Imam ahmad-raza-khan
Upcoming SlideShare
Loading in...5
×
 

Imam ahmad-raza-khan

on

  • 576 views

 

Statistics

Views

Total Views
576
Views on SlideShare
576
Embed Views
0

Actions

Likes
0
Downloads
4
Comments
0

0 Embeds 0

No embeds

Accessibility

Categories

Upload Details

Uploaded via as Microsoft Word

Usage Rights

© All Rights Reserved

Report content

Flagged as inappropriate Flag as inappropriate
Flag as inappropriate

Select your reason for flagging this presentation as inappropriate.

Cancel
  • Full Name Full Name Comment goes here.
    Are you sure you want to
    Your message goes here
    Processing…
Post Comment
Edit your comment

Imam ahmad-raza-khan Imam ahmad-raza-khan Document Transcript

  • ‫1‬ ‫چودھویں صدی کے عظیم المرتبت‬ ‫مجدددین وملت اعلیٰ حضرت امام احمد‬ ‫رضا خان بریلوی رحمہ اللہ علیہ‬‫بقلم:مولنامحمد ناصر خان چشتی‬‫علم و حکمییت کییے بییے تاج بادشاہ ، مجدددییین و ملت ، عظیییم‬‫المرتبیت محدث ، فقیہہ اعظیم، پاسیبانِ ناموسی رسیالت، امام‬ ‫ِ‬‫اہلسیینّت ، اعلیییٰ حضرت امام الشاہ احمیید رضییا خان بریلوی‬‫رحم یۃ اللہ علی یہ 01 شوال المکرم 2721ھ/21 جون 6581 ء،‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫بیییییہ روز اتوار ، ہندوسیییییتان کیییییے مشہور شہر بریلی کیییییے‬‫محلہ“جس یولی”می یں پیدا ہوئے۔آپ ک یا پیدائش یی نام “محم ید”اور‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫تاریخی نام“المختار” ہے جبکہ آپ کے جدا مجد مولنا رضا علی‬‫خان رحم یہ اللہ ن یے آپ ک یا نام“احم ید رض یا”رکھ یا۔ آپ ک یے والد‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫گرامیی امام المتکلمیین مولنیا نقیی علی خان اور آپ کیے جید‬ ‫ی ی‬ ‫ی ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫امجید مولنارضیا علی خان صیاحب بھیی اپنیے وقیت کیے جلییل‬ ‫القدر علماءِ کرام میں شمار کئے جاتے تھے۔‬‫اعل یٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمہ اللہ مذہب کی‬‫طرف راغیب تھیے،اسیی مذہبیی اورپرتقدس ماحول مییں آپ نیے‬ ‫‪Copy right by www.fikreraza.org‬‬
  • ‫1‬‫صیرف چار ، پانیچ برس کیی عمیر مییں قرآن مجیید ناظرہ ختیم‬‫کرلییا تھیا اور اپنیی بیے پنیا ہ خداداد صیلحیتوں اور حیرت انگییز‬‫قوت حافظیہ کیی بناء پیر صیرف تیرہ سیال اور دس ماہ کیی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی ی‬‫عمیر مییں علم تفسییر، حدییث، فقیہ و اصیول فقیہ، منطیق و‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی ی‬‫فلسییفہ اور علم کلم ا یسییے مروجییہ علوم دینیییہ کییی تکمیییل‬ ‫کرلی۔‬‫آپ نے بعض علوم اپنے وقت کے جید علماء کرام سے حاصل کئے‬‫اور بعیض علوم مییں اپنیے ذاتیی مطالعیہ اور غور و فکیر سیے‬‫کمال پیدا کییا، خصیوصا علم ریاضیی ، علم جفیر اور علم نجوم‬‫وہیئت وغیرہ میں اپنے ذاتی مطالعہ سے ایسی دسترس حاصل‬‫کیی کیہ ان علوم و فنون کیے میدان مییں اپنیے تمام ہم عصیروں‬‫کیو پیچھیے چھوڑ دییا۔ ریاضیی اور علم جفیر کیے بھیی بڑے بڑے‬‫ماہرین نے آپ کی علمی عظمت کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے اور‬‫مشرق ومغرب مییں آپ کیا علمیی اورروحانیی فیضان جاری و‬ ‫ساری ہوگیا۔‬‫آپ علم وفضیل کیے اتنیے بلندتریین مقام پیر فائز تھیے کیہ عرب و‬‫عجم کے علماء کرام نے شاندارالفاظ میں آپ کو خرا جِ تحسین‬‫پیش کیا اورعظیم الشان القاب سے نوازا۔5921ھ/8781ء میں‬ ‫‪Copy right by www.fikreraza.org‬‬
  • ‫1‬‫اعلیی حضرت امام احمید رضیا خان بریلوی رحمیہ اللہ اپنیے والد‬ ‫ٰ‬‫کے ہمراہ پہلی بار حج بیت اللہ کیلئے گئے۔ قیام مکۃ المکرمہ کے‬‫دوران مشہور شافعیی عالم شییخ حسیین بین صیالح آپ سیے بیے‬‫حد متاثر ہوئے اور آپ کی بڑی تحسین و تکریم فرمائی،کیونکہ‬‫اعلییییییٰ حضرت نیییییے صیییییرف دن مییییییں ان کیییییی کتاب‬‫“الجوھرۃالمضییہ”کیی شرح نہاییت فصییح و بلییغ عربیی مییں‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی ی‬‫“النیرۃالوضییہ فیی شرح الجوھرۃ المضییہ”کیے نام سیے لکیھ کیر‬‫دے دی تھیی۔بعدازاں آپ نیے اس کتاب مییں کچیھ تعلیقات اور‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫حواشی کا اضافہ کر کے اس کا تاریخی نام“الطرۃ الرضیہ فی‬ ‫النیرۃ الوضیہ ” تجویز فرمایا۔‬‫اس ییی طرح 2231 ھ/5091ء می ییں آپ دوبارہ زیارت حرمیییین‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫شریفیین کیے لییے گئے تیو اس بار وہاں کیے علماء کبار کیلئے نوٹ‬‫)کرنسی( کے ایک مسئلے کا حل “کفل الفقیہ الفاہم فی احکام‬‫قرطاس الدراہم”کیے نام سیے تحرییر فرماییا۔ اس کیے علوہ اییک‬‫اور کتاب ”الدولۃ المکیّییہ”بھییی تحریییر فرمائی، جییس میییں‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫حضورسییّد عالم صیلی اللہ علییہ وسیلم کیے علم غییب کیے اثبات‬‫پرعالمانیہ اور محققانیہ بحیث کرکیے حضوراکرم صیلی اللہ علییہ‬‫وس یلم ک یے علم غی یب کوقرآن حدی یث ک یی روشن یی می یں ثاب یت‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫‪Copy right by www.fikreraza.org‬‬
  • ‫1‬‫فرمایاہے۔ چنانچہ ان ہی تصانیف جلیلہ کی بناء پر بعض علماءِ‬ ‫حرمین طیبین نے آپ کو“مجدداُمت”کا خطاب دیا ہے۔‬ ‫شر ف ِ بیعت وخلفت‬‫5921ھ/7781ء مییں حضرت شاہ آل رسیول مار ہروی رحمیہ‬‫اللہ سیے سیلسلۂ قادرییہ مییں بیعیت ہوئے اور دیگیر سیلسل مثلً‬‫سیلسلۂ چشتییہ ، سیہروردیہ اور نقشبندییہ وغیرہ مییں دوسیرے‬ ‫مشائخ سے خلفت و اجازت حاصل کی۔‬ ‫سیرت و کردار‬‫اعلی حضرت مولنیا شاہ احمید رضیا خان محدث بریلوی رحمیہ‬‫اللہ بچپین ہی سیے تقویی و طہارت ، اتباعی سینت، پاکیزہ اخلق‬ ‫ِ‬ ‫ٰ‬‫اورحسین سییرت کیے اوصیاف جلیلہ سیے مزیین ہوچکیے تھیے۔ آپ‬‫کیی زندگیی کیے تمام گوشیے اور تمام شعبیے اتباع شریعیت اور‬‫اطاعیت و محبیت رسیول صیلی اللہ علییہ وسیلم سیے معمور تھیے‬‫آپ کیی حیات مبارکیہ اییک اییک لمحیہ اور زندگیی کیا اییک اییک‬ ‫گوشہ کتاب و سنت کی پیروی میں گزرا۔‬‫آپ صرف چودہ برس کی عمر میں ہی عظیم الشان عالم اور‬‫عظیم المرتبت فاضل ہوگئے تھے اور پھر تقریبا چون)45( برس‬‫تک مسلسل دینی اور علمی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ آپ کے‬ ‫‪Copy right by www.fikreraza.org‬‬
  • ‫1‬‫سیب کام حیب الہٰی اور حیب رسیول صیلی اللہ علییہ وسیلم کیے‬‫ماتحیت تھیے۔آپ کیے خادم خاص بیان کرتیے ہییں کیہ امام احمید‬‫رضیا خان بریلوی رحمیہ اللہ چوبییس گھنٹوں مییں صیرف ڈیڑھ‬‫ییا دوگھنٹیے آرام )وہ بھیی سینت رسیول صیلی اللہ علییہ وسیلم‬‫پرعمیل کیی وجیہ سیے(فرماتیے اور باقیی تمام وقیت تصینیف و‬‫تالییف ، درس و تدرییس کتیب بینیی، افتاء اور دیگرخدمات دینییہ‬ ‫میں صرف فرماتے۔‬‫شاعیر مشرق علمیہ محمید اقبال آپ کیے ہم عصیر تھیے اور آپ‬‫کیو بڑی قدرو منزلت کیی نگاہ سیے دیکھتیے تھیے۔ اییک موقیع پیر‬‫آپ کو خراج عقیدت اورخرا جِ تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ:‬‫“ہندوسیتان کیے دورِ آخیر مییں امام احمید رضیا جیسیا طباع اور‬‫ذہییین فقیہہ پیدا نہیییں ہوا، اُن کییے فتاویییٰ، اُن کییی ذہانییت و‬‫فطانت ، کمال فقاہت اور علوم دینیہ میں تبحر علمی کے شاہد‬‫عادل ہییں۔ ان کیی طبیعیت مییں شدت زیادہ تھیی، اگیر ییہ چییز‬‫درمیان میں نہ ہوتی تو مولنا احمد رضا خان اپنے دور کے امام‬‫اب یو حنیف یہ ہوت یے”۔ )بحوالہ: اس یلمی انس یا ئیکلوپیڈی یا :ص یفحہ‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫8311(‬ ‫‪Copy right by www.fikreraza.org‬‬
  • ‫1‬‫اعلی ٰی حضرت مولنیا شاہ احمید رضیا خان فاضیل بریلوی رحمیہ‬‫اللہ کیی تمام عمیر درس و تدرییس، وعیظ و تقرییر ، افتاء اور‬‫تالییف و تصینیف مییں بسیرہوئی، آپ کوآقائے نامدارحضور سیید‬‫عالم صیلی اللہ علییہ وسیلم سیے والہانیہ عشیق و محبیت تھیی۔‬‫ذکیر و فکیر کیی ہر مجلس مییں تصیورِ رسیالت مآب صیلی اللہ‬‫علییہ وسیلم سیے ذہن شاداب رہتیا تھیا۔دیین اسیلم کیے ہر گوشیے‬‫اور ہر شعبے کو محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سمو‬‫دی یا۔ عش یق و محب یت ک یی پاکیزہ لطافتوں ک یو ج ین لوگوں ن یے‬ ‫ی‬ ‫ی ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫بدعت کا نام دیا، آپ نے انہیں سنت و بدعت کا فرق سمجھایا۔‬‫عظمیت رسیول صیلی اللہ علییہ وسیلم مییں تنقییص وکمیی کرنیے‬‫والوں کا عاشقانہ غیرت سے احتساب کیااور ذکروفکراورعلم و‬ ‫عمل کے ہر پہلو میں عظمت رسول کو اجاگر کیا۔‬‫تقدیییس ِخداوندی اورناموس یِ رسییالت اورعظمییت مصییطفوی‬‫صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتحریک آپ نے 8781ء سے 1291ء‬‫تک جاری رکھی اورمحافلِ میلدکے انعقادکی جو مشعلیں آپ‬‫نییے روشیین رکھیییں،وہ آج چمکتییے ہوئے سییتاروں میییں تبدیییل‬‫ہوکرچہار دانگ ییِ عالم مییییں روشنیاں بکھیررہی ہییییں،آپ نیییے‬‫مختصیرسی عمرمییں جوکارہائے نمایاں سیرانجام دےئے ہییں وہ‬ ‫‪Copy right by www.fikreraza.org‬‬
  • ‫1‬‫اس بات کیے شاہدعادل ہییں کیہ آپ کاوجودآیاتی خداوندی مییں‬ ‫ِ‬ ‫سے ایک آیت کادرجہ رکھتاہے۔‬‫امام احمدرضا!کسی فردِواحدکانام نہیں بلکہ تقدیس ِالوھیت‬‫اورناموسی رسیالت اورعظمیت مصیطفی صیلی اللہ علییہ وسیلم‬ ‫ِ‬‫کیی تحرییک کانام ہے۔عامتیہ المسیلمین کیے زندہ ضمیرکانام ہے۔‬‫عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں ڈوب کردھڑکنے والے‬‫مبارک قلب کانام ہے اور جب تک یہ سب چیزیں زندہ رہیں گی،‬‫امام احمدرضاخان بریلوی رحم یہ اللہ کانام بھ یی زندہ وتابندہ‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫رہے گااورآج اگرعصییمتِ انبیاء اورعظمت یِ مصییطفی صییلی اللہ‬‫علیییہ وسییلم کاچراغ روشیین ہے توامام احمدرضاخان فاضییل‬ ‫بریلوی رحمہ اللہ کادامن اس کا فانوس بناہواہے۔‬ ‫تصانیف اورعلوم وفنون‬‫اعل یٰ حضرت عظیم البرکت امام احمد رضا خان بریلوی رحمہ‬‫اللہ کوپچپین سیے زائدعلوم وفنون پرمکمیل دسیترس اورمہارت‬‫حاصیل تھیی۔اعلیی حضرت رحمیہ اللہ کثیرالتصیانیف عالم دیین‬ ‫ٰ‬‫ہیییں۔آپ کییی تصییانیف ِجلیلہ کییی تعدادکییم وبیییش ایییک ہزار)‬‫0001(تییک ہے۔کثرتییِ تصییانیف کییے لحاظ سییے بھییی آپ کییی‬‫شخصییت اییک امتیازی حیثییت کیی حامیل ہے۔اس قدرتصیانیف‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫‪Copy right by www.fikreraza.org‬‬
  • ‫1‬‫وتوالییف کیے علوہ آپ نیے مختلف علوم وفنون کیی تقریبااسیّی)‬ ‫08(کتابوں پرحواشی بھی تحریرفرمائے ہیں۔‬‫وہ علوم وفنون جیین میییں آ پ کییی یاد گار علمییی و تحقیقییی‬‫تصانیف ہیں، مثل ً عقائد ، کلم ، تفسیر ، حدیث ، اصول حدیث،‬‫فقہ ، اصول فقہ، تجوید ، تصوف ، فضائل و مناقب، علم جفر،‬‫علم ریاض ییی و ہندسییہ، زیجات، توقی ییت اور علم نجوم و ہیئت‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫وغیرہ شامل ہیں اور ان میں نمایاں ترین تخلیق شا نِ اُلوھیت‬‫اورناموسی رسیالت، عظمتی مصیطفی صیلی اللہ علییہ وسیلم ،‬ ‫ِ‬ ‫ِ‬‫احترام اولیاء اورروحیِ قرآن کیے مطابیق قرآنیِ مجیدکیا سیلیس‬ ‫ی ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫اوربامحاورہ ترجمییییہ الموسییییوم “کنزالیمان فییییی ترجمییییۃ‬‫القرآن”ہے،جواسمِ بامسمّی ترجمہ ہے یعنی اس کے پڑھنے سے‬‫واقعییی ایمان وایقان کاخزانییہ حاصییل ہوتاہے بلکییہ اورزیادہ‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ہوتاہے۔‬‫اوردوسری شہرۂ آفاق تصنیف بارہ ضخیم جلدوں میں شاندار‬‫علمیییییی شاہ کار اور تحقیقات ِنادرہ پیییییر مشتمیییییل فقہی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫انسیائیکلوپیڈیا “فتاویی رضوییہ” ہے، جیس مییں ہزاروں قدییم و‬ ‫ٰ‬‫جدییید شرع یی مس یائل و احکام ا ور علمییی و فقہی تحقیقییی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫فتاو یٰ قلم بند ہیں۔ جس کو جامعہ نظامیہ لہورکے اساتذہ نے‬ ‫‪Copy right by www.fikreraza.org‬‬
  • ‫1‬‫مفتیی عبدالقیوم ہزاروی رحمیہ اللہ کیی سیرپرستی مییں جدیید‬‫زبان وبیان اورتسہیل کے ساتھ 33 )تینتییس( جلدوں میں شائع‬ ‫کردیا ہے۔‬ ‫علمی وفقہی مقام‬‫اعل یٰ حضرت امام احمد رضا خان قدس سرہ العزیز نے فتاو یٰ‬‫رضوییہ کیے کتاب الطہارۃ کیے باب التیمیم مییں اییک نادر فتویی‬‫ٰ‬‫تحرییر فرماییا، جیس مییں آپ نیے اییک سیو اکاسیی )181 (ایسیی‬‫چیزوں کیے نام گنوائے ہییں ،جین سیے تیمیم کییا جاسیکتا ہے اس‬‫مییں 47 منصیوصات )یعنیی وہ مسیائل واحکام جنھییں فقہاءِ‬‫متقدمیین نیے بیان فرمادییا( اور 701 مزیدات)یعنیی وہ مسیائل‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی ی‬‫واحکام جنھییں آپ نیے اپنیے اجتہادواسیتنباط سیے بیان فرماییا(‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫ہییں۔ اور پھیر اییک سیو تییس )031( ایسیی اشیاء کیے نام تحرییر‬‫کئے ہییییں، جییین سیییے تیمیییم کرناجائز نہییییں ہے، ان مییییں 85‬ ‫منصوصات اور 27زیادات ہیں۔‬‫اسی طرح امام احمد رضا خان بریلوی نور اللہ مرقدہ نے وضو‬‫کیلئے پانی کی اقسام پر بحث کرتے ہوئے ایسے پانی کی ایک سو‬‫ساٹھ )061( قسمیں بیان کی ہیں، جس سے وضو کرنا جائز ہے‬‫اور وہ پان یی ج یس س یے وض یو جائز نہی یں، اس ک یی ای یک س یو‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫‪Copy right by www.fikreraza.org‬‬
  • ‫1‬‫چھیالییس )641( اقسیام بیان فرمائی ہییں اوراسیی طرح پانیی‬‫کیے اسیتعمال سیے عجزکیی اییک سیو پچھتیر )571(صیورتیں بیان‬ ‫فرمائی ہیں۔‬‫امام اہلسینّت امام احمید رضیا خان بریلوی قدس سیرہ العزیزنیے‬‫اییک سیوال کیہ “باپ پیر بیٹیے کیا کیس قدر حیق ہے ”کیے تحیت‬‫احادیث مرفوعہ کی روشنی میں تفصیلی جواب دیتے ہوئے اولد‬‫کے ساٹھ )06( حقوق بیان فرمائے اورفرمایا کہ یہ حقوق پسر‬‫اور دختیر )بیٹیا اوربیٹیی( دونوں کیے لئے مشترک ہییں اور پھیر بیٹیے‬‫کے خاص پانچ حقوق لکھے اوردختر کے لئے خاص پندرہ حقوق‬‫لکھیے ۔اس طرح آپ نیے اولد کیے کیل اسیی )08( حقوق تحرییر‬ ‫فرمائے ہیں۔‬‫ہم نیے صیرف ییہ تیین مثالییں آپ کیے سیامنے اختصیار واجمال کیے‬‫سیاتھ پیش کی ہییں ،ورنہ فتاو یٰ رضویہ کے جہازی سائز بارہ‬‫ضخیم جلدیں اس قسم کی تحقیقا تِ نادرہ وعجیبہ سے لبریز‬‫پڑی ہیں اور جن کا مطالعہ کرنے کے بعد انسان بے ساختہ پکار‬‫اٹھتییا ہے کییہ اعلیییٰ حضرت کییے قلب و دماغ میییں سیییدنا امام‬‫اعظیم ابیو حنیفیہ رضیی اللہ عنیہ کیی سیی مجتہدانیہ ذہانیت و‬ ‫بصیرت ہے۔‬ ‫‪Copy right by www.fikreraza.org‬‬
  • ‫1‬‫اعلیی حضرت رحمیہ اللہ کیی جملہ خوبیوں مییں اییک بہت بڑی‬ ‫ٰ‬‫خوبیییی بلکیییہ امتیازی شان ییییہ بھیییی ہے کیییہ آپ اسیییتفتاء‬‫)سوال(کاجواب اسی زبان میں دیتے تھے،جس زبان میں سوال‬‫کیاجاتیا تھیا،مثل ًآپ کیے پاس دنیابھرسیے سیینکڑوں سیوالت آتیے‬‫تھیے،اگیر سیوال عربیی زبان مییں ہوتاتوآپ جواب بھیی عربیی‬‫زبان مییں دیتیے تھیے،اگیر سیوال فارسیی زبان مییں ہوتاتوآپ کیا‬‫جواب بھیی فارسیی مییں ہوتیا تھیا،یہاں تیک کیہ آپ نیے انگریزی‬‫زبان میییییں سییییوال کاجواب بھییییی انگریزی زبان میییییں ہی‬‫تحریرفرمایااور اگرسییییوال منظوم شکییییل میییییں ہوتاتھاتوآپ‬‫کاجواب بھ ییی منظوم ہوتااوراس ک ییے علوہ اگرس ییوال می ییں‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫سیائنسی اندازاختیارکیاجاتاتوآپ بھیی جواب سیائنسی اندازمییں‬ ‫تحریرفرماتے تھے”۔)بحوالہ: علوم سائنس اورامام احمدرضا)‬‫عقائد اسلم کے جو ارکان مرجھا چکے تھے،ان کے احیاء کے لئے‬‫آپ نیے جوکتابییں تصینیف فرمائی ہییں، ان مییں سیے چنید مندرجیہ‬ ‫ذیل ہیں:‬‫تمہید ایمان، ح ُسام الحرمین، سبحان السبوح، خالص العتقاد،‬‫الکوکبییۃ الشہابیییہ، انباء المصییطفیٰ، تجلی الیقییین وغیرہ، اور‬ ‫‪Copy right by www.fikreraza.org‬‬
  • ‫1‬‫اعمالِ صیالحہ کیے احیاء کیلئے فتاویی رضوییہ کیی بارہ ضخییم‬ ‫ٰ‬ ‫جلدیں آپ کی مجددانہ بصیرت پرشاہد عادل ہیں ۔‬‫وہ امام احمید رضیا ، جیو“وعلمناہ مین لدنیا علمیا ” کیی تعبییر ،‬ ‫“انما یخشی اللہ من عبادہ العلمٰوء” کی تفسیر‬ ‫اور“والرّاسخون فی العلم ”کی مکمل تصویر تھے۔‬‫وہ امام احمد رضا، جس نے اپنی علمی و فقہی بصیرت سے بے‬ ‫شمار پیچیدہ مسائل پرمستند فتوے ارشاد فرمائے ۔‬‫وہ امام احمید رضیا، جیس نیے عرب و عجیم تیک علم و حکمیت‬ ‫کی قندیلیں روشن کردیں ۔‬‫وہ امام احمد رضا، جسے عرب و عجم کے علماء کرام نے خراج‬‫عقیدت پی ییییییییییییییییییییییییییییییش کی ییییییییییییییییییییییییییییییا ۔‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫وہ امام احم ید رض یا، ج یو “العلماء ورث یۃ النبیاء ” ک یے حقیق یی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫مصداق تھے۔‬‫الغرض اعلیییٰ حضرت مولنییا شاہ احمیید رضییا خان فاضییل‬‫بریلوی رض یی اللہ عن یہ ک یو اللہ تعالی یٰ ن یے ب یے شمار وہب یی اور‬ ‫ی‬ ‫ی ی‬ ‫ی ی‬ ‫ی‬ ‫کسبی خصوصیات سے نوازا تھا۔‬ ‫جلیل القدر مجدد‬ ‫‪Copy right by www.fikreraza.org‬‬
  • ‫1‬‫حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی‬‫کرییم صیلی اللہ علییہ وسیلم نیے ارشاد فرماییا کیہ“ بیے شیک اللہ‬‫تعالیٰ اس امّت کیلئے ہر سو سال کے سرے پر ایک آدمی بھیجے‬‫گا جو اس کیلئے اس کے دین کی تجدید کرے گا۔)سنن ا بوداؤد،‬ ‫مشکوٰۃ المصابیح(‬‫مجددکی سب سے بڑی علمت ونشانی یہ بیان کی گئی ہے کہ‬‫گزشتیہ صیدی کیے آخرمییں اس کیی پیدائش اورشہرت ہوچکیی‬‫ہواورموجودہ صیدی مییں بھیی وہ مرکزعلوم وفنون سیمجھا‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫جاتاہو،یعنیی علماءِ کرام کیے نزدییک اس کیے احیاءِ سینت وازالہ‬ ‫بدعت اوردیگر خدماتِ دینیہ کاخوب چرچااور شہرت ہو۔‬‫علماء کرام کیی بیان کردہ علمات کیے سیوفیصدمصداق اعلیی‬‫ٰ‬‫حضرت امام احمیید رضاخان بریلوی رحمییہ اللہ ثابییت ومسییلّم‬‫ہیں۔ جن کوحدی ثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق عرب‬‫وعج یم کیے ممتازعلماءِ کرام اورمشائخیِ عظام ن یے )چودھوییں‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی ی‬ ‫صدی کے(مجددکے عظیم لقب سے پکاراہے۔‬‫علماء اسیلم کیے بیان کییے فرمودہ اصیول کیے مطابیق اگیر اہل‬‫حق چودھویں صدی کی فضائے اسلم پر نگاہ ڈالیں تو اُنہیں‬‫مجددییت کیا اییک درخشاں آفتاب اپنیی نورانیی شعاعوں سیے‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی ی‬ ‫ی‬ ‫‪Copy right by www.fikreraza.org‬‬
  • ‫1‬‫بدعیت و ضللت اور کفیر و شرک کیی تارییک و دبییز تہوں کیو‬‫چیرتیا ہوا نظیر آئے گیا۔جیس کیی بیے مثال تابانیی سیے اییک عالم‬‫چمییک و دمییک رہا ہے اور وہ فخییر روزگار مجدد دییین و ملّت‬‫اعلی ییٰ حضرت امام الشاہ احم یید رض ییا خان بریلوی، حنف ییی،‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫قادری ہیں۔‬‫اس لئے کیہ آپ کیی ولدت باسیعادت 01شوال المکرم 2721ھ‬‫مییں ہوئی اور آپ کیا وصیال 52صیفر المظفیر 0431ھ مییں ہوا۔‬‫یوں آپ نیے تیرھوییں صیدی مییں سیتائیس سیال، دو مہینیے اور‬‫بیس دن پائے۔ جس میں آپ کے علوم و فنون، درس و تدریس،‬‫تالیف و تصنیف، افتاء اور وعظ و تقریر کا شہرہ ہندوستان سے‬‫عرب و عجم تک پہنچا اور چودھویں صدی میں چالیس سال‬‫اییک مہینیہ اور پچییس دن پائے۔ جیس مییں حماییت دیین، نکاییت‬‫مفسیدین، احقاق حیق و ازہاق باطیل، اعانیت سینّت اور اماتیت‬‫بدعیت کیے فرائض منصیبی کیو کچیھ ایسیی خوبیی اور کمال کیے‬‫ساتھ آپ نے سرانجام دئیے جو آپ کے جلیل القدرمجدد ہونے پر‬ ‫شاہد عدل ہیں ۔‬ ‫شاہ کارنعتیہ کلم‬ ‫‪Copy right by www.fikreraza.org‬‬
  • ‫1‬‫اعلی ٰی حضرت امام احمدرضاخان بریلوی رحمیہ اللہ علوم دینییہ‬‫کے عالم وفاضل ہونے کے ساتھ ساتھ شعروسخن کابھی اعلیٰ‬‫ذوق وشوق رکھتیے تھیے اورآپ فین شاعری مییں بھیی بڑاکمال‬‫رکھتے تھے،لیکن آپ کاذوقِ سلیم حمدوثناء اورنعت ومنقبت کے‬‫علوہ کسی اورصینف سخن کی طرف متوجہ نہیں ہوا۔آپ کے‬‫اس شعروسیخن کیے کلم مییں بھیی وہی عالمانیہ وقارہے۔وہی‬‫قرآن وحدیییییث کییییی ترجمانییییی ہے،وہی سییییوزوسازاورکیف‬‫وسییرورکاسامان ہے۔اعلیییٰ حضرت فاضییل بریلوی رحمییہ اللہ‬‫سرتاپاجذبۂ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشاررہتے‬‫تھیے۔آپ نیے جیس والہانیہ عقیدت سیے اورجذبیہ عشیق ومحبیت‬‫میییں ڈوب کرجوآقائے نامدارحضوررحمییۃ للعالمییین صییلی اللہ‬‫علییہ وسیلم کیی شان مییں نعتییں لکھییں ہییں،اُن کیا اییک اییک‬‫لفیظ دل کیی اتھاہ گہرائیوں سیے نکلہواتھاجوسیامع کیے قلب‬‫ودماغ مییں اترکیر سیامع کیے دل مییں عشیق رسیول صیلی اللہ‬ ‫علیہ وسلم کی شمع کو روشن کردیتا ہے۔‬‫آپ کیے مشہورِزمانیہ “سیلم”کیی گونیج پورے عالم اسیلم مییں‬‫اوربالخصیوص برصیغیر پاک وہندکیے گوشیہ گوشیہ مییں کہییں‬‫بھیی اورکسیی بھیی وقیت سینی جاسیکتی ہے۔وہ مشہورِزمانیہ‬ ‫‪Copy right by www.fikreraza.org‬‬
  • ‫1‬‫سییییییییییییییییییییییییییییییییییلم یییییییییییییییییییییییییییییییییییہ ہے:‬ ‫مصطفی جانِ رحمت پہ لکھوں سلم‬ ‫شمع بزمِ ہدایت پہ لکھوں سلم!‬‫اعلیی حضرت فاضیل بریلوی رحمیہ اللہ کیے نعتییہ دیوان“حدائق‬ ‫ٰ‬‫بخش یش” ک یے مطالع یہ س یے معلوم ہوتاہے ک یہ آپ ن یے اپن یے شاہ‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫کارنعتییہ کلم مییں حمدوثناء اورنعیت و منقبیت کوچار مختلف‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫زبانوں)عربیی،فارسیی،اردواورہندی(مییں پییش کیاہے اورآپ کیے‬‫شاہ کارنعتیہ کلم میں وہ مشہورِزمانہ نعت جس میں آ پ نے‬‫کمالِ مہارت،برجسیتگی کلم اورقوتی تحریرکااییک عظییم شاہ‬ ‫ِ‬‫کارکلم پییییش فرمایاہے اوراییییک ہی نعیییت کیییے ہرشعرمییییں‬‫چارمختلف زبانوں)عرب یی،فارس یی،ہندی اور اردو(ک یو بڑے خوب‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫صیورت اوردل نشیین اندازمییں یکجاکرکیے موتیوں کیی مال کیی‬‫طرح پرودیاہے،ا س عظییییم شاہکارنعیییت کیییی اییییک جھلک‬ ‫ملحظہ فرمائیں:‬‫لم یات یییِ نظیرک ف یییی نظ یییر مث یییل تون یییہ ش ییید پیدا جان یییا‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫جیییگ راج کوتاج تورے سیییرسوہے تجیییھ کوشہہ دوسیییراجانا‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫البحرعلیییٰ والموج طغیییٰ میین بییے کییس وطوفاں ہوش رُییبا‬ ‫منجدھار میں ہوں بگڑی ہے ہوا موری نیّا پار لگا جانا‬ ‫‪Copy right by www.fikreraza.org‬‬
  • ‫1‬ ‫وصال مبارک‬‫اعلیی حضرت امام احمید رضیا خان بریلوی رحمیہ اللہ نیے اییک‬ ‫ٰ‬‫طوییل مدت تیک تشنگان علم و معرفیت کیو اپنیے کمالت ظاہری‬‫و باطنیی سیے مسیتفید کیر کیے اور عالم اسیلم مییں روحانییت ،‬‫تقرب الہٰی، علم و حکمیت اور عشیق رسیول صیلی اللہ علییہ‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫وسیییلم کیییا عالمگییییر ذوق پیدا کرکیییے 52 رصیییفر المظفیییر‬‫0431ہجری ،بیہ روز جمعیۃ المبارک، دو بیج کیر اڑتییس منیٹ)‬‫83:2( پیر آپ نیے داعئی اجیل کیو لبییک کہا،اُدھیر مؤذن نیے حیی‬‫علی الفلح کی صدا بلند کی اِدھر آپ نے جان! جان آفرین کے‬ ‫سپرد کردی۔‬‫” سوانح امام احمدرضا”کی تحقیق اور روایت کے مطابق جس‬‫وقت آپ کا وصال ہوا، اسی وقت بیت المقدس کے ایک شامی‬‫بزرگ ن یے خواب می یں رس یول اکرم ص یلی اللہ علی یہ وس یلم ک یو‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫خواب مییں دیکھیا کیہ آپ اپنیے صیحابۂ کرام رضیی اللہ عنہم کیے‬‫سیاتھ تشرییف فرمیا ہییں اور آثار سیے معلوم ہوتیا تھیا کیہ آپ‬‫کسیی کیے انتظار مییں ہییں۔انھوں نیے عرض کییا ییا رسیول اللہ‬‫صیلی اللہ علییہ وسیلم ، کیاکسیی کیا انتظار ہے؟ آپ صیلی اللہ‬‫علیہ وسلم نے فرمایا:“ہاں،احمد رضا انتظار ہے”۔انھوں نے پھر‬‫عرض کیی، ییا رسیول اللہ!ییہ احمید رضیا کون ہییں؟ حضوراکرم‬ ‫‪Copy right by www.fikreraza.org‬‬
  • ‫1‬‫ص یلی اللہ علی یہ وس یلم ن یے فرمای یا: ‘ہندوس یتان می یں بریلی ک یے‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫باشندے ہیں”۔‬‫چنانچیہ بیدار ہونیے کیے بعید اس شامیی بزرگ نیے پتیہ لگاییا تیو‬‫معلوم ہوا کیہ امام احمید رضیا خان بریلوی ہندوسیتان کیے بڑے‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ی‬‫جلیل القدر عالم دین ہیں اور اب تک بہ قید حیات ہیں،چنانچہ‬‫وہ شوقِ ملقات میں ہندوستان کی طرف چل پڑے، جب بریلی‬‫شریف پہنچے تو اُنہیں بتایا گیا کہ آپ جس عاشق رسول امام‬‫احمیید رضییا سییے ملقات کرنییے تشریییف لئے ہیییں وہ تییو 52‬‫صیفرالمظفر کو اس عالم ِی فانیی سے عال مِ جاوِدانی کی طرف‬ ‫روانہ ہوگئے ہیں۔‬ ‫‪Copy right by www.fikreraza.org‬‬