urdufanz magzine Nov 2012

1,640 views
1,328 views

Published on

urdufanz magzine Nov 2012
for detail join
www.urdufanz.com

Published in: Education
0 Comments
0 Likes
Statistics
Notes
  • Be the first to comment

  • Be the first to like this

No Downloads
Views
Total views
1,640
On SlideShare
0
From Embeds
0
Number of Embeds
1
Actions
Shares
0
Downloads
1
Comments
0
Likes
0
Embeds 0
No embeds

No notes for slide

urdufanz magzine Nov 2012

  1. 1. ‫ٓ‬ ‫قرانپاککافرمان‬ ‫حدیثرسولﷺ‬ ‫حند وىعت‬ ‫فیچاڈیرٹی: وچدہریااختفر‬ ‫اقبالپرخضوصی مضامین‬ ‫عمجورتبیت: وپیٹاٹرگیئ‬ ‫ٰ‬‫عیداالضحیکے بارےمیں‬ ‫اٹلٹئوڈزیاگننئ: امی۔یپ۔اخن‬ ‫بقرعید کیشانمیں‬‫امریکیسازشاور پاکستاىیقوو‬ ‫وپمکزگن: ااجعزادمحولدیھ‬‫اسالومیںخواتینکےحقوق‬ ‫ہللاپربھروسہکرىےوالے۔۔۔‬ ‫اہهاعالن‬
  2. 2. ‫درس قرآن‬ ‫ِ‬‫ثم قست قُلُوبكم مِنْ بعد ذلِك فهي كالحِجارة اَو اَشد قسوة ۚ وإِن مِنَ الحِجارة لَما يتفجر‬‫ْ َ َ ِ َ َََ ُ‬ ‫َْ ِ َ َ َ ِ َ َ ْ َ َ ِ ْ َ َ َْ َ‬ ‫ُُْ‬ ‫ُ َ َ ْ‬ ‫م ْنه الَ ْنهار ۚ وإِن م ْنها لَما يشقق فيخرج م ْنه الماء ۚ وإِن م ْنها لَما يهبِط مِنْ خشية ّللاِ‬ ‫َ َْ ِ‬ ‫ِ َ َ َ ْ ُ‬ ‫ِ َ َ َ ُ ََ ْ ُ ُ ِ ُ ْ َ ُ َ‬ ‫ِ ُ ْ َ ُ َ‬ ‫سورة البقرہ۔ آيت نمبر۔ 47‬ ‫وما ّللاُ بؽافِل عما تعملُونَ ‪O‬‬ ‫َ َْ َ‬ ‫َِ‬ ‫َ َ‬ ‫ترجمہ:‬‫پهر اسکے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے گويا وہ پتهر ہيں يا ان سے بهی زيادہ‬‫سخت اور پتهر تو بعضے ايسے ہوتے ہيں کہ ان ميں سے چشمے پهوٹ نکلتے‬‫ہيں اور بعضے ايسے ہوتے ہيں کہ پهٹ جاتے ہيں اور ان ميں سے پانی نکلنے‬‫لگتا ہے اور بعضے ايسے ہوتے ہيں کہ خدا کے خوؾ سے گر پڑتے ہيں اور خدا‬ ‫تمہارے عملوں سے بےخبر نہيں ۔‬ ‫تشريح:‬ ‫پتهر دل لوگ‬‫اس آيت ميں بنی اسرائيل کو زجر و توبيخ کی گئی ہے کہ اس قدر زبردست معجزے‬‫اور قدرت کی نشانياں ديکه کر پهر بهی بہت جلد تمہارے دل سخت پتهر بن گئے۔‬‫اسی لئے ايمان والوں کو اس طرح کی سختی سے روکا گيا اور کہا گيا آيت (الم يان‬‫للذين امنوا ان تخشع قلوبهم لذکر ّللا وما نزل من الحق ول يکونوا کالذين اوتوا‬‫الکتاب من قبل فطال عليهم المد فقست قلوبهم و کثير منهم فاسقون) يعنی کيا اب تک‬ ‫ٰ‬‫وہ وقت نہيں آيا کہ ايمان والوں کے دل ّللا تعالی کے ذکر اور ّللا کے نازل کردہ حق‬‫سے کانپ اٹهيں؟ اور اگلے اہل کتاب کی طرح نہ ہو جائيں جن کے دل لمبا زمانہ‬‫گزرنے کے بعد سخت ہو گئے اور ان ميں سے اکثر فاسق ہيں۔ حضرت ابن عباس‬‫سے مروی ہے کہ اس مقتول کے بهتيجے نے اپنے چچا کے دوبارہ زندہ ہونے‬‫اور بيان دينے کے بعد جب مر گيا تو کہا کہ اس نے جهوٹ کہا اور پهر کچه وقت‬‫گزر جانے کے بعد بنی اسرائيل کے دل پهر پتهر سے بهی زيادہ سخت ہو گئے‬ ‫کيونکہ پتهروں سے تو نہريں نکلتی اور بہنے لگتی ہيں بعض پتهر پهٹ جاتے ہيں‬
  3. 3. ‫ان سے چاہے وہ بہنے کے قابل نہ ہوں بعض پتهر خوؾ ّللا سے گر پڑتے ہيں‬‫ليکن ان کے دل کسی وعظ و نصيحت سے کسی پند و موعظت سے نرم ہی نہيں‬‫ہوتے۔ يہاں سے يہ بهی معلوم ہوا کہ پتهروں ميں ادراک اور سمجه ہے اور جگہ‬‫ہے آيت (تسبح لہ السموت السبع والرض ومن فيهن وان من شئی ال يسبح بحمدہ‬‫ولکن ل تفقهون تسبيحهم انہ کان حليما ؼفورا) يعنی ساتوں آسمان اور زمينيں اور‬ ‫ٰ‬‫ان کی تمام مخلوق اور ہر ہر چيز ّللا تعالی کی تسبيح بيان کرتی ہے ليکن تم ان کی‬ ‫ٰ‬‫تسبيح سمجهتے نہيں ہو۔ ّللا تعالی حلم و بردباری وال اور بخشش و عفو وال ہے۔‬‫ابو علی جبانی نے پتهر کے خوؾ سے گر پڑنے کی تاويل اولوں کے برسنے سے‬‫کی ہے ليکن يہ ٹهيک نہيں رازی بهی ؼير درست بتالتے ہيں اور فی الواقع يہ‬‫تاويل صحيح نہيں کيونکہ اس ميں لفظی معنی بےدليل کو چهوڑنا لزم آيا ہے وّللا‬‫اعلم۔ نہريں بہہ نکلنا زيادہ رونا ہے۔ پهٹ جانا اور پانی کا نکلنا اس سے کم رونا‬‫ہے گر پڑنا دل سے ڈرنا بعض کہتے ہيں يہ مجازا کہا گيا جيسے اور جگہ ہے‬‫يريدان ينقض يعنی ديوار گر پڑنا چاہ رہی تهی۔ ظاہر ہے کہ يہ مجاز ہے۔ حقيقتا‬‫ديوار کا اردہ ہی نہيں ہوتا۔ رازی قرطبی وؼيرہ کہتے ہيں ايسی تاويلوں کی کوئی‬ ‫ٰ‬‫ضرورت نہيں ّللا تعالی جو صفت جس چيز ميں چاہے پيدا کر سکتا ہے ديکهئے‬‫اس کا فرمان ہے آيت (انا عرضنا المانتہ) الخ يعنی ہم نے امانت کو آسمانوں‬‫زمينوں اور پہاڑوں کے سامنے پيش کيا انہوں نے اس کے اٹهانے سے مجبوری‬ ‫ٰ‬‫ظاہر کی اور ڈر گئے اور آيت گزر چکی کہ تمام چيزيں ّللا تعالی کی تسبيح بيان‬‫کرتی ہے اور جگہ ہے آيت (والنجم والشجر يسجدان يعنی اکاس بيل اور درخت ّللا‬ ‫ٰ‬‫تعالی کو سجدہ کرتے ہيں اور فرمايا يتقياظاللہ الخ اور فرمايا آيت (قالتا اتينا‬‫طائعين) زمين و آسمان نے کہا ہم خوشی خوشی حاضر ہيں اور جگہ ہے کہ پہاڑ‬‫بهی قرآن سے متاثر ہو کر ڈر کے مارے پهٹ پهٹ جاتے اور جگہ فرمان ہے آيت‬‫(وقالوا لجلودھم) يعنی گناہ گار لوگ اپنے جسموں سے کہيں گے تم نے ہمارے‬‫خالؾ شہادت کيوں دی؟ وہ جواب ديں گے کہ ہم سے اس ّللا نے بات کرائی جو ہر‬‫چيز کو بولنے کی طاقت عطا فرماتا ہے ايک صحيح حديث ميں ہے کہ احد پہاڑ کی‬ ‫نسبت رسول ّللا صلی ّللا عليہ وسلم نے فرمايا يہ پہاڑ ہم سے محبت رکهتا ہے اور‬
  4. 4. ‫ہم بهی اس سے محبت رکهتے ہيں ايک اور حديث ميں ہے کہ جس کهجور کے‬‫تنے پر ٹيک لگا کر حضور صلی ّللا عليہ وسلم جمعہ کا خطبہ پڑھا کرتے تهے جب‬‫منبر بنا اور وہ تنا ہٹا ديا گيا تو وہ تنا پهوٹ پهوٹ کر رونے لگا۔ صحيح مسلم‬‫شريؾ کی حديث ميں ہے رسول ّللا صلی ّللا عليہ وسلم فرماتے ہيں ميں مکہ کے‬‫اس پتهر کو پہچانتا ہوں جو ميری نبوت سے پہلے مجهے سالم کيا کرتا تها حجر‬‫اسود کے بارے ميں ہے کہ جس نے اسے حق کے ساته بوسہ ديا ہو گا يہ اس کے‬‫ايمان کی گواہی قيامت والے دن دے گا اور اس طرح کی بہت سی آيات اور حديثيں‬‫ہيں جن سے صاؾ معلوم ہوتا ہے کہ ان چيزوں ميں ادراک و حس ہے اور يہ تمام‬‫باتيں حقيقت پر محمول ہيں نہ کہ مجاز پر۔ آيت ميں لفظ"او" جو ہے اس کی بابت‬‫قرطبی اور رازی تو کہتے ہيں کہ يہ تبخير کے لئے ہے يعنی ان کے دلوں کو خواہ‬‫جيسے پتهر سمجه لو يا اس سے بهی زيادہ سخت۔ رازی نے ايک وجہ يہ بهی بيان‬‫کی ہے کہ يہ ابہام کے لئے ہے گويا مخاطب کے سامنے باوجود ايک بات کا پختہ‬‫علم ہونے کے دو چيزيں بطور ابہام پيش کی جا رہی ہيں۔ بعض کا قول ہے کہ مطلب‬ ‫يہ ہے کہ بعض دل پتهر جيسے اور بعض اس سے زيادہ سخت ہيں ۔ وّللا اعلم۔‬‫اس لفظ کے جو معنی يہاں پر ہيں وہ بهی سن ليجئے اس پر تو اجماع ہے کہ آو‬‫شک کے لئے نہيں يا تو يہ معنی ميں واو کے ہے يعنی اس کے دل پتهر جيسے‬‫اور اس سے بهی زيادہ سخت ہو گئے جيسے آيت (لتطع منهم اثما او کفورا) ميں‬‫اور آيت (عذرا اور نذرا) ميں شاعروں کے اشعار ميں اور واو کے معنی ميں جمع‬‫کے لئے آيا ہے يا او يہاں پر معنی ميں بل يعنی بلکہ کے ہے جيسے آيت (کخشيتہ‬‫ّللا اواشد خشيتہ) ميں اور آيت (ارسلناہ الی مائتہ الؾ او يزيدون) ميں اور آيت‬‫(فکان قاب قوسين او ادنی) ميں بعض کا قول ہے کہ مطلب يہ ہے کہ وہ پتهر‬‫جيسے ہيں يا سختی ميں تمہارے نزديک اس سے بهی زيادہ بعض کہتے ہيں صرؾ‬‫مخاطب پر ابہام ڈال گيا ہے اور يہ شاعروں کے شعروں ميں بهی پايا جاتا ہے کہ‬‫باوجود پختہ علم و يقين کے صرؾ مخاطب پر ابہام ڈالنے کے لئے ايسا کالم کرتے‬‫ہيں قرآن کريم ميں اور جگہ ہے آيت (وانا اوياکم لعلی ھدی او فی ضالل مبين) يعنی‬‫ہم يا تم صاؾ ہدايت يا کهلی گمراہی پر ہيں تو ظاہر ہے کہ مسلمانوں کا ہدايت پرہونا‬
  5. 5. ‫اور کفار کا گمراہی پر ہونا يقينی چيز ہے ليکن مخاطب کے ابہام کے لئے اس کے‬‫سامنے کالم مبہم بول گيا۔ يہ بهی مطلب ہو سکتا ہے کہ تمہارے دل ان دو سے‬‫خارج نہيں يا تو وہ پتهر جيسے ہيں يا اس سے بهی زيادہ سخت يعنی بعض ايسے‬‫اس قول کے مطابق يہ بهی ہے آيت (کمثل الذی استوقد نارا) پهر فرمايا آيت (او‬‫کصيب) اور فرمايا ہے کسراب پهر فرمايا آيت (او کظلمات) مطلب يہی ہے کہ بعض‬‫ايسے اور بعض ايسے وّللا اعلم۔ تفسير ابن مردويہ ميں ہے رسول ّللا صلی ّللا‬‫عليہ وسلم فرماتے ہيں ّللا کے ذکر کے سوا زيادہ باتيں نہ کيا کرو کيونکہ کالم کی‬‫کثرت دل کو سخت کر ديتی ہے اور سخت دل وال ّللا سے بہت دور ہو جاتا ہے امام‬‫ترمذی نے بهی اس حديث کو بيان فرمايا ہے اور اس کے ايک طريقہ کو ؼريب کہا‬‫ہے بزار ميں حضرت انس سے مرفوعا روايت ہے کہ چار چيزيں بدبختی اور‬‫شقاوت کی ہيں خوؾ ّللا سے آنکهوں سے آنسو نہ بہنا۔ دل کا سخت ہو جانا۔‬ ‫اميدوں کا بڑھ جانا۔ للچی بن جانا۔‬ ‫صحیح بخاری:‬ ‫جلد سوم:حدیث نمبر 2661‬‫موسی بن اسماعیل ، وہیب ، ابن طاؤس، حضرت ابوہریرہ رضی ہللا عنہ کا بیان ہے کہ رسول ہللا‬ ‫صلی ہللا علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بدگمانی سے بچو اس لئے کہ بدگمانی سب سے زیادہ جھوٹی‬ ‫بات ہے اور کسی کے عیوب کی جستجو نہ کرو اور نہ اس کی ٹوہ میں لگے رہو اور (بیع میں)‬ ‫ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو اور نہ حسد کرو اور نہ بغض رکھو اور نہ کسی کی غیبت کرو‬ ‫اور ہللا کے بندے بھائی بھائی ہوجاؤ۔‬
  6. 6. ‫درس حديث‬ ‫ِ‬ ‫فرائض کی تعليم کا بيان‬‫يحيی بن بکير، ليث، عقيل، ابن شہاب سے روايت کرتے ہيں انہوں نے بيان کيا کہ‬‫مجه سے مالک بن اوس بن حدثان نے بيان کيا کہ اور محمد بن جبير بن مطعم نے‬‫مجه سے ان کی يہ حديث بيان کی تهی، چنانچہ ميں چل کر ان کے پاس پہنچا اور‬ ‫ٰ‬‫ان سے پوچها تو انہوں نے کہا ميں حضرت عمر رضی ّللا تعالی عنہ کے پاس گيا‬‫ان کے پاس ان کے دربان يرفا پہنچے اور کہا کہ آپ حضرت عثمان وعبدالرحمن،‬ ‫ٰ‬‫وزبير وسعد رضی ّللا تعالی عنہ کو اندر آنے کی اجازت ديتے ہيں؟ انہوں نے کہا کہ‬‫ہاں، چنانچہ ان حضرات کو اندر باليا گيا، پهر دربان نے کہا کيا آپ حضرت علی‬ ‫ٰ‬ ‫ٰ‬‫رضی ّللا تعالی عنہ وعباس رضی ّللا تعالی عنہ کو اجازت ديتے ہيں انہوں نے کہا‬‫ہاں۔ حضرت عباس نے کہا اے اميرالمومنين ہمارے اور ان کے درميان فيصلہ‬ ‫ٰ‬‫کرديجئے، حضرت عمر رضی ّللا تعالی عنہ نے کہا ميں تم کو ّللا کا واسطہ ديتا‬‫ہوں جس کے حکم سے زمين و آسمان قائم ہيں کيا تم جانتے ہو کہ رسول ّللا صلی‬‫ّللا عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا کہ ہمارا کوئی وارث نہ ہوگا۔ اور جو کچه ہم نے‬‫چهوڑا وہ صدقہ ہے اور اس سے مراد آپ صلی ّللا عليہ وآلہ وسلم کی ذات تهی،‬ ‫ٰ‬‫اس جماعت نے فرمايا کہ آپ نے ايسا فرمايا ہے، پهر حضرت علی رضی ّللا تعالی‬‫عنہ وعباس کی طرؾ متوجہ ہوئے اور فرمايا کہ آپ دونوں جانتے ہيں کہ رسول‬‫ّللا صلی ّللا عليہ وآلہ وسلم نے يہ فرمايا ان دونوں نے جواب ديا ہاں۔ آپ نے يہ‬ ‫ٰ‬‫فرمايا ہے حضرت عمر رضی ّللا تعالی عنہ نے کہا کہ اب ميں آپ لوگوں سے اس‬ ‫ٰ‬‫کے متعلق بيان کرتا ہوں کہ ّللا تعالی نے اس فئی ميں اپنے رسول صلی ّللا عليہ‬‫وآلہ وسلم کو مخصوص کيا تها آپ کے عالوہ کسی کو نہيں ديا چنانچہ ّللا بزرگ‬‫وبرتر نے فرمايا (ما أَفائ ّللاُ علَی رسولِه) ، تو يہ خاص رسول ّللا صلی ّللا عليہ‬ ‫َ ُ ِ‬ ‫َ‬ ‫َ َ َ‬‫وآلہ وسلم کے لئے تها، قسم ہے ّللا کی آپ نے تمہارے سوا کسی کے لئے اس کو‬‫محفوظ نہيں کيا اور نہ تم پر کسی کو ترجيح دی بلکہ تم ہی کو ديتے اور تقسيم‬‫کرتے رہے يہاں تک کہ يہ مال باقی رہا تو نبی صلی ّللا عليہ وآلہ وسلم اس مال‬‫سے اپنے گهر والوں کے لئے ايک سال کا خرچہ نکال ليتے، پهر باقی مال، ّللا کے‬
  7. 7. ‫اور مال کی طرح خرچ کرتے اور رسول ّللا صلی ّللا عليہ وآلہ وسلم اپنی زندگی‬‫بهر يہی کرتے رہے، ميں تم کو ّللا کی قسم دے کر پوچهتا ہوں کہ تم اس بات کو‬ ‫ٰ‬‫جانتے ہو؟ ان لوگوں نے کہا ہاں پهر حضرت علی و عباس رضی ّللا تعالی عنہما‬‫کی طرؾ مخاطب ہو کر کہا ميں آپ دونوں کو ّللا کا واسطہ دے کر پوچهتا ہوں کہ‬ ‫ٰ‬‫کيا آپ دونوں اس بات کو جانتے ہيں؟ ان دونوں نے کہا کہ ہاں، پهر ّللا تعالی نے‬‫اپنے نبی صلی ّللا عليہ وآلہ وسلم کو وفات دے دی، تو حضرت ابوبکر رضی ّللا‬‫تعالی عنہ نے کہا کہ ميں ّللا کے رسول کا ولی ہوں، چنانچہ انہوں نے اس پر قبضہ‬‫ٰ‬‫کيا اور اسی طرح کرتے رہے جس طرح رسول ّللا صلی ّللا عليہ وآلہ وسلم نے کيا‬ ‫ٰ‬ ‫ٰ‬‫تها، پهر ّللا تعالی نے حضرت ابوبکر رضی ّللا تعالی عنہ کو وفات ديدی۔ تو ميں‬‫نے کہا ميں رسول ّللا صلی ّللا عليہ وآلہ وسلم کے ولی کا ولی ہوں۔ پهر اب آپ‬‫دونوں ميرے پاس آئے ہيں اور آپ دونوں کا مقصود ايک ہی ہے اور تم دونوں کا‬‫معاملہ يکساں ہے (اے عباس) آپ مجه سے اپنی بيوی کا حصہ مانگتے ہيں، جو‬‫انہيں اپنے والد سے پہنچتا ہے۔ ميں کہتا ہوں کہ اگر اس کے عالوہ کوئی اور‬ ‫ٰ‬‫فيصلہ آپ دونوں مجه سے چاہتے ہيں تو قسم ہے ّللا تعالی کی جس کے حکم سے‬‫آسمان و زمين قائم ہے ميں قيامت تک اس کے عالوہ اور کوئی فيصلہ نہيں کرسکتا‬‫اگر آپ دونوں اس کے انتظام سے عاجز ہيں تو پهر مجهے واپس کرديجئے ميں‬ ‫اس کا انتظام کرلوں گا۔‬‫صحيح بخاری‬‫جلد سوم:حديث نمبر5661‬‫انتخاب: اعجاز احمد لودھی‬
  8. 8. ‫ٰ‬ ‫حمد باری تعالی‬ ‫(عالمہ اقبال)‬ ‫خودی کا سر نہاں ل الہ ال ّللا‬ ‫خودی ہے تيػ، فساں ل الہ ال ّللا‬ ‫يہ دور اپنے براہيم کی تالش ميں ہے‬ ‫صنم کدہ ہے جہاں، ل الہ ال ّللا‬ ‫کيا ہے تو نے متاع ؼرور کا سودا‬ ‫فريب سود و زياں ، ل الہ ال ّللا‬ ‫يہ مال و دولت دنيا، يہ رشتہ و پيوند‬ ‫بتان وہم و گماں، ل الہ ال ّللا‬ ‫خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زناری‬ ‫نہ ہے زماں نہ مکاں، ل الہ ال ّللا‬ ‫يہ نؽمہ فصل گل و للہ کا نہيں پابند‬ ‫بہار ہو کہ خزاں، ل الہ ال ّللا‬ ‫اگرچہ بت ہيں جماعت کي آستينوں ميں‬ ‫مجهے ہے حکم اذاں، ل الہ ال ّللا‬‫انتخاب: ٹيپو ٹائيگر‬
  9. 9. ‫نعت رسول مقبول ﷺ( جوش مليحآبادی )‬ ‫ِ‬ ‫اے مسلمانو مبارک ہو نويد فتح يا ب‬ ‫لو وہ نازل ہورہی ہے چرخ سے ام الکتاب‬ ‫وہ اٹهے تاريکيوں کے بام گردوں سے حجاب‬ ‫ِ‬ ‫وہ عرب کے مطلع روشن سے ابهرا آفتاب‬ ‫ِ‬ ‫گم ضيائے صبح ميںشب کا اندھيرا ہوگيا‬ ‫وہ کلی چٹکی ، کرن پهوٹی سويرا ہوگيا‬ ‫خسرو خاور نے پہنچا ديں شعائيں دور دور‬ ‫َ‬ ‫دل کهلے شاخيں ہليں ، شبنم اڑی ، چهايا سرور‬ ‫آسماں روشن ہوا ، کانپی زميں پر موج ِ نور‬ ‫َپو پهٹی ، دريا بہے، سنکی ہوا ، چہکے طہور‬ ‫نور حق فاران کی چوٹی کو جهلکا نے لگا‬ ‫ِ‬ ‫دلبری سے پرچم اسالم لہرانے لگا‬ ‫ِ‬ ‫گرد بيٹهی کفر کی ، اٹهی رسالت کی نگاہ‬ ‫ِ‬ ‫گرگئے طاقوں سے بت، خم ہوگئی پشت گناہ‬ ‫ُ‬ ‫ٰ‬ ‫چرخ سے آنے لگی پيہم صدائے ل الہ‬ ‫ناز سے کج ہوگئی آدم کے ماتهے پر کالہ‬ ‫آتے ہی ساقی کے ، ساؼر آگيا ، خم آگيا‬ ‫ِ‬ ‫رحمت يزداں کے ہونٹوں پر تبسم آگيا‬ ‫آگيا جس کا نہيں ہے کوئی ثانی وہ رسول (ص)‬‫روح فطرت پر ہے جس کی حکمرانی وہ رسول ( ص)‬ ‫ِ‬ ‫جس کا ہر تيور ہے حکم آسمانی وہ رسول ( ص)‬ ‫ِ‬ ‫موت کو جسن بنا يا زندگانی وہ رسول (ص)‬ ‫محفل سفاکی و وحشت کو برہم کرديا‬ ‫ِ‬
  10. 10. ‫جس نے خون آشام تلواروں کو مرہم کرديا‬ ‫فقر کو جس کے تهی حاصل کج کالہی وہ رسول (ص)‬ ‫گلہ بانو ں کو عطا کی جس نے شاہی وہ رسول ( ص)‬ ‫زندگی بهر جو رہا بن کر سپاہی وہ رسول ( ص)‬ ‫ِ ٰ‬ ‫جس کی ہر اک سانس قانون الہی وہ رسول (ص)‬ ‫ِ‬ ‫جس نے قلب تيرگی سے نور پيدا کرديا‬ ‫جس کی جاںبخشی نے مردوں کو مسيحا کرديا‬ ‫ُ‬ ‫واہ کيا کہنا ترا اے آخری پيؽامبر‬ ‫حشر تک طالع رہے گی تيرے جلووں کی سحر‬ ‫تونے ثابت کرديا اے ہادیء نوعبشر‬ ‫ِ‬ ‫مرد يوں مہريں لگا تے ہيں جبين ِ وقت پر‬ ‫کروٹيں دنيا کی تيرا قصر ڈھا سکتی نہيں‬ ‫آندھيا ں تيرے چراؼوں کو بجها سکتی نہيں‬ ‫تيری پنہا ں قوتوں سے آج بهی دنيا ہے دنگ‬ ‫کس طرح تو نے مٹا يا امتياز نسل و رنگ‬ ‫ِ‬ ‫ڈال دی تونے بنائے ارتباطِ جام و سنگ‬ ‫ِ‬ ‫بن گيا دنيا ميں تخيل ِ اخوت ذوق جنگ‬ ‫ِ‬ ‫تيرگی کو روکش مہر درخشاں کرديا‬ ‫ِ ِ‬ ‫تونے جس کانٹے کو چمکا يا گلستا ں کرديا‬‫انتخاب: ٹيپو ٹائيگر‬
  11. 11. ‫بقر عيد اور ہم‬‫تہوار کسی بهی قوم يا معاشرہ کی روايات کے عکاس ہوتے ہيں۔ ہر مذہب اور‬‫معاشرہ کے کچه نہ کچه تہوار ہيں جنہيں وہ اپنے طريقوں سے مناتے ہيں ۔‬‫ّللا تعالی اور حضور پاک ﷺ نے بهی ہميں دو تہوار‬ ‫ٰ‬ ‫بحثيت مسلمان،‬ ‫اجتماعی طور پر منانے کی تاکيدوترؼيب دی ہے۔‬ ‫ٰ‬‫(۱) عيدالفطر اور (۲) عيد الضحی ۔ عيد نام ہے خوشيوں کا ۔۔۔ مسرتوں کا۔۔ ناراض‬ ‫ٰ‬‫کو منانے کا۔۔ ناراضگی بهالنے کا۔۔ عيد نام ہے۔۔ ّللا تعالی اور اس کے رسول‬ ‫پاکﷺ کے بتائے گئےاصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کا۔۔‬‫عيد چاہے بڑی ہو يا چهوٹی دونوں ہی صورتوں ميں زيادہ خوشی بچوں اور صنؾ‬‫نازک ہو تی ہے۔ اس کی بنيادی وجہ يہ ہے کہ بچوں اور خواتين ميں کئی باتيں‬‫مشترک ہيں۔۔ مثال خواتين اور بچوں کی آواز ميں يکسانيت، فيصلہ لينے ميں‬‫تذبدب کا شکار ہونا، بے ضرر کيڑوں مکوڑوں (لل بيگ ) سے ڈرنا ، عيد کے ليے‬‫خصوصی بناو سنگهار اور سب سے بڑھ کر اپنے پلے سے خرچ نہ کرنا ہے ۔۔۔۔‬‫شايد يہی وجہ ہے کہ مردوں کی نسبت عورتوں اور بچوں ميں عيد کے حوالے سے‬ ‫بے صبری زيادہ پائی جاتی ہے۔‬ ‫ٰ‬‫اس دفعہ کا موضوع ہے "عيدالضحی (بقرعيد) اور ہم"۔ موضوع پڑھ کر پہال خيال‬‫ذہن ميں آيا ۔۔۔ مظلوم شوہر۔۔۔ سوچااسی پر کچه لکهوں ليکن عمران بهائی کی بات‬‫سننے کے بعد ايسا کرنے سے باز رہا۔۔۔ عمران بهائی پروفيسر ہيں ۔۔۔ ليکن حرکتيں‬‫بالکل ہوميو پيتهک کے ڈاکٹروں جيسی ہيں۔۔۔ لکهنے کے ليے کچه کہا جائے تو‬‫ہميشہ ہی کوئی نہ کوئی ميٹهی گولی دے ديتے ہيں۔ ۔۔ آج بهی جب انہيں کہا گيا کہ‬‫کچه تو لکهو تو آئيڈيا نہ ہونے کا بہانہ بنا گئے۔۔۔ يوايؾ ميگزين ٹيم بهی درگزر کر‬‫ديتی ہے کيونکہ انقالب فرانس کو شہ دينے کے ليے جو پہلی تحرير لکهی گئی تهی‬‫انہی کے قلم سے سرانجام پائی۔۔ فی الحال يوايؾ کسی انقالب کا خواہش مند نہيں اس‬‫ليے اگر خوشی سے کچه لکه ديا تو ہم پڑھ ليتے ہيں، زبردستی اس ليے نہيں کرتے‬ ‫کہ کہيں يوايؾ ان کے قلم کی دھار کو برداشت نہ کرسکے۔‬
  12. 12. ‫عيدين ميں جو چيز مشترک ہے وہ خواتين کا بناو سنگهار اور عيد کی تيارياں ہيں،‬ ‫ٰ‬‫ليکن ايک چيز عيدالضحی کو عيد الفطر سے منفرد کرتی وہ قربانی کے جانور ہيں۔۔‬‫منڈياں لگتی ہيں۔۔۔ بحث و تکرار ہوتی ہے۔۔۔ سال بهر ويران اور سنسنان رہنے والی‬‫جگہوں پر مويشيوں کی رونق ہوتی ہے۔۔ ان منڈيوں ميں جانور خوشی خوشی ّللا‬‫کی راہ ميں قربان ہونے کےليے اپنے آپ کو پيش کرتے ہيں۔۔۔ اور پهر کسی اجنبی‬‫کے ساته اپنے زندگی کے آخری ايام گزارنے کے ليے چل پڑتے ہيں۔۔۔ ليکن جب گهر‬‫پہنچنے پر انہيں گهر والوں کے دلوں ميں ايک دوسرے کے ليے کدورتيں ، کينہ اور‬‫بؽض نظر آتا ہے تو وہ ايسے لوگوں کے ہاتهوں قربان ہونے کے بجائے وہاں سے‬‫بهاگ نکلنے کو ترجيح ديتے ہيں۔۔۔ ليکن جال ميں پهنسی ہو مچهلی، پنجرے ميں‬‫قيد شير، شادی شدہ انسان اور قربانی کے ليے ليا گيا جانور چاہے جنتا بهی زور‬‫لگالے اپنی تقدير نہيں بدل سکتا۔۔۔ اس ليے بالخر بهاگے ہوئے جانور پکڑے ہی‬ ‫جاتے ہيں۔‬‫جانوروں کے بهاگ جانے کے ڈر سے ان کی نکيل کس دی جاتی ہے ۔ پنجابی ميں‬ ‫ٰ‬‫نکيل کو نته کہتے ہيں جی بالکل وہی مصطفی قريشی والی نته "ميں تينوں نته پا ديا‬‫گا"۔ جانوروں کو نته اس ليے ڈالی جاتی ہے کہ وہ اپنی اوقات ميں رہيں ۔۔۔ اگر کسی‬‫بهی وقت خالؾ توقع کام کريں تو ان کی نته کهينچی جا سکے۔۔ نته کهينچے جانے‬‫کے درد کی شدت سے جانور اپنے آپے سے باہر نہيں نکلتا۔۔ نته کی بهی دو قسميں‬‫ہيں ايک تو وہ نته ہوتی ہے جو جانووں اور شوہروں کو ڈالی جاتی ہے۔۔۔ شوہروں‬‫کو وہ نته جچتی ہے يا نہيں اس پر ميں کچه نہيں کہہ سکتا ليکن خواتين کو وہی نته‬ ‫خوب جچتی ہے۔‬‫عيد قربان پر ايک اچها قصائی تالش کرنا بهی بہت ہی جان جوکهم کا ہے۔ اگر‬‫عيدالفطر ہو تو يہی صورت حال ايک اچها درزی تالش کرنے کے ليے ہوتی ہے۔‬‫چاہے قصائی ہو يا درزی ، دونوں ہی کے ہاته ميں اوزار ہوتے ہيں اور دونوں‬‫کوگال کاٹنے کے فن ميں مہارت سےہی ايک اچها کاريگر تصور کيا جاتا ہے۔ بعض‬‫دفعہ اعجاز بهائی جيسے سرکاری مالزم بهی ، عيد کی برکات سے مستفيد ہونے‬ ‫کے ليے چاقو چهری اٹها ليتے ہيں۔‬
  13. 13. ‫ايسے قصائيوں اور بيل کے درميان ايک مضحکہ خيز دھينگا مشتی ديکهنے کو ملتی‬‫ہے۔۔ ساری زندگی فائلوں کو گرہ لگانے والے چار پانچ اناڑی بيل کی ٹانگوں کو‬‫فائل پر قياس کرتےہيں اور اسے باندھ کر لٹا ديتے ہيں۔ بيل کو جب اپنی موت قريب‬‫نظر آتی ہے تو ايک طاقتورجهٹکے سے رسی کهول کر ايک آدھ اناڑی کو روندتا ہوا‬‫بهاگ پڑتا ۔۔۔اس طرح چار پيسے کمانے کے چکر ميں وہ لوگ اپنی جان و مال کی‬‫بازی لگا ديتے ہيں۔ قصائی ايسا ہو کہ بيل کو اکيالہی پچهاڑے اور اتنے پيار سے‬‫ذبح کرے کہ جانور بے بس ہو کر خود اپنی گردن پيش کر دے ۔۔ تو قربانی ديکهنے‬ ‫کا مزہ بهی آتا ہے۔‬‫حالت ہميشہ ايک سے نہيں رہتے۔۔۔ کہنے والے کہتے ہيں کہ ؼم کے بعد خوشی‬‫بهی آتی ہے ۔۔ ليکن پتہ نہيں کيوں يہ مثال ميرے ملک کے ليے نہيں ہے جہاں ؼم‬‫کے بعد ؼم تو آرہے ہيں ليکن ؼم کے بعد خوشی نہيں آرہی۔۔ نہ جانے وہ صبح کب‬‫ہو گئی جب ہر چہرہ پر مايوسی کے بجائے خوشی عياں ہوگی۔ اسالم نے عيد کو‬‫مسلمانوں کے ليے خوشی کا دن قرار ديا ہے ليکن دن بدن کی بڑھتی مہنگائی ميں‬‫يہ خوشياں مانند پڑ گئی ہيں۔۔ شايد اس کی ايک وجہ ہماری اپنی کوتاہی اور کم‬‫عقلی بهی ہے۔۔ شايد ۔۔ہم جو بهی عبادات پورا سال کرتے ہيں يا قربانی کرتے ہيں‬ ‫ٰ‬‫اس ميں ّللا تعالی کی خوشنودی سے زيادہ لوگوں ميں اپنا نام اور مرتبہ پيدا کرنے‬‫کے عزائم ہوتے ہيں اس ليے ہم عيدين اور اس کی خوشيوں سے محروم ہيں۔۔۔‬ ‫ٰ‬‫ميری ّللا تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہميں صراط مستقيم پر چلنے کی توفيق عطا‬ ‫فرمائے تاکہ ہم عيد اور مسلمان ہونے کی اصل خوشی کو پہچان سکيں۔‬‫(تنزيل نيازی)‬
  14. 14. ‫امريکی سازش اور پاکستانی قوم‬‫صرؾ ماللہ يوسؾ زئی ہی نہيں يہاں ايک لمبی لسٹ ہے جو کسی وکی ليکس کا‬‫انتظار کر رہی ہے سب ميں ايک ہی راز پنہاں ہے ليکن يہ سارے واقعيات ” طالبان‬‫نے ذمہ داری قبول کر لی ” پر اختتام پذير ہو جاتے ہيں ان سب حالت ميں ميڈيا نے‬‫ٹهيک ٹهاک مؽرب کا نمک حالل ہونے کا ثبوت ديا ہے اور يہ بيچارا سادہ عوام‬‫ايسے ميں کچه اپنی عقل سے بی سوچےجو ان کی نظر آئے بس لعن طن اور گالی‬‫ہی سن پاۓ- ميں کبهی کبهی سوچتا ہوں اسالؾ کا رنگ افؽانستان ميں لوٹانے والے‬‫طالبان ؛ جب دشمن نوجوان دوشيزائيں قيدی تين تين سال بعد انکی جيل سےرہا ہو‬‫کر نکلتی ہيں تو گواہی ديتی ہيں کہ ہميں چهوا تک نہيں گيا بهال وہ ان گلی کوچوں‬‫کے انسانوں کے يوں کيسے دشمن ہو سکتے ہيں ؟ مراد يہ بات تو سمجه آتی ہے‬‫کہ طالبان نہيں ہو سکتے ليکن يہ بات سمجه سے بال تر ہے کہ پهر افؽان طالبان‬‫ايسے عوامل سے خود کو صاؾ صاؾ واضح کيوں نہيں کر پاۓ؟ آيا يہ پاکستانی‬‫طالبان حقيقت ميں انکا حصہ ہيں يا يا کسی گہری امريکی سازش کا ؟ حصہ بنے‬‫ہوۓ ہيں يا بناۓ گئے ہيں ؟ ميرے مشاہدے کے مطابق تحريک طالبان پاکستان(ٹی‬‫ٹی پی) ايک تحريک تخريب پاکستان(ٹی ٹی پی ) کے سوا کچه نہيں جو باقاعدہ بليک‬‫واٹر تنظيم کے نيچے کام کر رہی ہے ان نام نہاد جہاديوں کا افؽان جہاد ميں بهی ذرا‬‫برابر حصہ نہيں رہا –گزشتہ وزيرستان آپريشن سے قبل رات کی تاريکی ميں امريکی‬‫ہيلی کاپٹرز کی نقل و حرکت اور پهر ريمنڈ ڈيوس کی گرفتاری کے فوراّ بعد تحريک‬‫طالبان پاکستان کی سرگرميوں کی بندش اس راۓ کو مزيد قوت فراہم کرتی ہيں -سچ‬‫تو يہ ہے کہ جہاد کو اگر کوئی نقصان پہنچا ہے تو اس امريکی جہاد سے ہی پہنچا‬‫ہے ورنہ پاکستان کی ؼالب اکثريت امريکا کے خالؾ جہاد کی حمايتی ہے کاش افؽان‬‫کوہساروں سے کوئی آواز آئےتو ہی يہ ساری دھندلہٹ چهٹ پاۓ - دوسری طرؾ‬‫سوشل ميڈيا پر اکثر افراد نے ماللہ کی تصوير اپنی ڈی پی پر لگا رکهی ہے يہ وہ‬‫سادہ لوگ ہيں جو دل ميں انسانيت کا دکه اور تکليؾ رکهتے ہيں ليکن اس ماللہ‬ ‫نامی تيرہ سالہ لڑکی سے واقفيت نہيں رکهتے يہ وہ لڑکی ہے جس کا آئيڈيل ليڈر‬
  15. 15. ‫امريکی صدر بارک اوباما ہے اور امريکہ کی ہر اس کوشش کی حمايتی ہے جو اس‬‫خطے ميں طالبان کے خالؾ کی جاۓ ، امريکہ نے اس کردار کو نہ صرؾ پيدا کيا‬‫ہے بلکہ اسے اسی امن کی سفارت کاری سے نوازا ہے جسے عالمی امن کا نام دے‬‫کراپنے لو لشکر سميت اس خطے ميں کود پڑا تها پهر اس واقعے کے بعد اوباما ،‬‫بان کی مون ، ہيلری اور ميڈونا کے تاثرات اس کو واضح طور پر مؽرب کے مفاد کا‬‫اہم کردار ظاہر کرتے ہيں قطح نظر يہ کردار ماللہ کی فيملی نے خود ليا يا انهيں دے‬‫ديا گيا اور آج اس کردار کو بہترين ممکن استعمال کيا گيا ہے - سوال يہ اٹهتا ہے کہ‬‫جب پوری قوم امريکہ کے خالؾ ہے سيد منور حسن سے لے کر عمران خان تک‬‫تمام قابل اعتماد ليڈر امريکہ کی اس خطے ميں کی جانے والی کاروائيوں کے خالؾ‬‫ہيں تو يہ درد دل سے بهرے انسان ايک امريکی ہيرو اور کردار کو اپنا ہيرو اور‬‫قومی اثاثہ کيوں قرار دے رہے ہيں ؟ چہ جائيکہ امريکہ نے اپنے اس تيرہ سالہ‬‫نابالػ کردار کو اپنے مذموم مقاصد کے ليے انتہائی گهناونے طريقے سے استعمال‬‫کيا ہے جو قابل مذمت ہے ليکن وہ ہرگز قومی اثاثہ نہيں ہو سکتی ، يہ شاطر بکاو‬‫ميڈيا کی فنکاری ہے کہ اسے قومی اثاثے کے طور پر پيش کيا جا رہا ہے اور‬‫اکثريت نے آنکهيں بند کر کے قبول کر ليا ہے مجهے اس ميں بينظيربهٹو کا قتل نظر‬‫آرہا ہے جس پر قوم کےاندھيرے نے زرداری جيسا ليڈر پيدا کر ديا تها آج بهی ويسی‬‫کيفيت پيدا ہے قوم اپنے ہاتهوں سے امريکا کے مذموم مقاصد پورے کرنے چلی ہے‬‫وہ مقاصد جو اس سازش کے پس پردہ کام کر رہے ہيں ميں ايک بار پهر دوہرائے‬ ‫ديتا ہوں :‬‫شمالی وزيرستان ميں آپريشن کی راہ ہموار کرنا ڈرون حملوں کا بہترين جواز فراہم‬‫کرنا اسالم مخالؾ فلم پر پاکستانی احتجاج کو منظر نامے سے ہٹانا پاکستان ميں‬‫امريکی ساکه کی بحالی کی کوشش کرنا امريکی اليکشن ميں باراک اوباما کو سياسی‬‫طاقت پہنچانا پاکستانی قوم اس کهيل ميں امريکی عزائم پر بہت حد تک پورا اتری ہے،‬‫شمالی وزيرستان ميں آپريشن ہونے چال ہے ، شان رسالت صلی ّللا عليہ وسلم کے‬‫ايشو کو ماللہ کا ايشو ہضم کر گيا ہے اور روز درجن بهر پاکستانی ڈرونز سے مارے‬ ‫جائيں گے اور يہ قوم تالياں بجا بجا کر کہے گی کہ ماللہ کے دشمنوں سے بدلہ ليا جا‬
  16. 16. ‫رہا ہے ، نام نہاد وار آن ٹيرر کی تاريخ ميں پاکستانی قوم کبهی اس حد تک نہيں بہکی‬‫تهی جس طرح آج امريکا نے اسکو ہاته ميں جکڑ ليا ہے -وقت کی ضرورت ہے کہ‬‫پاکستانی قوم کو اس فريب اور سازش سے نکال جاۓ پاکستان کا دشمن ناموں سے‬‫دھوکہ دے رہا ہے عقل مندی کا تقاضا ہے کہ پس پردہ دشمن پر انگلی رکهی جاۓ اور‬‫اس کے خالؾ جدوجہد کی جاۓ اس دشمن سے چهٹکارا حاصل کرنا صرؾ اور صرؾ‬‫“گو امريکا گو ”تحريک ميں ہی مضمر ہے اگر آپ پاکستان اور اسالم کے ليے کچه‬ ‫کرنا چاھتے ہيں تو اسے اپنی اولين ترجيح بنانا ہو گا ورنہ بہت دير ہو جاے گی۔‬‫(اعجاز احمد لودھی)‬
  17. 17. ‫اسالم ميں خواتين کے حقوق‬‫دنيا کی معلوم تاريخ پر نظر ڈاليں يا دوسرے مذاہب کی تاريخ کا مطالعہ کريں تو اس‬‫ميں عورت کا کوئی کردار نظر نہيں آتا۔ ہر دور ميں خواتين کی حيثيت مردوں کے‬‫مقابلے ميں بہت ہی کم تر نظر آتی ہے ۔ ان کو معاشرے ميں نہايت گهٹيا مقام ديا‬‫جاتا تها۔ اہل مذہب ان کو تمام برائيوں کی جڑ قرار ديتے تهے اور ان سے دور رہنے‬‫ميں عافيت محسوس کرتے تهے ۔ اور اگران سے کچه رابطہ يا تعلق ہوتا بهی تو‬‫ايک ناپاک او ر دوسرے درجے کی مخلوق کی حيثيت سے ہوتا جوصرؾ مردوں کی‬‫ضروريات کو پورا کرنے ليے پيدا کی گئی تهی۔ يونانی اساطير ميں ايک خيالی عورت‬ ‫ٰ‬‫پانڈورا کو تمام انسانی مصائب کا ذمہ دار ٹهرايا گيا تها۔ اسی طرح يہود و نصاری کی‬‫مذہبی خرافات ميں حضرت حوا عليہا السالم کوحضرت آدم عليہ السالم کے جنت سے‬‫نکالے جانے کا باعث قرار ديا گيا تها۔چنانچہ عورت پر بہت طويل عرصہ ايسا گزرا‬‫کہ وہ کوئی قابل لحاظ مخلوق نہ تهی۔ يہ اسالم ہی کا کارنامہ ہے کہ حواء کی بيٹی‬‫کو عزت و احترام کے قابل تسليم کيا گيا اور اس کومرد کے برابر حقوق ديے گئے۔‬‫بلکہ حقيقت تو يہ ہے کہ اسالمی تاريخ کی ابتدا ہی عورت کے عظيم الشان کردار‬ ‫سے ہوتی ہے۔‬ ‫ٰ‬‫اسال م کا آؼاز حضرت خديجۃ الکبری رضی ّللا عنہا کی لزوال اور بے مثل قربانيوں‬‫سے ہوتا ہے ۔اس وقت ضعيؾ و ناتواں سمجهی جانے والی صنؾ نازک عزم و ہمت‬‫کا کوہ گراں اورحوصلہ افزائی کا سرچشمہ بن کرنبوت محمدی کا سہارا بن جاتی ہے۔‬‫جب پہلی وحی نازل ہوئی اور ؼار حراء سے نکل کر حضرت محمد مصطفی صلی ّللا‬‫عليہ وآلہ وسلم گهر تشريؾ لئے تو گهبراہٹ اور پريشانی کے سائے آپ کا پيچها کر‬‫رہے تهے مگرسيدہ خديجہ اپنے شوہر کی پاکبازی، بلند اخالق اور انسان دوست‬‫کردار کی گواہ بن کر نبوت پر سب سے پہلے ايمان لے آئيں اور فرمايا کہ ’’اے‬ ‫ٰ‬‫مجسمہ صدق و امانت! ّللا تعالی آپ جيسے بلند کردار کو کبهی پريشانی اور گهبراہٹ‬‫کے سايوں کے سپرد نہيں کرے گا۔ انہوں نے اپنا وقت ،مال اور جان، سب کچه‬ ‫اسالم پر نچهاور کرديا۔يہاں تک کہ اسالم کے راستے ميں پہلے شہيد حضرت حارث‬
  18. 18. ‫بن ابی ہالہ نے حضرت خديجہ کی کوکه سے جنم ليا تها۔وہ آپ کے سابق شوہرسے‬ ‫تهے اور نبی مہربان کی گود ميں پلے تهے۔‬‫ايک عورت کا مقام ديکهنا ہے تو پهر ّللا کے فرمانبردار بندے حضرت ابراہيم عليہ‬‫السالم کی فرمانبردار بيوی حضرت حاجرہ کو ديکهيں ۔ انهوں نے ّللا اور اپنے خاوند‬‫کے حکم کی تعميل ميں بے آب وگياہ وادی ميں رہنا قبول کرليا تها۔پهر جب وہ‬‫اسماعيل عليہ السالم کے ليے ،پانی کی تالش ميں ديوانہ وار صفا اور مروہ کے‬‫درميان دوڑيں تو ّللا نے ان کی فرمانبرداری اور خلوص کی قدر کرتے ہوئے، ان کے‬ ‫اس عمل کی تقليد قيامت تک کے ليے تمام مردوں اور عورتوں پر لزم کردی۔‬‫رسول ّللا صلی ّللا عليہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک ميں مسلم خواتين نے زندگی کے‬‫ہر شعبہ ميں بهرپور کردار ادا کيا ۔ علم سيکهنے سکهالنے کا ميدان ہو يا معاشرتی‬‫خدمات کا ميدان، ّللا کی راہ ميں جہاد کا موقع ہو يا سياست و حکومت کے معامالت‬‫ہوں، سب ميں خواتين کا واضح، روشن اور اہم کردار ہوتا تها۔ رسول ّللا صلی ّللا‬‫عليہ وآلہ وسلم کی مجلس ميں صحابہ کرام اور صحابيات سب ايک ساته شريک‬‫ہوتے تهے اور دين کی باتيں پوچهتے اور سمجهتے تهے۔ جب خواتين نےنبی کريم‬‫سے شکايت کی کہ خواتين سے متعلق کچه باتيں ايسی ہوتی ہيں جو ہم اپنے باپ‬‫دادا اور بهائيوں کی موجودگی ميں نہيں کرسکتيں۔ چنانچہ رسول ّللا صلی ّللا عليہ‬‫وآلہ وسلم نے خواتين کے لئے ايک دن الگ سے مخصوص کرديا جس ميں مرد‬‫شريک نہيں ہوتے تهے۔ اس طرح خواتين ہفتے ميں چه دن مردوں کے ساته اور‬‫ايک دن الگ سے حاضر ہو کر اپنے مسائل کا حل پوچهتی تهيں۔ اس سے معلوم ہوتا‬‫ہے کہ نبی کريم کے نزديک خواتين کی تعليم و تربيت مردوں سے بهی زيادہ اہميت‬ ‫کی حامل تهی۔‬‫خصوصی حالت ،مثال،ميدان جنگ ميں مسلم خواتين، مجاہدين کو پانی پالتی تهيں،‬‫زخميوں کی مرہم پٹی کرتی تهيں اور اس کار خير ميں کسی بڑے يا چهوٹے کی‬‫تفريق نہيں تهی ۔حتی کہ ؼزوہ احد ميں حضرت سيدہ عائشہ صديقہ بهی اس کار خير‬‫ميں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے موجود تهيں۔ اسی طرح علم کی تدريس، تعليم کے‬‫فروغ اور حديث کی روايت ميں ابتدائی دور کی مسلم خواتين نے سرگرم کردار ادا کيا۔‬
  19. 19. ‫اسالم نے عورت اور مرد کے دائرہ کا ر کو الگ الگ کر کے عورت کو گهر کے اندر‬‫عزت و احترام کا مرتبہ ديا ہے۔ چونکہ مرد تخليقی اعتبار سے مشکالت اور‬‫صعوبتيں برداشت کرنے کے قابل ہے اس ليے اسالم نے معاشی مسائل کی تمام ذمہ‬‫داری مرد پر عائد کرکے گهريلو معامالت کو عورت کے سپرد کيا ہے۔ّللا نے مرد کو‬‫فيصلے کی قوت عطا فرمائی ہے۔کيونکہ کوئی نظام بهی کسی صاحب امر ،منتظم يا‬‫امير کے بؽير نہيں چل سکتا ،اس ليے خاندان کے معامالت ميں مرد کو امير يا حاکم‬‫بنايا گيا ہے۔ اس کے عالوہ باقی تمام معامالت ميں عورت کو مرد کے مساوی حقوق‬ ‫ديے گئے ہيں۔قرآن مجيد ميں ارشاد ہے:‬ ‫لَہن م ْثل ُ الذِی علَ ْيہن بالمعروؾ﴿سورة البقرة:822﴾‬ ‫َََ‬ ‫َ ِ ِ َْْ ُ‬ ‫ُ ِ‬‫دستور کے مطابق عورتوں کے تم پر ويسے ہی حقوق ہيں جيسے تمہارے ان پر‬ ‫ہيں۔‬‫ّللا تعالی نے قيامت کے دن جزا اور سزا کے معاملے ميں بهی عورت اور مرد کو‬ ‫ٰ‬ ‫برابر رکها ہے۔ ارشاد ہے:‬‫منْ عمل َ صالِحا مِنْ ذكر اَو ا ُ ْنثى وھُو مومِن فلَنحيِينه حياة طيبة ولنجزينهم اَجرھم‬‫َ ُ ْ َ ُ َ َ َ ِّ َ َ َ َ ْ ِ َ ُ ْ ْ َ ُ ْ‬ ‫َ َ ْ َ َ َ ُْ‬ ‫َ‬ ‫َ َ ِ‬ ‫باَحسن ما كانوا يعملُونَ ﴿سورة النحل:790﴾‬ ‫ّ‬ ‫ِ ْ َ ِ َ َ ُ َْ َ‬‫ جو شخص نيک عمل کرے گا مرد ہو يا عورت اور وہ مومن بهی ہوگا تو ہم اس‬‫کو (دنيا ميں) پاک (اور آرام کی) زندگی سے زندہ رکهيں گے اور (آخرت ميں) ان‬ ‫کے اعمال کا نہايت اچها صلہ ديں گے۔ ‬‫اسالم بؽير کسی رکاوٹ کے عورت کو اس بات کی اجازت ديتا ہے کہ وہ ہر قسم کے‬‫مالی معامالت انجام دے اور عورت کو اس کے سرمايہ کا مالک شمار کرتا ہے،‬ ‫جيسا کہ قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتا ہے‬ ‫ِّ َ‬ ‫َْ َ‬ ‫ْ َ َ ُ َ ِّ َ ِ َ‬ ‫ِّ َ ِ َ‬ ‫لِلرجال نصِ يب مِما اکتسبوا ولِلنساء نصِ يب مِما اکتس ْبنَ ﴿سورة النساء:230﴾‬‫مردوں کے لئے وہ حصہ ہے جو انهوں نے کمايا ہے اور عورتوں کے لئے وہ حصہ‬ ‫ہے جو انهوں نے کمايا ہے“۔‬‫اہل مؽرب نے عورت کو مادر پدر آزادی دے کر اس کا استحصال کيا ہے۔اس پر گهر‬ ‫اور گهر کے باہر دوہری ذمہ دارياں ڈال دی ہيں۔ اس کے برعکس اسالم نے عورت‬
  20. 20. ‫کو عزت اور احترام کا مقام ديا ہے۔ اس کو ماں بنا کر جنت کا سرچشمہ،بہن بنا کر‬‫ايثار و قربانی ،محبت اور الفت کا پيکر،بيٹی بنا کرّللا کی رحمت کا عملی‬‫اظہاراوربيوی بنا کر راحت و سکون کا ذريعہ قرار ديا ہے۔اسالم نے گهر کے اندر رہ‬‫کر آنے والی نسلوں کے کردار و اخالق کی تعمير عورت کے سپرد کی ہے۔يہ ايک‬‫ايسی عظيم ذمہ داری ہے جو کسی قوم کی بقا اور استحکام کی پہلی شرط ہے۔ دنيا‬‫ميں وہی قوم اپنا وجود برقرار رکه سکتی ہے جس کی خواتين کردار و اخالق کی‬‫بلنديوں پر ہوں اور علم و اخالق کے زيور سے آراستہ ،ايک بلند کردار نسل وجود‬ ‫ميں لئيں۔‬ ‫وّللا اعلم باالصواب۔‬‫(اعجاز احمد لودھی)‬ ‫لو ڈ شيڈنگ‬ ‫لو ڈ شيڈنگ نے کر ديا ہر دم يہ کما ل‬ ‫پهيال د يا ملک ميں ا ند ھير وں ہے کا جا ل‬ ‫عو ام کی ا منگو ں سے چلی اس نے ا يسی چا ل‬ ‫دے کر د ھو کہ قا م کی خد مت کی يہ مثا ل‬ ‫(زمرد سلطانہ)‬
  21. 21. ‫قربانی کے جانور سے انٹرويو‬‫جيسے جيسے عيد قر با ں قر يب آ ر ہی تهی منڈ ی ميں جا نو ر و ں کی آ مد کا‬‫سلسلہ ز و ر و شو ر سے جا ر ی تها۔کہيں گا ئے ، بيلو ں کے لئے خصو صی‬‫انتظاما ت کيے گئے تهے تو کہيں بکر و ں کی آ و ا ز يں ا پنی مو جو د گی کا‬ ‫احسا س د ل ر ہی تهيں۔کہيں ا و نٹ جگا لی کر ر ہے تهے ۔‬‫ہم نے سو چا کيو ں نہ ا ن قر با نی کا جا نو رو ں سے گفتگو کر کے ا ن کے‬‫حالت و و ا قعا ت جا نيں۔ سب سے پہلے ہم بکر و ں کے ؼو ل کی طرؾ گئے جہاں‬‫بکر ے چا ر پا ئی پر پڑ ی گها س سے لطؾ ا ند و ز ہو ر ہے تهے۔ ايک بکر ے‬‫کی نظر ہم پر پڑ ی۔ہم نے ؼنيمت جا نتے ہو ئے بکر ے کی تو جہ ا پنی طر ؾ کی‬ ‫اور ا ن سے پو چهنا شر و ع کيا۔‬ ‫۱)مسٹر بکر ے آ پ کيسے ہيں؟‬‫ج)بے، بے۔پہلے تو مسٹر بکر ے نے بو لنے سے ا نکا ر کر دياا ور ا پنی ہی‬‫مخصو ص بو لی ميں بو لے جا نے لگے۔پهر ا چا نک کہنے لگے،کيا پوچهتے ہو ہم‬‫سے ہما ر ا حا ل؟پهر بهی ہم اّللاکا شکر اد ا کر تے ہيں کہ ا نسا نو ن سے بہت‬‫درجے بہتر ہيں۔ہما را ما لک ہما ر ا بہت خيا ل ر کهتا ہے۔ہميں و قت پر چا ر ا ديتا‬‫ہے، پا نی پال تا ہے،کهلی تا ز ہ ہو ا ميں گهما نے لے جا تا ہے تا کہ ہم ا چهی‬ ‫طرح پر و ا ن چڑ ھ سکيں۔‬‫ہا ں بعض ا و قا ت ا گر ما لک ؼصے ميں ہو يا ا ن کے پا س چا ر ے کے لئے‬‫پيسے نہ ہو ں تو ر و نے لگتے ہيں کہ قر با نی کا جا نو ر اب پا لنا کتنا مشکل ہو‬‫تا جا ر ہا ہے کہ ا نہيں بهی کهال نے کے لئے پيسے نہيں ر ہے، پهر بهی کہيں سے‬‫پکڑ د ھکڑ کر ہما ر ی ضر و ر يا ت پو ر ی کر تے ہيں کہ اّللا کے ر ا ستے ميں‬‫قربا ن ہو نے و ا ل جا نو ر ا ّللاکے حضو ر شکا يت نہ کرے کہ مير ی خد مت‬‫ٹهيک نہيں ہو ئی۔يہ کہہ کر مسٹر بکر ے پهر سے چا ر ہ کها نے ميں مصر و ؾ ہو‬ ‫گئے۔ ايسے لگ ر ہا تها کہ جيسے و ہ مزيد با ت کر نے کے مو ڈ ميں نہيں ہيں۔‬ ‫پهر ہم گا ئےاور بيلو ں کے ؼو ل کی طر ؾ بڑ ھے۔جہا ں پر گا ئيں ا ور بيل کوواک‬
  22. 22. ‫کر رہی تهيں۔کو ئی چنبيلی ہے تو کو ئی چلبلی۔‬‫کو ئی شہنشا ہ تو کو ئی با د شا ہ۔ جتنی مو ٹی اور خو بصو ر تی سے سجی ہوئی‬ ‫گا ئے ا تنے ہی ز يا د ہ اس کے د ا م۔ ز يا دہ تر تو لو گ و ہا ں کو و ا ک ہی‬‫ديکهنے آ ئے تهے۔پيسے تو ہيں نہيں چلو و نڈ و شا پنگ ہی سہی۔ ا تنے ميں ايک‬ ‫گا ئے ہما ر ی طر ؾ بڑ ھيں ہم ڈ ر گئے کہ کہيں سينگ ہی نہ ما ر‬‫د يں۔اچانک سےوہ کهڑی ہو گئی اور بولی۔ ہم سےسوال نہيں کر يں گے۔ايسے ميں‬ ‫ہم نے ا ن سے جٹ سے سو ا ل پو چه ڈ ا ل۔‬‫۲)آ پ کے ما تهے پہ سجا و ٹ،سينگو نپہ لپٹے ہو ئے پهو ل،پير و ن ميں چهن‬‫چهن کر تی جا نجهر يں،يہ آ پ کی خو بصو ر تی ميں ا ضا فہ کا ذ ر يعہ ہينيا من‬ ‫مانی قيمتو ں کا حصو ل؟‬‫ج)يہ سب ہميں بيچنے کے طر يقے ہيں۔تهو ڑ ا ا تر ا تے ہو ئے بو لی۔ بعض خريدار‬‫بهی جا نو رو ں کوسجا بنا کر ا س ميں ا نفر ا د يت پيد ا کر نا چا ہتے ہيں۔سچ‬‫پوچهو تو ہميں ا ن چيز و ں سے بڑ ی ا کتا ہٹ ہو تی ہے۔ہما ر ے پير و نں ميں‬‫جانجهر يں پہنا کر ہميں چلنے پر مجبو ر کيا جا تا ہے۔ يہ تشہير کا بہتر ين ذ ر يعہ‬‫ہيں۔ لگتا ہے ہميں پهر سے کو ئی د يکهنے آ يا ہے۔ د يکهيے ا ب کہا ں منز ل لے‬ ‫جا تی ہے؟کو ن بنتا ہے خر يد ا ر۔ا جا ز ت د يجئے۔خد ا حا فظ۔‬‫يہ کہہ کر گا ئے ا پنے ؼو ل ميں گهل مل گئی۔پهر ہم ا و نٹو ں کے ؼو ل کی جا نب‬‫بڑ ھے جہا ں ا ونٹ(جنہيں ر يگستا ن کا جہا ز کہا جا تا ہے) جگا لی کر ر ہے‬‫تهے۔ا ہسے لگ ر ہا تها جيسے وہ ہما ر ے ہی منتظر تهے۔پهر کيا تها؟ہم نے سوال‬ ‫کر د يا۔‬ ‫۳)آ پ کو منڈ ی تک آ نے ميں کتنی د شو ا ر يو ں کا سا منا کر نا پڑ تا ہے؟‬‫ج)(سو چتے ہو ئے) سفر کا کو ئی خا ص ا ہتما م نہيں کيا جا تا۔ ہميں منڈ ی تک‬ ‫بڑے بڑ ے ٹر کو ں کے ذ ر يعے ل يا جا تا ہے ان ٹر کو ں ميں‬‫ضر و ر ت سے ز يا د ہ جا نو ر ہو نے کی و جہ سے ز خم کی ا ذ يتيں بر د ا شت‬ ‫کر نا پڑ تی ہيں۔‬
  23. 23. ‫۴)منڈ ی ميں پہنچنے کے بعد کيا ما لکا ن آ پ کی طر ؾ تو جہ د يتے ہيں؟‬‫ج) منڈ ی پہنچنے کا مر حلہ تو سفر سے ز يا دہ تکليؾ د ہ ا ور تهکا نے و ا ل‬‫ہوتا ہے۔ما لکا ن کی کو شش ہو تی ہے کہ جا نو ر و ں کو ز يا د ہ سے ز يا دہ‬‫کهڑ ا ر کها جا ئے تا کہ خر يد ا ر ہميں چا ق و چو بند اور تو ا نا سمجهے جب کہ‬ ‫بيٹها ہو ا جا نو ر ا ن کی نظر ميں ل ؼر يا سست کہال تا ہے۔‬ ‫۵)آ پ کا خر يد ا رو ں سے کو ئی شکا يت ہے؟‬‫ج)ا س سو ا ل کے جو ا ب ميں ا و نٹ سو چنے لگا کہ قر يب ہی سے گز ر تے‬‫ہوئے بکر ے کے ؼو ل ميں سے ا يک بکر ا بو ل! يہ با ت تو ہما رے لئے سب‬‫سے ا ہم ہے۔ مجهے ا فسو س ہے کہ جب بهی کو ئی خر يد ا ر آ تا ہے تو ہما رے‬‫جسم کو ٹٹو ل ٹٹو ل کر د يکهتا ہے تو کو ئی ہما ر ے دا نتو ں کا معا ئنہ کر تا‬‫ہے تو کو ئی ہميں تلو ا نے لگتا ہے؟پهر ہم ا ن سے پر يشا ن کر ا پنا بکر ا ہو نے‬‫دو چا ر سينگ جڑ کر ثبو ت د يتے ہيں تا کہ يہ ہجو م ہم سے د و ر ہو۔يہ کہتے‬‫کہتے بکر و ں کا ؼو ل گز ر گيا۔پهر منڈ ی ميں ہم مينڈ ھو ں کے ؼو ل کی طر ؾ‬‫بڑ ھے ۔جو کہ ہما رے آ نے کی خو ش خبر ی سن کر پہلے سے ہی تيا ر کهڑ ے‬ ‫تهے ہم نے جهٹ سے سو ا ل کر د يا۔‬ ‫۶)قر بق ن ہو نے کا خو ؾ کہيں ا ٓ پ کو ا د ا س تو نہيں کر د يتا؟‬‫ج)کيسا خو ؾ؟ ا و ر کيسی ا د ا سی؟ قر با ن ہو نا تو ہما ری قسمت ميں لکها جا‬‫چکا ہے ۔کيا آ پ کو و ہ و ا قعہ يا د نہيں۔چليں کو ئی با ت نہيں ہم ہی سنا ئے ديتے‬ ‫ہيں تا کہ يا د د ہا نی ہو جا ئے ا ور ا يما ن کو تا ز گی بهی ملے۔‬‫ا يک ر ا ت حضر ت ا بر ا ہيم نے ا يک خو ا ب ميں د يکها جس ميں آ پ کو قر با‬‫نی کا حکم ہو ا۔آپ نے صبح ا ٹه کر سو ا و نٹ قر با ن کر د ئيے۔دو سر ی ر ا ت‬‫پهر قر با نی کا حکم ہو ا۔آ پ نے پهر سو ا و نٹ قر با ن کر د ئيے۔تيسر ی ر ا ت کو‬‫سب سے پيا ری چيز کی قر با نی کا حکم ہو ا۔ حضر ت ا بر ا ہيم نے خو ا ب ميں د‬‫يکها کہ و ہ ا پنے پيا ر ے حضر ت ا سما عيل کو اّللا کی ر ا ہ ميں قر بان کر ر ہے‬‫ہيں۔ انهو ں نے ا پنے بيٹے کو خو ا ب سنا يا۔ حضر ت ا سما عيل نے کہا کہ وہ‬ ‫اّللاکی ر ا ہ ميں ا پنی جا ن قر با ن کر نے کے لئيے تيا ر ہيں۔ا نہو ں نے سو چا کہ‬
  24. 24. ‫اّللاکير ضا ا سی ميں ہے۔ وہ اّللاکی ر ضا کے خال ؾ نہيں جا سکتے۔آپ ا نہيں‬ ‫کهلی جگہ پر لے گئے۔حضر ت ا بر ا ہيمنے ا پنی آ نکهو ں کو ا يک کپڑ ے کے‬ ‫ٹکڑ ے سے ڈ ھا نپ ليا۔‬ ‫حضر ت ا بر ا ہيم نے بڑ ی ہمت کے سا ته ا پنے بيٹے کی گر د ن پر چهر ی ر‬ ‫کهی۔ اتنے ميں آ و ا ز آ ئی۔ ا بر ا ہيم تو نے ا پنا خو ا ب سچ کر د کها يا۔ تير ی قر‬‫با نی قبو ل ہو ئی۔پا س کهڑ ے مينڈ ھے کی قر با نی کر۔حضر ت ا بر ا ہيمنے ا پنی آ‬ ‫نکهو ں سے پٹی ا تا ری ۔مينڈ ھا پا س کهڑ ا پا يا، اسے ز مين پر‬ ‫لٹا يا ا ور اّللاکی ر ا ہ ميں ذ بح کر د يا۔ ا گر آ ج ميں بهی اّللاکی ر ا ہ ميں قر با ن‬ ‫کر د يا جا تا ہو ں تو مير ے لئے ا س سے بڑ ھ کر ا و ر کو ئی ا عز ا ز کی با ت‬ ‫نہينکہ ميں سنت ا بر ا ہيمی کی تکميل کا با عث بنو ں۔‬ ‫۷)آ پ ہم سب کو کيا پہؽا م د ينا چا ہتے ہيں؟‬ ‫ج)قر با نی کے جا نو ر و ں کی ز يا د ہ سے ز يا دہ شو شا کر کے محلے، ر شتے‬ ‫د ا رو ں ميں ا پنی بڑ ا ئی ظا ہر نہ کر يں،کيو نکہ قر با نی کا مقصد اّللا کی ر ضا ا‬ ‫ور خو شنو د ی حا صل کر نا ہے۔قر با نی کا گو شت مستحق لو گو ں ميں تقسيم کيا‬ ‫جا ئے۔يہ کہہ کر مينڈ ھا ا پنے ؼو ل ميں چال گيا ا ور يہ پيؽا م دے گيا کہ س نت ا‬ ‫بر ا ہيمی کو ز ند ہ کر تے قر با نی کے گو شت کو تين حصو ں ميں تقسيم کرنا۔‬ ‫ا يک حصہ گهر و ا لو ں کے لئے، دو سر ا ر شتہ د ا رو ں ا ور دو ستو ں کے لئے‬ ‫ا ور تيسر ا حسہ عا م ؼر يبو ں ا ور حا جت مند و ں ميں تقسيم کر نا مت‬ ‫بهو لنا۔کيو نکہ قر با نی کے ا س گو شت پر سب کا حق ہے۔ اسی کے سا ته مجهے‬ ‫ا جا ز ت ديجے۔اّللاحا فظ۔‬ ‫(زمرد سلطانہ)‬
  25. 25. ‫{ ّللاپر بهر و سہ ر کهنے و ا لے کبهی نا کا م نہيں ہو تے}‬‫حضر ت سليما ن ّللا کے پيؽمبر تهے آ پ کو اّللاتعا لی نے جا نو رو ں ،پر ند و ں‬‫اور جنو ں پر حکمر ا ن بنا کر بهيجا تها آپ کا تخت ہو ا ميں ا ڑا کر تا تهااور دنيا‬‫کے تما م د فن شد ہ خز ا نے آپ کے قبضہ ميں تهے فلسطين ميں مسجد ا قصی آپ‬ ‫نے تعمير کر و ا ئی تهی ۔‬‫حضر ت سليما ن ا يک مر تبہ ا يک شہر ميں پہنچے آپ نے ا يک بو ڑ ھے کو سر‬‫پر لکڑ يو ں کا بها ر ی گٹها ا ٹها کر جا تے ہو ئے د يکها آپ کو ا س بوڑھے پر‬‫بڑا تر س آيا۔آگے بڑھ کر اس کا نا م پو چها تو ا س نے جو ا ب د يا ۔ـميرا نا م‬‫سليمان ہے۔نا م سن کر حضر ت سليما ن سو چ ميں پڑ گئے کہ ا يک ميں ہو ں جس‬‫کو اّللانے سب کچه عطا کر ر کها ہے ا ور ا يک يہ سليما ن ہے جو بو ڑ ھا ہو نے‬‫کے با و جو د اتنی محنت کر ر ہا ہے۔ا نہو ں نے فو را يہ سو چ کر ا پنے تا ج سے‬‫ا يک ہيرا ا تا ر کر بو ڑ ھے کو د يتے ہو ئے کہا ۔ص اے بو ڑ ھے ا س ہير ے کو‬‫بيچ کر ا پنے خا ند ا ن کی کفا لت کر و ۔ ہيرا لے کر بو ڑ ھے نے لکڑ يو ں کا‬‫گٹها سر سے ا تا ر کر پهينکا ا ور خو شی خو شی گهر کی طر ؾ چل پڑا۔ جب وہ‬‫تهو ڑ ی دو ر ہی گيا تها کہ ا يک چيل نے جهپٹا ما را اور ہيرا لے کر ا ڑ گئی۔‬‫بوڑھا بيچا رہ منہ د يکهتا ر ہ گيا۔ ا ب ا س کو فکر ل حق ہو ئی کہ بيو ی بچو ں کو‬ ‫کيا کهال ئو ں گا؟‬‫وا پس آ کر اس نے گٹها د يکها تو و ہ بهی کو ئی ا ٹها کر لے گيا تها ا س نے خا‬ ‫لی ہا ته گهر جا نے کی بجا ئے جنگل ميں را ت بسر کی ۔‬‫جب صبح ہوئی تووہ پهرلکڑياں اکٹهی کرنے لگا ۔ا تنی د ير ميں حضر ت سليمان کی‬‫سو ا ری و ہا ں پہنچی تو وہ لکڑ يا ں چن ر ہا تها ۔آپ نے سو چا يہ للچی بو ڑ ھا‬‫ہيرا لينے کے با و جو د معمو لی مشقت ميں مصر و ؾ ہے آ پ نے ا س کی و جہ‬‫پو چهی تو بو ڑ ھے نے سا را وا قعہ ا نہيں بتا دياآپ نے رحم کها کر اسے دو سر ا‬‫ہير ا عطا کيا ۔ بو ڑ ھے نے ہير ے کو ا حتيا ط سے مٹهی ميں بند کے اور گهر کی‬‫را ہ لی۔ را ستے ميں ا يک ند ی تهی جب وہ ند ی کے کنا ر ے پہنچا تو پا نی کے‬‫بہا ئو کی و جہ سے ا س کے پا ئو ں ا کهڑ گئے دو چا ر ڈ بکيو ں سے ہيرا اس‬ ‫کے ہا ته سے چهو ٹ گيا۔‬
  26. 26. ‫يہا ں سے بو ڑ ھا ما يو سی کے عا لم ميں دو با ر ہ جنگل ميں آ يا ا تفا ق سے‬‫اس کو حضر ت سليما ن پهر مل گئے ا س نے سا ر ی با ت بتا ئی تو ا س با ر بهی‬‫حضر ت سليما ن نے ا سکو تيسر ا ہير ا عنا يت فر ما يا ۔ا ب اس کی د فعہ ا س نے‬‫ہير ے کو پگڑی ميں با ند ھ ليا۔جب و ہ تهو ڑ ی دو ر گيا تو ا يک گهڑ سو ا ر نے‬‫تا ڑ ليا کہ ا س بو ڑ ھے کی پگڑ ی ميں ضر و ر کو ئی قيمتی چيز ہے ۔چنا نچہ‬‫اسنے گهو ڑاے کو تيز دو ڑا کر پگڑ ی بو ڑ ھے کے سر سے اڑ ا ئی او ر ؼائب‬ ‫ہو گيا بو ڑ ھا تيسرے ہير ے کے چهن جا نے کے بعد رو تا پيٹتا حضر ت سليما ن‬‫کے پا س حا ضر ہو ا او ر کہا ا ے اّللاکے نبی ا ٓ پ نے مير ی ؼر يبی کو دو ر‬ ‫کر نے کی کو شش کی ہے مگر مير ا خيا ل ہے ا ّللا کو ا يسا منظو ر نہيں۔‬‫حضر ت سليما ن نے فر ما يا ۔ٹهيک ہے تم لکڑ يا ں ا کٹهی کر کے ہی ا پنے‬ ‫بيوی بچو ں کا پيٹ پا لو ۔ بو ڑ ھا خا مو شی سے جنگل ميں چال گيا۔‬‫کا فی عر صے کے بعد حضر ت سليما ن تخت پر سو ار اس لکڑ ہا ر ے کی بستی‬‫سے گز رے تو ا يک آ دمی کو بهيج کر بو ڑھے کو بال يا اور ا س کا حا ل دريافت‬ ‫کيا اس نے عر ض کيا ۔‬‫جب آ پ کے د يئے ہو ئے تينو ں ہير ے گم ہو گئے تو ميں نے بے ا ختيا ر‬‫ّللاکے حضو ر گڑ گڑ ا کر د عا ما نگی کہ ا ے اّللا تير ے نبی نے ميری مفلسی دور‬‫کر نے کی کو شش کی ہے مگر شا يد يہ با ت تجهے منظو ر نہيں تو ہی مجهے‬ ‫ميرے کهو ئے ہو ئے ہير ے عنا ئيت فر ما ۔‬‫د عا کر نے کے بعد ميں لکڑ يا ں کا ٹنے کے لئے ا يک د ر خت پر چڑ ھا تو چيل‬ ‫کے گهو نسلے ميں آپ کے عطا کر د ہ تينو ں ہير ے ر کهے تهے ۔‬ ‫ا ن ہير و ں کو پا نے سے ميں ا مير ہو گيا ہو ں ۔‬‫ا س وا قعہ سے يہ سبق ملتا ہے کہ جو لو گ اّللاتعا لی پر بهر و سہ ر کهتے ہيں‬ ‫وہ کبهی نا کا م نہيں ہو تے۔ ۔حضر ت عثما ن ؼنی ؓ کا قو ل ہے ۔‬‫اّللاتعا لی کے سو ا کسی سے ا ميد نہ ر کهو ۔اّللاتعا لی کے سو ا کسی دو سر ے‬ ‫سے ا ميد با ند ھنے وا لے کا ميا ب نہيں ہو تے۔‬‫(زمرد سلطانہ)‬
  27. 27. ‫اقبال کو نوبل انعام کيوں نہيں مال؟‬ ‫(انتخاب: اعجاز احمد لودھی)‬‫عالمہ اقبال اور رابندر ناته ٹيگور ہندوستان کے دو عظيم ہم عصر شاعر تهے جن کا‬ ‫کالم ايک ہی زمانے ميں مشہور ہوا۔‬‫شاعری کی حدود سے نکل کر سياسی اور سماجی ميدان ميں بهی دونوں شخصيات‬‫بيسويں صدی کے اوائل ميں ايک ساته نمودار ہوئيں ليکن يہ امر دلچسپی سے خالی‬ ‫نہيں کہ عمر بهر دونوں کی مالقات کبهی نہيں ہوئی۔‬‫عالمہ اقبال کے مداحوں کو اس بات کا ہميشہ قلق رہا ہے کہ ہندوستان کے اولين‬‫نوبل انعام کا اعزاز اقبال کے بجائے ٹيگور کو حاصل ہوا۔ شايد اس ’’ زيادتی‘‘ کی‬‫تالفی ہو جاتی اگر بعد کے برسوں ميں اقبال کو بهی اس انعام کا مستحق قرار دے ديا‬‫جاتا ليکن 3191ء سے 8391ء تک کے 52 برسوں ميں ايک بار بهی نوبل کميٹی‬ ‫کی توجہ اقبال پر مرکوز نہ ہو سکی۔‬‫چونکہ نوبل کميٹی کی تمام دستاويزات اور خط و کتابت پر پچاس برس تک اخفاء کی‬‫پابندی رہتی ہے اس لئے سن ساٹه کے عشرے تک يہ محض ايک راز تها اور اس‬‫پر ہر طرح کی چہ می گوئياں ہوتی تهيں۔ اسے ايک سوچی سمجهی سازش بهی قرار‬ ‫ديا جاتا تهاکہ عالمہ اقبال کو نوبل پرائيز سے کيوں محروم رکها گيا تها۔‬‫3691ء ميں پرانے دستاويزات کے سامنے آنے پر کهال کہ کميٹی نے کوئی سازش‬‫نہيں کی تهی اور نہ عالمہ اقبال کی نامزدگی کا جهگڑا کبهی پيدا ہوا تها۔ ليکن اگر‬‫بنگال کے شاعر رابندر ناته کا نام کميٹی کے سامنے پيش کيا جا سکتا ہے تو اقبال‬‫کی نامزدگی ميں کيا قباحت تهی؟ پرانے دستاويزات اس سلسلے ميں کوئی واضح‬ ‫رہنمائی نہيں کرتے۔‬‫سن 4191ء کے اوائل ميں تيار ہونے والی ايک رپورٹ ميں نوبل کميٹی کے‬‫چيئرمين ہيرلڈ ہئيارن نے جن خيالت کا اظہار کيا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ يورپ‬‫ميں چهڑنے والی جنگ کی ممکنہ تباہ کاری کو ديکهتے ہوئے کميٹی سوچ رہی تهی‬‫کہ نوبل انعام ايسے ہاتهوں ميں نہيں جانا چاہئے جو جنگ اور تباہی کے پر چارک‬ ‫ہوں۔‬
  28. 28. ‫کميٹی کو احساس تها کہ نوبل انعام حاصل کرنے وال اديب راتوں رات شہرت کے‬‫آسمان پر پہنچ جاتا ہے۔ ظاہر ہے ان تحريروں کا اثر دنيا کے سبهی باشندوں پرپڑتا‬ ‫ہے۔‬‫ہيرلڈ ہئيارن نے مختلؾ ماہرين کے آراء پيش کرنے کے بعد رپورٹ ميں خيال ظاہر‬‫کيا کہ ادب کا نوبل انعام ديتے وقت اس امر کو بطور خاص مد نظر رکهنا چاہئے کہ‬‫يہ انعام کسی قوم پرستانہ مصنؾ کونہ چال جائے يعنی کسی ايسے قلم کار کو جو‬ ‫ايک مخصوص قوم کے ملی جذبات کو ابهارکردنياپرچها جانے کی ترؼيب دے رہا ہو۔‬‫ظاہر ہے کہ اقبال کی شاعری کا بيشتر حصہ اسالم اور مسلمانوں کی عظمت رفتہ کو‬‫ياد کرنے اور اسے بحال کرنے کی شديد خواہش کا مظہر ہے۔ اقبال اپنی ملت کو‬‫اقوام مؽرب سے بالتر سمجهتے تهے کيونکہ ان کے خيال ميں قوم رسول ہاشمی‬ ‫جن عناصر سے مل کر بنی ہے وہ دنيا کی کسی اور قوم ميں نہيں پائے جاتے۔‬‫اگرچہ پہلی جنگ عظيم سے قبل بهی يورپ کے سلسلے ميں اقبال کسی خوشی فہمی‬‫کا شکار نہيں تهے ليکن جنگ کے بعد يورپ کے بارے ميں ان کی تلخی مزيد بڑھ‬ ‫گئی۔‬ ‫0791ء کی ايک ؼزل ميں اقبال نے کہا تها:‬‫ديار مؽرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکان نہيں ہے۔‬‫کهرا جسے تم سمجه رہے ہو وہی زر کم عيار ہو گا‬‫نکل کر صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ ديا تها‬‫سنا ہے يہ قدسيوں سے ميں نے وہ شير پهر ہوشيار ہو گا‬‫تمہاری تہذيب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی‬‫گا‬ ‫ہو‬ ‫پائيدار‬ ‫نا‬ ‫گا‬ ‫بنے‬ ‫آشيانہ‬ ‫پہ‬ ‫نازک‬ ‫شاخ‬ ‫جو‬‫4191ء کی ايک رپورٹ ميں نوبل کميٹی کے چيئر مين خيال ظاہر کرتے ہيں کہ‬‫سياسی اتهل پتهل ايک عارضی مرحلہ ہے۔ ادب کو ان وقتی مصلحتوں سے ماوراء‬ ‫ہو کر عالمی اور دائمی اقدار کا دامن تهامنا چاہيے۔‬
  29. 29. ‫کم و بيش يہی وہ خيالت تهے جن کی بنياد پر مہاتما گاندھی کے نوبل پرائز کا راستہ‬‫بهی عرصہ دراز تک رکا رہا ليکن گاندھی کے کيس ميں کم از کم چار مرتبہ ان کا نام‬‫کميٹی کے سامنے آيا اور اس پر خاص بحث بهی ہوئی بلکہ نئی تحقيق کے مطابق‬ ‫تو 8491ء ميں انہيں انعام ملنے ہی وال تها کہ ان کی ناگہانی موت واقع ہو گئی۔‬‫عالمہ اقبال کا معاملہ البتہ مختلؾ ہے۔ 3191ء ميں ٹيگور کو انعام ملنے کے ربع‬‫صدی کے بعد تک اقبال زندہ رہے ليکن نوبل کميٹی نے کبهی ان کے نام پر ؼور‬‫نہيں کيا۔ اقبال کی شہرت کا سورج اس وقت نصؾ النہار پر تها اور يہی وہ زمانہ تها‬‫جب اقبال کو حکومت برطانيہ نے ’’سر‘‘ کا خطاب عطا کيا تها، اگرچہ يہاں بهی‬‫ٹيگور انہيں مات دے گئے کيونکہ ٹيگور کو سرکا خطاب سات برس پہلے 5191ء‬ ‫ميں ہی مل گيا تها۔‬‫ٹيگور مادری زبان کو مقدس سمجهتے تهے۔ ايک بار جب وہ اسالميہ کالج لہور کے‬‫طالب علموں کی دعوت پر پنجاب آئے تو طالب علموں نے ان کے استقبال کے لئے‬‫ان کا معروؾ بنگالی ترانہ گانا شروع کر ديا۔ ٹيگور نے شکريہ ادا کرتے ہوئے کہا‬‫کہ مجهے زيادہ خو شی ہو گی اگر آپ پنجاب کی کوئی سوؼات پيش کريں۔ چنانچہ‬‫ٹيگور کی خدمت ميں ہير وارث شاہ کے چند بند، ہير کی روائيتی طرز ميں پيش کئے‬‫گئے۔ ٹيگور مسحور ہو کر رہ گئے اور محفل کے اختتام پر بولے ميں زبان تو نہيں‬‫سمجهتا ليکن جتنی دير ہير پڑھی جاتی رہی ميں مبہوت رہا اور مجهے يوں محسوس‬ ‫ہوتا رہا جيسے کوئی زخمی فرشتہ فرياد کر رہا ہو۔‬‫ٹيگور کو اقبال سے بهی يہی شکوہ تها کہ اس نے اپنی مادری زبان کے لئے کچه‬‫نہيں کيا۔ بقول ٹيگور اگر اقبال نے فارسی اور اردو کی بجائے پنجابی کو اپنا ذريعہ‬‫اظہار بنايا ہوتا تو آج پنجابی ايک پر مايہ زبان تو ہوتی۔ اقبال کے سلسلے ميں ٹيگور‬‫کا يہ بيان ايک نوبل انعام يافتہ شاعر کا بيان بهی تها۔ ايک ايسے شاعر کے بارے‬‫ميں جو اس اعزاز سے محروم رہا۔ يہ بيان تها ’سر‘ کا خطاب ٹهکرا دينے والے‬‫ايک شخص کا، اس شخص کے بارے ميں جس نے انگريزی کے عطا کردہ اس‬‫خطاب کو عمر بهر سينت سينت کے رکها۔عالمہ اقبال کی شعری کائنات يقينا ٹيگور‬‫کے شعری احاطے سے بہت بڑی تهی کيونکہ شعر اقبال کا ايک سرا اگر بطون ذات‬ ‫ميں تها تو دوسرا وسعت کائنات ميں تها۔‬
  30. 30. ‫کم و بيش يہی وہ خيالت تهے جن کی بنياد پر مہاتما گاندھی کے نوبل پرائز کا راستہ‬‫بهی عرصہ دراز تک رکا رہا ليکن گاندھی کے کيس ميں کم از کم چار مرتبہ ان کا نام‬‫کميٹی کے سامنے آيا اور اس پر خاص بحث بهی ہوئی بلکہ نئی تحقيق کے مطابق‬ ‫تو 8491ء ميں انہيں انعام ملنے ہی وال تها کہ ان کی ناگہانی موت واقع ہو گئی۔‬‫عالمہ اقبال کا معاملہ البتہ مختلؾ ہے۔ 3191ء ميں ٹيگور کو انعام ملنے کے ربع‬‫صدی کے بعد تک اقبال زندہ رہے ليکن نوبل کميٹی نے کبهی ان کے نام پر ؼور‬‫نہيں کيا۔ اقبال کی شہرت کا سورج اس وقت نصؾ النہار پر تها اور يہی وہ زمانہ تها‬‫جب اقبال کو حکومت برطانيہ نے ’’سر‘‘ کا خطاب عطا کيا تها، اگرچہ يہاں بهی‬‫ٹيگور انہيں مات دے گئے کيونکہ ٹيگور کو سرکا خطاب سات برس پہلے 5191ء‬ ‫ميں ہی مل گيا تها۔‬‫ٹيگور مادری زبان کو مقدس سمجهتے تهے۔ ايک بار جب وہ اسالميہ کالج لہور کے‬‫طالب علموں کی دعوت پر پنجاب آئے تو طالب علموں نے ان کے استقبال کے لئے‬‫ان کا معروؾ بنگالی ترانہ گانا شروع کر ديا۔ ٹيگور نے شکريہ ادا کرتے ہوئے کہا‬‫کہ مجهے زيادہ خو شی ہو گی اگر آپ پنجاب کی کوئی سوؼات پيش کريں۔ چنانچہ‬‫ٹيگور کی خدمت ميں ہير وارث شاہ کے چند بند، ہير کی روائيتی طرز ميں پيش کئے‬‫گئے۔ ٹيگور مسحور ہو کر رہ گئے اور محفل کے اختتام پر بولے ميں زبان تو نہيں‬‫سمجهتا ليکن جتنی دير ہير پڑھی جاتی رہی ميں مبہوت رہا اور مجهے يوں محسوس‬ ‫ہوتا رہا جيسے کوئی زخمی فرشتہ فرياد کر رہا ہو۔‬‫ٹيگور کو اقبال سے بهی يہی شکوہ تها کہ اس نے اپنی مادری زبان کے لئے کچه‬‫نہيں کيا۔ بقول ٹيگور اگر اقبال نے فارسی اور اردو کی بجائے پنجابی کو اپنا ذريعہ‬‫اظہار بنايا ہوتا تو آج پنجابی ايک پر مايہ زبان تو ہوتی۔ اقبال کے سلسلے ميں ٹيگور‬‫کا يہ بيان ايک نوبل انعام يافتہ شاعر کا بيان بهی تها۔ ايک ايسے شاعر کے بارے‬‫ميں جو اس اعزاز سے محروم رہا۔ يہ بيان تها ’سر‘ کا خطاب ٹهکرا دينے والے‬‫ايک شخص کا، اس شخص کے بارے ميں جس نے انگريزی کے عطا کردہ اس‬‫خطاب کو عمر بهر سينت سينت کے رکها۔عالمہ اقبال کی شعری کائنات يقينا ٹيگور‬‫کے شعری احاطے سے بہت بڑی تهی کيونکہ شعر اقبال کا ايک سرا اگر بطون ذات‬ ‫ميں تها تو دوسرا وسعت کائنات ميں تها۔‬
  31. 31. ‫پانی ہے زندگی۔‬‫مجهے ہميشہ سے پا نی کی يہ خاصيت بہت بهلی لگتی ہے کہ يہ ہرميلی اور گندی‬‫شئے کو صاؾ اور پاک کر ديتی ہے۔ قدرت نے اس ميں يہ صالحيت بهی رکهی ہے‬‫کہ اسے جس رنگ ميں مال يا جا ئے وہ اسی ميں رنگ جا تا ہے۔ اس ميں کو ئی انا‬‫نہيں کو ئی تکبر نہيں ہوتا۔ ليکن حضرت انسان اسے بهی اپنے اختيار ميں رکهنے‬‫کی کو ششوں ميں مصروؾ ہے۔ پا نی جيسی اہم ضرورت پر قبضے کی کہا نی بہت‬‫پر انی ہے ۔ جو لوگ دنيا کی تما م وسائل اپنے قبضے ميں رکهنے کے خوا ہش مند‬‫ہو تے ہيں وہ اس با ت سے ضرور آگا ہ ہيں کہ پا نی انسان کی بنيا دی ضرورتوں‬‫ميں شامل ہے۔ اگر ہم اسال می تاريخ پر بهی نظر ڈا ليں تو اوائل اسال م کے زما نے‬‫ميں بهی مسلما ن وديگر قبا ئل کے لو گ کس طرح پا نی کے حصول ميں سر گرداں‬ ‫ٰ‬‫رہتے تهے اور حضرت عثما ن ؼنی رضی ّللا تعا لی عنہ کی ايک روايت بيحد مشہور‬‫ہے جس ميں انهوں نے مکہ کے سب سے بڑے (آبی ذخيرہ ) کنواں کو ايک يہودی‬‫سے منہ ما نگے داموں خريد کراسے بال مذہب وتفريق تما م مکہ والوں کے ليے‬‫وقؾ کر ديا تها۔ يہ ان کی سخاوت کی بے شما ر بے مثالوں ميں سے ايک‬ ‫خوبصورت مثال ہے۔‬‫22 مارچ کو پوری دنيا ميں آبی وسائل کا دن منا يا جارہا ہے اس دن پا نی کے‬‫حوالے سے در پيش مسا ئل کے حل کے ليے ورلڈ فورم کا انقعاد کيا جا تا ہے دنياکو‬‫صاؾ پا نی مہيا کر نے کا خواب ديکهنے والوں کا سب سے بڑا اجتماع’’ ورلڈ وا ٹر‬‫فورم ‘‘ جس کا اجال س ہر تين سال بعد ہو تا ہے اس فورم کی خصو صيت يہ ہے کہ‬‫اس ميں 081ممالک کے 00002 ہزار افراد حصہ ليتے ہيں جن ميں 09 وزرا ُ ،‬‫052 ارکا ن پا رليمنٹ ‘ سا ئنس دانوں اور پا نی فروخت کر نے والے پيشہ ور‬‫شامل ہو تے ہيں۔ 9002 ء ميں اس کا آخری اجالس تر کی کے شہرمار سيلی ميں‬‫ہوا۔ ا س سال 2102ء ميں ہو نے والے اجال س کی ميز بانی فرانس کے حصہ ميں‬‫آئی ہے۔ آبی ما ہرين کا کہنا ہے کہ آئندہ آنے والی دھا ئيوں ميں ملکوں کے درميا ں‬‫جنگ آبی وسائل کے حصو ل کے ليے ہو گی اس سے اندازہ لگا يا جا سکتا ہے کہ‬ ‫يہ کس قدر گهمبير مسئلہ ہے ۔‬
  32. 32. ‫پا کستا ن جيسے ترقی پذير ملک جہا ں کروڑں لوگ خط ؼربت سے نيچے زندگی‬‫گزار رہے ہوں، جہا ں خون پا نی سے بهی ارزاں ہو گيا ہو، وہا ں لوگ آنے والے‬‫دنوں کی منصوبہ بندی پر کس طرح صرؾ نظر کر سکتے ہيں۔ بيشترترقی يافتہ‬‫ممالک آنے والے دنوں کی جامع حکمت عملی ميں مصروؾ عمل ہيں اور اسکے‬‫ساته ساته دوسرے ترقی پذير ممالک کے آبی ذخائر پر قبضے کی کوششيں بهی‬‫جاری ہيں۔ جس طرح اسرا ئيل نے فلسطين اور اردن کا پانی روک رکها ہے، اسی‬ ‫طرح ہر سال بهارت پاکستان کے آبی حصہ داری پر ڈاکہ ڈالتا رہا ہے ۔‬‫آج کی دنيا ميں پا نی کے حوالے سے بہت گرما گرمی پا ئی جاتی ہے۔ خصو صا وہ‬‫ترقی يا فتہ ممالک جہا ں پا نی کے مسائل نہيں، وہ بهی دوسرے تر قی پذ ير ممالک‬‫کے آبی ذخا ئر پر حر يصا نہ نظر يں جما ئے ہو ئے ہيں۔ يہ ترقی يا فتہ ممالک ورلڈ‬‫بنک کے مضبو ط رکن کی حيثيت رکهتے ہيں۔ اور ترقی پذير ممالک کو ديے گئے‬‫قرضے کی کڑی شرائط ميں سيا ہ وسفيد کے مالک ہو تے ہيں۔ ؼريب ممالک کی‬‫بقاء کا دارو مدار اسی قرضے اور ؼير ملکی امداد پر ہو تا ہے۔ لہذايہ کسی دباؤ اور‬‫شرائط کو نہ کہنے کی پو زيشن ميں نہيں ہو تے۔ ان کی مجبوريوں کا فا ئدہ اٹها تے‬‫ہو ئے ورلڈ بنک نے پانی کی نجکا ری کی پا ليسی متعارؾ کر ائی ہے۔ جس کے‬‫تحت پا نی کی پوری پوری قيمت وصول کی جائے گی۔ اس کی ايک مثال ورلڈ بنک‬‫نے 5002ء ميں اپنے مقروض ملک بو ليويا (جنو بی امريکہ) ميں ورلڈ بنک کے‬‫حکام نے حکومتی کابينہ کے اجال س ميں شرکت کی ہے۔ اس نے بو ليويا کے‬‫تيسرے بڑے شہر’’ کوچابا ما‘‘ ميں صاؾ پانی کی فراہمی کے ليے 52 ملين‬‫امريکی ڈالر قر ضہ دينے سے انکا ر کر ديا ۔ شرط يہ رکهی گئی کہ حکومت جب‬‫تک پہلے پا نی کے نظام کو نجی ملکيت ميں نہيں دے ديتی اور اسکے اخراجات صا‬‫رفين پر نہيں ڈالے جا تے يہ قرضہ نہيں ديا جا سکتا۔ اس ضمن ميں ہو نے والی‬‫نيالمی ميں صرؾ ايک ٹينڈر کو منظور کيا گيا، جس کی سربراہی بد نا م زما نہ ايک‬‫بڑی انجينئر کمپنی کے پا س تهی۔ جس نے چين ميں تين بڑ ے ڈيموں کی تعمير ميں‬‫بڑی کرپشن کی تهی ليکن ورلڈ بنک کے دباؤ ميں آکر اس کمپنی کو کا م سونپا گيا۔‬ ‫اس کمپنی نے ابهی کا م شروع بهی نہيں کيا تها کہ پا نی کی قيمتيں دوگنی کر دی‬
  33. 33. ‫گئی۔ بو ليويا کے عوام کے ليے اب پا نی کا حصول ؼذا سے بهی مہنگا ہو گيا تها۔ ان لو گوں‬‫کے ليے جو کم آمدنی رکهتے تهے يا جن کا کو ئی ذريعہ معاش نہ تها، ان کے ليے اس طرح‬‫زندگی گزارنا قابل برداشت ہو گيا۔ پانی کے بل ان کے گهريلو بجٹ کی آدھی رقم بہا لے جا‬‫تا۔عوام کی زندگی مزيداجيرن بنا نے کے ليے ورلڈ بنک نے مر اعات يا فتہ طبقے کو پا نی کے‬‫نرخ مقر رکرنے کا مکمل اختيار دے ديا۔ نيز حکومت کو تنبيہ کی گئی کہ اس کی قرضے دی‬‫گئی رقم پا نی کے ؼريب صارفين کو سبسڈی دينےکےليےاستعمال نہيں کی جائے گی۔ کسی‬‫بهی ذريعے سے حاصل ہونے والے پا نی کو خواہ وہ کميو نٹی کنو يں سے ہی کيو ں نہ نکال‬‫گيا ہو،اس کے حصول پر پا بندی لگا دی گئی۔ ان تما م شرائط کی ورلڈ بنک يہ دليل ديتا ہے کہ‬‫ؼريب حکومتيں اکثربدعنوانی کاشکاررہتی ہيں، لہذاؼريب عوام کو پا نی کے نظام کو بہتر طور‬‫پر چال نے کے مو ثر انتظام اور آل ت سے قا صر رہتی ہيں۔ اس ضرورت کوپورا کر نے کے‬‫ليے ورلڈ بنک سرما يہ کاری اور ہنر کے نئے راستے کهو لتا ہے۔ يہ الگ با ت ہے کہ پا نی‬‫کی قيمت ميں اضافے سے ؼربت کی شرح ميں مز يد اضافہ ہو تا ہے۔ پانی کے حوالے سے‬‫ورلڈ بنک نے جو کڑی شرائط رکه کر ترقی پزير ممالک کو اپنے بس ميں کيا ہوا ہے، ا س‬‫ميں ارجنٹائن ،کو لمبيا ، چلی، ايکواڈور ، مر اکش اور فلپا ئن شامل ہيں۔ اگر ہم اپنے ملک کی‬‫پا کستا ن کی با ت کريں تو ہم بهی اس وقت ورلڈ بنک کے شکنجے ميں پهنسے ہو ئے ہيں‬‫ليکن خداکا شکر ہے کہ حالت اس نہج پر نہيں پہنچے کہ ورلڈ بنک ہمارے آبی وسائل کی بابت‬‫فيصلے کرنے کا مجا زہو۔ ليکن يہ ہماری بد قسمتی بهی ہے کہ پاکستان اپنے بيش بہا وسائل‬‫کے باوجود مشکال ت کا شکار ہے۔ جب بارش نہ ہو تو ہم قحط سالی کا شکا ر ہوجا تے ہيں‬‫اور اگربا ران رحمت برس پڑے تو ہم اس ذخيرے کومحفوظ کرنے کی بجا ئے سيال ب کے ہا‬‫تهوں ہال کتوں سے پريشان ہو تے ہيں۔ ہرسا ل ايک نيا سيالب ہميں معاشی مسائل کے گرداب‬‫ميں کئی دھائی پيچهے کر ديتا ہے۔ اس مسئلہ سے نبٹنے کے ليے ہماری حکومت کو مو ثر‬‫حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ بهارت ہما رے آبی وسائل پر قا بض ہو نے کے ليے در جنوں‬‫ڈيمز بنا رہا ہے تا کہ ہما ری زرعی زمينوں کو بنجر کر سکے۔ ہميں بهی نئے ڈيمز بنا نے اشد‬‫ضرورت ہے موسميا تی تبديليوں کے با عث آئيندہ آنے والے سالوں ميں آبی مسا ئل کی ٹهوس‬ ‫منصوبہ بندی کر کے ہم آزاد اور ترقی يا فتہ ممالک کی صفوں ميں شامل ہو سکتے ہيں ۔‬‫(عينی نيازی - عين اليقين)‬

×