06    The Day Of Judgement Peer & Mureed.
Upcoming SlideShare
Loading in...5
×
 

06 The Day Of Judgement Peer & Mureed.

on

  • 1,012 views

in urdu language

in urdu language

Statistics

Views

Total Views
1,012
Views on SlideShare
1,010
Embed Views
2

Actions

Likes
0
Downloads
8
Comments
0

1 Embed 2

http://www.slideshare.net 2

Accessibility

Upload Details

Uploaded via as Microsoft PowerPoint

Usage Rights

© All Rights Reserved

Report content

Flagged as inappropriate Flag as inappropriate
Flag as inappropriate

Select your reason for flagging this presentation as inappropriate.

Cancel
  • Full Name Full Name Comment goes here.
    Are you sure you want to
    Your message goes here
    Processing…
Post Comment
Edit your comment

06    The Day Of Judgement Peer & Mureed. 06 The Day Of Judgement Peer & Mureed. Presentation Transcript

  • يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا ( سورة الاحزاب 66:33) وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا ( سورة الاحزاب 67:33) رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيرًا ( سورة الاحزاب 68:33) جس دن آگ میں انکے چہرے الٹ پلٹ کیے جا ئنگے تو وہ کہیں گے؛ اے کاش ہم نے اللہ کی اطاعت کی ہوتی اور ہم نے رسول کی اطاعت کی ہوتی ( سورة الاحزاب 66:33) اور وہ کہیں گے ؛ اے ہمارے رب ! بیشک ہم نےاپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت کی، تو انہوں نے ہمیں سیدھی راہ سے بھٹکادیا ( سورة الاحزاب 67:33) اے ہمارے رب ! انکو دوگنا عذاب دے اور ان پر بڑی سخت ( اور زیادہ ) لعنت کر ( سورة الاحزاب 67:33)
  • أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا کاتقاضا ہیکہ
    • جو کچھ اللہ تعالی کے احکام اور نبی کریم ( صلى لله عل یھ وسلم ) کے قول و ف عل ہیں صرف انہیں پر اور اسی کے مطابق عمل کیا جاۓ ، اور چونکہ نبی کریم ( صلى لله عل یھ وسلم ) کا قول ہیکہ ”میرے بعد میرے صحابہ کی ا ت باع کرو یہ رات کے چمکتے ہوےستاروں کیطرح تمہیں راہ دکہايں گے . اسلیۓ ان کی بھی ا ت باع جائزہے
    • اسکے علاوہ کسی اور کی اطاعت ، عبادت ( دعاء مانگنا، سجدہ کرنا، کعبۃ اللہ کے علاوہ کہیں اورطواف کرنا،نذر و نیاز، منتیں ماننا، چڑھاوے،غیر اللہ کے علاوہ کسی اور کے نام قربانی اور صدقہ و خیرات کرنا، اگرکوی فقیر بھی اللہ کے علاوہ کسی بزرگ، بابا، خواجھ غریب، یا کسی درگاہ، قبر کے وسیلہ یا انکا نام لیکر انکے واسطے سے مانگے تو ویسی خیرات وہ صدقہ بھی شرک اکبر ہوگی، اور ہم کو خیرات دیتے ہوے بھی احتیاط سےکام لیناضروری ہے )
  • أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا کاتقاضا ہیکہ
    • نبی کریم صلی للہ علیہ وسلم ك ے دین ( طریقہ زندگی ) پر ہی اکتفا کیا جاے،ان کےاور صحابہ کرام کے قول و فعل پر ہی ( بغیرکسی ملاوٹ کے ) عمل کیا جاے ۔
    • جیسا کہ نبی کریم ( صلی للہ علیہ وسلم ) ہر خطبہ میں فرما یا کرتے تھے
    • الحمد لله نحمده و نشكره و نستعينه و نستغفره و نعـوذ بالله من شرور أنفسنا و من سيئات أعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادى له فإن خير الحديث كتاب الله وخير الهدى هدى محمد صلى الله عليه وسلم وشر الأمور محدثاتها وكل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة وكل ضلالة فى النار ( رواه مسلم )
    • دین میں ہر نئ ایجاد بدعت ہے؛ ہر بدعت گمراہی ہے؛ اور ہر گمراہی جہنم میں لیجانے والی ہے
    • اوراسکی تاید قرآن و حدیث سے بھی ہوتی ہے جیسا کہ ذیل میں ہے
    • فَقَدْ جَاءكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِآيَاتِ اللّهِ وَصَدَفَ عَنْهَا سَنَجْزِي الَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ آيَاتِنَا سُوءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُواْ يَصْدِفُونَ ( سورة الانعام 6:157)
    • چنانچہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سےایک واضح کتاب و ہدایت اور رحمت آگئ ہے، پھر اس شخص سے ظالم کون ہے، جس نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے منہ موڑا ؟ جو لوگ ہماری آیات سے منہ موڑتے ہیں انہیں جلد ہم سخت عذاب کی شکل میں سزا دینگے، اسلۓ کہ وہ حق سے منہ موڑتے ہیں ( سورة الانعام 6:157)
    • وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ( سورة الزّمر 39:7 )
    • اور کوی بوجھـ نہیں اٹھانےوالا دوسرےکا بوجھـ نہیں اٹھاےگا ( سورة الزّمر 39:7 )
  • وَاتَّقُواْ يَوْماً لاَّ تَجْزِي نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ شَيْئاً وَلاَ يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلاَ يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلاَ هُمْ يُنصَرُونَ ( سورة البقرة 2:48)
    • اس دن سے ڈرو جب کوی جان کسی جان کو کوی فائدہ نہیں دے گی، اور نہ اس سے سفارش قبول کیجاۓ گی اور نہ اس سے کوی عوض لیا جایئگا اور نہ ہی ان کی مدد کی جائگيی ( سورة البقرة 2:48)
    • جب یہ قرانی آیات صاف کہہ رہی ہے کہ کوی جان کسی جان کو کوی فائدہ نہیں دے گی، اور نہ اس سے سفارش قبول کیجاۓ گی تو اپ قرآن کو جھٹلاتے ہوے یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ کوی پیر کوی بابا ہمیں بچالینگے
    • أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللّهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللّهِ مِن وَلِيٍّ وَلاَ نَصِيرٍ ( سورة البقرة 2:107 )
    • کیا اپ نہیں جانتے کہ بیشک اللہ ہی کیلۓ ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی، اور تمہارے لیے اللہ کے سوا نہ کوی حمائتی ہے نہ مددگار ( سورة البقرة 2:107)
    • یہ کہناکہ فلاں غوث مدد کرینگے، فلاں بندہ نواز نوازیں گے،فلاں بزرگ ہماری مدد کریں گے کیا یہ ان ایات کو جھٹلانا ان کا انکار نہیں تو اور کیا ہے ؟ کیا اسکو کفر نہیں کہتے ؟
    • امام الانبياء ن ے اپني چہيتي بیٹی فاطمه ( رضى الله عنها ) سےکھا تھا کہ آ ج مج ھـ سے جو چا ہ ے ما نگ لو كل مي ں روز محشر تمهارى مدد ن ہ ي ں كرسكو ں گا صرف تمہارے اعمال ہی تمہارےسات ھ ہونگے
    • جب امام الانبياء رحمت اللعالمين اپني چہيتي بیٹی یا اپنے چچا کی بخشش اپنی مرضی سے نہیں کر سکتے تو کس کی حیثیت ہے کہ کسی اور کی بخشش کراۓ
    • ان ہ ي امام الانبياء كو انكے اپنے چ ہ یتے چچا حضرت ابوطالب كي مغفرت كي دعاء كيلے الله ( سبحانه و تعالى ) نے منع كرديا .
    • مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُواْ أَن يَسْتَغْفِرُواْ لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُواْ أُوْلِي قُرْبَى مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ ( سورة التوبة 9:113)
    • نبی کے اور ایمان والوں کے لایق نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیےبخشش کی دعا کریں ، خواہ وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی ہوں ، ان کے متعلق یہ واضح ہوجانےکے بعد کہ وہ بلاشبہ دوزخی ہیں۔ ( جبکہ ابوطالب نبی کریم صلی للہ علیہ وسلم اور اسلام کیلۓ ایک مضبوط قلعہ تھے اور اسوقت جب قریش اور ابو لہب سخت مخالفت کررہے تھے ایسے وقت میں ابو طالب نے کہاتھا کہ آپ کی بات سچ ہے - مگر میں عبدالمطلب کی طرز زندگی طور طریقے [ باپ دادا کا دین ] نہیں چھوڑ سکتا )
    • أَيُشْرِكُونَ مَا لاَ يَخْلُقُ شَيْئاً وَهُمْ يُخْلَقُونَ
    • کیا وہ انکو ( اللہ کے ) شریک ٹھراتے ہیں جو كوى چیز پیدا نہیں کرتےجبکہ وہ خود پیداکیے جاتے ہیں ( سورة اعراف 7 :191)
    • ( اشارہ قبروں کیطرف واضح ہے ، کیونکہ انسان ہی پیداکیے جاتے اور ان کے مرنے کے بعد ان کی قبروں کو سجدہ گاہ ، اور مرکز طواف ، اور ان کے نام پر قربانیاں کی جاتی ہیں، بت مورتیاں پیدا نہیں کیجاتی )
    • وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ لاَ يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلآ أَنفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ ( سورة اعراف 7:197)
    • اور جنہیں تم اللّھ کے سوا پکارتے ہو ، وہ تمہاری مدد کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں۔ ( سورة اعراف 7:197)
    • یہاں یہ بات واضح ہوگی کہ اللّھ کے سوا کوی اور مد د گار نہیں ۔ اور اگر کرامات کی بات کریں تو اسلام میں اسکا کوی مقام نہیں۔ ایسی چیزیں تو مندروں اور گرجا وغیرہ وغیرہ میں بھی عام ہیں۔ جادوگر بھی اپنی دکان چلانے مختلف موقعوں کے انتظار میں ہوتے ہیں۔
    • اسلام کا ایک زبردست معجزہ اگر دیکھنا ہے تو اٹھایۓ قران اور روزانہ سمجہ کر پڑھیےپھر دیکھیے اپ کی زندگی میں کیسے معجزے اتے ہیں ۔
    • أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاء مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ ( سورة الزّمر 39:3 )
    • سنو ! خالص بندگی اللہ ہی کیلۓ ہے، اورجن لوگوں نے اسکے سوا کار ساز بنارکھےہیں، ( وہ کہتے ہیں ) ہم انکی عبادت ( دعاء ، نذ ر و نیاز،سجدہ،طواف وغیرہ وغیرہ ) صرف اسلیۓ کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کے زیادہ قریب کردیں، یقینا اللہ انکےدرمیان ان باتوں کا فیصلہ فرماۓ گا جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں، بیشک اللہ اسے ہدایت نہیں دیتاجو جھوٹا، ناشکراہو ( سورة الزّمر 39:3 )
    • کیا ہم پیرو مرشد، فال کھولنے،تعویذ و گنڈے، ستاروں کی گردش، قبروں، درگاہوں کو اپنے کار سازنہیں بنارکھےہیں کیا ہم انکی مدد کے طلبگار نہیں ( تو پھر اوپر کی ایت کے مطابق ہم کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں )
    • إِيَّاكَ نَعْبُدُ وإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ( سورة الفاتحة 1:5)
    • ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھـ ہی سے مدد چاہتے ہیں ( سورة الفاتحة 1:5)
    • ہم ایکطرف اپنی نمازوںمیں اللہ ( سبحانہ و تعالی ) کےسامنے یہ اقرار کرتے ہیں کہ ” ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھـ ہی سے مدد چاہتے ہیں ، اورپھر قبروں کو سجدے کرتے ہیں، قبروں کا طواف کرتے ہیں نذر و نیاز،تعویذ گنڈوں سے اور غیراللہ سےمدد چاہتے ہیں
    • قُل لاَّ أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلاَ ضَرًّا إِلاَّ مَا شَاء اللّهُ وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لاَسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَاْ إِلاَّ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ َ ( سورة اعراف 7:188)
    • کہ دیجیے میں اپنی جان کیلیے نفع اور نقصان كا اختيار نہيں ركهتا ، مگر جو الله چاہے ،اور اگر میں غيب جانتا تو بہت سي بھلائیاں حاصل کرلیتا اور مجھے کوی تکلیف نہ پہنچتی، میں تو ڈرانیولا اور خوشخبری سنانے والا ہوں ان لوگوں كو جو ايمان لاتے ہیں َ ( سورة اعراف 7:188)
    • اوپرکی قرانی ایت سے واضح ہے جب نبی کریم صلی للہ علیہ وسلم بھی جب نفع اور نقصان كا اختيار نہيں ركهت ے تو ان سے ب ڑھ کر مخلوق میں کون ہے جو دوسروں کو بھی فائدہ یا نقصان پہنچاے اور جو غیب جانے، یا غیب سے مدد کرے، وہ بھی اپنی قبروں کے اندر سے؟ اگر کسی زندہ کو دفن کرنے کی کوشش کریں تو وہ اپنی پوری مدافعت کرے گا،اور اپنے اپ کو دفن نہیں کرنے دےگا۔ اور مردے کو ہی غسل،کفن،دفن کے لیے زندہ لوگوں کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے، اور جب زندہ لوگوں کی مدد سے کفنایا وہ دفنایا گیا توپھر کیسے وہ خود اب وہ زندوں کی مدد کرسکتا ہے، کیا یہ ویسی ہی بات نہیں جیسے اپنے ہاتھـ سے خود مورتی بنا کر پھر اسی سے مدد مانگے – کیا فرق ہے دونوں میں۔
  • لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا ( سورة الأحزاب 33:21) یقینا تمہارے لیے رسول اللہ ( کی ذات ) میں ب ہ تر ین نمونہ ہے ، ہر اس شخص کیلۓ جو اللہ ( سے ملاقات ) اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہے اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہے ( سورة الأحزاب 33:21) پھر اگر نبی کریم ( صلی للہ علیہ وسلم ) نے اپنی زندگی میں ھماری ماں حضرت خد یجہ ( رضى الله عنها ) كا یا دوسرے رشتہ دار یا صحابہ کرام، یا اپنے لخت جگر ( حضرت قاسم اور ابراھیم ) کا فاتح ہ پڑھا تھا،یا ان کا سوم، چالیسواں، برسی کی تھی یا ان درگاہیں بنای ہوتی تو ہم بھی کرتے کیونکھ ہمارے لیے رسول اللہ ( صلی للہ علیہ وسلم ) کی ذات میں ب ہ تر ین نمونہ ہے مگر ایسی کوی مثال نھیں ملتی ، حالانکہ چھوٹی چھوٹی باتیں حمام ، غسل ،طہارت کے طریقے وا ضح طور پر بتاے گے ہیں
    • ْ إِنَّ صَلاَتِي وَ نُسُكِي و َمَحْيَايَ وَ مَمَاتِي لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ( سورة الأنعام 6:162)
    • کہہ دیجیۓ ، بےشک میری نماز ، میری قربانی ، میری زندگی ، میری موت ، ( سب کچھ ) اللہ رب العالمین کے لیے ہے ( سورة الأنعام 6:162)
    • ایک مسلمان کی زندگی کے تمام کام ، تمام معاملات، لین دین،رکھـ رکھاؤ طور طریقے غرض کے ہر کام اوپر کی آیت کے اور رسول اللہ کے أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ کے مطابق ہی ہوں
    • وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ ( سورة غافر / المؤمن 40:60)
    • اور تمہارے رب کا فرمان ( سرزد ہوچکا ) ہے کہ مجہ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خود سری کرتے ہیں وہ ابھی ابھی ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے ( سورة غافر / المؤمن 40:60)
    • اس آیت سے واضح ہے کہ دعا بھی عبادت ہے ، اور اللہ ( سبحانہ و تعلی ) کے علاوہ کسی اور سے دعا مانگنا شرک ہے۔
    • اسکےعلاوہ حدیث ہے کہ ”الدعاء مخ العباد ة “ یعنے حدیث سے بھی صاف ظاہر ہےکہ دعاء عبادت کا حصہ اوراسکا اصل حاصل ہے،لحاظہ اللہ ( سبحانہ و تعلی ) کے سوا کسی اور سے دعاء مانگنا شرک ہے
    • قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ( سورة الزّمر 39:53 )
    • اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ! تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک اللہ سب گناہ معاف کر دیتا ہے، یقینا وہی بڑا بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے ( سورة الزّمر 39:53 )