Your SlideShare is downloading. ×
FATA Committee News Release: First Party-based Elections in FATA History (14 March 2013, Urdu)
Upcoming SlideShare
Loading in...5
×

Thanks for flagging this SlideShare!

Oops! An error has occurred.

×
Saving this for later? Get the SlideShare app to save on your phone or tablet. Read anywhere, anytime – even offline.
Text the download link to your phone
Standard text messaging rates apply

FATA Committee News Release: First Party-based Elections in FATA History (14 March 2013, Urdu)

266

Published on

Political Parties Campaign in Historic FATA Elections. ENGLISH version available here: http://www.slideshare.net/FATAparties/fata-committee-news-release-14-march-2013-english-17191899 ---- For a …

Political Parties Campaign in Historic FATA Elections. ENGLISH version available here: http://www.slideshare.net/FATAparties/fata-committee-news-release-14-march-2013-english-17191899 ---- For a Microsoft Word version of the Urdu press release, visit the following link: https://docs.google.com/folder/d/0B7rCHTKtHTewQ3hzRFU1aVdPUWM/edit?usp=sharing

Published in: News & Politics
0 Comments
0 Likes
Statistics
Notes
  • Be the first to comment

  • Be the first to like this

No Downloads
Views
Total Views
266
On Slideshare
0
From Embeds
0
Number of Embeds
0
Actions
Shares
0
Downloads
3
Comments
0
Likes
0
Embeds 0
No embeds

Report content
Flagged as inappropriate Flag as inappropriate
Flag as inappropriate

Select your reason for flagging this presentation as inappropriate.

Cancel
No notes for slide

Transcript

  • 1. ‫سیاسی جماعتوں کی انتخابی کمپین اور فاٹا میں تاریخی انتخابات‬ ‫اسالم آباد- پولیٹیکل پارٹیز آرڈر کو فاٹا میں 2211 ء میں الگو کرنے کے بعد اب سیاسی جماعتیں پہلی‬ ‫بار فاٹا میں انتخابات کے لئے میدان میں اتریں گی۔‬‫جیسے جیسے عام انتخابات قریب آرہے ہیں ایسے ایسے سیاسی جماعتوں کے امیدواران اپنی سیاسی کمپین تیز تر کرتے‬ ‫جارہے ہیں تاکہ فاٹا کی عوام بھی پارلیمنٹ میں اپنے عوام کی نمائندگی کرے۔‬ ‫جیسا کہ تاریخ میں پہلی بار سیاسی جماعتیں فاٹا میں انتخابات کے لئے میدان میں اتر رہی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی‬ ‫مشترکہ کمیٹی برائے فاٹا اصالحات بروز جمعرات یکجا ہوئیں تاکہ الیکشن سے قبل کے فاٹا کے ماحول کا تجزیہ کیا‬ ‫جائےاور مزید سیاسی اصالحات کے بارے میں مزید اصالحات کی سفارشات مرتب کریں۔‬ ‫اس اجتماع میں سیاسی جماعتوں نے فاٹا میں پولیٹیکل پارٹیز آرڈر کے نفاز میں درپیش مسائیل اور مشکالت کو واضح‬ ‫کیا اور ساتھ ہی ساتھ ان رکاوٹوں کا ذکر بھی کیا جو انتخابی کمپین کے دوران ان کو درپیش ہیں۔‬ ‫کمیٹی میں پی ٹی آئی کی شمولیت سےکمیٹی میں سیاسی جماعتوں کی کل تعداد دس سے بڑھکر گیارہ ہوگئی ۔ اس ہفتے‬‫فاٹا کمیٹی کے 53 سیاسی عمائدین کے درمیان ایک مالقات کا انعقاد کیا گیا۔ اس مالقات میں فاٹا میں الیکشن کمپین چالنے‬ ‫کے حقائق، 2211 فاٹا اصالحات کے نفاذ کی حقیقت بشمول ایف سی آر میں ترامیم، زیر بحث رہے۔ قبائلی سیاسی‬ ‫ٰ‬ ‫عمائدین نے پولیٹیکل انتظامیہ، فوجی انتظامیہ اور دہشت گردوں کو الیکشن کمپین چالنے کی راہ میں رکاوٹیں قرار دیا۔‬ ‫دسمبر میں فاٹا کمیٹی نے 3 سفارشات اور خدشات کا ذکر کیا اور الیکشن کمیشن سے اس بارے میں فوری اقدامات‬ ‫اٹھانے کا مطالبہ کیا تاکہ فاٹا میں آزاد اور شفاف انتخابات کو یقینی بنایا جاسکے۔ بد قسمتی سے الیکشن کمیشن نے ابھی‬ ‫تک صرف ایک سفارش کے متعلق کاروائی عمل میں الئی ہے کہ چھ الکھ سے زائد آئی ڈی پیز کو انکے عارضی‬ ‫ٹھکانوں پر ووٹ دینے کا حق دےگی۔‬ ‫دہشت گردی اور بد امنی کی وجہ سے بے گھر ہونے والے آئی ڈی پیز کو بھی ووٹ دینے کا حق اسی طرح حاصل ہے‬ ‫جس طرح کے باقی پاکستان کے باشندوں کو حاصل ہے۔ فاٹا کمیٹی اس عمل کو یقینی بنانے کے لئےنگرانی کریگی کہ‬ ‫پولنگ سٹیشن آئی ڈی پیز کی رسائی سے باہر تو نہیں۔‬ ‫ٰ‬‫اس ہفتے اسالم آباد میں 9 سیاسی جماعتوں کے قبائلی عمائدین کے درمیان بحث ومباحثہ کے بعد انہوں نے متفقہ طور پر‬ ‫10 مزید سفارشات مرتب کیں تاکہ فاٹا میں انتخابات صاف و شفاف ہو جس میں پہلے سے ہی منظور شدہ فاٹا اصالحات‬ ‫کا موثر نفاذ بھی شامل ہے۔ ان سفارشات پر فوری عمل ہونا چاہیے اور عمائدین نے انتخابات سے قبل ہی انکے نفاذ کا‬ ‫مطالبہ کیا۔‬ ‫فاٹا اور اس سے ملحقہ قبائلی عالقوں کے سیاسی عمائدین نے ان رکاوٹوں اور مشکالت کی نشان دہی کی جن کا سیاسی‬ ‫جماعتوں کو سیاسی سرگرمیوں اور الیکشن کمپین چالنے کے دوران سامنا ہے ان رکاوٹوں میں امن ومان کی بدتر‬ ‫صورتحال، پولیٹیکل انتطامیہ اور خفیہ ادارے، فوج فاٹا کا موثر طبقہ اور قومی اور بین االقوامی دہشت گرد گروہ سر‬ ‫فاٹا کمیٹی نیوز ریلیز 14مارچ‬
  • 2. ‫فہرست ہیں۔ یہ تمام عناصر قبائلی عوام کو سیاسی سرگرمیوں میں آزادانہ طور پر حصہ لینے سے روک رہی ہے اور‬ ‫ساتھ ہی ساتھ سیاسی جماعتوں کو اپنے ووٹزر سے رابطہ کرنے کی راہ میں بھی رکاوٹ کے طور پر حائل ہے۔‬ ‫قبائلی عمائدین نے یہ بھی کہا کہ خفیہ ادارے ہمارے کارکنوں اور ہمیں ڈراتے اور دھمکاتے ہیں اور ہمارے عالقوں‬ ‫میں سیاسی سرگرمیوں اور الیکشن کمپین کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہی ہیں‬ ‫اس اجتماع میں تمام سیاسی عمائدین نے متفقہ طور پر درجہ ذیل سفارشات منظورکی۔‬‫2- 2211 پولیٹیکل پارٹیز آرڈر اورترمیم شدہ ایف-سی-آر کا نفاذ پولیٹیکل انتظامیہ اور سیکورٹی انتظامیہ صحیح معنوں‬ ‫میں نہیں کرتی، حکومت اسکے نفاذ کی نگرانی کرے اور اسکے نفاذ کو یقینی بنائے۔‬ ‫1- سیاسی جماعتوں کو کارنر میٹنگز منعقد کرنےکے لئے کسی پیشگی نوٹس الزم نہ قرار دیا جائے۔‬ ‫5- سیاسی پارٹیوں کو فاٹا میں بال روک ٹوک رسائی اپنی سرگرمیاں کرنے اور حفاظتی اقدامات کے تحت مناسب‬ ‫سیکورٹی بھی فراہم کی جائے ۔‬ ‫0- تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے سیاسی منشور میں فاٹا کے اصالحات اور فاٹا میں جمہوریت شامل کرنے چایئے۔‬ ‫3- سیاسی جماعتیں انتخابات کے لئے امیدواروں کو ٹکٹ نہ بیچے۔ الیکشن کمیشن کو اس غیر جمہوری فعل پر فوری‬ ‫پابندی لگانی چاہئے‬ ‫6- کئی ملِک اور خان اپنے لوگوں کے ووٹ بیچتے ہیں، اس فعل کو ممنوع قرار دیا جائے اور الیکشن کمیشن اس فعل‬ ‫کو قابل سزاقرار دے بشمول امیدوار کی نا اہلی۔‬ ‫ِ‬ ‫ِ‬ ‫7- فاٹا کی عورتوں کے لئے بھی پارلیمنٹ میں 55 فیصد کوٹہ مختص کیا جائے جسطرح کے باقی پاکستانی عورتوں‬ ‫کےلئے ہے۔‬‫8- عورتوں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کو یقینی بنانے کے لئے عورتوں کے لئے علیحدہ پولنگ سٹیشنز بنانے چاہئیں۔‬ ‫9- فاٹا سے ملحقہ قبائلی عالقے کا حلقہ این- اے 70 آبادی اور رقبے دونوں کے لحاظ سے بڑی ہے اسکو آبادی کی‬ ‫بنیادوں پر تقسیم کیا جائے۔‬ ‫12- جنوبی وزیرستان کے حلقہ این- اے 10 میں کوئی سیاسی سرگرمی نہیں ہو رہی حکومت کو اس بارے میں فوری‬ ‫اقدامات لینے چاہئے تاکہ این- اے 10 میں بھی انتخابات کو یقینی بنایا جائے۔‬ ‫22- تمام فاٹا میں سیاسی شعور کی کمی ہے اس بارے میں حکومت، سیاسی جماعتیں، عام معاشرہ اور بین االقوامی‬‫ادارے متحرک ہونے چاہئے تاکہ فاٹا کے شہریوں میں سیاسی شعور اجاگر کرے اور انھیں سیاسی عمل میں شامل کرے۔‬‫12- پیمرا کے قوانین کا نفاذ فاٹا میں بھی ہونا چاہئے اور میڈیا کو ہر جگہ جانے کی اجازت کے ساتھ ساتھ تحفظ بھی دیا‬ ‫جائے تاکہ وہ سیاسی مہموں اور اجتماعات کو منظرعام پر الئے۔‬ ‫ِ‬ ‫52- کئی صحافی بیچے اور خریدے جاتے ہیں یا ریاست ، اسٹیبلشمنٹ دھونس اور اللچ کا استعمال کرتی ہے۔ اس‬ ‫متعصب رپورٹنگ سے چھٹکارے کے لئے پرائیویٹ میڈیا کو زیادہ اور آسان رسائی اور تحفظ فراہم کیا جائے۔‬ ‫02- ریاست اور الیکشن کمیشن ایسے صحافیوں کا پتہ لگائے جو پولیٹیتیکل ایجنٹ اور سیاسی پارٹیوں کو بلیک میل‬ ‫کرتے ہیں۔‬ ‫فاٹا کمیٹی نیوز ریلیز 14مارچ‬
  • 3. ‫32- قومی اور بین االقوامی میڈیا کو اپنے غیرجانبدار نمائندے فاٹا بھیجنے چاہئے تاکہ وہ جائزہ لےکہ فاٹا کے مسائل اور‬ ‫خبروں کوصحیح طور پر منظرعام پر الیا جاتا ہے کہ نہیں۔‬ ‫ِ‬‫62- پولنگ سٹیشن ووٹرز کی رہاشگاہوں سے دو کلو میٹر سے ذیادہ دور نہیں ہونے چاہئے تاکہ ذیادہ سے زیادہ سیاسی‬ ‫شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔‬ ‫72- تمام پولنگ سٹیشنوں میں تحفظ اور سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے اور کوئی پولنگ سٹیشن اعالن شدہ جگہ سے‬ ‫دوسری جگہ منتقل نہیں ہونا چائے۔‬‫82- فاٹا کے ووٹرز کےلئے پولنگ سٹیشن ان کے اپنے گاؤں میں ہونے چاہئے تاکہ وہ انتخابات میں حصہ لینے کے لئے‬ ‫دوسرے گاؤں نہ جائے۔‬ ‫92- الیکشن کمیشن کی جانب سے جو الیکشن کے بارے میں ضابطہ اخالق جاری کیا ہے اس کا اطالق فاٹا ریجن میں‬ ‫بھی کیا جائے۔‬ ‫11- الیکشن کمیشن پاکستان آزادانہ اور منصفانہ انتخابی عمل کے لئے انتخابی عملہ کی نگرانی کرے۔‬ ‫21- الیکشن کمیشن کو فاٹا میں انتخابات کے لئے خاص طور پر قواعد بنانے چاہئیں۔‬ ‫11- فاٹا میں عام انتخابات کے دوران جوڈیشل افسران کو ریٹرننگ آفیسرز کی ذمداریاں دی جایئں۔‬ ‫51- پولیٹیکل انتظامیہ تمام قبائلی معاشرے کی سیاسی عمل اور عام انتخابات میں مدد کرے گی اور انکے لئے آسانیاں‬ ‫پیدا کرےگی۔‬ ‫01- تمام قبائلی آئی-ڈی-پیز کو انکے عارضی ٹھکانوں پرووٹ دینےکا حق دیا جائے۔‬ ‫31- فاٹا سے ملحقہ قبائلی عالقوں کے آئی-ڈی-پیز کو با قاعدہ طور آئی-ڈی-پیز تسلیم کیا جائے اور انھیں بھی عارضی‬ ‫ٹھکانوں پر ووٹ دینے کا حق دیا جائے۔‬ ‫61- فاٹا کو نگران وفاقی حکومت میں نمائندگی دی جائے۔‬ ‫71- بین االقوامی مشاہدہ کار کو فاٹا میں انتخابی عمل کا جائزہ لینے کے لئے اجازت دینی چاہئے۔‬‫81- فاٹا کے موثر طبقہ اور ریاستی اداروں کی گٹھ جوڑ مزید ختم ہونی چاہئے کیونکہ یہ گٹھ جوڑ انتخابی عمل میں بڑی‬ ‫رکاوٹ ہے۔‬ ‫91- نادرا کو اپنی موبائل ٹیمیں فوری طور پرفاٹا بھیجنی چاہئے تاکہ ذیادہ سے ذیادہ شناختی کارڈذ جاری ہو اور ذیادہ‬ ‫سے ذیادہ ووٹرز رجسٹر ہو۔‬ ‫15- فاٹا کے شہریوں کے روکے گئے شناختی کارڈذ قبایئلی عمائدین کے تصدیق کرنے پر کھول دیئے جائے۔‬‫25- تمام ووٹر رجسٹریشن فارمز جو کہ انتخابات کے اعالن سے قبل داخل کئے گئے تھے ان کو قابل قبول سمجھا جائے‬ ‫ِ‬ ‫اور ووٹرز لسٹ میں شامل کئے جایئں۔‬ ‫15- پولیٹیکل انتظامیہ کسی سیاسی جماعت یا امیدوار کی طرفداری نہیں کرے گی۔‬ ‫55- گورنر خیبر پختونخواہ، فاٹا میں انتخابات میں مداخلت نہ کرے اور انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے سے گریز کرے۔‬ ‫فاٹا کمیٹی نیوز ریلیز 14مارچ‬
  • 4. ‫05- - ایم-این-ایز کے سرکاری فنڈذ الیکشن مہمات پر خرچ نہیں ہونے چاہئے۔ الیکشن کمیشن کو اس فعل کی روک تھام‬ ‫کے لئے فوری عمل کرنا چاہئے۔‬ ‫35- پولیٹیکل انتظامیہ کی بدعنوانیوں کی تفتیش ہونی چاہئے اور اس کی روک تھام کے لئے ضروری اقدامات کرنے‬ ‫چاہئے۔‬ ‫65- پولیٹیکل انتظامیہ پیدائش، اموات اور معذوری کی سند جاری کرنے کی مجاذ ہے یہ عمل بہت سست ہوتا ہے اسکو‬ ‫تیز تر بنایا جائے۔‬ ‫75- فوج مسئلے کا حصہ ہے نا کہ مسئلے کا حل۔‬ ‫85- ایف-سی-آر میں مزید ترامیم کی ضرورت ہے۔‬‫95- اقوام متحدہ اور دوسرے بین االقوامی ادارے فاٹا میں انسانی اور سیاسی حقوق کی پامالی اور قلت سے متعلق دنیا کو‬ ‫ِ‬ ‫با خبر کر دے۔‬ ‫10- ان تمام سفارشات کو 5211 انتخابات سے قبل نافذ العمل ہوناچاہئے۔‬ ‫فاٹا اصالحات پر سیاسی جماعتوں کی مشترکہ کمیٹی‬ ‫‪fataparties@gmail.com‬‬ ‫فاٹا کمیٹی کے ارکان اور ان کی رابطہ معلومات:‬ ‫عوامی نیشنل پارٹی ( ‪) ANP‬‬ ‫لطیف آفریدی، نائب صدر، خیبرپختونخوا‬ ‫بشری گوہر، رکن قومی اسمبلی، مرکزی نائب صدر‬‫ٰ‬ ‫ارباب طاہر، جنرل سیکریٹری، خیبرپختونخوا، 3223-939-3330 ، ‪arbab@anp.org‬‬ ‫نوابزادہ محسن علی خان، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل‬ ‫جماعت اسالمی ( ‪) JI‬‬ ‫پروفیسر محمد ابراہیم، صوبائی امیر، ‪muhammadibrahimk5@gmail.com‬‬ ‫صاحبزادہ ہارون رشید، امیر فاٹا، 7752-615-0030‬ ‫زر نور آفریدی، نائب امیر فاٹا‬ ‫ج میعت علماء اسالم – ف )‪(JUI- F‬‬ ‫محمد جالل الدین، ایڈووکیٹ‬ ‫عبدالجلیل جان‬ ‫مفتی عبدالشکور‬ ‫عبدالرشید‬ ‫متحدہ قومی موومنٹ ( ‪) MQM‬‬ ‫سید آصف حسنین، رکن قومی اسمبلی، 1387 - 729 - 0030 ، ‪asifhasnain_255@yahoo.com‬‬ ‫محمد ریحان ہاشمی، رکن قومی اسمبلی‬ ‫فاٹا کمیٹی نیوز ریلیز 14مارچ‬
  • 5. ‫نیشنل پارٹی ( ‪) NP‬‬ ‫ڈاکٹر مالک بلوچ، صدر‬ ‫سینیٹر میر حاصل خان بزنجو، نائب صدر‬ ‫مختار باچا، صوبائی صدر، خیبرپختونخوا، 3317 - 019 - 3330 ، ‪mukhtarbacha@gmail.com‬‬ ‫ادریس کمال، صوبائی جنرل سیکرٹری، خیبرپختونخوا‬ ‫پاکستان مسلم لیگ ( ‪) PML‬‬ ‫اجمل خان وزیر، مرکزی سینئر نائب صدر، 9771 - 975 - 0030 ، ‪ajmalkwazir@gmail.com‬‬ ‫پاکستان مسلم لیگ نواز ( ‪) PML-N‬‬ ‫رحمت سالم خٹک، جنرل سیکرٹری، خیبرپختونخوا، 5073 - 985 - 0030 ، ‪pmlnkpk@gmail.com‬‬ ‫ارسال خان ہوتی، ترجمان، خیبرپختونخوا‬ ‫ناصر کمال مروت، نائب صدر‬ ‫پاکستان پیپلز پارٹی ( ‪) PPP‬‬ ‫سینیٹر فرحت ہللا خان بابر، ترجمان صدر پاکستان‬ ‫کرامت ہللا خان چغرمٹی، سپیکر، خیبرپختونخوا اسمبلی‬ ‫رحیم داد خان، سینئر وزیر، خیبرپختونخوا‬ ‫سینیٹر سردار علی‬‫8914-895-0030 ،‬ ‫،‬ ‫سیفرون )‪(SAFRON‬‬ ‫مشیر‬ ‫جہادی،‬ ‫ایم‬ ‫مرزا‬ ‫‪mirzamohdjihad@hotmail.com‬‬ ‫قومی وطن پارٹی ( ‪) QWP‬‬ ‫انیسہ زیب طاہرخیلی، جنرل سیکرٹری‬ ‫سکندر حیات شیرپاؤ، ایم پی اے، صدر خیبرپختونخوا‬ ‫اسد آفریدی، صدر فاٹا، 5615 - 739 - 3330 ، ‪asadafridi18@yahoo.com‬‬ ‫عثمان علی خلیل، صوبائی نائب صدر‬ ‫پاکستان تحریک انصاف ( ‪) PTI‬‬ ‫بیرسٹر سلمان آفریدی‬ ‫جاوید آفریدی‬ ‫پختونخوا ملی عوامی پارٹی‬ ‫اکرم شاہ خان‬ ‫مختار خان یوسف زئی‬ ‫رضا محمد رضا‬ ‫فاٹا کمیٹی نیوز ریلیز 14مارچ‬

×