserved

Report content

Flagged as inappropriate Flag as inappropriate
Flag as inappropriate

Select your reason for flagging this presentation as inappropriate.

Cancel
  • Full Name Full Name Comment goes here.
    Are you sure you want to
    Your message goes here
    Processing…
Post Comment
Edit your comment

اشرف تھانوی کے لطیفے اشرف تھانوی کے لطیفے Document Transcript

  • ‫لطیفہ نمبر 11‬ ‫‪ ,Filed under: Home‬ہوم, دیوبندی ازم —‬ ‫‪sulemansubhani @ 11:00 am‬‬ ‫لطیفہ نمبر 11‬‫مولنا تھانوی نے عقد ثانی ل ذ ّت نفس کے لئےکیا،‬ ‫مگر مریدین و معتقدین پر رنگ جمانے ، زہد و‬‫تق و ٰی کا رعب گانٹھنے اور جگ ہنسائی سے خود‬ ‫کو بچانے کیلئے کافی بل کھائے اور پینترے بدلے ،‬ ‫فاضل دیوبند مولنا اکبر آبادی کا‬ ‫تبصرہ !!!!!!!!!!!! !‬‫مولنا تھانوی جیسا کہ خود فرماتے ہیں ، دوسرا‬‫نکاح محبت دلی کے اقتضاء سے کرتے ہیں ، لیکن‬ ‫شہرت و جاہت خانگی چپقلش کی وجہ اور‬ ‫برادری میں چہ میگو ئیوں کی وجہ سے اس‬ ‫واقعہ کے سبب مولنا تھانوی کو جو ضعطئہ‬ ‫دماغی ) ‪ ( com plex‬پیش آ گیا ہے اس کی وجہ‬ ‫سے اپنے فعل کی تاویل و توجیہ میں ّعجیب‬ ‫عجیب باتیں کہتے ہیں حالنکہ سیدھی بات یہ‬
  • ‫تھی کہ میں نے عقد ثانی کیا ہے اور یہ شرع میں‬ ‫نا جائز نہیں ہے ، بس بات ختم ہو جاتی ۔‬ ‫لیکن مولنا کبھی تو فرماتے ہیں کہ بے ساختہ‬ ‫ذہن میں آیا کہ بہت سے درجات موقوف ہیں ،‬ ‫سقوط جاہ و بدنامی پر جس سے تو اب تک‬‫محروم ہے ، پس اس واقعہ میں حکمت یہ ہے کہ‬ ‫تو بدنام ہو گا اور حق تعا ل ٰی درجات عطا‬ ‫فرمائیں گے ۔ کبھی مولنا تھانوی فرماتے ہیں‬‫ایک مصلحت یہ بھی ظاہر ہوئی کہ اس سے پہلے‬ ‫موت کی محبوبیت کی دولت نصیب نہ تھی ،‬ ‫الحمد للہ کہ اس واقعہ ) شاد ی ( سے یہ دولت‬ ‫بھی نصیب ہو گئی ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے ، مجھ‬ ‫کو ثواب آخرت سے طبعا کم دلچسپی تھی ، اب‬‫معلوم ہوا کہ یہ ایک قسم کی کمی اور استغناء‬ ‫تھی ، الحمد للہ کہ اس کمی کا تدارک ہو گیا ۔‬‫اس کے بعد مولنا تھانوی کا ارشاد ہے کہ حلم و‬ ‫تحمل کا ذوق نہ تھا ۔ خدائے تعا ل ٰی کا احسان‬‫ہے کہ یہ کام بھی ) ب ع د شاد ی ( پورا ہو گیا ۔ اس‬
  • ‫کے علوہ اور بھی بہت سی مصلحتیں لکھیں‬ ‫ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مولنا تھانوی نے‬‫عقد ثانی کیا کیا ، سلوک و معرفت اور طریقت و‬‫حقیقت کی صبر آزما منزلیں بیک جنبش قدم طے‬ ‫کر لی ہیں ، جو ملکات و فضائل اور کمالت‬‫روحانی و باطنی سالہا سال کے بعد مجاہدہ اور‬ ‫ریاضت شاقہ کے بعد بھی حاصل نہیں ہوتے وہ‬‫عقد ثانی کرتے ہی فورا مولنا کو حاصل ہو گئے ۔‬ ‫) برہان دہلی 2591 ء فروری ص 501 (‬ ‫‪Leave a Comment‬‬ ‫لطیفہ نمبر 01‬ ‫‪ ,Filed under: Home‬ہوم, دیوبندی ازم —‬ ‫‪sulemansubhani @ 10:59 am‬‬ ‫لطیفہ نمبر 01:-‬ ‫حضرات یوسف و موسٰی وعیسٰی علیہم السلم میں جو‬ ‫ٰ‬‫کمالت انفرادا تھے ، وہ مجموعی طور پر شاہ وصی اللہ‬ ‫صاحب میں تھے ۔ مدیر ’’ الحسان ’’ کی پیر پرستی‬
  • ‫یہ مذکورہ بال امور ’’ شرک فی الرسالۃ’’ ہیں ۔ فاضل‬ ‫دیوبند مولنا اکبر آبادی کا جواب!‬ ‫منجملہ انھیں حضرات کے مرشدی و مولئی محی السنۃ‬‫والخلق ماحی البدعۃ والنفاق حضرت مولنا الشاہ محمد‬‫وصی اللہ صاحب دامت برکاتہم واضہم بھی ہیں۔ آپ کی‬ ‫جامعیت و کمال کے بارے میں اپنا خیال یہ ہے کہ‬ ‫۔۔۔۔۔آفاقہا گرویدہ ام مہر تباں ورزیدہ ام‬ ‫۔۔۔۔۔بسیار خوہان دیدہ ام لیکن تو چیزےدیگری‬ ‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)یا(۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬ ‫حسن یوسف دم عیسٰے ید بیضا داری‬ ‫آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری‬ ‫)رسالہ الحسان جلد 2 ستمبر 55ء ص 4 (‬ ‫لیکن فاضل دیو بند مولنا سعید احمد اکبر آبادی فرماتے‬ ‫ہیں :-‬ ‫اس مقام پر ایک نہایت اہم اور ضروری نکتہ جسے اپنے‬‫مرشد کے ساتھ غالی عقیدت و ارادت رکھنے والے مرید اکثر‬‫بھول جاتے ہیں ، ہمیشہ یاد رکھنا چاہیئے کہ جس طرح اللہ‬‫تعالٰی کی ذات و صفات میں کسی کو شریک ماننا ، شرک‬
  • ‫فی اللہ اور کفر ہے اسی طرح آنخضرت صلی اللہ علیہ‬ ‫وآلہ وسلم کے اوصاف و کمالت نبوت میں کسی کو‬‫شریک جاننا شرک فی الرسالۃ اور عظیم ترین معصیت ہے‬ ‫۔) برہان ،دہلی فروری 2591 ء ص 801 (‬ ‫فاضل دیوبند موصوف کے اس اقتباس سے معلوم ہوا کہ‬ ‫یہ عقیدہ غیر نبی کیلئے کہ‬ ‫حسن یوسف دم عیسٰی ید بیضا داری‬ ‫آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری‬ ‫شرک فی الرسالۃ اور عظیم ترین معصیت ہے ۔ کیونکہ‬‫شعر مذکورہ کے مصداق صرف تاجدار دو عالم ہیں نہ کہ‬ ‫مولنا شاہ وصی اللہ‬ ‫کاش مدیر الحسان خدا پرستی کو چھوڑ کر پیر پرستی‬ ‫کے نشہ میں وہ نہ لکھتے جو لکھ گئے ۔ انہیں تو یہ کہنا‬ ‫چاہئے تھا ،،‬ ‫چھٹ جائے اگر دولت کونین تو کیا غم !‬ ‫چھوٹے نہ مگر ہاتھ سے دامان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ‬ ‫وسلم ۔آمین‬ ‫‪Leave a Comment‬‬
  • ‫لطیفہ نمبر 9‬ ‫‪ ,Filed under: Home‬ہوم, دیوبندی ازم —‬ ‫‪sulemansubhani @ 10:57 am‬‬ ‫لطیفہ نمبر 9 :-‬‫مولنا تھانوی کے پردادا مرنے کے بعد زندوں کے مثل آتے اور‬ ‫ساتھ میں مٹھائیاں لتے ۔ جب بدنامی کے ڈر سے گھر‬ ‫والوں نے راز فاش کر دیا تو ان کا مٹھائیوں کے ساتھ آنا‬ ‫بند ہو گیا ۔ اشرف السوانح کا ’ تقویۃ الیمان شکن’‬ ‫انکشاف‬ ‫شہادت کے بعد ایک عجیب واقعہ ہوا ، شب کے وقت اپنے‬ ‫گھر مثل زندوں کے تشریف لئے اور اپنے گھر والوں کو‬‫مٹھائی ل کر دی ، اور فرمایا کہ اگر تم کسی سے ظاہر نہ‬ ‫کرو گی تو اسی طرح روزانہ آیا کریں گے ، لیکن ان کے‬ ‫گھر والوں کو یہ اندیشہ ہوا کہ گھر والے جب بچوں کو‬‫مٹھائی کھاتے دیکھیں گے تو معلوم نہیں کیا شبہہ کریں ۔‬ ‫اسی لئے ظاہر کر دیا اور پھر آپ تشریف نہیں لئے ، یہ‬ ‫واقعہ خاندان میں مشہور ہے ۔ ) اشرف السوانح حصہ‬ ‫اول ص 21 (‬
  • ‫‪Leave a Comment‬‬ ‫لطیفہ نمبر 8‬ ‫‪ ,Filed under: Home‬ہوم, دیوبندی ازم —‬ ‫‪sulemansubhani @ 10:56 am‬‬ ‫لطیفہ نمبر 8 :-‬‫فضائل مصطفٰی آج مصلحۃً بیان کر دینا چاہئے تا کہ وہابیت‬ ‫کا شبہہ ختم ہو سکے ۔‬ ‫———————علمائے دیوبند کا نقطہ نظر‬ ‫فضائل کے لئے روایات درکار ہیں اور وہ مجھے یاد نہیں۔‬ ‫مولنا تھانوی کا ارشاد!!‬‫دارالعلوم دیوبند کے بڑے جلسے دستار بندی میں بعض اکابر‬‫نے ارشاد فرمایا کہ اپنی جماعت کی مصلحت کے لئے حضور‬ ‫صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فضائل بیان کئے جائیں تا کہ‬ ‫اپنے مجمع پر جو وہابیت کا شبہ ہے وہ دور ہو اور موقع‬ ‫بھی اچھا ہے کیونکہ اس وقت مختلف طبقات کے لوگ‬‫موجود ہیں۔ حضرت وال )’تھانوی صاحب’( نے باادب عرض‬ ‫کیا ،‬
  • ‫اس کے لئے روایات کی ضرورت ہے اور وہ روایات مجھ کو‬ ‫مستحفر نہیں۔ ) اشرف السوانح حصہ اول ص 67 (‬‫یہ حضرت وال وہی ہیں جن کے بارے میں بعض لوگوں نے‬ ‫یہ عقیدہ بنا رکھا ہے وہ حکیم المت، مجدد دین و ملت،‬‫آیۃ من آیات اللہ، حجۃ اللہ فی الرض اور نہ جانے کیا کیا‬ ‫ہیں۔ مگر قربان جائیے ان کے مبلغ علم اور جذبہ محبت‬ ‫رسول پر کہ حجۃ اللہ فی الرض اور آیۃ من آیات اللہ‬ ‫ہوتے ہوئے بھی نہ تو فضائل رسول کی روایات ان کو‬ ‫مستحضر ہیں اور نہ ہی بیان فضائل سے کچھ‬ ‫دلچسپی ۔‬ ‫‪Leave a Comment‬‬ ‫لطیفہ نمبر 7‬ ‫‪ ,Filed under: Home‬ہوم, دیوبندی ازم —‬ ‫‪sulemansubhani @ 10:55 am‬‬ ‫لطیفہ نمبر 7:-‬‫ان کی اوصاف شماری میں حد درجہ غلُو اور مبالغہ کیا‬ ‫گیا۔‬
  • ‫ان کو صحابہ و تابعین کیا معنٰی انبیاء سے بھی جا ملیا‬ ‫ہے۔‬ ‫دلداگان مولنا تھانوی کے بارے میں فاضل دیوبند مولنا‬ ‫اکبر آبادی کی رائے !‬ ‫ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ ان کی اوصاف شماری میں اس‬‫درجہ غلو اور مبالغہ کیا گیا ہے کہ ان کو صحابہ و تابعین‬ ‫کیا معنٰی انبیاء سے بھی جا ملیا ہے ۔) برہان دہلی مئی‬ ‫25ء ص 792 (‬ ‫‪Leave a Comment‬‬ ‫لطیفہ نمبر 6‬ ‫‪ ,Filed under: Home‬ہوم, دیوبندی ازم —‬ ‫‪sulemansubhani @ 10:53 am‬‬ ‫لطیفہ نمبر 6 :-‬‫جب آپ نے اکابر دیوبند کے دین و ایمان کو سمجھ لیا کہ ’’‬ ‫ایں خانہ ہمہ آفتاب است ’’ تو آئیے اب ان حضرات کے‬‫حالت کا بھی ایک سرسری جائزہ ان کی ہی روایات کی‬ ‫روشنی میں لیتے چلیں۔‬
  • ‫وہ اپنے معاملت میں تاویل و توجیہہ و اغماض‬ ‫ومسامحت سے کام لیتے تھے !‬ ‫انھوں نے اپنے ایک مرید کے کفری طرز عمل کے بارے میں‬ ‫نہیں کہا کہ کلمئہ کفر ہے۔ اور شیطانی فریب اس کفری‬ ‫طرز عمل کو غایت محبت پر محمول کر کے ٹال دیا۔‬‫مولنا تھانوی کے بارے میں فاضل دیوبند مولنا سعید احمد‬ ‫اکبر آبادی کی تحقیق!‬ ‫’’اپنے معاملت میں تاویل و توجیہہ اور اغماض و‬ ‫مسامحت کرنے کی مولنا میں جو خو تھی اس کا اندازہ‬ ‫ایک واقعہ سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ ایک مرتبہ کسی‬ ‫مرید نے مولنا کو لکھا کہ میں نے رات خواب میں دیکھا‬ ‫کہ میں ہر چند کلمئہ تشہید صحیح صحیح ادا کرنے کی‬‫کوشش کرتا ہوں لیکن ہر بار ہوتا یہ ہے کہ ل الٰہ ال اللہ کے‬ ‫بعد اشرف علی رسول اللہ منھ سے نکل جاتا ہے ظاہر ہے‬‫کہ اس کا صاف اور سیدھا جواب یہ تھا کہ کلمئہ کفر ہے‬ ‫شیطان کا فریب ہے اور نفس کا دھوکہ ہے۔ تم فورا توبہ‬‫کرو اور استغفار پڑھو۔ لیکن مولنا تھانوی صرف یہ فرما‬ ‫کر بات آئی گئی کر دیتے ہیں کہ تم کو مجھ سے غایت‬
  • ‫محبت ہے اور یہ سب اسی کا نتیجہ و ثمرہ ہے ’’ ) برہان‬ ‫دہلی فروری 2591 ء صفحہ 701 (‬ ‫‪Leave a Comment‬‬ ‫لطیفہ نمبر 5‬ ‫‪ ,Filed under: Home‬ہوم, دیوبندی ازم —‬ ‫‪sulemansubhani @ 10:51 am‬‬ ‫لطیفہ نمبر 5 :‬ ‫سوال : کیا ارشاد ہے علمائے دین کا اس شخص کے بارے‬ ‫میں جو کہے کہ اللہ تعالٰی کو زمان و مکان سے پاک اور‬ ‫اس کا دیدار بےجہت حق جاننا بدعت ہے اور یہ قول کیسا‬ ‫ہے ۔ بیّنو وتوجروا۔‬ ‫الجواب :‬ ‫یہ شخص عقائد اہلسنت سے جاہل اور بے بہرہ اور دہ‬‫مقولہ کفر ہے ۔ واللہ اعلم بندہ رشید احمد گنگوہی ) نشان‬ ‫مہر(‬ ‫الجواب صحیح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اشرف علی عفی عنہ‬ ‫حق تعالٰی کو زمان و مکان سے منزّہ ماننا عقیدہ اہل‬
  • ‫ایمان ہے اس کا انکار الحاد و زندقہ ہے اور دیدار حق‬ ‫تعالٰی آخرت میں بے کیف و بے جہت ہو گا ۔ مخالف اس‬ ‫عقیدے کا بد دین و ملحد ہے ۔کتبہ عزیز الرحمٰٰن عفی عنہ‬ ‫)نشان مہر( مفتی مدرسۃ دیوبند‬ ‫الجواب صحیح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بندہ محمود حسن عفی عنہ‬ ‫مدرس اول دیوبند ’’ وہ ہر گز اہل سنت سے نہیں ہے ’’‬ ‫حرّرہ المسکین عبد الحق‬ ‫الجواب صحیح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمود حسن مدرس دوم‬‫مدرسۃ شاہی ، مراد آباد ’’ ایسے عقیدے کو بدعت کہنے وال‬ ‫دین سے نا وا قف ہے’’ ابو الوفا ثناء اللہ ) نشان مہر(‬ ‫اب سنئے !‬‫عبارت کس کتاب کی ہے اور کس عالم کے قلم سے یہ باتیں‬ ‫نکلی ہیں ۔ ’’ایضاح الحق ’’ مولنا اسمٰعیل دہلوی کی‬‫تصنیف ہی بصورت استفتاء بھیجی گئی عبارت اسی کتاب‬ ‫کے صفحہ 53، 63 سے ماخوذ ہے ، ملحظہ فرمائیں۔‬ ‫تنزیہ او تعالٰی از زمان و مکان‬ ‫و جہت و اثبات رویت بل جہت و‬ ‫محاذات الخ ہمہ از قبیل بدعات‬
  • ‫حقیقہ است اگر صاحب آں اعتقادات‬ ‫مذکورہ را از جنس عقائد دینیہ می شمارد‬‫جب یہ راز فاش ہو گیا کہ اکابر دیوبند نے جس شخص کو‬ ‫جاہل بے بہرہ کافر، ملحد، زندیق، بے دین، اور غیر سنّی‬‫قرار دیا ہے وہ انہیں حضرات کے امام و پیشوا ، شہید بے نوا‬ ‫مولنا اسمٰعیل دہلوی ہیں تو مولنا رشید احمد گنگوہی کو‬ ‫اظہار افسوس ان الفاظ میں کرنا پڑتا ہے ۔‬‫ایضاح الحق ’’بندہ کو یاد نہیں ہے کیا مضمون اور کس کی‬ ‫تالیف ’’) فتاوٰے رشیدیہ کامل ص 632 ، کتب خانہ رحیمیہ‬ ‫دیوبند (‬ ‫‪Leave a Comment‬‬ ‫لطیفہ نمبر 4‬ ‫‪ ,Filed under: Home‬ہوم, دیوبندی ازم —‬ ‫‪sulemansubhani @ 10:50 am‬‬ ‫لطیفہ نمبر 4 :-‬ ‫حفظ الیمان کی ایک متنازعہ عبارت کا واحد حل !‬ ‫عبارت درج ذیل ہے،‬
  • ‫’’پھر یہ کہ آپ کی ذات مقدّسہ پر علم غیب کا حکم کیا‬‫جانا اگر بہ قول زید صحیح ہو تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ‬ ‫اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل ۔ اگر بعض علوم‬ ‫غیبیہ ہیں تو اس میں حضور ہی کی کیا تخصیص ہے ایسا‬ ‫علم تو زید و عمر و بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ بہائم کے‬ ‫لئے حاصل ہے ’’‬ ‫) حفظ الیمان مصنفہ مولنا تھانوی ص 7 (‬ ‫اس عبارت سے ایک معمولی اردو جاننے وال باآسانی‬ ‫سمجھ لے گا کہ مولنا تھانوی کے نزدیک نہ صرف فخر‬ ‫عالم غیب داں بلکہ زید و عمر و بلکہ ہر صبی و مجنون‬‫بلکہ بہائم بھی غیب داں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر علمائے دیوبند‬ ‫کے مطاع عالم مخدوم الکل مولنا رشید احمد گنگوہی‬ ‫فرماتے ہیں !‬‫یہ عقیدہ رکھنا کہ آپ کو علم غیب تھا صریح شرک ہے ۔ )‬ ‫فتاوٰی رشیدیہ کامل کتب خانہ رحیمیہ دیو بند ص 69(‬‫مولنا گنگوہی کے اس فتوٰے کی روشنی میں مولنا تھانوی‬ ‫کے مشرک ہونے میں کوئی کلم نہیں ۔ بہر حال مسلمانوں‬ ‫کا ایک گروہ اس عبارت کی تائید میں ایڑی چوٹی کا زور‬
  • ‫لگا کر صحیح اور درست ثابت کرنے میں لگا ہوا ہے اور‬‫دوسرا گروہ اسی شدومد کے ساتھ تردید میں مصروف ہے۔‬ ‫چناچہ بات بڑھتی گئی اور نتیجہ اچھا ، برا نکلتا رہا۔‬‫اس سلسلہ میں میری تحقیق یہ ہے کہ مولنا مدنی، مولنا‬‫مرتضٰی حسن، اور مولنا منظور احمد نعمانی کی تاویلت‬ ‫و توضیحات سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہی صحیح اور درست‬ ‫ہے چناچہ مولنا مدنی فرماتے ہیں !‬ ‫حضرت مولنا )تھانوی( عبارت میں لفظ ’’ایسا’’ فرمارہے‬‫ہیں لفظ ’’اتنا’’ تو نہیں فرماریے ہیں۔ اگرلفظ ’’ اتنا’’ ہوتا تو‬‫اس وقت البتہ احتمال ہوتا کہ معاذاللہ حضور علیہ السلم‬‫کے علم کو اور چیزوں کے برابر کر دیا۔ ) الشہاب الثاقب ص‬ ‫11 مطبع قاسمی دیوبند (‬ ‫آگے چل کر فرماتے ہیں ۔‬ ‫’’اس سے بھی قطع نظر کر لیں تو لفظ ایسا ’’تو کلمہ‬ ‫تشبیہہ کا ہے ’’‬ ‫مولنا مدنی کے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ ’’ عبارت‬ ‫مذکورہ ’’ میں لفظ ’’ ایسا ’’ تشبیہہ کے لئے ہے، اگر ’’ اتنا ’’‬ ‫یا ’’اس قدر’’ کے معنٰی میں ہوتا تو یقینا کفر تھا ۔‬
  • ‫اب دیکھئیے مولنا مرتضٰی حسن صاحب در بھنگی کیا‬ ‫فرماتے ہیں !‬ ‫واضح ہو کہ ’’ایسا’’ کا لفظ فقط ’’مانند اور مثل’’ ہی کے‬‫معنٰی میں مستعمل نہیں ہوتا بلکہ اس کے معنٰی ’’اسقدر’’‬‫اور ’’اتنے’’ کے بھی آتے ہیں جو جگہ )یعنی عبارت مذکورہ (‬ ‫متعین ہیں ۔ ) توضیح البیان ص 8 مطبع قاسمی دیوبند(‬ ‫مزید فرماتے ہیں !‬ ‫عبارت متنازعہ فیہا میں لفظ ایسا بمعنٰی ’’اس قدر اور‬ ‫اتنا’’ ہے پھر تشبیہہ کیسی؟ ) توضیح البیان ص 71 ‌(‬ ‫مولنا منظوربھی ایسا ہی فرماتے ہیں !‬ ‫حفظ الیمان کی اس عبارت میں بھی ’’ایسا’’ تشبیہہ کے‬ ‫لئے نہیں ہے بلکہ وہ یہاں بدون تشبیہہ کے اتنا کے معنی‬ ‫میں ہے ) فتح بریلی کا دلکش نظارہ ص 23 (‬ ‫تقریبا یہی مضمون کتاب مذکورہ کے صفحہ 43 ، 04، اور‬ ‫84، پر بھی ہے ۔ اس اجمالی گفتگو سے یہ بات واضح ہو‬‫گئی کہ مولنا مرتضٰی حسن اور مولنا منظور نعمانی اس‬‫بات پر متفق ہیں کہ عبارت متنازعہ فیہا میں لفظ ’’ ایسا’’‬ ‫بمعنی ’’اسقدر اور اتنا’’ ہے۔ اگر تشبیہہ کے لئے ہوتا تو‬
  • ‫موجب کفر ہوتا ۔‬‫اگر بالفرض اس عبارت کا وہ مطلب ہوا جو مولوی سردار‬ ‫احمد صاحب بیان کر رہے ہیں جب تو ہمارے نزدیک بھی‬ ‫موجب کفر ہے۔ ) ایضا (‬ ‫حاصل کلم !‬‫مولنا مرتضٰے حسن اور مولنا نعمانی کے نزدیک لفظ ایسا‬ ‫’’ بمعنٰٰی اتنا اور اس قدر ہے اگر تشبیہہ کے لئے قرار دیا‬ ‫جائے تو کفر ہے اور مولنا مدنی کے نزدیک لفظ ایسا‬ ‫تشبیہہ کیلئے ہے ۔ اگر بمعنٰی ’’اتنا اور اس قدر’’ قرار دیا‬ ‫جائے تو کفر ہے ۔‬ ‫حل !‬‫عبارت متنازعہ فیہا میں لفظ ایسا کے دو ہی معنٰی ہیں ۔ )‬ ‫1( یا تو تشبیہہ کے لئے ہے )2( یا بمعنی اس قدر یا اتنا ۔‬ ‫پہلی شق مولنا مرتضی حسن اور مولنا نعمانی کے‬ ‫نزدیک کفر ۔‬ ‫اور دوسری شق مولنا مدنی کے نزدیک کفر ۔‬‫اس سے معلوم ہوا کہ دونوں شقیں کفر ہیں ۔ اس عبارت‬ ‫متنازعہ کی کوئی تاویل نہیں ۔ نیز یہ نتیجہ بھی قدرتی‬
  • ‫طور پر برآمد ہو گیا کہ‬ ‫مولنا مرتضٰی حسن اور مولنا نعمانی دونوں کے دونوں‬ ‫مولنا مدنی کی تاویل کی روشنی میں کافر ۔‬ ‫اور مولنا مدنی بھی مولنا مرتضٰے حسن اور اور مولنا‬ ‫نعمانی کی تاویل کی روشنی میں کافر ۔‬ ‫فالحمد للہ رب العالمین‬ ‫الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں‬ ‫خود آپ اپنے دام میں صیّاد آگیا۔‬‫اس صورت حال کو دیکھ کر مجھے ایک اور شعر یاد آ گیا‬ ‫،‬ ‫ایسی ضد کا کیا ٹھکانہ دین حق پہچان کر‬ ‫ہم ہوئے مسلم تو وہ مسلم ہی کافر ہو گیا‬ ‫———-،،،،،۔۔۔۔۔۔،،،،————–‬ ‫‪Leave a Comment‬‬ ‫ٌلطیفہ نمبر 3‬ ‫‪ ,Filed under: Home‬ہوم, دیوبندی ازم —‬ ‫‪sulemansubhani @ 10:46 am‬‬
  • ‫ٌلطیفہ نمبر 3 :-‬‫سوال:- کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ ایک‬ ‫میلد خواں نے مندرجہ ذیل شعر محفل مولود میں نبی‬ ‫اکرم صلے اللہ علیہ وسلم کی نعت میں پڑھا ۔ شعر:‬ ‫جو چھو بھی دیوے سگ کوچہ تیرا اسکی نعش‬ ‫تو پھر بھی خلد میں ابلیس کا بنائیں مزار‬ ‫—————جواب———————-‬‫1: یہ شعر پڑھنا حرام اور کفر ہے ، اگر یہ سمجھ کر پڑھے‬ ‫کہ اس کا اعتقاد اور پڑھنا کفر ہے تب تو اس کا ایمان‬ ‫باقی نہ رہا اور اگر یہ علم نہ ہو تو اس کا پڑھنا اور‬‫اعتقاد کفر ہے ، یہ شخص فاسق اور سخت گنہگار ہے اس‬ ‫کو تابہ مقدور اس حرکت سے روکنا شرعا لزم ہے۔ احمد‬ ‫حسن 51 شوال 9631 ھ سنبھل‬ ‫2:- اس شعر کا مفہوم کفر ہے، لکھنے وال اور عقیدے سے‬‫پڑھنے وال خارج از ایمان ہے ایسے صریح الفاظ میں تا ویل‬ ‫کی گنجائش نہیں ۔ ظہور الدین سنبھل‬ ‫3:- کسی بے ہودہ اور جاہل آدمی کا شعر ہے ،بیوقوف اور‬ ‫بے ہودہ لوگ ہی ایسے مضمون سے محفوظ ہوتے ہیں، اگر‬
  • ‫یہ اس کا عقیدہ ہے تو کفر ہے۔ دیندار آدمی اس کے سننے‬ ‫سے بھی احتیاط کرنا چاہئیے۔ سعید احمد سنبھل‬ ‫4:- اس شعر کا نعت میں پڑھنا اور سننا دونوں کفر ہے۔‬ ‫وارث علی عفی عنہ سنبھل‬ ‫5:-تینوں حضرات دام ظلہم العالی کے جوابات کی میں‬ ‫بالکل موا موافقت کرتا ہوں )محمد ابراہیم عفی عنہ‬ ‫مدرسۃ الشرع سنبھل(‬ ‫6:- شعر مذکور اگر چہ نعت میں ہے لیکن حد شرع سے‬ ‫باہر ہے ایسا شعر نہ کہنے والے کو کہنا اور نہ پڑھنے والوں‬‫کو پڑھنا جائز ہے یہ غلو اور قبیح ہے محمد کفایت اللہ کان‬ ‫اللہ لہ۔ دہلی‬ ‫نمبر 2:- الف فتوٰے‬ ‫مذکورہ شعر اگر چہ آنخضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‬ ‫کی تعریف میں شاعر نے کہا ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ کہ‬ ‫شاعر شرعی اصول سے واقف نہیں ہے شعر میں حد‬ ‫درجہ کا لغو ہے جو اسلمی اصول کے کسی طرح مناسب‬‫نہیں ہے شاعر کافر اس وجہ سے نہیں ہو سکتا کہ شعر کا‬ ‫پہل مصرع شرط ہے )جو( معنٰی میں اگر کے ہے اور محال‬
  • ‫چیز کو فرض کر رکھا ہے۔ شرط کا وجود محال ہے اسلئے‬ ‫دوسرا مصرعہ جو بطور جزا کے ہے۔ اس کا مترتب ہونا‬ ‫بھی محال ہے مگر شعر نعت رسول سے بہت گرا ہوا اور‬ ‫رکیک ہے۔ ایسے غلو سے شاعر کو بچنا فرض اور ضروری‬ ‫ہے۔ ایسے اشعار سے آپ کی تعظیم نہیں ہوتی بلکہ توہین‬ ‫کا پہلو نمایاں ہو جاتا ہے ، یہ صحیح ہے کہ قرآن کے حکم‬ ‫کے مطابق ابلیس جنت میں نہیں جائے گا۔ مگر اس شعر‬ ‫کے قائل کو کافر نہیں کہہ سکتے کہ اس میں محال کو‬‫فرض کر رکھا ہے جب تک صحیح توجیہہ اس کے کلم کی‬‫ہو سکتی ہے اس وقت تک اس کے قائل کو کافر کہنا جائز‬ ‫نہیں۔ ایسے اشعار مولود میں پڑھنا نہیں چاہئے – واللہ‬ ‫اعلم‬ ‫کتبہ ۔ سیّد مہدی حسن صدر مفتی دارالعلوم دیوبند 31 /‬ ‫2 07ھ جمعہ‬ ‫یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہو گی کہ جس شعر پر‬ ‫مذکورہ مفتیان دیوبند نے کفر و ضللت کے فتوٰے صادر‬ ‫فرمائے ہیں۔ وہ شعر بانی دارالعلوم دیوبند مولنا قاسم‬ ‫نانوتوی کا ہے گویا مذکورہ مفتیوں نے اپنے ’’ قاسم العلوم‬
  • ‫والخیرات’’ کو ہی کافر و فاسق قرار دیا ہے۔ ملحظہ ہو‬ ‫شعر مع حوالہ ۔۔،‬ ‫جو چھو بھی دیوے سگ کوچہ تیرا اسکی نعش‬ ‫تو پھر تو خلد میں ابلیس کا بنائیں مزار‬ ‫) ماخوذ از قصائد قاسمی مصنفہ مولنا قاسم نانوتوی‬ ‫ص 77 مطبوعہ ساڈھورہ ضلع انبالہ(‬ ‫مختصر یہ کہ مولنا قاسم نانوتوی مذکورہ مفتیوں کی‬ ‫نظر میں ،‬ ‫1:- کافر، بے ایمان، فاسق، اور سخت گنہگار ہیں۔)عالم‬ ‫دیوبند مفتی احمد حسن سنبھل(‬ ‫2:-مولنا کے شعر کا مفہوم کفر، اس میں تاویل کی‬ ‫گنجائش نہیں۔) عالم دیوبند مفتی ظہور الدین سنبھل(‬ ‫3:-مولنا بے ہودہ اور جاہل آدمی ہیں۔ ) عالم دیوبند مفتی‬ ‫سعید احمد سنبھل(‬ ‫4:- مولنا کے اس شعر کو نعت میں لکھنا اور پڑھنا‬ ‫دونوں کفر۔ ) عالم دیوبند مفتی وارث علی سنبھل(‬‫5:- مولنا کا کافر، بے ہودہ اور جاہل ہونا بالکل صحیح ہے۔ )‬ ‫عالم دیوبند مفتی محمد ابراہیم مدرسۃ الشرع(‬
  • ‫6:- مولنا کا یہ شعر حد شرع سے باہر ، غلو اور قبیح ہے۔ )‬ ‫عالم دیوبند مفتی محمد کفایت اللہ، دہلی(‬ ‫7:- مولنا شرعی اصول سے ناواقف، حد درجہ غالی اور‬‫توہین رسول کے مرتکب ہیں۔ ان کا یہ شعر بہت گرا ہوا اور‬ ‫رکیک ہے۔ ) صدر مفتی دارالعلوم دیوبند سیّد مہدی حسن‬ ‫صاحب(‬ ‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔————۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬ ‫‪Leave a Comment‬‬ ‫مہتمم دیوبند کے خلف مفتی دیوبند کا فت و ٰی‬ ‫‪ ,Filed under: Home‬ہوم, دیوبندی ازم —‬ ‫‪sulemansubhani @ 10:45 am‬‬ ‫لطیفہ نمبر 2 :-‬ ‫مہتمم دیوبند کے خلف مفتی دیوبند کا فتوٰی‬ ‫ملحد، بے دین، عیسائیت و قادیانیت کی روح‬ ‫قاری طیب جب تک توبہ نہ کریں ان کا بایئکاٹ کیا جائے،‬ ‫ہمارے علماء کے مشاغل دینیّہ کی عبرت انگیز مثالیں !‬ ‫2 جنوری ہفت روزہ ’’ دور جدید’’ دہلی کی موٹی موٹی‬
  • ‫سرخیاں !‬ ‫اسی فتوے کے بارے میں جناب ابو محمد امام الدین رام‬ ‫نگری اپنے ماہنامہ انوار اسلم ص 7 تحریر فرماتے ہیں :-‬ ‫یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ سرخیاں کتنی ہولناک اور‬ ‫پریشان کن ہیں ’’دور جدید’’ کی اسی اشاعت میں‬ ‫دوسری جگہ استفتاء اور صدر مفتی دارالعلوم دیوبند‬ ‫مولنا سیّد مہدی حسن صاحب کا فتوٰی بھی نظر سے‬‫گزرا۔ واقعہ یہ ہے کہ حضرت مولنا قاری طیب صاحب کی‬ ‫کوئی نئی کتاب شائع ہوئی ہے جس کا نام ہے ’’اسلم اور‬‫مغربی تہذیب ’’ اس کتاب کے بعض اقتباسات سے کسی نے‬ ‫استفتاء مرتب کر کے مولنا مفتی مہدی حسن صاحب کے‬ ‫پاس بھیجدیا- اور کتاب کا حوالہ نہیں دیا ، مفتی صاحب‬ ‫نے شریعت کا حکم بیان کر دیا۔ بعد ازاں مستفتی نے‬ ‫استفتاء اور فتوٰی اس وضاحت کے ساتھ کہ اقتباسات‬ ‫حضرت مہتمم صاحب کی کتاب کے ہیں۔ اخبار ’’دعوت’’‬ ‫میں شائع کیا۔ ) انوار اسلم فروری 36ء ص 7 کالم 2(‬ ‫اب اخبار ’’ دعوت’’ ملحظہ فرمائیں ۔‬ ‫کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ‬
  • ‫اگر کوئی عالم دین ’’ فارسلنا الیھا روحنا فتمثل لھا بشرا‬‫سویا کی تشریح اور اس سے درج ذیل نتائج اخذ کرتے ہوئے‬ ‫اس طرح لکھے:‬ ‫اقتباس 1 :- یہ دعوٰی تخیل یا وجدان محض کی حد سے‬‫گزر کر ایک شرعی دعوٰی کی حیثیت میں آجاتا ہے کہ مریم‬‫عذرا کے سامنے جس شبیہہ مبارک اور بشر سویّ نے نمایاں‬ ‫ہو کر پھونک ماردی وہ شبیہ محمدی تھی۔‬ ‫اس ثابت شدہ دعوے سے مبیّن طریق پر خود بخود کھل‬‫جاتا ہے کہ حضرت مریم رضی اللہ عنھا اس شبیہہ مبارک‬ ‫کے سامنے بمنزلہ زوجہ کے تھیں جب کہ اس کے تصرف‬ ‫سے حاملہ ہوئیں۔‬ ‫اقتباس 2:- پس حضرت مسیح کے ابنیت کے دعوے دار ایک‬ ‫ہم بھی ہیں مگر ابن اللہ مان کر نہیں بلکہ ابن احمد‬ ‫کہکر خواہ وہ ابنیت تمثالی ہی ہو۔‬‫اقتباس 3:- حضور تو بنی اسرائیل میں پیدا ہو کر کل انبیاء‬‫کے خاتم قرار پائے اور عیسٰی علیہ السلم بنی اسرائیل میں‬ ‫پیدا ہو کر اسرائیلی انبیاء کے خاتم کئے گئے جس سے ختم‬ ‫نبوت کے منصب میں ایک گونہ مشابہت پیدا ہو گئی۔ ) ابو‬
  • ‫لد سر لبیہ(‬ ‫اقتباس 4:-‬ ‫بہرحال اگر خاتمیت میں حضرت مسیح علیہ السلم کو‬‫حضور سے کامل مناسبت دی گئی تھی تو اخلق خاتمیت‬‫میں بھی مخصوص مشابہت و مناسبت دی گئی جس سے‬ ‫صاف واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت عیسوٰی کو بارگاہ‬‫محمدی سے خَلقا و خُلقا ،رتبا ومقاما ایسی ہی مناسبت ہے‬‫جیسی کہ ایک چیز کے دو شریکوں میں یا باپ بیٹوں میں‬ ‫ہونی چاہئے۔‬‫براہ کرم مندرجہ بال اقتباسات کے متعلق قرآن حدیث کی‬ ‫روشنی میں دیکھتے ہوئے اس کی صحت اور عدم صحت‬ ‫کو ظاہر کر کے بتائیں کہ ایسا شرعی دعوٰی کرنے وال‬ ‫اہلسنت والجماعت کے نزدیک کیسا ہے؟ )المستفتی(‬ ‫الجواب :- جو اقتباسات سوال میں نقل کئے ہیں اس کا‬ ‫قائل قرآن عزیز کی آیات میں تحریف کر رہا ہے بلکہ در‬ ‫پردہ قرآنی آیات کی تکذیب اور ان کا انکار کر رہا ہے ،‬ ‫جملہ مفسرین نے تفاسیر میں تصریح کی کہ وہ جبرئیل‬ ‫علیہ السلم تھے جو مریم علیہا السلم کی طرف بھیجے‬
  • ‫گئے ۔ وہ شبیہہ محمدی نہ تھی ، آنحضرت صلے اللہ علیہ‬ ‫وآلہ وسلم اور صحابہ نے کبھی یہ نہ سمجھا کہ ان مثل‬ ‫عیسٰی عند اللہ کمثل اٰدم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن‬ ‫فیکون ۔ کلمۃ القاھا الٰی مریم و روح منہ، فارسلنا الیھا‬ ‫روحنا فتمثل لھا بشرا سویا ) الٰی قولہ تعالٰی( فقال انما‬ ‫انا رسول ربک لھب لک غلما زکیا۔ قال ربک ھو علی‬ ‫ھین ولنجعلہ اٰیۃ للناس الٰی اٰخر ال ٰیات۔ ما کان محمد ابا‬ ‫احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النبیین کے قائل‬ ‫تھے اور اسی پر اجماع امت ہے کہ وہ فرشتہ تھا جو‬ ‫حضرت مریم کو خوشخبری سنانے آیا تھا۔ شخص مذکور‬ ‫ملحد و بے دین ہے اور اس ضمن میں عیسائیت کے عقیدے‬ ‫عیٰسی ابن اللہ کو صحیح ثابت کرنا چاھتا ہے جس کی‬‫تردید علی رؤس الشہاد قرآن نے کی ہے نیز ل تطرونی کما‬ ‫اطرت النصاری عیسٰی بن مریم ) الحدیث(‬ ‫ببانگ دہل شخص مذکورہ کی تردید کرتی ہے ۔‬ ‫الحاصل یہ اقتباسات قرآن و حدیث و جملہ مفسرین اور‬ ‫اجماع امت کے خلف ہیں مسلمانوں کو ہرگز اس طرف‬ ‫کان نہ لگانے چاہئے بلکہ ایسے عقیدے والے کا بائیکاٹ کرنا‬
  • ‫چاہئے۔ جب تک توبہ نہ کرے۔ واللہ تعالٰی اعلم‬ ‫سیّد مہدی حسن مفتی دارالعلوم دیوبند‬‫اب سنئے کہ عبارت کس کتاب کی ہے اور کس عالم کے قلم‬‫سے یہ باتیں نکلی ہیں؟ اسلم اور مغربی تہذیب کے عنوان‬ ‫سے قاری طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند کی نئی‬ ‫کتاب چھپی ہے۔ اسی سے یہ اقتباسات لئے گئے ہیں اور ان‬‫ہی اقتباسات پر دارالعلوم کے مفتی صاحب نے فتوٰی یہ دیا‬ ‫کہ ایسے عقیدے والے کا بائیکاٹ کیا جانا چاہئے جب تک کہ‬ ‫وہ توبہ نہ کرے ) دعوت سہ روزہ ایڈیشن 22 دسمبر‬ ‫2691 ء صفحہ اول بعنوان ’’خبر و نظر’’(‬ ‫نبی کریم کے خلف صف آرا ہونے والوں کا سفینہ ء حیات‬ ‫جب طوفان خود فریبی میں ہچکولے کھانے لگا تو اس‬ ‫ہولناک صورت حال سے پریشان ہو کر حلقہ بگو شان‬ ‫دیوبند یہاں تک کہنے پر مجبور ہوئے۔‬ ‫استفتاء اور فتوے کی اشاعت اور اس بات کے معلوم‬ ‫ہوجانے کے بعد کہ فتوٰی مولنا محمد طیب کی کتاب کے‬ ‫متعلق ہے ہم نہیں جانتے کہ حضرت مولنا اور مفتی‬ ‫صاحب اور دارالعلوم پر اس کا رد عمل کیا ہوا؟ لیکن‬
  • ‫مولنا کے افکار و نظریات کو دیکھ کر ہمیں بڑی وحشت‬‫ہوئی۔ معلوم نہیں ان کو کیا ہو گیا ہے، اور اسلم و مغربی‬ ‫تہذیب میں مفاہمت کا یہ کون سا طریقہ ہے جو انہوں نے‬ ‫اختیار کیا ہے؟‬ ‫ہمیں حیرت ہے کہ مولنا محمد طیب صاحب کے دماغ میں‬ ‫ایسی باتیں کیسے پیدا ہوئیں، کیسے قلم سے نکلیں اور‬ ‫کیسے ان کی اشاعت ہو گئی؟‬ ‫ناشر بھی تو عالم ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہتمم دارالعلوم کے‬ ‫خلف مفتی دارالعلوم کا فتوٰے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کتنی قابل‬ ‫افسوس اور عبرتناک صورت حال ہے ۔ ) انوار اسلم‬ ‫فروری 36ء ص 8 (‬‫بہر حال مفتی دارالعلوم کے فتوے کی روشنی میں مہتمم‬‫دارالعلوم مولنا محمد طیب کی شرعی پوزیشن یہ متعیّن‬ ‫ہوتی ہے :-‬ ‫1: قرآن عزیز کی آیات میں تحریف کرنے کے سبب محرف‬ ‫قرآن ہیں۔‬ ‫2:بلکہ در پردہ قرآنی آیات کی تکذیب و تردید کے سبب‬ ‫منکر کتاب اللہ اور مکذب آیات قرآن ہوئے۔‬
  • ‫3:قاری صاحب موصوف ملحد و بے دین ہیں۔‬‫4:عیسائیت اور قادیانیت کی روح ان کے جسم میں سرایت‬ ‫کئے ہوئے ہے ۔‬‫5:وہ عیسائیت کے عقیدے ’’عیسٰی ابن اللہ’’ کو صحیح ثابت‬ ‫کرنا چاہتے ہیں۔‬ ‫6:مہتمم صاحب موصوف کے یہ اقتباسات قرآن وحدیث‬ ‫اور جملہ مفسرین اور اجماع امت کے خلف ہیں۔‬ ‫7:ان کو بائیکاٹ کرنا چاہئے جب تک توبہ نہ کریں۔‬ ‫مہتمم صاحب موصوف کی اس بے دینی اور الحاد پسندی‬ ‫پر پردہ ڈالنے کے لئے موصوف کےمحب صادق ابو محمد‬ ‫امام الدین رام نگری یہ مشورہ دے رہے ہیں۔‬ ‫’’دعوت’’ میں فتوٰے کی اشاعت کے تقریبا ایک ماہ کے بعد‬ ‫یہ شذرہ لکھا جا رہا ہے۔ ابھی تک جناب مولنا محمد‬‫طیب صاحب یا جناب مفتی صاحب کا بیان بھی شائع نہیں‬‫ہوا۔ ضرورت ہے کہ کتاب کی اشاعت روک دی جائے ۔ ) انوار‬ ‫اسلم فروری 36ء ص 8 (‬ ‫غور فرمائیے ! قاری صاحب پر الحاد و بے دینی کا فتوٰے‬
  • ‫لگے۔ آج ساتواں سال ہے ۔ یعنی 2691ء میں قاری صاحب‬ ‫ملحد و بے دین قرار دیئے گئے اور آج 8691ء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے ۔‬ ‫پھر بھی نہ قاری صاحب کو علمائے دیوبند نے بائیکاٹ کیا‬ ‫اور نہ ہی اساتذہ دارالعلوم ان سے قاطع تعلق ہوئے ۔‬‫درانحالے کہ ابھی تک قاری طیب صاحب نے اعلن توبہ نہ‬ ‫کرکے اسی ملحدانہ اور بے دینی کی روش کو اپنا رکھا ہے‬‫اس کا کھل اور واضح مطلب صرف یہ ہے کہ ایسا شخص‬‫جو صدر مفتی دارالعلوم دیو بند کے فتوٰے کی روشنی میں‬ ‫’’ ملحد اور بے دین’’ ہو۔ محرف قرآن و مکذب آیات ربانیہ‬ ‫ہو ۔ نیز عیسائیت وقادیانیت کی روح ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ‬‫دارالعلوم دیوبند کے انتظام و اہتمام کی مسند عالی پر فائز‬ ‫ہو سکتا ہے اور اس منصب کا مستحق اسے قرار دیا‬‫جاسکتا ہے۔ایسی صورت میں خود دارالعلوم دیوبند کو، کیا‬ ‫اسلمی اور روحانی ادارہ قرار دیا جاسکتاہے۔جہاں کا‬ ‫مہتمم و منتظم خود وہیں کے صدر مفتی کی نظر میں ’’‬ ‫ملحد و بے دین ’’ ہو فیصلہ بذمئہ ناظرین ہے۔‬
  • ‫اردو اسلمی پاکستانی معلوماتی بلگ‬ ‫7002 ,51 ‪January‬‬ ‫مزا ر ِ ” بے چارہ و بے کار کا قصہ‬ ‫‪ ,Filed under: Home‬ہوم, دیوبندی ازم —‬ ‫‪sulemansubhani @ 8:02 pm‬‬ ‫)مبصر: سید وجاہت رسول قادری(‬‫1 ۔ قبر پر گنبد )عمارت( بنانا یا قبر کو پختہ کرکے‬ ‫مزار بنانا ناجائز ہے۔‬ ‫2 ۔ قبر پر فاتحہ/ میلد پڑھنا ناجائز ہے۔‬ ‫)مفتی کفایت اللہ دہلوی دیوبندی، کفایت‬ ‫المفتی، ج: 1 ، ص: 242 ، 632 ، دارالشاعت،‬ ‫کراچی 1002 ء(‬
  • ‫علمائے دیوبند بشمول جناب اشرفعلی تھانوی‬ ‫صاحب کا پختہ قبر کی تعمیر اور مزار پر‬‫حاضری اور ایصا ل ِ ثواب کے حوالے سے یہ متفقہ‬ ‫اور واضح فتو ی ٰ ہے لیکن اس واضح فتو ی ٰ کے‬ ‫باوجود دیوبندیوں کے شیخ مولوی اشرفعلی‬ ‫تھانوی صاحب کو خانقا ہ ِ امدادیہ اشرفیہ کی‬‫عمارت میں دفن کیا گیا اور اس پر “ پخت ہ مزار ”‬ ‫اور ق ب ّہ بھی تعمیر کیا گیا جہاں دیوبندی‬ ‫حضرات بشمول مہتمم و مجاور مولوی نجم‬ ‫الحسن تھانوی صاحب، حدیث “شد ّ رحال ” کی‬ ‫مخالفت کرتے ہوئے معمول کے مطابق حصو ل ِ‬ ‫برکت کے لئے روزانہ حاضری دیتے تھے۔ ایک‬ ‫اخباری اطلع ) ر و زنام ہ جنگ کراچی، مورخہ‬‫91 دسمبر 6002 ء/ روزنامہ امت کراچی، مورخہ‬‫02 دسمبر 6002 ء ( کے مطابق کسی “ شرپسن د ” یا‬ ‫“ دہش ت گرد ” نے درج بال دیوبندی فتوی پر عمل‬ ‫کرتے ہوئے ان کی “ پخت ہ مزار ” اور خانقاہ کے‬ ‫احاطے، ان کے بھائی مظہر علی “ خا ن بہادر ”‬
  • ‫) ج و برطانوی دو ر ِ حکومت میں انگریزوں کے‬ ‫سی۔آئی۔ڈی ایجنٹ تھ ے ( ، ان کی اہلیہ، ان کے‬ ‫“ خلیف ہ ” اور سابق مہتمم و مجاور خانقا ہ ِ‬‫امدادیہ اشرفیہ مولوی ظہور الحسن اور خاندان‬ ‫کے چند دیگر افراد کی قبروں کو مسمار کرکے‬ ‫زمین کے برابر کردیا اور قبروں کو بری طرح‬ ‫کھود ڈال اور وہاں سوائے گڑھے کے کچھ نہ‬ ‫چھوڑا، یعنی ہڈیاں تک بھی اٹھالے گئے۔ اس‬ ‫طرح مجاو ر ِ خانقا ہ ِ تھانویہ کی ذراسی کوتاہی‬ ‫نے جناب اشرفعلی تھانوی صاحب کی مٹی تو‬ ‫خراب کی ہی لیکن اس طرح وہ خود اپنی بھی‬‫مٹی خراب کر بیٹھے۔ جب مٹی کی بات چل نکلی‬‫ہے تو دیوبندیوں کے امام اسماعیل دہلوی صاحب‬‫کا فتو ی ٰ بھی ملحظہ ہوجائے۔ وہ فرماتے ہیں کہ‬ ‫معاذ اللہ انبیاءکرام بھی “ م ر کر مٹی میں مل‬ ‫جاتے ہیں” ، تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا‬‫اشرفعلی تھانوی صاحب معاذ اللہ ثم معاذ اللہ‬ ‫انبیاءکرام سے بڑھ کر تھے کہ ان کی قبر میں‬
  • ‫مٹی کے ڈھیر کے علوہ کچھ اور بھی بچا ہو۔‬ ‫بہر حال اپنی جھینپ مٹانے کے لئے نجم الحسن‬ ‫تھانوی صاحب نے اس عمل کو “ مزا ر ” کی بے‬ ‫حرمتی قرار دیتے ہوئے حکوم ت ِ ہند سے سخت‬ ‫احتجاج کیا ہے اور ہندو دہشت پسند تنظیم آر۔‬ ‫ایس۔ایس ) ر ا شٹری ا سیوک سنگ ھ ( کو اس‬ ‫“ گھناؤنے ” کام کا ذمہ دار ٹھہراکر مجرموں کو‬ ‫قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔‬ ‫تعجب انگیز امر یہ ہے کہ جب 6291 ءمیں‬ ‫نجدیوں نے جنت المع ل ّی، جنت البقیع، شہدائے‬ ‫احد، اور طائف میں صحابہ کرام، تابعین، تبع‬ ‫تابعین، ائمہ کرام، اہ ل ِ بیت، جید ائمہ امت‬ ‫محمدیہ، محدثین، فقہا اور صلحائے امت کے‬ ‫مزارات تاخت و تاراج کئے اور ان پر گدھوں کے‬‫ہل چلوائے ) م ع ا ذ الل ہ ( اس وقت دیوبندی امت کے‬ ‫تمام علماءمہر لب تھے بلکہ انہوں نے نجدیوں‬‫کے بادشاہ کو فتح مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ پر‬ ‫مبارکباد کے خطوط اور تار روانہ کئے تھے۔‬
  • ‫) ح و ال ہ کے لئے ملحظہ ہ و : تبلیغی جماعت۔‬ ‫مصنفہ علمہ ارشد القادر ی ( ۔ امت محمدیہ کے‬ ‫ان نہایت مقدس بزرگ و برتر شخصیات کے‬ ‫ٔ‬ ‫مزارات کے انہدام سے دیوبندی حضرات کے جذبہ‬ ‫ایمانی کو کوئی ٹھیس نہ پہنچی تو آج “ غی ر‬ ‫معروف مزارات ” کے اکھاڑدینے پر واویل کیسا؟‬‫بہت سے لوگوں کو تو یہ خبر پڑھ کر بھی حیرت‬‫ہوئی کہ ان حضرات کے بھی مزارات ہوسکتے ہیں‬ ‫کہ جنہوں نے زندگی بھر مزار تعمیر کرنے کو‬‫حرام اور مزارا ت ِ اولیاءپر حاضری دینے والوں کو‬‫“ مزار پرست” ، “ قبروں کے پجاری ” کہہ کر مشرک‬ ‫ہونے کے فتوے جاری کئے۔‬ ‫ایں چہ شور بست کہ در دور قمر بینم !‬ ‫ادھر پاکستان میں تھانوی صاحب کے کچھ‬ ‫متبعین یہ شور مچارہے ہیں کہ تھانوی صاحب‬ ‫تحری ک ِ پاکستان کے عظیم رہنما تھے اس لئے‬‫حکوم ت ِ پاکستان کو اس واقعہ پر ہندوستان سے‬
  • ‫احتجاج کرنا چاہئے۔ اس سلسلے میں انہی کے ہم‬‫مسلک ڈاکٹر سلمان شاہجہانپوری کا حوالہ یہاں‬‫بطور گھر کی گواہی کافی ہوگا کہ ڈاکٹر سلمان‬ ‫شاہجہان پوری، دیوبند کے مہتمم قاری محمد‬ ‫احمد ابن قاسم نانوتوی کی طرف سے انگریز‬‫گورنر یوپی کے خطبہ استقبالیہ کے متن کا حوالہ‬ ‫دیتے ہوئے تحریر کرتے ہی ں :‬ ‫“ غو ر فرمایئے یہ ) د یوبند ی ( حضرات نصیب کی‬‫یاوری پر فخر کررہے ہیں اور کس زندگی کو “ گ م‬ ‫نامی اور تاریکی کی قعرمذل ت ” قرار دے رہے‬ ‫ہیں؟ علوم و فنو ن ِ اسلمی کی تعلیم و تدریس‬‫اور اس کی اشاعت کو؟ صبح و شام “ قا ل اللہ و‬ ‫قال الرسول ” ) ع ز وج ل و صلی اللہ تعال ی ٰ علیہ‬ ‫وسل م ( کے ورد کو اور اعما ل ِ اسلمی کو؟ اور‬‫کس چیز کو “ باع ث ِ ممنونیت و سعادت ” قرار دے‬ ‫رہے ہیں؟ ) ا ن گریزوں کی خوشامد اور غلمی‬‫کو ؟ ( مزید حیرت اس بات پر ہے کہ ان کے اخلف‬‫کا دعو ی ٰ ہے کہ ملک کی آزادی کی جنگ میں ان‬
  • ‫کا حصہ ہے اور پاکستان کا قیام ان کی کوششوں‬ ‫کا رہی ن ِ م ن ّت ہے ۔ ” ) ت ح قیق ی مقالہ “ مولنا عبید‬‫اللہ سندھی کا دیوبند سے اخراج۔۔۔ پس منظر کے‬ ‫واقعات پر ایک نظر ” ماہنامہ الولی، حیدر آباد،‬ ‫سندھ۔ اگست 1991 ءتا نومبر 1991 ء (‬ ‫حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دیوبندی علماءو‬ ‫اسکالرز اپنے عظیم عالم اشرفعلی تھانوی‬‫صاحب کے بابائے قوم کے نام لکھے گئے جس خط‬ ‫کو علمائے دیوبند کی تحری ک ِ پاکستان میں مثبت‬ ‫کردار کے ثبوت کے لئے بطو ر ِ سند استعمال کرتے‬ ‫چلے آئے ہیں وہ بھی انہی کے ایک محقق جناب‬ ‫پروفیسر محمد شمیم غازی تھانوی، مقیم‬ ‫کراچی، کی تحقیق کے مطابق قطعی جعلی ہے۔‬ ‫) ت فص ی ل کے لئے ملحظہ ہو اخبار روزنامہ جنگ،‬ ‫کراچی۔ مورخہ 42 اپریل 5002 ء، کالم “ روز ن ِ‬ ‫دیوار سے” ۔ کالم نگا ر : عطاءالحق قاسم ی (‬
  • ‫“ مزا ر ” تھانوی کے مجاور نے مزید ستم یہ ڈھایا‬‫ہے کہ اب جبکہ وہاں قبروں کی جگہ بقول ان کے‬ ‫صرف گڑھے رہ گئے ہیں تو وہ ان خالی گڑھوں‬ ‫پر دوبارہ جھوٹی اور جعلی قبریں اور مزارات‬ ‫بنارہے ہیں تو اب کیا فرماتے ہیں علمائے دیوبند‬ ‫اس سلسلہ میں؟‬ ‫حیرت کی بات یہ ہے کہ 71 دسمبر 6002 ء) ہ ف ت ہ‬ ‫اور اتوار کی ش ب ( یہ چھ قبروں اور احاطہ کی‬ ‫مسماری اور باقاعدہ کھدائی کی کاروائی یقینا‬ ‫ایک درجن سے زائد تجربہ کار مزدوروں نے کی‬ ‫ہوگی لیکن اس کی کانوں کان خبر نہ پڑوس‬‫میں رہنے والے مجاور/ مہتمم صاحب کو ہوئی اور‬ ‫نہ اردگرد کے لوگوں کو ہوئی اور نہ ہی اتنی‬‫بڑی جماعت کو مع اوزار/ کدال/ بیلچہ وغیرہ آتے‬‫ہوئے اور بھاگتے ہوئے کسی نے دیکھا۔ اس سے یہ‬ ‫ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے “ شرپسن د ” گھر کے ہی‬ ‫بھیدی تھے اس لئے وہ پہچانے نہیں گئے اور وہ‬ ‫بڑے اطمینان سے اپنی کاروائی کرکے “ فاتحان ہ ”‬
  • ‫انداز میں چہل قدمی کرتے ہوئے اپنے اپنے‬ ‫“حجروں” میں چلے گئے۔‬‫ہم اہ ل ِ سنت و جماعت تو ابتداءہی سے‬ ‫مومن کی عزت و حرمت اور مزارا ت ِ اولیاءاور‬ ‫مومن کی قبر کے تقدس کے قائل ہیں۔ ہمیں‬ ‫جناب نجم الحسن صاحب سے بھی ہمدردی ہے‬ ‫کہ ان کی خانقاہ کو ظلم و بربریت کے ساتھ‬‫اجاڑ کر ان کو بے روزگار کردیا گیا، لیکن اس کے‬‫علوہ اور ہم کہہ بھی کیا سکتے ہیں کہ ایں ہمہ‬ ‫آوردہ تس ت! اور پھر یہ کہ ع‬ ‫ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگ ی!‬ ‫‪Leave a Comment‬‬ ‫6002 ,8 ‪December‬‬ ‫شیخ محمد بن عبد الوہاب نجدی‬ ‫‪ ,Filed under: Home‬ہوم, وہابی ازم, دیوبندی ازم —‬ ‫‪sulemansubhani @ 11:08 pm‬‬
  • ‫شیخ محمد بن عبد الوہاب نجدی 3071 ھ 5111‬‫ع تا 2971 ھ 2061 ع بارھویں صدی کی ابتداء‬ ‫میں پیداہوئے ، ان کی شخصیت نے ملت اسلمیہ‬‫میں افتراق اور انتشار کا ایک نیا دروازہ کھول ،‬ ‫اہل اسلم می ں ‌کتاب و سنت کے مطابق جو‬‫معمولت صدیوں سے رائج تھے ، انہوں نے ان کو‬‫کفر اور شرک قرار دیا ، مقابر صحابہ اور مشاہد‬ ‫و مآثر کی بے حرمتی کی ، قبہ جات کو مسمار‬ ‫کیا ، رسومات صحیحہ کو غلط معنی پہنائے اور‬ ‫ایصال ثواب کی تمام جائز صورتوں کی غلط‬ ‫تعبیر کرکے انہیں الذبح لغیر اللہ اور النزر لغیر‬ ‫اللہ کا نام دیا ، توسل کا انکار کیا اور انبیاء‬ ‫کرام علیہم السلم اور صلحاء امت سے استمداد‬ ‫اور استغاثہ کو یدعون من دون اللہ کا جامہ‬ ‫پہناکر عبادت لغیراللہ قرار دیا ، انبیاء علیہم‬ ‫السلم ، ملئکہ کرام ، اور حضور تاجدار مدنی‬‫محمد مصط ف ٰی صلی اللہ علیہ وسلم سے شفاعت‬ ‫طلب کرنے والو ں ‌کے قتل اور ان کے اموال لوٹنے‬
  • ‫کو جائز قرار دیا۔‬‫شیخ نجدی نے جس نئے دین کی طرف لوگوں کو‬‫دعوت دی ، وہ عرف عام میں وہابیت کے نام سے‬ ‫مشہور ہوا اور ان کے پیروکار وہابی کہلئے‬ ‫چنانچہ خود شیخ نجدی کے متبعین اپنے آپ کو‬ ‫برمل وہابی کہتے اور کہلتے ہیں چنانچہ علمی‬ ‫طنطاوی نے لکھا ہے :‬ ‫امامحمد ، فھو صاحب الدعوۃ التی عرفت‬ ‫بالوھابیۃ‬‫) محمد بن عبد الوہاب نے جس تحریک کی دعوت‬ ‫دی تھی ، وہ وہابیت کے نام سے معروف ہے (۔۔‬ ‫) شیخ علی طنطناوی جوہری مصری متفوفی‬‫8531 ھ ، محمد بن عبد الوہاب نجدی صفحہ 31‬ ‫(‬ ‫‪Leave a Comment‬‬ ‫6002 ,12 ‪November‬‬ ‫کش ف ِ راز نجدیت‬
  • ‫‪ ,Filed under: Home‬ہوم, دیوبندی ازم —‬ ‫‪sulemansubhani @ 12:11 am‬‬ ‫بسم اللہ الرح م ٰن لرحیم‬‫الصل و ٰۃوالسلم علیک یارسول اﷲ وعل ی ٰ الک‬ ‫واصحابک یاحبیب اﷲ‬ ‫کش ف ِ راز نجدیت‬ ‫نجدیا سخت ہی گندی ہےطبیعت تیری‬ ‫کفر کیا شرک کا فضلہ ہےنجاست تیری‬ ‫خاک منھ میں ترےکہتا ہےکسےخاک کا ڈھیر‬ ‫م ِٹ گیا دین ملی خاک میں عزت تیری‬ ‫تیرےنزدیک ہوا کذ ب ِ ا ل ٰہی ممکن‬ ‫تجھ پہ شیطان کی پھٹکار یہ ہمت تیری‬ ‫بلکہ کذاب کیا تو نےتو اقراروقوع‬ ‫ا ُف رےناپاک یہاں تک ہےخباثت تیری‬ ‫علم شیطاں کا ہوا عل م ِ نبی سےزائد‬‫پڑھوں لحول نہ کیوں دیکھ کےصورت تیری‬ ‫بز م ِ میلد کانا کےجنم سےبدتر‬ ‫ارےاندھےارےمردود یہ جراءت تیری‬
  • ‫عل م ِ غیبی میں مجانین و بہائم کا شمول‬ ‫کفرآمیز جنوں زا ہے ج َہالت تیری‬‫یا د ِ خ ُر سےہو نمازوں میں خیال ا ُنکا ب ُرا‬ ‫ا ُف جہنم کےگدھے ا ُف یہ خرافت تیری‬ ‫ا ُن کی تعظیم کرےگا نہ اگر وق ت ِ نماز‬ ‫ماری جائےگی تیرےمنھ پہ عبادت تیری‬‫ہےکبھی بوم کی ح ِ ل ّت تو کبھی زاغ حلل‬‫جیفہ خوری کی کہیں جاتی ہےعادت تیری‬‫ہنس کی چال تو کیا آتی گئی اپنی بھی‬ ‫اجتہادوں ہی سےظاہر ہےحماقت تیری‬‫کھلےلفظوں میں کہےقاضی شوکاں المدد‬‫یا علی س ُن کےبگڑ جاتی ہےطبیعت تیری‬ ‫تیری اٹکےتو وکیلوں سےکرےاستمداد‬ ‫اور طبیبوں سےمدد خواہ ہو ع ل ّت تیری‬ ‫ہم جو اللہ کےپیاروں سےاعانت چاہیں‬ ‫شرک کا چ ِرک ا ُگلنےلگی ملت تیری‬ ‫عب د ِ وہاب کا بیٹا ہوا شی خ ِ نجدی‬ ‫اس کی تقلید سےثابت ہےضللت تیری‬
  • ‫ا ُسی مشرک کی ہےتصنیف کتا ب ُ التوحید‬ ‫جس کےہر فقرہ پہ ہے م ُہ ر ِ صداقت تیری‬‫ترجمہ اس کاہوا دھکۃ الیما ن ) تقویۃ الیمان (‬ ‫نام‬ ‫جس سےبےنور ہوئی چش م ِ بصیرت تیری‬ ‫واق ف ِ غیب کا ارشاد سنائوں جس نی‬ ‫کھولدی تجھ سےبہت پہلےحقیقت تیری‬ ‫زلزلےنجد میں پیدا ہوں،فتن برپا ہوں‬ ‫یعنی ظاہر ہو زمانےمیں شرارت تیری‬ ‫ہو ا ِسی خاک سےشیطان کی سنگت پیدا‬ ‫دیکھ لےآج ہےموجود جماعت تیری‬ ‫سر م ُنڈےہوں گےتو پاجامےگھٹنےہونگی‬ ‫سر سےپا تک یہی پوری ہےشباہت تیری‬ ‫ا ِ د ّعا ہوگا حدیثوں پر عمل کرنےکا‬ ‫نام رکھتی ہےیہی اپنا جماعت تیری‬ ‫ا ُن کےاعمال پہ رشک آئےمسلمانوں کو‬ ‫ا ِس سےتو شاد ہوئی ہوگی طبیعت تیری‬ ‫لیکن ا ُترےگا نہ قرآن گلوں سےنیچی‬
  • ‫ابھی گھبرا نہیں باقی ہےحکایت تیری‬ ‫نکلیں گےدین سےیوں جیسےنشانہ سےتیر‬ ‫آج اس تیر کی نخچر پہ ہےسنگت تیری‬ ‫اپنی حالت کو حدیثوں کےمطابق کرلی‬ ‫آپ کھل جائیگی پھر تجھ پہ خباثت تیری‬ ‫چھوڑ کر ذ ِکر ترا ا َب ہےخطاب اپنوں سی‬ ‫کہ ہےمبغوض مجھےدل سےحکایت تیری‬ ‫! م ِرےپیارے م ِرےاپنے م ِرے س ُ ن ّی بھائی‬ ‫آج کرنی ہےمجھےتجھ سےشکایت تیری‬‫تجھ سےجو کہتا ہوں تو د ِل سے س ُن انصاف بھی‬ ‫کر‬ ‫کرےاللہ کی توفیق حمایت تیری‬ ‫گر ت ِرےباپ کو گالی دےکوئی بےتہذیب‬ ‫غ ص ّہ آئےابھی کچھ اور ہو حالت تیری‬ ‫گالیاں دیں ا ُنہیں شیطا ن ِ لعین کے پ َیرو‬ ‫ج ِن کےصدقےمیں ہےہر د َولت و نعمت تیری‬ ‫جو تجھےپیار کریں جو تجھےاپنا فرمائیں‬ ‫جن کے د ِل کو کرےبےچین اذیت تیری‬
  • ‫جو ت ِرےواسطےتکلیفیں اٹھائیں کیا کیا‬ ‫اپنےآرام سےپیاری جنہیں صورت تیری‬ ‫جاگ کر راتیں عبادت میں جنہوں نےکاٹیں‬ ‫کس لئے؟ ا ِس لئےکٹ جائےمصیبت تیری‬ ‫حشر کا دن نہیں جس روز کسی کا کوئی‬ ‫اس قیامت میں جو فرمائیں شفاعت تیری‬ ‫ا ُن کےدشمن سےتجھے ر َبط رہےمیل رہی‬ ‫شرم اللہ سےکر کیا ہوئی غیرت تیری‬ ‫تو نےکیا باپ کو سمجھا ہےزیادہ ا ُن سی‬ ‫جوش میں آئی جو ا ِس درجہ حرارت تیری‬‫ا ُن کےدشمن کو اگر تو نےنہ سمجھا د ُشمن‬ ‫وہ قیامت میں کریں گےنہ رفاقت تیری‬‫ا ُن کے د ُشمن کا جو دشمن نہیں سچ کہتاہوں‬ ‫دعو ی ٰ بےاصل ہےجھوٹی ہےمحبت تیری‬ ‫بلکہ ایمان کی پوچھےتو ہےایمان یہی‬ ‫ا ُن سےعشق ا ُن کےعدو سےہو عداوت تیری‬ ‫ا َہ ل ِ س ُ ن ّت کا عمل تیری غزل پر ہو حسن‬‫جب میں جانوں کہ ٹھکانےلگی محنت تیری‬
  • ‫‪Leave a Comment‬‬ ‫6002 ,02 ‪November‬‬ ‫حسام الحرمین کی حقانیت و صداقت و ثقاہت‬ ‫‪ ,Filed under: Home‬ہوم, اہلسنت والجماعت, امام‬ ‫احمد رضا خان, دیوبندی ازم — @ ‪sulemansubhani‬‬ ‫‪11:42 pm‬‬‫وہ رضا کےنیزےکی مار ہےکہ عدو کےسینےمیں غار‬ ‫ہے ٭‬ ‫کسےچارہ جوئی کا وار ہےکہ یہ وار وار سےپار‬ ‫ہے‬ ‫حسام الحرمین کی حقانیت و صداقت و ثقاہت‬ ‫الشہاب الثاقب و المہند کی بےبسی و پسپائی‬ ‫اور ناکامی‬ ‫کلک رضا ہے خنجر خونخو ار برق بار‬ ‫اعداء سے کہد و خیر منائیں نہ شر کریں‬ ‫الحمد اللہ ثم الحمد اللہ !‬‫گستاخان رسول ، منکرین ضروریات دین ، باغیان‬
  • ‫ختم نبوت کےخلف اکابر و مشاہر علماءو‬‫فقہاءعرب وعجم و اعاظم مفتیان حرمین طیبین‬‫کےحکم شرعی فتاو ی ٰ حسام الحرمین عل ی ٰ منحر‬ ‫الکفر والمین کو شائع ہوئےایک سو سال‬‫ہوگئےاور حسام الحرمین کا پرچم پوری آب و تاب‬‫اور جاہ جلل کےساتھ لہرارہا ہےاور خرمن باطل‬ ‫و اہل ارتداد پر برقبار ہے۔‬ ‫یاد رکھنا چاہئےاور ذہن نشین کر لینا چاہئےکہ‬ ‫سیدنا امام اہلسنت سرکار اعل ی ٰ حضرت مجدد‬‫دین و ملت شیخ السلم والمسلمین مولنا الشاہ‬ ‫احمد رضا خاں صاحب فاضل بریلوی رضی اللہ‬ ‫عنہ نےکسی پر بل وجہ خواہ مخواہ تکفیر کا‬‫حکم جاری نہیں فرمایا جو عناصر تنقیص الوہیت‬ ‫توہین رسالت اور انکار ختم نبوت کےمرتکب اور‬‫منکر ضروریات دین ثابت ہوئےانہیں پہلےہر شرعی‬ ‫رعایت دی گئی ا ُن کو انکےاقوال کفریہ قطعیہ‬ ‫اور گستاخانہ عبارات سےبذریعہ خطوط مطلع‬‫اور آگاہ کیا گیا بار بار رجسٹریاں بھیج کر مطلع‬
  • ‫اور آگاہ کیا گیا گستاخانہ کفریہ عبارات سےتوبہ‬ ‫اور رجوع کی تلقین فرمائی گئی ،‬‫آمنےسامنےبیٹھ کر گفتگو کی دعوت دی گئی مگر‬ ‫اہل توہین و تنقیص زمین پکڑ گئےدین کےمسئلہ‬ ‫کو عزت نفس کا مسئلہ بنالیا ، انانیت پر اتر‬ ‫آئےضد و ہٹ دھرمی کو نصب العین بنالیا ناچار‬ ‫مجدداعظم اعل ی ٰ حضرت امام اہلسنت قدس‬ ‫سرہ نےفرمایا‬ ‫اف رے منکر یہ بڑھا جوش تعصب آخر‬ ‫بھیڑ میں ہاتھ سےکمبخت کےایمان گیا‬ ‫اور تم پر مرےآقا کی عنایت نہ سہی‬ ‫نجدیو کلمہ پڑھانےکا بھی احسان گیا‬‫امام المحتاطین امام اہلسنت اعل ی ٰ حضرت رضی‬ ‫اللہ عنہ نےاپنی طرف سےکچھ فرمانےاور‬ ‫لکھنےکےبجائےتحذیر الناس ، براہین قاطعہ ،‬ ‫حفظ الیمان ، فتو ی ٰ گنگوہی وغیرہ کی اصل‬ ‫بعینہ عبارات اکابر و اعاظم علماءو‬‫فقہاءحرمین طیبین کےسامنےرکھ کر حکم شرعی‬
  • ‫طلب کیا اور توہین پر تکفیر ہوئی اگر کوئی‬‫توہین نہ کرتا تکفیر نہ ہوتی اور اگر اہل توہین و‬ ‫تنقیص توبہ و رجوع کرلیتےتو بھی تکفیر نہ‬‫ہوتی مگر آہ افسوس کہ توبہ اور رجوع کرنا ان‬ ‫کےمقدر میں نہ تھا تو اہل توہین کی توہین‬ ‫آمیزگستاخانہ کفریہ عبارات پر تکفیر کا حکم‬ ‫شرعی حسام الحرمین کی صورت میں اکابر‬ ‫علماءحرمین کی طرف سےجاری ہوا‬ ‫نہ تم توہین یوں کرتےنہ ہم تکفیر یوں کرتے‬ ‫نہ لگا کفر کا فتو ی ٰ نہ یوں رسوائیاں ہوتیں‬ ‫نہ توہین کرتے نہ تکفیر ہوتی‬ ‫رضا کی خطا اس میں اغیار کیا ہی‬ ‫53 جلیل القدر اکابر و اعاظم علماءو‬‫فقہاءحرمین طیبین نےاہل توہین کی اصل کتابیں‬ ‫دیکھ کر مترجمین سےاردو سےعربی میں ترجمہ‬‫کرواکر حکم شرعی واضح فرمایا ۔مخالفین کا یہ‬ ‫کہنا ایک حیلہ اور بہانہ بلکہ بد ترین فریب و‬ ‫فراڈ ہےکہ علماءحرمین طیبین ارد و نہیں‬
  • ‫جانتےتھےدھوکہ دیکر فتو ی ٰ لیا ۔ یہ اہل توہین‬ ‫ہندی و انگریزی مولوی کٹی پٹی عربی‬‫جانتےہیں ، تو کیا علماءحرمین ہر سال کثیر تعداد‬‫میں ہندوستان سےحج کیلئےجانےوالےعلماءو عوام‬ ‫سےملکر اردو زبان سےواقف نہ ہوں گےاور کیا‬ ‫انہیں تکفیر جیسا نازک و حساس فتو ی ٰ‬ ‫لکھتےوقت مترجم میسرنہ آیا ہوگا اتنےعظیم‬ ‫متبحر و تجربہ کار کہنہ مشق مفتیان کرام اور‬ ‫وہ بھی اہل حرم اکابر کو کوئی دھوکہ و‬ ‫مغالطہ کس طرح دےسکتا ہے۔‬ ‫: : الشھاب الثاقب و المھند : :‬ ‫کےمرتبین و مصنفین نےضرور اپنےاکابر کی‬‫عبارات میں کتر بیونت و ترمیم و تحریف کی اور‬ ‫مذکورہ بال کتب میں اپنےاکابر کی عبارات کا‬ ‫حلیہ بگاڑ کر نقل کیں علماءو عوام کو مغالطہ‬ ‫اور صریح ا َ دھوکہ دیا جس کا دل چاہےدودھ کا‬ ‫دودھ پانی کا پانی کرکےدیکھ لے، اکابر دیوبند‬ ‫کی گستاخانہ کتب اور توہین آمیز عبارات‬
  • ‫تحذیرالناس ، براہین قاطعہ ، حفظ الیمان ،‬‫فتو ی ٰ گنگوہی وقوع کذب کی پہلےحسام الحرمین‬ ‫سےمطابقت کرلیں اور پھر المہند والشہاب‬‫الثاقب سےمطابقت کرلیں صاف طور پر واضح ہو‬ ‫جائےگا کہ المہند و الشہاب الثاقب میں انہوں‬ ‫نےخود اپنےاکابر کی عبارات کفریہ کا حلیہ بگاڑ‬‫کر نقل کیں اور خود خیانت و بد دیانتی کی مثال‬ ‫قائم کی ۔‬ ‫یاد رکھنا چاہئےکہ جب حسام الحرمین پر‬ ‫علماءحرمین طیبین دھوم دھام سےڈنکےکی‬ ‫چوٹ تصدیقات فرمارہےاور تقریظات لکھ‬ ‫رہےتھےتو بےچارہ مصنف المہند مولوی خلیل‬ ‫انبیٹھوی سہانپوری وہیں تھا اور کانگریسی‬ ‫گاندھوی مدنی مولوی حسین احمد اجودھیا‬ ‫باشی ٹانڈوی بھی وہیں حجاز مقدس میں رہتا‬ ‫تھا سیدنا اعل ی ٰ حضرت امام اہلسنت مجدد دین‬ ‫و ملت فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کی جللت‬ ‫علمی تاب نہ لسکتےتھےوہیں آمنےسامنےگفتگو‬
  • ‫کیوں نہ کرلی اسی وقت علماءحرمین کو حسام‬‫الحرمین پر تقریظات لکھنےسےمنع کیوں نہ کردیا‬ ‫کہ جناب یہ دھوکہ دیا جارہا ہےمگر وہاں تو یہ‬ ‫لوگ لب باندھےدم سادھےرہےمولوی خلیل‬ ‫انبیٹھوی چھپ چھپاکر چند اشرفیاں بطور‬ ‫رشوت دیکر اپنا الو سیدھا کرنےکےلئےرئیس‬ ‫العلما ءمولنا شیخ صالح کمال کی خدمت میں‬ ‫حاضر ہوا کہ حضور آپ مجھ سےناراض ہیں ،‬ ‫ئیس العلما ءنےفرمایا تیرا نام خلیل انبیٹھوی‬ ‫ہے؟ مولنا صالح کمال نےفرمایا میں تو‬ ‫تجھےزندیق لکھ چکا ہوں انبیٹھوی نےکہا جو‬ ‫باتیں میری طرف نسبت کی گئی ہیں وہ میری‬ ‫کتاب میں نہیں لوگوں نےمجھ پر افترا کیا ۔‬ ‫مولنا صالح کمال نےفرمایا تمہاری کتاب براہین‬ ‫قاطعہ چھپ کر شائع ہو چکی ہے، مولوی خلیل‬ ‫انبیٹھوی نےمجبور ا َ کہا حضرت کیا کفر سےتوبہ‬‫قبول نہیں ہوتی ، مولنا نےفرمایا ہوتی ہےمولوی‬ ‫انبیٹھوی اپنی براہین کی کفریہ عبارات سےتوبہ‬
  • ‫کا وعدہ کرکےجدہ بھاگ گئےاور تین سال بعد‬ ‫جوڑ توڑ اور ہیرا پھیری کرکےاپنےتمام اکابر ہند‬ ‫کےتعاون و تصدیقات سےالمہند نامی بزعم خود‬‫حسام الحرمین کےرد میں لکھ مارا جو از اول تا‬ ‫آخر سراپا کذب صریح جھوٹ اور دروغگوئی کا‬ ‫بد ترین نمونہ ہے۔ مولوی خلیل انبیٹھوی‬‫نےاپنےخالص وہابیانہ عقائد کو چھپایا اور خلف‬‫واقع اپنےعقائد سنیوں کےسےظاہر کئےوہابیوں اور‬ ‫محمد بن عبد الوہاب نجدی کو سخت برا بھل‬‫گستاخ و مکفر اور علماءاہلسنت کا قاتل قرار دیا‬‫۔میلد تو میلد سواری کےگدھےکےپیشاب کا تذکرہ‬ ‫بھی اعل ی ٰ درجہ کا مستحب قرار دیا۔خود کو‬‫سنی ظاہر کرکےوہابیوں پر سخت لعن و طعن کیا‬ ‫، گویا وہابی ان کےسوا کوئی اور ہے، المہند‬ ‫کےسوال بھی خود گڑھےاور فریب کاریوں‬ ‫کےخول چڑھا کر مغالطہ آمیز جواب بھی خود‬ ‫ہی دیئے، اعل ی ٰ حضرت قدس سرہ نےحسام‬ ‫الحرمین پر 53 مسلمہ اکابر علماءحرمین کی‬
  • ‫تصدیقات حاصل کی تھیں ۔ جبکہ خلیل انبیٹھوی‬ ‫صاحب سر دھڑ کی بازی لگاکر بمشکل 6‬‫علماءکی تصدیقات المہند پر حاصل کرسکا ، جن‬ ‫میں 2 حضرات مولنا سید محمد مالکی اور‬ ‫مولنا محمد علی بن حسین نےاپنی تصدیقات‬ ‫واپس لےلیں ان میں ایک مولنا شیخ محمد‬ ‫صدیق افغانی تھےعلماءحرم سےنہ تھے۔ باقی‬ ‫بھرتی ہندی وہابی مولویوں کی تھی اور سب‬‫سےبڑی بات یہ کہ المہند میں اپنےاکابر کی اصل‬‫کفریہ عبارات بعینہ و بلفظہ نقل نہ کیں ، مقام‬ ‫غور و لمحہ فکریہ ہے۔‬ ‫محترم حضرات !! المہند کا بغور مطالعہ کریں‬‫اور دیکھیں کہ وہابیوں اور محمد بن عبد الوہاب‬‫شیخ نجدی کو کتنا برا بھل کہا گیا ہے، یہ مکاری‬ ‫اور عیاری تھی خلیل انبیٹھوی کی ۔وہابیوں اور‬ ‫شیخ نجدی کےمتعلق اصل حقیقی رائےوہ ہےجو‬ ‫انہوں نےاپنےدو مکتوبات ) خ طو ط ( محررہ 22‬ ‫ربیع الثانی 5431 ھ اور محررہ ماہ رجب‬
  • ‫المرجب 5431 ھ کتاب اکابر کےخطوط صفحہ‬‫11, 21 پر مولوی محمد زکریا سابق امیر تبلیغی‬ ‫جماعت کےنواسےمولوی محمد شاہد مظاہری‬ ‫نےشائع کئےاور ماہنامہ النو ر تھانہ بھون ماہ‬ ‫رجب 5431 ھ میں مولوی اشرفعلی تھانوی‬‫دیوبندی نےصفحہ 32 پر شائع کئے۔جن میں محمد‬ ‫بن عبد الوہاب شیخ نجدی اور نجدی وہابی‬ ‫سعودی حکومت اور انکےعلماءکی بھر پور‬ ‫قصیدہ خوانی کی گئی ہےاور والہانہ خراج‬ ‫عقیدت پیش کیا گیا ہے۔دیوبندی ، وہابی مفرور‬ ‫مناظر مولوی منظور سنبھلی نےبھی مولوی‬‫انبیٹھوی صاحب کےیہ خط اپنی کتاب شیخ محمد‬ ‫بن عبد الوہاب اور ہندوستان کےعلماءحق‬‫کےصفحہ 34 پر نقل کرکےان کےمستند ہونےپر مہر‬ ‫تصدیق ثبت کردی ہے‬ ‫مولوی انبیٹھوی اور مولوی ٹانڈوی‬ ‫دونو ں جنہوں نےبزعم خود و بزعم جہالت‬ ‫حسام الحرمین کا نام نہاد برائےنام رد لکھ کر‬
  • ‫حقیقت و صداقت کا منہ چڑایا مولوی خلیل‬ ‫انبیٹھوی اور مولوی حسین احمد کانگریسی‬ ‫ٹانڈوی ا ُن دنوں وہیں حرمین شریفین میں‬ ‫موجود تھےدیکو ملفوظات اعل ی ٰ حضرت پہل‬ ‫حصہ بلکہ خود شکست خوردہ مفرور مناظر‬ ‫مولوی منظور سنبھلی مدیر الفرقان نےبھی‬ ‫تسلیم کیا ہےکہ مولوی خلیل انبیٹھوی ان دنوں‬‫حرم مکہ معظمہ میں تھا اور تسلیم کیا ہےکہ “‬ ‫حضرت مولنا حسین احمد مدنی جو 6131 ھ‬ ‫سے 3331 ھ تک مسلسل 81,71 سال مدینہ‬‫منورہ میں مقیم رہےتو ان دونوں حضرات نےوہیں‬ ‫امام اہلسنت اعل ی ٰ حضرت مجدد و دین و ملت‬‫فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ سےآمنےسامنےگفتگو‬‫کیوں نہ کرلی ؟ اگر ہمت و جرات اور استعداد و‬ ‫قابلیت تھی اور کفریہ گستاخانہ عبارات‬ ‫کےبارےمیں ان کا موقف مضبوط تھا تو‬ ‫علماءحرمین طیبین کا حسام الحرمین پر‬ ‫تصدیقات کرتےتقریظات لکھنےسےکیوں نہ روک‬
  • ‫دیا مگر حقیقت یہ ہے‬ ‫تیرےاعداءمیں رضا کوئی بھی منصور نہیں‬ ‫بےحیا کرتےہیں کیوں شور بپا تیرےبعد‬ ‫المہند اور شھاب ثاقب‬ ‫میں ایک ایک فریب و فراڈ اور جعلسازی کا‬ ‫مجموعہ ہےتو دوسرا گالی نامہ ہےجس میں‬ ‫غلیظ ترین بازاری زبان استعمال کی گئی ہے۔‬‫محترم حضرات !! خود مطابقت کرلیں کہ حسام‬‫الحرمین میں جن جن اکابر و مشاہیر علماءمکہ‬ ‫مدینہ کی تصدیقات و تقریظات ہیں مزہ تو جب‬‫تھا کہ ان سب علماءسےالمہند و شہاب ثاقب پر‬‫تصدیقات حاصل کی جاتیں اور یہ لکھوادیا جاتا‬ ‫کہ ہمیں ) علماءحرمین ( کو دھوکہ و مغالطہ‬ ‫دیکر مولنا احمد رضا خاں صاحب نےنےحسام‬ ‫الحرمین پر غلط تصدیقات کروائیں اور تحذیر‬ ‫الناس ، براہین قاطعہ اور حفظ الیمان کی‬ ‫عبارات حق و عین اسلم ہیں ۔ مگر ایسا نہ‬ ‫کراسکےتو المہند اور شھاب ثاقب کو حسام‬
  • ‫الحرمین کا رد اور جواب کیسےقرار دیا جاسکتا‬ ‫ہے۔ بفضلہ تعال ی ٰ حسام الحرمین کل بھی‬‫لجواب تھا اور آج بھی لجواب ہےاور انشاءاللہ‬ ‫صبح قیامت تک لجواب رہےگا ۔‬ ‫پڑگیا ہےپشت پر اعداءکےاب کیا جائےگا‬ ‫تیرےکوڑوں کا نشاں احمد رضا خاں قادری‬ ‫چیر کر اعداء کا سینہ دل سےگزری وار پار‬ ‫تیرےنیزےکی سناں احمد رضا خاں قادری‬ ‫یاد رہےکہ المہند کا مدلل و محقق ایک جواب‬ ‫صدر الفاضل مولنا نعیم الدین مرادآبادی‬ ‫رحمۃاللہ علیہ نےالتحقیقات لدفع التلبیسات‬‫کےنام سےاور ایک قاہر رد بلیغ شیر بیشہ اہلسنت‬‫مولنا محمد حشمت علی خان صاحب رحمۃ اللہ‬ ‫علیہ نےفی الفور ا ُسی زمانےمیں لکھ کر شائع‬ ‫فرمادیا تھا اور مولوی خلیل احمد صاحب اور‬‫مولوی حسین احمد صاحب کو پہنچادیا تھا جس‬ ‫کےجواب الجواب سےمخالفین عاجز و قاصر و‬ ‫بےبس ہیں ۔‬
  • ‫:: ح سا م الحرمین والمہند کا معنی و مفہوم : :‬ ‫حسام الحرمین کا معنی ہے “ مکہ مدینہ کی تیز‬ ‫کاٹنےوالی تلوار ” “ مکہ مدینہ کی تیز تلوار ”‬ ‫) ح س ن اللغات () ا ل م نج د (‬ ‫المہند کا معنی ہے “ ہندوستانی لوہےکی تلوار ”‬ ‫) ا لم نج د (‬ ‫بھل ہندوستانی لوہےکی تلوار مکہ معظمہ اور‬‫مدینہ منورہ کی تیز کاٹنےوالی تلوار کا کیا مقابلہ‬‫کرسکتی ہے۔ تلوار اہل ایمان اہل حرمین کا ہتھیا‬ ‫رہےہندی لوگوں کا ہتھیار برچھی بھال ہے،‬ ‫برچھی بھال تلوار کا کیا مقابلہ کرسکتی ہیں ۔‬ ‫صنم کدہ ہند کےہندی لوہےکی کیا عظمت اور کیا‬ ‫قدر و قیمت ہوسکتی ہےمکہ و مدینہ کی تیز‬ ‫کاٹنےوالی تلوار کےمقابلہ میں اس کی کیا‬ ‫حیثیت ؟‬ ‫شہاب ثاقب کا معنی ہے “ آگ کا روشن شعلہ ”‬ ‫آسمان پر ٹوٹنےوال ستارہ ) ا ل منجد ، حسن‬ ‫اللغات ، فیروزللغات ، امیر اللغات ( و غ یر ہ‬
  • ‫آگ کا شعلہ مکہ مدینہ کی تیز تلوار کا کیا بگاڑ‬ ‫سکےگا ؟ آسمان سےستارےکم و بیش ہر شب‬ ‫ٹوٹتےہیں بتایا جائےان سےکتنی تلواریں کنڈم اور‬ ‫ناکارہ ہوئی ہیں اسی طرح المہند اور الشہاب‬ ‫الثاقب بھی آج تک حسام الحرمین کا کچھ نہ‬ ‫بگاڑ سکے۔‬ ‫اگر المہند اور شہاب ثاقب نےحسام الحرمین کا‬‫کچھ بگاڑا ہوتا تو جب سےابتک المہند اور شہاب‬‫الثاقب کےجتنی بھی ایڈیشن چھپےہیں، مخالفین‬ ‫کو باربار ہر بار ضمنی اور اضافی اوروضاحتی‬‫مضامین کا اضافہ کرنا پڑا ہےہمارےپاس مخالفین‬ ‫کی قابل اعتراض گستاخانہ کتابوں کےکئی کئی‬ ‫ایڈیشن ہیں اور المہند اور شھاب ثاقب کےبھی‬ ‫کئی کئی ایڈیشن ہیں جو ایک دوسرےسےمختلف‬ ‫و متضاد ہیں ، اور ان میں الفاظ و عبارات کی‬‫کمی و بیشی کی ہےجو احساس کمتری کا نتیجہ‬ ‫ہےیہ لوگ خود بھی اپنےاکابر کی کتابوں‬ ‫کےمندرجات سےمطمئن نہیں ایک مضمون میں‬
  • ‫اس بات کی تفصیل بیان کرنا ممکن نہیں ، ہاں‬ ‫اتنا ضرور کہونگا ملتان کےمکتبہ صدیقہ‬ ‫سےچھپنےوال اور کراچی کےمکتبہ تھانوی دفتر‬‫البقا سےچھپنےوال المہند کے 23,23 صفحات ہیں‬ ‫اور عرفی نام عقائد علمائےدیوبند ہےمگر اب‬ ‫کراچی اور کتب خانہ مجید یہ ملتان اور اتحاد‬‫ڈپو مدرسہ دیوبند یوپی سےجو المہند چھپا ہےان‬ ‫میں ضمنی مضامین کی بھرمار کرکےاس‬ ‫کےصفحات 881 ہیں اور نام بھی بدل دیا‬ ‫پہلےعقائد علمائےدیوبند عرفی نام تھا اور اب‬ ‫جو تین ایڈیشن نئےشائع ہوئےان کا عرفی نام “‬‫یعنی عقائد علمائےاہلسنت دیوبند ” ہے۔ مقصد یہ‬ ‫کہ کچھ بھی جس طرح بھی بن پڑےعوام کو‬ ‫دھوکہ اور مغالطہ دیکر گمراہ کیا جائے۔ یہ‬ ‫بھی چیلنج ہےہمیں بتایا جائے “ المہند ” کا یہ‬ ‫معنی یعنی عقائد علماءدیوبند یا اب عقائد‬ ‫علماءاہلسنت دیوبند کہاں اور کس کتاب میں‬‫لکھا ہے؟؟ سیدنا سرکار اعل ی ٰ حضرت رضی اللہ‬
  • ‫عنہ نےٹھیک ہی تو فرمایا تھا‬ ‫سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے‬ ‫سونےوالوجاگتےرہیو چوروں کی رکھوالی ہے‬ ‫: : یہی حال توہین آمیز گستاخانہ کتابوں کا ہ ے : :‬‫ہمارےپاس تقویۃ الیمان ، تحذیر الناس ، براہین‬‫قاطعہ ، حفظ الیمان وغیرہ وغیرہ کےکئی کئی‬‫ایڈیشن ہیں جو ایک دوسرےسےمختلف اور متضاد‬ ‫ہیں مفہوم نہیں عبارتیں بدل گئی ہیں ۔ مگر‬‫سیدھےطریقےسےسچےدل سےپکی توبہ اور رجوع‬ ‫کرنےکی توفیق نصیب نہ ہوئی ، یہ بھی حسام‬ ‫الحرمین کی حقانیت و صداقت و ثقاہت کی‬ ‫روشن دلیل ہے، اختصار مانع ہےچند حوالہ جات‬‫ملحظہ ہوں ہمارےپاس کتب خانہ رحیمیہ دیوبند‬ ‫ضلع سہارنپور کا شائع کردہ الشہاب الثاقب‬ ‫ہےجس کے 111 صفحات ہیں مگر اب جو انجمن‬‫ارشاد المسلمین لہور نےالشہاب الثاقب کا ترمیم‬‫و اضافہ اور دلیرانہ تحریف و خیانت کےساتھ جو‬ ‫جدید ایڈیشن شائع کیا ہی،اس کےصفحات 092‬
  • ‫ہیں اور عوام کو گمراہ کرنےکےلئےجو پیوند‬‫کاریاں کیں ٹاکیاں لگائیں گالی گفتار سمیت 405‬ ‫صفحات ہیں ۔ تحذیرالناس ایک مختصر رسالہ‬ ‫تھا کتب خانہ امدایہ دیوبند اور انار کلی لہور‬‫کےتین ایڈیشن تین چھاپےعلی الترتیب 84,25,26‬ ‫صفحات کےہیں لیکن اب مکتبہ حفیظیہ‬ ‫گوجرانوالہ کےشائع کردہ جدید ایڈیشن کے 821‬ ‫صفحات ہیں جسمیں کذاب مصنف خالد محمود‬ ‫مانچسٹروی نےمقدمہ کےعنوان سےاپنی‬ ‫دوکانداری چمکائی ہے، کسی عزیر الرحمان‬‫نےطویل ترین حاشیےلکھےہیں اور شکست خوردہ‬‫مفرور مناظر کا طویل ترین مقالہ توضیح عبارات‬ ‫کےعنوان سےشامل کیا گیا ہےاور جعل سازی کی‬ ‫قابلیتیں ختم کردیں ۔یہ اعل ی ٰ حضرت مجدد دین‬‫و ملت سیدنا امام احمد رضا خاں رضی اللہ عنہ‬ ‫اور فتاو ی ٰ حسام الحرمین کی عظیم فتح و‬ ‫نصرت اور بےمثال کامیابی و کامرانی ہےکہ اہل‬ ‫توہین کی گستاخانہ کتابیں اصل شکل و صورت‬
  • ‫میں نہ رہیں اور خود مخالفین کو ان پر ترمیمات‬ ‫و تحریفات کےخول چڑھانےپڑےمگر گستاخانہ‬ ‫عبارات سےتوبہ میسر نہ آئی ۔‬ ‫:: ت و ہی ن آمیز کتابوں کی عبارتیں بدل دیں : : یہ‬‫مضمون کوئی مستقل کتاب نہیں اس لئےاختصار‬ ‫سےکام لینا پڑرہا ہےاور نور مدینہ ڈاٹ نیٹ پہ‬‫آئےہوئےدیوبندی کو ٹھنڈا کرنےکےلئےرقم کیا جارہا‬ ‫ہے۔‬‫محترم حضرات !! اب ایک نظارہ عبارتیں بدلنےکا‬ ‫بھی دیکھ لیں ۔ تقویۃ الیمان کےبیسوں‬ ‫ایڈیشنوں میں لکھا ہے “ ف یعنی میں بھی ایک‬ ‫دن مر کر مٹی میں ملنےوال ہوں ” ) میر محمد‬ ‫کتب خانہ کراچی صفحہ 75 (‬ ‫لیکن اب جدید اور دیگر مقامات‬‫سےچھپنےوالےجدید ایڈیشنوں میں لکھا ہے “ یعنی‬‫ایک نہ ایک دن میں بھی فوت ہوکر آغوش لحد‬ ‫میں جاسووں گا ” ) م ط بوع ہ جدہ صفحہ 461 (‬ ‫تحذیر الناس میں اجماع صحابہ رضوان اللہ‬
  • ‫تعال ی ٰ علیہم اجمعین اور اجماع امت کےخلف‬ ‫جوجدید معنی و مفہوم خاتم النبیین کےبیان‬ ‫کئےگئےفتاو ی ٰ حسام الحرمین کی اشاعت کےبعد‬‫تحذیر الناس کی عبارات میں بھی توبہ کرنےکی‬ ‫بجائےکم و بیش ترمیم و تحریف کی گئی مث ل َ‬ ‫المہند صفحہ 11 پر تحذیر الناس کی عبارات‬‫اصل بعینیہ و بلفظہ نقل نہ کیں خلصہ بیان کیا‬‫اور حاشا حاشا وکل کہہ کہ جھوٹ بولگیا۔اسی‬ ‫طرح شہاب ثاقب میں مولوی حسین احمد‬ ‫کانگریسی نےصفحہ 27 تا 97 تک تحذیرالناس‬‫کی عبارات کی من گھڑت و پرفریب تاویلت کی‬‫ہیں ، پیوندکاری کی ہےیہ مطلب ہےوہ مطلب ہےیہ‬‫معنی ہےوہ معنی ہےمگر اصل عبارت بلفظہ نقل‬ ‫نہ کیں بھانڈہ پھوٹ جانےپول کھل جانےکا‬ ‫اندیشہ تھا ، اور راشد کمپنی دیوبندی والوں‬‫نےتو عبارت میں من مانےالفاظ داخل کردیئےجگہ‬ ‫جگہ نانوتوی صاحب کےصلعم کےبرعکس لکھا‬‫اور “ بالفرض بعد زمانہ نبوی صلعم بھی کوئی‬
  • ‫نبی پیدا ہو ” کےبجائے “ فرض کیا جائے ” لکھ دیا‬ ‫) ص فح ہ 22 (‬ ‫پھر سب سےبڑی بات تو یہ ہےمولوی قاسم‬ ‫نانوتوی کےسوانح نگار مولوی مناظر احسن‬ ‫گیلنی نےخود تسلیم کرتےہیں “ اسی زمانہ میں‬ ‫تحذیرالنا س نامی رسالہ کےبعض دعاوی پر‬‫بعض مولوی کی طرف سےخود سیدنا امام الکبیر‬‫) ن ا نوتو ی ( پر طعن وتشنیع کا سلسلہ جاری تھا ”‬ ‫) سوانح قاسمی جلد اول صفحہ 073 ( مولوی‬ ‫اشرف تھانوی نےلکھا ہے “ جس وقت سےمولنا‬ ‫) قاسم نانوتو ی ( نےتحذیرالناس لکھی کسی‬ ‫نےہندوستان بھر میں مولنا ) ن ا نوتو ی ( کےساتھ‬ ‫موافقت نہیں کی بجز مولنا عبد الحی صاحب‬ ‫کے ” ) ا ل ضافات یومیہ جلد 4 صفحہ 085 (‬ ‫جب مولنا محمد قاسم نانوتوی صاحب نےکتاب‬ ‫تحذیر الناس لکھی تو سب نےمخالفت کی‬ ‫) ق ص ص الکابر 951 (‬‫خود محدث دیوبند مولوی انور کاشمیری نےفیض‬
  • ‫الباری جلد 3 صفحہ 433, 333 میں تحذیرالناس‬ ‫پر سخت جرح کی ہے۔‬ ‫مولوی حسین احمد کانگریسی شہاب ثاقب میں‬ ‫اور مولوی خلیل انبیٹھوی المہند میں کفر یہ‬ ‫عبارات اسلمیہ ثابت کرنےاٹھےتھےمگر انہوں‬ ‫نےبھی براہین قاطعہ کی گستاخانہ عبارات کی‬ ‫نہ تو معقول تاویل کی نہ براہین قاطعہ کی‬‫اصل عبارت بعینیہ و بلفظہ نقل کی شہاب ثاقب‬ ‫میں صفحہ 98 تا 29 اور المہند میں صفحہ 31‬ ‫تا 41 ۔براہین قاطعہ کی گستاخانہ عبارت کی‬ ‫صفائی پیش کی گئی مگر اصل زیر بحث پوری‬‫عبارت نقل نہیں کی رہا وقوع کذب کا گنگوہی کا‬ ‫فتو ی ٰ تو اصل فتو ی ٰ وقوع کذب باری تعال ی ٰ کی‬ ‫فوٹو کاپیاں عام ہیں اور متعدد کتابوں میں‬ ‫چھپ چکی ہیں یاد رہےگنگوہی صاحب کا یہ‬ ‫فتو ی ٰ خود ان کی زندگی میں 8031 ھ سےلےکر‬ ‫ان کےمرنےتک یعنی 3231 ھ تک بار بار مختلف‬ ‫مقامات سےچھپ کر شائع ہوتا رہا مگر گنگوہی‬
  • ‫صاحب گم سم رہےساکت و جامد ہوگئےنہ فتو ی ٰ‬ ‫سےانکار کرسکےنہ تاویل و تردید کرسکےآج ان‬ ‫کےکم سن وکیل شیر خوار مناظرین و مصنفین‬ ‫ناحق جھک مار رہےہیں ۔‬ ‫باقی رہی حفظ الیمان کی گستاخانہ عبارت تو‬ ‫جناب دیوبندی مصنفین و مناظرین نےنوع بنوع‬ ‫اور مختلف النوع تاویلیں کرکےخود تھانوی‬ ‫صاحب کو کفر کی دلدل میں دھکیل دیا ۔‬ ‫دیکھئےابتداءحفظ الیمان 01,9 صفحہ کا‬ ‫مختصر سا پمفلٹ تھا جس میں ان کی وہ‬ ‫گستاخانہ عبارت تھی جس پر حسام الحرمین‬ ‫میں تکفیر کا حکم شرعی بیان ہوا ، چونکہ‬‫دیوبندی وہابی اکابرین احساس کمتری میں مبتل‬ ‫تھےرنگ برنگی عقل شکن تاویلیں‬ ‫کرنےلگےتھےتھانوی صاحب میں مناظرہ کا دم‬‫خم نہ تھا ۔مولوی مرتضی حسن در بھنگی چاند‬ ‫پوری ، مولوی منظور حسن سنبھلی ، مولوی‬ ‫عبد الشکور کاکوروی ،مولوی ابو الوفا شاہ‬
  • ‫جہانپوری نےمناظر بن کر بحث و مباحثہ کا پیشہ‬ ‫اور ذریعہ معاش اختیار کرکےاپنی دوکانداری‬ ‫چمکائی ، مولوی منظور سنبھلی نےمناظرہ‬‫بریلی ، مولوی مرتضی حسن دربھنگی نےتوضیح‬ ‫البیان ، خلیل انبیٹھوی نےالمہند ، مولوی عبد‬ ‫لشکور کاکوروی نےاپنی کتابوں میں جو مختلف‬ ‫النوع متضاد تاویلت کی ہیں ایک کی تاویل‬ ‫سےدوسرےپر اور دوسرےکی تاویل سےتیسرےپر‬‫چوتھےاور چوتھےکی تاویل سےان سب پر تکفیر‬ ‫کا حکم شرعی لگتا ہےاور ان سب کی تاویلت‬ ‫سےجناب تھانوی صاحب پر تکفیر کی شرعی‬ ‫ڈگری ہوجاتی ہے۔اور حسام الحرمین کا پھریرہ‬ ‫آب و تاب و جاہ و جلل سےلہراتا ہوا نظر آتا‬ ‫ہےبال خر کفریہ گستاخانہ عبارتوں کےوکیلوں‬ ‫نےمیدان مناظرہ میں شکستیں کھاکھاکر جناب‬ ‫تھانوی صاحب کو ترمیم و تحریف کی راہ پر‬ ‫ڈال دیا اور ترمیموں و ضمیموں والی حفظ‬ ‫الیمان چھپنےلگی۔صفحات 01,9 کی حفظ‬
  • ‫الیمان جو اب انجمن ارشاد المسلمین لہور‬ ‫نےشائع کی ہےاس کےصفحات اب 911 ہیں ۔ ع‬ ‫مرض بڑھتا گیا جونجوں دوا کی‬ ‫تھانوی صاحب کےوکیل میدان مناظرہ میں فیل‬ ‫تھےلہذا تھانوی صاحب کو حفظ الیمان کی‬‫وضاحت اور تاویل میں بسط البنان لکھنی پڑی ۔‬ ‫اور پھر بسط البنان اور حفظ الیمان کی‬‫وضاحت میں عبارت بدل کر تغیر العنوان لکھنی‬ ‫پڑی اور عبارت حفظ الیمان کو مجبور ا َ یوں‬ ‫کردیا ۔اور تھانوی صاحب نےحکم دیا کہ اب‬ ‫حفظ الیمان کی عبارت کو یوں پڑھا جاوےاگر‬ ‫بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور‬ ‫علیہ السلم کی کیا تخصیص ہےمطلق بعض‬ ‫علوم غیبیہ تو غیر انبیاےعلیہم السلم کو بھی‬ ‫حاصل ہیں الخ‬ ‫اب لہور اور دیوبند سےجو جدید حفظ الیمان‬‫چھپی ہےانجمن ارشاد المسلمین لہور اور مکتبہ‬ ‫نعمانیہ دیوبند والوں نےبھی یہ بدلی ہوئی‬
  • ‫ترمیم و تحریف شدہ حفظ الیمان شائع کی ہے۔‬‫افسوس کہ تھانوی صاحب کو ترمیم کرنےالفاظ‬ ‫وعبارت بدلنےکی سوجھی توبہ اور رجوع کی‬ ‫توفیق نہ ہوئی ۔بہرحال ان الفاظ بدلنےسےیہ‬ ‫حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ‬‫حسام الحرمین کا حکم شرعی حق اور مبنی بر‬ ‫حقیقت تھا اور المہند و شہاب ثاقب حسام‬‫الحرمین کےدلئل قاہرہ کو توڑ نہ سکے۔اور ناکام‬‫و نامراد رہے۔اور کیوں نہ ہوجب کہ امام اہلسنت‬ ‫سیدنا سرکار اعل ی ٰ حضرت مجدد دین و ملت‬‫فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کی ذات وال صفات‬ ‫وہ ہیں جس کےلئےکہا گیا ہے‬ ‫یہ وہ دربار سلطان قلم ہی‬ ‫جہاں پر سرکشونکا سر قلم ہے‬ ‫تو جناب وال اصل مسئلہ اور تنازعہ توہین و‬‫تکفیر کا ہےہمارا مدمقابل حریف طائفہ تکفیر کو‬ ‫بہت برا سمجھتا ہےکبیدہ خاطر ہوتا ہےبلوجہ‬ ‫تکفیر کردی ناحق تکفیر کردی بریلی میں کفر‬
  • ‫کےفتوئوں کی مشین لگی ہےمگر یہ نہیں‬ ‫دیکھتےتکفیر کیوں کی گئی وجہ تکفیر کیا ہے؟‬ ‫تو جناب کتابیں چھپی ہوئی ہیں موجود ہیں ،‬‫تحذیر النا س ، براہین قاطعہ ، حفظ الیمان کی‬ ‫گستاخانہ کفریہ عبارات اپنی آنکھوں سےدیکھ‬ ‫سکتےہیں ۔ امام اہلسنت سیدنا اعل ی ٰ حضرت‬ ‫فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ از خود اپنی طرف‬ ‫سےتکفیر کا شرعی حکم جاری نہیں فرمایا ۔‬ ‫حسام الحرمین میں 53 اکابر و اعاظم علماءو‬ ‫فقہاءحرمین کےمبارک مدلل فتاو ی ٰ اور تقاریظ‬ ‫ہیں ۔الصوارم‬ ‫الہندیہ پر اب تک 003 سےزائد اکابر‬ ‫علماءتصدیقات فرماچکےہیں تصدیقات لکھ‬‫چکےہیں ۔اکابر دیوبند کی گستاخانہ کتابوں کےہر‬‫نئےآنےوالےجدید ایڈیشن میں یہ لوگ خود ہی کاٹ‬ ‫چھانٹ ترمیم و تحریف کررہےہیں ۔ نت نئی‬ ‫عبارتیں بدل رہےہیں جس کا واضح مطلب یہ‬ ‫ہےکہ گستاخانہ عبارات خود ان کےنزدیک بھی‬
  • ‫کفریہ اور توہین آمیز ہیں ناقابل تاویل ہیں ۔‬ ‫جبھی تو عبارات بدل رہےہیں اگر المہنداور‬ ‫الشہاب الثاقب سچےتھےتو انہی 53 اکابر‬ ‫علماءحرمین کےسامنے تحذیر النا س ، براہین‬ ‫قاطعہ ، حفظ الیمان ، فتو ی ٰ گنگوہی کی اصل‬‫عبارت رکھ کر تصدیقات حاصل کی جاتیں اور یہ‬ ‫لکھوایا جاتا کہ ہم نےحسام الحرمین پر جو‬‫تصدیقات کیں تقریظات لکھیں وہ واپس لیتےہیں‬‫فلں فلں عبارت کفریہ اور گستاخانہ نہیں مگر‬ ‫افسوس کہ المہند اور الشہاب الثاقب گونگا‬ ‫بہری ہےوہ حسام الحرمین کا جواب نہیں ۔‬ ‫ع : : دل کو بہلنےکو غالب یہ خیال اچھا ہے‬ ‫ویسےبھی المہند اور الشہاب الثاقب جیسی‬ ‫جھوٹی کتابوں کےجوابات شیر بیشہ اہلسنت‬ ‫مولنا حشمت علی خان صاحب اور فاضل اجل‬ ‫مولنا شاہ محمد اجمل سنبھلی قدس سرہ‬ ‫نےراد المہند اور رد شہاب ثاقب اور صدر‬ ‫الفاضل مولنا نعیم الدین مرادآبادی‬
  • ‫نےالتحقیقات کےنام سےشائع فرمادیئےتھی۔‬‫افاد ہ: نبیرہ اعل ی ٰ حضرت علمہ الحاج سبحان‬ ‫رضا خاں سبحانی میاں صاحب قبلہ دامتہم‬ ‫برکاتہم عالیہ‬ ‫سجادہ نشین خانقاہ عالیہ رضویہ‬ ‫والسلم‬ (Comments (1 October 31, 2006 Deobandi“/Shia Books Banned “ in Pakistan — ‫, ہوم, دیوبندی ازم‬Filed under: Home sulemansubhani @ 11:28 pm PAKISTAN: Provinces to curb sale of hate material Centre issues list of banned books, audio, newspapers
  • Dawn Thursday, September 21, 2006Islamabad — The centre has directed provinces to strictly curb publication and sale of hate material and issued a list of recently-banned books, cassettes, CDs, dailies, weeklies, monthlies and pamphlets being sold in the country, informed sources told Dawn on .Wednesday The sources said the National CrisisManagement Cell (NCMC) had issued the list of hate material recently banned by the government so that their publication and sale .could be stopped The list also contains CDs of the proscribed Baloch Liberation Army and foreigners (Arabs) who have been declared extremists by the
  • government. These CDs carry speeches and .guerrilla training materialThe government also declared hate material the daily, weekly and monthly publications of somebanned organisations including Jamaat-ul-Dawa Pakistan, Lashkar-i-Tayyaba, Khuddam-ul-Islam, Harkat-i-Jihad-i-Islami, Al Rashid Trust, Al Akhtar Trust International, Millat-i-Islamia Pakistan, Lashkar-i-Jhangvi and Islami Tehrik .Pakistan Books The books that have been banned include thefollowing: ’Phir Main Hidayat Pa Gaya’ written byAllama Dr Mohammad Samavi (Shia) printed byMoassisa Ahle Bait Pakistan (the book has beentranslated into Urdu by Roshan Ali Najfi). ’Tohfa Hanfia Jawab Tohfa Jaffaria’ written by Ghulam
  • Hussain Najfi and published by Jamiat-ul- Muntazir Lahore. The author of the book was murdered on April 1, 2005 in Lahore. ’Seraat-i- Mustaqeem’ written by Syed Ahmed Shaheed (Deoband), published by Islami Academy Lahore, ’Taqviat-ul-Emaan’ written by Shah Ismail Shaheed of Deoband sect and published by Al-Maktab Al Shifa Sheesh Mahal Road Lahore, ’Fatwa Rasheedia’ written by Maulana Rasheed Ahmed Gangohi and published by Education Press Pakistan Karachi, ’Shia Aur Hazrat Ali’ written by Maulana Kaleemullah Rabbani (Deoband) published by Haq NawazShaheed Library Sargodha, ’Ikhtilaf-i-Ummat aur Siraat-i-Mustaqeem’ written by Maulana Mohammad Yousuf Ludhianvi (Deoband) published by Maktab Ludhanvia, ’Miraj-i- Sahabiat Bajawab Miyar Sahabit’written by
  • Maulana Mehar Mohammad (Deoband) published by Tahaffuze Namoos-i- Sahaba Pakistan, ’Sunni Mazhab Sacha Hai’ written byHafiz Mehar Mohammad Mianwalvi published by Maktab Usmania Bin Hafiz Gee Mianwali, ’Al Majalis-ul-Irfan Shariat aur Siyat’ written byAllama Syed Irfan Haider Abidi (Shia) publishedby Mahfooz Book Agency Karachi, ’Shia Hi Ahle Sunnat Hain’ written by Dr Mohammad Tajani Samaavi (Shia) published by Ansarianpublications Qum/Iran, ’Tohfa Imamia’ written by Hafiz Mehar Mohammad Mianwali (Deoband) published by Maktab Usmania Bin Hafiz Jee Mianwali, ’Haqeeqat Tabarra’ written by Allama Faroogh Kazmi (Shia) published by Idara-i- Tehzeeb-o-Adab Lukhnow, ’Allama Ziaur Rehman Farooqi Shaheed Hayat-o-Khidmat’ written by Sanaullah Saad Shuja Abadi
  • (Deoband) published by Maktaba Bukhari Liayari Town Karachi, ’Muqabala Musavri’ written by general secretary of Pakistan BibleSociety Anarkali Lahore and ’Maloomat-i-Ittelaat written by workers Quaid-i-Millat (Shia .(community Daily newspaper .Islam of Al Rashid Trust published in Karachi Weekly Magazines Risalat-ul-Ikhwan’ published from London,’ ’Ghazwa’ of Jamaat ud Dawa Pakistan, ’AlQalam’, ’Rah-i-Wafa’ and Jaish-i-Mohammad ofKhuddam ul Islam, ’Zarb-i-Momin’, ’Khawateen’, ’Bachoon Ka Islam’ and ’Islam’ of Al-Rashid Trust, ’Al Akhtar’ of Al-Akhtar Trust and ’Al Arif’ .of Islami Tehrik Pakistan
  • Monthlies Nafhat’ of Mille Bahayian Pakistan, ’Al Dawa’,’ ’Tayyabat for Women’, ’Zarb-i-Tayyaba’ and Voice of Islam of Jamaat ud Dawa, ’Khilafat-i-Rashida’ of Millat-i-Islamia Pakistan, ’Intaqam-i- Haq’ of Lashkar-i-Jhangvi, ’Al Hadi’ and Al .Muntazir of Islami Tehrik Pakistan Date Posted: 9/21/2006 http://www.dawn.com/2006/09/22/nat10.htm Mirror Link in Pdf format click here http://www.asiamedia.ucla.edu/article.asp? parentid=53567 Mirror Link in Pdf format click here (Comments (2 October 30, 2006 ‫عنوان : ادب اور عقائد دیوبند‬
  • ‫‪ ,Filed under: Home‬ہوم, آڈیو ، ویڈیو لئبریری, دیوبندی‬ ‫ازم — ‪sulemansubhani @ 1:03 pm‬‬ ‫عنوان : ادب اور عقائد دیوبند‬‫تقریر : حضرت علمہ سید شاہ تراب الحق قادری صاحب‬ ‫قبلہ دامتہم برکاتہم عالیہ‬ ‫ًکل وقت : تقریبا 1 گھنٹہ 3 منٹ 11 سیکنڈ‬ ‫ویڈیو تقریر‬ ‫سننے کے لیے یہاں کلک کجیے ۔‬ ‫ڈاونلوڈ کرنے کے لے یہاں رائٹ کلک کرکے سیو اس آ ٹارگٹ‬ ‫کیجیے ۔‬ ‫‪Leave a Comment‬‬ ‫حسام الحرمین عربی‬‫‪ ,Filed under: Home‬ہوم, دیوبندی ازم, امام احمد رضا‬‫خان, اسلمی مضامین — 14:21 @ ‪sulemansubhani‬‬ ‫‪pm‬‬
  • ‫> اللّھّم الملکیّة والتسجیلت المکیة<‬ ‫) ۴۲ ھ ۳۱(‬ ‫> بسم اللّہ الرّحمٰن الرّحیم <‬ ‫نحمدہ ونصلّی علی رسولہ الکریم ’‬ ‫سلم منا ورحمة اللّہ وبرکاتہ علی سادتنا علماء البلد‬ ‫المین ، وقادتنا کبراء بلد سیّد المرسلین ، وصلّی اللّہ‬ ‫تعالٰی وسلم و بارک علیہ و علیھم اجمعین ․‬ ‫وبعد فان المعروض علی جنابکم ’ بعد لثم اعتابکم ’‬ ‫عرض محتاج فقیر ’ مظلوم اسیر ’ ذی قلب کسیر ’ علی‬ ‫عظماء کرماء ’ اسخیاء رحماء ’ یدفع اللّہ بہم البلء‬ ‫والعناء ’ ویرزق بہم الھنا و الغنا ’ ان السنّة فی الھند‬‫غریبة ’ وظلمٰت الفتن والمحن مھیبة ’ قد استعلی الشر ’‬ ‫واستولی الضر ’ وتفاقم المر ’ فالسنی الصابر علی دینہ‬ ‫کالقابض علی الجمر ’ فوجب علی ذمة ھمة امثالکم‬ ‫السادة القادة الکرام ’ اعانة الدین واھانة المفسدین ’‬ ‫اذلیس بالسیوف فبالقلم ’ فالغیاث الغیاث یاخیل اللّہ ’‬ ‫یافرسان عساکر رسول اللّہ امدونا بمدّة واعدو الدفع‬ ‫العدآء عدة ’ وشدوا عضدنا فی ھٰذہ الشدة ’ و من‬
  • ‫المیسور علی قدر المقدور فی ابانة ھذہ المور’ ان رجل‬ ‫من علماء بلدنا ’ الملقب علی لسان عمائدنا ’ واسیادنا ’‬ ‫بعالم اھل السنة والجماعة ’ وقف نفسہ علی دفاع تلک‬ ‫الضللة والشناعة’ فصنف کتبا ’ والف خطبا ’ تنوف کتبہ‬‫علی مائتین ’ بہا للدین زین ’ وجلء الرین ’ منہا شرح علقہ‬ ‫>علی المعتقد المنتقد< سماہ >المعتمد المستند< و قد‬ ‫تکلم فی مبحث شریف منہ علی اصول البدع الکفریة ’‬ ‫الشائعة ال ٰن فی الدیار الھندیة ’ نعرض منہا ذکر بعض‬‫الفرق بلفظہ لیتشرف منکم بنظرة وتصدیق ’ وتفرح السنة‬ ‫’ ویفرح عنہا کل محنة ’ بعون التصویب منکم والتحقیق‬ ‫وتذکروا صریحا ان ائمة الضلل’ الذین سماھم ھل ھم‬ ‫کما قال ’ فمقالہ فیہم بالقبول حقیق ’ ام ل یجوز‬ ‫تکفیرھم ’ ول تحذیر العوام عنہم وتنفیرھم ’ وان انکروا‬ ‫ضرور یات الدین ’ وسبوا اللّہ رب العٰلمین ’ وسبوا رسولہ‬ ‫صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم المین المکین ’ وطبعوا‬‫واشاعوا کلمہم المھین ’ ل نہم علماء مولویة ’ وان کانوا‬‫من الوھابیة ’ فتعظیمہم واجب فی الدین ’ وان شتموا اللّہ‬ ‫وسیّد المرسلین صلی اللّہ تعالٰی علیہ وعلی اٰلہ وصحبہ‬
  • ‫اجمعین ؟ ’ کما تزعمہ بعض الجھلة من المذبذبین ․‬‫ویا ساداتنا بینو نصرالدین ربکم ان ھٰؤلء الذین سماھم‬ ‫و نقل کلمہم ) وھا ھو ذا نبذ من کتبہم > کالعجاز‬ ‫الحمدی< و >ازالة الوھام< للقادیانی وصورة فتیا‬ ‫رشید احمد الکنکوھی فی فوتوغرافیا و >البراھین‬ ‫القاطعة< حقیقة لہ ونسبة لتلمیذہ خلیل احمد النبھتی و‬ ‫>حفظ الیمان< لشرفعلی التانوی معروضات ’ مضروب‬ ‫بخطوط ممتا زة علی عباراتھا المردودات ھل ھم فی‬‫کلماتھم ھذہ منکرون لضروریات الدین ’ فان کانوا وکانوا‬ ‫کفارا مرتدین ’ فھل یفترض علی المسلمین ا کفارھم‬‫کسائرمنکری الضروریات ’ الذین قال فیہم العلماء الثقات ’‬ ‫“من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر،، کما فی شفاء‬ ‫السقام والبزازیة ومجمع النہر والدرالمختار وغیرھا من‬ ‫الکتب الغرر۔‬ ‫ومن شک فیہم او وقف فی تکفیرھم او عظمھم او‬ ‫نھی عن تحقیرھم فماحکمہ فی الشرع المبین ․‬ ‫لزلتم بفضل اللّہ مفیضین علی المسلمین احکام الدین‬ ‫اٰمین ’ والصلة والسّلم علی سیّدالمرسلین محمدو اٰلہ‬
  • ‫وصحبہ اجمعین․‬ ‫قال فی المعتمدالمستند‬ ‫بعد ماحقق ان صاحب البدعة المکفرة اعنی بہ کل‬‫مدع للسلم منکر لشئ من ضروریات الدین کافر بالیقین ’‬ ‫وفی الصلة خلفہ و علیہ والمناکحة والذبیحة والمجالسة‬ ‫والمکالمة و سائر المعاملت حکمہ حکم المرتدین ’ کما‬‫نص علیہ فی کتب المذھب کالھدایة والغرر وملتقی البحر‬ ‫والدر المختار ومجمع النہر وشرح النقایة للبرجندی‬ ‫والفتاوی الظھیریة والطریقة المحمدیة والحدیقة الندیة‬ ‫والفتاوی الھندیة وغیرھا متونا وشروحا وفتاوی( مانصہ‬ ‫ولنعد بعض من یوجد فی اعصارنا وامصارنا من ھٰؤلء‬ ‫ّ‬‫الشقیاء فان الفتن داھمة ’ والظلم متراکمة ’ والزمان کما‬ ‫اخبر الصادق المصدوق صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم یصج‬ ‫الرجل مؤمنا ویمسی کافرا ویمسی مؤمنا ویصبح کافرا و‬ ‫العیاذ باللّہ تعالٰی ․فیجب التنبّہ علی کفر الکافرین‬ ‫المتسترین باسم السلم ولحول ول قوة ال باللّہ۔‬ ‫فمنہم “المرزائیة،، ونحن نسمیھم الغلمیة نسبة الٰی‬ ‫غلم احمد القادیانی دجال حدث فی ھٰذا الزمان فادعی‬
  • ‫اول مماثلة المسیح وقد صدق واللّہ فانّہ مثل المسیح‬ ‫الدجال الکذاب ثم ترقی بہ الحال فادعی الوحی وقد‬ ‫صدق واللّہ لقولہ تعالٰی فی شان الشیطٰن > یوحی‬‫بعضھم الٰی بعض زخرف القول غرورا < اما نسبة الیحاء‬ ‫الٰی اللّہ سبحٰنہ وتعالٰی وجعلہ کتابہ >البراھین الغلمیة<‬‫کلم اللّہ عزوجل فذلک ایضا مما اوحی الیہ ابلیس ان خذ‬ ‫منی وانسب الٰی الٰہ العٰلمین ’ ثم صرح بادعاء النبوة‬ ‫والرسالة وقال >ھواللّہ الذی ارسل رسولہ فی قادیان<‬ ‫وزعم ان مما نزل اللّہ تعالٰی علیہ >انا انزلناہ بالقادیان‬ ‫وبالحق نزل< وزعم انہ ھواحمد الذی بشر بہ ابن البتول‬ ‫وھوالمراد من قولہ تعالٰی عنہ )ومبشرا برسول یاتی من‬ ‫بعدی اسمہ احمد( وزعم ان اللّہ تعالٰی قال لہ انک‬ ‫مصداق ھٰذہ الیة >ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین‬ ‫الحق لیظھرہ علی الدین کلہ < ثم اخذ یفضل نفسہ‬ ‫اللئیمة علی کثیر من النبیاء والمرسلین صلوٰت اللّہ تعالٰی‬ ‫وسلمہ علیہم اجمعین وخص من بینہم کلمة اللّہ و روح‬‫اللّہ و رسول اللّہ عیسی صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم فقال‬ ‫اس سے بہتر‬ ‫“ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو‬
  • ‫غلم احمد ہے ”‬ ‫ای “اترکوا ذکر ابن مریم فان غلم احمد افضل منہ ”․‬ ‫واذ قد اوخذ بانک تدعی مماثلة عیسٰی رسول اللّہ علیہ‬ ‫الصلة والسّلم فاین تلک ال ٰیات الباھرة التی اتی بھا‬ ‫عیسٰی کاحیاء المؤتٰی و ابراء ال کمہ و البرص وخلق‬ ‫ھیأة الطیر من الطین فینفخ فیہ فیکون طیرا باذن اللّہ‬ ‫تعالٰی ․‬ ‫فاجاب بان عیسٰی انما کان یفعلھا بمسمریزم اسم قسم‬ ‫من الشعوذة بلسان انکلترة قال “و لول انی اکرہ امثال‬ ‫ذالک لتیت بھا ” واذ قد تعود النباء عن الغیوب التیة‬ ‫کثیرا ویظھر فیہ کذبہ کثیرا بثیرا دوی دائہ ھٰذا بان ظھور‬ ‫الکذب فی اخبار الغیب لینافی النبوة فقد ظھر ذٰلک فی‬ ‫اخبار اربع مائة من النبیین واکثر من کذبت اخبارہ عیسٰی‬ ‫وجعل یصعد مصاعد الشقاوة حتی عد من ذٰلک واقعة‬ ‫ّ‬ ‫الحدیبیة ’فلعن اللّہ من اٰذی رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ‬‫وسلم ولعن من اٰذی احدا من النبیاء صلی اللّہ تعالٰی علی‬ ‫انبیائہ وبارک وسلم ․‬ ‫واذ قد اراد قھرالمسلمین علی ان یجعلوہ ایاہ المسیح‬
  • ‫الموعود ابن مریم البتول ولم یرض بذالک المسلمون‬ ‫واخذوا یتلون فضائل عیسٰی صلوات اللّہ تعالٰی علیہ قام‬ ‫بالنضال وطفق یدعی لہ علیہ الصلٰوة والسّلم مثالب‬ ‫ومعایب حتی تعدی الٰی امہ الصدیقة البتول المصطفاة‬ ‫المطھرة المبرئة بشھادة اللّہ تعالٰی ورسولہ صلی اللّہ‬ ‫تعالٰی علیہ وسلم ․‬‫وصرح “ان مطاعن الیھودعلی عیسٰی وامہ ل جواب عنھا‬ ‫عندنا ول نستطیع ردھا اصل ” وجعل یلمزالبتول المطھرة‬ ‫من تلقاء نفسہ فی عد ة مواضع من رسائلة الخبیثة بما‬ ‫یستثقل المسلم نقلہ و حکایتہ ․‬ ‫ثم صرح “ان ل دلیل علی نبوة عیسٰی” قال “ بل عدة‬ ‫دلئل قائمة علی ابطال نبوتہ’ ثم تسترفرقا عن المسلمین‬ ‫ان ینفروا عنہ کا فة” فقال “وانما نقول بنبوتہ لن‬‫القرآن عدہ من النبیاء ثم عاد فقال ل یمکن ثبوت نبوتہ ’‬‫و فی ھذا کما تری اکذاب للقراٰن العظیم ایضا حیث حکم‬ ‫بما قامت الدلة علی بطلنہ الٰی غیر ذالک من کفریاتہ‬ ‫الملعونة اعاذ اللّہ المسلمین من شرہ و شر الدجاجلة‬ ‫اجمعین ․‬
  • ‫ومنہم الوھابیة المثالیہ والخواتمیہ وقد قصصنا علیک‬ ‫اقوالہم وشانہم وانہم کانوا وبانوا فیھا قبل ․‬ ‫وھم مقتسمون الٰی المیریہ نسبة الٰی )امیر حسن‬ ‫وامیراحمد السھسوانیین(‬ ‫والنذیریة المنسوبة الٰی )نذیرحسین الدھلوی ( ․‬ ‫والقاسمیہ المنسوبة الٰی )قاسم النانوتی صاحب‬ ‫تحذیرالناس( و ھو القائل فیہ ولو فرض فی زمنہ صلی‬ ‫اللّہ تعالٰی علیہ وسلم بل لو حدث بعدہ صلی اللّہ تعالٰی‬ ‫علیہ وسلم نبی جدید لم یخل ذالک بخاتمیتہ وانما یتخیل‬ ‫العوام انہ صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم خاتم النبیین‬‫بمعنی آخرالنبیین مع انہ ل فضل فیہ اصل عند اھل الفہم‬ ‫الٰی آخر ما ذکر من الھذیانات ․‬ ‫وقد قال فی التتمة والشباہ وغیرھما اذا لم یعرف ان‬ ‫محمدا صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم اٰخر النبیاء فلیس‬ ‫بمسلم ل نہ من الضروریات ․‬ ‫اھ النانوتی ھٰذا ھوالذی وصفہ محمد علی الکانفوری‬ ‫ناظم الندوة بحکیم المة المحمدیة ․‬ ‫فسبحٰن مقلب القلوب والبصار ولحول ول قوة ال باللّہ‬
  • ‫الواحد القھار العزیز الغفار ․ فھٰؤلء المردة المریدة‬‫الخناس مع اشتراکھم فی تلک الھداھیة الکبری ’مفترقون‬ ‫فیما بینہم علی اٰراء یوحی بھا الیم الشیطان غرورا ’ وقد‬ ‫فصلت فی غیر ما رسالة ․‬‫ومنہم الوھابیة الکذابیة اتباع رشید احمد الکنکوھی یقول‬ ‫اول ّ علی الحضرة الصمدیة تبعا لشیخ طائفتہ اسمعیل‬ ‫الدھلوی علیہ ما علیہ با مکان الکذب وقد رددت علیہ‬ ‫ھذیانہ فی کتاب مستقل سمیتہ ’سبحٰن السبوح عن عیب‬‫کذب مقبوح ’وارسلتہ الیہ وعلیہ بصیغة اللتزام من بوسطة‬ ‫واتت منہ الرجعة بواسطتھا منذ احدی عشرة سنة وقد‬‫اشاعوا ثلث سنین ان الجواب یکتب کتب یطبع ارسل للطبع‬ ‫وما کان اللّہ لیہدی کید الخائنین ’ فما استطاعوا من قیام‬ ‫وما کانوا منتصرین وال ٰن اذ قد اعمی اللّہ بصرمن قد‬ ‫عمیت بصیرتہ من قبل’ فانی یرجی الجواب ’وھل یجادل‬ ‫میت من تحت التراب ’ ثم تمادی بہ الحال فی الظلم‬‫والضلل حتی صرح فی فتوی لہ ) قدرایتھا بخطہ وخاتمہ‬ ‫بعینی وقد طبعت مرارا فی بنبئی وغیرھا مع ردھا( ’ ان‬ ‫من یکذب اللّہ تعالی بالفعل ویصرح انہ سبحٰنہ وتعالٰی‬
  • ‫قدکذب وصدرت منہ ھذہ العظمة فل تنسبوہ الٰی فسق‬ ‫فضل عن ضلل فضل عن کفر فان کثیرا من الئمة قد‬‫قالوا بقیلہ ’ وانما قصاری امرہ انہ مخطئی فی تاویلہ ’ فل‬‫الٰہ ال اللّہ انظر الٰی وخامة عواقب التکذیب بالمکان کیف‬ ‫جرت الی التکذیب بالفعل’ سنة اللّہ فی الذین خلوا من‬ ‫قبل اولٰئک الذین اصمھم اللّہ واعمی ابصارھم ول حول‬ ‫ولقوة ال باللّہ العلی العظیم ․‬ ‫ومنہم الوھابیّة الشیطانیة ھم کالفرقة الشیطانیة من‬ ‫الروافض کا نوا اتباع شیطان الطاق وھٰؤلء اتباع شیطان‬ ‫ال ٰفاق ابلیس اللعین وھم ایضا اذناب ذالک المکذب‬ ‫“الکنکوھی” فانہ صرح فی کتابہ “البراھین القاطعة ” وما‬ ‫ھی واللّہ ال القاطعة لما امر اللّہ بہ ان یوصل بان‬‫شیخھم ابلیس اوسع علما من رسول اللّہ صلی اللّہ تعالٰی‬ ‫علیہ وسلم وھذا نصہ الشنیع بلفظہ الفظیع صہ ۷۴‬ ‫”شیطان وملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی‬‫فخر عالم کی وسعت علم کی کونسی نص قطعی ہے کہ‬‫جس سے تمام نصوص کو رد کرکے ایک شرک ثابت کرتا ہے‬ ‫الخ” ای “ ان ھذہ السعة فی العلم ثبتت للشیطان وملک‬
  • ‫الموت بالنص وایّ نص قطعی فی سعة علم رسول اللّہ‬‫صلی اللّہ تعالی علیہ وسلم حتی ترد بہ النصوص جمیعا و‬ ‫یثبت شرک ” وکتب قبلہ ان ھٰذا الشرک لیس فیہ حبة‬ ‫خردل من ایمان ․‬ ‫فیا للمسلمین ’ یا للمومنین بسیّد المرسلین صلی اللّہ‬ ‫تعالٰی علیہ وعلیہم اجمعین انظروا الٰی ھذا الذی یدّعی‬ ‫علوالکعب فی العلوم والتقان وسعة الباع فی الیمان‬ ‫والعرفان ویدّعی فی اذنابہ بالقطب وغوث الزمان ’ کیف‬ ‫یسب محمدا رسول اللّہ صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم مل‬‫فیہ ویؤمن بسعة علم شیخہ ابلیس ’ ویقول لمن علمہ اللّہ‬ ‫مالم یکن یعلم وکان فضل اللّہ علیہ عظیما الذی تجلی‬ ‫لہ کل شئ وعرفہ و علم مافی السمٰوٰت والرض وعلم‬ ‫ما بین المشرق والمغرب وعلم علم الولین وال ٰخرین کما‬‫نص علی کل ذالک الحادیث الکثیرة انہ ایّ نص فی سعة‬ ‫علمہ فھل لیس ھٰذا ایمانا بعلم ابلیس وکفرا بعلم محمد‬ ‫صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم ․‬ ‫وقد قال فی نسیم الریاض کما تقدم من قال فلن اعلم‬ ‫منہ صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم فقد عابہ و نقصہ فھو‬
  • ‫ساب والحکم فیہ حکم الساب من غیر فرق ل نستثنی منہ‬‫صورة وھٰذا کلہ اجماع من لدن الصحابة رضی اللّہ تعالٰی‬ ‫عنہم ․‬‫ثم اقول انظروا الٰی اٰثار ختم اللّہ تعالٰی کیف یصیر البصیر‬ ‫اعمی ’ و کیف یختار علی الھدی العمی ’ یؤمن بعلم‬ ‫الرض المحیط لبلیس و اذ جاء ذکر محمد رسول اللّہ‬ ‫صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم قال ھذا شرک وانما الشرک‬ ‫اثبات الشریک للّہ تعالٰی فالشئ اذا کان اثباتہ لحد من‬ ‫المخلوقین شرکا کان شرکا قطعا لکل الخلئق اذل یصح‬ ‫ان یکون احد شریکا للّہ تعالٰی ․‬ ‫فانظروا کیف اٰمن من ابلیس شریک لہ سبحانہ وانما‬ ‫الشرکة منتفیة عن محمد صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم ․‬ ‫ثم انظروا الٰی غشاوة غضب اللّہ تعالٰی علی بصرہ‬‫یطالب فی علم محمد صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم بالنص‬ ‫ولیرضی بہ حتی یکون قطعیا فاذا جاء علی سلب علمہ‬ ‫صلی اللّہ تعالی علیہ وسلم تمسک فی ھذا البیان نفسہ‬ ‫علی ص ۶۴ بستة اسطر قبل ھٰذا الکفر المھین’ بحدیث‬ ‫باطل ل اصل لہ فی الدین وینسبہ کذبا الٰی من لم یروہ‬
  • ‫بل ردہ بالرد المبین ’ حیث یقول روی الشیخ عبد الحق‬ ‫) قدس سرہ عن النبی صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم انہ‬ ‫قال ( ل اعلم ما وراء ھذا الجدار اھ ․‬ ‫مع ان الشیخ قدس اللّہ تعالٰی سرہ انما قال فی مدارج‬ ‫النبوة ھکذا یشکل ھٰھنا بان جاء فی بعض الروایات ان‬ ‫قال رسول اللّہ صلی اللّہ تعالی علیہ وسلم انما انا عبد ل‬ ‫اعلم ماوراء ھذا الجدار وجوابہ ان ھذا القول ل اصل لہ‬ ‫ولم تصح بہ الروایة․‬‫فانظروا کیف یحتج بل تقربوا الصلوة ویترک وانتم سکری‬ ‫وکذلک قال المام ابن حجر عسقلنی ل اصل لہ اھ قال‬‫المام ابن حجر المکی فی افضل القری لم یعرف لہ سند‬ ‫․‬‫وقد عرضجت قولیہ ھٰذین اعنی ما اقترف من تکذیب اللّہ‬ ‫سبحٰنہ وتنقیص علم رسول اللّہ صلی اللّہ تعالٰی علیہ‬‫وسلم علی بعض تلمذتہ ومریدیہ فعارضنی وقال ما کان‬‫شیخنا لیتفوہ بامثال ھذا الکفر فاریتہ الکتاب ’ وکشفت عن‬ ‫کفرہ الحجاب فجائہ الضطراب الٰی ان قال لیس ھٰذا‬ ‫الکتاب لشیخی انما ھو لتلمیذہ خلیل احمد النبھتی ․‬
  • ‫فقلت ھو قد قرظ علیہ وسماہ کتابا مستطابا وتالیفا‬ ‫نفیسا ودعا اللّہ تعالٰی ان یتقبلہ وقال ھذا الکتاب دلیل‬ ‫واضح علی سعة نور علم مؤلفہ وفسحة ذکائہ وفھمہ‬ ‫وحسن تقریرہ وبھاء تحریرہ اھ ․‬ ‫فقال لعلہ لم ینظر فیہ مستوعبا انما نظر بعض مواضع‬ ‫متفرقة واعتمد علی اعلم تلمیذہ‬‫قلت کل بل قد صرح فی ھٰذا التقریظ انہ راٰہ من اولہ الٰی‬ ‫آخرہ․‬ ‫قال لعلہ لم ینظر فیہ نظر تدبر․‬ ‫قلت کل بل صرح فیہ انہ راٰہ بنظر غائر و ھٰذا لفظہ فی‬ ‫التقریظ ان احقر الناس رشید احمد الکنکوھی طالع ھٰذا‬ ‫الکتاب المستطاب البراھین القاطعہ من اولہ الٰی اٰخرہ‬ ‫بامعان النظر ’ فبھت الذی کابر واللّہ لیھدی کید‬ ‫المکابرین ․‬ ‫ومن کبراء ھٰؤلء الوھابیة الشیطانیہ رجل اٰخر اذناب‬ ‫الکنکوھی یقال لہ اشرفعلی التانوی صنف رسیّلة ل تبلغ‬ ‫اربعة اوراق وصرح فیھا بان العلم الذی رسول اللّہ صلی‬‫اللّہ علیہ وسلم بالمغیبات فان مثلہ حاصل لکل صبی وکل‬
  • ‫مجنون بل لکل حیوان وکل بھیمة وھذا لفظہ الملعون ․‬ ‫“ آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر‬‫بقول زید صحیح ہے تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ اس غیب‬ ‫سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب اگر بعض علوم غیبیہ‬ ‫مراد ہیں تو اس میں حضور کی کیا تخصیص ہے ایسا علم‬ ‫غیب تو زید وعمر وبلکہ ہر صبی ومجنون بلکہ جمیع‬‫حیوانات وبہائم کیلئے بھی حاصل ہے الی قولہ اور اگر تمام‬ ‫علوم غیب مراد ہیں اس طرح کہ اس کی ایک فرد بھی‬ ‫خارج نہ رہے تو اس کا بطلن دلیل نقلی وعقلی سے ثابت‬ ‫ہے ․‬ ‫ای ان صح الحکم علی ذات النبی المقدسة بعلم‬‫المغیبات کما یقول بہ زید فالمسؤل عنہ انہ ماذا اراد بھذا‬‫بعض الغیوب ام کلھا فان اراد البعض فای خصوصیتہ فیہ‬ ‫لحضرة الرسالة فان مثل ھذا العلم بالغیب حاصل لزید‬ ‫وعمرو بل لکل صبی ومجنون بل لجمیع الحیوانات والبھا‬ ‫ئم وان اراد الکل بحیث ل یشذ منہ فرد فبطلنہ ثابت نقل‬ ‫وعقل اھ ․‬ ‫اقول فانظر الٰی اٰثار ختم اللّہ تعالٰی کیف یسوی بین‬
  • ‫رسول اللّہ صلی اللّہ تعالی علیہ وسلمٰ وبین کذا و کذا‬ ‫وکیف ضل عنہ ان علم زید وعمرو وعلم عظماء ھذا‬ ‫المتشیخ الذین سماھم بالغیوب لیکون ان کان ال ظنا‬‫وانما العلم الیقینی بھا اصالة لنبیاء اللّہ تعالٰی وما حصل‬‫بہ القطع لغیرھم فانما یحصل بانباء النبیاء علیہم الصلة‬ ‫والسّلم ل غیر الم ترالٰی ربک کیف یقول > وما کان اللّہ‬‫لیطلعکم علی الغیب ولکن اللّہ یجتبی من رسلہ من یشاء‬ ‫<․‬‫وقال عز من قائل > عٰلم الغیب فل یظھر علی غیبہ احدا‬ ‫ال من ارتضی من رسول< الیة ․‬ ‫فانظر کیف ترک القرآن و ودّع الیمان ’ واخذ یسال عن‬ ‫الفرق بین النبی والحیوان کذلک یطبع اللّہ علی قلب کل‬ ‫متکبر خوان ․‬ ‫ثم انظروا کیف حصر المر بین مطلق العلم والعلم‬ ‫المطلق ولم یجعل الفرق بعلم حرف اوحرفین وعلوم‬ ‫خارجة عن العد والحد شیئا فا نحصر الفضل عندہ فی‬ ‫الحاطة التامة ووجب سلب الفضیلة عن کل فضل ابقی‬ ‫بقیة فوجب سلب فضل العلم مطلقا عن النبیاء علیہم‬
  • ‫الصلوة والسّلم ومن دون تخصیص بالغیب والشھود‬ ‫وجریان تقریرہ الخبیث فیہ اظھر من جریانہ فی علم‬‫الغیب فان حصول مطلق العلم ببعض الشیاء لکل انسان‬ ‫وحیوان اظھر من حصول بعض علوم الغیب لھم ․‬ ‫ثم اقول لن تری ابدا من ینقص شان محمد صلی اللّہ‬ ‫تعالٰی علیہ وسلم وھو معظم لربہ عزوجل کل واللّہ انما‬ ‫ینقصہ من ینقصہ ربہ تبارک و تعالٰی کما قال عزوجل >‬‫وما قدروا اللّہ حق قدرہ < فان ذالک التقریر الخبیث ان لم‬ ‫یجر فی علم اللّہ عزوجل فانہ یجری بعینہ من دون کلفة‬ ‫فی قدرتہ سبحانہ وتعالٰی کأن یقول ملحد منکر لقدرتہ‬‫العامة سبحانہ وتعالٰی متعلما من ھذا الجاحد المنکر لعلم‬‫محمد صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم انہ ان صح الحکم علی‬ ‫ذات اللّہ المقد سة بالقدرة علی الشیاء کما یقول بہ‬ ‫المسلمون فالمسؤل عنہم انہم ماذا ارادوا بھذا بعض‬ ‫الشیاء ام کلھا فان ارادوا البعض فای خصوصیة فیہ‬ ‫لحضرة اللوھیة فان مثل ھذہ القدرة علی الشیاء‬‫حاصلة لزید وعمرو لکل صبی ومجنون بل لجمیع الحیوانات‬ ‫والبھائم وان ارادوا الکل بحیث لیشذ منہ فرد فبطلنہ‬
  • ‫ثابت عقل ونقل فان من الشیاء ذاتہ تعالٰی شانہ ول‬ ‫قدرة لہ علی نفسہ وال لکان مقدورا فکان ممکنا فلم‬ ‫یکن واجب فلم یکن الٰھا فانظر الٰی الفجور کیف یجر‬ ‫بعضہ الٰی بعض والعیاذ باللّہ رب العٰلمین ․‬ ‫وبالجملة ھٰؤلء الطوائف کلھم کفار مرتدون خارجون‬ ‫عن السلم باجماع المسلمین وقد قال فی البزازیہ‬ ‫والدرر والغرر والفتاوی الخیریة ومجمع النھر والدر‬ ‫المختار وغیرھا من معتمدات السفار فی مثل ھٰؤلء‬‫الکفار “ من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر اھ ’ ’ وقال‬‫فی الشفاء الشریف و نکفر من لم یکفر من دان بغیر ملة‬ ‫السلم من المسلسل او وقف فیھم او شک اھ․‬‫وقال فی بحر الرائق وغیرہ ’من حسن کلم اھل الھواء‬ ‫او قال معنوی او کلم لہ معنی صحیح ان کان ذالک کفرا‬ ‫من القائل کفرالمحسن اھ․‬ ‫وقال المام ابن حجر فی العلم فی فصل الکفر‬ ‫المتفق علیہ بین ائمتنا العلم‬‫“من تلفظ بلفظ الکفر یکفر وکل من استحسنہ اورضی بہ‬ ‫یکفر اھ․‬
  • ‫فالحذر الحذر ایھا الماء والمدر’ فان الدین اعز ما یوثر ’‬ ‫وان الکافر ل یوقر ’وان الضلل اھم ما یحذر ’وان الشر‬‫اجلب للشر ’ وان الدجال شر منتظر ’ وان اتباعہ اوفر واکثر‬ ‫’ وان عجائبہ اظھر واکبر’ وان الساعة ادھی وامر ․‬ ‫ففرّوا الٰی اللّہ ’ فقد بلغ السیل زباہ ’ ولحول ولقوة ال‬ ‫باللّہ ’ وانما اطنبنا فی ھذا المقام ’ لن التنبیہ علی ھذا‬ ‫من اھم المھام ’ وحسبنا اللّہ ونعم الوکیل’ وافضل‬ ‫الصلوة واکمل التبجیل علی سیّدنا محمد واٰلہ اجمعین ’‬ ‫والحمد للّہ رب العٰلمین ’ انتھی کلم المعتمد المستند ’‬‫ھذا ما اردنا عرضہ علیکم ’ ورجونا کل خیر وبرکة لدیکم ’‬ ‫افیدونا الجواب’ ولکم جزیل الثواب من الملک الوھاب ’‬ ‫والصلوة والسّلم علی الھادی للصواب وال ٰل وا لصحاب‬ ‫الٰی یوم الجزاء والحساب ․‬‫۱۲ ذالحجہ یوم الخمیس ۳۲۳۱ء فی مکة المکرمة ’ زادھا‬ ‫اللّہ شرفا و تکریما اٰمین ․‬ ‫صورة ماحررہ البحر الطمطام ’الحبر القمقام ’ العلمة‬ ‫الھمام ’والرحلة القرم الکرام ’ وبرکة النام ’ المفضال‬ ‫المقدام ’ المتبتل الٰی اللّہ ’ التقی النقی الواہ’ شیخ‬
  • ‫العلماء الکرام ببلد اللّہ الحرام ’سیّدنا ومولنا الشیخ محمد‬ ‫سعید بابصیل ’ اسبل اللّہ علیہ من مننہ البسط ذیل ’مفتی‬ ‫الشآفعیہ بمکة المحمیة ․‬ ‫> بسم اللّہ الرحمٰن الرحیم <‬ ‫الحمد للّہ الذی جعل علماء الشریعة المحمد یة بھجة‬‫الوجود ’ ومل بارشادھم وایضاحھم الحق المدائن والنجود‬ ‫’ وحرس بنضالھم عن دین سیّد المرسلین ’ سور ملتہ‬‫المطھرة عن التعدی علیہ وابطل بادلتھم الواضحة ضلل‬ ‫المضلین الملحدین’ امابعد فقد نظرت الٰی ماحررہ ونقحہ‬ ‫العلمة الکامل والجھبذ الذی عن دین نبیہ یجاھد‬‫ویناضل’ اخی وعزیزی “الشیخ احمد رضا خان ” فی کتابہ‬ ‫الذی سماہ >المعتمد المستند< الذی رد فیہ علی رؤس‬ ‫اھل البدع والزندقة الخبثاء بل ھم اشر من کل خبیث و‬ ‫مفسد ومعاند وبین فی ھذہ الرسالة مختصر ما الفہ من‬ ‫کتاب المذکور وبین فیھا اسماء جملة من الفجرة الذین‬ ‫کادو ان یکونوا بضللھم من اسفل الکافرین فجزاہ اللّہ‬‫فیما بین وھتک بہ خیمة خبثھم وفسادھم الجزاء الجمیل‬ ‫’ وشکر سعیہ واحلہ من قلوب اھل الکمال المحل الجلیل‬
  • ‫․‬‫قالہ بفمہ وامر برقمہ’ المرتجی من ربہ کمال النیل محمد‬ ‫سعید بن محمد بابصیل مفتی الشافعیة بمکة المخمیة‬ ‫غفراللّہ لہ ولوالدیہ ولمشایخہ ومحبہ واخوانہ و جمیع‬ ‫المسلمین․‬ ‫محمد سعید بابصیل ․‬ ‫صورة ما زبرہ اوحدالعلماء الحقانیة ’ وافرد العظماء‬ ‫الربانیة ’ ذوالمناصب والمحامد ’ فخرالماثل والماجد ’‬‫الورع الزاھد ’ والبارع الماجد’ شیخ الخطباء والئمة بمکة‬ ‫المکرمة ’ مانع الزیغ والفساد ’ مانح الفیض والسداد‬‫’مولنا الشیخ احمد ابوالخیر میر داد’ حفظہ اللّہ تعالٰی الٰی‬ ‫یوم التناد ․‬ ‫> بسم اللّہ الرحٰمن الرحیم<‬ ‫الحمد للّہ الذی من علی من شاء بالفیض والھدایة التی‬ ‫ھی من اعظم المنح’ وتفضّل علیہ بالصابة فی کل ما‬ ‫خطر ببالہ وسنح’ احمدہ ان جعل علماء امة نبینا کانبیاء‬‫بنی اسرائیل’ و رزقھم الملکة فی استنباط الحکام باقامة‬
  • ‫البرھان والدلیل ’واشکرہ اذ رفع لمن انتصب منہم لقامة‬‫الحق اعلما ’ وخفض معاندھم اذ صیرھم فی الخافقین‬‫اعلما ’ واشھد ان لالہ ال اللّہ وحدہ ل شریک لہ شھادة‬ ‫عبد نطق بخلصة التوحید’ وجعلہ فی جیدالزمان کالعقد‬ ‫الفرید’ واشھدان سیّدنا مولنا محمدا عبدہ ورسولہ الذی‬‫بعثہ للعٰلمین نورا و ھدی ورحمة ’وارسلہ بالتوضیع لیکون‬ ‫الدین الحنیفی مبسوطا لھذہ المة صلی اللّہ تعالٰی علیہ‬ ‫وعلی اٰلہ المصابیح الغرر’ اصحابہ نجوم الھدی ’وعقود‬ ‫الدرر ․‬ ‫اما بعد فالعلمة الفاضل الذی بتنویر ابصارہ یحل‬‫المشاکل والمعاضل’’ المسمی باحمد رضاخان ’ قد وافق‬ ‫اسمہ مسماہ ’ وطابق در الفاظہ جوھر معناہ’ فھو کنز‬ ‫الدقائق المنتخب من خزائن الذخیرة ’ وشمس المعارف‬ ‫المشرقة فی الظھیرة ’ کشاف مشکلت العلوم فی‬‫الباطن والظاھر ’ یحق لکل من وقف علی فضلہ ان یقول‬ ‫کم ترک الول للخر ․‬ ‫ل ٰت بما لم تستطع‬ ‫وانی وان کنت الخیر زمانة‬ ‫الوائل‬
  • ‫ان یجمع العالم فی‬ ‫ولیس علی اللّہ بمستنکر‬ ‫واحد‬ ‫خصوصا بما ابداہ فی ھٰذہ الرسالة ’ الحریة بالقبول‬ ‫والتعظیم والجللة ’ المسماة بالمعتمد المستند من الدلة‬ ‫والبراھین ’ والقول الحق المبین القامع لھل الکفر‬ ‫والملحدین ’ فان من قال بھذہ القوال معتقدا لھا کما‬ ‫ھی مبسوطة فی ھذہ الرسالة لشبھة انہ من الکفرة‬‫الضالین المضلین ’ المارقین من الدین ’ مروق السھم من‬ ‫الرمیة لدی کل عالم من علماء المسلمین ’ المؤیدة لما‬ ‫علیہ اھل السلم والسنة والجماعة ’ الخاذلة لھل البدع‬ ‫والضللة والحماقة ․‬ ‫فجزاہ اللّہ تعالٰی عن المسلمین المقتدین بائمة الھدی‬ ‫والدین الجزاء الوافر و نفع بہ وبتألیفہ فی الول وال ٰخر ’‬ ‫ولزال علی ممرالزمان رافعا لواء الحق ناصرا لھلہ‬ ‫ماتعاقب الملوان ’ ومتّع اللّہ الو جود بحیاتہ وما برح‬ ‫ملحوظا بعون اللّہ وعنایاتہ محفوظا بالسبع المثانی من‬‫کید کل عدو وحاسد شانی ’ بجاہ عظیم الجاہ خاتم النبیاء‬ ‫والمرسلین صلی اللّہ تعالٰی علیہ وعلی اٰلہ وصحبہ‬
  • ‫اجمعین ․‬‫رقمہ فقیر ربہ ’واسیر ذنبہ ’ احمد ابوالخیر بن عبداللّہ میر‬ ‫داد خادم العلم والخطیب والمام بالمسجد الحرام ․‬ ‫احمد ابو الخیر میر داد‬ ‫صورة ماسطرہ مقدام العلماء المحققین ’ وھمام‬ ‫العظماء المدققین ’العریف الماھر’ والغطریف الباھر‬‫’والسحاب الھامر ’ والقمر الزاھر ناصر السنة وکاسر الفتنة‬ ‫’ مفتی الحنفیة سابقا ’ومحط الرحال سابقا ولحقا ’‬ ‫ذوالعز والفضا ’ مولنا العلمة الشیخ صالح کمال’ توجہ‬ ‫ذوالجلل بتیجان الغروالجمال ․‬ ‫> بسم اللّہ الرحٰمن الرحیم <‬ ‫الحمد للّہ الذی زین سماء العلوم بمصابیح العلما ء‬‫العارفین ’ وبین لنا ببرکاتھم طرق الھدایة والحق المبین ’‬‫احمدہ علی ما منّ بہ وانعم ’ واشکرہ علی ماخص وعمم‬ ‫’ واشھد ان ل الہ ال اللّہ وحدہ لشریک لہ شھادة تدفع‬‫قائلھا علی منابرالنور ’ وتدفح عنہ شبہ اھل الزیغ والفجور‬ ‫’ واشھد ان سیّدنا ومولٰنا محمدا عبدہ و رسولہ الذی‬
  • ‫اوضح لنا الحجة وابان لنا طریق الحجة ’ اللھم صل وسلم‬ ‫علیہ وعلی اٰلہ الطیبین الطاھرین ’واصحاحبہ الفائزین‬ ‫المفلحین ’ والتابعین لھم باحسان الٰی یوم الدین ․‬ ‫لسیما العالم العلمة بحر الفضائل ’ وقرة عیون العلماء‬‫الماثل ’ مولنا الشیخ المحقق برکة الزمان احمد رضا خان‬ ‫البریلوی حفظہ اللّہ وابقاہ ومن کل سوء و مکروہ وقاہ‬‫اما بعد فعلیکم السّلم ایھا المام المقدام ورحمة اللّہ و‬‫برکاتہ علی الدوام ’ ولقد اجبت فاصبت ’ وحققت فیما کتبت‬ ‫’ و قلدت اعناق المسلمین قلئد المنن’ وادخرت عند اللّہ‬‫سبحنہ الجر الحسن فابقاک اللّہ لھم حصنا منیعا ’ وحباک‬ ‫من لدنہ اجرا عظیما ومقاما رفیعا ․‬ ‫وان ائمة الضلل الذین سمیتھم کما قلت ومقالک فیھم‬ ‫بالقبول حقیق فھم ’والحال ماذکرت مارقون من الدین‬ ‫یجب علی کل مسلم التحذیر منہم ’ والتنصیر عنہم ’ وذم‬ ‫طریقتھم الفاسدة ’ واٰرائھم الکاسدة ’ واھانتھم بکل‬‫مجلس واجبة ’وھتک الستر عنہم من المور الصائبة ورحم‬ ‫اللّہ القائل ․‬ ‫وعن کل بدعی‬ ‫من الدین کشف الستر عن کل کاذب‬
  • ‫اتی بالعجائب‬ ‫صوامع دین اللّہ‬ ‫لھدمت‬ ‫و لو ل رجال مؤمنون‬ ‫من کل جانب‬ ‫اولئک ھم الخاسرون اولئک ھم الضالون اولئک ھم‬ ‫الظالمون اولئک ھم الکافرون اللّھم انزل بھم بأ سک‬‫الشدید’ اجعلھم ومن صدق اقوالھم مابین شرید وطرید ’‬ ‫ربنا ل تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمة‬ ‫انک انت الوھاب وصلی اللّہ علی سیّد نا محمد وعلی اٰلہ‬ ‫وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا غایة․ محرم الحرام ۴۲۳۱سنہ‬ ‫قالہ بفمہ وامر برقمہ خادم العلم والعلماء بالمسجد‬ ‫الحرام محمد صالح ابن العلمة المرحوم الشیخ صدیق‬ ‫کمال الحنفی مفتی مکة المکرمة سابقا غفراللّہ لہ‬ ‫ولوالدیہ ولمشایخہ واحبابہ وخذل اعدائہ وحسادہ ومن‬ ‫سوء ارادہ اٰمین ․‬ ‫محمد صالح کمال‬ ‫صورة ما رقمہ العلمة المحقق ’ والفھامة المدقق’‬ ‫مشرق سناء ا لفھوم ’ مشرق ذکاء العلوم ’ ذوالعلوم‬
  • ‫والفضال ’ مولنا الشیخ علی بن صدیق کمال ادامہ اللّہ‬ ‫بالعزوالجمال ․‬ ‫> بسم اللّہ الرحٰمن الرحیم <‬ ‫الحمد للّہ الذی اعزالدین القویم بالعلماء العاملین‬‫المکرمین بالعلم النافع الذین جعلتھم نجما یستضاء بھم‬ ‫فی الزمنة الدھماء الحوالک الظلم ’ وشھبا تحرق بھم‬‫طوائف الطغیان والزیغ والبدع فیحور وارھم ’ واشھد ان‬ ‫ل الہ ال اللّہ وحدہ لشریک لہ شھادة ادخرھا لیوم‬ ‫الزحام ’ واشھد ان سیّدنا محمدا عبدہ ورسولہ خاتم‬ ‫النبیاء العظام صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم وعلی اٰلہ‬ ‫وصحبہ الکرام ․‬ ‫وبعد فانا اشکراللّہ ربی علی طلوع ھٰذا النجم الساطع ’‬‫والدواء الناجع ’ فی ھذا الزمان الفاجع الواجع ’ الذی نری‬ ‫فیہ البدع کالسیل الدافع ’ واھلھا یتناسلون من کل حدب‬ ‫واسع ’ اللّھم اخل منھم البلد ’ ومثل بھم بین العباد ’‬ ‫واھلکھم کما اھلکت ثمود وعاد’ واجعل دیارھم بلقع ’‬‫لشک فی کفر ھٰؤلء الخوارج کلب النار وحزب الشیطان‬ ‫وحقیق بالقبول والذعان ’ ماجاء بہ ھذا النجم اللمع ’‬
  • ‫والسیف القامع رقاب الوھابیة ومن کان لھم تابع ’ الشیخ‬ ‫الکبیر ’ والعلم الشھیر ’ مولٰنا وقدوتنا ’ احمد رضا خان‬ ‫البریلوی سلمہ اللّہ واعانہ علی اعداء الدین المارقین‬‫بحرمة سیّدنا محمد صلی اللّہ علیہ وسلم وعلیکم السّلم ․‬ ‫علی ابن صدیق کمال ․‬ ‫صورة ما نمقہ البحر الزاخر ’ والحبر الفاخر ’ بقیة الکابر‬ ‫وعمدة الواخر ’الصفی المتوکل ’ الوفی المتبتل ’ حامی‬ ‫السنن ’ ماحی الفتن ’ مطرح اشعة النور المطلق ’مولٰنا‬ ‫الشیخ محمد عبد الحق ’ المھاجر اللہ اٰبادی ’ دام بالید‬ ‫والیادی السّلم علیکم ورحمة اللّہ وبرکتہ ومغفرتہ ․‬ ‫>بسم اللّہ الرحٰمن الرحیم <‬ ‫الحمد للّہ الذی وفق من اختار من عبادہ لحمایة ھذہ‬ ‫الشریعة وجعلھم ورثة انبیائہ فی العلم والحکمة ویا لھا‬‫من رتبة عالیة رفیعة ’ والصلوٰة والسّلم علی سیدنا محمد‬ ‫الذی جمع فیہ مولہ الفضل جمیعہ ’ وعلی اٰلہ واصحابہ‬ ‫ذوی النفوس السمیعة المطیعة ’ ماصاح الھزار فوق‬ ‫الزھار’ ترنیمہ وترجیعہ ’اما بعد فقد اطلعت علی ھذہ‬ ‫الرسالة الشریفة وماحوتہ من التحریر النیق ’ والتقریر‬
  • ‫الرشیق ’ فرأیتھا ھی التی تقر بھا العینان لبغیرھا ’‬‫وھی التی تصغی الیھا ال ٰذان حیث ظھر خیرھا و میرھا ’‬‫اصاب صاحبھا العلمة الحبر الطمطام’ المقوال المفضال‬ ‫المنعام ’ النکر البحر الھمام ’ الریب اللبیب القمقام’‬ ‫ذوالشرف و المجد المقدام ’ الذکی الزکی الکرام ’ مولنا‬ ‫الفھامة الحاج ’ احمد رضا خان ’ کان اللّہ لہ اینما کان ’‬‫ولطف بہ فی کل مکان ’ فیما بسط وحقق ’ وضبط ودقق‬‫’ اقسط وزعا ’وارشد وھدی ’ فیجب ان یکون المرجع عند‬ ‫الشتباہ الیہ’ والمعول علیہ فجزاہ اللّہ الجزاء التام ’‬‫واسبغ علیہ نعمہ غایة النعام ’ واطال طیلتہ طوال الدھر‬ ‫المستدام ’ بارغد عیش لیسأم فیہ ول یسام بحق صندید‬ ‫المرسلین سیّد النام علیہ وعلی اٰلہ الکرام وصحابتہ‬ ‫الفخام ’ ازکی صلة اللّہ واطیب السّلم ․‬ ‫حررہ العبد الضعیف الملتجی بحرم ربہ الھادی ’ محمد‬ ‫عبدالحق ابن مولنا الشیخ شاہ محمد اللہ اٰبادی ’‬ ‫عاملھما اللّہ بفضلہ العمیم ․‬‫۸ صفر المظفر ۴۲۳۱سنہ من الھجرة النبویة علی صاحبھا‬ ‫الف الف صلة وتحیة ․‬
  • ‫۱۸ ۲۱ محمد عبدالحق عفی عنہ ․‬ ‫صورة ما نقحہ غیظ المنافقین ’ وفوز الموافقین ’ حامی‬‫السنة واھلھا ’ماحی البدعة وجھلھا ’ زینة الزمان وحسنة‬ ‫الوان ’ منشد خطب الکرم ’ محافظ کتب الحرم العلمة‬‫الجلیل ’ والفھامة النبیل ’حضرة مولنا السیّد اسمعیل خلیل‬ ‫ادا مھما اللّہ بالعز والتبجیل ․‬ ‫> بسم اللّہ الرحٰمن الرحیم <‬ ‫الحمدللّہ الواحد الحد القھار القوی العزیز المنتقم الجبار‬ ‫للتعلی بصفات الکمال والجلل ’ المتنزہ عن قول اھل‬ ‫الکفر والطغیان والضلل ’ الذی لیس لہ ضد ول ند ول‬ ‫مثال ’ ثم الصلة والسّلم علی افضل العالمین سیّدنا‬‫محمد بن عبداللّہ خاتم النبیین والمرسلین المنقذ لمن تبعہ‬ ‫من الخزی والردی ’ الخاذل لمن استحب العمی علی‬ ‫الھدی ’ اما بعد فاقول ان ھٰؤلء الفرق الواقعین فی‬ ‫السوال غلم احمد القادیانی و رشید احمد و من تبعہ‬ ‫کخلیل النبھتی واشرفعلی وغیرھم ل شبھة فی کفرھم‬
  • ‫بل مجال ’ بل لشبھة فی من شک بل فی من توقف فی‬ ‫کفرھم بحال من الحوال ’ فان بعضھم منابذ للدین‬ ‫المتین ’ وبعضھم منکر ما ھو من ضروریاتہ المتفق علیہ‬‫بین المسلمین’ فلم یبق لھم اسم ولرسم فی السلم کما‬ ‫ل یخفی علٰی اجھل الناس من النام’ فان ما اتوا بہ شئ‬‫تمجہ السماع ’ وتنکرہ العقول والقلوب والطباع ’ ثم اقول‬ ‫ایضا انی کنت اظن ان ھٰؤلء الضالین المضلین ’ الفجرة‬ ‫الکفرة المارقین من الدین ’ انماحصل لھم ما حصل من‬ ‫سوء العتقاد ’ مبناہ علی سوء الفھم من عبارات العلماء‬‫المجاد ’ وال ٰن حصل لی علم الیقین الذی لشک فیہ انھم‬ ‫من دعاة الکفرة یریدون ابطال دین محمد صلی اللّہ‬ ‫تعالٰی علیہ وسلم ’ فتجد بعضھم ینکر اصل الدین ’‬ ‫وبعضھم یدعی النبو ة منکر الخاتم النبیین ’ وبعضھم‬ ‫یدعی انہ عیسی’ وبعضھم یدعی انہ المھدی واھونھم‬‫فی الظاھر بل اشدھم فی الحقیقة ھٰؤلء الوھابیة لعنھم‬‫اللّہ واخزاھم ’ وجعل النار ماواھم ومثواھم ’یلبسون علی‬ ‫العوام الذین ھم کالنعام’ بانھم ھم المتبعون للسنة ’‬ ‫وان غیرھم من السلف الصالح الئمة’ فمن دونھم‬
  • ‫مبتدعون ’ وللسنة الغراء تارکون و مخالفون’ فیما لیت‬ ‫شعری اذا لم یکن ھٰؤلء لنھجہ صلی اللّہ تعالٰی علیہ‬ ‫وسلم متبعین فمن المتبع لہ واحمد اللّہ تعالٰی علی ان‬‫قیض ھذا العالم العامل’ والفاضل الکامل’ صاحب المناقب‬‫والمفاخر ’ مظھر کم ترک الول لل ٰخر ’ فرید الدھر ’ وحید‬ ‫العصر ’ مولنا الشیخ احمد رضا خان سلمہ اللّہ الرب‬ ‫المنان ’ لبطال حججھم الداحضة ’ بالیات والحادیث‬ ‫القاطعة ’ کیف ل وقد شہد لہ عالمو مکة بذلک ’ ولو لم‬ ‫یکن بالمحل الرفع لما وقع منہم ذلک ’ بل اقول لو قیل‬ ‫فی حقہ انہ مجدد ھذا القرن لکان حقا وصدقا ․‬ ‫ان یجمع العالم فی واحد‬ ‫ولیس علی اللّہ بمستنکر‬ ‫فجزاہ اللّہ خیر الجزاء عن الدین واھلہ ’ ومنحہ الفضل‬ ‫والرضوان بمنہ وکرمہ ’ والحاصل قد وجدت بارض الھند‬ ‫الفرق کلھا وھذا بحسب الظاھر’ والھم بطانة الکفرة‬ ‫اعداء الدین ’ و مرادھم بذالک ایقاع التفرقة بین کلمة‬ ‫المسلمین’ رب لیس الہدی ال ھداک ول الء ال الک ’‬ ‫ٰ‬ ‫وحسبنا اللّہ ونعم الوکیل ’ ولحول ول قوة ال باللّہ العلی‬ ‫العظیم’ اللّھم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ ’وارنا الباطل‬
  • ‫باطل والھمنا اجتنابہ’ وصلی اللّہ علی سےدنا محمد وعلٰی‬ ‫اٰلہ وصحبہ وسلم ․‬‫قالہ بفمہ ’وکتبہ بقلمہ راجی عفو ربہ الجلیل’ حافظ کتب‬ ‫الحرم المکی السیّد اسمعیل ابن السیّد خلےل ․‬ ‫اسماعیل خلیل بن السیّد ۱۹ھ ۲۱ ․‬ ‫صورة ما وصفہ ذوالعلم الراسخ ’ والفضل الشامخ ’‬ ‫والکرم والمن ’ والخلق الحسن ’ والبھاء والزین ’ مولنا‬ ‫العلمة السیّد المرزوقی ابوحسین’ حفظہ اللّہ فی‬ ‫النشأتین ․‬ ‫>بسم اللّہ الرحمٰن الرحیم <‬ ‫الحمد للّہ الذی اطلع فی سمآء الوجود شمسا بازغة ’‬ ‫فکانت لظلمت الضللت ناسخة دامعة ’ وللھدایة الٰی‬ ‫طریق الحق حجة بالغة ’ ومحجة من سلکھا لتزل قدمہ‬ ‫ول تکون زائغة ’ بوجود من افاض اللّہ علینا برسالتہ نعما‬ ‫سابغة ومل بالعرفان قلوبا کانت فارغة ’ سیّد نا ومولنا‬‫محمّد ن الذی اٰتاہ اللّہ ال ٰیات البیّنات ’ والمعجزات الباھرات‬ ‫’ واطلعہ علی ماشآء من المغیبات ’ صلی اللّہ علیہ وعلی‬‫اٰلہ واصحابہ الذین سبقونا بالیمان سبقا ’ وباعوا نفوسھم‬
  • ‫فی نصرة دینہ ’ وتمھید طرقہ وتمکینہ ’ فاولئک ھم‬ ‫ٓ‬ ‫الفائزون حقا ’ المشرفون خلقا وخلقا ’ الممیزون بحسن‬‫ذکر یبقی ’ واجر یتزاید فی صحف العمال ویرقی ’ وعلی‬ ‫اتباعہ المتمسکین بھدیہ القویم ’ السالکین صراط‬ ‫المستقیم ’ لسیما ورثتہ العلماء العلم ’ الذین یستضاء‬‫بنورھم فی حالک الظلم ’ ادام اللّہ وجودھم علی توالی‬‫العصار ’ واطلع فی سماء المعالی ’ سعودھم فی جمیع‬ ‫القری ’ والمصار ’ اٰمین․‬ ‫اما بعد فقد منّ اللّہ تعالٰی علی ولہ الحمد والشکر‬ ‫ّ‬ ‫بالجتماع بحضرة العالم العلمة ’ والحبر البحر الفھامة’‬‫ذی المزایا الغزیرة ’ والفضائل الشھیرة ’ والتألیف الکثیرة‬ ‫فی اصول الدین وفروعہ ومفردات العلم وجموعہ ’ ول‬ ‫سیما فی الرد علی المبطلین من المبتدعة المارقین’ وقد‬ ‫کنت سمعت بجمیل ذکرہ ’وعظیم قدرہ ’ وتشرفت‬ ‫بمطالعة بعض مصنفاتہ التی یضئی الحق بھا من نور‬‫مشکاتہ ’ فوقرت محبتہ بقلبی ’ واستقرت بخاطری ولبی’‬‫والذن تعشق قبل العین احیانا ’ فلما من اللّہ تعالٰی بھذا‬ ‫الجتماع ’ ابصرت من اوصاف کمالتہ ما لتستطاع ’‬
  • ‫ابصرت علم علم عالی المنار ’ وبحر معارف تتدفق منہ‬‫المسائل کالنھار ’ صاحب الذکاء الرائع ’حامل العلوم الذی‬ ‫سد بھا الذرائع ’ المطیل بلسانہ فی حفظ تقریر علوم‬ ‫الشرائع’ المستولی علی الکلم والفقہ والفرائض’‬‫المحافظ بتوفیق اللّہ تعالی علی الداب والسنن والواجبات‬ ‫والفرائض ’ استاذ العربیة والحساب ’ بحرالمنطق الذی‬ ‫تکتسب منہ ال ٰلیہ ای اکتساب ’ مسھل الوصول الٰی علم‬‫الصول ’ اذلم یزل لھا رائضا ’حضرة مولٰنا العلمة الفاضل‬ ‫المولوی البریلوی الشیخ احمد رضا ’ اطال اللّہ حیاتہ ’‬ ‫وادام فی الدارین سلمتہ’ وجعل قلمہ سیفا مسلول‬ ‫لیغمد ال فی رقاب المبطلین ’ اٰمین اللّھم اٰمین ’ فتذکرت‬ ‫عند رؤیاہ’ حفظہ اللّہ ․‬ ‫قول الشاعر ’ الناظم الناثر‬ ‫عن احمد بن سعید‬ ‫کانت مسائلة الرکبان تخبرنی‬ ‫اطیب الخبر‬‫اذنای احسن مما قد رای‬ ‫ثم التقےنا فل واللّہ ما نظرت‬ ‫بصری‬ ‫ورایت نفسی ذاعی و حصر عن البلوغ فی وصفہ الٰی‬
  • ‫البغیة والوطر ’ وقد تفضل علی الفاضل المذکور’ ضاعف‬ ‫ّ‬ ‫اللّہ لہ الجور برؤیة ھذا التالیف الجلیل ’ والتصنیف النبیل‬ ‫الذی ذکر فیہ الفرق الضالة الحدیثة ’ التی کفرت ببدعھا‬ ‫المکفرة الخبیثة ’ فرفعت اکف الضراعة ’متشفعا بصاحب‬ ‫الشفاعة ’طالبا من اللّہ حفظ الیمان ’ مستعیذا بہ من‬ ‫الکفر والفسوق والعصیان ’ وان یحفظ جمیع المسلمین‬ ‫من سریان عقائد الکفرة المضلین ’ ویجزی حضرة‬ ‫المؤلف خیر الجزاء فی یوم الدین ’ اذ قام مقاما تشکرہ‬ ‫علیہ جمیع المؤمنین ’ فی الرد علی ھؤلء المبطلین ’ بل‬‫الکذبة المفترین ’ وبیان فضائحھم ’ وتر ھاتھم وقبائحھم‬ ‫’ ولشک ان ما ھم علیہ من العتقاد ’ فی غایة البطلن‬‫والفساد ’ ل تتصورہ العقول ول تصدقہ النقول ’ بل مجرد‬ ‫اوھام و ترھات ’ لیس لھا ادلة ول شبہ تدرؤ عنھم ول‬ ‫تاویلت ’ وانما ھی محض اتباع الھوی ’ موقع والعیاذ‬ ‫باللّہ تعالٰی فی الردی ․‬‫وقد قال تعالٰی > بل اتبع الذین ظلموا ھوائھم بغیر علم‬ ‫و من اضل ممن اتبع ھواہ <‬ ‫وقال تعالٰی > فل تتبعوا للھوی ان تعدلوا <‬
  • ‫وقال تعالٰی >ول تتبع الھوی فیضلک عن سبیل اللّہ <‬ ‫وقال تعالٰی > اراےت من اتخذ الھہ ھواہ <‬ ‫وقال تعالٰی >واتبع ھواہ فمثلہ کمثل الکلب ان تحمل‬ ‫علیہ یلھث اوتترکہ یلھث <‬ ‫وقال تعالٰی >واتبع ھواہ و کان امرہ فرطا <‬ ‫وقد اخرج الطبرانی عن انس رضی اللّہ تعالٰی عنہ انہ‬‫قال رسول اللّہ صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم ان اللّہ تعالٰی‬ ‫حجب التوبة عن کل صاحب بدعة حتی یدع بدعتہ ․‬‫واخرج ابن ماجة عن عبد اللّہ بن عباس رضی اللّہ عنہما‬ ‫انہ قال قال رسول اللّہ صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم ابی‬ ‫اللّہ ان یقبل عمل صاحب بدعة حتی یدع بدعتہ ․‬ ‫واخرج ابن ماجة ایضا عن حذیفة رضی اللّہ تعالٰی عنہ‬ ‫قال قال رسول اللّہ صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم ل یقبل‬ ‫اللّہ لصاحب بدعة صوما ول صلة ول صدقة ولحجا ول‬ ‫عمرة ولجھادا ولصرفا ول عدل یخرج من السلم کما‬ ‫تخرج الشعرة من العجین ․‬ ‫واخرج البخاری ومسلم فی صحیحھما عن ابی بردة بن‬‫ابی موسی الشعری رضی اللّہ عنہ حدیثا طویل وفیہ فلما‬
  • ‫افاق ای ابو موسی قال انا برئی ممن برئی منہ رسول‬ ‫اللّہ صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم الحدیث ․‬ ‫واخرج مسلم فی صحیحہ عن یحیی بن یعمر قال قلت‬‫لبن عمر رضی اللّہ تعالٰی عنھما یا ابا عبدالرحٰمن انہ قد‬ ‫ظھر قبلنا ناس یقرؤن القران ویزعمون ان ل قدر وان‬ ‫المر انف فقال اذا لقیت اولئک فاخبرھم انی برئی منہم‬ ‫وانہم براٰء منی انتھی ․‬‫فرحم اللّہ امرء ناضل عن الحق وایّدہ واظھرہ ’ وادحض‬ ‫الباطل ودمرہ ’ورحم اللّہ امرء اعان علی ذالک نصرة‬ ‫للدین ’ وخذلنا للکفرة المبطلین’ ورحم اللّہ امرء تباعد‬ ‫عن اھل الکفر و الضلل’واستعاذ باللّہ القادر المتعال‬ ‫فی البکور وال ٰصال من الوقوع فی مصاید تلک الحبال ’‬‫قائل الحمد للّہ الذی عافانی مما ابتلھم بہ وفضّلنی علی‬ ‫کثیر ممن خلق تفضیل ․‬‫فقد اخرج الترمذی عن ابی ھریرة رضی اللّہ تعالٰی عنہ‬ ‫عن النبی صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم قال من راٰی مبتلی‬‫فقال الحمد للّہ الذی عافانی مما ابتلک بہ و فضلنی علی‬ ‫کثیر ممن خلق تفضیل لم یصبہ ذلک البلء ․‬
  • ‫و قال الترمذی حدیث حسن ورحم اللّہ امرء طلب لھم‬ ‫من اللّہ تعالٰی الہدایة لترک تلک الغوایة ’وطرح تلک‬‫العتقادات الباطلة’ والبدع المکفرة المضللة ’ والتوبة منھا’‬ ‫بالعراض عنھا والتوفیق ’ ل قوم طریق’ فانہ تعالٰی ل‬ ‫رب غیرہ ’ ول خیر ال خیرہ ’ علیہ توکلت والیہ انیب ’‬ ‫وصلی اللّہ تعالٰی علی نبیہ ومصطفاہ واٰلہ وصحبہ وکل‬ ‫من اتبعہ واقتفاہ ’اٰمین ’ والحمد للّہ رب العٰلمین ․‬ ‫قالہ بفمہ ’ وکتبہ بقلمہ’ احد خدمة طلبة العلم بالمسجد‬‫الحرام المکی محمد المرزوقی ابوحسین عفااللّہ عنہ اٰمین‬ ‫․‬ ‫محمد المرزوقی ابوحسین ۶۱ھ ۳۱․‬ ‫صورة ما املہ ذو الشرف الجلی’ والفخر العلی الفاضل‬ ‫الکامل’ والعالم العامل ’دامغ اھل الکفر والکید‬ ‫’مولناالشیخ عمر بن ابی بکر باجنید ادامہ اللّہ بالتأیید‬ ‫والید ․‬ ‫> بسم اللّہ الرحٰمن الرحیم <‬ ‫الحمد للّہ رب العٰلمین’ والصلوة والسّلم علی سیّد‬ ‫المرسلین’ وعلی الہ وصحبہ اجمعین’ ورضی اللّہ عن‬
  • ‫التابعین وتابعیھم باحسان الٰی یوم الدین’ وبعد فقد‬ ‫اطلعت علی ھذہ الرسالة للفاضل العلمة والرحلة‬ ‫الفھامة الشیخ احمد رضا ’ فرأیت ان من ذکر فیھا من‬ ‫اھل الزیغ والضلل ضالون مضلون’ ومن الدین مارقون’‬ ‫وفی طغیانھم یعمھون’ اسأل مولی العظیم ان یسلط‬‫علیہم من یقمع شوکتھم ’ویقطع دابرھم’ فاصبحوا لتری‬ ‫ال مساکنھم ’ ان ربی علی کل شئ قدیر ’ وصلی اللّہ‬ ‫علی سیّد نا و مولنا محمد وعلی اٰلہ وصحبہ اجمعین‬ ‫والحمد للّہ رب العٰلمین ․‬ ‫قالہ الفقیر الٰی اللّہ تعالٰی عمر بن ابی بکر باجنید ․‬ ‫عمر بن ابی بکر باجنید ۶۹ھ ۲۱․‬‫صورة ماحبرہ ’حامل لواء العلماء المالکیة ’مطرح النوار‬ ‫العرشیة و الفلکیة ’ الفاضل البارع الخاشع المتواضع’ ذو‬‫التقی والنقی ’ مفتی الملکیة سابقا ’ مولنا الشیخ عابد بن‬ ‫حسین زینہ اللّہ بازین زین ․‬ ‫>بسم اللّہ الرحٰمن الرحیم <‬ ‫وعلیک ایھا المفضال ’ سلم اللّہ المتعال ’ الحمد للّہ‬ ‫الذی اطلع فی سماء العلماء شموس العرفان ’ فازاحوا‬
  • ‫بانوارھا الساطعة عن الدین غیاھب ذوی البھتان ’‬ ‫والصلة والسّلم علی اکمل من اختصہ مولہ بعلم‬ ‫المغیبات ’وجعلہ نورا ماحیا غیاھب التلبیس عن الملة‬ ‫الحنیفیة بقواطع ال ٰیات ’ ونزھہ عن جمیع النقائص‬ ‫کالکذب والخیانة ’ فمعتقد خلفہ کافر یستحق بالجماع‬ ‫الھانة ’ وعلی اٰلہ المجاد واصحابہ السیاد ․‬ ‫اما بعد فانہ لما وفق اللّہ لحیاء دینہ القویم فی ھذا‬ ‫القرن ذی الفتن والشرّ العمیم ’من اراد بہ خیرمن ورثة‬‫سیّد المرسلین’ سیّد العلماء العلم وفخر الفضلء الکرام‬ ‫’وسعد الملة والدین’ احمد السیر ’ و العدل الرضا فی کل‬ ‫وطر ’ العالم العامل ذوالحسان ’ حضرة المولٰی احمد‬ ‫رضا خان ’ فقام فی ذلک بفرض الکفایة ’ وقمع ببراھینہ‬ ‫القاطعة ضللة المبطلین البادیة لذوی الدرایة ’ و من اللّہ‬‫علی فی اسعد الوقات و اشرف الطوالع ’ وابرک الساعات‬ ‫’ بالتیمن بشمس سعودہ ’ واللیاذ بساحة احسانہ وجودہ’‬ ‫والوقوف علی رسائلہ التی جعلھا حاصل رسالتہ اللتی‬ ‫اقام فیھا البراھین’ وبیّن فیھا انواع الضلل الصادر من‬ ‫اھل الخبال ’ ھم غلم احمد قادیانی ’ و رشید احمد ’‬
  • ‫وخلیل احمد ’و اشرف علی وخلفھم من اھل الضلل‬ ‫والکفر الجلی ’ وسود بھا وجہ ضللھم المبین فذکرت‬ ‫عند ذالک قول من اجتباہ مولہ ․‬ ‫لن تزال ھٰذہ المة قائمة علٰی امراللّہ لیضرھم من‬ ‫خالفھم حتٰی یاتی امر اللّہ ․‬ ‫صلی اللّہ وسلم علیہ وعلی اٰلہ ’ ومن انتھٰی الیہ فجزی‬‫اللّہ مؤلفھا حیث قام بھذا المر الواجب ’ وکشف بشموسہ‬ ‫عن وجہ الدین الغیاھب ’وقمع ضلل المبطلین ’‬ ‫المفسدین عقائد ضعفاء المسلمین عن السلم و‬ ‫المسلمین خیر الجزاء’ وابقی بدر سعودہ منیرا فی سماء‬ ‫الشریعة الغراء’ ووقفہ الٰی ما یحبہ ویرضاہ وانالہ من‬ ‫الخیر ’غایة ما یتمناہ ’ اٰمین اللّھم اٰمین․‬ ‫قالہ بفمہ ’ وامر برقمہ ’ خادم العلم بالدیار الحرمیة‬ ‫’محمد عابد بن المرحوم الشیخ حسین مفتی السادة‬ ‫المالکیة․‬ ‫محمد عابد حسین‬ ‫صورة ما نظمہ فی سلک التحریر’ العالم النحریر الصفی‬ ‫الزکی ’ الذھین الذکی ’ صاحب التصانیف ’ والطبع اللطیف‬
  • ‫’ مولنا علی بن حسین المالکی ’ نورہ اللّہ بالنور الملکی ․‬ ‫> بسم اللّہ الرحمٰن الرحیم<‬‫وعلیک ایھا المفضال سلم اللّہ ’ورحمتہ وبرکاتہ ورضاہ ’‬ ‫ان اعذب المقال ’ حمد ذی الجلل ’ ا لمنزہ عن النقائص‬ ‫والشباہ ’ الذی ختم الرسالة باکرم رسول اجتباہ ’ ونزھہ‬ ‫سائر رسلہ من الکذب والمنقصات ’ واختصھم من بین‬ ‫مخلوقاتہ بالطلع علی المغیبات’ فمن الحق بھم ادنی‬ ‫نقص من العباد’ فقد صار بالجماع من اھل الرتداد ’‬ ‫اللّھم فصل علیھم وسلم’ واٰلھم وصحبھم ’وکرّم سیما‬ ‫نبیک المصطفی’ و اٰلہ واصحابہ اھل الصدق و الوفا ․‬ ‫اما بعد فانہ لما من اللّہ علی باستجلء نور شمس‬ ‫العرفان من سماء صفاء ملتزم التقان ’ من صار محمود‬ ‫فعلہ’ کشاف اٰیات فضلہ ’ وکیف ل وھو مرکز دائرة‬‫المعارف الیوم ’ ومطلع کواکب سماء العلوم فی دار القوم‬ ‫’ عضد الموحدین ’وعصام المھتدین’ القاطع بصارم‬‫البراھین’ لسان المضلین الملحدےن ’ والرافع منار الیمان ’‬ ‫حضرة المولٰی احمد رضا خان ’ اطلعنی علی وریقات بیّن‬ ‫فیھا کلم من حدث فی الہند من ذوی الضللت وھم‬
  • ‫غلم احمد القادیانی و رشید احمد و اشرفعلی وخلیل‬ ‫احمد و خلفھم من ذوی الضلل والکفر الجلی ’ وان‬ ‫منھم من تکلم فی حق رب العٰلمین ومنہم من الحق‬ ‫النقص باصفیائہ المرسلین ’ و انہ قد ابطل کلم کل من‬ ‫ھٰؤلء المضلین برسالة بدیعة رفیعة واضحة البراھین ’‬ ‫وامرنی بالنظر فی کلم ھٰؤلء القوم ’ وماذا ےستحقونہ‬ ‫من اللوم ’ فنظرت اطاعة لمرہ فی کلمہم فاذا ھو کما‬ ‫قال ذالک الھمام یوجب ارتدادھم ’ فھم یستحقون‬‫الوبال’ بل ھم اسوء حال من الکفار ذوی الضلل ’ فجزی‬ ‫اللّہ ھٰذا الھمام حیث ابطل برسائلہ قول ھٰؤلء اللئام ’‬ ‫وقام بفرض الکفایة فی ھٰذا القرن العمیم الشرور ’‬ ‫ونھی المسلمین عن سفسطة ما صدر من اھل الفجور‬ ‫عن السلم والمسلمین ’ احسن ماجازی بہ عبادہ‬ ‫المخلصین ’ ووقفہ وسددہ لحیاء الشریعة الغراء ’‬ ‫واسعدہ وایدہ ونصرہ علی ھٰؤلء الشقیاء’ ول زال بدر‬‫اقبالہ ’ طالعا فی سماء کمالہ ’ اٰمین اللھم اٰمین’ والحمد‬ ‫للّہ علی مااولہ ’ والصلة والسلم علی خاتم الرسل‬ ‫الکرام’ واٰلہ والصحاب ’ماتیمن بذکرھم کتاب ․‬
  • ‫قالہ بفمہ ورقمہ بقلمہ العبد الفقیر ذوال ٰثام محمد علی‬‫المالکی المدرس بالمسجد الحرام ابن الشیخ حسین مفتی‬ ‫المالکیة سابقا بالدیار الحرمیة․‬ ‫محمد علی بن حسین ۰۱ھ ۳۱․‬‫ثم امتدح الفاضل العلمة الممدوح’ حفظہ المولی السبوح‬ ‫حضرة مصنف المعتمد المستند’ کان لہ الحد الصمد ’‬ ‫بقصیدة غراء ’ وھی ھذہ کما تری ․‬ ‫ما سمت تتیہ بحسنھا لما زھت‬ ‫وحلت وطابت طیبة وتشرفت‬ ‫واتت تقول لدی التفاخر اننی‬ ‫خیر البلد فمکة دونی ثبت‬ ‫انی احب من البلد جمیعھا‬ ‫للّہ حقا دعوة الھادی وفت‬ ‫وبی المطیع تضاعفت حسناتہ‬
  • ‫بزیادة عما بمکة ضوعفت‬ ‫وانا السماء تزینت بکواکب‬ ‫کل النام بنورھا السامی اھتدت‬‫ما البدر بل ما الشمس ال من سنا‬ ‫تلک الکواکب فی البریة اشرقت‬ ‫فلذلک الخضراء برقع وجھھا‬ ‫وبکت من الغبراء حتی اغرقت‬ ‫فاز الذی قد زارنی بحبیبہ‬ ‫ذی المعجزات ومن بہ العلیا ارتقت‬ ‫بینا انا مصغ لطیّب قولھا‬ ‫اذ شمت مکة فی المحاسن اقبلت‬ ‫تبدی مفاخرھا و قالت اننی‬ ‫ام القری فجمیعھا بعدی اتت‬ ‫انا قبلة للعالمین جمیعھم‬
  • ‫وبی المشاعر والمناسک جمعت‬ ‫بی بیت بارینا الحرام وزمزم‬ ‫طعم شفا من کل حادثة برت‬ ‫و بی الصفا للطائفین ومروة‬ ‫و یمین رب الخلق بی قد قبلت‬ ‫و بی الحطیم و مستجار والمقا‬‫م و مسجد حسناتہ قد ضوعفت‬ ‫زاد ت علی حسنات طیبة مائة‬ ‫الف عن الھادی الروایة ایّدت‬ ‫وانا احب الرض للمولی‬ ‫وللمختار عند رواة اٰثار روت‬ ‫واتی بانی خیر ارض اللّہ للّہ‬ ‫العظیم روایة ایضا زھت‬ ‫انا مطلع للنیّرات جمیعا‬
  • ‫فبم الفخار لطیبة اذفاخرت‬ ‫وانا التی قصدی لقصد النسک‬ ‫یحرم قاصدی حتما بما قد اقّتت‬ ‫وانا علی المسطاع حجی واجب‬ ‫علینا بعمر مرة قد برّات‬ ‫وکفایة فی کل عام قد اتی‬ ‫والسیاٰت بساحتی قد کفّرت‬ ‫فی کل یوم ینظر المولی الٰی‬ ‫اھلی برحمتہ ابتداء قد تبت‬ ‫فیعم حتی النائمین بساحتی‬ ‫فضل برحمتہ ومغفرة وقت‬ ‫وبکل یوم مائة عشرون من‬‫رحمات مولی الخلق بی قد انزلت‬ ‫للطائفین وناظرین لکعبة‬
  • ‫والراکعین علیھم قد قسمت‬‫انا مھبط للوحی الکریم ومظھر ال‬ ‫ایمان والطاعات بی قد نوعت‬ ‫حبی من الیمان جاؤا اننی‬ ‫انفی کما الکیر الخبائث اذ بدت‬ ‫وانا المقدسة الحرام العرش و‬ ‫البلد المین صلح اسمائی سمت‬ ‫بی اکثر القراٰن انزل ربّنا‬ ‫منی سری بدر فارض اشرقت‬ ‫لما اطالت فی تمدح نفسھا‬ ‫قامت وقالت طیبة ھی طولت‬ ‫حسبی بما جزم النام بانھا‬ ‫خیر البقاع لطیبھا ممن حوت‬ ‫وکم الصول تشرفت بفروعھا‬
  • ‫فباحمد اباؤہ قد شرّفت‬‫بی من ریاض الخلد روضة قربة‬ ‫بی تم بدر الدین اٰی جمّعت‬ ‫بی اربعون من الصلة برائة‬‫بی منبر الھادی علی حوض ثبت‬ ‫انفی الخبائث قد اتی کالکیربی‬ ‫محراب طہ بئر غرس فضّلت‬ ‫قال النبی بانھا من جنة‬ ‫وبتفلة من خیر مبعوث حلت‬ ‫انا طابة انا دار ھجرة من سما‬ ‫بی قربة عن حج بیت قدّمت‬ ‫وبی السائة ل یضاعف ذنبھا‬ ‫اما بمکة فالسائة ضوعفت‬ ‫منی قبور الصاحبین و عترة‬
  • ‫امسوا ضیاء الرض منھم نورت‬ ‫لما سمعت مقال کل منھما‬ ‫قلت اطلبا حکما عدالتہ نمت‬‫ذا خبرة مولی المعارف والہدیٰ‬ ‫رب البلغة من بہ الدنیا زھت‬ ‫ذا عفة ذا حرمة عند المل‬ ‫ذا فطنة منھا العلوم تفجرت‬‫شرح المقاصد فھو سعد الدین‬ ‫بذکائہ شرح المواقف فانجلت‬ ‫عضد الہدایة فخرنا محمود‬ ‫فعل زانہ کشاف اٰی احکمت‬ ‫ابدی معانی المشکلت بیانہ‬ ‫ببدیع منطقة الجواھر نظمت‬ ‫ایضاحہ بدلئل العجاز‬
  • ‫اسرار البلغة منہ حقا اسفرت‬ ‫قال ومن ھو قد توثقنا بہ‬ ‫قلت العزیز ومن بہ التقوی صفت‬ ‫محیی علوم الدین احمد سیرة‬ ‫عدل رضا فی کل نازلة عرت‬ ‫مول الفضائل احمد المدعو رضا‬‫خان البریلوی من بہ الخلق اھتدت‬ ‫قال و انعم بالمحکّم ذی التقی‬ ‫فعلی تقدمہ البریة اجمعت‬ ‫الطیب بن الطیب بن الطیب‬ ‫بن ذوی الہدی اٰیات رفعة رقت‬‫فابن العماد عمادہ من کشفت ذا‬‫حججا بھاحجج ابن حجة ادحضت‬‫قاضی القضاء فما الخفاجی عندہ‬
  • ‫ال کبدر دون شمس اشرقت‬ ‫املٰی العلوم فھل سمعت بمثلہ‬ ‫املی وذٰا ایاتہ قد شوھدت‬ ‫ل زال بدر کمالہ بسماء عز‬ ‫ز جللہ یہدی العباد اذا غوت‬ ‫صلّی وسلّم ربنا الھادی علی‬ ‫رب الکمال ومن بہ الخلق احتمت‬‫تمت بحمد اللّہ وعونہ وحسن توفیقہ وصلی اللّہ علی من‬ ‫جعلہ ھادیا لطریقہ واٰلہ․‬ ‫علی محمد بن حسین ۰۱ھ ۳۱․‬‫صورة ما املّہ الشاب التقی ’ المحصل المترقی ’ذوالجمال‬ ‫والزین ’ مولنا جمال بن محمد بن حسین نزھہ اللّہ عن‬ ‫کل شین ․‬ ‫>بسم اللّہ الرحمٰن الرحیم<‬‫الحمد للّہ الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق ’ وجعلہ‬ ‫خاتما لرسلہ وھادیا الٰی صراط المستقیم لکافة الخلق ’‬
  • ‫وجعل ورثة النبیاء علماء دینہ القویم الذابین عن الحق‬ ‫غیاھب الشقیاء ’والصلة والسّلم علی سیّد ال نام واٰلہ‬ ‫الکرام واصحابہ الفخام ․‬‫اما بعد فانی قد اطلعت علی کلم المضلین الحادثین’ الن‬‫فی بلد الہند فوجد تہ موجبا لردتھم واستحقاقھم للخزی‬ ‫المبین ’ وھم اخزاھم اللّہ تعالی غلم احمد القادیانی’ و‬ ‫رشید احمد ’ واشر فعلی ’ وخلیل احمد ’ وخلفھم من‬ ‫ذوی الضلل والکفر الجلی’ فجزی اللّہ حضرة ذی‬‫الحسان ’ المولٰی احمد رضا خان عن السلم والمسلمین‬ ‫احسن الجزاء ’حیث قام بفرض الکفایة و رد علیھم‬ ‫بالرسالة المسماة بالمعتمد المستند ذابا عن الشریعة‬‫الغراء ’ووقفہ لما یحبہ ویرضاہ ’ وبلغہ من الخیر ما یتمناہ‬ ‫’ اٰمین ’ اللّھم اٰمین’ وصلی اللّہ علی سیّدنا محمد وعلی‬ ‫اٰلہ وصحبہ وسلم ․‬ ‫قالہ بفمہ وامر برقمہ احد المدرسین بالدیار الحرمیة‬ ‫محمد جمال حفید المرحوم الشیخ حسین مفتی المالکیة‬ ‫سابقا ․‬ ‫محمد جمال بن محمد ۳۲۳۱․‬
  • ‫صورة ما کتبہ جامع العلوم ’ونابغ الفھوم ’حائزالعلوم‬ ‫النقلیة ’وفائزالفنون العقلیة ’ الھیّن’ اللیّن ’ الخاشع‬ ‫’المتواضع ’ نادر الزمان ’ مولنا الشیخ اسعد بن احمد‬‫الدھان ’ المدرس بالحرم الشریف ’ دام بالفیض والتشریف‬ ‫․‬ ‫> بسم اللّہ الرحمٰن الرحیم <‬ ‫حمدا لمن ابد الشریعة المحمدیة علی مدی الیام ’ واید‬‫الملة الحنیفیة باسنة اقلم العلماء العلم ’ وفیض لھا فی‬‫کل عصرمن العصار ’ حماة وانصار ’ ذوی عزائم واخطار ’‬ ‫یحمون حوزتھا ’ ویقولون صولتھا ’ ویقررون حجتھا‬ ‫’ویوضحون محجتھا ’ وھٰکذا فی کل عصر’ یتجدد النصر ’‬ ‫ویحصل للعد و القھر ’حتی یتم المر ’ والصلة والسّلم‬‫علی من سن سنة الجھاد ’وامر بتجرید سیوف الحجج من‬‫الغماد ’ لردع اھل الکفر والعناد ’ والبغی والفساد ’ وعلی‬‫اٰلہ واصحابہ الذین ھم لحزب اللّہ نجوم ’ ولحزب الشیطان‬ ‫الخاسر رجوم ․‬ ‫وبعد فقد اطّلعت علی ھٰذہ الرسالة الجلیلة التی الّفھا‬ ‫نادرة الزمان ’ونتیجة الوان ’ العلمة الذی افتخرت بہ‬
  • ‫الواخر علی الوائل ’ والفھامة الذی ترک بتبیانہ سحبان‬ ‫باقل’ سیّدی وسندی الشیخ احمد رضا خان البریلوی مکن‬‫اللّہ من رقاب اعادیہ حسامہ ’ ونشر علی ھام عزہ اعلمہ‬ ‫’ فوجدتھا حصنا مشیدا ’ علی الشریعة الغراء ’ رفعت‬ ‫علی دعائم الدلة التی لیاتیھا الباطل من بین یدیھا ول‬ ‫من خلفھا ’ول تنہض شبہ الملحدین للقیام لدیھا فانھا‬ ‫متواریة من خوفھا ’ سلت صوارم الحجج القطعیة علی‬ ‫عقائد الکٰفرین’ ورمت بشھبھا شیاطین المبطلین خفضت‬ ‫ھامھم بذلک السیف المسلول ’ واشھرت فضیحتھم بین‬ ‫ارباب العقول ’ حتی ظھر ظھور الشمس فی رابعة‬‫النھار ارتدادھم ’ اولئک الّذین لعنہم اللّہ فاصمہم’ واعمی‬‫ابصارھم ’وتحقق بما اعتقدوہ انسللہم من الدین القویم ’‬ ‫اولئک الذین لہم فی الدنیا خزی ولہم فی ال ٰخرة عذاب‬ ‫عظیم ’ فلعمری ان لھذا ھوالتالیف الذی یفتخر بہ‬ ‫ّ‬ ‫العالمون ’ ولمثل ھذا فلیعمل العاملون ’ فجزی اللّہ‬ ‫مؤلفھا عن السلم والمسلمین خیرا ’ فانہ قلد اجیادھم‬ ‫قلئد النعم ’ ونصر الدین بما احکمہ من محکم ھذا‬ ‫التالیف الذی بادحاض حجة الخصم حکم ’ ل زالت ایّامہ‬
  • ‫مشرقة السنا ’ وبابہ کعبة المرام والمنی ’ماترنم بمدحہ‬‫مادح ’ وصدح بشکرہ صادح ’ وصلّی اللّہ علی سیّدنا محمد‬ ‫وعلی اٰلہ وصحبہ وسلّم ․‬ ‫قالہ بفمہ ورقمہ بقلمہ خادم الطلبة راجی الغفران ’‬ ‫اسعد بن احمد الدھان عفا اللّہ عنہ و علیکم السّلم‬ ‫ورحمة اللّہ وبرکاتہ․‬ ‫ا لدھان اسعد راجی الغفران ․‬ ‫صورة ما قرظ بہ الفاضل الدیب ’ لریب اللبیب الحاسب‬ ‫الکاتب ’ الرفیع المراتب’ حسنة الوان ’مولنا الشیخ‬ ‫عبدالرحمان الدھّان دام بالمن والحسان ․‬ ‫> بسم اللّہ الرحمٰن الرحیم<‬ ‫الحمد للّہ الذی اقام فی کل عصر اقواما وفقہم لخدمتہ‬‫’وایدھم لدی مناضلة الملحدین بنصرتہ ’ والصلة والسّلم‬ ‫علٰی سیّدنا محمد الذی اذل ببعثتہ اھل الکفر والطغیان ’‬ ‫وعلی اٰلہ واصحابہ الذین اخمدوا نار الجھل فظھر‬ ‫نورالیقین واضح العیان ․‬ ‫وبعد فل شک ان القوم المسؤل عنہم اھل الحمیة‬‫الجاھلیة ’مارقون من الدین کما یمرق السھم من الرمیة’‬
  • ‫مستحقون فی الدنیا ضرب الرقاب ’ ویوم العرض‬‫والحساب اشد العذاب ’ فلعنہم اللّہ واخزاھم ’ وجعل النار‬ ‫مثواھم ’ اللّہم کما وفقت من اختصصتہ من عبادک القمع‬ ‫ھؤلء الکفرة المتمردبن ’ واھلتہ للذب عما ید عو الیہ‬ ‫النبی المین’ فانصرہ نصرا تعز بہ الدین ’ویتخز بہ وعد ’‬ ‫وکان حق علینا نصر المؤمنین ’ ل سیما عمدة العلماء‬ ‫العاملین ’ زبدة الفضلء الراسخین ’علمة الزمان واحد‬‫الدھر والوان ’ الذی شہد لہ علماء البلد الحرام ’بانہ السیّد‬‫الفرد المام سیّدی وملذی’ الشیخ احمد رضا خان البریلوی‬ ‫متعنا اللّہ بحیاتہ والمسلمین’ ومنحنی ھدیہ فان ھدیہ‬ ‫ھدی سیّد المرسلین’ وحفظہ من جمیع جھاتہ علی رغم‬ ‫انوف الحاسدین’ ربنا ل تزغ قلوبنا بعد اذھدیتنا وھب لنا‬ ‫من لدنک رحمة انک انت الوھاب ’وصلّی اللّہ علی سیّد نا‬ ‫محمد وعلی اٰلہ وصحبہ وسلّم ․‬ ‫قالہ بفمہ ورقمہ بقلمہ معتقدا بجنابہ الراجی من ربہ‬ ‫الغفران’ عبدالرحمٰن ابن المرحوم احمد الدھان ․‬ ‫عبدالرحمٰن دھان ۲۰۳۱ ․‬
  • ‫صورة ماسطرہ الفاضل المستقیم علی الدین القویم ’‬ ‫والحق القدیم ’ المدرس بالمدرسة الصولتیہ’ بمکة‬ ‫المحمیة ’مولٰنا الشیخ محمد یوسف الفغانی ’ حفظ‬ ‫بالسبع المثانی ․‬ ‫>بسم اللّہ الرحمٰن الرحیم <‬ ‫سبحنک یا من تفردت بالکبریاء ’ وتنزھت عن سمة‬ ‫النقص والکذب والفحشاء ’ احمدک حمد من اعترف‬ ‫بعجزہ ’ واشکرک شکر من توجّہ الیک باسرہ ’ واصلّی‬ ‫واسلّم علٰی سیّدنا محمد خاتم انبیائک ’وخلصة اھل‬ ‫ارضک وسمائک ’ واٰلہ واصحابہ عمدة اصفیائک ’ ومن‬ ‫تبعہم باحسان الٰی یوم لقائک ․‬ ‫و بعد فانی قد اطلعت علی ھذہ الرسالة التی الّفھا‬ ‫الفاضل العلمة والحبرالفھّامة المستمسک بحبل اللّہ‬ ‫المتین’ الحافظ منار الشریعة والدین ’ من قصرت لسان‬ ‫البلغة بلوغ شکرہ ’ وعجز عن القیام بحقہ وبرّہ ’ الذی‬‫افتخر بوجودہ الزمان ’ مولٰنا الشیخ احمد رضا خان ’ ل زال‬ ‫سالکا سبیل الرشاد ’ وناشرا الویة الفضل علی رؤس‬ ‫العباد ’ وادامہ اللّہ للذّب عن الشریعة الغراء ’ ومکن‬
  • ‫حسامہ من رقاب العداء ’ فوجدتھا قد ھدمت معظم‬ ‫ارکان عقائد المفسدین المرتدین ’ الذین ارادو ان یطفؤا‬ ‫نور اللّہ بافواھہم ’ ویابی اللّہ ال ان یتم نورہ ارغاما ’‬‫لنوف الحاسدین وقد اودعت الحکمة و فصل الخطاب ’ اذ‬ ‫ھی مسلمة عند اولی اللباب ’ ولعبرة بمن انکر علیھا‬ ‫ممن اضلّہ اللّہ’ و ختم علی سمعہ وقلبہ وجعل علی‬ ‫بصرہ غشاوة فمن یھدیہ من بعد اللّہ ․ شعر‬ ‫وینکر الفم‬ ‫قد تنکر العین ضؤ الشمس من رمد‬ ‫طعم الماء من سقم‬‫واللّہ انہم قد کفروا ’ وعن ربقة الدین قدخرجوا ’ فتعسا‬ ‫لہم واضل اعمالہم ’ اولئک الذین لعنہم اللّہ فاصمہم‬ ‫واعمی ابصارھم ’ نسألہ السّلمة من تلک العتقادات’‬ ‫والعافیة من ھاتیک الخرافات’ فجزی اللّہ مؤلفھا عن‬ ‫المسلمین خیر الجزاء وانعم علینا وعلیہ بحسن اللقاء ’‬ ‫امین یارب العٰلمین ․‬ ‫قالہ بفمہ ورقمہ بقلمہ معتقدا لہ بجنانہ’ اضعف خلق‬ ‫اللّہ خادم طلبة العلم محمد یوسف ال فغانی بلغہ اللّہ‬ ‫المانی ․‬
  • ‫صورة مارقمہ ذوالفضل والجاہ ’ اجل خلفاء الحاج‬ ‫المولوی الشاہ امداد اللّہ’ مدرس الحرم الشریف‬ ‫والمدرسة الحمدیہ ’بمکة المحمیة ’مولٰنا الشیخ احمد‬ ‫المکی المدادی ل زال محفوظا بامداد الھادی ․‬ ‫> بسم اللّہ الرحمٰن الرحیم <‬ ‫لہ الحمد وال ٰلء من شید ارکان السلم و نصب اعلمھا‬‫’وضعضع بنیان اللئام ’ونکس ازلمھا ’وجعل سیّدنا محمدا‬‫للرسل قفل وللنبیاء ختامھا ’ اشہد ان ل الہ ال اللّہ وحدہ‬ ‫ل شریک لہ الٰہ واحد’صمد تنزہ عن جمیع النقائص وعما‬ ‫یتفوہ بہ اھل الزیغ و الشرک تعالٰی اللّہ عما یقول‬‫الظلمون ’واشہد ان سیّدنا ومولنا محمدا خیرالخلق قاطبة‬ ‫الذی خصہ اللّہ بعلم ماکان وما یکون ’ وھوالشفیع‬ ‫المشفع وبیدہ لواء الحمد اٰدم ومن دون تحت لوائہ یوم‬ ‫یبعثون ․‬ ‫وبعد فیقول العبد الضعیف الراجی لطف ربہ اللطیف ’‬‫احمد المکی الحنفی القادری’ الچشتی الصابری المدادی ’‬ ‫انی اطلعت علی ھذہ الرسالة ’المشتملة علی اربع‬ ‫توضیحات المؤید ة بال دلة القاطعة والبراھین المبرھنة‬
  • ‫بالکتاب والسنة ’ کانھا اسنة فی قلوب الملحدین ’فرأیتھا‬ ‫صمصامة ماضیة علی رقاب الکفرة الفجرة الوھابیین ’‬‫فجزی اللّہ مؤلفھا خیر الجزا ’ وحشرنا اللّہ وایاہ تحت لواء‬ ‫سیّد النبیاء’ کیف ل و ھو البحر الطمطام ’ اتی بالدلة‬ ‫الصحیحة غیر سقام ’و حق ان یقال فی حقہ انہ قائم‬ ‫لنصرة الحق و الدین ’وقمع اعناق الملحدة والمتمردین ’‬ ‫ال وھو التقی الفاضل ’والنقی الکامل ’عمدة المتاخرین ’‬ ‫واسوة المتقدمین’ فخر العیان ’مولنا المولوی الشیخ‬ ‫محمّد احمد رضا خان ’ کثر اللّہ امثالہ ومتع المسلمین‬ ‫’بطول حیاتہ ’ اٰمین’ ل ریب ان ھٰؤلء مکذبون للدلة‬ ‫صریحا فیحکم علیہم بالکفر فعلی المام اید اللّہ بہ الدین‬ ‫’وقصم بسیف عدلہ اعناق الطغاة المبتدعة والمفسدین’‬ ‫کھٰؤلء الفرق الضالة الباغین ’ والزنادقة المارقین ’ ان‬ ‫لطھر الرض من امثالہم ’ویریح الناس من قبائح اقوالہم‬ ‫وافعالہم ’وان یبالغ فی نصرة ھٰذہ الشریعة الغراء التی‬ ‫لیلھا کنھارھا ونھارھا کلیلھا فلیضل عنھا ال ھالک‬ ‫ویشدد علی ھؤلء العقوبة الٰی ان یرجعوا الٰی الھدی’‬‫وینکفوا عن سلوک سبیل الردی ’ ویتخلصوا من شرّ الشرک‬
  • ‫الکبر ’ وینادی علی قطع دابرھم ان لم یتوبوا باللّہ اکبر ’‬ ‫فان ذالک من اعظم مھمّات الدین ’ومن افضل ما اعتنی‬ ‫بہ فضلء الئمة ’وعظماء السلطین ․‬‫وقد قال المام الغزالی رحمہ اللّہ فی نحو ھٰؤلء الفرق‬ ‫ان القتل منہم افضل من قتل مائة کافر لن ضررھم‬ ‫بالدین اعظم واشد اذ الکافر تجتنبہ العامة لعلمہم بقبح‬‫ماٰلہ فل یقدر علی غوایة احد منہم واما ھٰؤلء فیظھرون‬‫للناس بزی العلماء والفقراء والصالحین مع انظوائہم علی‬‫العقائد الفاسدة والبدع القبیحة فلیس للعامة ال ظاھرھم‬ ‫الذی بالغوا فی تحسینہ واما باطنہم المملو من تلک‬ ‫القبائح والخبائث فل یحیطون بہ ول یطلعون علیہ‬ ‫لقصورھم عن ادراک المخائل الدالة علیہ فیغترون‬ ‫بظواھرھم ویعتقدون بسببھا فیہم الخیر فیقبلون‬ ‫مایسمعون منہم من البدع والکفرالخفی ونحوھما‬ ‫ویعتقدونہ ظانین انہ الحق فیکون ذالک سببا لضللہم‬ ‫وغوایاتھم ’ فلھذہ المفسدة العظیمة قال المام الولی‬‫محمّد الغزالی علیہ رحمة الباری ان قتل الواحد من امثال‬ ‫ھٰؤلء افضل من قتل مائة کافر․‬
  • ‫و کذا فی المواھب اللدنیة ان من انتقص من شأن النبی‬ ‫صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم فیقتل فکیف من عاب اللّہ‬ ‫والنبی صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم من باب اولی‬‫فالی اللّہ المشتکی والنجوی اللّہم ارناحقائق الشیاء کما‬‫ھی واحفظنا عن الغوایة و اھلھا ربنا ل تزغ قلوبنا بعد اذ‬‫ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمة انک انت الوھاب واغفرلنا‬ ‫ولوالدینا و مشایخنا یوم الحساب ’ وارزقنا رضاک واجعلنا‬ ‫مع الذین انعمت علیہم من الحباب ․‬‫ھذا ما قالہ بلسانہ ’و زبرہ ببنانہ’ الراجی عفو ربہ الباری‬‫احمد المکی الحنفی ابن الشیخ محمد ضیاء الدین القادری‬ ‫الچشتی الصابری المدادی المدرس بالحرم الشریف‬‫المکی وبالمدرسة الحمدیة بمکة المحمیة )۴۲ھ ۳۱سنہ (‬ ‫غفر اللّہ ذنوبھما وکان لہ ناصرا ومعینا حامدا مصلیا‬ ‫مسلما ․‬ ‫شیخ ضیاء الدین‬ ‫صورة ما حررہ العالم العامل والفاضل الکامل مولنا‬ ‫محمد یوسف الخیاط ادامہ اللّہ علی سوی الصراط․‬ ‫>بسم اللّہ الرحمٰن الرحیم<‬
  • ‫الحمد للّہ وحدہ ’ والصلة والسّلم علی من ل نبی بعدہ ’‬ ‫سےدنا محمد صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم من وجد من‬ ‫ھٰؤلء الصناف الذبن حکی عنہم حضرة الفاضل المؤلف‬ ‫احمد رضا خان شکر اللّہ سعیہ ما فی ھٰذہ الرسالة من‬ ‫ھٰذہ المنکرات الفاحشة التی فی غایة الغرابة ’التی ل‬ ‫یصدر مثلھا عمن یومن باللّہ والیوم الخر لشک انہم‬ ‫ضالون مضلون کفار یخشی منہم الخطر العظیم علی‬ ‫عوام المسلمین ’خصوصا فی الصقاع التی لینصر‬ ‫حکامھا الدین لکونہم لیسوا من اھلہ’ ویجب علی کل‬ ‫مسلم التباعد عنہم کما یتباعد من الوقوع فی النار ’وعن‬‫السود الفاتکة ’ویجب علی کل من قدر من المسلمین علی‬ ‫خذلنہم ’ وقمع فسادھم ’ان یقوم بما استطاع من ذالک‬ ‫کما فعل حضرة المؤلف الفاضل شکر اللّہ سعیہ ولہ الید‬ ‫الطولٰی عند اللّہ ورسولہ و اللّہ تعالٰی اعلم ․‬ ‫کتبہ الحقیر محمد بن یوسف خیاط․‬ ‫محمد یوسف ۳۲۳۱․‬ ‫صورة ماکتبہ الشیخ الجلیل المقدار ’الرفیع المنار’ مولنا‬‫الشیخ محمد صالح بن محمد بافضل ادام اللّہ فیوضہ علی‬
  • ‫الصغاروالکبار ․‬ ‫>بسم اللّہ الرحمٰن الرحیم<‬ ‫احمدک اللّہم یا مجیب کل سائل ’واصلّی واسلّم علی من‬‫ھو لنا الیک اشرف الوسائط والوسائل’ رغما علی انف کل‬ ‫مجادل معاند ’وطردا لکل مصادر فی ذالک ومطارد‬ ‫’واسألک الرضا عن العلما ء الماثل ’القائمین بخدمة‬ ‫الشریعة فل احد لہم فی ذالک مما ثل․‬‫اما بعد فان اللّہ جلت عظمتہ وعظمت منتہ’ قد وفق من‬‫اختارہ من عبادہ للقیام بخدمة ھٰذہ الشریعة الغراء ’وامدہ‬ ‫بثواقب الفھام فاذا اظلم لیل الشبہة اطلع من سماء‬ ‫علمہ بدرا ’وھو العالم الفاضل ’الماھر الکامل’ صاحب‬ ‫الفھام الدقیقة’ والمعانی الرفیعة’ حضرة المؤلف لکتابہ‬ ‫الذی سماء المعتمد المستند ’وتصدی فیہ للرد علی اھل‬‫البدع والکفر والضلل بما فیہ مقنع لذوی البصائر ومن ھو‬ ‫بطریق الحق ل یجحد ’وھو المام احمد رضا خان وبین‬‫فی رسالتہ ھٰذہ التی تصفحتھا مختصر کتابہ المذکور وبین‬‫لنا اسماء رؤساء الکفر والبدع والضلل مع ماھم علیہ من‬‫المفاسد واکبر المصائب فباؤ بخسران مبین ’وعلیہم الوبال‬
  • ‫الٰی یوم الدین ’ فقد احسن المؤلف فی ابتداع ھٰذا‬ ‫التصنیف’ واجاد فی اختراع ھٰذا الترصیف ’ فشکر اللّہ‬ ‫سعیہ وامدہ بالبراھین ’ لقمع الملحدین بجاہ سیّد‬ ‫المرسلین ’سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ وعلی اٰلہ‬ ‫واصحابہ اجمعین اٰمین یارب العٰلمین․‬ ‫رقمہ الراجی عفو ربہ والفضل محمد صالح بن بافضل ․‬ ‫محمد صالح بن محمد بافضل ۲۰۳۱․‬ ‫صورة ما زبرہ الفاضل الکامل ذو محاسن الشمائل ’و‬‫الفیض الربّانی ’مولنا الشیخ عبدالکریم الناجی الداغستانی‬ ‫حفظ من شرکل حاسد وشانی‬ ‫ّ‬ ‫>بسم اللّہ الرحٰمن الرحیم<‬‫الحمد للّہ رب العٰلمین ’والصلة والسّلم علی سیّد نا محمد‬ ‫واٰلہ وصحبہ اجمعین‬‫اما بعد فان ھٰؤلء المرتدین قد مرقوا من الدین کما یمرق‬ ‫الشعرة من العجین ’ کما قالہ النبی المین وکما صرح بہ‬ ‫صاحب ھٰذہ الرسالة المسطرة بل ھم الکفرة الفجرة ’‬ ‫قتلھم واجب علی من لہ حد ونصل وافر ’ بل ھو افضل‬
  • ‫من قتل الف کافر ’ فہم الملعونون وفی سلک الخبثاء‬ ‫منخرطون ’ فلعنة اللّہ علیہم وعلی اعوانہم’ ورحمة اللّہ‬ ‫وبرکاتہ علٰی من خذلہم فی اطوارھم ’ھذا ’ وصلی اللّہ‬ ‫علی سیّد نا محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین ․‬ ‫خادم العلم الشریف فی المسجد الحرام عبدالکریم‬ ‫الداغستانی ․‬ ‫عبدالکریم الناجی․‬ ‫صورة ما سطرہ الشارب من منھل الیمان الیمانی ’‬ ‫الفاضل الکامل البالغ منتھی المانی’ مولنا الشیخ محمد‬‫سعید بن محمد الیمانی ’ لزال محفوظا ومحظوظا باطائب‬ ‫التھانی․‬ ‫>بسم اللّہ الرحٰمن الرحیم<‬ ‫بحمدک اللّہم حمد اھل ودادک ’ من وفقتھم للعمل علی‬ ‫وفق مرادک ’فادوا ماحملوہ من اعباء الدیانة’ مع‬ ‫شھودھم العجزوالستکانة لول ان امددتھم بالفتح‬ ‫والعانة ’ونسألک اللّہم فی سلکہم انتظاما ’ومن مقسم‬ ‫الفضل معہم اقتساما’ ونصلی ونسلم علی من فقہ وعلم‬ ‫’واوتی جوامع الکلم ’و علٰی اٰلہ المیامین ’ واصحابہ‬
  • ‫اصحاب الیمین․‬ ‫اما بعد فان من جلل النعم التی ل نثبت فی ساحة‬ ‫شکرھا ان قیض الشیخ المام’ والبحرالہمام ’برکة النام‬‫’وبقیة السلف الکرام ’احد الئمة الزھاد ’والکاملین العباد ’‬ ‫احمد رضا خان للرد علی ھٰؤلء المرتدین ’الضالین‬‫المضلین ’المارقین من الدین ’مروق السھم من الرمیة اذ‬‫لیشک ذولب فی ردتھم وضللہم ’ ومروقہم من الدین ’‬ ‫جعل اللّہ التقوی زادہ ’ورزقنی وایّاہ الحسنی وزیادہ‬ ‫وانالہ من الخیرات ما ارادہ ’ اٰمین بجاہ المین ․‬ ‫رقمہ اقل الخلقیة ’ بل ل شئ فی الحقیقة ’ فقیر رحمة‬ ‫ربہ ’واسیر وصمة ذنبہ’ خویدم طلبة العلم فی المسجد‬ ‫الحرام ’سعید بن محمد الیمانی غفر اللّہ لہ ولوالدیہ‬ ‫ولمشائخہ ولجمیع المسلمین ’ اٰمین ․‬ ‫سعید بن محمد الیمانی ۶۱۳۱․‬ ‫صورة ما کتبہ الفاضل الحاوی’ للدلئل والدعاوی’ الحائد‬‫الزاوی ’ عن کل المساوی’ مولنا الشیخ حامد احمد محمد‬ ‫الجداوی حفظ عن شرکل غبی وغاوی ․‬
  • ‫>بسم اللّہ الرحٰمن الرحیم<‬ ‫وصلی اللّہ علی سیّد نا محمد وعلی اٰلہ وصحبہ وسلم‬ ‫’الحمد للّہ العلی العلی’ الذی جعل کلمة الذین کفروا‬‫السفلٰی ’وکلمة اللّہ ھی العلیا ’ سبحٰنہ من اٰلہ تنزہ وجوبا‬‫عن الزور والبھتان ’وعن امکان النقائص وسمات الحدوث‬ ‫والمکان ’سبحٰنہ وتعالٰی عما یقول الظٰلمون علوا کبیرا ’‬ ‫والصّلة والسّلم علی افضل خلق اللّہ علی الطلق ’‬‫واوسعہم علما واکملہم فی الخلق والخلق ’من اٰتاہ اللّہ‬ ‫علم الولین وال ٰخرین ’وختم بہ النبوة ختما حقیقیا فھو‬‫خاتم النبیین ’ کما علم ذلک من ضروریات الدین ’التی ثبتت‬ ‫بسواطع ادلة البراھین ’سیّدنا و مولنا محمد بن عبد اللّہ‬ ‫الذی ھو احد ’المبشر بہ علی لسان ابن مریم المسیح‬ ‫المفرد الوحد ’صلی اللّہ علیہ وعلی جمیع النبیاء‬ ‫والمرسلین وعلی اٰلہ واصحابہ التابعین ’ومن تبعہم‬ ‫باحسان من اھل السنة والجماعة اجمعین ’اولئک حزب‬ ‫اللّہ ال ان حزب اللّہ ھم المفلحون جعل اللّہ مع التأیید‬ ‫والتأبید سنتھم و اسنتھم والسنتھم واقلمہم رماحا فی‬ ‫نحور المارقین من الدین ’ کما یمر ق السہم من الرمیة‬
  • ‫یقرؤن القران ل یجاوز حناجرھم اولئک حزب الشیطن ال‬ ‫ان حزب الشیطن ھم‬ ‫الخٰسرون ۔‬‫اما بعد فقد طالعت ھذہ النبذة التی ھی انموذج المعتمد‬‫المستند ’ فوجدتھا شذرة من عسجد ’ وجوھرة من عقود‬ ‫درّ ویا قوت و زبرجد ’ قد نظمھا بید الجادة فی سلک‬ ‫اصابة الصواب فی الفادة ’العمدة القدوة العالم العامل‬ ‫’الحبر البحر الرحب العذب المحیط الکامل ’ المحبوب‬ ‫المقبول المرتضی ’محمود القوال والفعال مولنا الشیخ‬ ‫احمد رضا’ متعنا اللّہ والمسلمین بحیاتہ’ ونفعہ ونفعنا‬‫وایاھم فی الدارین بعلومہ ومصنفاتہ تدل علی ان اصلھا‬ ‫حجة حق بالغة ’وشمس ھدی باھرة بازغة ’ لدمغة‬‫الباطیل دامغة’ ولظلمات شبھات اھل الزیغ ماحیة ماحقة‬ ‫’ حتی اضحت بانوارھا وحق الحق زاھقة ’ کیف وھی‬‫لباب فی بابھا ’ومصیبة فی جوابھا ’ اذلشک ان من تلطخ‬‫بالنجاس المنفرة ’من ارجاس بدع العقائد المکفرة ’ کان‬ ‫حریا بان یکفر’ ویحذر عنہ کل احد ولو کافرا وینفر ’ اذھو‬ ‫اکبر الکبائر ’ وحاشا ان یکون من ال کابر ’بل ھو اصغر‬
  • ‫الصاغر ’ ویجب علی کل عاقل ان یعظہ ول یعظم ’وکیف‬‫ومن یھن اللّہ فمالہ مکرم ’فان صلح حالہ ’والوجب بالتی‬ ‫ھی احسن جدالہ ’فان تاب وال وجب قتلہ وقتالہ ’وکان‬ ‫فی مستقر سقر مٰالہ ’ ال وان القلم احد اللسانین ’وان‬ ‫اللسان احد السنانین ’ وان حسم رقاب البدع الکفرة احد‬ ‫الحسامین’ وان احسان المجادلة بقواطع الحجج احد‬‫الجھادین ’والذین جاھدوا فینا لنہدینہم سبلنا و ان اللّہ لمع‬‫المحسنین ’سبحٰن ربک رب العزة عما یصفون وسلم علی‬ ‫المرسلین والحمد للّہ رب العالمین․‬ ‫محمد احمد حامد ․‬ ‫>الفواکة الھنیة و التسجیلت المدنیة<‬ ‫>بسم اللّہ الرحمٰن الرحیم<‬ ‫صورة ماحرّر تاج المفتین ’ وسراج المتقنین ’مفتی السادة‬ ‫الحنفیة بمدینة المینة الصفیّة ’ناصر السنة بالنجدة‬ ‫والباس’مولنا المفتی تاج الدین الیاس ’ ل زال مبجل عند‬ ‫اللّہ و عند الناس ․‬ ‫>بسم اللّہ الرحمٰن الرحیم<‬ ‫ربنا ل تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا و ھب لنا من لدنک رحمة‬
  • ‫انک انت الوھاب ’ربنا اٰمنا بما انزلت واتبعنا الرسول فاکتبنا‬‫مع الشاھدین ’سبحانک جل شانک ’وعزّ سلطانک’ وسطع‬ ‫ّ‬‫برھانک ’وسبق الینا احسانک ’ تقدست ذاتک وصفاتک ’ و‬ ‫تنزھت عن المعارض ایاتک وبیناتک ’ نحمدک علی ان‬ ‫ھدیتنا لدین الحق ’وانطقتنا بلسان الصدق ’ وارسلت الینا‬ ‫سیّد ال نبیاء ’ وخاتم الرسل الصفیاء ’ سیّد نا محمد بن‬ ‫عبداللّہ ذال ٰیات الباھرة والحجج الساطعة القاھرة‬ ‫والمعجزات الباقیات الظاھرة ’فاٰمنا بہ واتبعناہ ’ ووقرناہ‬ ‫ونصرناہ ’ فلک الحمد کما یجب والثناء الجمیل ’علی‬ ‫ماھدیتنا الیہ من سواہ السبیل’ فصل یاربنا وسلم علی‬‫ھادینا الیک ’ودالنا علیک ’صلة تلیق بک منک الیہ ’ وسلم‬‫وبارک کذالک علیہ ’واٰلہ وذویہ’ واجزحملة شریعتہ فی کل‬ ‫عصر’ وحماة دینہ فی کل مصر ’بافضل ما تجازی بہ‬ ‫المحسنین ’ وباوفر ماتثیب بہ المتقین ․‬ ‫و بعد فقد اطلعت علی ما حررہ العالم النحریر ’والدراکة‬ ‫الشھیر ’جناب المولٰی الفاضل الشیخ احمد رضا خان من‬ ‫علماء اھل الہند ’ اجزل اللّہ مثوبتہ ’ واحسن عاقبتہ فی‬ ‫الرد علی الطوائف المارقة من الدین ’والفرق الضالة من‬
  • ‫الزنادقة الملحدین وما افتی بہ فی حقہم فی کتابہ‬‫المعتمد المستند فوجدتہ فریدا فی بابہ و مجیدا فی صوابہ‬‫’ فجزاہ اللّہ عن نبیہ و دینہ والمسلمین خیر الجزاء ’ وبارک‬ ‫فی حیاتہ حتی یزیح بہ شبہ اھل الضللة الشقیاء ’واکثر‬ ‫فی المة المحمدیة امثالہ ’واشباھہ واشکالہ ’ اٰمین ․‬ ‫الفقیر الیہ عز شانہ ’محمد تاج الدین ابن المرحوم‬ ‫مصطفی الیاس الحنفی المفتی بالمدینة المنورة غفر لہ․‬ ‫محمد تاج الدین الیاس ۱۹۲۱․‬‫صورة ما سطرہ اجل الفاضل’ امثل الماثل’ القوال بالحق‬ ‫’وان ثقل وشق ’ مفتی المدینة سابقا ’ ومرجع‬‫المستفیدین لحقا ’ الفاضل الربانی ’ مولنا عثمان بن عبد‬ ‫السّلم الداغستانی دام بالتھانی’ وفوز ال ٰمال و المانی․‬ ‫>بسم اللّہ الرحمٰن الرحیم<‬ ‫الحمد للّہ وحدہ اما بعد فقد اطلعت علی ھذہ الرسالة‬ ‫البھیة ’والمقالة الواضحة الجلیلة ’ فوجدت مولنا العلمة‬‫والبحر الفھامة ’حضرة احمد رضا خان قد انتدب للرد علی‬ ‫ھذہ الطائفة المارقة من الدین ’ الکفرة السالکة سبیل‬‫المفسدین ’ فاظھر فضائحہم القبیحة فی المعتمد المستند‬
  • ‫’ فلم یبق من نتائجہم الفاسدة فیہ ال وزیفھا فلیکن منک‬ ‫التمسک بتلک العجالة السنیة ’ تظفر فی بیان الرد علیہم‬‫بکل واضحة دامغة جلیلة ’ لسیما المتصدی لحل رایة ھذہ‬ ‫الفرقة المارقة التی تدعی بالوھابیة ’ ومنہم مدعی النبوة‬ ‫غلم احمد القادیانی ’والمارق ال ٰخر المنقص لشان‬‫اللوھیة والرسالة قاسم النانوتی و رشید احمد الکنکوھی‬‫وخلیل احمد النبتھی واشرفعلی التانوی ومن حذا حذوھم‬‫’ فجزی اللّہ خیرا حضرة الشیخ احمد رضا خان فانہ شفی‬ ‫وکفی بما افتی بہ فی کتابہ المعتمد المستند المذیل‬ ‫بتقاریظ علماء مکة المکرمة فانھم یحق علیہم الوبال ’‬‫وسوء الحال ’ لنھم من المفسدین فی الرض ھم ومن‬ ‫علی منوالہم قاتلہم اللّہ انی یؤفکون وجزی اللّہ حضرة‬ ‫الشیخ احمد رضا خان وبارک فیہ وفی ذریتہ وجعلہ من‬ ‫القائلین’ بالحق الٰی یوم الدین ․‬ ‫الفقیر الی عفو ربہ القدیر عثمان بن عبد السّلم‬ ‫داغستانی مفتی المدینة المنورة سابقا عفا اللّہ‬ ‫عثمٰن بن‬ ‫عنہ․‬ ‫صورة ما زبرہ الفاضل‬ ‫عبدالسّلم داغستانی ۶۹۲۱‬
  • ‫الکامل باھرا الفضائل ’ظاھر الفواضل طاھر الشمائل ’‬ ‫شیخ المالکیة ’ ذواللمة الملکیة ’ السیّد الشریف السری‬ ‫’مولنا السیّد احمد الجزائری دام بالفیض الباطنی‬ ‫والظاھری‬ ‫>بسم اللّہ الرحمٰن الرحیم<‬ ‫وعلیکم السّلم ورحمة اللّہ تعالٰی وبرکاتہ ’ وتاییدہ‬ ‫ومعونتہ ومرضاتہ ’ الحمد للّہ الذی جعل اھل السنة‬ ‫والجماعة ’معزوزین الٰی قیام الساعة’ والصلة والسّلم‬‫علی سیّدنا وذخرنا وملذنا و معتمدنا ’سیّدنا محمد انسان‬‫عین ھذا الوجود ’الثابت کمالہ واجللہ ’ ومجدہ وافضالہ ’‬ ‫لدی اھل النقل والعقل والشھود ’القائل >ما ظھر اھل‬ ‫بدعة ال ظھر اللّہ لہم حجتہ علی لسان من شاء من‬‫خلقہ< ’والقائل> اذا ظھرت البدع والفتن وسب اصحابی‬‫فلیظھر العالم علمہ ومن لم یفعل ذالک فعلیہ لعنة اللّہ‬‫والملٰئکة والناس اجمعین ل یقبل اللّہ منہ صرفا ول عدل<‬ ‫و القائل >اترعون عن ذکر الفاجر متی یعرفہ الناس‬‫اذکروا الفاجر بما فیہ یحذرہ الناس<’ رواہ ابن ابی الدنیا‬ ‫والحکیم والشیرازی وابن عدی والطبرانی والبیہقی‬
  • ‫والخطیب عن بھز بن حکیم عن جدہ وعلی اٰلہ وصحبہ‬ ‫والتابعین من اھل السنة والجما عة المقلدین للئمة‬ ‫الربعة المجتھدین ․‬ ‫اما بعد فقد اطلعت علی ما تضمّنہ ھذا السؤال مع‬ ‫المعان ’ الذی عرضہ حضرة الشیخ احمد رضا خان متع‬ ‫اللّہ المسلمین بحیاتہ ومتعہ بطول العمر والخلود فی‬‫جناتہ ’ فوجدت ما نقلہ من القوال الفظیعة عن اھل ھذہ‬ ‫البدعة الشنیعة ’ کفر صراح ’ ومرتکبھا بعد الستتابة دمہ‬ ‫مباح ’ ومؤلفھا مستحق بتکلیف مضغ لسانہ ’ ورض یدہ‬ ‫بنانہ ’ حیث استخف بمقام اللوھیة ’ واستحقر منصب‬ ‫الرسالة العمومیة ’ وعظم استاذہ ابلیس وشارکہ فی ال‬ ‫غواء والتلبیس ’ فعلی من بسط اللّہ لسانہ من العلماء‬‫العلم واطلق یدہ من المراء والحکام ’ وان یجتھدوا فی‬ ‫ازالة بدعتھم باللسان والسّنان ’حتی یستریح منہم العباد‬ ‫والبلد والذھان ’ ال وان بمکة بلد اللّہ المین ’ طائفة‬ ‫منہم شیاطین ’ فلیحذر العوام من مخالطتھم بالکلیة ’‬ ‫فانھا واللّہ اشد من مخالطة المجذوم فی الذیة ’و منہم‬ ‫ایضا عندنا بالمدینة النبویّة شرذمة قلیلة مستترة بالتقیة ’‬
  • ‫فان لم یتو بوا فعن قریب تنفیہم المدینة عن مجاورتھا ’‬ ‫لما ھو ثابت فی الحدیث الصحیح من خاصیتھا ’ ھذا‬ ‫ونسأل اللّہ تعالٰی ان اراد بالناس فتنة ان یقبضنا الیہ غیر‬ ‫مفتونین ’وان یرزقنا حسن النیة ویجعلنا من المخلصین ․‬ ‫قالہ بلسانہ ورقمہ ببنانہ احقر الوری ’وخادم العلماء‬ ‫والفقراء ’ شیخ المالکیة بحرم خیر البریة السیّد احمد‬‫الجزائری المدنی مولدا’ الشعری معتقدا ’ المالکی مذھبا ’‬ ‫القادری طریقة ونسبا ’حامدا مصلیا ومسلما معظما مبجل‬ ‫متمّما ’ عبدہ‬ ‫السیّد احمد الجزائری‬‫صورة ما رقمہ کبیر العلماء’ و کریم الکرماء’ کنز العوارف‬‫’ ومعدن المعارف ’ ذوشیبة العلماء ’ الموفق من السماء ’‬ ‫ذوالفیض الملکوتی’ مولنا الشیخ خلیل بن ابراھیم‬ ‫الخربوتی ’ ایدہ اللّہ بالنصر اللھوتی‬ ‫>بسم اللّہ الرحمٰن الرحیم<‬ ‫الحمد للّہ رب العٰلمین ’ والصّلة والسّلم علی خاتم‬ ‫النبیین ’سیّدنا محمد وعلی اٰلہ وصحبہ اجمعین ’ والتابعین‬ ‫لہم باحسان الٰی یوم الدین ․‬
  • ‫امّا بعد فتحریر علماء السلم المقرر فی ھذا المقام‬‫’ھوالحق المبین ’ الواجب اعتقادہ باجماع علماء المسلمین‬ ‫’ حسبما حققہ العالم العلمة الفاضل الکامل المولوی‬ ‫احمد رضا خان البریلوی فی کتابہ المعتمد المستند ’ ادام‬ ‫اللّہ تعالٰی نفع المسلمین بہ علی البد ’ واللّہ الھادی الٰی‬ ‫الصواب والیہ المرجع والماب ․‬‫امر بکتبہ خادم العلم الشریف بالحرم الشریف النبوی خلیل‬ ‫بن ابراھم الخربوتی‬ ‫ابرھیم بن خلیل خربوتی․‬ ‫صورة ما حررہ الضوء المنور ’والروح المصوّر ’صورة‬ ‫السعادة ’وحقیقة السیادة ذو الحسنی وزیادة ’ ودلئل‬ ‫الخیرات ’ وجلئل المبرات ’ الحمید الرشید ’ مولنا السیّد‬ ‫محمد سعید’ شیخ الدلئل ’ لزال بالفضائل․‬ ‫>بسم اللّہ الرحمٰن الرحیم<‬ ‫الحمد للّہ الذی بہ تستنج المطالب ’وتتیسر المٰارب حمدا‬ ‫نتمسک بیمینہ ’ ونلجأ من المخاوف الٰی امنہ ’ وصلة‬ ‫وسلما یتوالیان ’ ماتوالی الملوان ’ علٰی سیّد نامحمد ن‬‫الذی اشرقت ببعثتہ السماء والرض ’ ولذ بہ الخلئق عند‬
  • ‫اشتداد الھول یوم العرض ’ وعلٰی اٰلہ الذین اقتبسوا النور‬‫من اضوائہ ’وحفظوا اقوالہ وافعالہ فھم لمن بعدھم فی‬ ‫الدین قدوة ’وفی الہدی المحمدی لکل تابع بہم اسوة ’‬ ‫بذلک کان الحفظ بھذہ الشریعة الغراء مختصا بقول‬ ‫الصادق المصدوق ل تزال طائفة من امتی ظاھرین حتی‬ ‫یا تیھم امر اللّہ وھم ظاھرون ․‬ ‫اما بعد فان اللّہ جلت عظتہ وعظمت منة ’ قد وفق من‬‫اخبارہ من عبادہ لخدمة ھذہ الشریعة الغرّا ’وامدّہ بثواقب‬ ‫الفھام فاذا ظلم لیل الشبہة اطلع من سماء علمہ بدرا’‬ ‫فصارت بذلک محفوظة عن التغییر والتبدیل ’بین جھابذة‬ ‫العلماء النقاد جیل بعد جیل ومن اجلہم العالم العلمة‬ ‫والبحر الفھامة ’حضرة الشیخ المولوی احمد رضا خان‬ ‫فقد اجاد فی ردہ فی کتابہ المعتمد المستند ’ علی‬ ‫الزائغین المرتدین اھل الفساد والنکد’ فجزاہ اللّہ عن‬ ‫السلم والمسلمین خیرا ’ وصلی اللّہ علی سیّد نا محمد‬ ‫واٰلہ وسلم ․‬ ‫قالہ بلسانہ ’ ورقمہ بنانہ ’ الفقیر لربّہ محمد سعید ابن‬‫السیّد محمد المغربی شیخ الدلئل غفراللّہ لہ وللمسلمین ․‬
  • ‫سیّد محمد سعید شیخ الدلئل ․‬ ‫صورة ما کتبہ الفاضل الجلیل’ و العالم النبیل’ ذوالضیاء‬ ‫الشمسی والنور القمری ’ مولنا محمد بن احمد العمری ’‬ ‫دام بالعیش الھنی الغض الطری ․‬ ‫>بسم اللّہ الرحمٰن الرحیم<‬‫الحمد للّہ رب العٰلمین والصلة والسّلم علی خاتم النبیین’‬ ‫والمام المرسلین ’ وتابعیہ باحسان الٰی یوم الدین ․‬ ‫وبعد فقد اطلعت علی رسالة العالم العلمة ’والمرشد‬ ‫المحقق الفھامة ’صاحب المعارف والعوارف ’ والمنح‬ ‫اللھیة اللطائف ’ سیّد نا الستاذ علم الدین ورکنہ وعماد‬ ‫المستفید ومتنہ المنل الشیخ احمد رضا خان ’ امتع اللّہ‬‫بوجودہ وانار سماء العلوم بانوار شھودہ فوجدتھا مکملة‬‫المقاصد ’ومتمة المراصد ومقیدة الشوارد ’ وعذبة المصادر‬ ‫والموارد ’ قد استحوذت علی شبہ الملحدین فاجتشتھا’‬‫واتت علی اسباب الزنادقة فاستاصلھا ’ مع وضوح الدلة’ و‬‫سطوع البراھین و عذوبةالمسالک و صحة الموازین’فجزاہ‬ ‫اللہ ربہ عن نبیہ و دینہ احسن الجزاء و وفاہ اجرہ عن‬ ‫السلم و اھلہ بمکیال الوفی شعر :۔‬
  • ‫ول زال فی السلم فخرا مشیدا بہ یھتدی فی البر و البحر‬ ‫من یسری‬ ‫قالہ فی الربیع الثانی ۴۲ھ ۳۱ راجی دعائہ محمد ابن‬ ‫احمد العمری احد طلبة العلم فی الحرم النبوی‬ ‫محمد ابن احمد العمری عفی عنہ‬‫صورة ما نظمہ بالترصیف’ السید الشریف’ النظیف اللطیف’‬ ‫الماھر العریف’ ذو العز و التشریف الغنی عن التوصیف’‬ ‫حضرة مولٰنا السید عباس ابن سید الجلیل محمد رضوان’‬ ‫شیخ الدلئل عاملھا اللہ تعالی فی الیوم العبوس‬ ‫بالرضوان’‬ ‫>بسم اللّہ الرحمٰن الرحیم<‬ ‫سبحنک ربنا ل نحصی ثناء علیک’ و لک الحمد منک و‬ ‫الیک’ و صلة و سلما علی نبیک کاشف الغمة’ و علی آلہ‬ ‫و صحبہ ھداة المة’ ما خط قلم’ و خف الی مسارعة‬ ‫الخیرات قدم‬ ‫اما بعد فیقول فقیر دعاء الخوان’ عباس ابن‬
  • ‫المرحوم السید محمد رضوان’ اطلقت عنان الطرف فی‬ ‫میدان براعة ھذہ الرسالة’ فوجدتھا رافلة من السداد و‬ ‫الرشاد فی حلتی جمالة و جللة’ کافلة بالرد علی اھل‬ ‫البدع و الضللة’ فھی المعتمد المستند’ لکونھا للمھتدین‬ ‫مفرعا و سند’ قد اوضحت ما ضلت فی ادراک دقائقہ‬ ‫الفھام’ و حققت ما زلت و فی حقائقہ القدام ’ کیف ل‬ ‫وھو العلمة المام ’ الذکی الہمام ’ النبیہ النبیل ’ الوجیہ‬ ‫الجلیل ’وحید العصر والزمان ’حضرت المولوی احمد رضا‬‫خان ’البریلوی ’الحنفی ’ل زال روضا یانعا بالمعارف ’وبدرا‬ ‫سائرا فی منازل لطائف العوارف ’اجزل اللّہ لی ولہ‬ ‫الثواب’ ومنحنی وایاہ حسن الماٰب ’ورزقنا جمیعا حسن‬ ‫الختام ’بجوار خیر النام ’ وبدر التمام ’ علیہ وعلی اٰلہ‬ ‫وصحبہ افضل الصلة واتم السّلم ’‬ ‫کاتبہ خادم العلم ودلئل الخیرات’ فی مسجد افضل‬ ‫المخلوقات ․‬ ‫عباس رضوان فی الیوم السابع من ربیع الثانی․‬‫صورة مارقمہ الفاضل العقول احد الفحول ’الطیب الزکی’‬ ‫الفطن الذکی’ الغصن المزین بالطیب المغرسی ’مولنا‬
  • ‫عمر بن حمدان المحرسی ’ ذکرہ الفوز والفلح وما نسی․‬ ‫>بسم اللّہ الرحمٰن الرحیم<‬ ‫الحمد للّہ الذی خلق السمٰوٰت والرض وجعل الظلمت‬ ‫والنور ثم الذبن کفروا بربہم یعدلون ’ والصلة والسّلم‬ ‫علی سیّد نا محمد خاتم النبیین ’ القائل لتزال طائفة من‬ ‫امتی ظاھرین علی الحق حتی تقوم الساعة رواہ الحاکم‬ ‫عن عمر وفی روایة لبن ماجة عن ابی ھریرة لتزال‬‫طائفة من امتی قوامة علی امر اللّہ ل یضرھا من خالفھا ’‬ ‫وعلی اٰلہ الھادین ’ واصحابہ الذین شادوا الدین ․‬ ‫اما بعد فانی قد اطلعت علی ما حررہ العالم العلمة‬ ‫’الدراکة الفھامة ’ ذوالتحقیق الباھر جناب الشیخ احمد‬ ‫رضا خان فی الخلصة الماخوذ من کتابہ المسمی‬ ‫بالمعتمد المستند فوجدتہ فی غایة التحریر فللّہ در مولفہ‬‫فلقد اماط الذی عن طریق المسلمین ونصح للّہ ولرسولہ‬ ‫ولئمة الدین و عامتھم ․‬‫قالہ فی ۸ ربیع الثانی عمر بن حمدان المحرسی المالکی‬ ‫مذھبا ’ الشعری اعتقادا ’خادم العلم ببلدة سیّد النام‬ ‫’علیہ افضل الصلة والسّلم ․‬
  • ‫عمر بن حمدان المحرسی‬‫صورة ما سطرہ حفظہ اللّہ مرة اخری والمسک بالتکرار‬ ‫احق واحری․‬ ‫>بسم اللّہ الرحمٰن الرحیم<‬‫الحمد للّہ الذی ھدی من وفقہ بفضلہ ’واضل من خذلہ‬ ‫بعدلہ ویسرالمؤمنین للیسری’ وشرح صدورھم للذکری ’‬ ‫فاٰمنوا باللّہ بالسنتھم ناطقین’ وبقلوبہم مخلصین ’وبما‬ ‫اتتھم بہ کتبہ ورسلہ عاملین ’والصلة والسّلم علی من‬ ‫ارسلہ اللّہ رحمة للعٰلمین’ وانزل علیہ کتابہ المبین ’ فیہ‬ ‫تبیان کل شئ وابطال الحاد الملحدین ’ فبینہ بسنة‬ ‫الواضحة الدلة والبراھین ’وعلی اٰلہ الھادین ’واصحابہ‬ ‫الذین شادوا الدین ’ومن تبعہم باحسان الٰی یوم الدین ’‬‫لسیما الئمة الربعة المجتھدین ’ومن قلد بہم من جمیع‬ ‫المسلمین ․‬ ‫اما بعد فقد سرحت نظری فی رسالة الشیخ العالم‬ ‫العلمة باقر مشکلت العلوم ’ومبین المنطوق منھا‬ ‫والمفھوم’ بتوضیحہ الشافی وتقریرہ الکافی ’ الشیخ‬‫احمد رضا خان البریلوی المسماة بالمعتمد المستند حفظ‬
  • ‫اللّہ مھجتہ ’ وادام بھجتہ ’ فوجدتھا شافیة کافیة فیما ذکر‬ ‫فیھا من الرد علی من ذکر فیھا وھم الخبیث اللعین غلم‬ ‫احمد القادیانی الدجّال الکذاب مسیلمة اٰخرالزمان ورشید‬‫احمد الکنکوھی’ وخلیل احمد النبھتی’ واشرفعلی التانوی‬ ‫فھٰؤلء ان ثبت عنہم ما ذکرہ ھٰذا الشیخ من ادعاء النبوة‬‫للقادیانی ’ وانتقاص النبی صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم من‬ ‫رشید احمد و خلیل احمد و اشرفعلی المذکورین فل شک‬ ‫فی کفرھم ووجوب قتلھم علی کل من یمکنہ ذلک قالہ‬ ‫الفقیر الٰی اللّہ تعالٰی عمر بن حمدان المحرسی المالکی‬ ‫خادم العلم بالمسجد النبوی․‬ ‫المحرسی عمر ابن حمدان ۰۲ ۳۱ ء<‬ ‫صورة ما کتبہ الفاضل الکامل ’ العالم العامل ’الطبیب‬ ‫لداء اھل المساوی’ السیّد محمد بن محمد‬ ‫المداوی‬ ‫المدنی الدیداوی ’ تغمدہ اللّہ تعالٰی بالفضل الحاوی <‬ ‫>بسم اللّہ الرحمٰن الرحیم<‬‫الحمد للّہ والصلة والسّلم علی رسول اللّہ ’ واٰلہ وصحبہ‬ ‫ومن والہ ․‬ ‫اما بعد فقد اطلعت علٰی ما سطرہ العلمة النحریر ’‬
  • ‫والدراکة الشھیر ’ الشیخ احمد رضا خان فوجدتہ سحر‬ ‫الولی اللباب ’ وتریاقا لکل مسموم حائد عن الصواب ’‬ ‫وان قولہ حق ’ وادلتہ المرسومة بصدق ’ فیجب علی کل‬‫مسلم العمل بمقتضاھا ’ وتکون ھجیراہ سرا وجھرا حتی‬ ‫ینال من الخیرات منتھاھا ․‬ ‫کتبہ اسیر المساوی ’ فقیر ربہ محمد بن محمد الحبیب‬ ‫الدیداوی ’ عفی عنہ ․‬ ‫محمد الحبیب السید الدیداوی‬ ‫صورة ما سطرہ ذو الخیر الجاری ’ والمیر الساری بین‬ ‫المصار والبراری ’ احد الخیار من خیار الباری ’الشیخ‬ ‫محمد بن محمد السوسی الخیاری ’ المدرّس بالحرم‬ ‫المختاری ’ تجلی اللّہ تعالٰی علیہ بشان الغفاری‬ ‫>بسم اللّہ الرحمٰن الرحیم <‬‫الحمد للّہ الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظہرہ‬ ‫علی الدین کلہ ’ والصلة والسلم التمان الدائمان علی‬‫افضل الخلق علی الطلق سیّدنا محمد وعلی اٰلہ وصحبہ‬‫ومن تبعہ فی قولہ وفعلہ ’ وعلی سائر النبیاء والمرسلین‬ ‫’ وعلی اٰل وصحب کل اجمعین ’وعلی جمیع عباد اللّہ‬
  • ‫الصالحین ’‬ ‫امام بعد فقد اطلعت علٰی الرسالة ’ فی الرد علی اھل‬ ‫الزیغ والکفر والضللة ’ التی الفھا العالم الفاضل ’‬ ‫النسان الکامل ’ العلمة المحقق ’ الفھامة المدقق‬‫’حضرة الشیخ احمد رضا خان اصلح اللّہ لہ الحال والشان‬ ‫’ اٰمین ’ فوجدتھا کافیة فی الرد علی ھٰؤلء الزائغین‬ ‫ّ‬ ‫الملحدین ’ المعتدین علی اللّہ تبارک وتعالٰی ورسول رب‬‫العٰلمین ’ الذین یریدون ان یطفؤا نور اللّہ بافواھھم ویابی‬ ‫اللّہ ال ان یتم نورہ ولوکرہ الکٰفرون ’ اولئک الذین طبع‬ ‫اللّہ علی قلوبھم واتبعوا اھوائھم ’ واصمھم عن الحق‬ ‫واعمی ابصارھم ’وزین لھم الشیطان اعمالھم فصدھم‬ ‫عن السبیل فہم لیھتدون ’ وسیعلم الذین ظلموا ای‬ ‫منقلب ینقلبون ’ کیف ل وھی موافقة للنصوص الصریحة’‬ ‫المشھور الصحیحة ’فجزی اللّہ مؤلفھا عن ھذہ المة‬ ‫الخیریة الجزاء الوفی’ وقربہ ومن یلوذبہ لدیہ زلفی ’واید‬ ‫بہ السنة وھدم بہ البدعة’ و ادام لمّة محمد صلی اللّہ‬ ‫تعالٰی علیہ وسلّم نفعہ’ اٰمین․‬ ‫کتبہ الفقیرالٰی اللّہ الباری محمّد بن محمّد السوسی‬
  • ‫الخیاری ’خادم العلم الشریف․‬ ‫محمد السوسی الخیاری․‬ ‫> الکلم العلیة لمفتی الشافیعة ۴۲ھ ۳۱<‬ ‫صورة ما کتبہ حائز العلوم النقلیة’ وفائزالفنون العقلیة ’‬‫الجامع بین شرف النسب والحسب ’ وارث العلم والمجد ابا‬ ‫عن اب’ المحقق اللمعی’ والمدقّق اللوذعی ’مفتی‬ ‫الشافعیة ’بالمدینة المحمیّة مولنا السیّد الشریف احمد‬ ‫البرزنجی ’ عمّت فیوضہ کل رومی وزنجی ․‬ ‫>بسم اللّہ الرحمٰن الرحیم<‬ ‫الحمد للّہ الذی وجب لہ الکمال المطلق لذاتہ فی ذاتہ‬ ‫وصفاتہ الذی یسبح لہ ویقدسہ عن کل نقص من فی‬ ‫ارضہ وسماواتہ وتعالت حقیقتہ عن الشریک والنظیر ’‬ ‫فلیس کمثلہ شئ وھوالسمیع البصیر ’ کلمہ الزلی‬ ‫ھوالصدق وعین الیقین ’وقولہ الفصل والحق المبین‬‫’وافضل الصلة والتسلیم ’واکمل الرحمة والبرکة والتکریم‬ ‫’علی سیّد نا و مولنا محمد ن الذی اصطفاہ ربہ علی‬ ‫العٰلمین ’واٰتاہ علم الولین وال ٰخرین ’وانزل علیہ القران‬‫المجید ’ لیاتیہ الباطل من بین یدیہ ول من خلفہ تنزیل من‬
  • ‫حکیم حمید ’و خصّہ بالکمالت التی ل تستقصی ’وعلمہ‬ ‫المغیبات التی ل تحصٰی ’ فھو افضل الخلق ذاتا وشمائل‬ ‫علی الطلق واکملہم عقل وعلما وعمل بل شقاق ’وختم‬ ‫بہ النبیین فل رسول ول نبی بعدہ وابد شریعتہ فل تنسخ‬ ‫حتی تقوم الساعة وینجز اللّہ وعدہ ’ واٰلہ الطیبین‬‫الطاھرین واصحابہ المؤیدین بنصر اللّہ علی عدوھم حتی‬ ‫اصبحوا ظاھرین ․‬‫اما بعد فیقول المحتاج الٰی عفو ربہ المنجی ’ السیّد احمد‬ ‫ابن السیّد اسمعیل الحسینی البرزنجی ’مفتی السادة‬ ‫الشافعیة ’ فی مدینة خیر البریة ’ علیہ افضل الصلة‬ ‫والتحیہ ’ انّی قد وقفت ایھا العلمة التحریر ’والعلم‬‫الشھیر ’ ذوالتحقیق والتحریر ’والتدقیق والتحبیر ’عالم اھل‬‫السنة والجماعة ’جناب الشیخ احمد رضا خان البریلوی ادام‬ ‫اللّہ توفیقہ وارتفاعہ ’علی خلصة من کتابک المسمی‬ ‫بالمعتمد المستند ’فوجدتھا علی اکمل الدرجات من حیث‬‫التقان والمنتقد’ وقدازلت بھا الذی عن طریق المسلمین‬ ‫’ ونصحت فیھا للّہ ورسولہ ول ئمة الدین ’واثبت فیھا‬ ‫ببراھین الحق الصحیحة ’وامتثلت فیھا قولہ صلی اللّہ‬
  • ‫تعالٰی علیہ وسلم الدین النصیحة ’ فھی وان کانت غنیة‬ ‫عن الطراء والتبجیل ’ والثناء الجمیل ’ لکنی احببت ان‬‫اجاریھا فی رھانھا ’ واجلو عن بعض الوجوہ فی مضمار‬ ‫تبیانھا ’ لکی اشارک صاحبھا فیما استوجبہ من الحظ‬ ‫الجمیل ’ والجرالمدخر عند اللّہ والثواب الجزیل ․‬ ‫فا قول اما ما ذکر عن غلم احمد القادیانی من دعواہ‬ ‫مما ثلة المسیح ودعواہ الوحی الیہ والنبوة وتفضیلہ علی‬ ‫کثیر من النبیاء وغیرذلک من الباطیل التی تمجھا‬‫السماع ’ وینفر عنھا مستقیم الطباع ’ فھو فی ذلک اخو‬ ‫مسیلمة الکذاب ’ و احد الدجالین بل ارتیاب ’ ل یقبل اللّہ‬‫منہ علما ول عمل ولقول ولصرفا ول عدل ’ لنہ قد مرق‬ ‫عن دین السلم مروق السھم عن الرمیة ’ وکفر باللّہ‬ ‫ورسولہ واٰیات الجلیلة ’ فیجب علی کل مؤمن یخشی اللّہ‬ ‫وعذابہ ’ ویرجو رحمتہ وثوابہ ’ ان یتجنبہ واحزابہ ’ وان‬ ‫یفر منہ فرارہ من السد والمجذوم ’ لن قربہ داء سار‬ ‫وبلء جار و شوم ’ وکل من رضی بشئ من مقالتہ‬ ‫الباطلة واستحسنہ او اتبعہ علیھا فھو کافر فی ضلل‬ ‫مبین ’ اولئک حزب الشیطٰن ال ان حزب الشیطان ھم‬
  • ‫الخسرون ’ لنہ قد علم بالضرورة من الدین ’ وو قع‬‫الجما ع من اول المة الٰی اٰخرھا بین المسلمین ’ علی ان‬ ‫نبینا محمدا صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم خاتم النبیین‬‫واٰخرھم ل یجوز فی زمانہ و ل بعدہ نبوة جدیدة لحد من‬‫البشر ’ وان من ادعٰی ذلک فقد کفر’ واما الفرقة المسمّاة‬ ‫بالمیریة والفرقة المسمّاة بالنذیریة والفرقة المسمّاة‬‫بالقاسمیة وقولھم لوفرض فی زمنہ صلی اللّہ تعالٰی علیہ‬ ‫وسلم بل لوحدث بعدہ نبی جدید لم یخل ذلک بخاتمیتہ‬ ‫الخ فھو قول صریح فی تجویز نبوة جدیدة لحد بعدہ‬ ‫ولشک ان من جوز ذلک فھو کافر باجماع علماء‬ ‫المسلمین ’ وھم عند اللّہ من الخٰسرین ’ وعلیہم وعلی‬ ‫من رضی بمقالتھم تلک ان لم یتوبوا غضب اللّہ ولعنتہ‬ ‫الٰی یوم الدین ’‬ ‫وامّا الفرقة الوھابیة الکذابیة اتباع رشید احمد الکنکوھی‬‫القائل بعدم تکفیر من یقول بوقوع الکذب من اللّہ بالفعل‬ ‫تعالٰی اللّہ عما یقولون علوا کبیرا ’ فل شک ایضا ان من‬ ‫یقول بوقوع الکذب من اللّہ تعالٰی کافر معلوم کفرہ من‬ ‫الدین بالضرورة ومن لیکفرہ فھوشریکہ فی الکفر لن‬
  • ‫القول بوقوع الکذب من اللّہ تعالٰی یودی الٰی ابطال جمیع‬ ‫الشرائع المنزلة علی نبینا صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم‬ ‫وعلی من قبلہ من النبیاء والمرسلین ل ن القول بذالک‬‫مستلزم بعدم الوثوق بشئ من الخبار التی اشتملت علیھا‬ ‫کتٰب اللّہ المنزلة فلیتصور مع ذلک ایمان وتصدیق جازم‬ ‫بشئ منھا مع ان شرط ال یمان وصحة التصدیق الجازم‬‫بجمیع ذلک قال اللّہ تعالٰی > قولو اٰمنا باللّہ وما انزل الینا‬ ‫وما انزل الٰی ابراھیم واسمٰعیل واسحٰق ویعقوب و‬ ‫السباط وما اوتی موسٰی وعیسٰی وما اوتی النبیون من‬‫ربہم لنفرق بین احد منھم ونحن لہ مسلمون ۔ فان اٰمنوا‬ ‫بمثل ما اٰمنتم بہ فقد اھتدوا وان تولوا فانما ھم فی‬‫شقاق فسیکفیکھم اللّہ وھوالسمیع العلیم < ولن الرسل‬ ‫کلھم اجمعین قد اتفقوا علی صدقہ سبحنہ وتعالٰی فی‬ ‫جمیع کلمہ فحینئذ یکون القول بوقوع الکذب من اللّہ‬ ‫تعالٰی تکذیبا لجمیع الرسل ول شک فی کفر من یکذبھم‬ ‫ولیلزم فی ذلک دور بین تصدیق الرسل للّہ تعالٰی‬ ‫وتصدیق اللّہ للرسل بالمعجزات لن التصدیق بالمعجزة‬‫تصدیق بالفعل وتصدیق الرسل للّہ تعالٰی تصدیق بالقول‬
  • ‫فانفکت الجھتان کما وضحہ صاحب المواقف واما استناد‬ ‫ھٰذہ الفرقة الضالة فی تجویز الکذب علی اللّہ سبحٰنہ‬ ‫وتعالٰی عما یقولون علوا کبیرا الی تجویز بعض الئمة‬‫الخلف فی وعید اللّہ للعصاة فھو استناد باطل لن کل اٰیة‬ ‫ونص شرعی مشتمل علی وعید البعض العصاة اذا کان‬‫ذلک الوعید فی تلک الیة او النص مطلقا فھو مقید بمشیة‬ ‫اللّہ تعالٰی بل ریب لقولہ تعالٰی > ان اللّہ ل یغفر ان‬ ‫یشرک بہ ویغفر ما دون ذٰلک لمن یشاء < اما بالنظر الی‬‫کلمہ النفسی الزلی فلنہ صفة واحة فالقید والمقید فیھا‬ ‫مجتمعان ازل وابدا لیفترقان واما بالنظر للوحی المنزل‬ ‫فالطلق والقید یفترقان بحسب تعدد ال ٰیات وافترا فیھا‬ ‫وکل مطلق فیھا محمول علی المقیّد منھا کما ھی‬‫القاعدة الصولیة فکیف یتصور مع ھذا لزوم القول بالکذب‬ ‫علی اللّہ جل شانہ عند من یقول بجواز خلف الوعید واللّہ‬ ‫المستعان علی مایصفون ․‬ ‫واما قول رشید احمد الکنکوھی المذکور فی کتابہ الذی‬ ‫سماہ بالبراھین القاطعة ’ ان ھٰذہ السعة فی العلم ثبتت‬ ‫للشیطان وملک الموت بالنص وای نص قطعی فی سعة‬
  • ‫علم رسول اللّہ صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم حتی ترد بہ‬ ‫النصوص جمیعا ویثبت شرک الخ ’ فھو کفر من وجھین‬ ‫الوجہ الول انہ صریح فی ان ابلیس واسع العلم دونہ‬ ‫صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم وھذا استخفاف صریح بہ‬‫صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم والوجہ الثانی انہ جعل اثبات‬‫سعة العلم لرسول اللّہ صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم شرکا‬ ‫و قد نص ائمة المذاھب الربعة علی ان من استخف‬‫برسول اللّہ کافر وان من جعل ما ھو من الیمان شرکا و‬ ‫کفرا کافر ․‬ ‫واماقول اشرفعلی التانوی ’ ان صح الحکم علی ذات‬ ‫النبی المقدسة بعلم المغیبات کما یقول بہ زید فالمسؤل‬ ‫عنہ انہ ما ذا اراد بھذا اَبعض الغیوب ام کلھا فان اراد‬ ‫البعض فایّ خصوصیة فیہ لحضرة الرسالة فان مثل ھذا‬‫العلم حاصل لزید وعمر وبل لکل صبی ومجنون بل لجمیع‬ ‫الحیوانات والبھائم الخ ’ فحکمہ ایضا انہ کفر صریح‬ ‫بالجماع لنہ اشد استخفافا برسول اللّہ صلی اللّہ تعالٰی‬ ‫علیہ وسلم من مقالة رشید احمد السابقة فیکون کفرا‬ ‫بطریق الولٰی وموجبا بغضب اللّہ ولعنتہ الٰی یوم الدین‬
  • ‫فھم جدیرون بقولہ تعالٰی قل >اباللّہ واٰیٰتہ ورسولہ کنتم‬ ‫تستھزؤن ل تعتذروا قد کفرتم بعد ایمانکم< ھذا حکم‬ ‫ھٰؤلء الفرق والشخاص ان ثبتت عنھم ھذہ المقالت‬ ‫الشنیعة فنسأل اللّہ الحنان المنان ’ ان یثبتنا علی الیمان ’‬ ‫والتمسک بسنّة سیّد ولد عدنان ’ وان یحفظنا من نزغات‬ ‫الشیطان ’ ووساوس النفوس و اوھامھا الباطلة مدی‬ ‫الزمان ’ وان یجعل ماوٰنا فی فسیح الجنان ’ وصلی اللّہ‬‫تعالٰی وسلم وبارک علی سیّد نا محمد سیّد النس والجان‬ ‫’ والحمد للّہ رب العٰلمین ․‬‫امر بکتابتہ المحتاج الٰی عفوربہ المنجی ’ السیّد احمد ابن‬ ‫السیّد اسمعیل الحسینی البرزنجی مفتی السادة الشافعیة‬ ‫بمدینة خیر البریة ’علیہ افضل الصل ة والتحیة․‬ ‫البرزنجی احمد السعید․‬ ‫صورة ما رقمہ الفاضل الشھیر ’ من ھو فی بلد الفھم‬‫کامیر’ ولسلطان العلم مثل وزیر’ مولنا الشیخ محمد العزیز‬ ‫الوزیر’ المالکی المغربی الندلسی ’ المدنی التونسی‬ ‫’حفظہ اللّہ تعالٰی عن کل مایسئ ․‬
  • ‫>بسم اللّہ الرحمٰن الرحیم<‬ ‫الحمد للّہ المنعوت بصفات الکمال ’ الواجب تقدیسہ‬‫وتنزیہہ عما لیلیق فی العتقاد والمقال ’والصلة والسّلم‬ ‫علی نبیہ ومصطفاہ وحبیبہ وخیرتہ من خلقہ ومجتباہ’‬ ‫المبرء من کل ما یشین ’المستوجب من تنقصہ کل ھوان‬ ‫ثم عذاب مھین ’وعلی اٰلہ وصحبہ ھداة النام ’ الناقلین‬‫من دینہ القویم ما تندفع بہ النزغات وترھات الوھام ’وکل‬ ‫ذلک من معجزاتہ علی ممرالدھور والعوام ․‬‫اما بعد فقد طالعت ما حرر فی ھاتہ الرسالة السنیة ’ من‬‫فضائح ھاتہ الفرق وضللتھم البلیسیة ’وقضیت من ذلک‬ ‫العجب ’ کیف زخرف لھم الشیطان ما اراد وبلغ منھم‬ ‫الرب ’واختلق لھم انواعا من الکفر فھم فیھا یعمھون‬ ‫’وتفننوا فی سلوکھا فھم من کل حدب ینسلون ’حتی‬ ‫اعتدوا علی جانب الرب الکریم وسلکوا مسلکا خبیثا ’ومن‬‫اصدق من اللّہ حدیثا ’وتجرؤا علی خاتم رسلہ المنتخب من‬ ‫صمیم الصمیم ’المنزل علیہ وانک لعلی خلق عظیم ’وما‬ ‫سطر بعدھا من الفتاوی والجوبة المرضیة المجتثة لتلک‬ ‫الباطیل من اصلھا ’ الطاعنة بسنان الحق ورماح الفصل‬
  • ‫فی اعنا قھا ونحرھا ’ فذھبت ھباء منثورا لیذکر ’ وانّی‬‫لظلم الدیجور بقاء مع الصبح المنیر البھر’ سیما ما لقحہ‬ ‫وھذبہ صاحب الرایة العلمیة ’حامل لواء مذھب ابن‬ ‫ادریس بالدیار الطیبة الذکیة ’مفتی النام قدوة العلماء‬ ‫العلم ’ ال ٰتی من البراعة والبلغة فی کل منزع لطیف ’‬ ‫شیخنا واستاذنا سیدی احمد البرزنجی الشریف ’جزی اللّہ‬ ‫جمیعھم خیرالجزاء ’ومنحھم برہ الجزیل الوفی ’ فلم‬ ‫یبق لمثلی مقال وانی ل اذکر مع الرجال ’ وھل یذکر مع‬ ‫الصقر الفراش ’ او یقاس مرأی الفرس بنظر الخفاش ’‬ ‫لکن خشیت من عدم الجابة لھذا الشان ’وان کنت بعید‬ ‫الشأ وعن فرسان ھذا المیدان ’ ورجوت ان تنالنی مع‬‫ھٰؤلء الفحول بھم صبابة ’ وافوز بالقدح المعلی فی زمرة‬ ‫تلک العصابة ’ وانتظم فی سلک من انتضی سیفہ نصرة‬ ‫للدین ’واللّہ یھدی للحق وبہ استعین ’فاقول مقتفیا سبیل‬‫شیخنا المذکور ’ ضاعف اللّہ للجمیع الجور ’ فیما نقحہ من‬‫التحریر والتاصیل ’وھذبہ من التفریع والتفصیل ’ ان انطباق‬ ‫الکلیات علی الجزئیات وادخال ھؤلء الفرق تحت قواعد‬ ‫الشریعة المطھرة وتنزیل الحکام بمتقضاھا قد حررہ‬
  • ‫سادتنا بالجوبة المذکورة بما ل مزید علیہ ول ارتیاب‬ ‫ولشک فیہ وانما القصد جلب بعض نصوص توجب‬ ‫العتضاد ’وتحکم اساس البنیان واللّہ ولی الرشاد ․‬ ‫قال عیاض من ادعی الوحی الیہ او النبوة وما اشبہ‬ ‫ذالک فھو کافر حلل الدم‬ ‫قال ابن القاسم فیمن تنبأ و زعم انہ یوحی الیہ انہ‬ ‫کالمرتد دعا الٰی ذالک سرا اوجھرا واستظھر ابن رشید‬‫وارتضاہ ابوالمودة خلیل فی توضیحہ انہ یقتل دون استتابة‬ ‫حیث اسر ل ما اذا جھر وقال فی المختصر عطفا علی‬ ‫مایوجب الردة او اعلن بتکذیبہ او تنبأ ال ان یسر علی‬ ‫الظھر وحکم من سب عیاذا باللّہ الجناب النبوی الرفیع‬ ‫اوعابہ اوالحق بہ نقصا فی نفسہ او نسبہ او دینہ او‬ ‫شبھہ علی طریق السب والزراء علیہ والتصغیر لشانہ‬ ‫والعیب لہ فھو ساب لہ حکمہ القتل)۱( ․‬ ‫قال ابو بکر بن المنذر اجمع عوام اھل العلم علی ان‬ ‫حکم الساب لمن ذکر یقتل وممن قال بذلک مالک واللیث‬ ‫و احمد واسحق وھو مذھب الشافعی وقال محمد بن‬ ‫سحنون اجمع العلماء ان الشاتم المنقص لمن ذکر کافر‬
  • ‫والو عید جار علیہ بعذاب اللّہ وحکمہ عند المّة القتل )۱(‬ ‫ومن شک فی کفرہ وعذابہ کفر والنصوص عن مالک‬ ‫من روایة ابن القاسم وابی مصعب وابن ابی اویس‬ ‫ومطرف وغیرھم مشحونة بھاء امھات کتب المذھب‬ ‫ککتاب ابن سحنون و المبسوط والعتبیة وکتاب محمد بن‬ ‫المواز وغیرھا بان حکم من شتم او عاب اوتنقص القتل‬‫مسلما کان اوکافرا ول یستتاب ونص عیاض ان ممّا یلحق‬‫فی الحکم بمن ذکر ان ینفی ما یجب لہ مما ھو فی حقہ‬ ‫نقیصة مثل ان یغض من مرتبتہ او شرف نسبہ او‬ ‫وفورعلمہ او زھدہ فحکم ھذا الوجہ کالول القتل دون‬ ‫تلعثم ثم قال اعلم ان مشھور مذھب مالک فی الساب‬ ‫وقول السلف وجمھور العلماء قتلہ حدا ل کفرا ان اظھر‬ ‫التوبة ولھذا لتقبل توبتہ ول تنفعہ استقالتہ وفیئتہ کانت‬ ‫توبتہ قبل القدرة علیہ اوبعدھا قال القابسی یقتل بالسب‬ ‫ان اظھر التوبة لنہ حد ومثلہ لبن ابی زید وقال ابن‬ ‫سحنون لتزیل توبتہ عند القتل ۔‬‫واما ما بینہ وبین اللّہ فتوبتہ تنفعہ وعللہ عیاض بانہ حق‬ ‫للنبی صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم ولمتہ بسببہ ل تسقطہ‬
  • ‫التوبة کسائر حقوق ال دمیین و جمع ذلک العلمة خلیل‬ ‫فی قولہ وان سب نبیا اوملکا اوعرض اولعن اوعاب‬‫اوقذف اواستخف بحقہ اوالحق بہ نقصا اوغض من مرتبتہ‬‫او وفور علمہ اوزھدہ او اضاف لہ ما لیجوز علیہ او نسب‬‫الیہ ما لیلیق بمنصبہ علی طریق الذم قتل ولم یستتب حدا‬ ‫قال شراحہ ان تاب اوا نکر ال قتل کفرا‬ ‫وقال عیاض فی عداد ما ھو من المقالت کفر ان منھا‬ ‫من جوز علی النبیاء الکذب فیما اتوا بہ ادعی فی ذلک‬‫المصلحة بزعمہ ام ل فھو کافر باجماع و کذلک من ادعی‬‫نبوة احد مع نبیّنا صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم او بعدہ او ما‬ ‫ادعی النبوة لنفسہ او جوز اکتسابھا قال خلیل اول ادعی‬ ‫شرکا مع نبوّتہ علیہ الصّلوة والسّلم او بعدہ او جوز‬ ‫اکتسابھا وکذلک من ادعی انّہ یوحی الیہ وان لم یدع‬ ‫النبوة قال فھٰؤلء کفار مکذبون للنبی صلی اللّہ تعالٰی‬ ‫علیہ وسلم ل نہ اخبر انہ خاتم النّبیّین وانہ ارسل کافة‬‫للناس واجمعت المة علٰی ان ھذا الکلم علی ظاھرہ وان‬ ‫مفھومہ المراد من دون تاویل ول تخصیص فل شک فی‬ ‫کفر ھٰؤلء الطوائف کلھا قطعا اجماعا وسمعا‬
  • ‫قال سیّدی ابراھیم اللقانی‬ ‫وخص خیر الخلق ان قد تمما‬ ‫بہ الجمیع ربنا و عمما‬ ‫ینسخ‬ ‫ل‬ ‫فشرعہ‬ ‫بعثتہ‬ ‫بغیرہ حتی الزمان ینسخ‬ ‫وکذلک نقطع بتکفیر کل من قال قول یتوصل بہ الٰی‬‫تضلیل المة وابطال الشریعة باسرھا وکذلک نقطع بتکفیر‬ ‫من فضل احدا علی النبیاء قال مالک فی کتاب ابن حبیب‬ ‫وابن سحنون وقال ابن القاسم وابن الماجشون وابن‬ ‫عبدالحکم واصبغ وسحنون فیمن شتم احدا منھم‬ ‫اوانتقصہ قتل ولم یستتب وقال عیاض بعد تحریر عقود‬‫النبیاء فی التوحید والیمان والوحی وعصمتھم فی ذٰالک‬ ‫فلما ماعدا ذٰلک من عقود قلوبھم فجماعھا انھا مملؤة‬ ‫علما ویقینا علی الجملة وانھا قد احتوت علی المعرفة‬ ‫والعلم بامور الدین والدنیا مالشئ فوقہ وقال ایضا و من‬ ‫معجزاتہ صلی اللّہ تعالٰی علیہ وسلم ما اطلع علیہ من‬‫الغیب وما یکون وذلک بحر ل یدرک قعرہ ول ینزف غمرہ‬ ‫من جملة معجزاتہ المعلومة علی القطع الواصل الینا‬
  • ‫خبرھا علی التواتر وھٰذا لینافی ال ٰیات الدالة علی >انہ ل‬ ‫یعلم الغیب ال اللّہ ولو کنت اعلم الغیب لستکثرت من‬ ‫الخیر < فان المنفی علمہ من غیرو اسطة واما اطلعہ‬ ‫علیہ باعلم اللّہ لہ فامر متحقق >فل یظھر علی غیبہ‬ ‫احدا ال من ارتضی من رسول< وقال العضد فی عقائدہ‬‫ولیجوز علی اللّہ الجھل والکذب قال الدوانی والوجہ فی‬ ‫دفع الستناد الٰی جواز الخلف فی الوعید ان اٰیات الوعید‬‫مشروطة بشروط معلومة من ال ٰیات الخر والحادیث منھا‬‫الصرار وعدم التوبة وعدم العفو فیکون فی قوة الشرطیّة‬ ‫فکانّہ قیل العاصی اذا اصر ولم یتب ولم یعف عنہ‬ ‫بالشفاعة وغیرھا یکون معاقبا فعدم عقابہ لعدم تحقق‬‫واحد من تلک الشرائط لیستلزم کذبا او یقال المراد انشاء‬‫الوعید والتھدید لحقیقة الخبار فل کذب ونقل عیاض عن‬ ‫ابن حبیب واصبغ بن خلیل اثناء نازلة تتضمن الوقوع‬‫والعیاذ باللّہ فی الجناب اللٰھی ما نصہ ا یشتم رب عبدناہ‬ ‫ثم ل ننتصر لہ انا اذا لعبید سوء وما نحن لہ بعابدین ۔‬‫وذکر النشریسی فی معیارہ حکی ابن ابی زید ان الرشید‬‫سأل مالکا عن رجل شتم وذکر النبی صلی اللّہ تعالٰی علیہ‬
  • ‫وسلم وان فقھاء العراق افتوہ بجلدہ فغضب مالک‬ ‫یا امیر المؤمنین ما بقاء المّة بعد نبیھا من شتم‬ ‫وقال‬ ‫النبیاء قتل ومن شتم الصحابة ضرب واللّہ یمن بحسن‬ ‫التباع ’ ویحفظنا من الزیغ والزلل وسوء البتداع ’ونرجو‬ ‫من فضل اللّہ وعدہ’ النجاة من الوعید بعد لہ ’ بجاہ‬ ‫المشفع یوم العرض والقیام ’خاتم النبیاء والرسل علیہ‬‫وعلیھم افضل الصلة والسلم وعلٰی اٰلہ وصحبہ الھادین‬ ‫المھدیین ومن اقتفی اثرھم الٰی یوم الدین ’رقمہ حلیف‬ ‫العجز والتقصیر ’المفتقر لعفو ربہ القدیر ’عبدہ محمد‬ ‫العزیز الوزیر ’ الندلسی اصل والتونسی مولدا ومنشأ‬ ‫والمدنی قرارا ثم بفضل اللّہ مدفنا تحریرا فی ۵ ثانی‬ ‫ربیعین ۴۲۳۱ھ ․‬ ‫صورة ما سطر ’من فی العلم تصدر ’وفی الدرس تقرر‬ ‫’وتدقق النظر ’وورد وصدر’ بتوفیق من القادر ’الشیخ‬ ‫الفاضل عبد القادر ’ توفیق الشلبی الطرابلسی الحنفی ’‬ ‫المدرس بالمسجد الکریم النبوی ’ منحہ اللّہ تعالٰی من‬ ‫فیضہ القوی ․‬
  • ‫>بسم اللّہ الرحمٰن الرحیم<‬ ‫الحمد للّہ وحدہ ’والصّلة والسّلم علی من لنبی بعدہ‬‫’وعلی اٰلہ وصحبہ واتباعہ وحزبہ’ اما بعد فاذا ثبت وتحقق‬ ‫ما نسب ھٰؤلء القوم وھم غلم احمد القادیانی وقاسم‬ ‫النانوتی ورشید احمد الکنکوھی و خلیل احمد النبھتی و‬‫اشرفعلی التانوی واتباعھم مما ھو مبین فی السؤال فعند‬ ‫ذٰلک یحکم بکفرھم واجراء احکام المرتدین علیھم وان‬‫لم تجر فیلزم التحذیر منھم ’والتنفیر عنھم علی المنابر فی‬ ‫الرسائل ’والمجالس والمحافل’ حسما لمادة شرھم ’و‬‫قطعا لجرثومة کفرھم ’وخشیة من ان تسری روح الضللة‬ ‫فی العالم ’من مؤمنی بنی اٰدم ’وانما قیدنا بالثبوت و‬ ‫التحقیق لن التکفیر فجاجہ خطرة ومھایعہ و عرة ’ لم‬ ‫تسلکہ ساداتنا العلماء ال بنور الثبات ’ والعتماد علی‬ ‫قواطع براھین الئمّة الثبات لبمجرد تخمین واخبار’‬‫مرتقبین یوما تشخص فیہ البصار ’ وصلی اللّہ تعالٰی علی‬ ‫سیّد نا محمد وعلی اٰلہ وصحبہ وسلم۔‬ ‫امر برقمہ العبد الضعیف عبد القادر توفیق الشلبی‬
  • ‫الطرابلسی ’والمدرس الحنفی فی مسجد النبوی․‬ ‫عبدالقادر توفیق الشلبی․‬ ‫‪Leave a Comment‬‬ ‫6002 ,32 ‪October‬‬‫) پیسے لیکر فتوی دینے پر دیوبند کی کئی مفتی‬ ‫معطل ) ویڈیو رپورٹ‬ ‫‪ ,Filed under: Home‬ہوم, دیوبندی ازم —‬ ‫‪sulemansubhani @ 6:37 pm‬‬ ‫پیسے لیکر فتوی دینے پر دیوبند کی کئی مفتی‬‫معطل ) ویڈیو رپور ٹ( دیکھنے کے لئے یہا ں ‌کلک‬ ‫کیجیے ۔‬ ‫‪Leave a Comment‬‬ ‫6002 ,21 ‪October‬‬ ‫پیسے لے کر فتوے دینے پر دیوبند کے کئی‬ ‫مفتی معطل‬
  • ‫‪ ,Filed under: Home‬ہوم, دیوبندی ازم —‬ ‫‪sulemansubhani @ 9:08 am‬‬ ‫پہلے اسے پڑھیں۔۔۔ بلتبصرہ‬ ‫پیسے لے کر فتوے دینے پر دیوبند کے کئی مفتی معطل‬‫رقم کے عیوض من چاہے فتوے جاری کئے جاتے تھے، نجی‬ ‫چینل کے آپریشن میں انکشاف‬ ‫دہلی )ایکسپریس نیوز( ہندوستان کے ایک اہم‬ ‫ادارے دارالعلوم دیوبند نے مبینہ طور پر پیسے لے کر فتوے‬ ‫جاری کرنے والے بعض مفتیوں کو معطل کردیا ہے۔ ایک‬ ‫نجی ٹی وی چینل نے ایک سٹنگ آپریشن کی مدد سے‬‫دکھایا کہ مفتی کس طرح فتووں کی تجارت کرتے ہیں اور‬ ‫پیسے لے کر کسی بھی طرح من چاہے فتوے جاری کرتے‬‫ہیں۔ یہ آپریشن کوبرا پوسٹ ڈاٹ کام نے انجام دیا تھا تاکہ‬‫لوگوں کو سچائی معلوم ہوسکے۔ ایڈیٹر انرودھ کو جب پتہ‬ ‫چل کہ فتوے بھی بکتے ہیں تو اس کا پردہ فاش کرنے کا‬ ‫خیال آیا۔ اہم عہدوں پر فائز مفتیوں نے پیسے لے کر جو‬‫فتوے جاری کئے ہیں ان کے مطابق میاں بیوی کا ڈبل بیڈ پر‬‫سونا، ساتھ ٹی۔وی یا فلم دیکھنا حرام ہے، مسلم لڑکیوں‬
  • ‫سے دوستی ناجائز، بینک سے قرض لینا اور کریڈٹ کارڈ کا‬ ‫استعمال غیر اسلمی قرار دیا گیا۔ دارالعلوم دیوبند کے‬‫دارالفقی کے صدر قاری عثمان کا کہنا ہے کہ پورے معاملے‬ ‫کی تفتیش کے بعد کے بعد ملوث مفتیوں کو معطل کردیا‬ ‫گیا ہے، تمام پہلووں کا جائزہ لے کر ان کے خلف کاروائی‬‫کی جائے گی، کسی سازش کے نظر آنے پر چینل کے خلف‬ ‫بھی مقدمہ کیا جائے گا، بعض فتوے مسلکی تنازعات کو‬ ‫ہوا دینے کے لئے اور بعض انتقام لینے کے لئے بھی دیے جاتے‬‫ہیں۔ جمعیت علمائے ہند کے سیکریٹری مولنا محمود مدنی‬ ‫نے کہا کہ بعض اصلحات پر غور کیا گیا ہے۔ اس سسٹم‬‫میں سختی برتنے کی ضرورت ہے، اب یہ علماءپر ہے کہ وہ‬‫کیا اصلحات کرتے ہیں۔ چینل کے آپریشن پروگرام کو دیکھ‬‫کر عوام میں سخت غصہ پایا جاتا ہے، کچھ کے مطابق آج‬‫کل کے علماءجدید مسائل سمجھنے سے قاصر ہیں اس لئے‬‫وہ الٹی سیدھی حرکتیں کرتے ہیں، ایک خاتون کے مطابق‬ ‫اگر مولوی ہی بک جائیں گے تو پیروکاروں کا کیا ہوگا۔‬ ‫مختلف فتووں سے ہندوستان کے مسلمانوں کو معاشی و‬ ‫تعلیمی مسائل کا سامنا ہے دوسری جانب مختلف نوعیت‬
  • ‫کے فتوں سے ان کی سماجی زندگی بری طرح متاثر ہوئی‬ ‫ہے۔‬‫(بحوالہ روزنامہ “ایکسپریس” کراچی۔ مورخہ 32ستمبر‬‫6002ء۔ سنیچر)‬ ‫پھر یہ بھی پڑھیں‬‫الحمد للہ یہاں فتویٰ پر فیس نہیں لی جاتی۔ شیخ السلم‬ ‫امام احمد رضا خاں حنفی‬‫)بریلی( 71جنوری 4191ء۔ بہاولپور اسکککٹیٹ ککککے‬‫چیکف کورٹ ککے جسکٹس دیکن محمکد صکاحب نکے مبلغ پانکچ‬
  • ‫روپکے ۱ فیکس ککے سکاتھ وراثکت/ وصکیت سکے متعلق ایکک‬ ‫ک‬ ‫ک‬ ‫ک‬ ‫ک‬ ‫ک‬ ‫ک‬ ‫ک‬ ‫ک‬‫لینحل مسئلہ شیخ السلم امام احمد رضا حنفی کے پاس‬‫دارالعلوم بریلی )منظکر اسکلم( مدلل و مفصکل فیصکلے ککے‬‫لئے بھیجکا۔ اس سکے قبکل جسکٹس دیکن محمکد صکاحب یکہ‬‫استفتاءہندوستان کے آٹھ جید علماء)لہور، بہاولپور، خانپور،‬‫دیوبند، سہارنپور، تھانہ بھون وغیرہ( مع ان کی فیس کے‬‫بھیج چکے تھے۔ چنانچہ ان آٹھوں علماءکے فتاویٰ مع دیگر‬‫تیس کے قریب علماءکی تصدیقات کے ساتھ انہوں نے اس‬‫اسکتفتاءکے سکاتھ شیکخ السکلم ککو بھکی بھیجکے۔ حضرت‬‫شیککخ السککلم نککے ان کککو ملحظککہ فرماکککر تقریبا پچاس‬‫صفحات پر مشتمل اس کا مفصل محققانہ جواب جسٹس‬‫دین محمد صاحب کو اپنے ایک خط کے ساتھ بھیجا۔ خط‬ ‫کا متن درج ذیل ہے:‬‫“الحمکد للہ رب العالمیکن وبکہ ثکم برسکولہ نسکتعین‬‫صلی اللہ تعال یٰ علیہ وسلم وبارک علیہ وعل یٰ الٰہ وصحبہ‬ ‫اجمعین۔‬‫الحمدللہ یہاں فتویک پکر فیکس نہیکں لی جاتکی۔ ان‬ ‫ٰ‬‫اجری ال علی رب العلمین۔ منی آرڈر واپس کردیا، سوالت‬
  • ‫اور ان کے متعلق آٹھ فتوے ملحظہ ہوئے، مفتیوں کے نام نہ‬‫لکھنا عجب نہ تھا۔ ایک کے فتو یٰ میں دوسرے کا جو ذکر‬‫تھکا وہ لککھ ککر محکو کردیکا گیکا یکا بیاض چھوڑی ہے یہاں‬‫اس سکے کوئی بحکث نہیکں بعونکہ عزوجکل تحقیکق حکق سکے‬‫کام ہے۔ مگککر اتنککی گزارش مناسککب ہے بحمدہ تعالی کٰ یہاں‬‫مسکائل میکں نکہ کسکی دوسکت ککی رعایکت ہے، ہمارے رب‬ ‫ک‬ ‫ک‬ ‫ک‬ ‫ک‬ ‫ک ک‬ ‫ک‬‫عزوعل ن کے ن کہ فرمای کا: ی کا ایھ کا الذی کن امنوا کونوا قوامی کن‬ ‫ک‬ ‫ک‬ ‫ک‬ ‫ک ک‬ ‫ک ک‬‫بالقسط شھداءللہ ولو علی انفسکم۔ نہ کسی مخالف سے‬‫ضکد اور نفسکانیت۔ کیکا ہمارے مولیک تبارک و تعالیک نکے نکہ‬ ‫ٰ‬ ‫ٰ‬‫فرمایکا: لیجرمنککم شنان قوم علی ان لتعدلوا اعدلوا ھکو‬ ‫اقرب للتقوی۔‬ ‫مولیٰ سبحانو تعالیٰ کی عنایت پھر‬ ‫مصطفیﷺ کی اعانت سے امید واثق ہے کہ لیخافون‬ ‫لومۃ لئم سے بہرہ وافی عطا فرمایا ہے، وللہ الحمد ،‬ ‫اسی بنا پر بہت افسوس کے ساتھ گزارش کہ آٹھوں‬ ‫فتووں میں اصل ً ایک بھی صحیح نہیں، اکثر سراپا غلط‬ ‫ہیں اور بعض مشتمل بر اغلط۔ ”‬
  • ‫)فتاویٰ رضویہ جدید۔ جلد :52، ص:245، مطبوعہ: رضا‬‫فاونڈیشن، لہور(‬ ‫‪Leave a Comment‬‬ ‫» ‪Newer Posts‬‬ ‫‪Blog Stats‬‬ ‫•‬ ‫‪hits 34,710o‬‬ ‫•‬ ‫‪Categorie s‬‬ ‫•‬ ‫•‬ ‫‪ ,Homeo‬ہوم‬ ‫‪o‬قرآن مجید‬ ‫‪o‬قرآن مجید ، کنزالیمان‬ ‫‪o‬منقبت‬ ‫‪o‬ماں ، والدہ‬ ‫‪o‬معراج النبی‬ ‫‪o‬نعت رسول مقبول‬ ‫‪o‬وہابی ازم‬ ‫‪o‬کیا آپ جانتے ہیں ؟‬ ‫‪o‬آہ‬
  • ‫‪o‬آڈیو ، ویڈیو لئبریری‬ ‫‪o‬اہلسنت والجماعت‬ ‫‪o‬اہلسنت اردو خبریں‬ ‫‪o‬امام احمد رضا خان‬ ‫‪o‬امام اعظم ابوحنیفہ‬ ‫‪o‬اوراد و وظائف‬ ‫‪o‬اپنی بات‬ ‫‪o‬احادیث مبارکہ‬ ‫‪o‬اسلمی مضامین‬ ‫‪o‬اعتراض کا جواب‬ ‫‪o‬باپ ، والد‬ ‫‪o‬حدائق بخشش‬ ‫‪o‬دیوبندی ازم‬ ‫‪o‬دیگر فتنے‬ ‫‪o‬رمضان کریم‬ ‫‪o‬روزہ‬‫‪o‬سوال جواب فقہ حنفی‬ ‫‪o‬سیرت نبی کریم‬
  • ‫‪o‬شب قدر‬ ‫‪o‬صحابہ کرام‬ ‫‪o‬طب نبوی و حکمت‬ ‫‪o‬عید میلد النبی‬ ‫‪o‬عبادات‬ ‫قادری رضوی فورم‬ ‫•‬ ‫‪o‬کتاب الطہارۃ / احکام آب / عورت و مرد‬ ‫کے بچے پانی کا استعمال‬‫‪ :Forum‬جامع الحادیث ‪ :Posted By‬قادری‬ ‫‪Post Time: 11-24-2010 at 02:46 PM‬‬ ‫‪o‬کتاب الطہارۃ / احکام آب / دھوپ سے‬ ‫گرم شدہ پانی استعمال نہ کرو‬‫‪ :Forum‬جامع الحادیث ‪ :Posted By‬قادری‬ ‫‪Post Time: 11-24-2010 at 02:37 PM‬‬ ‫‪o‬کتاب الطہارۃ / احکام آب / بڑ ے حوض‬ ‫کا پانی بےکھٹک استعمال کرو‬
  • ‫‪ :Forum‬جامع الحادیث ‪ :Posted By‬قادری‬ ‫‪Post Time: 11-24-2010 at 02:30 PM‬‬ ‫‪o‬کتاب الطہارۃ / احکام آب / پانی اصل‬ ‫میں طاہرومطہّر ہے‬ ‫‪ :Forum‬جامع الحادیث ‪ :Posted By‬قادری‬ ‫‪Post Time: 11-24-2010 at 02:20 PM‬‬ ‫‪o‬سنی اتحاد کونسل کے زیراہتمام پاکستان‬ ‫بچاؤ لنگ مارچ کے انتظامات مکمل‬ ‫‪ :Forum‬اہلسنت اردو خبریں ‪:Posted By‬‬ ‫قادری 62:10 ‪Post Time: 11-24-2010 at‬‬ ‫‪PM‬‬ ‫‪o‬محاسبہ قادیانیت‬‫‪ :Forum‬ردّ قادیانیت ‪ :Posted By‬قادری ‪Post‬‬ ‫‪Time: 11-24-2010 at 02:34 AM‬‬
  • ‫‪ :Forum‬جامع الحادیث ‪ :Posted By‬قادری‬ ‫‪Post Time: 11-24-2010 at 02:30 PM‬‬ ‫‪o‬کتاب الطہارۃ / احکام آب / پانی اصل‬ ‫میں طاہرومطہّر ہے‬ ‫‪ :Forum‬جامع الحادیث ‪ :Posted By‬قادری‬ ‫‪Post Time: 11-24-2010 at 02:20 PM‬‬ ‫‪o‬سنی اتحاد کونسل کے زیراہتمام پاکستان‬ ‫بچاؤ لنگ مارچ کے انتظامات مکمل‬ ‫‪ :Forum‬اہلسنت اردو خبریں ‪:Posted By‬‬ ‫قادری 62:10 ‪Post Time: 11-24-2010 at‬‬ ‫‪PM‬‬ ‫‪o‬محاسبہ قادیانیت‬‫‪ :Forum‬ردّ قادیانیت ‪ :Posted By‬قادری ‪Post‬‬ ‫‪Time: 11-24-2010 at 02:34 AM‬‬
  • ‫‪o‬کتاب الطہارۃ / ضرورت طہارت / طہارت‬ ‫کے بغیر نماز مقبول نہیں‬ ‫‪ :Forum‬جامع الحادیث ‪ :Posted By‬قادری‬ ‫‪Post Time: 11-23-2010 at 02:48 PM‬‬ ‫‪o‬کتاب العلم / توسل و استمداد / اپنی‬ ‫حاجتیں رحمدل لوگوں سے مانگو‬ ‫‪ :Forum‬جامع الحادیث ‪ :Posted By‬قادری‬ ‫‪Post Time: 11-23-2010 at 02:12 PM‬‬ ‫‪o‬اللہ تعالٰی سے اچھا گمان‬‫‪ :Forum‬احادیث مبارکہ ‪ :Posted By‬طلب گار‬‫دعا ‪Post Time: 11-23-2010 at 12:26 AM‬‬ ‫‪o‬حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ‬ ‫تعالی عنہ اور حضرت سیدنا امام حسین‬ ‫رضی اللہ تعالی عنہ‬
  • ‫‪ :Forum‬سنن ابوداؤد ‪ :Posted By‬پیرآف‬‫اوگالی شریف ‪Post Time: 11-19-2010 at‬‬ ‫‪09:07 PM‬‬ ‫‪o‬طالبان ملک پر کنٹرول کا منصوبہ بنائے‬ ‫ہوئے ہیں ٫ فضل کریم‬ ‫‪ :Forum‬اہلسنت اردو خبریں ‪:Posted By‬‬‫قادری 64:21 ‪Post Time: 11-15-2010 at‬‬ ‫‪PM‬‬ ‫‪o‬لنگ مارچ انقلب کا سنگ میل ٫ سنی‬ ‫اتحاد کونسل‬ ‫‪ :Forum‬اہلسنت اردو خبریں ‪:Posted By‬‬‫قادری 73:20 ‪Post Time: 11-13-2010 at‬‬ ‫‪AM‬‬ ‫‪o‬پاکستان بچاؤ مارچ ریفرنڈم ہوگا ٫ حاجی‬ ‫فضل کریم‬
  • ‫‪ :Forum‬اہلسنت اردو خبریں ‪:Posted By‬‬‫قادری 34:30 ‪Post Time: 11-11-2010 at‬‬ ‫‪AM‬‬ ‫‪o‬کتاب العلم / توسل و استمداد / غیرخدا‬ ‫سے استمداد‬‫‪ :Forum‬جامع الحادیث ‪ :Posted By‬قادری‬ ‫‪Post Time: 11-10-2010 at 01:19 PM‬‬ ‫‪o‬ستائیس 72 نومبر کا پاکستان بچائو لنگ‬ ‫مارچ دھشت گردوں کے سرپرستوں کی‬ ‫موت ثابت ہوگا ۔ حاجی فضل کریم‬ ‫‪ :Forum‬اہلسنت اردو خبریں ‪:Posted By‬‬‫قادری 00:10 ‪Post Time: 11-10-2010 at‬‬ ‫‪PM‬‬ ‫‪Top Po st s‬‬ ‫•‬ ‫‪o‬اشرف علی تھانوی داتا دربار میں‬ ‫‪o‬آنکھوں کی بینائی کی حفاظت 20‬
  • ‫‪o‬دعوت اسلمی کا باب السلم سندھ‬ ‫سطح پر تین روزہ سُنّتوں بھرا اجتماع‬‫‪o‬عید میلدالنبی کا ثبوت قرآن و حدیث کی‬ ‫روشنی میں‬ ‫‪o‬نظر بد اور تعویذ ) سائنسی نقطہ نظر‬ ‫کے حوالے سے(‬ ‫‪o‬درود تاج خواجہ سید ابو الحسن شاذلی‬‫‪o‬حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات‬ ‫‪o‬حسام الحرمین عربی‬ ‫‪o‬میلد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم‬ ‫ویڈیو بیان‬ ‫‪o‬تذکرہ امام احمد رضا رضی اللہ عنہ‬ ‫‪o‬معاشرتی مسائل کے حل کیلئے علماء کو‬ ‫بھرپور جدوجہد کرنا ہو گی، شاہ تراب‬ ‫الحق‬‫‪o‬صوفی محمد فضل اللہ غیر ملکی ایجنڈے‬ ‫کا حصہ ، آپریشن مکمل کیا جائے علماء‬ ‫‪Archi ves‬‬ ‫•‬
  • ‫• اہلسنت ویب سائٹس‬ ‫‪o‬فیض رضا نیٹ ورک‬ ‫‪o‬فیضان مدینہ نیٹ ورک‬ ‫‪o‬فیضان عطار نیٹ ورک‬ ‫‪o‬قادری رضوی فورم‬ ‫‪o‬ماہنامہ آواز اہلسنت گجرات‬‫‪o‬ماہنامہ تحفظ اسلم کراچی‬ ‫‪o‬مدنی نیٹ ورک‬‫‪o‬مصطفائی تحریک پاکستان‬ ‫‪o‬نفس اسلم‬ ‫‪o‬نور مدینہ نیٹ ورک‬
  • ‫‪o‬نور نبی نیٹ ورک‬ ‫‪o‬نعت رنگ‬ ‫‪o‬ٹرو اسلم نیٹ ورک‬ ‫‪o‬آن لئن مفتی‬ ‫‪o‬اہلسنت نیٹ ورک‬ ‫‪o‬المصطفٰی ویلفیئر سوسائٹی‬ ‫‪o‬المصطفٰی ویلفیئر سوسائٹی ) ارتھ‬ ‫‪o‬امام مصطفٰی رضا ریسرچ سنٹر‬ ‫‪o‬امام احمد رضا نیٹ ورک‬ ‫‪o‬انجمن طلباءاسلم‬‫‪o‬ادارہ تحقیقات امام احمد رضا کراچی‬ ‫‪o‬اسلم فور یو‬ ‫‪o‬اسلمک یونیورسٹی جامیۃالمدینہ‬ ‫‪o‬اسلمک اکیڈمی امریکہ‬ ‫‪o‬اعلٰی حضرت نیٹ ورک‬ ‫‪o‬برکاتی نیٹ ورک‬ ‫‪o‬تفسیر قرآن‬ ‫‪o‬تحریک فکر رضا ممبئی‬
  • ‫‪o‬جماعت اہلسنت پاکستان‬‫‪o‬جمعیت اشاعت اہلسنت پاکستان‬ ‫‪o‬جامعۃ الشرفیہ مبارکپور انڈیا‬ ‫‪o‬ختم قادریہ نیٹ ورک‬ ‫‪o‬ختم نبوت‬ ‫‪o‬دارالعلوم نعیمیہ کراچی‬ ‫‪o‬درگاہ سیدی اعلٰی حضرت‬ ‫‪o‬دعوت اسلمی‬ ‫‪o‬رضا اکیڈمی ممبئی‬ ‫‪o‬رضا اکیڈمی ساؤتھ افریقہ‬ ‫‪o‬سنی تحریک پاکستان‬ ‫‪o‬سنی دعوت اسلمی‬ ‫‪o‬صراط مستقیم‬‫‪o‬ضیا المت پیر کرم شاہ الزھری‬‫‪o‬علمہ سید احمد سعید کاظمی‬ ‫• اہلسنت بلگ‬ ‫‪o‬فتنہ طاہریہ پہ بلگ‬ ‫‪o‬نعتیہ بلگ‬
  • ‫‪o‬امام احمد رضا بلگ‬ ‫‪o‬اویس رضا قادری بلگ‬ ‫‪Recent Po st s‬‬ ‫•‬ ‫‪Imam Azam Urdu Book By Syedo‬‬ ‫‪Shah Turab ul Haq Qadri‬‬ ‫‪o‬تلخ سچائیاں‬‫‪o‬لہور: جامعہ نعیمیہ میں خودکش حملہ ،‬ ‫ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید‬ ‫‪o‬قیام امن معاشرے کا اہم مسئلہ :: ڈاکٹر‬ ‫سرفراز نعیمی‬‫‪o‬صوفی محمد فضل اللہ غیر ملکی ایجنڈے‬ ‫کا حصہ ، آپریشن مکمل کیا جائے علماء‬ ‫•‬ ‫•‬ ‫0102 ‪November‬‬ ‫‪F T WT MS S‬‬ ‫» ‪Aug‬‬ ‫1 2 3 4 5‬
  • November 2010 F T WT MS S 1 1 1 9 8 7 6 2 1 0 1 1 1 1 1 1 1 9 8 7 6 5 4 3 2 2 2 2 2 2 2 6 5 4 3 2 1 0 3 2 2 2 0 9 8 7 RSS Feed • Registero Log ino Entries RSSoComments RSSoWordPress.como •
  • ‫‪:Search for‬‬ ‫‪.Blog at WordPress.com‬‬ ‫جشن میلد النبی صلی اللہ علیہ وسلم‬ ‫ناجائز کیوں ؟ اور‬‫جلوس اہلحدیث اور جشن دیوبند کا جواز کیوں ؟‬‫4 / 1 ‪part‬‬ ‫بسم اللہ الرح م ٰن الرحیم‬
  • ‫و َ ا ِن تعدو ن ِع م َ ة َ ال ل ّہ ِ ل ت َح ص ُو ھ َا۔‬ ‫َ‬ ‫اور اگر اللہ کی نعمتوں کو گنو تو شما ر نہ‬ ‫کرسکوگے ۔‬ ‫پارہ نمبر 21 رکوع نمبر 71‬ ‫بے شک اللہ تعال ی ٰ کی نعمتیں لتعداد اور بے‬ ‫حساب اور حد شمار سے باہر ہیں ، مگر ان سب‬ ‫نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت بلکہ تمام‬ ‫نعمتوں‬ ‫کی جان ، جان ِ جہان و جا ن ِ ایمان حضور پر‬‫نور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذا ت ِ بابرکات‬ ‫ہے ، جن کے طفیل باقی سب نعمت و انعامات‬ ‫ہیں‬
  • ‫اعل ی ٰ حضرت مجد د ّ دین و ملت مولنا امام احمد‬ ‫رضا خاں فاضل بریلوی نے فرمایا : ۔‬‫وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو‬ ‫کچھ نہ ہو‬ ‫جان ہیں وہ جہان کی جان ہے تو جہان ہے‬‫اس لئے اللہ تعال ی ٰ نے سب سے بڑھ کر ، سب سے‬‫زیادہ اور بہت ہی اہتمام و تاکید کے ساتھ آپ کی‬ ‫ذات بابرکات کے بھیجنے کا احسان ظاہر فرمایا ۔‬‫لقد من اللہ علی المومنین اذ بعث فیھم رسول‬ ‫من انفسھم ۔‬‫بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا ، مسلمانوں پر کہ‬
  • ‫ان میں انہی سے ایک رسول بھیجا ۔‬ ‫) پ 41 ، رکوع 8 (‬‫چونکہ ایمانداروں پر سب سے بڑی نعمت کا سب‬ ‫سے بڑا احسان ظاہر فرمایا ہے ، اس لئے اہل‬ ‫ایمان اس کی سب سے بڑھ کر قدرو منزلت‬ ‫جانتے ہیں اور اس کا سب سے زیادہ شکر ادا‬ ‫کرتے ہیں اور جس ماہ یوم میں اس احسان و‬ ‫نور و نعمت کا ظہور ہوا ، اس میں اس کا‬‫بالخصوص چرچا و مظاہرہ کرتے ہیں، اس لئے کہ‬ ‫مول ی ٰ تعال ی ٰ نے قرآن مجید میں جابجا اپنی‬ ‫نعمتوں کی تذکیر تشکر اور ذکر اذکار کا حکم‬ ‫فرمایا ہے خاص طور پر سورۃ الضح ی ٰ میں‬ ‫ارشاد ہوا ہے ۔‬
  • ‫واما بنعمة ربک فحدث ۔‬ ‫اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔پ‬ ‫) رکوع 81 ۔ 03(‬‫پھر بطور خاص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی‬ ‫ذات کے نعم اللہ ہونے کا بیان اور ناشکری و‬ ‫ناقدری کرنے والے بے دینوں کا رد فرمایا ۔‬ ‫الم تر الی الذین بدلو انعمة اللہ کفر ا َ َ۔‬ ‫کیا تم نے انہیں نہ دیکھا ، جنہوں نے اللہ کی‬ ‫نعمت نا شکری سے بدل دی ۔‬ ‫) پ 31 رکوع 71 ۔‬‫بخاری شریف و دیگر تفاسیر میں سید المفسرین‬
  • ‫حضرت عبد اللہ ابن عباس و حضرت عمر رضی‬ ‫:: اللہ عنہما سے روایت ہے کہ‬ ‫کہ ناشکری کرنے والے کفار ہیں ۔ ومحمدنعمۃ‬ ‫ال ل ّہ ۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی‬ ‫نعمت ہیں‬ ‫) بخاری شریف جز ثالث صفحہ 6 (‬ ‫جب اللہ کے فرمان اور قرآن سے ثابت ہوگیا کہ‬‫حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے خاص نعمت‬ ‫ہیں جس پر اللہ نے اپنے خاص احسان کا ذکر‬‫فرمایا اور پھر نعمت کا چرچا کرنے کا بھی حکم‬ ‫دیا تو اب کون مسلمان و اہل ایمان ہے جو آپ‬ ‫کی ذات بابرکات ، نور کے ظہور اور دنیا میں‬ ‫جلوہ گری و تشریف آوری کی خوشی نہ منائے ،‬
  • ‫شکر ادا نہ کرے اور سب سے بڑی نعمت کا سب‬ ‫سے بڑھ کر چرچا و مظاہرہ پسند نہ کرے‬‫اور نعمت عظ م ٰی کے خصوصی شکرانہ اور چرچا‬ ‫و مظاہرہ کے لئے جشن عید میل النبی صلی اللہ‬ ‫علیہ وسلم مولود شریف اور یوم میلد النبی‬ ‫صلی اللہ علیہ وسلم کے جلوس مبارک پر برا‬ ‫منائے اور زبان طعن دراز کرے ۔‬ ‫مفسر قرآن حضرت مفتی احمد یار خاں مرحوم‬ ‫نے کیا خوب فرمایا ہے : ۔‬‫حبیب حق ہیں خدا کی نعمت بنعمۃ ربک فحدث‬‫یہ فرمان مو ل ٰی پر عمل ہے جو بزم مولد سجارہے‬ ‫ہیں‬
  • ‫رحمت کے خوشی : ۔‬ ‫قرآن ہی میں یہ بھی بیان ہے کہ‬ ‫تم فرماﺅ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر‬ ‫چاہیے ، کہ خوشی کریں ، وہ ان کی سب دھن‬ ‫دولت سے بہتر ہے‬ ‫) پ 11 رکوع 11 (‬ ‫۔جس طرح اوپر نعمت کا چرچا کرنے کا ذکر ہوا‬ ‫ہے ، اسی طرح یہاں فضل و رحمت پر خوشی‬ ‫منانے کا بیان ہے اور کون مسلمان نہیں جانتا کہ‬‫اللہ کا سب سے بڑا فضل اور سب سے بڑی رحمت‬ ‫بلکہ جا ن ِ رحمت اور رحمۃ اللعالمین‬ ‫) پ 71 رکوع 7 (‬
  • ‫آپ کی ذا ت ِ بابرکات ہے یہاں فضل و رحمت سے‬ ‫اگر کوئی بھی چیز مراد لی جائے تو یقینا وہ‬‫بھی آپ ہی کا صدقہ وسیلہ اور طفیل ہے ، لہذا‬ ‫آپ بہر صورت بدرجہ اول ی ٰ فضل ال ہ ٰی و رحمت‬‫خداوندی اور نعمۃ اللہ ہونے کا مصداق کامل ہیں‬ ‫، کیونکہ دونوں جہان میں آپ کا ہی سب‬ ‫فیضان ہے اور آپ کی خوشی منانا ، چرچا و‬‫مظاہرہ کرنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شایان‬ ‫شان و فرمان خداوندی کے تحت و اس کے‬ ‫مطابق‬ ‫ہے ، نہ کہ معاذ اللہ اس کے مخالف و منکر اور‬ ‫شرک و بدعات ۔‬ ‫خدا کا شکر نعمت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم‬ ‫کی شان رفعت ہے‬
  • ‫یہ دونوں کی اطاعت ہے قیام محفل مولد‬ ‫حصول فیض و رحمت ہے نزول خیر و برکت ہے‬ ‫حصول عشق حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہے‬ ‫قیام محفل مولد‬‫نہ اس میں رفع سنت ہے نہ شرک و کفر بدعت ہے‬ ‫یہ رد شرک و بدعت ہے قیام محفل مولد‬ ‫یوم ولدت کی اہمیت : ۔‬‫حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول‬
  • ‫صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر شریف ) س وموا ر ( کا‬ ‫: روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا‬‫فیہ ولدت وفیہ انزل علیہ ۔ یعنی اسی دن میری‬‫پیدائش ہوئی اور اسی دن مجھ پر قرآن نازل کیا‬ ‫گیا۔‬ ‫) مشکوۃ شریف صفحہ 971 (‬ ‫اس فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم‬ ‫میلد النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور یوم نزول‬ ‫قرآن کی اہمیت اور اس دن کی یادگار منانا اور‬ ‫شکر‬ ‫نعمت کے طور پر روزہ رکھنا ثابت ہوا جیسے‬ ‫ہفتہ وار دنوں کے حساب سے یوم ولدت و یوم‬ ‫نزول قرآن کی یادگار اہمیت ہے ویسے ہی‬ ‫سالنہ تاریخ کے حساب سے بھی یوم ولدت و‬
  • ‫یوم نزول قرآن کی اہمیت و امت میں مقبولیت ہے‬ ‫، جس طرح نزول قرآن کا دن پیر 72 رمضان‬ ‫المبارک کو سالنہ یادگار منائی جاتی ہے ، اسی‬‫طرح یوم میلد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دن‬ ‫پیر 21 ربیع ال و ّل میں ہونے کے باعث اہل‬ ‫اسلم میں ماہ ربیع ال و ّل و 21 ربیع ال و ّل کی‬ ‫سالنہ یادگار منائی جاتی ہے ۔ بلکہ امام احمد‬‫بن محمد قسطلنی شارح بخاری اور شیخ محقق‬ ‫علمہ عبد الحق مح د ّث دہلوی شارح مشک و ٰۃ‬ ‫) رحمۃ اللہ علیہما ( جیسے محدثین نے نقل‬‫فرمایا کہ امام احمد بن حنبل جیسے امام واکابر‬ ‫علماءامت نے تصریح کی ہے کہ شب میلد شب‬ ‫قدر سے افضل ہے ۔ نیز فرمایا جب آدم علیہ‬
  • ‫السلم کی پیدائش کے دن جمعۃ المبارک میں‬ ‫مقبولیت کی ایک خاص ساعت ہے تو سید‬ ‫المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی میلد کی‬ ‫ساعت کے متعلق تیرا کیا خیال ہے ۔‬ ‫)اس کی شان کا کیا عالم ہوگا (‬‫زرقانی شرح مواہب جلد 1 صفحہ 631.531 ۔ (‬ ‫) مدارج النبوت جلد 2 صفحہ 31‬ ‫اعل ی ٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے‬ ‫اس کی کیا خوب ترجمانی کی ۔‬ ‫جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند‬ ‫اس دل افروز ساعت پہ لکھوں سلم‬
  • ‫لفظ عید کی تحقیق : ۔‬‫مذکورہ ارشادات کی روشنی میں مزید عرض ہے‬ ‫کہ بفرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم جمعۃ‬‫المبارک آدم علیہ السلم کی پیدائش کا دن بھی‬ ‫ہے اور‬ ‫عید کا دن بھی ہے بلکہ عند اللہ عید الض ح ٰی‬ ‫اور عید الفطر سے بھی بڑا دن ہے ۔‬ ‫) مشک و ٰۃ شریف صفحہ 041/321 (‬ ‫ملخص ا َ لہذا جب سیدنا آدم علیہ السلم کی‬
  • ‫پیدائش کا دن عید کا دن بلکہ دونوں عیدوں سے‬ ‫بڑھ کر ہوسکتا ہے‬‫تو سیدنا سید النبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کا یوم‬ ‫پیدائش عید میلد النبی صلی اللہ علیہ وسلم‬‫کیوں نہیں ہوسکتا ؟ جب کہ سب کچھ آپ کا ہی‬ ‫فیضان ، آپ کے دم قدم کی بہار اور آپ ہی کے‬ ‫نور کا ظہور ہے ۔‬ ‫ہے انہی کے دم قدم سے باغ عالم میں بہار‬‫وہ نہ تھے عالم نہ تھا گروہ نہ ہوں عالم نہیں‬ ‫صحابہ کا فتو ی ٰ : ۔‬
  • ‫حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت الیوم‬ ‫اکملت لکم دینکم ۔ تلوت فرمائی ۔ تو ایک‬ ‫یہودی نے کہا : اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو‬ ‫ہم‬‫اس دن کو عید مناتے ۔ اس پر حضرت ابن عباس‬ ‫رضی اللہ عنہما نے فرمایا : : یہ آیت نازل ہی‬ ‫اسی دن ہوئی جس دن دو عیدیں تھیں ۔) یو م‬ ‫جمعہ‬ ‫اور یوم عرفہ ( مشک و ٰۃ شریف صفحہ 121 ۔۔‬ ‫مرقات شرح مشکوۃ میں اس حدیث کے تحت‬‫طبرانی وغیرہ کے حوالہ سے بالکل یہی سوال و‬ ‫جواب حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی‬ ‫منقول ہے ، مقام غور ہے کہ دونوں جلیل القدر‬‫صحابہ نے یہ نہیں فرمایا ، کہ اسلم میں صرف‬
  • ‫عید الفطر اور عید الضحی مقرر ہیں اور ہمارے‬ ‫لئے کوئی تیسری عید منانا بدعت و ممنوع ہے ۔‬ ‫بلکہ یوم جمعہ کے علوہ یوم عرفہ کوبھی‬‫عید قرار دے کر واضح فرمایا کہ واقعی جس دن‬ ‫اللہ کی طرف سے کوئی خاص نعمت عطا ہو‬ ‫خاص اس دن بطور یادگار عید منانا ، شکر‬ ‫نعمت‬ ‫اور خوشی کا اظہار کرنا جائز اور درست ہے‬ ‫علوہ ازیں جلیل القدر محدث مل علی قاری‬‫علیہ الرحمۃ الباری نے اس موقع پر یہ بھی نقل‬ ‫فرمایا‬ ‫کہ ہر خوشی کے دن کے لئے لفظ عید استعمال‬ ‫ہوتا ہے ، الغرض جب جمعہ کا عید ہونا ، عرفہ‬‫کا عید ہونا ، یوم نزول آیت کا عید ہونا ہر انعام‬
  • ‫و عطا کے دن کا عید ہونا اور ہر خوشی کے دن کا‬ ‫عید ہوناواضح و ظاہر ہوگیا تو اب ان سب سے‬ ‫بڑھ کر یوم عید میل د النبی صلی اللہ علیہ‬‫وسلم کے عید ہونے میں کیا شبہ رہ گیا ۔ جو سب‬ ‫کی اصل و سب مخلوق سے افضل ہیں ۔ مگر‬ ‫آنکھ والے تیرے جلووں کا نظارہ دیکھے‬ ‫دیدہ ء کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے‬ ‫: قرآن کی تائید‬‫عی س ٰی ابن مریم نے عرض کی : اے اللہ ! اے رب‬ ‫ہمارے ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار ۔‬
  • ‫کہ وہ دن ہمارے لئے عید ہوجائے اگلوں او ر‬ ‫پچھلوں کی ۔‬ ‫) پارہ 7 آیت 411 سورہ المائدہ (‬‫سبحان اللہ !! جب مائدہ اور من و سلو ی ٰ جیسی‬ ‫نعمت کا دن عید کا دن قرار پایا ۔ تو‬ ‫سب سے بڑی نعمت یوم عید میلد النبی صلی‬‫اللہ علیہ وسلم کے عید ہونے میں کیا شک رہا ؟‬ ‫: محدثین کا بیان‬ ‫امام احمد بن محمد قسطلنی علمہ محمد بن‬ ‫عبد الباقی زرقانی اور شیخ محقق علمہ عبد‬‫الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ دعائیہ‬
  • ‫بیان‬ ‫نقل فرمایا : فرحم اللہ امراءاتخذ لیالی شھر‬‫مولدہ المبارک اعیادہ ۔ اللہ اس شخص پر رحم‬‫فرمائے ، جو اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم‬ ‫کے‬ ‫ماہ میلد کی راتوں کو عیدوں کی طرح منائے ۔‬ ‫زرقانی شرح المواہب جلد اول صفحہ 931 ۔ (‬‫ماثبت من السنۃ صفحہ 06 ( دیکھئے ایسے جلیل‬ ‫القدر محدثین نے نہ صرف ایک دن بلکہ ماہ‬ ‫میلد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سب راتوں‬‫کو عید قرار دیا ہے اور عید میلد النبی صلی اللہ‬ ‫علیہ‬ ‫منانے والوں کے لئے دعائے رحمت بھی فرمائی‬
  • ‫ہے ، جس دن کی برکت سے ربیع الول کی راتیں‬ ‫بھی عیدیں قرار پائیں ۔ 21 ربیع الول کا وہ‬ ‫خاص دن کیونکر عید قرار نہ پائے گا ؟ بلکہ‬ ‫امام دادودی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ مکہ‬ ‫مکرمہ میں آپ کی ولدت کی جگہ مسجد حرام‬ ‫کے بعد‬‫سب سے افضل ہے اور اہل مکہ عیدین سے بڑھ کر‬ ‫وہاں محافل میلد کا انعقاد کرتے تھے ، حضرت‬ ‫شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ‬ ‫نے بھی اس مبارک جگہ محفل میلد میں‬ ‫حاضری اور مشاہدہ ءانوار کا ذکر فرمایا ۔‬ ‫جواہر البحار جلد سوم صفحہ 4511 فیوض (‬ ‫) الحرمین صفحہ 72‬
  • ‫مفسرین کا اعلن : ۔‬ ‫امام ابن حجر مکی علیہ الرحمۃ نے امام فخر‬ ‫الدین رازی صاحب ) تفسیر کبی ر ( نے نقل فرمایا‬ ‫کہ جس شخص نے میلد شریف کا انعقاد کیا‬‫اگرچہ عدم گنجائش کے باعث صرف نمک یا گندم‬ ‫یا ایسی ہی کسی چیز سے زیادہ تبرک کا اہتمام‬ ‫نہ کرسکا ۔ برکت ِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم‬ ‫سے ایسا شخص نہ محتاج ہوگا نہ اس کا ہاتھ‬ ‫خالی رہے گا ۔ ) ا ل ن عم ۃ الکب ر ٰی صفحہ 9 ( مفسر‬‫قرآن علمہ اسماعیل حقی نے امام سیوطی امام‬
  • ‫سبکی ، امام بن حجر عسقلنی ، امام ابن‬ ‫حجر ، امام سخاوی ، علمہ ابن جوزی رحمۃ‬ ‫اللہ علیہم جیسے اکابر علمائے امت سے میلد‬ ‫شریف کی‬ ‫اہمیت نقل فرمائی اور لکھا ہے کہ میلد شریف‬‫کا انعقاد آپ کی تعظیم کے لئے ہے ،اور اہل اسلم‬‫ہر جگہ ہمیشہ میلد شریف کا اہتمام کرتے ہیں ۔‬ ‫) تفسیر روح البیان جلد 9 صفحہ 65 (‬ ‫ربیع الول پر اجما ع امت : ۔ 21‬
  • ‫امام قسطلنی ، عل مہ زرقانی ، علمہ محمد‬‫بن عابدین شاکی کے بھتیجے علمہ احمد بن عبد‬ ‫الغنی دمشقی ، علمہ یوسف نہبانی اور شیخ‬ ‫عبد‬ ‫الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہم نے تصریح‬ ‫فرمائی کہ امام المغازی محمد بن اسحاق‬ ‫وغیرہ علماءکی تحقیق ہے کہ یوم میلد النبی‬ ‫صلی اللہ‬‫علیہ وسلم 21 ربیع الول ہے ۔ علمہ ابن کثیر نے‬ ‫کہا یہی جمہور سے مشہور ہے اور علمہ ابن‬ ‫جوزی اور علمہ ابن جزار نے اس پر اجماع‬ ‫نقل کیا ہے ۔ اس لئےکہ سلف و خلف کا تمام‬
  • ‫شہروں میں 21 ربیع الول کے عمل پر اتفاق‬ ‫ہے ۔ بالخصوص اہل مکہ اسی موقع پر جائے‬ ‫ولدت‬ ‫باسعادت پر جمع ہوتے اور اس کی زیارت کرتے‬ ‫ہیں ۔ ملخص ا َ‬‫زرقانی شرح مواہب جلد 1 صفحہ 231 ۔ جواہر (‬ ‫البحار جلد 3 صفحہ 7411 ۔ماثبت من السنۃ‬ ‫) صفحہ 75 ۔ مدارج النبوت صفحہ 41‬ ‫واقعہءابولہب : ۔‬ ‫جلیل القدر آئمہ محدثین نے نقل کیا ہے کہ‬
  • ‫ابولہب نے اپنی لونڈی ثوبیہ سے میلد النبی صلی‬‫اللہ علیہ وسلم کی خوشخبری سن کر اسے آزاد‬‫کردیا ، جس کے صلہ میں بروز پیر اس کے عذاب‬ ‫میں تخفیف ہوتی ہے اور انگلی سے پانی چوسنا‬ ‫میسر آتا ہے ، جب کافر کا یہ حال ہے تو‬‫عاشق صادق مومن کے لئے میلد شریف کی کتنی‬ ‫برکات ہوں گی ؟‬‫بخاری جلد 3 صفحہ 342 ، مع شرح زرقانی (‬ ‫) صفحہ 931 ماثبت بالسنہ صفحہ 06‬ ‫دوسروں کی زبان سے : ۔‬
  • ‫)ہفت روزہ اہلحدی ث ( لہور۔‬‫مارچ 1891 ء کی اشاعت میں رقمطراز ہے ۔ 72‬ ‫ملک میں حقیقی اسلمی تقریبات کی طرح یہ‬ ‫بھی ) ع ی د میلد النبی صلی اللہ علیہ وسلم (‬‫ایک اسلمی تقریب ہی شمارہوتی ہے اور اس امر‬ ‫واقعہ‬ ‫سے آپ بھی انکار نہیں کرسکتے کہ اب ہر برس‬ ‫ہی 21 ربیع الول کو اس تقریب کے اجلل و‬ ‫احترام میں سرکاری طور پر ملک بھر میں‬ ‫تعطیل عام ہوتی ہے اور آپ اگر سرکاری ملزم‬ ‫ہیں تو اپنے منہ سے اس کو ہزار بار بدعت کہنے‬ ‫کے باوجود آ پ بھی یہ چھٹی مناتے ہیں اور‬
  • ‫آئندہ بھی یہ جب تک یہاں چلتی ہے آپ اپنی‬ ‫تمام تر ) ا ہ لحدیثیت ( کے باوجود یہ چھٹی مناتے‬‫رہیں گے ۔۔۔۔ خواہ کوئی ہزار منہ بنائے دس ہزار‬ ‫بار ناراض ہوکر بگڑے جب تک خدا تعال ی ٰ کو‬ ‫منظور ہوا یہاں اس تقریب کی کارفرمائی ایک‬ ‫امر واقعہ ہی ہے ۔‬ ‫جلوس : ۔‬‫حکومت اگر اپنے زیراہتمام تقریب کو سادہ رکھے‬ ‫اور دوسروں کو بھی اس بات کی پرزور تلقین‬ ‫کرے تو اس کااثر یقینا خاطرخواہ ہوگا ۔‬
  • ‫انشاءاللہ ۔ اس تقریب کے ضمن میں جتنے بھی‬ ‫جلوس نکلتے ہیں اگر ان کو حکومت کے اہتمام‬ ‫سے خاص کردیا جائے تو یہ کام ہرگز مشکل‬‫نہیں ہے ، ہر جگہ کے حکام بآسانی اس کام کو‬‫سرانجام دے سکتے ہیں ، اگر ہر شہر میں صرف‬ ‫ایک ہی جلوس نکلے اور اسے ہر ہر جگہ‬ ‫کے سرکاری حکام کنٹرول کریں تو کوئی وجہ‬‫نہیں کہ مفاسد اچھل سکیں اور مصائب رونما‬ ‫ہوں ۔‬ ‫) . اہلحدیث 18.1.61... 18.3.72 (‬ ‫تنظیم اہلحدیث : ۔‬
  • ‫جماعت اہلحدیث کے بالعموم اورحافظ عبد‬ ‫القادر روپڑی کے بالخصوص ترجمان ہفت روزہ‬‫) ت ن ظی م اہلحدیث ( لہور نے 71 مئی 3691 ء کی‬ ‫اشاعت میں لکھا ہے کہ مومن کی پانچ عیدیں‬ ‫ہیں ، جس دن گناہ سے محفوظ رہے ، جس دن‬ ‫خاتمہ بالخیر ہو ، جس دن پل سے سلمتی کے‬ ‫ساتھ گزرے ، جس دن جنت میں داخل ہو اور‬‫جب پردردگار کے دیدار سے بہر ہ یاب ہو ۔تنظیم‬‫اہلحدیث کا یہ بیان حضرت انس بن مالک رضی‬ ‫اللہ عنہ سے مروی ہے ۔ ) د ر ۃ الناصحین صفحہ‬‫362 ( مقام انصاف ہے کہ جب مومن کی اکھٹی‬ ‫پانچ عیدیں تکمیل دین کے خلف نہیں تو جن‬
  • ‫کے صدقہ و وسیلہ سے ایمان قرآن اور خود‬ ‫رحمان مل ، ان کے یوم میلد کو عید کہہ دینے‬ ‫سے دین میں کونسا رخنہ پڑجائے گا ؟جبکہ عید‬ ‫میلد النبی صلی اللہ علیہ وسلم نہ عید الفطر‬ ‫اور عید الض ح ٰی کے مقابلے کے لئے ہے اور نہ ان‬ ‫، کی شرعی حیثیت ختم کرنا مقصود ہے‬‫اہلحدیث مزید لکھا ہے کہ ) اگر عید کے نام پر ہی‬ ‫آپ کا یوم ولدت منانا ہے تو رحمۃ اللعالمین‬ ‫صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کی طرف‬‫! دیکھیں کہ آپ نے یہ دن کیسے منایا تھا ؟ سنئے‬ ‫رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دن منایا‬ ‫پر اتنی ترمیم کے ساتھ کہ اسے تنہا عید میلد‬
  • ‫نہیں رہنے دیا بلکہ عید میلد اور عید بعث کہہ کر‬ ‫منایا اور منایا بھی روزہ رکھ کر اور سال بہ‬ ‫سال نہیں بلکہ ہر ہفتہ منایا ۔ ) ہفت روزہ‬ ‫) اہلحدیث لہور 72 مارچ 1891 ئ‬ ‫سبحان اللہ ! اہلحدیث نے تو حد کردی کہ صرف‬ ‫حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عید میلد منانے‬‫ہی کی تصریح نہیں کی بلکہ ایک اور عید یعنی‬‫عید بعث منانے کا بھی اضافہ کردیا اور وہ بھی‬ ‫ہفتہ وار۔‬ ‫ماہنامہ دارلعلوم دیوبند نومبر 7591 ء کی‬‫اشاعت میں ایک نعت شریف شائع ہوئی ہے کہ ؛‬
  • ‫یہ آمد ، آمد اس محبوب کی ہے‬ ‫کہ نور جاں ہے جس کا نام نامی‬ ‫خوشی ہے عید میلد النبی کی‬ ‫یہ اہل شوق کی خوشی انتظامی‬ ‫کھڑے ہیں باادب صف بستہ قدسی‬ ‫حضور سرور ذات گرامی‬ ‫الحمد اللہ ! اس تمام تفصیل اور لجواب و‬ ‫ناقابل تردید تحقیقی و الزامی حوالہ جات سے‬ ‫عید میلد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے اس‬ ‫نعمت کا‬ ‫چرچا کرنے شکر گزاری و خوشی کرنے محافل‬ ‫میلد کے انعقاد و جلوس نکالنے کی روز روشن‬‫کی طرح تحقیق و تائید ہوگئی اور وہ بھی وہاں‬ ‫وہاں سے جہاں سے پہلے شرک و بدعت کی‬
  • ‫آوازیں سنائی دیتی تھیں ، ماشا ءاللہ عید میلد‬ ‫النبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عظمت و‬ ‫قوت‬ ‫عشق سے اپنی حقانیت کا لوہا منوالیا ، مگر‬‫ضروری ہے کہ میلد شریف کے سب پروگرام بھی‬ ‫شریعت کے مطابق ہو ں اور منانے والے بھی‬ ‫شریعت و سنت کی پابندی کریں کیونکہ عشق‬ ‫رسالت کے ساتھ اتباع سنت بھی ضروری ہے ۔‬ ‫مسئلہ بدعت : ۔‬ ‫مذکورہ تمام تفصیل و تحقیق کے بعد اب تو‬ ‫کسی بدعت و دت کا خطرہ نہیں ہونا چاہئے ،‬
  • ‫کیونکہ بدعت و ناجائز تو وہ کام ہوتا ہے جس‬ ‫کی‬ ‫دین میں کوئی اصل نہ ہو مگر عید میلد النبی‬ ‫صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل و بنیاد اور مرجع‬ ‫و مآخذ قرآن و حدیث ، صحابہ کرام ، جمہور‬ ‫اہل‬ ‫علم ، محدثین ، مفسرین بلکہ اجماع امت اور‬‫خود منکرین میلد کے اقوال سے ثابت کرچکے ہیں‬ ‫، لہذا اب تو اس کو بدعت تصور کرنا بھی‬‫بدعت و ناجائز اور محرومی و بے نصیبی کا باعث‬ ‫ہے ۔‬‫میرے مول کے میلد کی دھوم ہے : : ہے وہ بد بخت‬ ‫جو آج محروم ہے‬
  • ‫اگر اب بھی کوئی میلد شریف کا قائل نہ ہو ،‬ ‫تو پھر اسے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ سیرت‬ ‫کانفرنس ، سیرت کے اجلس ، سالنہ تبلیغی‬ ‫اجتماعات ، اہلحدیث کانفرنسیں اور مدارس کے‬‫سالنہ پروگرام وغیرہ منعقد کرے ۔ورنہ وہ وجہ‬ ‫فرق بیان کرے کہ عید میلد النبی صلی اللہ‬ ‫وسلم‬ ‫کیوں بدعت ہے اور باقی مذکورہ امور کس دلیل‬‫سے توحید و سنت کے مطابق ہیں اور ہمارے دلئل‬ ‫اور جلیل القدر محدثین و اکابر کے حوالہ‬ ‫جات کا کیا جواب ہے ؟‬ ‫تم جو بھی کرو بدعت و ایجاد روا ہے : : اور ہم‬
  • ‫جو کریں محفل میلد براہے‬ ‫منکرین میلد کا کردار : ۔‬ ‫جو بچہ ہو پیدا تو خوشیاں منائیں‬ ‫مٹھائی بٹے اور لڈو بھی آئیں‬ ‫مبارک کی ہر سو آئیں صدائیں‬ ‫مگر‬‫محمد صلی ال ل ّہ علیہ وسلم کا جب یوم میلد آئے‬ ‫تو بدعت کے فتوے انہیں یاد آئے‬
  • ‫صد سالہ جشن دیوبند کا بیان‬ ‫صدائے باز گشت : ۔‬ ‫شاعر مشرق مفکر پاکستان علمہ ڈاکٹر محمد‬ ‫:: اقبال نے اپنے شہرہءآفاق کلم و اشعار میں‬ ‫زد یوبند حسین احمد ایں چہ بو العجی است‬‫فرماکردیوبند و صدر دیوبند کی مشرک دوستی و‬‫کانگرس نوازی اور متحدہ قومیت سے ہمنوئی کو‬ ‫بہت عرصہ پہلے جس بوالعجی سے تعبیر‬
  • ‫فرمایا تھا، بمصداق تاریخ اپنے آپ کو دہراتی‬ ‫ہے ۔ سے تعبیر فرمایا تھا ، اس بو العجی کی‬ ‫صدائے بازگشت اس وقت بھی سنی گئی ، جب‬ ‫صد‬‫سالہ جشن دیوبند میں مسز اندرا گاندھی وزیر‬ ‫اعظم بھارت کو شمع محفل دیکھ کر خود‬‫دیوبندی مکتب فکر کے نامور عالم و لیڈر مولوی‬ ‫احتشام‬‫الحق تھانوی ) ک ر اچ ی ( کو بھی یہ کہنا پڑا کہ‬ ‫بہ دیوبند مسز گاندھی ایں چہ بوالعجی است‬ ‫تفصیل : ۔‬
  • ‫اس اجمال کی یہ ہے : کہ شان رسالت و جشن‬ ‫میلد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت کے‬ ‫مرکز اور کانگرس کی حمایت و مسلم لیگ و‬‫پاکستان کی مخالفت کے گڑھ دارالعلوم دیوبند کا‬ ‫۱۲ ، ۲۲ ، ۳۲ ۔ مارچ 0891 ء کو صد سالہ جشن‬ ‫منایا گیا اور اس موقع پر اندداگاندھی کی‬ ‫کانگریسی حکومت نے جشن دیوبند کا کامیاب‬‫بنانے کے لئے ریڈیو۔ ٹی وی۔ اخبارات۔ ریلوے وغیرہ‬ ‫تمام متعلقہ ذرائع سے ہر ممکن تعاون کیا۔‬ ‫بھارتی محکمہ ڈاک و تارنے اس موقع پر 03‬ ‫پیسے کا ایک یادگاری ٹکٹ جاری کی ا : جس پر‬ ‫مدرسہ دیوبند کی تصویر شائع کی گئی۔ یہی‬ ‫نہیں‬
  • ‫بلکہ اندرادیوبندی نے ٬ بنفس نفیس ٬ جشن دیوبند‬ ‫کی تقریبات کا افتتاح کیا۔ اپنے دیدار و آواز و‬ ‫نسوانی اداﺅ ں سے دیوبندی ماحول کو مسحور‬‫کی ا: اور دیوبند کے اسٹیج پر تالیوں کی گونج میں‬‫اپنے خطاب سے جشن دیوبند کو مستفیض فرمای ا :‬ ‫بانیءدیوبند کے نواسے اور مدرسہ دیوبند‬ ‫کے بزرگ ٬ مہتمم قاری محمد طیب صاحب نے‬ ‫اندرادیوی کو ٬ عزت مآب وزیراعظم ہندوستان ٬‬‫کہہ کر خیر مقدم کیا اور اسے بڑی بڑی ہستیوں‬‫میں شمار کیا : اور اندرادیوی نے اپنے خطاب میں‬ ‫بالخصوص کہا کہ ٬ ہماری آزادی اور قومی‬ ‫تحریکات سے دارالعلوم دیوبند کی وابستگی‬ ‫اٹوٹ‬
  • ‫رہی ہے ٬ : علوہ ازیں جشن دیوبند کے اسٹیج سے‬‫پنڈت نہروکی رہنمائی و متحدہ قومیت کے سلسلہ‬ ‫میں بھی دیوبند کے کردار کو اہتمام سے‬ ‫بیان کیا گیا : بھارت کے پہلے صدر راجند پرشاد‬ ‫کے حوالہ سے دیوبند کو ٬ آزادی ) ہ ن د ( کا ایک‬ ‫مضبوط ستون قرار دیا گیا۔‬ ‫ماہنامہ ٬ رضائے مصط ف ٰے ٬ گوجرانوالہ جمادی (‬ ‫) الخر ی ٰ 0041 ھ مطابق اپریل 0891 ء۔‬ ‫یادگار اخباری دستاویز : ۔‬ ‫نئی دہلی 12 ۔ مارچ ) ر ی ڈی و رپور ٹ ( اے آئی آ ر (‬
  • ‫دارالعلوم دیوبند کی صد سالہ تقریبات شروع ہو‬‫گئیں بھارت کی وزیر اعظم مسزاندراگاندھی نے‬ ‫تقریبات کا افتتاح کیا۔‬ ‫روزنامہ مشرق۔ نوائے وقت لہور ۲۲ ، ۲۳ ۔ مارچ (‬ ‫) 0891 ء‬ ‫تقریر : ۔‬ ‫مسز اندراگاندھی نے کہا دارالعلوم دیوبند نے‬ ‫ہندوستان میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے‬ ‫درمیان روداری پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا‬ ‫اس نے دیگر اداروں کے ساتھ مل جل کر آزادی‬
  • ‫کی جدوجہد کوآگے بڑھایا۔ انھوں نے دارالعلوم‬ ‫کا موازنہ اپنی پارٹی کانگریس سے کیا‬ ‫) روزنامہ جنگ راولپنڈی ۲۳ مارچ (‬ ‫تصویر : ۔‬‫روزنامہ جنگ کراچی ۳ اپریل کی ایک تصویر میں‬‫مولویوں کے جھرمٹ میں ایک ننگے منہ ننگے سر‬ ‫برہنہ بازو۔ عورت کو تقریر کرتے ہوئے‬‫دکھایا گیا ہے۔ اور تصویر کے نیچے لکھا ہے۔ ٬ مسز‬ ‫اندراگاندھی دارالعلوم دیوبند کی صد سالہ‬ ‫تقریبات کے موقع پر تقریر کر ہی ہیں۔ ٬‬ ‫روزنامہ ٬ نوائے وقت ٬ لہور۔ ۹ ۔اپریل کی تصویر‬
  • ‫میں ایک مولوی کو اندراگاندھی کے ساتھ دکھایا‬ ‫گیا ہے اور تصویر کے نیچے لکھا ہے۔ ٬ مولنا‬ ‫راحت گل مسزاندراگاندھی سے ملقات کرنے کے‬ ‫بعد واپس آ رہے ہیں۔ ٬‬ ‫دیگر شرکاء : ۔‬ ‫جشن دیوبند میں مسزاندراگاندھی کے علوہ‬‫مسٹر راج نرائن، جگ جیون رام، مسٹر بھوگنا نے‬ ‫بھی شرکت کی۔‬ ‫) جنگ کراچی ۱۱ ۔اپریل (‬
  • ‫سنجے گاندھی کی دعوت : ۔‬ ‫اندراگاندھی کے بیٹے سنجے گاندھی نے کھانے کا‬ ‫وسیع انتظام کر رکھا تھا۔ سنجے گاندھی نے‬‫تقریبا پچاس ہزار افراد کو تین دن کھانا دیا۔ جو‬ ‫پلسٹک کے لفافوں میں بند ہوتا تھا۔ بھارتی‬ ‫حکومت کے علوہ وہاں کے غیر مسلم باشندوں‬‫ہندوﺅ ں اور سکھوں نے بھی دارالعلوم کے ساتھ‬ ‫تعاون کیا۔‬ ‫) روزنامہ امروز لہور ۹ ۔اپریل (‬
  • ‫ہندوﺅ ں کا شوق میزبانی : ۔‬ ‫کئی مندوبین ) د ی وبند ی علماء ( کو ہندو اصرار‬‫کرکے اپنے گھر لے گئے جہاں وہ چار دن ٹھہرے۔‬ ‫) روزنامہ امروز لہور 72 ۔ مارچ 0891 ء (‬ ‫حکومتی دلچسپی : ۔‬‫اندراگاندھی اور سنجے گاندھی وغیرہ کی ذاتی‬ ‫دلچسپی کے علوہ اندرا حکومت نے بھی جشن‬
  • ‫دیوبند کے سلسلہ میں خاصی دلچسپی کا مظاہرہ‬ ‫کیا۔ اور اس جشن کے خاص انتظام و اہتمام کے‬ ‫لئے ملک و حکومت کی پوری مشیزی حرکت میں‬ ‫آ گئی اور بڑے بڑے سرکار حکام نے بہت‬‫پہلے سے اس کو ہر اعتبار سے کامیاب بامقصد اور‬ ‫نتیجہ خیز بنانے کے لئے اپنےآرام و سکون کو‬ ‫قربان کر دیا۔ اور شب و روز اسی میں‬ ‫لگے رہے ریلوے، ڈاک، پریس، ٹی وی، ریڈیو اور‬ ‫پولیس کے حفاظتی عملہ نے منتظمین جشن کے‬ ‫ساتھ جس فراخدلی سے اشتراک و تعاون‬‫کیا ہے۔اس صدی میں کسی مذہبی جشن کے لئے ا‬ ‫سکی مثال دور دور تک نظر نہیں آتی۔‬
  • ‫) ماہنامہ فیض رسول براﺅ ن بھارت۔مارچ 0891 ء (‬ ‫ڈیڑھ کروڑ : ۔‬ ‫جشن دیوبند کے مندوبین نے واپسی پر بتایا کہ‬ ‫جشن دیوبند کی تقریبات پر بھارتی حکومت نے‬ ‫ڈیڑھ کروڑ روپے خرچ کئے اور ساٹھ لکھ‬ ‫روپے دارالعلوم نے اس مقصد کے لئے اکٹھے کئے۔‬ ‫) روزنامہ امروز لہور 72 مارچ 0891 ء (‬
  • ‫۔ لک ھ: ۔ 03‬ ‫مرکزی حکومت نے قصبہ دیوبند ک نوک پلک‬ ‫درست کرنے کے لئے، 03 لکھ روپیہ کی گرانٹ‬ ‫الگ مہیا کی۔ روٹری کلب نے ہسپتال کی‬‫صورت میں اپنی خدمات پیش کیں۔ جس میں دن‬ ‫رات ڈاکٹروں کا انتظام تھا۔‬ ‫) روزنامہ جنگ راولپنڈی ۲ ۔اپریل 0891 ء (‬ ‫کسٹم : ۔‬‫ہنگامی طور پر جلسہ کے گرد متعدد نئی سڑکوں‬
  • ‫کی تعمیر کی گئی اور بجلی کی ہائی پاور لئن‬‫مہیا کی گئی بھارتی کسٹم اور امیگریشن حکام‬ ‫کا‬‫رویہ بہت اچھا تھا۔ انھوں نے مندوبین کو کسی‬ ‫قسم کی تکلیف نہیں آنے دی۔‬ ‫) روزنامہ امروز لہور ۹ اپریل 0891 ء (‬ ‫اخراجات جشن : ۔‬‫تقریبا جشن کے انتظامات وغیرہ پر 57 لکھ سے‬ ‫زائد رقم خرچ کی گئی ، : پنڈال پر چار لکھ سے‬ ‫بھی زیادہ کی رقم خرچ ہوئی۔ کیمپوں پر‬
  • ‫ساڑھے چار لکھ سے بھی زیادہ کی رقم خرچ‬‫ہوئی ۔ : بجلی کے انتظام پر ۳ لکھ سے بھی زیادہ‬ ‫روپیہ خرچ ہوا۔‬ ‫روزنامہ جنگ راولپنڈی ۲ ۔اپریل مروز لہور ۹ ۔ (‬ ‫) اپریل 0891 ء‬‫__________________‬ ‫مفتی محمودنے اسٹیج پر مسز اندراگاندھی سے‬‫ملقات کی اور ان سے دہلی جانے اور ویزے جاری‬ ‫کرنے کے لئے کہا۔ اس پر اندراگاندھی نے‬ ‫ہدایت جاری کی کہ اسے ویزے جاری کردئیے‬ ‫جائیں۔ چنانچہ بھارتی حکومت نے دیوبند میں‬ ‫ویزا آفس کھول دیا۔‬
  • ‫) روزنامہ نوائے وقت لہور 62 مارچ 0891 ء (‬ ‫:دیوبند کے تبرکات‬ ‫زائرین دیوبند و جشن دیوبند میں شرکت کے‬‫علوہ واپسی پر وہاں سے بےشمار تحفے تحائف‬‫بھی ہمراہ لئے ہیں ان میں کھیلوں کا سامان‬‫ہاکیاں طور کرکٹ گیندوں کے علوہ سیب، گنے،‬ ‫ناریل، کیل، انناس، کپڑے، جوتے، چوڑیاں،‬‫چھتریاں اور دوسرا سینکڑوں قسم کا سامان‬‫شامل ہے۔ حد تو یہ ہے کہ چند ایک زائرین اپنے‬
  • ‫ہمراہ لکڑی کی بڑی بڑی پارٹیشنین بھی لہور‬ ‫لئے ہیں۔‬‫) روزنامہ مشرق۔ نوائے وقت 62 مارچ 0891 ء (‬ ‫تاثرات : احتشام الحق تھانوی‬‫کراچی ۲۲ ۔مارچ مولونا احتشام الحق تھانوی نے‬ ‫کہا ہے کہ دارالعلوم دیوبند کا صدسالہ اجلس‬ ‫جو مذہبی پیشوا اور علماءو مشائخ کا خالص‬ ‫مذہنی اور عالمی اجتماع ہے اس کا افتتاح ایک‬ ‫) غ ی ر مسلم اور غیر محرم خاتو ن ( کے ہاتھ سے‬‫کراکرنہ صرف مسلمانوں کی مذہبی رویاات کے‬ ‫خلف ہے بلکہ ان برگزیدہ مذہنی شخصیتوں کے‬
  • ‫تقدس کے منافی بھی ہے جو اپنے اپنے حلقے اور‬ ‫علقوں سے اسلم کی اتھارٹی اور ترجمان‬ ‫ہونے کی حقیقت سے اجتماع میں شریک ہوئے‬ ‫ہیں۔ ایشیاکی دینی درسگاہ کے اس خالص‬‫مذہبی صد سالہ اجلس کو ملکی سیاست کے لئے‬ ‫استعمال کرنا ارباب دارالعلوم کی جانب سے‬ ‫مقدس مذہبی شخصیتوں کا بدترین استحصال‬ ‫اور اسلف کے نام پر بدترین قسم کی استخوان‬ ‫فروشی‬ ‫ہے ہم ارباب دارالعلوم کے اس غیر شرعی اقدام‬ ‫پر اپنے دلی رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔‬ ‫اس شرمناک حرکت کی ذمہ داری دارالعلوم‬ ‫دیوبند کے مہتمم پر ہے۔ جنہوں نے دارالعلوم کی‬
  • ‫صد سالہ روشن تاریخ کے چہرے پر کلنک کا ٹیکہ‬ ‫لگا دیا ہے۔‬ ‫) روزنامہ امن کراچی 42 ۔ مارچ 0891 ء (‬ ‫: وقار انبالوی‬ ‫: مولنا احتشام الحق صاحب کا یہ کہنا‬ ‫)بہ دیوبند مسز اندرا ایں چہ بوالعجبی است (‬‫کی وضاحت ہی کیا ہو سکتی ہے۔ یہ تو اب تاریخ‬‫دیوبند کا ایک ایسا موڑ بن گیا ہے کہ مﺅ رخ ا سے‬ ‫کسی طرح نظر انداز کر ہی نہیں سکتا۔ اس‬
  • ‫کے دامن سے یہ داغ شاید ہی مٹ سکے۔ وقتی‬‫مصلحتوں نے علمی غیرت اور حمیت فقر کو گہنا‬‫دیا تھا۔ اس فقیر کو یا د ہے کہ متحدہ و قومیت‬ ‫کی تارنگ میں ایک مرتبہ بعض علماءسوامی‬‫سردہانند کو جامع مسجد دہلی کے منبر پر بٹھانے‬ ‫کا ارتکاب بھی کر چکے ہیں لیکن دو برس بعد‬ ‫اسی سردہانند نے مسلمانوں کو شدھی کرنے یا‬ ‫بھارت سے نکالنے کا نعرہ بھی لگایا تھا۔‬ ‫) سرراہے نوائے وقت ۹۲ ۔ مارچ 0891 ء (‬ ‫: جشن دیوبند پر قہرخداوندی‬
  • ‫دارلعلوم دیوبند کے اجلس صد سالہ کے بعد سے‬‫) ج س میں کچھ باتیں ایسی بھی ہوئیں جو یقینا‬‫اللہ تعال ی ٰ کی رحمت اور نظر عنایت سے محروم‬ ‫کرنے والی تھی ں ( ایک خانہ جنگی شروع ہوئی‬ ‫جو برابر جاری ہے اوراس عاجز کے نزدیک وہ‬ ‫خداوندی قہرو عذاب ہے۔ راقم سبطور ساٹھ‬‫سال سے اخبار اور رسائل کا مطالعہ کرتا رہا ہے‬‫ان میں وہ رسالے اور اخبارات بھی ہوتے ہیں جن‬ ‫میں سیاسی یا مذہبی مخالفین کے خلف‬ ‫لکھا جاتا تھا اور خوب خبر لی جاتی‬ ‫تھی ۔ ۔ ۔۔۔۔۔ لیکن مجھے یاد نہیں کہ ان میں‬ ‫سے کسی کے اختلفی مضامین میں شرافت کو‬
  • ‫اتنا پامال اور‬‫رزالت و سفالت کا ایسا استعمال کیا گیا ہو جیسا‬‫کہ ہمارے دارالعلوم دیوبند سے نسبت رکھنے والے‬ ‫ان مجاہدین قلم نے کیا ہے۔ پھر ہماری‬ ‫انتہائی بدقسمتی کہ ان میں وہ حضرات بھی‬‫ہیں جو دارالعلوم کے سند یافتہ فضلءبتلئے جاتے‬ ‫ہیں۔‬‫ماہنامہ الفرقان لکھنوءفروری 1891 ءالعتصام (‬ ‫) لہور 02 ۔مارچ‬ ‫: سیارہ ڈائجسٹ‬
  • ‫اناری اسٹیشن پر ٹکٹیں خریدی گئیں تو پتہ چل‬‫کہ حکومت بھارت نے ) ج ش ن دیوبند ک ے ( شرکاءکو‬ ‫یکطرفہ کرایہ میں دو طرفہ سفر کی رعایت‬‫دی ہے۔ بعض لوگ کفار کی طرف سے اس رعایت‬‫یا مدد کو مسترد کرنے پر اصرار کر رہے تھے۔ مگر‬ ‫جب انہیں بتایا گیا کہ اسی کافر‬‫حکومت نے جشن دیوبند کی تقریبات کے انتظامات‬ ‫پر ایک کروڑسے زائد رقم لگائی ہے اور گیسٹ‬ ‫ہاﺅ س بھی بنوا دیا ہے۔ تو یہ اصحاب‬ ‫ندامت سے بغلیں جھانکنے لگے۔ دیوبند میں‬ ‫اندراگاندھی، جگ جیون رام، چرن سنگھ،‬ ‫جیسی معروف شخصیتیں آئی ہوئی تھیں۔ اور‬ ‫دیوبند‬ ‫تقریبات پر حکومت نے ایک کروڑ 02 ۔لکھ روپے‬
  • ‫صرف کئے اور ہر طرح کی سہولتیں بہم‬ ‫پہنچائیں۔ دیوبند کی افتتاحی تقریب میں جب‬ ‫اندراگاندھی نے اپنی تقریر میں مسلمانوں کو‬‫ہندوستانی قومیت کے تصور ہم آہنگ کرکے مسلم‬ ‫قومیت کے تصور کی بیخ کنی کی تو وہاں‬ ‫موجود چوٹی کے علماءکو السام کے اس عظیم‬ ‫اور بنیادی فلسفہ کی تشریح اور تصحیح کی‬ ‫جراءت نہ ہوئی۔ حکیم المت ) ا ق ب ا ل ( نے‬ ‫کانگریس‬ ‫کے علماءکی اسی ذہنی کیفیت کو بھانپ کر‬ ‫:فرمایا تھا‬ ‫عجم ہنوز نہ داند رموز دیں ورنہ‬ ‫زدیوبند حسین احمد ایں چہ بوالعجبی است‬
  • ‫تلوت و ترانہ کے بعد اسٹیج پر کچھ غیر‬ ‫معمولی حرکات کا احساس ہوا۔ اس لئے کہ‬ ‫شریمتی اندراگاندھی افتتاح اجلس میں آرہی‬ ‫ہیں۔ اسٹیج پر‬‫موجودہ تمام عرب و فوددو رویہ ہو کر کھڑے ہو‬ ‫گئے۔ اندراگاندھی ان سب کے خوش آمدید کا‬ ‫مسکراہٹ سے جواب دیتے ہوئے آئیں۔ انہیں‬ ‫مہمان خصوصی کی کرسی پر جو صاحب صدر‬ ‫اور قاری محمد طیب کی کرسیوں کے درمیان‬ ‫تھی بٹھایا گیا ) ج ب ک ہ دیگر بڑے بڑے علماءبغیر‬ ‫کرسی کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے۔ شریمتی کو‬‫دیکھنے کے لئے زبردست ہلچل مچی تمام حاضرین‬ ‫اور خصوصا پاکستانی شرکاءشریمتی کو‬
  • ‫دیکھنے کے لئے بے تاب تھے۔ شریمتی ایک مرصع‬ ‫اور سنہری کرسی پر لکھوں لوگوں کے سامنے‬ ‫جلوہ گر تھیں۔ شریمتی نے سنہری رنگ‬‫کی ساڑھی پہنی ہوئی تھی اور ان کے ہاتھ میں‬ ‫ہلکے رنگ کا ایک بڑا سا پرس تھا۔ قاری محمد‬ ‫طیب صاحب کے خطبہءاستقبالیہ کے دوران‬ ‫مصر کے وزیر ادقاف عبداللہ سعود نے شریمتی‬ ‫اندراگاندھی سے ہاتھ ملیا۔ نیز شریمتی ارو‬‫مفتی محمود صاحب تھوڑی دیر اسٹیج پر کھڑے‬ ‫کھڑے باتیں کرتے رہے۔ ) ب ع ض شرکاء دیوبند کا‬‫کہنا ہے کہ اندراگاندھی بن بلئی آئی تھ ی ( اگر‬ ‫یہ درست مان لیا جائے تو پھر سوال یہ پیدا‬ ‫ہوتا ہے کہ اسے مہمان خصوصی کی کرسی پر‬ ‫کیوں بٹھایا گیا تقریر کیوں کرائی گئی ؟ چرن‬
  • ‫سنگھ اور جگ جیون رام وغیرہ نے ایک مذہبی‬ ‫سٹیج پر کیوں تقاریر کیں؟ کیا یہ سب کچھ‬ ‫دارالعلوم دیوبند کے منتظمین کی خواہش کے‬ ‫خلف ہوتا رہا ؟ دراصل ایک جھوٹ چھپانے کے‬ ‫لئے‬ ‫انسان کو سو اور جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ کا ش !‬ ‫خدا علماءکو سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائے۔‬ ‫)) آ م ی ن‬ ‫ایک پاکستانی ہفت روزہ میں مولنا عبدالقادر‬ ‫آزاد نے غلط اعداد و شمار بیان کئے ہیں۔ یہ بات‬‫انتہائی قابل افسوس ہے ان کے مطابق دس ہزار‬ ‫علماءکا وفد پاکستان سے گیا تھا۔ حالنکہ‬ ‫علماءو طلبہ مل کر صرف ساڑھے آٹھ سو افراد‬ ‫ایک خصوصی ٹرین کے ذریعے دیوبند گئے تھے۔‬
  • ‫اجتماع کی تعداد مولنا نے کم از کم ایک کروڑ‬ ‫بتائی ہے۔ حالنکہ خود منتظمین جلسہ کے بقول‬ ‫پنڈال تین لکھ آدمیوں کی گنجائش کے لئے بنایا‬ ‫گیا تھا۔ کا ش ! ہم لوگ حقیقت پسند بن جائیں۔‬‫اعداد و شمار کو بڑھا بڑھا کر بیان کرنا انتہائی‬ ‫افسوس ناک ہے۔ عرب و فود کیلئے طعام و قیام‬ ‫کا‬ ‫عالیشان انتظام تھا۔ ڈائینگ ہال اور اس طعام‬‫کا ٹھیکہ دہلی کے انٹر کانٹی نینسٹل ہوٹل کا تھا۔‬ ‫عربوں کے لئے اس خصوصی انتظام نے مساوات‬ ‫اسلمی سادگی اور علماءربانی کے تقدس کے‬ ‫تصور کی دھجیاں اڑا دیں۔ ایسا لگتا تھا کہ کل‬‫انتظام کا ۷۵ فیصد طوجھ عرب و فود کی دیکھ‬
  • ‫بھال اور اہتمام کی وجہ سے تھا۔‬ ‫ماہنامہ سیارہ ڈائجسٹ لہور جون (‬ ‫) 0891 آنکھوں دیکھا حال‬ ‫اندرا گاندھی : روزنامہ اخبار العالم السلمی‬ ‫سعودی عرب نے لکھا کہ سعودی حکومت نے‬ ‫دارالعلوم دیوبند کو دس لکھ روپے وظیفہ‬‫دیا۔ جبکہ سیدہ اندرا گاندھی نے جشن دیوبند کے‬ ‫افتتاحی اجلس میں خطاب کیا۔‬ ‫) ۔جمادی الول ی ٰ 0041 ھ 41(‬
  • ‫: غلم خان درمدح مشرک‬ ‫روزنامہ جنگ راولپنڈی۔ یکم اپریل 0891 ءکی‬ ‫اشاعت میں ایک باتصویر اخباری کانفرنس میں‬ ‫مولوی غلم خاں کا بیان شائع ہوا کہ جشن‬‫دیوبند کو کامیاب بنانے کے لئے بھارت کی حکومت‬ ‫نے بڑا تعاون کیا ہے۔ سوا کروڑ روپے خرچ کرکے‬ ‫اندراحکومت نے اس مقصد کےلئے‬ ‫سڑکیں بنوائیں، نیا اسٹیشن بنوایا ہم سے نصف‬ ‫کرایہ لیا اور دیوبند کی تصویر والی ٹکٹ جاری‬ ‫کی۔ وزیراعظم اندراگاندھی نے بھارت کو اپنے‬
  • ‫پاﺅ ں پر کھڑا کر دیا ہے وہاں باہر سے کوئی چیز‬ ‫نہیں منگواتے اس کے مقابلے میں پاکستان اب‬ ‫بھی گندم تک باہر سے منگوا رہا ہے۔ پاکستان‬ ‫میں باہمی اختلفات اور نوکر شاہی نے ملک کو‬‫ترقی کی بجائے نقصان کی طرف گامزن کر رکھا‬ ‫ہے۔‬ ‫)روزنامہ جنگ راولپنڈی (‬ ‫یاد رہے : ۔‬ ‫کہ مولوی غلم خاں کا یہ آخری اخباری بیان‬ ‫تھا۔ جس میں اس موحد نے عید میلد النبی‬
  • ‫صلی اللہ تعال ی ٰ علیہ وآلہ وسلم کی طرح صد‬ ‫سالہ جشن‬ ‫دیوبند کو بدعت قرار دینے اور دیگر تکلفات و‬ ‫فضول خرچی بالخصوص ایک دشمن السام و‬‫پاکستان بے پردہ و غیرمحرم کافرہ مشرکہ کی‬ ‫شمولیت کی پر زور مذمت کرنے کی بجائے الٹا‬ ‫جشن دیوبند کی کامیابی و اندراگاندھی کی‬ ‫کامیابی و احسانات کے ذکر و بیان کے لئے‬ ‫باقاعدہ‬ ‫پریس کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ اور‬ ‫اندراحکومت کی توصیف اور اس کے بالمقابل‬ ‫پاکستان کی تنقیص کی گئی اور ساری عمر‬ ‫غیراللہ کی امداد‬‫استمداد کا انکار کرنے والوں نے اندراحکومت کے‬
  • ‫بڑے تعاون کو بڑے اہتمام سے بیان کیا۔ اور ساری‬ ‫عمر یارسول اللہ صلی اللہ تعال ی ٰ علیہ‬ ‫وسلم پکارنے والے صحیح العقیدہ سنی‬ ‫مسلمانوں کو خواہ مخواہ مشرک وبدعتی قرار‬ ‫دے کر مخالف کرنے والے آخر عمر میں کافرہ‬ ‫مشرکہ کی‬ ‫مدح کرنے لگے۔ جس پر قدرت خداوندی کے تحت‬ ‫آخری انجام بھی عجیب و غریب اور عبرتناک‬ ‫ہوا۔‬ ‫چنانچہ‬‫محمد عارف رضوی ملتانی خطیب فیصل آباد کے‬‫ایک مطبوعہ اشتہار میں دوبئی سے مختار احمد‬
  • ‫صاحب کا ایک خط بدیں الفاظ شائع ہوا ہے۔‬ ‫کہ میں اللہ تعال ی ٰ کو حاضر و ناظر جان کر‬ ‫لکھتا ہوں کہ ) د وب ئ ی می ں ( میں نے خود پہلے ان‬‫کی تقریر سنی جو انہوں نے یہاں کی۔ تقریبا دو‬‫گھنٹے تک آپ تقریر کرتے رہے۔ ہزاروں لوگ تقریر‬ ‫سننے آئے ہوئے تھے۔ مولنا غلم اللہ خاں صاحب‬ ‫نے خوب خوب سرکار مدینہ صلی اللہ‬‫علیہ وسلم کی گستاخی کی پہلے مینخود بھی ان‬ ‫کا مداح تھا۔ پھر تقریر کرتے ہوئے انہیں دل پر‬ ‫درد پڑا۔ اور انہیں ہسپتال لیا گیا۔ وہ پلنگ سے‬‫اچھل کر چھت تک جاتے اور پھر زمین پر آ پڑتے۔‬ ‫ڈاکٹر سب کمرہ چھوڑ کر بھاگ گئے۔ میں چھپ‬ ‫کر دیکھتا رہا اور کانپتا رہا۔ اسی کشمکش‬
  • ‫میں تقریبا ایک گھنٹہ گزرا پھر خاموشی ہو‬ ‫گئی۔ کوئی اندر جانے کو تیار نہ تھا۔ میں نے‬‫ڈاکٹر کو بلیا۔ جب کافی آدمی جمع ہو ئے، اکٹھے‬ ‫اندر‬ ‫گئے اور دیکھا کہ ان کا رنگ سیاہ پڑ چکا ہے‬ ‫زبان منہ سے باہر نکل کر لٹک رہی تھی اور‬ ‫آنکھیں باہر ابل آئی تھیں۔ مجبورا اسی طرح‬ ‫پیٹی‬‫میں بند کرکے پاکستان بھیج دیا گیا۔ میں تین چار‬ ‫دن بیمار رہا اور اٹھ اٹھ کر بھاگتا تھا۔ پھر‬ ‫توبہ استغفار پڑھی اور کچھ میں ٹھیک ہوا۔یہ‬ ‫تھی ان‬‫کی تقریر اور انجام۔ خدا کی لٹھی بے آواز تھی‬ ‫کام کر گئی۔‬ ‫) مختار احمد 91 ستمبر 0891 ءدوبئی (‬
  • ‫:نوائے وقت کی تائید‬ ‫روزنامہ نوائے وقت کے خصوصی نمائندہ کی‬‫رپورٹ سے بھی مختار احمد صاحب کے مذکورہ‬‫مکتوب کی تائید ہوتی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے‬ ‫کہ جگہ جگہ لوگوں نے مولن ا) غ ل م خا ن ( کی‬‫میت کا آخری دیدار کرنے کی کوشش کی۔ لیکن‬ ‫انہیں کامیابی نہ ہوئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ حت ی ٰ کہ‬ ‫جبمولنا‬ ‫کی میت لحد میں اتاری جانے لگی۔ تو طبی‬
  • ‫وجوہ کی بناءپر اس وقت بھی خواہش مند‬ ‫سوگواروں کو مولنا کی میت کا آخری دیدار‬ ‫نہیں کریا گیا۔‬ ‫روزنامہ نوائے وقت لہور۔ راولپنڈی 92 مئی (‬ ‫) 0891 ء‬‫ظاہر ہے کہ بقول مختار احمد دال میں کچھ کال‬ ‫ہے ضرور تھا۔ ورنہ کیا وجہ تھی کہ‬‫بزعم خویش ساری عمر قرآن پاک کی تبلیغ کرنے‬ ‫والے اور شیخ القرآن کہلنے والے کا چہرہ بھی‬ ‫نہ دکھایا گیا۔ جب کہ بیرونی ممالک سے‬ ‫لئی جانے والی عام لوگوں کی میت کا بھی‬ ‫آخری دیدار کرایا جاتا ہے۔‬
  • ‫یہ ہے مسلمانوں کو مشرک بنانے اور اصلہ نسلی‬ ‫مشرکوں کی تعظیم و مدح سرائی کا عبرتناک‬ ‫انجام اور جشن دیوبند منانے اور جشن میلد‬ ‫النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر فتوے لگانے کی‬ ‫قدرتی گرفت و سزا۔‬ ‫والعیاذ باللہ‬‫قادری محمد طیب : مہتم م دارالعلوم دیوبند بھی‬ ‫دیوبند سے بیدخلی کے باعث اسی کشمکش میں‬ ‫دنیا سے چل بسے جو جشن دیوبند کی نحوست‬ ‫و شامت کے باعث خانہ جنگی کی صورت میں‬‫پیدا ہوئی۔ حت ی ٰ کہ آخری وقت ان کا جنازہ بھی‬ ‫دارالعلوم میں سے نہ گزرنے دیا گیا۔‬
  • ‫) روزنامہ جنگ 12 ۔ اگست 3891 ء (‬ ‫اگر درخانہ کس است یک حرف بس است‬ ‫اندراگاندھی کا مرثیہ : بھارت ی وزیراعظم‬ ‫آنجہانی مسز اندراگاندھی کے قتل پر جس طرح‬‫پاکستان میں موجود سابق قوم پرست علماءاور‬ ‫کانگریس کے سیاسی ذہن و فکر کے ترجمان‬ ‫وارثان منبرہ محراب نے تعزیت کی ہے وہ کوئی‬ ‫قابل فخر اور دینی حلقوں کیلئے عزت کا باعث‬ ‫نہیں ہے۔ قومی اخبارات میں خبر شائع ہوئی ہے‬‫کہ نظام العلماءپاکستان کے نامور رہنماﺅ ں مولنا‬ ‫محمد شریف و ٹو مولنا زاہدالراشدی اور‬ ‫مولنا بشیر احمد شاد نے اپنے بیان میں کہا ہے‬
  • ‫ک ہ : اندراگاندھی نے اپنے اقتدار میں جمعیت‬‫علماءہند اور دارالعلوم دیوبند کی قومی خدمات‬ ‫کا‬ ‫ہمیشہ اعتراف کیا اور ہر طرح کی معاونت اور‬‫حوصلہ افزائی کرتی رہیں۔ نیزا ن رہنماﺅ ں نے یہ‬ ‫بھی کہا کہ اندرا نے جشن دیوبند میں اکابر‬ ‫دیوبند سے اپنے خاندانی تعلقات کا برمل اظہار‬‫کیا یہ پڑھ کر انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ‬ ‫سیکولرازم کے علمبراداران سابق کانگرسی‬ ‫علماءکو ابھی تک اندرا کے خاندانی تعلق پر‬ ‫کس قدر فخر ہے۔ کس قدر ستم کی بات ہے کہ‬‫ان مٹھی بھر لوگوں نے ابھی تک اپنے دل میں‬ ‫پاکستان کی محبت کی بجائے اندارگاندھی سے‬ ‫تعلق کو سجا رکھا ہے۔ اس لئے پاکستان کی‬
  • ‫تلخیاں اپنے دل سے نہیں نکال سکے۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔‬ ‫مولناشبیر احمد عثمانی کو ان کے اپنے قول کے‬ ‫مطابق جس طرح فرزندان دیوبند کو اکثریت‬‫غلیظ گالیوں سے نوازتی تھی وہ فکر آج تک ان‬‫لوگوں کے سینوں میں عداو ت ِ پاکستان کا ایک تنا‬ ‫ور درخت بن چکی ہے ، ورنہ اس وقت پنڈت‬ ‫موتی لل نہرو ، پنڈت جواہر لل نہرو کا‬ ‫جناب سید احمد بریلوی اور جناب اسماعیل‬ ‫دہلوی سے فکری تعلق جوڑنے کی کیا ضرورت‬ ‫تھی ، دیوبند کے ان رہنماﺅ ں نے یہ بیان دے کر‬ ‫آج بھی دو قومی نظریے کی نفی کی ہے ۔‬‫تحریک پاکستان میں ہندوﺅ ں کے ساتھ کانگریسی‬ ‫خیال کے علماءکے کردار کو نمایاں کرنا ہمارے‬
  • ‫لئے باعث ِ شرم ہے ۔‬ ‫) روزنامہ آفتاب لہور 3 نومبر 4891 ء (‬ ‫دیوبند بریلی کی راہ پر : ۔‬ ‫ماہ جمادی الخر 9041 ھ میں اہلسنت کی‬‫دیکھا دیکھی علمائے دیوبند نے بھی دھوم دھام‬ ‫سے نہ صرف یوم صدیق اکبر رضی اللہ تعال ی ٰ‬ ‫منایا‬‫بلکہ عین یوم وصال 22 جمادی الخر کو مختلف‬ ‫مقامات پر جلوس نکال اور سرکاری طور پر نہ‬
  • ‫صرف یوم صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بلکہ ایام‬ ‫خلفائے راشدین منانے اور یوم صدیق اکبر رضی‬ ‫اللہ عنہ پر تعطیل کرنے کا مطالبہ کیا ۔) ت فصی ل‬ ‫کے لئے ملحظہ ہو ۔اخبار جنگ لہور ۔ یکم‬ ‫فروری ۔ نوائے وقت 3.2 فروری مشرق لہور 03‬ ‫جنوری 9891 ء ( نیز ایک دیوبندی انجمن‬ ‫سیالکوٹ کی طرف سے 22 رجب کو یوم امیر‬ ‫معاویہ رضی اللہ عنہ بھی سرکاری طور پر‬‫منانے اور اس دن تعطیل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔‬ ‫) نوائے وقت 31 فروری 9891 ء (‬
  • ‫انجمن سپاہ مصط ف ٰی صلی اللہ علیہ وسلم بنام‬ ‫سپاہ صحابہ : ۔‬‫رحیم یار خان اور صادق آباد میں بھی دیوبندی‬‫سپاہ صحابہ کے زیر اہتمام یوم صدیق اکبر رضی‬ ‫اللہ عنہ پر بڑے اہتمام سے جلوس نکال گیا‬ ‫چنانچہ انجمن سپاہ مصط ف ٰی رحیم یار خان نے‬ ‫دیوبندی علماءسے جواب طلبی کی کہ بتاﺅ عید‬ ‫میلد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جلوس‬ ‫ناجائز‬ ‫کیوں ؟ اور وصال صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا‬‫جلوس جائز کیوں ؟ اس پر انجمن سپاہ صحابہ‬‫کے دیوبندی علماءپر سناٹا چھاگیا۔ البتہ مولوی‬‫محمد یوسف دیوبندی نے ذرا ہمت کی اور انجمن‬
  • ‫سپاہ صحابہ کے مولوی حق نواز جھنگوی وغیرہ‬ ‫پر بدیں الفاظ فتو ی ٰ عائد کیا کہ لوگوں نے‬ ‫ایک نئے انداز سے صحابہ کرام کے دن منانے‬ ‫شروع کردیئے ہیں کو کہ صریح بدعت اور شرعا‬ ‫ناپسندیدہ فعل ہے نہ ہی شریعت مقدسہ میں‬ ‫اس قسم کے جلوسوں کی اجازت ہے اور نہ ہی‬‫علماءدیوبند کا ان جلوسوں سے کوئی تعلق ہے ،‬ ‫اللہ تعال ی ٰ ان ) ح ق نواز دیوبندی وغیرہ ( کو‬‫ہدایت دے کہ بدعات کے اختراع کی بجائے سنتوں‬ ‫کو زندہ کریں ۔ ) مولوی محمد یوسف دارالعلوم‬ ‫عثمانیہ ( چک نمبر پی 88 رحیم یار خان‬ ‫بتاریخ 42 جمادی الخر 9041 ھ‬ ‫بمصداق مدعی لکھ پہ بھاری ہے گواہی تیر ی‬
  • ‫مولوی محمد یوسف دیوبندی کے فتو ی ٰ سے ثابت‬ ‫ہوگیا کہ دیوبندی وہابی مکتب فکر کی انجمن‬‫سپاہ صحابہ اور بالخصوص اس انجمن کے لیڈر‬‫مولوی حق نواز جھنگوی اور ان کے رفقاءگمراہ‬ ‫و بدعتی ہیں جنہوں نے صریح بدعت و شرعا‬‫ناپسندیدہ فعل اوربدعات کے اختراع کا ارتکاب‬ ‫کیا ہے ، بلکہ مولوی یوسف دیوبندی کے علوہ‬‫باقی تمام علماءدیوبند۔ مولوی سرفراز گکھڑی،‬ ‫عنایت اللہ بخاری اور ضیاءالقاسم ی ٰ دیوبندی‬ ‫وغیرہ ہم بھی مولوی حق نواز دیوبندی کے‬ ‫شریک جرم ہیں۔ جنہوں نے سپاہ صحابہ کے‬ ‫بدعات کے مظاہرہ پر اپنی خاموشی سے کم از‬ ‫کم نیم‬
  • ‫رضا مندی کا ثبوت دیا۔ مذکورہ تمام ناقابل‬ ‫تردید حقائق و شواہد اور حوالہ جات سے‬ ‫فرزندان نجدودیوبند غیر مقلدین و دیوبندی‬ ‫علماءکا دور‬ ‫خامنافقانہ کردار واضح ہو گیا۔ کہ ان لوگوں کو‬‫محض شان رسالت و ولیت سے عداوت کے باعث‬ ‫میلدشریف اور عرس و گیارہویں شریف‬ ‫سے عنا دہے اور خود ساختہ جشن دیوبند و‬ ‫بدعات اہلحدیث سے انہیں کوئی تکلیف نہیں۔‬ ‫نو ٹ : یوم صدیق اکبر رضی اللہ تعال ی ٰ عنہ کی‬‫طرح یک محرم 1241 ھ کو دیوبندی انجمن سپاہ‬‫صحابہ نے ملک بھر میں یوم فاروق اعظم رضی‬‫اللہ تعال ی ٰ عنہ بھی منایا اور جلوس بھی نکال۔‬
  • ‫:جشن غیر مقلدین بزعم خویش اہلحدیث‬ ‫منکرین شان رسالت ق مخالفین جشن میلد و‬ ‫جلوس مبارک کے فریق اول علماءدیوبند کے صد‬‫سالہ جشن دیوبند کی تفصیلت ملحظہ فرمانے‬ ‫کے بعد فریق دوم غیر مقلدین کے جشن و‬ ‫جلوسوں اور دیگر بدعات کا بھی باحوالہ‬ ‫تاریخی بیان مطالعہ فرمائیں اور ان لوگوں کی‬ ‫شان رسالت‬‫دشمنی کا اندازہ لگائیں۔ ماہنامہ رضائے مصطفی‬ ‫گوجرانوالہ نے جشن غیر مقلدین کے موقع پر‬‫اسی وقت تازہ تازہ بعوان اسے کیا کہیئے تحریر‬
  • ‫:کیا کہ‬ ‫غیر مقلدین اہلحدیث کے شرک و بدعت پر مبنی‬ ‫اصولوں کے تحت روضہءنبوی صلی اللہ تعال ی ٰ‬ ‫علیہ وسلم کی زیارت کے لئے مدینہ منورہ کا‬‫شدرحال بھی شرک و معصیت ہے۔ عرس و میلد‬ ‫و گیارہویں وغیرہ کیلئے وقت و دن کا تعین و‬ ‫اہتمام بھی بدعت وناجائز ہے۔ اور جشن عید‬ ‫میلدالنبی صلی اللہ تعال ی ٰ علیہ آولہ وسلم کی‬‫عظیم الشان تقریب پر جلوس و جھنڈیوں وغیرہ‬ ‫کا اہتمام بھی اسراف و بدعت اور بے ثبوت ہے۔‬ ‫مگر‬‫برعکس اس کے قائد اہلحدیث احسان ا ل ٰہی ظہیر‬ ‫کی قیادت میں جمعیت اہلحدیث نے 81 ۔ اپریل‬
  • ‫6891 ءبروز جمعۃ المبارک کا تعین کرکے موچی‬ ‫دروازہ لہور میں کثیر اخراجات کے ساتھ‬ ‫جلسہءعام کا انعقاد کیا۔ مختلف علقوں اور‬ ‫شہروں سے جھنڈوں کے ساتھ جلوسوں کی‬ ‫صورت میں‬ ‫موچی دروازہ لہور پہنچنے کا اہتمام و انتظام‬ ‫کیا۔ اور موچی دروازہ لہور کے سفر و شدرحال‬ ‫کے لئے اخبارات و اشتہارات میں مسلسل اعلن‬ ‫:کیا گیا کہ‬ ‫چلو چلو ، لہور چلو موچی دروازہ لہور چلو‬ ‫گویا جو موچی دروازے نہیں گیا وہ اہلحدیث‬ ‫نہینرہا اور 81 ۔اپریل کو سب سے بڑی بدعت کا‬‫ارتکاب یوں کیا گیا کہ اہلحدیث مساجد میں نماز‬
  • ‫جمعہ کا ناغہ کرکے اور مساجد کو بے آباد کرکے‬ ‫موچی دروازہ میں نماز جمعہ کا اہتمام کیا۔‬ ‫) جنگ لہور۔ 51 اپریل 6891 ء (‬ ‫:ہے کوئی اہلحدیث‬ ‫جو موچی دروازہ لہور کی مذکورہ بدعات و‬ ‫اسراف اور اس پر مستزاد تالی و فوٹوبازی کا‬‫جواز و ثبوت قرآن و حدیث سے پیش کرے یا پھر‬ ‫ان‬‫سب بے ثبوت و غلط امور کی انجام دہی کے بعد‬ ‫روضہءنبوی صلی اللہ تعال ی ٰ علیہ وسلم کی‬
  • ‫زیارت، عرس و میلد گیارہویں کی تقاریب اور‬ ‫جلوس میلد و جھنڈیوں وغیرہ کے خلف اپنی‬ ‫فتو ی ٰ بازی واپس لینے کا اعلن کرے، ورنہ یہی‬ ‫سمجھا جائے گا کہ ان لوگوں کی طرف سے‬‫خود جشن منانا اور جشن میلد و جلوس مبارک‬‫کے خلف فتو ی ٰ بازی کرنا محض شان رسالت سے‬ ‫دشمنی پر مبنی ہے۔ والعیاذباللہ تعال ی ٰ۔‬ ‫جشن لہو ر: ۔‬ ‫کے علوہ مقلدین نے مختلف مقامات پر‬ ‫جلسہءعام کے نام پر جشن منانے کے علوہ‬ ‫گوجرانوالہ میں بھی 91 ۔ مئی 6891 ءکو‬ ‫بالخصوص‬
  • ‫جلسہءعام کے جشن و جلوسوں کا بہت اہتمام‬ ‫کیا۔ اور جلسہءہذامیں فوٹوبازی پٹاخے بازی و‬ ‫تالی بجانے کے علوہ وڈیو فلمیں بھی تیار کی‬ ‫گئیں۔‬ ‫) روزنامہ نوائے وقت 01 ، ۱۱ ۔ مئی 6891 ء (‬ ‫غیر مقلدین : ۔‬‫کے ظہیر گروپ کے مذکورہ اعمال نامہ کے بعد ان‬ ‫کے میاں فضل حق و لکھوی گروپ کا اعمال‬
  • ‫نامہ بھی ملحظہ ہو۔‬ ‫۔اگست 6891 ءبروز جمعہ مرکزی جمعیت 8‬ ‫اہلحدیث پاکستان کے مولنا معین الدین لکھوی‬ ‫اور جمعیت کے ناظم اعل ی ٰ میاں فضل حق ایک‬ ‫روز‬ ‫دورہ پر گوجرانوالہ پہنچے تو پل نہرا پر جناب‬‫پرمرکزی جمعیت اہلحدیث، مرکزی جمعیت شبان‬ ‫اہلحدیث اور جعیت رفقائے اسلم کے‬‫سینکڑوں کارکنوں کے علماءکی قیادت میں ان کا‬ ‫شاندار استقبال کیا اور انہیں جلوس کی شکل‬‫میں جامع مسجد مکرم ماڈل ٹاﺅ ن لیا گیا راستہ‬ ‫میں شیرانوالہ باغ کے قریب خاکسار تحریک کے‬ ‫ایک دستہ نے سالر اکبر غلم مرت ض ٰے اور عنایت‬
  • ‫اللہ کی سربراہی میں ان رہنماﺅ ں کو اکیس‬‫گولوں کی سلمی دی۔ شرکاءجلوس پاکستان کے‬ ‫قومی پرچم اور جمیعت اہلحدیث کے جھنڈے‬ ‫اٹھائے ہوئے تھے۔ بعد نماز جمعہ جمعیت شبان‬ ‫اہلحدیث نے مسجد مکرم سے شریعت بل کی‬‫حمایت میں ایک جلوس نکال۔ یہ جلوس سر کلر‬ ‫روڈ سے ہوتا ہوا جامعہ اشرفیہ میں پہنچ کر‬ ‫جلسہءعام میں شامل ہو گیا۔‬ ‫روزنامہ نوائے وقت جنگ مشرق لہور۔ ۹ ۔ ۱۰ (‬ ‫) اگست 6891 ء‬ ‫منکرین جشن میلد و جلوس مبارک کا مذکورہ‬‫اعمال نامہ اور تاریخی دستاویز بمصدا ق : داشتہ‬
  • ‫آیدسپیرا۔ اپنے پاس محفوظ و ذہن نشین رکھنے‬‫کے علوہ ملحظہ فرمائیں۔ کہ ان لوگوں کے ہاں‬ ‫اپنے لئے اور اپنے مولویوں اور لیڈروں کے لئے ہر‬ ‫، طرح شان و شوکت، جشن و جلوس‬ ‫گولوں کی سلمی اور جھنڈے وغیرہ تکلفات و‬ ‫رسومات سب کچھ ناجائزو روا ہے۔ مگر نجدی‬ ‫دیوبندی دھرم میں پابندی ہے۔ توصرف جشن‬‫میلدالنبی صلی اللہ تعال ی ٰ علیہ وسلم کے جشن‬‫و جلوس مبارک پر ہے ۔کوئی مفتیءنجدو دیوبند‬ ‫جو اپنی دو عملی و دوررنگی اور اس دوہرے‬‫معیار کی کوئی دلیل کتاب و سنت سے پیش کرے۔‬ ‫جس کا منافقانہ طور پر بڑا پراپیگنڈہ کیا جاتا‬ ‫ہے۔ تف ہے ایسی نام نہاد مسلمانی توحید‬
  • ‫پرستی پر۔‬ ‫نو ٹ: ۔‬‫ہم نے اخباری بیانات و رپوٹنگ سے اہلحدیث کے‬‫جشن و جلوسوں کے جو حوالے دئیے ہیں۔ انہیں‬‫اہلحدیثیوں کے ترجمان ہفت روزہ السلم لہور‬‫نے 52 ۔ اپریل اور 61 مئی 6861 ءمیں اور ہفت‬ ‫روزہ اہلحدیث لہور نے ۸ ۔اور 51 ۔اگست کی‬ ‫اشاعت میں بھی نقل اور تسلیم کیا ہے۔‬ ‫عید : ۔‬
  • ‫بلکہ السلم نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ موچی‬‫دروازہ کے تاریخی جلسہ کی تیاریاں تقریبا تین‬ ‫ہفتوں سے جاری تھیں۔ اور عید کے چاند کی‬ ‫طرح ہر تاریخ اس انتظار میں گزر رہی‬ ‫تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔بالخر ۱۸ ۔اپریل کا آفتاب ایک نیا‬ ‫ولولہ اور ایک نئی روشنی لے کر طلوع ہوا۔‬ ‫) السلم 52 ۔اپریل 6891 ء ص: ۴ (‬ ‫:منکرین میلد‬ ‫جلوس مبارک کی شان رسالت سے عداوت اور‬ ‫ازلی شقاوت و اندرونی خباثت کا بھی کوئی‬
  • ‫) ٹھکانہ ہے کہ 81 ۔اپریل ( ک ی انگریزی تاریخ‬ ‫کوجلسہءاہلحدیث کے لئے تو ایسی تیاریاں اور‬ ‫سرگرمیاں کہ دن رات ایک کر دیا جائے۔ اور عید‬ ‫کے چاند کی طرح انتظار کیا جائے۔ اور ۱۸‬‫۔اپریل یوم جلسہ کے آفتاب کے طلوع کو نئے ولولے‬ ‫اور نئی روشنی سے تعبیر کیا جائے۔ لیکن یوم‬ ‫عید میلدالنبی صلی اللہ تعال ی ٰ علیہ وسلم کے‬ ‫موقع پر ان بزرگوں پر مردنی چھا جائے۔ لفظ‬ ‫عید کے استعمال سے لے کر ہر چیز کو بدعت و‬ ‫شرک کی عینک سے دیکھنا شروع کر دیں۔ اور‬ ‫۔ ربیع الول کا آفتاب نئے ولولے اور نئی ۱۲‬ ‫روشنی کی بجائے منکرین کی موت و تباہی کا‬ ‫پیغام لے کر طلوع ہو۔ افسوس ہے ایسی ہٹ‬ ‫دھرمی‬
  • ‫و کور چشمی پر۔ لحول ول قوۃ ال باللہ۔‬ ‫:اہلحدیث‬‫کے ایک اور ترجمان ہفت روزہ ٬ العتصام ٬ لہور‬ ‫نے 32 ۔مئی 6891 ءکی اشاعت میں لکھا ہے‬ ‫ک ہ: زہ ے ماہ رمضان و ایام اد کہ چوں صبح‬ ‫عیداست ہر شام اد‬ ‫:انصاف پسند‬
  • ‫حضرات غور کریں کہ اس ترجمان اہلحدیث نے‬ ‫کس وسیع القلبی کے ساتھ ماہ رمضان کی ہر‬‫شام کو صبح عید قرار دے کر عیدالفطر سے پہلے‬ ‫ہی ماہ رمضان میں پوری تیس عیدیں زائد بنا‬ ‫ڈالیں ہیں۔ اور یہاں انہیں اپنا یہ کلیہ یاد نہیں‬ ‫رہا کہ اسلم میں صرف دو عیدیں ہیں۔ ل ٰہذا‬ ‫کسی‬ ‫تیسری عید کی کوئی گنجائش نہیں۔ جس کلیہ‬ ‫کی آڑ میں عیدمیلدالنبی صلی اللہ تعال ی ٰ علیہ‬‫وسلم کے خلف خبث باطنی کا اظہار کیا جاتا ہے‬ ‫گویا اگر ضد و عناد ہے تو صرف حبیب خدا صلی‬ ‫اللہ تعال ی ٰ علیہ وآلہ وسلم کی عید میلد سے‬ ‫جس کی طفیل اول العتصادم رمضان کی ہر‬
  • ‫شام‬ ‫بھی صبح عید ہے۔‬ ‫:عید کا سماں‬‫تھانہ کنگن پورموکل میں ۲ ۔مئی کو عظیم الشان‬ ‫تاریخی جلسہ ہوا۔ رنگ برنگی جھنڈیوں اور‬‫اسٹیج کی سجاوٹ نے عید کا سماں بنا رکھا تھا۔‬ ‫) اہلحدیث لہور ۲۲ ۔جون 5891 ء (‬‫اہلحدیث کے بقول اگر ایک عام جلسہ و اسٹیج کو‬
  • ‫بال ثبوت رنگ برنگی جھنڈیوں سے سجانا جائز‬ ‫ہے۔اس میں کوئی بدعت و فضول خرچی‬ ‫نہیں، تو میلد مصطف ی ٰ صلی اللہ تعال ی ٰ علیہ‬‫وآلہ وسلم جیسی خصوصی تقریب کے لئے محافل‬‫میلد کا انعقاد و سجاوٹ کیسے ناجائز ہو سکتی‬ ‫ہے اور اگر ایک عام قسم کے جلسہ کو خوشی‬ ‫سے عید کا ساسماں بنایا جا سکتا ہے تواس سے‬‫بدرجہا بڑھ کر میلدالنبی صلی اللہ تعال ی ٰ علیہ‬ ‫وسلم کی تقریب کو نہایت خوشی کے باعث‬‫عیدمیلدالنبی صلی اللہ تعال ی ٰ علیہ وسلم کیوں‬ ‫نہیں کہا جا سکتا؟‬ ‫:زنانہ جلوس‬
  • ‫تحریک نظام مصطفی کے دروا ن ( گوجرانوالہ (‬ ‫شہر میں خواتین کے تمام جلوس مدارس‬ ‫اہلحدیث سے نکلے‬ ‫) اہلحدیث لہور ۲ جنوری 8791 ء (‬ ‫۔مارچ 7791 ءکے روز مفتی محمود کی زیر 03‬‫صدارت قومی اتحاد کا فیصلہ تھا کہ آج خواتین‬ ‫کا جلوس نکال جائے گا۔ سواتین بجے فاطمہ‬‫جناحروڈ سے جلوس کا آغاز ہوا۔ جلوس میں سب‬ ‫سے آگے بیگم ابوالعل ی ٰ مودودی تھیں۔‬
  • ‫) ہفت روزہ ایشیا لہور ۳ ۔اپریل 7791 ء (‬ ‫:کیوں جی‬ ‫قومی اتحاد سے وابستہ اہلحدثیو۔ دیوبندیو۔‬ ‫مودودیو، اگر 7791 ءمیں نظام مصطفی صلی‬‫اللہ تعال ی ٰ علیہ وسلم کے لئے زنانہ جلوس بدعت‬ ‫و‬ ‫ناجائز نہیں تھے۔ ) ح ا ل نک ہ ان میں بے پردگی‬‫نعرہ بازی اور تالیاں سب کچھ تھا ۔ ( تو بعد میں‬ ‫میلد مصطفی کے مردانہ جلوس کیوں بدعت و‬
  • ‫ناجائز ہو گئے۔؟ حاجی حق حق نے کیسی حقیقت‬ ‫:افروز بات فرمائی ہے کہ‬ ‫تم جو بھی کرو بدعت ایجاد روا ہے‬ ‫اور ہم جو کریں محفل میلد برا ہے‬ ‫:۔ربیع الول 21‬‫مسلک اہل حدیث کے ترجمان ہفت روزہ اہلحدیث‬ ‫نے بعنوان قدیم صحائف کی گواہی لکھا ہے‬ ‫کہ۔ ۔۔۔۔۔ بھارت میں ایک کتاب بعنوان کلکی‬ ‫اوتار‬ ‫اور محمد صاحب منظر عام پر آئی ہے۔ اس کے‬
  • ‫مصنف ا ل ٰہ آباد یونیورسٹی سنسکرت کے ریسرچ‬‫سکالر پنڈت دید پر شادادپار یہ ہیں۔ اور اس پر‬‫آٹھ ہندو پنڈتوں نے تصدیقی نوٹ لکھے ہیں۔ اس‬ ‫کا ایک اقتباس ملحظہ ہو۔‬‫کلکی لوتار ) ع ا ل م انسانیت کے آخری نجات دہندہ‬‫برگزید نب ی ( کو۔ فرشتوں کے ذریعے مہیا ہو گی۔‬ ‫حسن وجاہت میں وہ بے مثال ہوں گے۔ ان کا‬‫جسم معطر ہوگا۔ وہ مہینے ) ر ب ی ع الول کی 21 ۔‬ ‫تاریخ کو پیدا ہوں گے۔ وہ شہسوار و شمشیرزن‬ ‫ہوں گے۔‬ ‫یہ بیان کرنے کے بعد پنڈت دید پر شاداس نتیجہ‬ ‫پر پہنچے ہوں کہ موصوف آنحضرت صلی اللہ‬ ‫:تعال ی ٰ علیہ وسلم کے سبحان اللہ‬
  • ‫غیر مسلموں کی زبانی ان کی پیشین گوئی کے‬ ‫مطابق اہلحدیث کی تصدیق سے شان مصطفوی‬ ‫صلی اللہ تعال ی ٰ علیہ وسلم کا کتنا عمدہ بیان‬ ‫ہوا۔‬ ‫جس میں یہ صرف تصریح بھی آ گئی کہ ۱۲ ۔‬ ‫ربیع الول ہی یوم میلد النبی صلی اللہ علیہ‬ ‫وسلم ہے۔‬ ‫: تعجب ہے‬ ‫کہ غیرمسلموں کی پیشین گوئی و اہلحدیث کی‬‫تصدیق کے مطابق تو یوم ولدت کی 21 ۔تاریخ ہو‬ ‫لیکن مسلمان کہلنے اور بعض اہلحدیث بننے‬ ‫والے خواہ مخواہ اس میں انتشار و افتراق کا‬ ‫موجب بنیں۔ مولد خیرالبریہ میں نواب صدیق‬
  • ‫حسن خان بھوپالی غیر مقلد نے لکھا ہے کہ شب‬ ‫ولدت مصطفی میں کوئی شک کسر ی ٰ حرکت‬ ‫میں آیا۔ آتش فارس بجھ گئی ) ح ض ر ت آمن ہ ( نے‬ ‫زمین کے مشارق و مغارب کو دیکھا نیز تین‬ ‫جھنڈے دیکھے ایک مشرق میں ایک مغرب میں‬‫اور ایک پشت کعبہ پر۔ جب حضرت ہمراہ نور کے‬ ‫پیدا ہوئے دیکھا تو آپ سجدے میں ہیں اور‬‫انگلی طرف آسمان کے۔ مذید تفصیل اس مستقل‬ ‫تصنیف شمامہ عنبریہ من مولد خیرالبریہ میں‬‫پڑھیں اور اہلحدیث بھی اس طرح میلد مصطفی‬ ‫بیان کریں۔ خدا ہدایت دے۔‬
  • ‫:نہایت کار آمد یادگار تاریخی حوالے‬‫مارچ 7891 ءکا دن یوم قرار داد پاکستان کی 32‬ ‫مناسبت سے تو یادگار تھا ہی۔ مگر اس دن غیر‬ ‫مقلد وہابیوں کی جمعیت اہلحدیث کے‬ ‫جلسہءلہور ) ف و ار ہ چوک قلعہ لچھن سنگ ھ (‬‫میں بم کے زبردست دھماکہ سے وہابیوں کے لیڈر‬‫احسان ا ل ٰہی ظہیر اور حبیب الرحمان یزدانی آف‬ ‫کا مونکی سمیت دن وہابیوں کی نہایت عبرتناک‬ ‫ہلکت اور 001 کے قریب زخمی ہونے والوں کی‬ ‫یاد میں وہابیوں کی احتجاجی تحریک کے‬
  • ‫باعث بھی 32 مارچ دوہری یادگار بن گیا ہے۔ اس‬ ‫تحریک کے دوران منکرین شان رسالت و‬ ‫عیدمیلدالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں‬ ‫نے‬‫اپنا وہابی مذہب اور بالخصوص شرک و بدعت کے‬ ‫سارے فتوے بالئے طاق رکھ کر ہر جائز و ناجائز‬ ‫اور اخلقی و غیر اخلقی طریقہ سے‬ ‫احتجاجی مظاہرے کئے۔ جو کسی بھی اخبار بین‬ ‫شخص سے مخفی نہیں۔‬ ‫:پہلی بات‬ ‫تو یہی ہے کہ ان کا خاص 32 ۔مارچ کو یوم‬ ‫پاکستان کے مقررہ موقع ہر جلسہ کرنا ہی‬
  • ‫سراسر بدعت تھا اور اس جلسہ میں نہ صرف‬ ‫فوٹوسازی‬ ‫و کیمرہ بازی ہورہی تھی بلکہ باقاعدہ وڈیو‬ ‫فلم بھی بنوائی جارہی تھی ) جسے اب بھی‬‫وہابی موقع بموقع مختلف مقامات پر دکھاتے اور‬ ‫دیکھ‬ ‫دیکھ کر روتے ہیں ۔ ( ج و سراسر حرام و بدعت‬ ‫فعل تھا اور اس شدید بدعت کا ارتکاب کرتے‬ ‫ہوئے وہابی مولوی بم کے دھماکہ سے موت کی‬ ‫آغوش میں پہنچ گئے اور عین میلد شریف کو‬ ‫بدعت و شرک قرار دینے والے وہابیوں کے چوٹی‬ ‫کے مولوی اور لیڈر عین موت کے موقع پر‬ ‫نہ صرف اس صریح قباحت وشناخت میں خود‬ ‫ملوث ہوئے بلکہ وہابیوں کو اس گناہ میں‬
  • ‫مسلسل مبتل رکھنے کے لئے اپنی شرک و بدعت‬ ‫کی‬‫یہ بدترین یادگار باقی چھوڑ گئے ، کہنے والے نے‬ ‫: کیا خوب کہا ہے کہ‬ ‫جب سرمحشر پوچھیں گے بلکرسامنے‬ ‫کیا جواب جرم دوگے تم خدا کے سامنے‬ ‫: یاد رہے‬ ‫کہ فوٹو صرف بدعت و گناہ ہی نہیں بلکہ‬ ‫علماءاہلحدیث نے اسے شرک تک قرار دیا ہے ۔‬‫چنانچہ جماعت اہلحدیث کے ترجمان ہفت روزہ‬ ‫العتصادم لہور نے مفتیءاعظم سعودی عرب‬
  • ‫عبدالعزیز بن باز کا فتو ی ٰ بدیں الفاظ شائع کیا‬ ‫ہے کہ فوٹو بنانا اورا س کی پسندیدگی باعث‬ ‫لعنت‬ ‫ہے۔۔۔۔۔۔۔ اس فعل بد اور کفار و مشرکین کے‬ ‫کردار ناہنجار میں سر موفرق نہیں۔ وہ ) ف و ٹ و‬‫با ز ( از سر نو شرک کا دروازہ کھول رہا ہے اور‬ ‫کفر‬‫کے ذرائع و وسائل کو رواج دے رہا ہے۔ ۔۔۔۔ جس‬‫طرح کسی جرم کا کرنا حرام ہے۔ اسی طرح اس‬ ‫کا حکم دینا اس پر رضا مندی بھی حرام ہے۔‬ ‫۔۔۔ اور جو کوئی باوجود قدرت انکار اور اظہار‬ ‫بیزاری کے گناہ دیکھ کر خاموش رہتا ہے تو وہ‬ ‫گناہ کے مرتکب فوٹو گرافر اورویڈیو فلم ساز‬
  • ‫کے حکم میں ہے۔ ایسا شیطان اخرس ) گ و نگ ا‬ ‫شیطا ن ( برابر کا مجرم ہے۔‬ ‫ہفت روزہ العتصادم لہور 12 ۔ 82 جولئی (‬ ‫) 8791 ء‬‫نیز لکھا ہے کہ بڑی بڑی بدعتوں میں سے ایک یہ‬‫بھی ہے کہ کسی جاندار کی تصویر بنائی جائے۔‬ ‫) العتصادم 51 ۔مئی 7891 ء (‬ ‫:یہی نہیں‬
  • ‫احسان ا ل ٰہی ظہیر کی زندگی میں شخصی طور‬ ‫پر ان کا نام لیکر ان کے متعلق بالخصوص اور‬ ‫دیگر فوٹوباز علماءاہلحدیث اور باتصویر کیسٹ‬ ‫بیچنے والےاہلحدیثوں کے متعلق بالعموم‬ ‫العتصادم نے لکھا ہے کہ علماءاہلحدیث کی‬ ‫تقاریر کے باتصویر کیسٹ دھڑا دھڑ، فروخت ہو‬ ‫رہے‬ ‫ہیں۔ ان جید علماءکے کیسٹوں پر فوٹو دیکھ کر‬ ‫دکھ ہوا کہ جس چیز کے قرآن و حدیث کی‬‫روشنی میں ہم لوگ قائل نہیں آج وہ چیز ہمارے‬ ‫علماءمیں رائج ہو رہی ہے۔ حالنکہ تقاریر کے‬ ‫کیسٹوں پر جید علماءکے فوٹو کا جواز نہیں بن‬ ‫سکتا۔‬
  • ‫) العتصادم 51 ۔نومبر 5891 ء (‬ ‫: یزید و شمر سے بدتر‬ ‫علماءاہل حدیث و دیوبند کے پیشوا مولوی‬‫اسماعیل دہلوی نے لکھا ہے کہ تصویر بنانے والے‬‫کو پیغمبر کے قاتل کا سا گناہ ہے تو ) ل ٰہ ذ ا ( وہ‬ ‫یزید اور شمر سے بھی بدتر ہے کہ انہوں نے‬ ‫پیغمبر کو نہیں مارا بلکہ پیغمبر کے نواسے کو‬ ‫اور امام وقت کو کہ پیغمبر کا نائب تھا۔‬ ‫) ملخصا تقویۃ الیمان ص 08 (‬
  • ‫: خدائی دعو ی ٰ‬‫تصویر بنانے وال ) م صو ر و فوٹو گراف ر ( پردے میں‬ ‫خدائی کا دعو ی ٰ کرتا ہے کہ جو چیزیں اللہ نے‬ ‫بنائی ہیں۔ ان کی مثل بنانے کا ارادہ کرتا‬ ‫ہے۔ بڑا بے ادب ہے۔‬ ‫) تقویت الیمان ص ۸۱ (‬
  • ‫: العتصادم و تقویۃ الیمان‬ ‫کے مذکورہ فتاو ی ٰ کی روشنی میں فوٹوبازی‬ ‫تصویر و فلم سازی اور اس شدیدوعیدو شرعی‬ ‫جرم کے مرتکب مولویوں کے متعلق تصریحات‬ ‫پڑھ‬‫کر اندازہ فرمائیں کہ میلد مصطفی علیہ التحیۃ‬ ‫الشاءکو محض عداوت قلبی وخبث باطنی کے‬ ‫تحت بدعت و شرک قرار دینے والوں اور ان کے‬ ‫نام نہاد قائدین اہلحدیث کا اپنا نامہ اعمال کیا‬ ‫ہے ؟ وہ میلد مبارک کے تو نام سے بھی الرجک‬ ‫ہیں۔ لیکن خود نہ صرف 32 ۔مارچ مناتے بلکہ‬‫فوٹو بازی کے باعث عین شرک و بدعت کی حالت‬ ‫میں ہم کے دھماکہ کے باعث دنیا سے کوچ کر‬
  • ‫جاتے ہیں۔ جو یقینا سوءخاتمہ کی علمت‬ ‫ہے نہ کہ خاتمہ بالخیر کی۔ اور واللہ اعلم یہ‬‫بھی ہو سکتا ہے کہ ان لوگوں کی اسی دو عملی‬ ‫و منافقت اور شان رسالت و ولیت اور میلد و‬ ‫دشمنی کے باعث ہم کی صورت میں ان پر قہر‬ ‫ا ل ٰہی نازل ہوا ہو۔ والعیاذ باللہ تعال ی ٰ۔‬ ‫: اعتراف میر‬ ‫بہرحال ہم کے دھامکہ میں مرنے والوں کی یاد‬ ‫میں اپنی احتجاجی تحریک کے متعلق جمعیت‬‫اہلحدیث کے مرکز سیکرٹری جزل پروفیسر ساجد‬ ‫میر نے گوجرانوالہ کی ایک پریس کانفرنس میں‬
  • ‫کہا کہ ہم نے اپنی تحریک کے تحت جلسے کئے،‬ ‫جلوس نکالے، جب پھر بھی حکومت نے‬ ‫کوئی نوٹس نہ لیا، تو ہم نے احتجاج کاطریقہ‬‫تبدیل کرکے اسے علمتی بھوک ہڑتال کی طرف‬ ‫موڑ دیا۔‬ ‫) روزنامہ جنگ لہور 21 ۔ جولئی 7891 ء (‬ ‫: دیکھ لیجئے‬‫جشن عید میلدالنبی صلی اللہ تعال ی ٰ علیہ وآلہ‬ ‫وسلم کے جلسہ و جلوس اور اہلسنت کے دیگر‬
  • ‫معمولت و امور خیر کے ایک ایک پہلو پر شرک و‬ ‫بدعت کا فتو ی ٰ لگانے اور ایک ایک چیز کا صریح‬‫ثبوت طلب کرنے والوں کی جب اپنی باری آئی تو‬ ‫ہم کے ایک ہی دھماکہ نے سارے مسلک‬ ‫کیکایا پلٹ کر رکھ دی۔ اب اپنے مرنے والوں کی‬ ‫یاد و احتجاج میں جلسے کریں، جلوس نکالیں،‬ ‫کفن پوش اور کفن پردوش جلوسوں کا اہتمام‬ ‫کریں، حت ی ٰ کہ بھوک ہڑتال بھی کریں، تو یہ‬ ‫سب کچھ جائز اور تقاضائے توحید و حدیث کے‬ ‫عین مطابق ہے۔ نہ کسی بات پر شرک و بدعت‬ ‫کے فتو ی ٰ کا خطرہ ہے اور نہ ہی قرآن و حدیث‬ ‫سے اپنے جلسوں ، جلوسوں اور بھوک ہڑتال‬ ‫وغیرہ کا ثبوت پیش کرنے کی کوئی ضرورت‬
  • ‫ہے۔ کیوں؟‬‫محض اس لئے کہ مرنے والے مولویوں اور لیڈروں‬ ‫سے محبت و تعلق ہے۔ اس لئے ان سے تعلق بل‬ ‫خوف و خطر سب کچھ کرا رہا ہے۔ اور‬ ‫مختلف رنگ دکھا رہا ہے۔ مگر حبیب خدا محمد‬ ‫صلی اللہ تعال ی ٰ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و‬‫عظمت اور اخلص و تعلق سے چونکہ دل خالی‬ ‫ہیں‬‫اس لئے آپ کے میلد مبارک، محفل میلد، جلوس‬ ‫میلد، صل و ٰۃو سلم، نعت پاک و نعرہ ءرسالت‬ ‫غرض یہ کہ محبوب کائنات کی محبت و‬ ‫خوشی اور عزت و شان کی ہر بات میں شرک‬ ‫بدعت اور حرام و گناہ کا خطرہ ہوا نظر آتا ہے۔‬
  • ‫اسی لئے تو کہا گیا ہے کہ‬ ‫یہ جو بھی کریں بدعت ایجاد روا ہے‬ ‫اور ہم جو کریں محفل میلد برا ہے‬ ‫اور اعل ی ٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ نے (‬‫:اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ‬ ‫وہ حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پیارا تو عمر بھر‬ ‫کرے فیض وجود ہی سر بسر‬ ‫ارے تجھ کو کھائے تپ سفر تیرے دل میں کس‬ ‫سے بخار ہے‬ ‫اپنے مردوں کی یاد میں جلسوں ، جلوسوں اور‬ ‫ان کے ان نعروں کی بدعات کو تو سب وہابیوں‬ ‫نے مشرف بہ توحید کر لیا ہے کہ۔ علمہ تیرے‬
  • ‫!خون سے انقلب آئے گا۔‬‫جب تک سورج چاند رہے گا۔ یزدال ی ٰ تیرا نام رہے‬ ‫گا‬‫) روزنامہ نوائے وقت لہور۔ یکم اگست 7891 ء (‬ ‫: حالنکہ‬ ‫یہ سب کچھ نجدی وہابی مذہب کی رو سے‬‫سراسر بدعت و بے ثبوت ہے۔ اور تیرا اور تیرے کے‬ ‫لفظ سے بصیغہءندا مردوں کو پکارنا۔ ان سے‬
  • ‫خطاب کرنا اہل قبور کے سماع و سننے کا نظریہ‬ ‫رکھنا وہابی توحید کے نقطہءنظر سے قطعا‬‫شرک ہے۔ مگر غیر مقلدوں کی نئی کایا پلٹ نے‬ ‫ان سب چیزوں کو سند جواز مہیا کر دی ہے۔‬‫ورنہ ان جلوسوں نعروں اور مردوں کو پکارنے‬ ‫کا وہابی مذہب سے کوئی جوڑ اور واسطہ ہی‬ ‫نہیں۔ مگر شریعت شاید ان لوگوں کے نزدیک‬ ‫خالہ جی کا گھر ہے۔ کہ جہاں جو چاہیں، من‬ ‫مانی کریں اور ہیرا پھری کے کرتب دکھائیں۔‬ ‫بہرحال بھوک ہڑتال کی بدعت کو تو تنظیم‬ ‫اہلحدیث بھی برداشت نہیں کر سکا۔‬‫چنانچہ جماعت اہل حدیث کے خصوصی ترجمان‬ ‫ہفت روزہ تنظیم اہلحدیث نے واشگاف طور پر‬ ‫لکھا ہے کہ 32 ۔ مارچ کے ہم کے حادثے‬
  • ‫کے۔۔۔۔۔۔ سلسلے میں جو احتجاجی مظاہرے ہوئے۔‬‫ان میں سے بعض مواقع پر شرپسندوں نے ان کار‬ ‫وائیوں کو دوسری طرف موڑ دیا تھا اور‬ ‫کچھ توڑ پھوڑ کی کاروائیاں ہوئیں۔ انہیں بھی‬‫جماعت کے سنجیدہ حلقوں نے پسند نہیں کیا تھا‬ ‫اور صدائے احتجاج بلند کرنے سے اتفاق رکھنے‬‫کے باوجود اس قسم کی کاروائیوں کی انہوں نے‬‫مذمت کی تھی۔ اسی طرح بھوک ہڑتال کا اقدام‬‫ہے۔ اگرچہ اسے بھی جمہوریت کی طرح مشرف‬ ‫بہ اسلم کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن ہم‬ ‫عرض کریں گے کہ پھر بھی اس میں مشابہت‬ ‫کفار کا پہلو پایا جاتا ہے بھوک ہڑتال کا بانی‬ ‫گاندھی تھا اور اب بھی یہ بالعموم انہی‬
  • ‫لوگوں کا حربہ ہے جو دین سے بے بہرہ یا دین‬‫سے بے تعلق ہیں۔ اس لئے اس کی تحسین مشکل‬ ‫ہے۔ ہم‬‫اپنے دوستوں اور بزرگوں سے عرض کریں گے کہ‬ ‫وہ اپنے جذبات کے اظہار مینان رویوں اور‬ ‫طریقوں سے اجتناب برتیں جو کافروں کے‬ ‫ایجاد کردہ ہیں یا بے دینوں کا شعار ہیں۔‬‫ہفت روزہ تنظیم اہلحدیث لہور 71 ۔ 42 جولئی (‬ ‫) 7891 ء‬‫یہ ہے منکرین میلد نام نہاد اہلحدیثوں کے کردار‬ ‫اور عمل اہلحدیث کا مظاہرہ۔ کہ خود جلوس‬ ‫نکالیں، جلوسوں میں شرپسندی اور توڑ پھوڑ‬
  • ‫کی‬‫کاروارئیاں کریں، جمہوریت کی بدعت کو مشرف‬ ‫بہ اسلم کرنے کی کوشش کریں حت ی ٰ کہ‬ ‫گاندھی کی پیروی میں بھوک ہڑتال کرکے بے‬ ‫دینوں‬ ‫کا شعار اپنائیں اور کفار کی مشابہت کریں تو‬ ‫انہیں کچھ فرق نہیں پڑتا۔ مگر میلد مصطفی‬ ‫صلی اللہ تعال ی ٰ علیہ وسلم کے نام ہی سے دل‬ ‫جل جاتا ہے۔‬‫__________________‬ ‫جلوس عید‬‫زندہ نبی صلی اللہ تعال ی ٰ علیہ وسلم کے جلوس‬ ‫عید میلد مبارک کے منکرین تحریکی وہابیوں پر‬
  • ‫اپنے مردہ مولویوں کے مسلسل و پے درپے‬ ‫جلوسوں کا بھوت ایسا سوار ہوا کہ انہوں نے‬ ‫عیدالفطر اور عیدالضحی دونوں عیدوں کے‬‫موقع پر بھی تاریخ اسلم و خود تاریخ اہلحدیث‬ ‫میں‬ ‫پہلی مرتبہ اپنے مولویوں کی یاد میں جلوس‬ ‫نکال۔ چنانچہ عیدالفطر 7041 ھ کے موقع پر‬ ‫اخبارات کی تفصیل کے علوہ عیدالضحی کے‬ ‫موقع‬‫پر روزنامہ نوائے وقت لہور 01 ۔اگست 7891 ءکی‬ ‫اشاعت کے مطابق اہلحدیث یوتھ فورس‬ ‫گوجرانوالہ کے زیر اہتمام عیدالضحی کے روز‬‫مرکزی عید گاہ اہلحدیث حافظ آباد سے احتجاجی‬ ‫جلوس نکال گیا۔‬
  • ‫: کیا کوئی اہلحدیث‬‫اس کا ثبوت پیش کر سکتا ہے کہ اگر جلوس عید‬ ‫میلد بدعت ہے تو جلوس عیدالفطر اور جلوس‬ ‫عیدالضحی کیوں بدعت نہیں۔ کیا قرون اول ی ٰ‬ ‫میں شہداءاسلم کی یاد اور احتجاج کے نام پر‬‫کبھی اس قسم کا کوئی جلوس نکال گیا ؟ اگر‬ ‫نہیں اور یقینا نہیں۔ تو پھر عیدین کے موقع پر‬ ‫اس‬ ‫بدبخت جلوس کے مرتکب وہابی کیا اپنے ہی‬ ‫اصول کے مطابق اس بے ثبوت جلوس کے باعث‬ ‫بدعتی و جہنمی ہوئے یا نہیں ؟ اس موقع پر‬
  • ‫وہابیوں کو حدی ث : کل بدعۃ ضللۃ وکل ضللۃ‬ ‫فی النار۔ کیو ں یاد نہیں آئی ؟‬ ‫۔ اگست : 32 ۔مارچ فوٹوبازی 41‬ ‫فلم سازی اور جلوس کی بدعات کے علوہ‬ ‫منکرین میلد کی ایک اور بدعت کا اعلن بیان‬ ‫ملحظہ ہو۔‬ ‫اہلحدیث یوتھ فورس 41 ۔اگست یوم آزادی کو (‬ ‫یوم احتجاج کے طور پر منائے گی۔ اس امر کا‬ ‫فیصلہ اہل حدیث یوتھ فورس پاکستان ارو‬ ‫پنجاب‬‫کے مشترکہ اجلس میں کیا گیا۔ ) ج ن گ نوائے وقت‬
  • ‫لہور۔ ۵ ۔اگست 7891 ء ( 41 ۔اگست کو جامع مسجد‬ ‫محمدیہ چوک اہلحدیث سے بعد از نماز‬ ‫جمعہ احتجاجی جلوس نکال جائے گا۔ ) ن و ائ ے‬ ‫) وقت 01 ۔ اگست 7891 ء‬ ‫کیا اب بھی کوئی شبہ ہے ؟‬ ‫کہ نجدیوں وہابیوں کی شان رسالت دشمنی ہی‬ ‫دراصل عیدمیلد و جلوس میلد مبارک کے انکار‬ ‫کا موجب ہے اور یہ لوگ نہیں چاہتے کہ‬‫رسول پاک صلی اللہ تعال ی ٰ علیہ وسلم کے جشن‬ ‫میلد و شان و شوکت کا مظاہرہ ہو۔ ورنہ کیا‬
  • ‫وجہ ہے کہ اپنے مردوں مولویوں کے جلوسوں کی‬‫بھرمار ہو۔ 32 ۔مارچ کا دن منایا جائے۔ عیدین کے‬ ‫موقع پر سراسر بے ثبوت جلوس نکال جائے اور‬ ‫41 ۔اگست کی اہمیت کو مذید بڑھا کر ذیل‬ ‫یوم منایا جائے۔ مگر عیدمیلدمبارک پر یہ سب‬ ‫امور بدعت و بے ثبوت قرار پائیں۔‬ ‫! آہ‬ ‫تم جو بھی کرو بدعت ایجاد روا ہے‬ ‫اور ہم جو کریں محفل میلد برا ہے‬ ‫: بیٹے کی خوشی‬
  • ‫۔مارچ 7891 ءکو لہور بم کے دھماکہ میں 32‬‫ہلک ہونے والے مولوی حبیب الرحمان یزدانی آف‬ ‫کا مونکی کا ایک ہی بیٹا تھا۔ جو 5891 ءمیں‬‫ان کی زندگی میں بچپن میں ہی فوت ہو گیا۔ اور‬ ‫انہوں نے بعض بے گناہوں کو اس کی موت کا‬ ‫ذمہ دار قرار دے کہ انہیں مقدمہ ءقتل میں‬ ‫ملوث‬‫کرنے کی کوشش کی۔ جس میں وہ ناکام ہو گئے۔‬ ‫اور پھر کچھ عرصہ بعد اولد نرینہ سے محروم‬ ‫ہی دنیا سے چل بسے۔ مگر قدرت ربانی کے‬ ‫تحت ان کی موت سے تقریبا تین ماہ بعد ان کی‬ ‫بیوہ کے ہاں بیٹاپیدا ہوا۔‬
  • ‫پھر کیا ہوا ؟‬ ‫اخبارات کی رپورٹ کے مطابق منکرین میلد‬‫یعنی اہلحدیثوں میں بے حد خوشی و مسرت کی‬ ‫لہر دوڑ گئی۔ اور اس خوشی میں جامعہ‬ ‫محمدیہ‬ ‫چوک اہلحدیث گوجرانوالہ میں مٹھائی تقسیم‬‫کی گئی ) ج ن گ لہور 42 جون 7891 ء ( اہلحدیث‬ ‫یوتھ فورس گوندلنوالہ۔ گوجرانوالہ نے اس‬ ‫خوشی‬ ‫میں کئی من مٹھائی تقسیم کی اور سیکرٹری‬‫نشرواشاعت نے بچے کی پیدائش کے معجزہ قرار‬ ‫دیا ) م شر ق لہور۔ 4 جولئی 7891 ء ( نیز اس‬
  • ‫خوشی میں اہلحدیث یوتھ فورس سیالکوٹ نے‬ ‫جامع مسجد اہلحدیث شہاب پورہ مین جمعۃ‬‫المبارک کے اجتماع میں مٹھائی تقسیم کی۔ اور‬ ‫اہلحدیث‬ ‫یوتھ فورس کے اراکین نے بچہ کا نام حبیب‬‫الرحمان تجویز کیا۔ او ر کہا یوں معلوم ہوتا ہے‬ ‫جیسے کچھ عرصہ بعد مولنا یزدانی اپنے بیٹے‬ ‫کے روپ میں مسلک اہلحدیث کی خدمت کے لئے‬ ‫رونما ہوں گے۔‬ ‫) روزنامہ نوائے وقت لہور۔ ۲ جولئی 7891 ء (‬
  • ‫: ٹورنا منٹ‬ ‫حبیب الرحمان یزدانی کی یاد میں والی بال‬ ‫شوٹنگ ٹورنا منٹ ہائی سکول کی گراﺅ نڈ میں‬‫منعقد ہوا۔ افتتاح میاں خلیل الرحمان ایڈودکیٹ‬ ‫نے کیا‬ ‫) جنگ لہور۔ ۹ اگست 7891 ء (‬ ‫مسلمانو ! پہچانو ! یہ ہے نجدی دھرم اور غیر‬‫مقلد وہابی مذہب جس کے تحت حبیب خدا، شہ‬‫دوسرا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعال ی ٰ‬ ‫علیہ‬ ‫وآلہ وسلم کی پیدائش کی خوشی منانا اور‬
  • ‫شیرنی تقسیم کرنا وغیرہ تو سب بدعت و‬ ‫اسراف و بے ثبوت ہے۔ لیکن اپنے مولوی کے بیٹے‬ ‫کی‬ ‫پیدائش کی خوشی منانا، جگہ جگہ کئی من کے‬ ‫حساب سے مٹھائی تقسیم کرناعین تقاضائے‬ ‫توحید و حدیثیت ہے۔ اور‬ ‫: اہل قبور‬ ‫کی یاد میں محفل ختم قرآن و ایصال تو بدعت‬‫و ناجائز ہے۔ لیکن مرنے والے کی یاد میں والی با‬ ‫ل ٹورنا منٹ جیسے کھیلوں اورا ن کے انعقاد‬‫و اہتمام و افتتاح کیلئے نہ کسی ثبوت کی ضرورت‬
  • ‫ہے۔ نہ کسی بدعت کا اندیشہ ہے۔‬ ‫: جلوس گری‬‫علوہ ازیں محبوبان خدا کی ارواح کی دنیا میں‬‫جلوہ گری تو وہابی مذہب میں ناممکن ہے۔ لیکن‬ ‫حبیب الرحمان یزدانی کی اپنے بیٹے کے روپ‬‫میں دنیا میں دوبارہ رونمائی میں کوئی اشکال‬ ‫و استحالہ نہیں۔‬
  • ‫: معجزہ‬ ‫نیز یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اہلحدیثوں کے‬ ‫بقول مولوی یزدانی کے بیٹے کی پیدائش بھی‬‫معجزہ ہے حالنکہ ظاہر ہے اس میں معجزہ کی‬ ‫کوئی بات نہیں۔ قدرتی طور پر اس طرح بچوں‬‫کی پیدائش ہوتی ہی رہتی ہے۔ مگر چونکہ بقول‬ ‫اہلحدیث اس بچے کے روپ میں یزدانی صاحب‬‫نے دنیا میں دوبارہ رونما ہونا ہے۔ ل ٰہذا اس لحاظ‬‫سے معاذاللہ یہ یزدانی کا معجزہ چونکہ پیغمبر‬ ‫کا ہوتا ہے اس لئے بزعم اہلحدیث گویا یزدانی‬ ‫صاحب ہم کا نشانہ بننے کے بعد روحانی ترقی‬ ‫کرکے اہلحدیثوں کے صاحب معجزہ و پیغمبر بن‬ ‫گئے۔ ولحول قوۃ ال باللہ۔‬
  • ‫: مذکورہ‬ ‫تاریخی انکشافات حوالہ جات کے علوہ آپ‬ ‫حیران ہونگے کہ مولوی یزدانی کے بیٹے کی‬ ‫پیدائش کو باقاعدہ سرور کائنات صلی اللہ‬ ‫تعال ی ٰ علیہ‬‫وسلم کی ولدت باسعادت کے انداز میں پیش کیا‬ ‫گیا ہے۔ یعنی وہابیوں کو ولدت باسعادت سے‬ ‫جتنی مخالفت اور چڑ ہے، یزدانی کے بیٹے کی‬ ‫پیدائش کی اتنی ہی زیادہ اہمیت و خوشی ہے۔‬‫چنانچہ اہلحدیثوں کی شائع کردہ باتصویر کتاب‬
  • ‫مسمن ی ٰ نہ یزدانی کی موت اہل دل پہ کیسی‬ ‫گزری‬ ‫:میں بعنوان ولدت ابن شیر ربانی لکھا ہے‬ ‫سنی ہے خبر میلد ابن یزدانی‬ ‫تڑپا گئی پھرد ل کو یاد ابن یزدانی‬ ‫خوشی ہوئی ہے ہر فرد جماعت کو‬ ‫ہو تجھ سے یہ چمن آباد بن یزدانی‬‫آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی ولدت‬ ‫پاکآگئی تجھ سے یاد ابن یزدانی‬ ‫تجھ سے کئی امیدیں وابستہ ہم کو‬ ‫ہو تجھ سے ہمارا شاد ابن یزدانی‬ ‫: مذکورہ اشعار‬
  • ‫بغور ملحظہ کریں کہ جن لوگوں کو ولدت با‬‫سعادت اور نعت شریف پڑھنے پڑھانے سے چڑ ہے۔‬ ‫انہوں نے ایک بچہ کی پیدائش پر کس طرح‬ ‫اس کی ولدت میلد کے عنوان سے اس کی‬ ‫ثناءخوانی کی ہے اور اگر انہیں آقائے دو جہاں‬ ‫صلی اللہ تعال ی ٰ علیہ وسلم کی ولدت پاک یاد‬ ‫آئی‬‫بھی ہے تو یزدانی کے بیٹے کی پیدائش پر۔ کیونکہ‬ ‫ربیع الول شریف میں تو آقائے دو جہاں صلی‬‫اللہ تعال ی ٰ علیہ وسلم کی ولدت کی یاد آنا اور‬ ‫منانا نجدی مذہب میں ممنوع قرار دیا گیا ہے۔‬ ‫پھر یہ امر کس قدر قابل غور ہے کہ محبوبان‬ ‫خدا کو غیر اللہ قرار دے کر ان کو پکار نے ان‬ ‫سے‬
  • ‫امیدیں وابستہ کرنے اور ان کا وسیلہ حاصل کرنے‬ ‫کو شرک و بدعت قرار دینے والے ایک نومولود‬ ‫بچے کو غائبانہ نداءکرکے اس سے کس‬ ‫: طرح اپنی امیدیں وابستہ کر رہے ہیں کہ‬ ‫تجھ سے کئی امیدیں وابستہ ہیں ہم کو‬ ‫: یزدانی کی قصیدہ خوانی‬ ‫مذکورہ کتاب میں یزدانی صاحب کو اس آیت کا‬ ‫مصداق ٹھہرایا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ‬‫میں قتل کئے جائیں، انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ‬ ‫زندہ ہیں ۔ نیز لکھا ہے کہ فما مثلہ فیھم ول‬ ‫کان قبلہ۔ یعنی یزدانی کی مثل نہ کوئی ہے، نہ‬ ‫کوئی پہلے ہوا۔ نیز ان کو کریم ابن کریم پانچ‬ ‫مرتبہ‬‫لکھنے کے علوہ ان کی موت کو سورج کے غروب‬
  • ‫سے تعبیر کیا گیا ہے۔ وغیر ذالک ۔‬ ‫: یہ ہے‬ ‫غیر مقلدوں وہابیوں کے مذہب کا خلصہ، اور‬ ‫نجدی توحید کا کرشمہ کہ جو بات دوسروں کے‬ ‫لئے شرک و بدعت اسراف و بے ثبوت وہ اپنے‬‫لئے بالکل جائز و کارثواب۔ اپنے مولویوں اور ان‬ ‫کے بچوں کی بھی زیادہ سے زیادہ خوشی و‬ ‫تعلق، خاطر اور تعلیم و مبالغہ لیکن محبوبان‬ ‫خدا‬‫سے زیادہ سے زیادہ لتعلقی اور ان کی توہین و‬‫تحقیر و تنقیص۔ کیونکہ رسوائے زمانہ گستاخانہ‬
  • ‫کتاب تقویت الیمان میں انہیں تعلیم ہی یہی‬ ‫: دی گئی ہے کہ‬‫کسی بزرگ کی شان میں زبان سنبھال کر بولو،‬ ‫اور جو بشر کی سی تعریف ہو وہی کرو، اس‬ ‫میں بھی اختصار ہی کرو۔‬ ‫) ص: ۷۸ (‬ ‫انسان آپس میں سب بھائی ہیں۔ جو بڑا بزرگ‬‫ہو، وہ بڑ ابھائی ہے، اس کی بڑے بھائی کی سی‬‫تعظیم کیجئے۔۔۔۔۔۔ اور انبیاءاولیاءسب انسان ہی‬‫ہیں۔ اور بندے عاجز اور ہمارے بھائی۔۔۔۔۔۔ ان کی‬ ‫تعظیم انسانوں کی سی کرنی چاہئیے۔‬
  • ‫) ملخصا ص : ۷۴ ، تقویت الیمان۔ (‬ ‫: ایک طرف‬ ‫تقویت الیمان کے یہ مردہ دل اقتباسات اور‬ ‫دوسری طرف مولوی یزدانی اور دیگر متاثرین،‬ ‫دھماکہ ءبم کے متعلق وہابیوں کی عقیدت و‬‫احساسات۔ جلسہ و جلوس، بھوک ہڑتال اور ایک‬ ‫نومولود بچے ابن یزدانی کے بارے میں ان کی‬ ‫خوشی و قصیدہ خوانی پیش نظر رکھ کر ہر‬ ‫صاحب علم و انصاف فیصلہ کرے کہ نجدیوں‬ ‫وہابیوں کا اس کے علوہ اور کیا اصول ہے کہ‬ ‫محبوبان خدا کی زیادہ سے زیادہ کرادر کشی‬
  • ‫کرکے اپنے مولویوں اور مقتدیوں کو زیادہ سے‬ ‫زیادہ اہمیت دی جائے۔ یعنی ان کا اصل مقصد‬ ‫ہی یہی ہے کہ محبوبان خدا کو چھوڑ و اور‬ ‫نجدی، وہابی مولویوں کی پیچھے لگو۔ مسئلہ‬ ‫میلد و گیارہویں، ہو یا مسئلہ تقلید و بیعت، ان‬‫سب کی مخالفت میں دراصل یہی نجدی روح کار‬ ‫فرما ہے۔‬ ‫موقع کی مناسبت سے وہابیوں کی طرف سے‬ ‫میلدالنبی صلی اللہ تعال ی ٰ علیہ وسلم کی‬ ‫مخالفت اور ان یزدانی کی خوشی منانے پر‬ ‫مولنا ابوالنور‬ ‫محمد بشیر صاحب کوٹلو ی کی اس رباعی کو‬‫دوبارہ ذہن نشین فرما لیں تاکہ منکرین میلد کا‬
  • ‫احمقانہ و معاندانہ کردار ہمیشہ آپ کے پیش‬ ‫نظر‬ ‫، رہے کہ‬ ‫جو بچہ ہو پیدا تو خوشیاں منائیں‬ ‫مٹھائی بٹے اور لڈو بھی آئیں‬ ‫)مبارک کی ہر سو سے آئیں ندآئیں ) م گ ر‬‫محمد کا جب یوم میلد آئے ) ص ل ی اللہ علیہ‬ ‫)وسلم‬ ‫تو بدعت کے فتوے انہیں یاد آئے‬ ‫: حرف آخر‬
  • ‫بفضل تعال ی ٰ ہم نے جشن عید میلدالنبی صلی‬‫اللہ تعال ی ٰ علیہ وآلہ وسلم اور جلوس میلد پاک‬‫کے متعلق تحقیقی ق الزامی اور تاریخی طور پر‬ ‫حقائق و حوالہ جات کا ایک ذخیرہ پیش کر دیا‬‫ہے۔ اور منکرین شان رسالت و مخالفین میلد کے‬ ‫گھر سے ایسے دلئل مہیا کر دئیے کہ انشاءاللہ‬‫تعال ی ٰ ان کے جواب سے وہ کبھی عہد و بر آنہیں‬ ‫ہو سکیں گے اور یہ مختصر و جامع مجموعہ‬ ‫منکرین میلد کے تابوت مینآخری میخ ثابت ہو‬ ‫گا۔ کتاب ہذاکایہ تاریخی و معلوماتی پہلو اس‬ ‫کی اہمیت و حیثیت میں مذید اضافہ کا باعث‬‫ہوگا کہ اس میں منکرین شان رسالت و مخالفین‬ ‫میلد‬
  • ‫کے نام نہاد قائدین کا عبرتناک انجام بھی شامل‬‫اشاعت کر دیا گیا ہے کہ جنہوں نے عمر بھر شان‬ ‫رسالت و ولیت اور میلد مبارک کی‬‫مخالفت کی اور اپنے اپنے جشن کے شادیانے بجائے‬ ‫وہ آنافانا ایسے المناک و عبرتناک انجام سے‬ ‫دوچار ہوئے اور ان پر ایسی تباہی و بر‬ ‫بادی مسلط ہوئی کہ ہمیشہ کے لئے نشان عبرت‬ ‫بن گئے۔ اور آخر وقت منہ دکھانے کے بھی قابل‬ ‫نہیں رہے۔ العیاذباللہ تعال ی ٰ۔‬ ‫ان کے دشمن پہ لعنت خدا کی‬ ‫رحم پانے کے قابل نہیں ہے‬ ‫یہ ہے میت کسی بے ادب کی‬ ‫منہ دکھانے کے قابل نہیں ہے‬
  • ‫اف یہ عقائد باطلہ : مسلمانوں کو بات بات پر‬‫مشرک و بدعتی گرداننے والے نجدیوں وہابیوں کے‬ ‫عقائد باطلہ کے سلسلے میں ہم یہ بتانا‬ ‫چاہتے ہیں کہ ان کی شقاوت و شان رسالت سے‬ ‫عداوت کا یہ عالم ہے کہ ان کے زندیک ماہ‬‫میلدالنبی صلی اللہ تعال ی ٰ علیہ وآلہ وسلم منانا‬ ‫تو‬ ‫بدعت و ناجائز ہے لیکن اپنوں کی موت کا مہینہ‬‫منانا جائز و حلل ہے۔ گویا جس طرح شیعوں کے‬ ‫ماتمی جلوسوں کی بناءپر شیعوں کا محرم‬ ‫مشہور ہے اور جشن عیدمیلدالنبی صلی اللہ‬ ‫تعال ی ٰ علیہ وآلہ وسلم کے پرنور و پرسرور‬‫جلوسوں اور پروگراموں کی وجہ سے ربیع الول‬
  • ‫سنیوں، بریلویوں کا مہینہ سمجھا جاتا ہے۔ اب‬ ‫اسی طرح 32 ۔مارچ 7891 ءکو قلعہ لچھمن‬ ‫سنگھ لہور میں وہابیوں کے جلسہ میں بم کے‬ ‫دھماکہ‬ ‫کے باعث اپنے مرنے والوں کی یادمنانے اور ان کا‬ ‫غم تازہ کرنے کیلئے تاریخ اہلحدیث کے ابواب و‬ ‫نصاب میں تحریرا تقریرا عمل وہابیوں‬ ‫نے اپنے لئے ماہ مارچ کو اختیار کر لیا ہے اور اس‬ ‫بات کا عمل مظاہرہ ہو گیا ہے کہ نجدیوں،‬ ‫وہابیوں کو جس طرح اپنے مولویوں اور‬ ‫لیڈروں سے عقیدت و تعلق ہے اس طرح ان کے‬ ‫دلوں میں نہ رسول اللہ صلی اللہ تعال ی ٰ علیہ‬‫وآلہ وسلم کی عقیدت و تعلق اور خوشی ہے اور‬ ‫نہ‬
  • ‫ہی آپ صلی اللہ تعال ی ٰ علیہ وآلہ وسلم کی اہل‬ ‫بیت و شہداءکربل ) ع ل یہ م الرضوا ن ( کی عقیدت‬‫و تعلق کی وہابیوں کے دلوں میں کوئی گنجائش‬ ‫ہے۔‬ ‫: ورنہ کیا وجہ ہے‬ ‫کہ ان کے مرنے والوں کی یادگار منانے کے لئے تو‬ ‫کھلی چھٹی ہو۔ جلسوں، کانفرنسوں کے انعقاد‬ ‫اہتمام و تداعی اور مہینہ و ایام کے تعین و‬‫تقرر اور دیگر لوازمات پر شرک و بدعت کا کوئی‬ ‫سایہ نہ پڑے مگر‬
  • ‫محمد ) ص ل ی اللہ علیہ وسل م ( کا جب یوم میلد‬ ‫آئے‬ ‫تو بدعت کے فتو ی ٰ انہیں یاد آئے‬ ‫: اسی طرح‬ ‫ماہ محرم آئے تو شہداءکربل ) ر ض ی اللہ تعال ی ٰ‬‫عن م ( کی یاد منانے، ذکر خیر کرنے اور ختم شریف‬ ‫و ایصال ثواب وغیرہ سب کو بدعت و ناجائز‬ ‫قرار دے کر ممنوع قرار دیا جائے۔‬
  • ‫: بدعات اہلحدیث‬ ‫: برسی‬ ‫علمہ ظہیر کی برسی ملک بھر میں احتجاجی‬ ‫اجتماعات منعقد ہونگے۔ اہل حدیث یوتھ فورس‬‫کے قائم مقام جنزل سیکرٹری یونس چوہدری نے‬ ‫کہا ہے کہ مارچ میں علمہ احسان ا ل ٰہی ظہیر‬ ‫اور ان کے رفقاءکی شہادت کا ایک سال گزر‬ ‫جانے پر ملک بھر میں احتجاجی جلسے اور‬‫اجتماعات منعقد کئے جائیں گے۔ 32 ۔مارچ سے 13 ۔‬ ‫مارچ تک ہفتہ ءتجدید عرس منایا جائے گا۔‬
  • ‫) روزنامہ مرکز اسلم آباد ۲۹ ۔فروری ۸۸ ء (‬‫۔ مارچ : روزنامہ مرکز کی مذکورہ رپورٹ کے 12‬ ‫مطابق مختلف مقامات پر شہدائے اہلحدیث‬ ‫کانفرنس اور احسان کانفرنس کے انعقاد کے‬ ‫علوہ‬ ‫۔مارچ کو بم کے دھماکہ کی مقررہ جگہ پر 12‬‫بالخصوص شہدائے اہلحدیث کانفرنس منعقد کی‬ ‫گئی اور اس سلسلہ میں دیگر اشتہارات کے‬ ‫علوہ‬ ‫اہلحدیث یوتھ فورس لہور کی طرف سے ایک‬‫سرخ رنگ کا باتصویر خونی اشتہار شائع کیا گیا‬ ‫جس میں بم کے دھماکہ میں ہلک و زخمی‬
  • ‫ہونے والے اہلحدیث مولویوں اور لیڈروں کو فوٹو‬‫شائع کئے گئے اور 32 ۔مارچ کے اخبار جنگ، نوائے‬ ‫وقت وغیرہ میں اس کانفرنس کی‬ ‫رپورٹ شائع ہوئی۔‬ ‫: ۔ مارچ 32‬ ‫۔ مارچ کو بھی بالخصوص تاریخ، جگہ، دن 32‬ ‫اور ایک بجے دوپہر کے وقت و تعین کے ساتھ‬ ‫مرنے والوں کی یاد میں خاص اہتمام سے‬ ‫کانفرنس کی گئی اور اشتہارات میں قائد کے‬ ‫روحانی پئیو لہور چلو کے الفاظ سے اس‬ ‫کانفرنس میں شرکت کی ترغیب دی گئی اور‬
  • ‫قلعہ لچھمن‬ ‫سنگھ لہور کی ان دونوں کانفرنسوں میں‬ ‫اہلحدیث نے بھر پور شرکت کی۔‬ ‫)پریس رپورٹ (‬ ‫: یزدانی روڈ‬ ‫مولوی حبیب الرحمان یزدانی روڈ ) س ا دھ و ک ے (‬‫کاسنگ بنیاد رکھنے کی تقریب زیر صدارت مولوی‬ ‫محمد عبداللہ وغیرہ منعقد ہوئی اورخطاب کیا‬ ‫گیا۔‬
  • ‫) نوائے وقت لہور۔ 62 ۔مارچ ۸۸ ء (‬ ‫: خانہ ء خدا پر غیر اللہ کا نام‬‫کوٹ قاضی علی پور چٹھہ روڈ گوجرانوالہ میں‬ ‫مسجد حبیب الرحمان یزدانی نام رکھا گیا۔‬‫) پوسٹر جمعیت اہلحدیث 32 ۔مارچ فروری ۸۸ ء (‬
  • ‫: پتھر پر دعاء‬‫۔ مارچ ۸۸ ءکے نوائے وقت اور 13 ۔ مارچ ۸۸ ءکے 92‬ ‫جنگ اخبار میں ایک تصویر شائع ہوئی ہے جس‬ ‫کے نیچے لکھا ہے کہ امیر جمعیت‬ ‫اہلحدیث مولوی محمد عبداللہ یزدانی روڈ‬ ‫کاسنگ بنیاد رکھنے کے بعد دعاءمانگ رہے ہیں۔‬ ‫کیا کوئی غیر مقلد وضاحت کرے گا کہ : کسی‬ ‫روڈ‬ ‫پر غیر اللہ کا نام متعین کرکے ایسے اہتمام سے‬ ‫تقریب کا انعقاد، پھر پتھر نصب کرنے کے بعد‬ ‫اسے سامنے رکھ کر اس پر دعاءکرنا بدعت ہے‬ ‫یا نہیں ؟ اگر نہیں تو اس کا کوئی ثبوت حدیث‬ ‫صحیح و صریح سے پیش کیا جائے۔‬
  • ‫جلوس و مزار و فا تحہ‬ ‫۔ اگست 8891 ء بروز جمعہ کا مونکی منڈی 41‬ ‫میں یوم آزادی کی بجائے یوم احتجاج منایا گیا۔‬ ‫بعد نما زجمعہ اہلحدیث کی مساجد سے لوگ‬ ‫جلوسوں کی شکل میں مرکزی جامع المسجد‬‫اہلحدیث پہنچے۔ جہاں سے ایک بڑا جلوس مولوی‬‫حبیب الرحمان یزدانی کے مزار پر گیا۔ اور وہاں‬ ‫فاتحہ خوانی کے بعد پرامن طور پر منتشر ہو‬ ‫گیا۔‬‫روزنامہ جنگ لہور۔ 21 ۔اگست، نوائے وقت 31 ۔ (‬
  • ‫) اگست 8891 ء‬ ‫: رضائے مصطفی‬ ‫قبر نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لئے‬‫جانے اور جلوس میلد و مزارات اولیاءاور گھروں‬ ‫یا قبروں پر فاتحہ خوا نی کو بدعت‬ ‫وناجائز قرار دینے والوں کا اپنے آنجہانی مولوی‬ ‫یزدانی، کے لئے یہ سب کچھ کرنا جہاں باعث‬ ‫تعجب ان کی دورنگی کا مظاہرہ ہے، وہاں‬ ‫مسلک اعل ی ٰ حضرت رحمۃ اللہ تعال ی ٰ علیہ کی‬‫اصولی فتح ہے کہ مخالفین نے بالخر قبر کو مزار‬ ‫قرار دینے، وہاں زیارت کے لئے جانے جلوس‬
  • ‫نکالنے اور فاتحہ خوانی کرنے کا عملی اعتراف‬ ‫کر لیا۔‬ ‫: تنظیم اہلحدیث کا اہلحدیث کو انتباہ‬‫ماہ رابیع الول 8041 ھ : کے رضائے مصطفی میں‬ ‫بعنوان ) ز ن د ہ باد اے مفتی احمد رضا خان زندہ‬‫با د ( چونکہ مخالفین اہلسنت کے متعلق اس اہم‬‫الزامی مضمون کا ایک پیرا جلوس و مزار فاتحہ‬ ‫بالخصوص غیر مقلدین سے متعلق تھا، اس لئے‬ ‫اس لجواب مبنی برحق مضمون کی اہمیت و‬‫افادیت کے باعث ہفت روزہ تنظیم اہلحدیث لہور‬
  • ‫نے اپنے ہم مسلک اہلحدیثوں کو انتباہ کرتے ہوئے۔‬ ‫مضمون ہذابدیں عنوان لفظ شائع کیا ہے کہ‬‫توحید و سنت کے گلشن کو برباد نہ کرو۔۔۔ ہوش‬ ‫کرو اور سنو ) ت ن ظ ی م اہلحدیث ۴ ۔دسمبر‬ ‫7891 ءچنانچہ رضائے مصطفی کے مضمون کی‬ ‫افادیت‬ ‫و اہمیت کو تسلیم کرنے اور اس بناءپر تنظیم‬‫اہلحدیث کے اہلحدیث کو انتباہ کرنے سے واضح ہو‬ ‫گیا کہ اہل سنت کے عقیدہ ءتوحید و سنت پر‬ ‫طعنہ زنی کرنے اور شرک و بدعت کا ناحق‬‫نشانہ بنانے والے غیر مقلدین بذات خود توحید و‬ ‫سنت کے گلشن کو اجاڑ اور برباد کرنے کے‬ ‫مرتکب و مجرم ہیں اور مختلف بدعات و‬‫: رسومات میں مستغرق ہیں مگر حال یہ ہے کہ‬
  • ‫غیر کی آنکھ کا تنکا تو تجھے نظر آیا‬ ‫اپنی آنکھ کانہ دیکھا مگر شہنتیر بھی‬ ‫: شہدائے اہلحدیث کی دوسری برسی‬‫۔ مارچ کو قلعہ لچھمن سنگھ لہور کے جلسہ 32‬ ‫میں بم کے دھماکہ میں ہلک ہونے والی مولوی‬ ‫احسان ظہیر، مولوی حبیب الرحمان یزدانی‬ ‫وغیرہ کی یاد میں ان کی دوسری برسی کے‬‫موقع پر بھی مقررہ تاریخ و مقررہ جگہ پر 71 ۔‬‫مارچ بروز جمعہ جمعیت و اہلحدیث یوتھ فورس‬ ‫کے‬ ‫زیر اہتمام بڑے اہم انتظامات کے ساتھ دوسری‬ ‫شہدائے اہلحدیث کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس‬ ‫سلسلے میں اخباری بیانات کے علوہ وسیع‬ ‫اخراجات‬
  • ‫سے بڑے سائز کے رنگین اشتہارات بہت کثرت سے‬ ‫چھپوائے اور لگوائے گئے اور رسائل و اشتہارات‬ ‫میں قلعہ لچھمن سنگھ چلو کا۔۔۔۔ نعرہ‬ ‫لکھوایا گیا اور اہلحدیث مساجد میں جمعہ بند‬‫کرکے قلعہ لچھمن سنگھ میں مشترکہ جمعہ کا‬‫اعلن کیا گیا۔ نما زجمعہ سے پہلے امیر جمعیت‬ ‫اہلحدیث مولوی محمد عبداللہ اور دیگر‬ ‫علماءحدیث کے بیانات ہوئے اور نماز جمعہ کے‬ ‫بعد قلعہ لچھمن سنگھ سے لیکر چوک آزادی‬ ‫تک جلوس‬ ‫بھی نکال گیا۔ اس موقع پر دیگر علقوں کے‬‫وہابیوں نے بھی بڑے زور و شور سے شدرحال کیا‬ ‫اور بسوں کے ذریعے قافلوں کی صورت میں‬
  • ‫قلعہ لچھمن سنگھ کے پرواگرام میں حاضری‬ ‫دی۔ پریس نوٹ‬ ‫) مارچ ۸۹ ء 81(‬ ‫کیا فرماتے ہیں : ۔‬ ‫غیر مقلدین وہابیہ کہ کتاب سنت اور عقیدہ‬‫ءرتوحید کا وہ کونسا شرعی ضابطہ ہے کہ جس‬ ‫کے تحت میلدمصطفی صلی اللہ تعال ی ٰ علیہ‬ ‫، وسلم‬ ‫عرس اولیاءاور گیارہویں شریف و تیجا دسواں،‬‫چالیسواں تو بدعت و حرام و ناجائز ہے لیکن نام‬ ‫نہاد شہدائے اہلحدیث کی دوسری برسی پر‬
  • ‫دوسری کانفرنس اپنے تمام لوازمات سمیت کتاب‬ ‫و سنت کی روشنی میں عقیدہ ءتوحید کے عین‬ ‫مطابق ہے ؟‬ ‫جشن میلدمصطفی‬ ‫بدعت و ناجائز کیوں ؟‬ ‫اور‬ ‫صد سالہ جشن کا جواز کیوں ؟‬ ‫اہل نجد ودیوبند جشن میلد مصطفی صلی اللہ‬‫علیہ وسلم کے سخت مخالف ہیں۔ بالخصوص ماہ‬ ‫نور ربیع الول شریف میں یہ لوگ جشن میلد‬ ‫شریف کی مخالفت میں آسمان سر پر اٹھا لیتے‬‫ہیں۔ لیکن جب اپنا معاملہ آتا ہے تو پھر بدعت و‬ ‫عدم جواز کے سب فتوے بھل دیتے ہیں۔ اور‬
  • ‫تمام تر تعلقات و لوازمات کے ساتھ انہیں منانے‬ ‫میں کوئی چیز آڑے نہیں آتی۔‬ ‫: جشن سعودی عرب‬‫۔شوال 9941 ھ بمطابق 32 ۔جنوری 9991 ءمیں ۵‬‫سعودی عرب کے قیام کی 001 سالہ سالگرہ پر‬ ‫صد سالہ جشن بادشاہت منایا گیا اور اس‬ ‫سلسلہ میں مختلف تقریبات کے علوہ پاکستان‬ ‫میں بھی دو روزہ بین القوامی کانفرنس کا‬ ‫انعقاد کیا گیا ہے۔‬ ‫روزنامہ نوائے وقت لہور 52 ۔ 62 جنوری (‬ ‫) 9991 ء‬
  • ‫جبکہ صد سالہ جشن سے قبل ہر سال 32 ۔‬‫ستمبر کو الیوم والوطنی اور عید الوطنی کے نام‬ ‫سے سالنہ سالگرہ بھی بڑے اہتمام سے منائی‬ ‫جاتی‬ ‫ہے۔‬ ‫غرضیکہ نجدی سعودی دیوبندی وہابی علماءو‬‫حکام جشن صد سالہ منائینیا ہر سال عیدالوطنی‬ ‫اور جشن دستار فضیلت منائیں ان کے لئے‬ ‫شرک و بدعت کا کوئی فتو ی ٰ نہیں مگر‬ ‫محمد ) ص ل ی اللہ علیہ وسل م ( کا جب یوم میلد‬ ‫آئے‬
  • ‫بدعت کے فتوے انہیں یاد آئے‬ ‫: لمحات فکر۔ 41 اگست 8991 ء‬ ‫کو 15 واں یوم پاکستان حسب سابق شام و‬‫شوکت سے منایا گیا۔ اس سلسلہ میں جلسے ہوئے‬ ‫جلوس بھی نکالے گئے۔ جھنڈیاں لگائی گئیں۔‬ ‫جھنڈے لہرائے گئے اور رات کو خوب چراغاں کیا‬‫گیا اور اس تقریب کو عیدآزادی سے تعبیر کیا گیا۔‬
  • ‫: اگست 8991 ء 71‬ ‫کو سابق صدر ضیاءالحق کی قبر پر ان کی‬ ‫برسی بھی دھوم دھام سے منائی گئی۔ اس‬‫سلسلہ میں شدرحال کرکے دور دور سے بڑے بڑے‬ ‫قافلے‬‫ان کی قبر پر حاضری اور برسی میں شرکت کے‬‫لئے وہاں پہنچے۔ برسی سے قبل اخبارات میں بڑے‬ ‫بڑے باتصویر غیر شرعی قیمتی‬ ‫اشتہارات شائع کرائے گئے۔ مگر بڑے تعجب و‬ ‫افسوس کی بات ہے کہ اہل نجد و دیوبند اس‬ ‫موقع پر شاید گونگے بہرے ہو گئے یا دانستہ‬‫انہوں نے علمی بخل و کتمان حق سے کام لیا کہ‬ ‫دیوبندی یا وہابی اصول کے تحت ان دونوں‬
  • ‫بدبختوں کے خلف انہیں نے نہ کوئی اجتماعی‬ ‫مظاہرہ کیا اور نہ ان کی طرف سے کسی قسم‬‫کا کوئی خاص سا ریپلے دیکھنے ، سننے میں آیا۔‬‫ناحقہ سر بیگریباں ہے اسے کیا کہئیےخامہ انگشت‬ ‫بدنداں ہے اسے کیا کہئیے‬ ‫مشہور و مشاہدہ تو یہی ہے کہ‬ ‫ع وہابی آں باشد کہ چپ نہ شود‬‫لیکن نامعلوم کونسا سانپ سونگھ گیا کہ سبھی‬‫، نے چہ سادھ لی اور صورت حال یہ ہو گئی کہ‬ ‫ع چناں خفتہ اند گوئی کہ مرد ہ اند‬ ‫جبکہ‬
  • ‫: ربیع الول ۱۱‬ ‫کا چاند طلوع ہونے سے پہلے ہی یہ منکرین شان‬ ‫رسالت و مخالفین میلد مصطفی ) ع ل ی ہ التحیۃ‬‫والشا ء ( اس طرح تیاری کر لیتے اور کمربستہ ہو‬‫جاتے ہیں جیسا کہ کسی محاذ جنگ پر جانے والے‬ ‫ہیں۔‬ ‫: اہل نجد و دیوبند‬ ‫کے چھوٹے بڑے مولوی ملں نہ صرف زبانی و‬ ‫تقریری طور پر بلکہ بذریعہ اشتہارات جرائد و‬ ‫رسائل بیک وقت بیک زباں خبث باطنی کا‬
  • ‫مظاہرہ کرتے ہوئے بدیں الفاظ زہر اگلنے لگتے ہیں‬‫کہ عیدمیلدالنبی بدعت ہے بے ثبوت ہے اسراف ہے۔‬ ‫دن مقرر کرنا سالنہ یادگار منانا‬ ‫جائز نہیں۔ خیرالقرون میں ایسا نہیں ہوا۔‬ ‫صحابہءکرام علیہم الرضوان نے ایسا نہیں کیا۔‬ ‫وغیر ذالک من الخرافات۔ مگر 41 اگست اور‬ ‫71 اگست‬ ‫کے مجموعہ بدعات پر اس قسم کے اعتراضات‬ ‫کی بنیاد پر کوئی مخالفانہ رد عمل نہ کیا گیا۔‬ ‫حالنکہ وہی اعتراضات بلکہ ان سے بڑھ کر‬ ‫اعتراضات مذکورہ دونوں بدعتوں پر بھی عائد‬ ‫ہوتے ہیں۔ ل ٰہذا اگر یہ بدعت نہیں اور ان پر‬‫اعتراض نہیں تو 21 ربیع الول اور محافل میلد‬
  • ‫شریف بدرجہ اول ی ٰ نہ بدعت ہیں نہ قابل‬ ‫اعتراض۔ اور اگر 21 ربیع الول بدعت و قابل‬ ‫اعتراض ہے تو 41 اگست اور 71 اگست کا‬ ‫پروگرام اس‬ ‫سے بڑھ کر بدعت و قابل اعتراض ہے۔ پھر اس‬ ‫پر الخاموشی نیم رضا کا مظاہرہ کیوں ؟ جبکہ‬‫41 اگست اور 71 اگست کی بدعتوں پر منکرین‬‫میلد مصطفی کی خاموشی ان کے گونگا شیطان‬ ‫) ش ی ط ا ن اخر س ( بننے کے مترادف ہے اور میلد‬ ‫مصطفی کی مخالفت ان کی شان رسالت سے‬ ‫صریح عداوت کا مصداق ہے۔ ورنہ وجہ بتائی‬ ‫جائے کہ جشن میلد مصطفی ) ع ل ی ہ التحیۃ‬‫والشنا ئ ( کے خلف اس قدر بدزبانی، واویل اور‬ ‫جھوٹی فتو ی ٰ بازی کیوں ہے۔ اور 41 اگست و‬